Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر کیڑوں کا حملہ، جعلی ادویات سے تباہی، کسان شدید مالی بحران کا شکار

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر کیڑوں کا حملہ، جعلی ادویات سے تباہی، کسان شدید مالی بحران کا شکار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے علاقوں دھوڑکوٹ، ترنڈ، بشارت، حلیم پور، بیٹ احمد بختیاری، رسول پور اور دیگر دیہات میں کپاس کی فصل اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں سبز تیلے، گلابی سنڈی اور تھریپس جیسے کیڑوں کے حملوں نے فصل کو تباہ کر دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں محکمہ زراعت کی مجرمانہ غفلت اور مارکیٹ میں جعلی و غیر معیاری زرعی ادویات کی بھرمار نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    مقامی کسانوں نے بتایا ہے کہ وہ مسلسل مہنگی کیڑے مار ادویات کا اسپرے کر رہے ہیں، لیکن ان کی فصل روز بروز تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول مارکیٹ میں دستیاب ادویات جعلی اور غیر مؤثر ہیں، جس کے باعث سال بھر کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔ محمد عامر نامی کسان نے بتایاکہ”ہم نے قرض لے کر کپاس کی کاشت کی، اب فصل ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ نہ ادویات کام کر رہی ہیں اور نہ کوئی افسر ہماری سن رہا ہے۔”

    ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بعض زرعی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ناقص ادویات کی فروخت ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کسان تنظیموں اور زمینداروں نے اس مافیا کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر جعلی ادویات کی فروخت پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف کسانوں کو شدید مالی نقصان ہوگا بلکہ کپاس جیسی نقد آور فصل کی تباہی سے ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

    کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ
    * جعلی زرعی ادویات کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے.
    * ذمہ دار افسران کو برطرف کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں.
    * ادویات کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے جدید اور خودمختار نظام تشکیل دیا جائے.
    * زرعی تحقیقاتی ادارے کیڑوں سے بچاؤ کی مؤثر، سستی اور قابلِ بھروسہ ادویات فوری طور پر متعارف کروائیں۔

    کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر بروقت ایکشن نہ لے تو فصلوں کی تباہی، کسانوں کی خودکشیاں اور غذائی و معاشی بحران ایک ناگزیر المیہ بن سکتے ہیں۔

  • اوکاڑہ:بارش کے دوران انتظامیہ کی کارکردگی قابلِ ستائش ہے. ملک خالد یعقوب

    اوکاڑہ:بارش کے دوران انتظامیہ کی کارکردگی قابلِ ستائش ہے. ملک خالد یعقوب

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) سماجی کارکن ملک خالد یعقوب نے حالیہ شدید بارشوں کے دوران اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مثالی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، اسسٹنٹ کمشنر رب نواز، ڈی پی او راشد ہدایت، اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے جس ذمہ داری اور تندہی سے فرائض انجام دیے، وہ لائقِ تحسین ہیں۔

    ملک خالد یعقوب کے مطابق بارش کے دوران شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً نشیبی محلوں میں پانی جمع ہونے کے باوجود ضلعی افسران خود فیلڈ میں موجود رہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے، صورتحال کا جائزہ لیا اور موقع پر فوری اقدامات کے ذریعے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ پہلا موقع ہے جب افسران دفاتر میں بیٹھنے کے بجائے عملی طور پر عوام کے درمیان موجود نظر آئے اور عوامی مسائل کو اپنی نگرانی میں حل کروایا۔”

    انہوں نے ریسکیو 1122 کی خدمات کو خاص طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیموں نے نہ صرف پانی کی نکاسی اور ٹریفک کنٹرول میں اہم کردار ادا کیا بلکہ متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے میں بھی غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔

    ملک خالد یعقوب نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ایسے فرض شناس اور عوام دوست افسران کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ اوکاڑہ انتظامیہ کو دیگر اضلاع کے لیے ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ پورے صوبے میں عوامی خدمت کو فوقیت دی جا سکے۔

    ان کا مزید کہنا تھا: "جب عوام اور انتظامیہ مل کر کام کریں تو کسی بھی آزمائش کا مقابلہ آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے افسران کا ساتھ دیں جو ہماری سلامتی اور سہولت کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔

