Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: ڈسکہ میں منی پٹرول پمپ کی بھرمار، اسسٹنٹ کمشنر کی کارروائیاں سوالیہ نشان؟

    سیالکوٹ: ڈسکہ میں منی پٹرول پمپ کی بھرمار، اسسٹنٹ کمشنر کی کارروائیاں سوالیہ نشان؟

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر) ڈسکہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی سٹینڈز کو سیل کیا گیا اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ تاہم شہری حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی کہاں کی گئی؟ کیونکہ ڈسکہ شہر میں تاحال متعدد مقامات پر پورے اختیارات کے ساتھ غیر قانونی طور پر منی پٹرول پمپس کام کر رہے ہیں۔

    زیر نظر تصویر سمبڑیال روڈ کی ہے جہاں چوک کے عین وسط میں کئی مہینوں سے یہ خطرناک اور غیر قانونی کاروبار زور و شور سے جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار وقتی کارروائی کے بعد یہ پمپس بند تو کر دیے جاتے ہیں، مگر چند دنوں بعد دوبارہ کھل جاتے ہیں جیسے انہیں کسی ’’پوشیدہ ہاتھ‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہو۔

    شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی قسم کی سیاسی یا بااثر سفارشات رکاوٹ نہیں تو برائے مہربانی شہر کے اندر موجود ان غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی کی جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ چلتے پھرتے منی پٹرول بم ہیں جو کسی بھی لمحے دھماکہ خیز سانحے کا باعث بن سکتے ہیں۔ شہریوں کی قیمتی جانیں داؤ پر لگی ہیں، اس لیے وقتی اقدامات کی بجائے مکمل اور مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔

  • ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل

    ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل

    ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک محفوظ، خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ہم غیر محفوظ ہیں اور ہماری اکثریتی آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، لیکن افسوس کہ مستقبل کی فکر کسی کو نہیں۔

    ہماری اجتماعی سوچ ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ بحیثیت قوم ہماری کوئی ٹھوس ترجیحات نہیں۔ جب تک ہم قومی سوچ پیدا نہیں کرتے، ہم محض سیاستدانوں کے ان الفاظ کو دہراتے رہیں گے کہ "پچھلی حکومتوں نے یہ کردیا، وہ کردیا اور ہم یہ کریں گے”۔ یہی تکرار اگلی کئی دہائیوں کی نوید ہے۔ آئیے، اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔

    پاکستان ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جہاں ہر مسئلے کا حل وقتی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی نظر آتی ہے، نہ سنجیدہ حکمت عملی اور نہ ہی کوئی قومی وژن۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف وقتی ریلیف اور ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کا نتیجہ ہے، جو اب ہمارے ہر شعبہ زندگی میں سرایت کر چکی ہے ، خواہ وہ تعلیم ہو، صحت ہو، زراعت ہو یا انفراسٹرکچر۔

    ہر سال بارشوں کے موسم میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں، سیلاب آتے ہیں، لوگ جانیں گنواتے ہیں اور حکومت صرف فوٹو سیشنز اور بیانات کے ذریعے دعویٰ کرتی ہے کہ سب کچھ قابو میں ہے۔ مگر اگلے سال پھر وہی حالات، وہی مسائل اور وہی بے بسی سامنے آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری ترجیحات صرف وقتی اور سطحی ہوتی ہیں۔

    ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ عدالتوں، اسمبلیوں، میڈیا اور جلسوں میں صرف اقتدار کی جنگ چل رہی ہے۔ عوامی فلاح، روزگار، مہنگائی، صحت، تعلیم اور عدل و انصاف جیسے حقیقی مسائل پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی قسمت گویا صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہو چکی ہے۔

    قوم اس وقت شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ ہر روز ایک نیا بحران، ایک نئی بے یقینی۔ نوجوان مایوس ہے، کسان پریشان ہے، مزدور بے روزگار ہے۔ ایسے میں حکومتوں کا صرف وقتی اقدامات پر اکتفا کرنا ناقابل قبول ہے۔

    ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کے تباہ کن نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نے اپنے اداروں کی ساکھ تباہ کر دی ہے۔ ہر بحران کے بعد عوام کو جھوٹے وعدے سنائے جاتے ہیں، اور پھر اقتدار کی مستی میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ کہیں کوئی احتساب ہے، نہ جواب دہی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو جھنجھوڑیں۔ ہمیں مستقل حل، مؤثر منصوبہ بندی، اور پالیسیوں میں تسلسل کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہوں گے۔

