Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: مہنگائی اور ناقص اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن، سات گرفتار، کریانہ سٹور سیل

    ڈیرہ غازی خان: مہنگائی اور ناقص اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن، سات گرفتار، کریانہ سٹور سیل

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی نے پاکستان چوک کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے سبزی، پھل، گوشت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔ ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے، زائد قیمتیں وصول کرنے اور زائد المیعاد اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    کارروائی کے دوران چار پھل فروش، ایک بیف پلاؤ فروش اور ایک کریانہ سٹور مالک سمیت سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ناغہ کے روز پلاؤ فروخت کرنے والے دکاندار کو بھی موقع پر حراست میں لیا گیا جبکہ زائد المعیاد بسکٹ اور اشیاء خورد و نوش برآمد ہونے پر کریانہ سٹور سیل کر دیا گیا۔ تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں میں استغاثے جمع کرا دیے گئے ہیں۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نذر حسین کورائی کا کہنا تھا کہ گراں فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پنجاب حکومت کی واضح ہدایات کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی دکاندار زائد قیمت وصول کرے یا غیر معیاری اشیاء فروخت کرے تو فوری طور پر انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

  • اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر کا رات گئے بارش کے دوران شہر کا ہنگامی دورہ

    اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر کا رات گئے بارش کے دوران شہر کا ہنگامی دورہ

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید نے شدید بارش کے دوران رات گئے شہر کے مختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ محمد عمر طیب اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری فیاض ظفر بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کالج روڈ، تحصیل روڈ، کچہری روڈ، دیپالپور روڈ، ایم اے جناح روڈ، اور بینظیر روڈ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں بارش کے پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود میونسپل کمیٹی کے حکام کو نکاسی آب کے لیے فوری اقدامات کرنے کی سخت ہدایات دیں۔

    احمد عثمان جاوید نے کہا کہ مون سون سیزن کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک رہنا ہوگا۔ انہوں نے انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ بارش کے دوران خود فیلڈ میں موجود رہ کر نکاسی آب کے عمل کی نگرانی کریں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مختلف علاقوں میں نصب کیے گئے نئے ڈی واٹرنگ سیٹس کو مکمل فعال رکھا جائے، اور شہر بھر سے پانی کے فوری انخلاء کے لیے موثر اور منظم انداز میں کارروائی جاری رکھی جائے۔

    شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس بروقت اور متحرک اقدام کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ نکاسی آب کے مسائل جلد حل ہو جائیں گے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات متاثرین کو خیبرپختونخوا حکومت کے 2 کروڑ کے امدادی چیک

    ڈسکہ: سانحہ سوات متاثرین کو خیبرپختونخوا حکومت کے 2 کروڑ کے امدادی چیک

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، ڈویژنل بیوروچیف شاہد ریاض سے)ڈسکہ میں سانحہ سوات کے متاثرہ خاندانوں کو خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے 2 کروڑ روپے کے امدادی چیکس تقسیم کیے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل امین گنڈاپور، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ، ریحانہ ڈار اور دیگر شخصیات نے چیکس متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے۔

    اس موقع پر جاں بحق ہونے والوں کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ فیصل امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ خود ڈسکہ آنا چاہتے تھے، تاہم موجودہ حالات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔

    فیصل امین گنڈاپور نے کہا کہ "ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، اور ہماری حکومت صرف ایک صوبے تک محدود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو نقصان ہوا، اس کی مکمل تلافی ممکن نہیں، مگر ہم دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

    اس موقع پر وکیل اور رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ "عمران خان اس وقت جیل میں ہیں کیونکہ وہ عوام کے درد کو سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کو صرف اشرافیہ کا نہیں، بلکہ عوام کا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا مشن عوام کی خدمت ہے اور ہم اسی پر عمل پیرا ہیں۔”

    پی ٹی آئی قیادت نے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے غم میں شریک ہونے کا اعادہ کیا اور حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے تعاون کا یقین دلایا۔

  • پسرور: جعلی رجسٹری کیس، تحصیلدار شوکت چوہان گرفتار، لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت منسوخ

    پسرور: جعلی رجسٹری کیس، تحصیلدار شوکت چوہان گرفتار، لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت منسوخ