  • ڈیوو پاک موٹرز کا تعلیمی تعاون، بابا گورو نانک یونیورسٹی کو جدید مشینیں فراہم

    ڈیوو پاک موٹرز کا تعلیمی تعاون، بابا گورو نانک یونیورسٹی کو جدید مشینیں فراہم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈیوو پاک موٹرز کراچی کی جانب سے بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کو 24 لاکھ روپے مالیت کے پانچ جدید ڈیجیٹل فوٹو کاپیئرز عطیہ کیے گئے۔ اس موقع پر ڈیوو پاک موٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد ایوب خان اور ڈائریکٹر سیلز طاہر جاوید نے یونیورسٹی کا دورہ کیا اور باضابطہ طور پر یہ مشینیں یونیورسٹی انتظامیہ کے سپرد کیں۔

    دورے کے دوران ڈیوو انتظامیہ نے طلباء کے لیے انٹرن شپ پروگرام، تکنیکی تربیت اور دیگر تعلیمی و صنعتی شعبوں میں اشتراک کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ یہ عطیہ یونیورسٹی کی انتظامی و تدریسی کارکردگی میں بہتری لانے اور طلباء و اساتذہ کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی کے مشن کو تقویت دے گا۔

    بابا گورو نانک یونیورسٹی کے رجسٹرار جناب مبشر طارق نے اس قیمتی عطیہ پر ڈیوو پاک موٹرز کا دلی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تعاون تعلیم و ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے مستقبل میں دونوں اداروں کے درمیان مزید اشتراک کے امکانات کا بھی خیرمقدم کیا۔

  • اوکاڑہ: بارشوں کے دوران 57 حادثات، 90 افراد متاثر، 8 جاں بحق

    اوکاڑہ: بارشوں کے دوران 57 حادثات، 90 افراد متاثر، 8 جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) گزشتہ تین دنوں کی مسلسل بارشوں کے دوران ضلع اوکاڑہ میں مختلف نوعیت کے 57 حادثات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 90 افراد کو ریسکیو سروسز فراہم کی گئیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ان حادثات میں 51 واقعات چھتیں، چھپر یا دیواریں گرنے کے تھے، جب کہ کرنٹ لگنے کے 3، درخت گرنے کے 2 اور ایک واقعہ آسمانی بجلی گرنے کا رپورٹ ہوا۔

    ان تمام حادثات میں 27 افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی، جب کہ 55 زخمیوں کو مزید علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے، ان واقعات میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باوجود سروس نے اپنی معمول کی ایمرجنسی خدمات جاری رکھتے ہوئے 104 روڈ ٹریفک حادثات، 454 میڈیکل ایمرجنسیز، 9 آتشزدگی کے واقعات اور 224 متفرق نوعیت کی ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس کرتے ہوئے مجموعی طور پر 820 شہریوں کو امداد فراہم کی۔

    ریسکیو 1122 نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ برسات کے موسم میں الیکٹرک پولز، ہورڈنگ بورڈز اور نشیبی علاقوں سے اجتناب کریں، اور خاص طور پر بچوں کو کھڑے پانی کی جانب نہ جانے دیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً 1122 پر رابطہ کریں۔

  • لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟

    لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟

    لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟
    تحریر:شاہدریاض
    یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ درختوں کی شاخیں ساکت ہیں، پرندے خاموش ہیں، اور فضا میں گھٹن ایسی ہے کہ سانس لینا بھی جرم لگتا ہے۔ چمن میں آگ لگی ہے، مگر کوئی نہیں بولتا۔ شاید اس لیے کہ جو بولتا ہے، وہ جلا دیا جاتا ہے، یا پھر کفن پہنا دیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی سانس لیتا بھی ہے تو اس کے لہجے میں خوف، تحریر میں احتیاط، اور آنکھوں میں وہ چمک باقی نہیں رہتی جو سچ کا پہلا تعارف ہوتی ہے۔کسی شاعر نے اپنی نظم میں جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ
    لگی ہے آگ پھولوں کو، چمن میں کون بولے؟
    ابھی زندہ ہوں، بولو تم، کفن میں کون بولے گا؟

    زبانیں کاٹ دو گے سب، اگر سچ بولنے والی،
    حکومت ظلم کی ہوگی، وطن میں کون بولے گا؟

    یہ خاموشی کسی طوفان کا لازم پیش خیمہ ہے،
    ذرّہ سی کھڑکیاں کھولو، گھٹن میں کون بولے گا؟

