Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لنڈی کوتل: میٹ دی پریس میں منشیات کیخلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل: میٹ دی پریس میں منشیات کیخلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی،تحصیل رپورٹر)ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں "منشیات کا خاتمہ، ہم سب کا فریضہ” کے عنوان سے ایک اہم میٹ دی پریس سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی و سماجی رہنما، علما کرام، پولیس افسران اور انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے نوجوان نسل کو نشے کی لت سے بچانے اور منشیات فروشوں کے خلاف مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

    میٹ دی پریس میں شریک رہنماؤں نے کہا کہ خیبر کے دیہی و شہری علاقوں میں منشیات کا ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے اور نوجوان بڑی تعداد میں نشہ آور اشیاء کے عادی بن چکے ہیں، جس سے معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر منشیات کی روک تھام، عادی افراد کی بحالی اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرے۔

    اس اہم اجلاس میں صدر خیبر سپورٹس کلب و سینیئر کسٹم کلیئرنس ایجنٹ معراج الدین شینواری، جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن) ساجد علی آفریدی، رہنما جماعت اسلامی و ممبر تحصیل کونسل عبدالروف شینواری، پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر ابودردا شینواری، جے یو آئی ف کے جنرل سیکرٹری مولانا عاقب شینواری، ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ شینواری، ایس ایچ او لنڈی کوتل عدنان آفریدی اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شہاب الدین شریک ہوئے۔

    صدر سپورٹس کلب معراج الدین شینواری نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ منبر و محراب کے ذریعے معاشرے کو منشیات کے خلاف شعور دیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی آواز عوامی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ایس ایچ او عدنان آفریدی نے یقین دہانی کرائی کہ منشیات فروشوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عوام اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس سے تعاون کریں اور منشیات کے متعلق اطلاع فوری دیں تاکہ کارروائی ممکن ہو سکے۔

    ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شہاب الدین نے اپنی گفتگو میں کہا کہ منشیات کے خلاف مہم میں انتظامیہ ہر ممکن کردار ادا کرے گی، تاہم والدین، اساتذہ اور سماجی رہنما بھی اس جدوجہد میں شریک ہوں۔

    دیگر مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کو نشے سے بچانے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ یہی عمر منشیات فروشوں کے لیے آسان ہدف ہے۔

    شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشی میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں تاکہ وہ دوسروں کے لیے نشان عبرت بنیں۔ اس موقع پر میڈیا سے بھی کہا گیا کہ وہ نشے کے خلاف مؤثر آگاہی مہم چلائیں تاکہ خیبر اور پورے پاکستان میں ایک صحت مند معاشرہ قائم ہو سکے۔

  • دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک دیہی علاقوں کو مساوی ترقی کے مواقع نہ دیے جائیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات میں آج بھی صرف شہروں کو فوقیت حاصل ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں تو سڑکیں، میٹرو بسیں، انڈر پاسز، جدید ہسپتال اور معیاری تعلیمی ادارے عام نظر آتے ہیں لیکن دیہاتوں میں زندگی آج بھی بنیادی سہولیات کی محرومی کا شکار ہے۔

    جبکہ ترقی کسی بھی قوم کی پہچان اور بقاء کی ضمانت ہوتی ہے، ہمارے ہاں بیشتر فیصلے صرف شہری علاقوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ گنجان آباد بستیوں، بڑھتے ہوئے جرائم، آلودگی اور ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ نقل مکانی دراصل دیہی پسماندگی کی علامت ہے، جو کہ ایک بڑا قومی چیلنج بن چکی ہے۔

    دیہی علاقوں میں اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقائق لرزہ خیز ہیں۔ یہاں کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور ادویات کی عدم دستیابی، بجلی و گیس کی قلت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صاف پانی کی عدم فراہمی، اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان عام مسائل میں شامل ہیں۔ دیہی آبادی آج بھی ان بنیادی حقوق سے محروم ہے جنہیں شہری علاقوں میں معمول سمجھا جاتا ہے۔

    یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ ایسے میں اگر دیہاتوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل نہ کیا گیا تو نہ صرف شہری سہولیات کا توازن بگڑے گا بلکہ قومی ترقی کا خواب بھی ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔

    موجودہ حکومت خصوصاً پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، جو تعلیم یافتہ، عوام دوست اور باصلاحیت رہنما کے طور پر پہچانی جاتی ہیں، ان سے دیہی عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کی ابتدائی تقاریر میں تعلیم، صحت اور خواتین کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ پنجاب کے دیہی علاقوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دیں۔

    دیہی ترقی کے لیے حکومت کو درج ذیل اقدامات کی فوری ضرورت ہے:
    ×دیہی سکولوں کی اپ گریڈیشن
    ×بنیادی صحت مراکز کی بحالی اور ڈاکٹروں کی دستیابی
    ×دیہات میں سڑکوں کی مرمت اور پختگی
    ×صاف پانی کی فراہمی
    ×چھوٹے پیمانے پر روزگار کے مواقع کا فروغ

    دیہی ترقیاتی اتھارٹی کا قیام اگرچہ ایک خوش آئند قدم تھا، لیکن بدقسمتی سے اس ادارے کا عملی کردار یا تو بہت محدود ہے یا طاقتور شخصیات کے حلقوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام انصاف کے بجائے عدم مساوات اور اقربا پروری کو فروغ دے رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔

    یاد رکھنا چاہیے کہ دیہات صرف زمین کے ٹکڑے نہیں، بلکہ قوم کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم دیہاتوں کو بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ بنائیں گے تو پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کم کرنا ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو چاہیے کہ وہ دیہی ترقی کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کریں تاکہ پنجاب کا ہر گاؤں، ہر بستی، ہر کسان ترقی کی روشنی سے منور ہو سکے۔ دیہی عوام کی نظریں آپ پر مرکوز ہیں — کیا آپ ان کی امیدوں پر پورا اتریں گی؟

  • اوچ شریف: رکشے پر موت سوار، کارروائی لاش کے بعد ہی ہوگی؟

    اوچ شریف: رکشے پر موت سوار، کارروائی لاش کے بعد ہی ہوگی؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)کیا اوچ شریف کی سڑکوں پر انسانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا ٹریفک پولیس صرف وی آئی پی ڈیوٹی کے لیے رہ گئی ہے؟ کون ذمہ دار ہے اُس لمحے کا جب ایک لوڈر رکشہ، ڈرائیور سمیت تین جانوں کو لے کر یوں رواں دواں نظر آتا ہے جیسے زندگی کی نہیں، موت کی سواری ہو؟ یہ وہ سوالات ہیں جو شہریوں کے ذہنوں میں طوفان بن کر اٹھ رہے ہیں۔

    خوفناک اوورلوڈنگ کے ساتھ چلتا ہوا ایک لوڈر رکشہ اوچ شریف کی سڑکوں پر دیکھا گیا، جس میں ڈرائیور سمیت تین افراد انتہائی خطرناک انداز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ رکشہ سامان سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ ایک جھٹکے یا موڑ پر یہ جان لیوا سواری موت کا سبب بن سکتی تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر قانون، ضابطہ اور ٹریفک اہلکار سب خاموش تماشائی بنے رہے۔

    نہ کسی وارڈن کی سیٹی بجی، نہ کسی افسر کی آنکھ کھلی — گویا حادثہ ہو، لاشیں گریں، تب ہی کوئی حرکت ہوگی۔ کیا قانون کا اطلاق صرف عوامی اجتماعات یا وی آئی پی گزرگاہوں تک محدود ہے؟ کیا اندرون شہر ہر خلاف ورزی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے؟

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رکشہ ایک موڑ پر جھول کھا گیا، اور اگر چند لمحے مزید بے قابو رہتا تو شاید آج تین لاشیں اٹھتی۔ شہریوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر غفلت نہیں بلکہ انسانی جانوں سے کھلا مذاق ہے۔

    شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ڈرائیور کے خلاف کارروائی کی جائے، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کا آڈٹ ہو، اور ایسے خطرناک ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دی جائے جو سڑکوں پر موت بانٹ رہے ہیں۔

    لیکن سوال پھر وہی ہےکہ کیا کوئی جاگے گا؟ یا ہم کسی لاش کا انتظار کر رہے ہیں؟

  • میرپورخاص: محمد میڈیکل ہسپتال میں ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کیمپ کا افتتاح

