Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈسکہ: 5 ارب کے منصوبے، بلدیاتی ایکٹ جلد، کرپشن پر تھرڈ پارٹی کا شکنجہ. ذیشان رفیق

    ڈسکہ: 5 ارب کے منصوبے، بلدیاتی ایکٹ جلد، کرپشن پر تھرڈ پارٹی کا شکنجہ. ذیشان رفیق

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف خرم میر)صوبائی وزیر بلدیات پنجاب میاں ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی نظام کو فعال، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    میاں ذیشان رفیق نے بتایا کہ آئندہ ایک ماہ کے اندر نیا بلدیاتی ایکٹ پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا، جس کے بعد الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کے لیے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے لیے "تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن” کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت منصوبے کی تکمیل کے بعد صرف معیاری کام پر ادائیگی کی جائے گی۔ ای-ٹینڈرنگ اور ڈیجیٹل پیمنٹ کے شفاف نظام نے کرپشن کے دروازے بند کر دیے ہیں، اور اب تمام ٹھیکے میرٹ پر دیے جا رہے ہیں۔

    ڈسکہ کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دل کھول کر فنڈز فراہم کیے ہیں، اور شہر میں 5 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں سیوریج، سڑکوں کی تعمیر، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔ ڈسکہ کے آئندہ 25 سال کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ماسٹر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے، اور پرانے سیوریج نظام کے مستقل حل کے لیے بھی مربوط منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ ڈسکہ کے عوام باشعور ہیں اور جانتے ہیں کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے شہر کے بنیادی مسائل کا مستقل حل ممکن ہوگا۔

    سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے میاں ذیشان رفیق نے خیبر پختونخواہ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر چھ ماہ بعد پنجاب اور وفاقی حکومت پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جس میں منظم انداز سے لوگ اور مشینری استعمال کی جاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر الزام لگایا کہ ان کا ایجنڈا صرف اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے، لیکن عوام نے ان کی انتشار پر مبنی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    سانحہ سوات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پورے ملک، خاص طور پر ڈسکہ کو سوگوار کر گیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے انسانیت کا مظاہرہ کیا، جبکہ خیبر پختونخواہ حکومت نے نہ صرف اپنی کوتاہی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ بے حسی کا مظاہرہ بھی کیا۔

  • تنگوانی: پولیس چوروں سے ڈر گئی، چور دکان کا تالا توڑ کر نقدی و سامان لے اُڑے

    تنگوانی: پولیس چوروں سے ڈر گئی، چور دکان کا تالا توڑ کر نقدی و سامان لے اُڑے

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی شہر اور گردونواح میں چوری کی وارداتیں مسلسل جاری ہیں، شہری عدم تحفظ کا شکار اور کاروباری طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ گزشتہ شب تنگوانی شہر میں ایک اور واردات میں چور دکان کا تالا توڑ کر نقدی اور قیمتی سامان لے اڑے، جبکہ پولیس حسبِ روایت غائب رہی۔

    تفصیلات کے مطابق میرل نندوانی نامی شہری کی دکان کو رات کی تاریکی میں نشانہ بنایا گیا۔ چور تالے توڑ کر دکان میں داخل ہوئے اور نقد رقم و قیمتی سامان چوری کر کے فرار ہو گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس تھانہ تنگوانی کی جانب سے نہ کوئی گشت ہے اور نہ ہی چوری کی وارداتوں کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

    مسلسل وارداتوں کے باعث شہر میں خوف و ہراس کی فضا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ تاجروں نے شکوہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی وارداتوں نے کاروبار کو متاثر کر دیا ہے، اور اگر یہی صورتحال رہی تو لوگ اپنا کاروبار سمیٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی کارکردگی بہتر بنائی جائے اور چوروں کے خلاف فوری کارروائی کر کے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • ننکانہ: گلیاں دریائی نالوں میں تبدیل، عوام بےحال، بلدیہ خاموش

    ننکانہ: گلیاں دریائی نالوں میں تبدیل، عوام بےحال، بلدیہ خاموش

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کی تنگ گلیوں میں بہتا سیوریج کا پانی عوامی خدمت کے نظام پر ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ میونسپل کمیٹی ننکانہ کی مجرمانہ غفلت اور انتظامی نااہلی نے شہریوں کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ گندے پانی کے جوہڑ نہ صرف راستوں کو ناقابل استعمال بنا چکے ہیں بلکہ بچوں، بزرگوں اور بیماروں کے لیے وبائی امراض کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