    صحافی کی زباں ہے یا قلم ہے ایک لکھاری کا،
    یہ سب چپ رہے تو آخر، سچائی کون بولے گا؟

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنے والوں کی زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ جہاں صحافت ایک پیشہ نہیں، بلکہ جرم بن چکی ہے۔ جہاں قلم چلانا، بندوق اٹھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جہاں لکھنے والے پر مقدمہ نہیں، فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جہاں سوال پوچھنے والا "غدار” قرار پاتا ہے اور خاموش رہنے والا "محب وطن” مانا جاتا ہے۔

    کیا واقعی یہی وہ آزادی ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ کیا یہی وہ جمہوریت ہے جس پر ہم ہر سال ووٹ ڈالنے کی رسم ادا کرتے ہیں؟ کیا واقعی اس وطن میں صرف وہی زندہ ہے جو حکومت کی زبان بولے؟ اور جو عوام کی زبان بنے، وہ غائب، خاموش یا مردہ قرار پاتا ہے؟

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بے روزگاری ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے، سیلاب سے شہر کے شہر ڈوب رہے ہیں، تعلیم ایک خواب بن چکی ہے اور علاج ایک نایاب سہولت… تب اگر کوئی صحافی ان سوالات کو آواز دیتا ہے تو وہ "ریاست مخالف” قرار پاتا ہے۔ جب ایک لکھاری ظالم کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جب ایک شاعر خون کے آنسو روتے عوام کا نوحہ لکھتا ہے تو اسے "مذہب، ریاست یا اداروں” کے خلاف پروپیگنڈا کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ جو اشعار ہیں "ابھی زندہ ہوں، بولو تم؛ کفن میں کون بولے گا؟” یہ صرف شاعری نہیں، ایک سوال ہے اس معاشرے سے، اس سسٹم سے اور ہم سب سے۔ اگر آج ہم چپ رہے تو کل ہماری خاموشی کا ماتم کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے دراصل ظلم کے معاون ہوتے ہیں۔ اور اگر ہر درخت، ہر پنچھی، ہر دریا، ہر پہاڑ، ہر دیوار خاموش ہو جائے تو پھر سچ کے لیے کون بولے گا؟

    سوال صرف یہ نہیں کہ زبانیں کیوں بند ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ "کس نے بند کی ہیں؟” اور اگر ہم نے خود اپنے ہونٹ سِیے ہیں تو پھر ہم اس آگ کے ذمہ دار بھی خود ہیں جو چمن کو جلا رہی ہے۔

    یہ بھی سچ ہے کہ صرف ایک شخص کے بولنے سے کچھ نہیں بدلتا، لیکن اگر سب خاموش رہیں تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ آوازیں کچلی جا سکتی ہیں، لیکن جذبے نہیں۔ قلم روکا جا سکتا ہے، لیکن خیالات کی پرواز کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔ کاغذ جلا سکتے ہو، لیکن سوچوں کی آگ بجھانا تمہارے بس میں نہیں۔

    لہٰذا اب بھی وقت ہے۔ ذرہ سی کھڑکیاں کھولو، ہوا آنے دو، سچ کو سانس لینے دو۔ صحافیوں، لکھاریوں، شاعروں، اور فنکاروں کو مت روکو — کیونکہ اگر یہ سب چپ رہے تو اس وطن میں کون بولے گا؟ اگر آج ہم سچ کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے، تو کل ہماری نسلیں سچ کا چہرہ پہچاننے کے قابل بھی نہ رہیں گی۔