    ورنہ کل کا مؤرخ صرف یہ لکھے گا کہ”یہ ایک ایسی قوم تھی جو وقتی فیصلوں، ذاتی مفاد اور سیاسی لڑائیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔”

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے، لیکن صرف قومی سوچ، سنجیدہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد سے — نہ کہ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی سے۔

  • اوکاڑہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ، طبی سہولیات اور صفائی کا جائزہ

    اوکاڑہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ، طبی سہولیات اور صفائی کا جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سٹی کا دورہ کرتے ہوئے ہسپتال میں موجود طبی سہولیات، صفائی ستھرائی اور فارمیسی میں ادویات کے سٹاک کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں کی عیادت کرتے ہوئے ان سے فراہم کردہ سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے صفائی عملے کو ہدایت کی کہ مون سون کے دوران صفائی کے انتظامات میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر صفائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بیماریاں پھیلنے کا خدشہ کم ہو۔ انہوں نے فارمیسی کا معائنہ کرتے ہوئے ادویات کی دستیابی اور سٹاک کی موجودگی کا بھی جائزہ لیا۔

    اس موقع پر محمد ابراہیم ارباب نے کہا کہ ہسپتال کا عملہ بالخصوص ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر مریضوں کے علاج معالجے میں بھرپور محنت کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں جاری سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں چیکنگ کا عمل تسلسل سے جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات بروقت اور موثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔

  • پاکستان میں قیامت کی گھڑی

    پاکستان میں قیامت کی گھڑی

    پاکستان میں قیامت کی گھڑی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان کے عوام آج کل ایک ایسی قیامت کی گھڑی سے گزر رہے ہیں جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی زندگیوں کو مفلوج کر رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت 272.15 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 284.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے جبکہ بجلی کے نرخ 53 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار محض نمبر نہیں بلکہ عام آدمی کی چیختی ہوئی پکار ہیں جو روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام اور خاص طور پر مزدور طبقہ پہلے ہی وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی مسلط کردہ سلیب گردی کا شکار ہیں اور اب ایک ماہ میں دو بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور جو روزانہ 800 سے 1000 روپے کماتا ہے، اب ایندھن کے اخراجات پورے کرنے کے بعد اپنے گھر کے لیے کچھ بچا نہیں پاتا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدور جو پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں اب نوکریوں کے خاتمے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہے، جس سے غربت اور معاشرتی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔

    بسوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کے کرائے آسمان کو چھو رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقہ اپنے روزمرہ سفر کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔ ایک عام مزدور جو صبح سویرے اپنے کام پر جانے کے لیے بس کا انتظار کرتا ہے، اب اس کرائے کو ادا کرنے کے لیے اپنی جیب خالی کرتا ہے۔ اس کی آمدنی وہی پرانی ہے، لیکن ٹرانسپورٹ کے اخراجات دگنے ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے بچوں کی تعلیم یا گھر کے راشن پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی اس معاشی بحران کی زد میں ہیں۔ دال، چینی، آٹا اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتوں سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ ایک عام گھریلو خاتون اب سوچتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا کیسے تیار کرے گی جب ہر چیز کی قیمت اس کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں پر خرچ کم ہوتا جا رہا ہے اور پاکستانی عوام کی اگلی نسل ان پڑھ اور ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر بجلی کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ فیول سرچارج ایڈجیسٹمنٹ کے نام پر بجلی کے نرخ میں ہر بار اضافہ کیا جاتا ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق بجلی کی قیمت 53 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5-10 روپے فی لیٹر اضافہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 1-2 روپے اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ اضافہ عام گھرانوں کے لیے ایک اور دھچکہ ہے جو پہلے ہی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ گرمیوں کی شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ اور مہنگے بجلی کے بل عوام کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ صنعتوں پر بھی اس کا گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ مہنگی بجلی اور ایندھن سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں غیر مسابقتی شکارہورہی ہیں۔ برآمدات کم ہو رہی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بند ہو رہے ہیں، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک فیکٹری ورکر جو اپنی نوکری کھو دیتا ہے، اپنے خاندان کے لیے روٹی کا بندوبست کیسے کرے گا؟ یہ سوال پاکستانی معاشرے کے ہر کونے میں گونج رہا ہے۔

    حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے مالی خسارے کو پورا کرنے کی پالیسی عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ حالیہ بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی متعارف کی گئی ہے، جو اگلے مالی سال میں 5 روپے فی لیٹر تک بڑھ جائے گی۔ اس سے حکومت کو 48 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے لیکن یہ آمدنی عام آدمی کی جیب سے نکل رہی ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔ ٹیکسز اور لیویز برقرار رہتے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومتی ترجیحات قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی اہداف پر مرکوز رہتی ہیں۔ پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان اور عوام دوست اقدامات کی کمی نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی عام آدمی کی فلاح کے لیے سنجیدہ ہے؟ اگر ہاں تو پٹرولیم لیوی کو کم کیوں نہیں کیا جاتا؟ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا؟ متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی کو فروغ کیوں نہیں دیا جاتا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں لیکن ان کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔

    پاکستانی عوام کی سب سے بڑی امنگ ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی جئیں جہاں انہیں بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد نہ کرنی پڑے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، ان کے گھروں میں بجلی ہو اور ان کی جیب میں اتنا پیسہ ہو کہ وہ دو وقت کا کھانا خرید سکیں۔ لیکن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے بڑھتے نرخ اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی مسلط کردہ سلیب گردی نے ان امنگوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ ایک ماہ میں دو بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی چیخ کو اور بلند کر دیا ہے۔ ایک عام پاکستانی کی آواز یہ ہے کہ "ہم سے ہر بار قربانی مانگی جاتی ہے، لیکن ہمیں بدلے میں کیا ملتا ہے؟ مہنگائی، بے روزگاری اور اندھیرا۔” عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور مہنگائی سہنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ کیا یہ ریاست صرف امیروں کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی؟ اگر نہیں تو پھر عام آدمی کو ریلیف دینے کا کوئی عملی، مستقل اور مؤثر راستہ دکھایا جائے۔

    اگر حکومت نے اس بڑھتی مہنگائی، گرتی قوتِ خرید اور ختم ہوتے صبر کا ادراک نہ کیاتو وہ دن دور نہیں جب یہ عوامی اضطراب ایک منظم مزاحمت کی صورت اختیار کر لے گا۔ پاکستانی قوم نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے،دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، سیلاب، زلزلے اور اب مسلسل معاشی استحصال۔ ہر حکومت آتی ہے، دعوے کرتی ہے اور جاتے جاتے عوام کو مہنگائی کا ایک نیا زخم دے جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ یہ قوم مزید قربانی نہیں دے سکتی۔ ریاستیں ایندھن، ٹیکس اور بجٹ سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد، خوشحالی اور امید سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ اعتماد اب خطرے میں ہے اور اسے بچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ملک کی بقا قرضوں سے نہیں، عوامی اعتماد سے وابستہ ہے اور جب وہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو نہ صرف معیشت بلکہ پورا نظام لڑکھڑا جاتا ہے۔

    اگر یہ بحران یوں ہی جاری رہا تو یہ نہ صرف معاشی نظام کو مفلوج کرے گابلکہ سماجی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےاور مقامی سطح پر تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔ شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کو فروغ دینے سے نہ صرف تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ عوام کو سستی توانائی بھی میسر آئے گی۔ سب سے اہم بات، حکومت کو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے شفاف اور عوام دوست پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ پاکستانی عوام کی امنگیں اور ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب خاموشی کا وقت نہیں ہے،عوام کی چیختی ہوئی آواز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال (باغی ٹی وی)چکوال میں گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش نے تباہی مچادی۔ کلاؤڈ برسٹ کے باعث شہر اور نواحی علاقوں میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چکوال کے نواحی علاقہ للیاندی میں سب سے زیادہ 423 ملی میٹر، وہالی زیر میں 351 ملی میٹر، جبکہ چوآسیدن شاہ میں 330 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس علاقے میں گزشتہ دہائی کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ کلر کہار اور دیگر علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں، خاص طور پر ڈھوک مستانی، پادشہان اور قریبی بستیوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    بارش کے دوران کھیوال کے علاقے میں ایک گھر کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک مرد اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ جاں بحق شخص کی بیوی اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ضلع بھر میں اوسطاً 370 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اور اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی سول انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات مزید بگڑے تو پاک فوج کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

    ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں، جب کہ کئی علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلوں نے گلیوں کو ندی نالوں میں بدل دیا ہے، جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ضلعی و صوبائی حکومتوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی موسلادھار بارشوں کے باعث جانی نقصان ہوا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، جہلم، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور دیگر علاقوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں اب تک 28 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 12 افراد کا تعلق لاہور، 8 فیصل آباد، 3 شیخوپورہ اور 2 اوکاڑہ سے ہے۔