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، ڈویژنل بیوروچیف شاہد ریاض سے)تحصیلدار پسرور شوکت چوہان کو اینٹی کرپشن پولیس سیالکوٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت منسوخ کیے جانے کے بعد گرفتار کر لیا۔ محترمہ جسٹس ابر گل خان نے ضمانت منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد اینٹی کرپشن ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحصیلدار کو حراست میں لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق شوکت چوہان پر الزام ہے کہ انہوں نے پسرور شہر میں واقع ایک پلاٹ کی رجسٹری محمد اسلم ساکن چھچریالی کے نام منتقل کی، حالانکہ پلاٹ کے فروخت کنندگان احسان اور عرفان کے پاس ملکیت کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں تھا۔ پلاٹ کے اصل مالکان رفاقت شاہ اور وحید شاہ نے اینٹی کرپشن پولیس کو تحریری درخواست دی، جس پر مقدمہ نمبر 07/2024 درج کیا گیا۔

    متاثرہ فریق نے عدالت میں رجسٹری منسوخی کی درخواست بھی دائر کر رکھی تھی۔ مقدمے میں تحصیلدار شوکت چوہان کے علاوہ رجسٹری محرر اور گرداور کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ رجسٹری محرر کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ گرداور غلام باری کچھ عرصہ قبل انتقال کر چکے ہیں۔

    اینٹی کرپشن پولیس نے تمام شواہد کی روشنی میں تحصیلدار کی گرفتاری عمل میں لائی اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

  • سیالکوٹ: ریسکیو 1122 اور روز ویلفیئر کی شجرکاری مہم

    سیالکوٹ: ریسکیو 1122 اور روز ویلفیئر کی شجرکاری مہم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)سیالکوٹ میں ریسکیو 1122 اور روز ویلفیئر آرگنائزیشن کے اشتراک سے مون سون شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اقدام سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایات کے تحت زمین کو درپیش ماحولیاتی خطرات کے سدباب اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔

    شجرکاری مہم کی قیادت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے کی۔ ان کے ہمراہ کلین گرین پاکستان کے ایوارڈ یافتہ قومی چیمپئن و روز ویلفیئر کے صدر اشفاق نذر، سماجی رہنما مرزا عبدالشکور، عبدالجلیل (چاچا کرکٹ)، میاں سرفراز نواز، پیر غلام حسین سلطانی، میاں شمیل، چوہدری آفاق، ملک زاہد حسین، اظہر اقبال مغل، محمد زاہد، چوہدری موسیٰ اشفاق، محمد وسیم عطاری، حافظ محمد سلیم، محمد رمضان سمیت مختلف سماجی و سیاسی شخصیات، ریسکیورز اور کمیونٹی ممبران شریک ہوئے۔ پسرور روڈ پر گرین بیلٹ میں شجرکاری کی گئی۔

    اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے کہا کہ عوام ایسے تمام اعمال سے گریز کریں جو فضائی یا زمینی آلودگی کا باعث بنتے ہیں، جیسے پلاسٹک اشیاء کو جلانا، پانی کا ضیاع، فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا اور فیکٹریوں کا زہریلا دھواں چھوڑنا۔ ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم اپنے ماحول کو خوشگوار اور صحت مند بنا سکتے ہیں۔

    اشفاق نذر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ روز ویلفیئر آرگنائزیشن ماحولیاتی بہتری کے ہر اقدام میں شریک رہے گی اور ملک کو آلودگی سے پاک کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

  • اوچ شریف: باپ کی بیٹی سے درندگی، مقدمہ درج، ملزم گرفتار

    اوچ شریف: باپ کی بیٹی سے درندگی، مقدمہ درج، ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے محلہ اکبر ٹاؤن میں ایک لرزہ خیز واقعے نے انسانیت، شرافت اور باپ جیسے مقدس رشتے کو شرمسار کر دیا۔ پولیس نے اپنی ہی سگی 18 سالہ بیٹی سے مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم محمد ندیم ولد محمد یعقوب قوم وارن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، متاثرہ لڑکی کی والدہ نور بی بی زوجہ محمد ندیم نے تھانہ سٹی اوچ شریف میں دی گئی تحریری درخواست میں بیان کیا کہ وہ 8 جولائی 2025 کو گھریلو کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گئی تھی۔ واپس آ کر اس نے اپنے شوہر کو بیٹی کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا، جس پر اس کا دل دہل گیا۔ تاہم رشتہ داروں نے “بدنامی” کے خوف سے خاتون کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔

    متاثرہ خاتون نے بالآخر ہمت کر کے پولیس کو اطلاع دی، جس پر تھانہ سٹی اوچ شریف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 1063/25 بجرم 376 تعزیرات پاکستان کے تحت اندراج کیا اور ملزم محمد ندیم کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس قسم کی درندگی کا تصور بھی نہ کر سکے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے، اور اس میں انصاف کی بروقت فراہمی ہی متاثرہ خاندان کے دکھ کا مداوا بن سکتی ہے۔

  • لنڈی کوتل: انسانی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا، ربی خان آفریدی

    لنڈی کوتل: انسانی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا، ربی خان آفریدی

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (PIHRO) کے ضلعی خیبر کے ایگزیکٹو ممبر ربی خان آفریدی نے کہا ہے کہ انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ ایک اعزاز ہے، جس پر وہ تنظیم کے تمام عہدیداران کے شکر گزار ہیں۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سستے انصاف کی فراہمی، علاقائی مسائل کے حل، اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے دن رات محنت کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ PIHRO کے اعتماد کو ہرگز ٹھیس نہیں پہنچائیں گے اور تنظیم کے قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں گے۔ ربی خان آفریدی نے زور دیا کہ وہ ہیومن رائٹس وائلیشن کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اور خاص طور پر علاقے میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان پر حکومت کی توجہ مبذول کرواتے رہیں گے تاکہ عوام کو ان کے جائز حقوق دلائے جا سکیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: گلبرگ سکینڈل میں نیب متحرک، ملزمان کی گرفتاری کا امکان

    ڈیرہ غازی خان: گلبرگ سکینڈل میں نیب متحرک، ملزمان کی گرفتاری کا امکان

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر،جواد اکبر)گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے اربوں روپے کے میگا کرپشن سکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیب ملتان کی خصوصی ٹیم متاثرین کی شکایات پر کارروائی کے لیے ڈیرہ غازی خان پہنچ گئی ہے۔ یہ ٹیم متاثرین کے بیانات، دستاویزات اور شواہد کی جانچ پڑتال کر رہی ہے تاکہ اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی، جو سابق ایم پی اے علی اصغر گورمانی اور ان کے ساتھیوں کی ملکیت بتائی جاتی ہے، میں سینکڑوں شہریوں سے مبینہ طور پر اربوں روپے وصول کیے گئے تھے۔ متاثرین کو نہ پلاٹس دیے گئے اور نہ ہی ان کی رقوم واپس کی گئیں، جس سے کئی خاندان مالی طور پر تباہ ہو گئے۔

    متاثرین کی طویل قانونی اور عوامی جدوجہد کے بعد بالآخر ایڈووکیٹ میاں سلطان محمود ڈاہا کی قیادت میں متاثرین کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا گیا۔ میاں سلطان ڈاہا نے نہ صرف متاثرین کی آواز بن کر ان کے ساتھ ہر فورم پر آواز بلند کی بلکہ وفاقی محتسب اور نیب حکام کو بھی معاملے سے باخبر کر کے بالآخر اداروں کو کارروائی پر مجبور کر دیا۔

    نیب ملتان کی خصوصی ٹیم نے متاثرین سے ابتدائی بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد کیس میں ملوث افراد کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم جلد ذمہ داران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

    شہریوں نے نیب کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ان کی لوٹی گئی رقم واپس ملے گی اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے، لیکن اب میاں سلطان ڈاہا جیسے نڈر اور عوام دوست وکیل کی قیادت میں ان کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچ چکی ہے۔ نیب کی کارروائی کو وہ ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

    عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیب اپنی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچائے تاکہ آئندہ کوئی طاقتور فرد سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے کی جرأت نہ کرے۔

  • احمد پور شرقیہ:سمیرا قتل کیس، 12 گھنٹے میں قاتل گرفتار، ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ ہلاکت