    لگی ہے آگ پھولوں کو اور اگر ہم نے اب بھی لب نہ کھولے، تو نہ چمن بچے گا، نہ ہم۔

  • سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟

    سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟

    سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان ایک ایسی ریاست بنتا جا رہا ہے جہاں عوام ہر سال قدرتی آفات، حکومتی نااہلی، اور معاشی بدحالی کے شکنجے میں کَس دیے جاتے ہیں۔ جونہی مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں، شہر ڈوبنے لگتے ہیں، نالے ابلنے لگتے ہیں اور انتظامیہ کی غفلت آشکار ہو جاتی ہے۔ 2025 کے حالیہ مون سون سیزن نے ایک بار پھر راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، چکوال اور آزاد کشمیر کے عوام کو بے رحم سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ہزاروں افراد محفوظ مقام کی تلاش میں در بدر ہیں، کئی جانوں کا چراغ گل ہو چکا اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ مگر ریاستی ڈھانچے میں کوئی لرزش، کوئی احتساب اور کوئی پائیدار حل اب تک دکھائی نہیں دیتا۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں 230 ملی میٹر سے زائد بارش نے نالہ لئی کو دھاڑتا دریا بنا دیا۔ کٹاریاں، گوالمنڈی اور ڈھوک کھبہ کے مکین پانی میں پھنس گئے۔ پانی کی سطح 20 فٹ تک جا پہنچی اور ندی نالوں کی طغیانی نے شہری نظام کو مفلوج کر دیا۔ خطرے کے سائرن بج گئے، ریسکیو ادارے متحرک ہوئے، فوج سے مدد طلب کی گئی اور ایک دن کی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ہر سال یہی ہونا ہے تو پھر کیا ریاست نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا؟ کیا اربوں کے بجٹ صرف رپورٹوں اور اشتہارات کی نذر ہوتے رہیں گے؟

    چکوال میں کلاؤڈ برسٹ سے 423 ملی میٹر بارش نے تباہی کی نئی داستان رقم کی۔ بچوں سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے، سینکڑوں زخمی اور مکانات زمین بوس ہو گئے۔ قدیم مذہبی مقام کٹاس راج مندر بھی پانی میں ڈوب گیا۔ علاقہ مکین چھتیں چھوڑ کر اونچی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ تمام ادارے فیلڈ میں موجود ہیں مگر سچ یہ ہے کہ عوام کی نظروں میں یہ اقدامات ہمیشہ دیر سے آتے ہیں اور ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ضرور ہوتی ہے لیکن زخمیوں کو دوا، راشن اور رہائش کی سہولیات اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔

    این ڈی ایم اے کا بتانا ہے کہ 26 جون سے اب تک مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 178 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں جبکہ اس دوران 491 افراد زخمی ہوئے۔ صرف 24 گھنٹوں میں 63 اموات رپورٹ ہوئیں۔ لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ جیسے شہروں میں یہ المناک واقعات پیش آئے۔ بارش کے پانی نے گھروں کو روند ڈالا، بچوں کو چھین لیا اور مویشیوں تک کو بہا لے گیا۔ مگر حکمران اشرافیہ صرف پریس کانفرنسوں اور رسمی دوروں تک محدود ہے۔

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال یہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا نالہ لئی کی صفائی کے دعوے محض دکھاوا تھے؟ کیا واسا اور بلدیاتی ادارے صرف تنخواہوں کے لیے بنائے گئے ہیں؟ پاکستان میں مون سون کوئی نئی شے نہیں۔ ہر سال جون سے ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ہر سال حکومت "اچانک” جاگتی ہے۔ جب تک گلیاں ندی نالوں میں نہ بدل جائیں اور لوگ مدد کے لیے چیخ نہ اٹھیں، حکومتی مشینری متحرک نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال کسی آفت کا نہیں بلکہ ریاستی نااہلی کا ثبوت ہے۔

    اگر ہم بھارت، بنگلہ دیش یا انڈونیشیا جیسے ممالک کی مثال دیکھیں تو وہاں بھی بارشیں ہوتی ہیں، مگر شہری منصوبہ بندی، ڈرینج سسٹم، ابتدائی وارننگ سسٹم اور انخلاءکا پلان اس قدر منظم ہوتے ہیں کہ جانی و مالی نقصان کم سے کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں الٹا نظام ہے ،یہاں پہلے آفت آئے، پھر اجلاس بلائے جائیں، پھر بیان دیے جائیں اور آخر میں میڈیا سے کہا جائے کہ "صورتحال قابو میں ہے”۔ مگر عوام جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہےکیونکہ وہ ہر سال کیچڑ، مچھروں، وبائی امراض اور بے گھر ہونے کی اذیت جھیلتے ہیں۔

    مہنگائی کا عذاب اس سے علیحدہ ہے۔ جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے، وہاں سبزیاں نایاب، دودھ مہنگا اور پینے کا پانی خریدنا پڑ رہا ہے۔ تعمیر نو کا خواب ایک دور افتادہ وعدہ بن چکا ہے۔ امدادی پیکج اگر آتے بھی ہیں، تو ان میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور کرپشن کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ عوام بے بسی سے صرف یہی سوال دہراتے ہیں کہ آخر ہم کب تک آفات کا سامنا کرتے رہیں گے؟ کیا ہم محض موسمی قربانی کے بکرے ہیں؟ یا پھر یہ نظام ہی ہمیں قربانی کے لیے پیدا کرتا ہے؟