    شہریوں کے مطابق ایک ہفتے سے گلی میں مسلسل سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے، متعدد بار شکایات کے باوجود نہ کوئی کارروائی کی گئی، نہ صفائی کا بندوبست کیا گیا۔ میونسپل کمیٹی کے افسران اور عملہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جیسے انہیں عوامی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ گندگی، تعفن اور بدبو کے باعث شہری ذہنی اذیت میں مبتلا ہو چکے ہیں، جبکہ معصوم بچے ڈینگی، ہیضہ، اسہال اور دیگر متعدی بیماریوں کے خطرے میں ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ میونسپل کمیٹی کے ذمہ داران صرف تصویری مہمات اور بلند و بانگ دعوؤں میں مصروف ہیں، جبکہ عملی طور پر عوام کو گندے پانی اور تعفن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ شکایات کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں ملتا، عوام کی فریادیں گویا دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔

    عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور وزیر بلدیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر میونسپل کمیٹی کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور گلیوں میں بہتے گندے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ آخر کب تک ننکانہ صاحب کے عوام بے بسی کی تصویر بنے رہیں گے؟
    کاش کوئی سننے والا ہو، کاش کسی کو شرم آ جائے۔

  • قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی گلیوں، محلّوں، دیہی چوپالوں اور شہری بازاروں میں جو خاموشی پھیلی ہے، وہ سکون کی علامت نہیں، بلکہ طوفان سے پہلے کی گھمبیر خاموشی ہے۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر فرد معاشی بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، اور سوال یہ نہیں کہ غصہ کب اُبلے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس غصے کا رُخ کس طرف ہو گا۔ برسوں سے جاری مہنگائی، بے روزگاری، اور ریاستی پالیسیوں کی ناکامی نے ایک عام پاکستانی کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب "جینا” بھی ایک جرم بن چکا ہے۔

    وفاقی بجٹ 2025-26 عوام کے زخموں پر نمک بن کر گرا۔ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دینا، نقد ادائیگی کی حد متعین کرنا اور ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے تاجر برادری کو خوف، غصے اور احتجاج کی جانب دھکیل دیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر نے خبردار کیا کہ یہ پالیسیاں کاروبار کو تباہ اور ملکی معیشت کو مفلوج کر دیں گی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس 21 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو خیر باد کہہ چکی ہیں،کیا یہ کسی معاشی زوال کی ابتدانہیں ہے؟

    بجلی کے بل اس قوم کے لیے اب صرف ایک بل نہیں بلکہ ہر ماہ آنے والی معاشی سزائے موت بن چکے ہیں۔ ناقص ٹرانسمیشن نظام کے باعث صارفین پر 69.09 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایک طرف یونٹ ریٹس میں معمولی کمی کا اعلان کیا مگر دوسری طرف فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، سرچارجز اور ٹیکسز کی بھرمار نے تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدورطبقے کی کمر توڑ دی۔ کراچی کے رہائشی محمد معین کی بات دل چیر دیتی ہے وہ کہتا ہے کہ "روز روز ٹکڑوں میں مرنے کے بجائے حکومت ایک ہی بار بم گرا دے”یہ ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک قوم کا نوحہ ہے۔

    ٹیکسوں کا بوجھ بھی اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں اضافہ، کاربن ٹیکس، اشیائے خورونوش اور تعلیم پر بالواسطہ ٹیکسز نے عام شہری کی زندگی مزید مہنگی اور ناقابلِ حصول بنا دی ہے۔ اب تنخواہ صرف بلز اور گزارے کے لیے بھی کافی نہیں۔ بنارس ٹاؤن کراچی کا رہائشی عبدالرحمان کہتا ہے کہ "دو وقت کی روٹی، بجلی کا بل اور بچوں کی تعلیم اکٹھے نہیں چل سکتے۔” وہ شخص کس امید پر جئے گا جس کے ہاتھ میں پیسہ نہیں، پیچھے ریاست نہیں اور آگے راستہ نہیں؟