    احمد پور شرقیہ:سمیرا قتل کیس، 12 گھنٹے میں قاتل گرفتار، ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ ہلاکت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ ،تھانہ سٹی پولیس نے نواحی بستی غریب آباد کی 6 سالہ معصوم بچی سمیرا بی بی کے اندھے قتل کی گتھی صرف 12 گھنٹوں میں سلجھا لی اور مرکزی ملزم عمران کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم عمران کو جائے وقوعہ پر نشاندہی اور برآمدگی کے لیے لے جایا گیا، جہاں پہلے سے گھات لگائے اس کے مسلح ساتھیوں نے اچانک پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم عمران اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہلاک ہو گیا۔

    یاد رہے کہ مقتولہ سمیرا، امیرآباد اوچشریف کے رہائشی شاہنواز کی بیٹی تھی، جس کی نعش گزشتہ روز بستی غریب آباد موضع محمد بخش مہر میں فصل جنتر سے ملی تھی، جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق سمیرا اپنے والد سے علیحدگی کے بعد ماں کے ساتھ غریب آباد میں مقیم تھی، جہاں ملزم عمران نے اسے بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا۔

    پولیس نے بچی کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں مرکزی ملزم تک رسائی حاصل ہوئی۔ ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ، محمود اکبر بزدار نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

  • بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی

    بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی

    بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعویٰ کرتا ہے، آج اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ایک اذیت ناک خطہ بن چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت میں ریاستی سطح پر ایسا نظام پروان چڑھا دیا گیا ہے، جس میں مذہبی اقلیتوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال محض داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے، اور یہاں تک کہ ہمسایہ ممالک کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس اور واقعات نے بھارت میں اقلیتوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

    22 اپریل 2025 کو کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا ایک حملہ، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے، اس تمام سلسلے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ بھارتی میڈیا اور حکومت نے فوری طور پر اس فالز فلیگ حملے کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے "آپریشن سندور” کا آغاز کیا، جس کے تحت مبینہ طور پر "غیر قانونی دراندازوں” کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ تاہم کئی بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس حملے کو ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے، جس کا مقصد ہندو قوم پرست بیانیے کو تقویت دینا اور مسلمانوں پر ریاستی جبر کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اس بیانیے کی آڑ میں شروع ہونے والے آپریشنز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک بھیانک داستان رقم کی ہے، جس کا انکشاف واشنگٹن پوسٹ نے 11 جولائی 2025 کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی 2025 کے درمیان بھارت کے مختلف حصوں، بالخصوص گجرات، آسام اور مغربی بنگال میں 1,880 افراد کو جبراً بنگلہ دیش جلاوطن کیا گیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ جلاوطنی نہ صرف قانونی تقاضوں کے بغیر انجام دی گئی بلکہ اس میں جن افراد کو نشانہ بنایا گیا، ان کے پاس بھارتی شہریت کے مصدقہ ثبوت، ووٹر کارڈز، نکاح نامے اور تعلیمی دستاویزات موجود تھے۔ گجرات کے شہر سورت کے رہائشی حسن شاہ ایک ایسے ہی متاثرہ فرد ہیں جنہیں کچرا چننے کے جرم میں "غیر قانونی درانداز” قرار دے کر ان کے کاغذات چھین لیے گئے، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور بنگلہ دیش کی سمندری حدود میں پھینک دیا گیا۔ بنگلہ دیشی کوسٹ گارڈ نے انہیں بچا تو لیا، لیکن وہ آج نہ بھارت کے شہری رہے، نہ بنگلہ دیش کے اور ان کی بیوی و چار بچے بھارت میں بے یار و مددگار رہ گئے۔

    اسی طرح احمد آباد کے نوجوان عبدالرحمان کو 26 اپریل کو علی الصبح اس کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ پولیس نے بغیر وارنٹ چھاپہ مارا، دستاویزات ضبط کیں اور 15 دن تک وحشیانہ تشدد کے بعد اسے ایک بنگلہ دیشی تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات آج بھی موجود ہیں، لیکن اس کی شہریت مٹا دی گئی۔ ان واقعات کے پس منظر میں جو حکمت عملی کارفرما ہے، وہ نہ صرف بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر 1951 کے مہاجر کنونشن اور "نان ریفولمنٹ” کے اصول کے بھی خلاف ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی خطرے میں ہو۔