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آفات کو مواقع میں بدلنے کا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ یہاں قدرتی آفات سے نمٹنے کے بجائے ان کا استعمال سیاسی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا فرض ہوتا ہے کہ پہلے سے نقشہ جات، خطرناک علاقوں کی نشاندہی اور بروقت نقل مکانی کے پلان تیار رکھے۔ مگر یہاں سب کچھ بعد میں ہوتا ہے اور اس تاخیر کی قیمت عوام اپنی جان، مال اور عزت سے ادا کرتے ہیں۔ اگر NDMAs اور PDMAs صرف رپورٹیں بنانے اور غیرملکی فنڈنگ کی وصولی تک محدود رہیں تو حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔

    پاکستانی عوام اب اس اذیت کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔ سیلاب ہو یا زلزلہ، گیس کی لوڈشیڈنگ ہو یا مہنگائی، ہر سانحہ صرف "خبر” بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل تبدیلی صرف اس وقت آئے گی جب ریاست اپنی ذمہ داری قبول کرے، مقامی حکومتوں کو فعال بنائے، وسائل کو شفاف طریقے سے استعمال کرے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی اور ڈیجیٹل نظام اپنائے۔ بصورت دیگر، ہر مون سون، ہر زلزلہ اور ہر آفت ایک بار پھر یہی سوال دہراتی رہے گی کہ "سیلاب، آفات، مہنگائی… آخر عوام کا مقدر ہی کیوں؟”

  • ڈیرہ غازی خان: نئے مالی سال کے لیے 15 ترقیاتی سکیموں کی منظوری، سڑکوں کی بحالی کو ترجیح

    ڈیرہ غازی خان: نئے مالی سال کے لیے 15 ترقیاتی سکیموں کی منظوری، سڑکوں کی بحالی کو ترجیح

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ کمیٹی کے اہم اجلاس میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے لیے نئے مالی سال 2025-26 کے تحت 15 نئی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری نے کی، جبکہ مختلف محکموں اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ وسیم خان جتوئی نے اجلاس کو نئی سکیموں سے متعلق بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے تاکہ دیہی علاقوں کے عوام کو منڈیوں اور شہری مراکز تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے ڈپٹی کمشنرز راجن پور، مظفرگڑھ اور کوٹ ادو نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ترقیاتی وژن کے تحت ڈیرہ غازی خان ڈویژن کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ترقیاتی فنڈز کے شفاف اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔

    اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں ڈویژن بھر سے تعلیم، صحت، میونسپل سروسز، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مجموعی طور پر 126 ترقیاتی سکیمیں تجویز کی گئی ہیں۔ کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ سکیموں کی بروقت منظوری، فنڈز کی فراہمی اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔

  • احمد پور شرقیہ: 16 لاکھ آبادی کے لیے صرف 7 ایمبولینسیں اور 1 فائر بریگیڈ گاڑی

    احمد پور شرقیہ: 16 لاکھ آبادی کے لیے صرف 7 ایمبولینسیں اور 1 فائر بریگیڈ گاڑی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان)پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل احمد پور شرقیہ جہاں آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، وہاں ریسکیو 1122 کی سہولیات کی کمی نے عوام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے محض 7 ایمبولینسیں اور ایک فائر بریگیڈ گاڑی کا دستیاب ہونا انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ احمد پور شرقیہ شہر میں صرف 3 ایمبولینسیں موجود ہیں، جن میں سے ایک مسلسل بہاولپور ریفر مریضوں کی منتقلی میں مصروف رہتی ہے، جبکہ باقی دو گاڑیاں پوری تحصیل کے لیے ناکافی ہیں۔ اوچ شریف میں صرف دو ایمبولینسز دی گئی ہیں، جب کہ جھانگڑہ انٹرچینج اور اس کے مضافات کے لیے بھی محض دو گاڑیاں دستیاب ہیں۔ بدترین صورتحال یہ ہے کہ ریسکیو کے پاس کوئی باقاعدہ فائر بریگیڈ گاڑی موجود نہیں، جو ایک فائر ٹینڈر استعمال ہو رہا ہے وہ بھی بہاولپور سے وقتی طور پر حاصل کیا گیا ہے، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں ناکافی ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق اس مسئلے سے بارہا مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کو آگاہ کیا جا چکا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مزید 10 ایمبولینسیں اور کم از کم 2 فائر بریگیڈ گاڑیاں فراہم کی جائیں، تاہم متعدد بار یاد دہانیوں کے باوجود اب تک صرف وعدے ہی سننے کو ملے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ احمد پور شرقیہ کے عوام بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے لاہور یا کسی بڑے شہر کے، اور ان کی جانوں کی بھی کوئی قیمت ہونی چاہیے۔ اگر کسی اسکول میں آگ لگ جائے یا کوئی ٹریفک حادثہ پیش آ جائے تو موجودہ سہولیات کسی المیے کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