    میرپورخاص: محمد میڈیکل ہسپتال میں ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کیمپ کا افتتاح

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امجد اعظم نے محمد میڈیکل اسپتال میں ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کیمپ کا افتتاح کیا۔ یہ کیمپ ابنِ سینا یونیورسٹی کے چانسلر کی ہدایت پر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خادم حسین لاکھیر کی نگرانی میں لگایا گیا تھا۔

    اس موقع پر ڈاکٹر امجد اعظم نے خود بھی ویکسین لگوائی اور نوجوانوں کو اس خطرناک اور جان لیوا مرض سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کیمپس صحت عامہ کے لیے نہایت اہم ہیں اور معاشرے میں بیماریوں کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

    کیمپ کی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شمس العارفین خان، چیئرمین آف میڈیسن ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر عبدالقادر خان اور دیگر معززین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس اقدام کو سراہا۔

  • اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش کو 9 سال قید، 80 ہزار روپے جرمانہ

    اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش کو 9 سال قید، 80 ہزار روپے جرمانہ

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل سیشن جج خالد رحمان کی عدالت نے تھانہ صدر اوکاڑہ کی کارروائی پر خاتون منشیات فروش عذرا کو 9 سال قید اور 80 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔

    استغاثہ کے مطابق پولیس تھانہ صدر نے نومبر 2024 میں محبوب ٹاؤن کے قریب کارروائی کرتے ہوئے خاتون عذرا کے قبضے سے 2400 گرام چرس برآمد کی تھی۔ مقدمہ نمبر 3360/24 درج کیا گیا اور مکمل شواہد کے ساتھ چالان عدالت میں جمع کرایا گیا۔

    عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو سچ قرار دیتے ہوئے مجرمہ کو سخت سزا سنائی۔ ڈی پی او محمد راشد ہدایت نے کیس میں بہتر تفتیشی و قانونی کارکردگی پر متعلقہ ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔

  • اوکاڑہ بائی پاس پر مزدا ٹرک کی ٹریلر سے ٹکر، 2 افراد زخمی

    اوکاڑہ بائی پاس پر مزدا ٹرک کی ٹریلر سے ٹکر، 2 افراد زخمی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ بائی پاس کے قریب اذان گارڈن، نزد 52 ٹو ایل کے مقام پر ایک تیز رفتار مزدا ٹرک نمبری LES-3426 نے آگے جانے والے ٹریلر Z-1237 کو پیچھے سے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں مزدا میں سوار دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 25 سالہ راشد ولد منظور سکنہ وہاڑی اور 26 سالہ بلال ولد بشیر سکنہ پتوکی کو شدید چوٹیں آئیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں راشد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    حادثے کی وجہ تاحال تیز رفتاری یا ممکنہ بریک فیل ہونا قرار دی جا رہی ہے، تاہم پولیس نے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ واقعہ کے بعد ٹریفک کی روانی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی، جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر رب نواز رات گئے نکاسی آب مہم کی نگرانی میں مصروف رہے

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر رب نواز رات گئے نکاسی آب مہم کی نگرانی میں مصروف رہے

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر رب نواز نے بارش کے بعد نکاسی آب کی صورتحال کا خود جائزہ لینے کے لیے رات گئے فیلڈ کا دورہ کیا۔ تحصیل روڈ، گول چوک اور دیگر نشیبی علاقوں میں موجود عملے کو ہدایات دیتے ہوئے انہوں نے بارشی پانی کے جلد اخراج کے لیے کام کی رفتار تیز کرنے اور نالیوں کی صفائی یقینی بنانے کا حکم دیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے "ستھرا پنجاب” ٹیموں کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ محنت اور دلجمعی سے کام کریں، تاکہ مون سون بارشوں کے دوران شہر میں کسی قسم کی رکاوٹ یا گندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی اور نکاسی کا نظام بلاتعطل برقرار رکھنا ہی شہریوں کی سہولت اور صحت کا ضامن ہے۔ عوامی خدمت میں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • سیالکوٹ: ریجنل ایمرجنسی آفیسر کا دورہ، ریسکیورز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار

    سیالکوٹ: ریجنل ایمرجنسی آفیسر کا دورہ، ریسکیورز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ سید کمال عابد نے سیالکوٹ کا خصوصی دورہ کرتے ہوئے ریسکیو 1122 کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر نے سینٹرل ریسکیو اسٹیشن پر موجود مارننگ اور ایوننگ شفٹ کی پریڈ، فائر اور میڈیکل ڈرلز، ریسکیو وہیکلز، موٹر سائیکل ایمبولینسز اور اسٹور کا معائنہ کیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے اسٹیشن اور ریسکیورز کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی، جس پر ریجنل آفیسر نے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریسکیورز کی ظاہری حالت، جسمانی فٹنس اور آپریشنل صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ ہر شفٹ میں باقاعدگی سے مشق کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر امداد ممکن بنائی جا سکے۔

    ریجنل آفیسر نے ریسکیو کنٹرول روم کا بھی دورہ کیا، ایمرجنسی کالز سنیں اور EMDS سسٹم کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ریکارڈ کی باقاعدہ اپ ڈیٹ رکھنے اور ہر سطح پر تیاری برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ادارہ عوام کی خدمت اور جان و مال کے تحفظ کا اہم فریضہ انجام دے رہا ہے، جسے مزید بہتر بنانے کی مسلسل ضرورت ہے۔

  • اوچ شریف: دریائے چناب کے کنارے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    اوچ شریف: دریائے چناب کے کنارے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)دریائے چناب کے کنارے واقع موضع شکرانی، بستی رسول پور کے قریب ایک نامعلوم شخص کی تیرتی ہوئی لاش برآمد ہوئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی شہری کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے لاش کو دریا سے نکالا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق متوفی کی عمر تقریباً 35 سال لگتی ہے اور اس کی جیب سے ایک بند موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر موت کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ ریسکیو ٹیم نے لاش کو پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ فرانزک ٹیم کے پہنچنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    پولیس کے مطابق لاش کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ واقعہ نے مقامی آبادی میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ پولیس نے اہل علاقہ سے لاش کی شناخت کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔

  • سیالکوٹ: بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گرنے سے تین کمسن بہنیں زخمی

    سیالکوٹ: بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گرنے سے تین کمسن بہنیں زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف خرم میر)تحصیل پسرور کے گاؤں پریل میں بارش کے باعث ایک کچے مکان کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں تین کمسن بہنیں ملبے تلے دب گئیں۔ واقعے نے علاقے میں کہرام برپا کر دیا جبکہ مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری امدادی کارروائیاں کیں۔

    تفصیلات کے مطابق پریل گاؤں چونڈہ روڈ پسرور میں واقع ایک غریب گھرانے کے کچے مکان کی ایک کمرے کی چھت گزشتہ رات شدید بارشوں کے باعث گر گئی۔ چھت مٹی، لکڑی کے بانسوں اور گھاس پھوس سے بنی ہوئی تھی، جو بارش کا پانی جذب کر کے بھاری ہو چکی تھی اور اچانک زوردار آواز کے ساتھ منہدم ہو گئی۔

    حادثے کے وقت کمرے میں گھر کے تین کمسن بچیاں 14 سالہ نور فاطمہ، 13 سالہ ایمان فاطمہ، اور 12 سالہ عریب فاطمہ سورہی تھیں، جو ملبے تلے دب گئیں۔ واقعہ کی آواز سن کر اہلِ محلہ فوراً مدد کو پہنچے اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا شروع کیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق 14 سالہ نور اور 12 سالہ عریب کو زخمی حالت میں نکال کر فوری طور پر علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ 13 سالہ ایمان کو معمولی چوٹیں آئی تھیں، جسے موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ خوش قسمتی سے تینوں بچیاں زندہ بچ گئیں، تاہم انہیں شدید جسمانی اور ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔

    اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے اس چھت کی مرمت کرانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن مالی وسائل نہ ہونے کے باعث ایسا نہ کر سکے۔ متاثرہ خاندان نے حکومت سے فوری امداد اور کچے مکانات کی مرمت کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گاؤں پریل میں متعدد کچے گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں پرانی اور بوسیدہ ہیں اور مون سون کی بارشوں میں کسی بھی وقت خطرناک حادثات کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے گھروں کا سروے کر کے مرمت یا امدادی اقدامات کرے۔