    چکوال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شہریوں نے حکومت سے فوری ریلیف اور محفوظ رہائش کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: آر پی او کے چھاپے اور کھلی کچہریاں، فوری ایکشن کے احکامات

    ڈیرہ غازیخان: آر پی او کے چھاپے اور کھلی کچہریاں، فوری ایکشن کے احکامات

    ڈیرہ غازی خان / مظفرگڑھ ( باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر+نامہ نگار)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان، کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے ضلع ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ کے ہنگامی دورے کیے۔ ان دوروں کا مقصد عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور پولیس اسٹیشنز کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔ آر پی او نے کھلی کچہریوں کا انعقاد تھانہ دراہمہ (ڈی جی خان) اور تھانہ قریشی (مظفرگڑھ) میں کیا، جہاں انہوں نے شہریوں کے مسائل سنے اور موقع پر متعلقہ افسران کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

    آر پی او سجاد حسن نے کھلی کچہریوں میں انجمن تاجران، بار نمائندگان، گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی، میڈیا اور شہریوں کی کثیر تعداد سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اوپن ڈور پالیسی وزیراعلیٰ کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی مظہر ہے، اور اس کا مقصد ان دور دراز علاقوں کے شہریوں کو براہ راست انصاف کی فراہمی ہے جو پولیس دفاتر تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی شکایات کے حل میں تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    آر پی او نے ڈی جی خان کے تھانہ دراہمہ، سٹی، بی ڈویژن اور مظفرگڑھ کے تھانہ کرم داد قریشی کے سرپرائز وزٹ بھی کیے۔ انہوں نے انسپکشن کے دوران اسپیشل انیشیٹو پولیس اسٹیشنز کی ایس او پیز، زیرِ تفتیش مقدمات، پینڈنگ درخواستوں، اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، حوالات، مال خانہ، فرنٹ ڈیسک اور اسلحہ خانہ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ آر پی او نے حوالات میں موجود ملزمان سے براہِ راست گفتگو کی اور تھانہ جات میں آنے والے شہریوں سے مسائل دریافت کیے۔

    اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ایف آئی آر کے بروقت اندراج، سروس ڈلیوری کے معیار میں بہتری، اور تھانہ کلچر میں عوام دوست تبدیلی کے لیے واضح ہدایات جاری کیں۔ تھانہ کرم داد قریشی میں ڈی پی او مظفرگڑھ کے ہمراہ منعقدہ اجلاس میں انہوں نے سرکل آفیسران اور تمام ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا، اور ان کو جرائم کی روک تھام، تفتیش میں شفافیت، اور کرپٹ اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی ہدایت کی۔

    آر پی او نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہا کہ پولیس ریفارمز اور انصاف کی فراہمی وزیراعلیٰ کی اولین ترجیح ہے، اور ہم اس مشن پر بلا امتیاز اور میرٹ کی بنیاد پر عمل پیرا ہیں۔ ان دوروں سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

  • ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات

    ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات

    ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری انتظامیہ مون سون بارشوں کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ تھی، مگر دیہاتوں میں موجود برساتی نالوں کو کئی کئی سالوں سے صاف نہیں کروایا گیا۔ جی ہاں، ہو سکتا ہے کہ کاغذی کارروائی میں یہ نالے بارہا صاف کیے جا چکے ہوں، لیکن بارش کے دوران ان کی اصل حالت کھل کر سامنے آ گئی۔ دوسری طرف، اربوں روپے فنڈ کی حامل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا کردار بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔

    آج ہم اوکاڑہ کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث دیہاتوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہی دینے جا رہے ہیں، جہاں حکومتی ادارے دیہی علاقوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ آئیے ان دیہاتوں کی داستان سنیں جنہیں کئی دہائیوں سے حلقہ پی پی 190 کے عوامی نمائندے نظر انداز کرتے آ رہے ہیں۔

    22 فور ایل اور 23 فور ایل دو ایسے دیہات ہیں جو آج صرف نقشے پر باقی رہ گئے ہیں۔ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے، نکاسی آب کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دونوں گاؤں مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ قبرستانوں میں دو فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ مرنے والے بھی شاید اب یہ پوچھتے ہوں کہ "مر کر بھی چین نہ آیا، تو کدھر جائیں؟” یہ تباہی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ برسوں کی غفلت، ناکام منصوبہ بندی اور دیہی علاقوں کو حکومتی ترجیحات سے نکال دینے کا نتیجہ ہے۔