    معاشی تباہی کے ساتھ سماجی تباہی بھی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ژوب میں نو مسافروں کے اغوا اور قتل، کراچی میں حمیرا اصغر جیسی فنکارہ کی لاش،یہ سب ایک ایسے معاشرے کی تصویریں ہیں جہاں زندگی بے معنی اور موت بے خبر ہو چکی ہے۔ ایسے واقعات صرف جرائم نہیں، وہ ریاستی اور سماجی ناکامی کی علامت ہیں۔

    ریاستی بیانیہ اب بھی تضاد اور ابہام کا شکار ہے۔ ماہرین معیشت جیسے ڈاکٹر قیصر بنگالی ایف بی آر کے اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیتے ہیں، جب کہ ڈاکٹر اعجاز نبی اسے معاشی استحکام کی نوید بتاتے ہیں۔ ایسے بیانات عام آدمی کے ذہن میں مزید الجھن اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ لوگ اب جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ان کی مشکلات کا ذمہ دار کون ہے؟ اور یہ جاننے کا حق انہیں آئین دیتا ہے، سیاست نہیں۔

    قدرتی آفات جیسے حالیہ بارشیں، سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے ریاستی نااہلی کو ننگا کر دیا ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بجلی بند، سڑکیں ڈوبی اور ہسپتال تک پہنچنا محال ہوا۔ کیا یہی ریاستی خدمت ہے؟ جب قدرتی آفت بھی ظلم میں حکومت کا ساتھ دینے لگے، تو عوام کہاں جائیں؟

    ان سب مسائل نے عوام کو احتجاج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 19 جولائی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی اجتماعی اضطراب کا مظہر ہے۔ #NoToUnfairTaxes، #ElectricityRelief جیسے سوشل میڈیا ٹرینڈز محض ہیش ٹیگز نہیں، یہ عوام کی چیخیں ہیں جو اب آن لائن سے آف لائن آنے کو بیتاب ہیں۔ اگر حکومت نے ان آوازوں کو سننے سے انکار جاری رکھا تو ان کے قدم ایوانِ اقتدار کی دہلیز پر ہوں گے۔

    سول نافرمانی اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک عملی امکان بن چکی ہے۔ عوام کے پاس اب چند ہی راستے بچے ہیں کہ پرامن احتجاج، بلوں کا بائیکاٹ یا مکمل بغاوت اور اگر یہ سب کچھ انتشار کے بغیر ہو تو یہ اس قوم کی تہذیب کا ثبوت ہو گا لیکن اگر ریاست نے پھر بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ کا رخ بدلنا بھی ممکن ہو جائے گا۔

    شمسی توانائی جیسے متبادل موجود ہیں مگر ہر شخص کی پہنچ سے دور ہیں۔ اصل حل تو حکومتی سطح پر ریفارمز اور عوام دوست پالیسیوں میں ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے جب طاقتور طبقہ اپنے اللّے تللّے چھوڑے، مراعات کم کرے اور عوام کو جینے کا حق دے۔ ورنہ جب قسطوں میں مرتی ہوئی قوم کا صبر ختم ہوتا ہے تو پھر وہ خود فیصلہ کرتی ہے کہ جینا کیسے ہے۔

    یہ صرف ایک غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ عوام کا صبر اب لبریز ہے۔ حکومت، بیوروکریسی، اشرافیہ،سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب بند ٹوٹتا ہے تو وہ نہ صرف پانی بہاتا ہے بلکہ دیواریں بھی گراتا ہے اور نظام بھی۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کے لیے فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے کہ یا تو عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے یا پھر تاریخ کے ملبے تلے دفن ہونے کو تیار ہو جائے۔

    یہ ملک کے ہر اس فرد کی آواز ہے جو مہینے کے آخر میں بل دیکھ کر سانس روکتا ہے، جو بچوں کو سکول چھوڑنے پر مجبور ہے، جو دوا کے لیے لائن میں مرتا ہے اور جس کے صبر کا بند قسطوں میں ٹوٹتا جا رہا ہے۔

  • لیاقت پور: بستی پیارا شیخ میں پراسرار بیماری، ایک ہفتے میں 4 بچے جاں بحق، درجن بھر اسپتال میں زیرِ علاج

    لیاقت پور: بستی پیارا شیخ میں پراسرار بیماری، ایک ہفتے میں 4 بچے جاں بحق، درجن بھر اسپتال میں زیرِ علاج