    احمد پور شرقیہ کے عوام وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر صحت اور ڈی جی ریسکیو 1122 سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر 10 ایمبولینسیں، 2 فائر بریگیڈ گاڑیاں اور درکار تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جائے۔ یہ صرف مطالبہ نہیں بلکہ 16 لاکھ شہریوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جس پر تاخیر ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

  • سیالکوٹ: ممکنہ طوفانی بارشیں، ضلعی ادارے الرٹ، خطرناک عمارتوں کی نگرانی کا حکم

    سیالکوٹ: ممکنہ طوفانی بارشیں، ضلعی ادارے الرٹ، خطرناک عمارتوں کی نگرانی کا حکم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے مون سون کی ممکنہ شدید بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں ضلع بھر میں پیشگی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ڈی سی آفس کمیٹی روم میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

    صبا اصغر علی نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور تمام ادارے ہمہ وقت تیار رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل دیا جا سکے۔ انہوں نے خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی، نشیبی علاقوں میں خصوصی حفاظتی اقدامات اور ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی کے نظام کو فعال رکھنے کی ہدایت بھی دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے تمام ڈسپوزل اسٹیشنز کو مکمل فعال رکھنے، ایمرجنسی رین کیمپس کے لیے ڈیوٹی روسٹر جاری کرنے اور مشینری کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تالابوں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور بارش کے پانی میں نہانے سے پرہیز کریں تاکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ ضلعی کنٹرول روم سیالکوٹ کو 24 گھنٹے فعال کر دیا گیا ہے، کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں شہری 1718 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    آخر میں ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے بھرپور تعاون کریں اور سرکاری ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ قیمتی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

  • میرپورخاص: سول ہسپتال کی پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری، ہزاروں مریض مستفید

    میرپورخاص: سول ہسپتال کی پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری، ہزاروں مریض مستفید

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)ڈی ایچ کیو / سول ہسپتال میرپورخاص کی جانب سے یکم جولائی 2025 سے 15 جولائی 2025 تک کی پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق ہسپتال میں مختلف شعبہ جات میں ہزاروں مریضوں کو علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران آرتھوپیڈک شعبے میں 37 ہڈیوں کے آپریشن کیے گئے جبکہ 165 مریضوں کو مختلف پروسیجرز کے ذریعے علاج فراہم کیا گیا۔ آنکھوں کے شعبے میں 22 مریضوں کے کامیاب آپریشن کیے گئے اور انہیں مفت دوائیں بھی مہیا کی گئیں۔

    اسی دوران جنرل سرجری میں ہرنیہ، پتہ، اپنڈکس، بلیڈر اسٹون، اوپن کولی سسٹکٹومی اور دیگر امراض کے 27 آپریشن کیے گئے۔ گائنی شعبہ میں 48 خواتین کے سی سیکشن (C-Section) آپریشن اور 131 نارمل ڈلیوریاں کی گئیں۔

    ہسپتال میں مجموعی طور پر 560 مریضوں کو مختلف وارڈز میں داخل کر کے علاج فراہم کیا گیا۔ ان مریضوں کا تعلق میرپورخاص شہر کے علاوہ نوکوٹ، ڈگری، جھڈو، کوٹ غلام محمد، کھپرو، جام نواز علی، ٹنڈو الہ یار اور دیگر دیہی و دور دراز علاقوں سے تھا۔

    او پی ڈی سروس کے تحت 31,000 سے زائد مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی اور مفت ادویات بھی دی گئیں۔

    انتظامیہ اور میڈیکل اسٹاف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں اور منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔ اگر کسی کو شکایت ہو تو براہ راست سول ہسپتال انتظامیہ سے رجوع کریں، ہر شکایت کا فوری نوٹس لے کر مسئلہ حل کیا جائے گا۔