    پولیس کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی حکومت نے بلڈوزر سیاست کا بھی بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ صرف احمد آباد کے چاندولا جھیل علاقے میں اپریل 2025 کے آخر میں ایک کریک ڈاؤن کے دوران 12,500 سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 890 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 200 سے زائد خواتین اور بچے شامل تھے۔ متاثرہ افراد جیسے پروین اسماعیل رنگریز اور یونس خان پٹھان نے اپنے گھروں کی تباہی اور پولیس کے غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بیان کیں، مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سانگھوی نے اعلان کیا کہ "ہر ایک درانداز کو تلاش کیا جائے گا”۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف غیر قانونی تارکین وطن ہی نہیں بلکہ بھارتی شہری بھی اس نسلی صفائی کی مہم کی لپیٹ میں ہیں۔

    یہ سلسلہ صرف گجرات یا احمد آباد تک محدود نہیں رہا۔ آسام میں اڈانی انرجی پروجیکٹ کے لیے دو ہزار سے زائد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔ 19 جون 2025 کو دی گارڈین کی رپورٹ نے ان انکشافات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا کہ آسام کی زمینوں سے بھی زیادہ تر مسلمان اور دلت متاثرین کو ہی نکالا گیا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا اور کئی جلاوطن افراد کو واپس بھارت بھیجا، جن کے پاس بھارتی شہریت کے ثبوت موجود تھے۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ اور بارڈر سیکیورٹی فورس نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کوئی باضابطہ ڈیپورٹیشن معاہدہ موجود نہیں، جس کی بنیاد پر یہ تمام کارروائیاں غیر قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شمار ہوتی ہیں۔

    بی جے پی کی حکومت میں نشانہ صرف مسلمان نہیں بنے بلکہ عیسائی اور دلت برادریاں بھی بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کا شکار ہو رہی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق راجستھان میں عیسائیوں کے چرچ تباہ کیے گئے، مذہب تبدیل کرنے کے الزامات میں گرفتاریاں ہوئیں اور دلتوں کی بستیوں کو بلڈوز کر کے مٹایا گیا۔ مسلمانوں کو تو اکثر روہنگیا، پاکستانی یا "غیر قانونی بنگلہ دیشی” قرار دے کر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) اور شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) جیسے قوانین کے تحت بے دخل کیا جاتا ہے، جیسا کہ 2019 میں 19 لاکھ مسلمانوں کے NRC سے اخراج میں دیکھا گیا۔

    یہ سب کچھ عدلیہ، پولیس اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ عدالتیں ایسے مقدمات میں متاثرین کو انصاف نہیں دیتیں، پولیس ثبوتوں کو ضبط کر لیتی ہے اور میڈیا مسلسل بی جے پی کے بیانیے کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ان اداروں کا کردار جمہوریت کی روح کے منافی اور فسطائیت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی 2024 کی رپورٹ اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) جیسے اداروں نے ریاستی جبر کے اس منظم پیٹرن کو واضح کیا ہے، جس کے مطابق بی جے پی حکومت کے زیر اثر علاقوں میں نفرت انگیز جرائم اور مسماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    اس تمام پس منظر میں سب سے تشویشناک پہلو عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ اگر اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اب بھی خاموش رہیں تو بی جے پی حکومت کی ہندو بالادستی کی یہ پالیسی مزید جارحانہ ہو جائے گی۔ وقت آ چکا ہے کہ بھارت میں شہری و انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی دباؤ بڑھایا جائے۔ حسن شاہ، عبدالرحمان، پروین اسماعیل اور ہزاروں دیگر مظلوم چہروں کی داستانیں صرف انفرادی مصیبت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ظلم کی علامت ہیں، جسے عالمی برادری کی خاموشی مزید تقویت دے رہی ہے۔ بھارت میں جمہوریت کے نام پر اقلیتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، اور بی جے پی نے مسلمانوں پر واقعی زمین تنگ کر دی ہے۔