    گزشتہ چند روز کی بارشوں نے جہاں موسم کو خوشگوار کیا، وہیں دیہی آبادی کے لیے قیامت بن کر برسیں۔ برساتی نالے جن کی صفائی NDMA اور ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری تھی، کچرے اور مٹی سے اٹے ہوئے ہیں۔ پانی کا کوئی نکاس موجود نہیں، اور جو نکاس موجود تھا وہ صرف کاغذوں کی حد تک رہا۔

    یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا 22 فور ایل اور 23 فور ایل پنجاب کا حصہ نہیں؟ کیا وہاں کے رہائشی پاکستانی شہری نہیں؟ ان کا حق صرف الیکشن کے دنوں تک محدود ہے؟ جب پانی گھروں میں داخل ہو جائے، کھیت تباہ ہو جائیں اور مویشی ڈوبنے لگیں تو کیا شہروں سے آنے والی "ریسکیو ٹیمیں” صرف فوٹو سیشن کے لیے کافی ہیں؟

    دیہی علاقوں کو ہمیشہ دوسری یا تیسری ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ ان کے اسکول، سڑکیں، اسپتال، اور نکاسی آب کے نظام سب کچھ بدترین حالت میں ہیں۔ سرکاری ادارے صرف اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب میڈیا شور مچاتا ہے یا کسی وی آئی پی کا دورہ متوقع ہوتا ہے۔

    اگرچہ اس بار انتظامیہ کی طرف سے خود ڈپٹی کمشنر اور ان کی پوری ٹیم متاثرہ علاقوں میں پہنچی، اور اسسٹنٹ کمشنر اپنی ٹیم سمیت پوری رات سابق نائب ناظم ڈاکٹر الطاف حسین بلوچ کے ڈیرے پر موجود رہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ اقدامات پہلے کیوں نہ کیے گئے؟ کیا محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں موجود نہیں تھیں؟ کیا NDMA کو نہیں معلوم کہ مون سون کا موسم ہر سال پاکستان کے لیے خطرہ بن کر آتا ہے؟

    اگر بروقت نالوں کی صفائی کی جاتی، دیہاتوں کے قریب چھوٹے بند بنائے جاتے یا پانی کے نکاس کے مناسب اقدامات کیے جاتے، تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ سرکاری اسکیمیں صرف کاغذوں پر نہ ہوتیں بلکہ عملی صورت اختیار کرتیں تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔

    اوکاڑہ کی انتظامیہ نے ان دیہاتوں کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا ہے۔ افسوس ان اداروں پر جو کاغذی رپورٹیں تو خوب تیار کرتے ہیں مگر زمین پر ان کا کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ اور افسوس ہم سب پر، جو صرف سوشل میڈیا پر اظہار افسوس کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔

    اب وقت ہے جاگنے کا۔

    دیہات کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیے بغیر پاکستان کی ترقی محض ایک خواب ہے۔ دیہات صرف زمینوں کا نام نہیں، وہاں زندگی بستی ہے، محنت ہوتی ہے، اناج پیدا ہوتا ہے۔ اگر دیہات ڈوبتے رہے، تو معیشت بھی ڈوبے گی اور قوم بھی۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، NDMA، اور تمام متعلقہ ادارے دیہی علاقوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ برساتی نالوں کی سالانہ صفائی، نکاسی آب کے مستقل حل، اور مقامی سطح پر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا قیام اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ کے نواحی گاؤں اسماعیل پور میں کم عمری کی شادی کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 18 سال سے کم عمر لڑکے محمد اسامہ گھلو کا نکاح کروا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ نکاح باقاعدہ تقریب کے ساتھ انجام پایا، جہاں نکاح خواں نے نکاح پڑھایا، دلہے کو ہار پہنائے گئے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ باشعور شہریوں نے میڈیا اور متعلقہ اداروں کو مطلع کیا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ پولیس حرکت میں آئی، نہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے نوٹس لیا اور نہ ہی تحصیل یا ضلعی انتظامیہ نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر کیا۔

    یہ امر باعث تشویش ہے کہ حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف منظور کیے گئے سخت قوانین محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق اگر کوئی والدین اپنے کم عمر بچوں کی شادی کرواتے ہیں یا نکاح خواں، گواہ یا سہولت کار اس عمل میں شریک ہو تو ان سب کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، مگر یہاں قانون کا عملی نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں موجود عمومی بے حسی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    اس واقعے پر علاقے کے شہری حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض ایک شادی نہیں بلکہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی اور انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت بین الاقوامی دباؤ کے تحت کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کرتی ہے، مگر دوسری جانب ضلعی، تحصیل اور یونین سطح پر موجود ادارے ایسے واقعات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے خطرناک مثال بھی بن سکتا ہے۔

    شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمدپور شرقیہ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور محمد اسامہ گھلو کے نکاح میں ملوث تمام افراد، جن میں والدین، نکاح خواں، گواہان اور تقریب کے سہولت کار شامل ہیں، ان سب کے خلاف فوری اور موثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالا دستی ثابت ہو اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے محض ایک کم عمر لڑکے کا نکاح نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ریاستی ذمہ داری، قانونی نفاذ اور اجتماعی ضمیر کی بیداری پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر ایسے واقعات پر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ طرز عمل آئندہ کئی بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کو صرف کتابوں کی زینت بنانے کے بجائے اسے عملی شکل دی جائے اور ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو کمزور بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

  • اوچ شریف: کرپشن کے خلاف کارروائی، چار پٹواری برطرف، دھرنا ناکام

    اوچ شریف: کرپشن کے خلاف کارروائی، چار پٹواری برطرف، دھرنا ناکام

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ نوید حیدر نے بدعنوانی کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے ریکوری میں ناکامی پر چار پٹواریوں کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ اس اقدام کو تحصیل میں شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، اے سی نوید حیدر کی نگرانی میں جاری اصلاحاتی مہم کے دوران ان پٹواریوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی جو اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مسلسل ناکام رہے تھے۔ برطرفی کے بعد چند پٹواریوں اور گرداوروں نے اسسٹنٹ کمشنر آفس کے باہر دھرنا دیا اور برطرف ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

    تاہم اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ:

    "قانون کی حکمرانی اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بلیک میلنگ یا غیر قانونی احتجاج سے دباؤ نہیں لیا جائے گا۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ برطرف ملازمین کو اپیل کا حق حاصل ہے اور وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔

    ادھر علاقہ مکینوں نے اے سی نوید حیدر کی کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی دیانتداری اور فرض شناسی کی تعریف کی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے افسران ہی عوامی خدمت اور انصاف کی علامت ہوتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بے لاگ اقدامات سے نہ صرف انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

    یہ کارروائی احمد پور شرقیہ میں کرپشن کے خاتمے اور بہتر گورننس کی جانب ایک نمایاں قدم قرار دی جا رہی ہے، جس کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔

  • سیالکوٹ: لیبر افسران کی خدمات کے اعتراف میں پروقار تقریب، یادگاری شیلڈز اور ظہرانہ پیش

    سیالکوٹ: لیبر افسران کی خدمات کے اعتراف میں پروقار تقریب، یادگاری شیلڈز اور ظہرانہ پیش

    سیالکوٹ (بیورچیف خرم میر)آل محنت کش لیبر فیڈریشن سیالکوٹ کے زیر اہتمام لیبر افسران کی اعلیٰ کارکردگی اور خدمات کے اعتراف میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جو سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (سیماپ) کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

    تقریب کی صدارت صدر آل محنت کش لیبر فیڈریشن سیالکوٹ نیاز احمد ناجی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ممبر انسداد انسانی تجارت و سمگلنگ نگران کمیٹی حکومت پنجاب عبدالشکور مرزا نے انجام دیے۔

    تقریب میں ڈائریکٹر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن سیالکوٹ/نارووال اظہر عباس گوندل، ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر ضلع سیالکوٹ محمد طیب ورک، سابق ڈائریکٹر وحید ڈار، سیکرٹری لیبر فیڈریشن میاں محمد اقبال، مزدور رہنما محمد علی بٹ، چوہدری محمد اشرف، ڈاکٹر محمد عدنان و دیگر سماجی و مزدور رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    تقریب میں افسران کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا اور یادگاری شیلڈز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اظہر عباس گوندل نے کہا کہ ورکرز کے مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ “ورکر ہے تو صنعت ہے، اور صنعت ہے تو ملک کی معیشت ہے”۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ ریونیو جمع کرانے والے ادارے کو سہولیات بھی اسی نسبت سے ملنی چاہئیں، اور ہم اس مقصد کے لیے کوشاں ہیں۔

    تقریب میں وحید ڈار کی ریٹائرمنٹ پر انہیں خصوصی طور پر الوداعی پارٹی دی گئی اور ان کی خدمات پر بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

    تقریب کے اختتام پر میاں محمد اقبال کی جانب سے مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