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان)لیاقت پور میں تھانہ شیدانی کی حدود میں واقع بستی پیارا شیخ پراسرار بیماری کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 3 سے 4 کمسن بچے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 10 سے زائد بچے شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں زیر علاج ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری اچانک پھیلی ہے۔ پہلے بچوں کے جسم پر دانے نکلتے ہیں، گلے میں شدید سوزش ہوتی ہے، کھانے پینے سے انکار ہو جاتا ہے اور چند ہی دنوں میں حالت بگڑ کر موت واقع ہو جاتی ہے۔ بیماری کی نوعیت اور اسباب ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے ہیں، جبکہ تاحال کوئی بھی حکومتی ادارہ متاثرہ علاقے میں نہ پہنچ سکا ہے۔

    عوامی حلقوں اور والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق بچے ایک کے بعد ایک اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ حکام کی خاموشی ناقابلِ فہم ہے۔ مقامی افراد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر میڈیکل ٹیم روانہ کی جائے، فری میڈیکل کیمپ قائم کیا جائے، بیماری کی تشخیص کے لیے ماہرین کو تعینات کیا جائے تاکہ بروقت علاج سے بچوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

    اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ بیماری مزید پھیل سکتی ہے، اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری صحت، اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، تونسہ کے نشیبی علاقے زیرِ آب، انخلاء اور ریسکیو آپریشن جاری

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، تونسہ کے نشیبی علاقے زیرِ آب، انخلاء اور ریسکیو آپریشن جاری

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث تحصیل تونسہ کی بیٹ جڑھ لغاری سمیت کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، جس پر ضلعی انتظامیہ نے فوری ریسکیو اور انخلاء کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کشتی میں سوار ہو کر سیلاب سے متاثرہ بستیوں کا معائنہ کیا اور ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، لہٰذا نشیبی علاقوں کے مکین فوری طور پر رضاکارانہ طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حکومت نے تحصیل تونسہ شریف کے تمام سرکاری اسکولز کو عارضی ریلیف کیمپس قرار دے دیا ہے تاکہ متاثرین کو فوری پناہ دی جا سکے۔

    محمد عثمان خالد نے تونسہ میں جاری سیوریج لائنز کی تنصیب کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیوریج کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے آر ایچ سی شادن لنڈ کا بھی دورہ کیا، مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور بہتری کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں اور حکومت سے تعاون کرتے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کریں۔

  • بہاولپور: ون یونٹ چوک پر دو موٹر سائیکلوں میں تصادم، ایک شخص جاں بحق، تین زخمی

    بہاولپور: ون یونٹ چوک پر دو موٹر سائیکلوں میں تصادم، ایک شخص جاں بحق، تین زخمی

    بہاولپور (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)شیل پمپ نزد ون یونٹ چوک بہاولپور کے قریب یوٹرن پر دو موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک بچی سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو حادثے کی اطلاع موصول ہوتے ہی فوری طور پر گاڑیاں کال سائن BB-22، BPA-01 اور BPA-18 کے ساتھ روانہ کی گئیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے میں 22 سالہ رفیق ولد بشیر اور 6 سالہ ثمین دختر رمضان کو ابتدائی طبی امداد دے کر وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جبکہ ایک زخمی جو ریسکیو کے پہنچنے سے قبل ہی ہسپتال منتقل ہو چکا تھا کی تفصیلات بھی بعد میں سامنے آئیں۔ جاں بحق ہونے والے 55 سالہ عمران اقبال ولد محمد اقبال، سکنہ گرین ٹاؤن کو بھی وکٹوریہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے میں رفیق کو سر پر چوٹ آئی جبکہ ثمین کے جسم پر خراشیں آئیں۔ جاں بحق عمران اقبال کو سر پر شدید چوٹ لگی تھی۔ حادثے کی اطلاع پر پنجاب پولیس بھی موقع پر موجود رہی اور مزید تفتیش جاری ہے۔

  • سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟

    سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟

    سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟
    تحریر:حبیب خان
    آج جب ہم سوشل میڈیا کے سیلاب میں بہے جا رہے ہیں تو صحافت کا مفہوم بھی بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سوشل میڈیا پوسٹ، ہر وڈیو یا ہر تقریر صحافت ہے؟ کیا صرف ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن رکھنے والا فرد صحافی کہلا سکتا ہے؟ یہ سوال محض تکنیکی یا جذباتی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل اور معاشرے کے اجتماعی شعور سے جڑا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک فوری رسائی ممکن بنائی، وہیں اس نے خبر اور رائے کے درمیان لکیر دھندلا دی۔ اب ہر وہ شخص جو اپنی رائے کو وائرل کرنا چاہتا ہے، وہ خود کو صحافی کہنے لگا ہے۔ حالانکہ صحافت محض ایک وڈیو اپلوڈ کرنے یا کسی واقعے پر تبصرہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ادارتی جانچ، حقائق کی تصدیق، توازن، اور اخلاقی ضابطوں کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔

    کیا صرف سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنا صحافت کہلایا جا سکتا ہے؟ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا سوال ہے مگر اس کے اثرات بڑے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنا صحافت کا ایک جزو ہو سکتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر صحافت نہیں کہلایا جا سکتا۔ صحافت ایک منظم عمل ہے جس میں تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری شامل ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر خبریں بغیر تصدیق کے پھیلائی جاتی ہیں، جو افواہوں یا غلط معلومات کا باعث بن سکتی ہیں۔ صحافت میں اخلاقیات اور معیارات کی پابندی ضروری ہے جبکہ سوشل میڈیا پر پوسٹس عموماً ذاتی رائے یا سنسنی خیزی پر مبنی ہوتی ہیں۔

    یہاں سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ شخص جو سوشل میڈیا پر ویڈیو بنا کر تبصرہ کرے، صحافی ہے؟ اس کا واضح جواب ہے کہ نہیں۔ ہر شخص جو سوشل میڈیا پر ویڈیو بناتا یا تبصرہ کرتا ہے، صحافی نہیں کہلا سکتا۔ صحافی وہ ہوتا ہے جو تربیت یافتہ ہو، معلومات کی تصدیق کرتا ہو اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پابندی کرتا ہو۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے اکثر افراد ذاتی رائے دیتے ہیں، جن میں تحقیق یا غیر جانبداری کی کمی ہوتی ہے۔ یہ انہیں رائے دہندہ یا مواد تخلیق کار بنا سکتا ہے، لیکن صحافی نہیں۔

    معیار اور نیت کا یہ فرق محض صحافت کی ساکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی سچائی کا سوال ہے۔ ذاتی رائے یا تاثر فرد کے تجربات، جذبات، یا نقطہ نظر پر مبنی ہوتا ہے، جو اکثر غیر مصدقہ اور جانبدار ہو سکتا ہے۔ تحقیق شدہ خبر حقائق پر مبنی ہوتی ہے، جس کی تصدیق معتبر ذرائع سے کی جاتی ہے اور اسے غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر رائے اکثر سنسنی خیز یا جذباتی ہوتی ہے، جبکہ تحقیق شدہ خبر معروضیت اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

    روایتی صحافت میں ادارتی جانچ اور معلومات کی تصدیق نہ ہو تو صحافت افواہ میں بدل جاتی ہے۔ صحافی کا کام صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ حقائق کے گرد سچائی کی دیوار بنانا بھی ہے۔ ادارتی عمل میں متعدد مراحل شامل ہوتے ہیں، جیسے کہ حقائق کی جانچ، ذرائع کی تصدیق، اور مواد کی معروضیت۔ یہ عمل غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکتا ہے اور عوام کا اعتماد برقرار رکھتا ہے، جو سوشل میڈیا پر اکثر غائب ہوتا ہے۔

    لیری کنگ کا خود کو صحافی نہ سمجھنا ہمیں سکھاتا ہے کہ میڈیا کیمرے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا مقام ہے۔ وہ ایک انٹرویو کنندہ اور میزبان تھے، لیکن انہوں نے صحافت کے پیشہ ورانہ تقاضوں کو تسلیم کیا، جو تحقیق اور رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر میڈیا شخصیت صحافی نہیں ہوتی، اور صحافت ایک مخصوص کردار اور مہارت کا نام ہے۔ اگر ایک بین الاقوامی سطح کا اینکر خود کو صحافی نہیں مانتا تو سوشل میڈیا پر چند وڈیوز بنانے والا خود کو صحافت کا نمائندہ کیسے کہہ سکتا ہے؟

    سچ کو اگر وائرل ہونے کی خواہش پر قربان کر دیا جائے تو صحافت محض تفریح بن جاتی ہے۔ صحافت کا مقصد ذمہ داری کے ساتھ سچ سامنے لانا ہے، نہ کہ صرف وائرل ہونا۔ وائرل ہونا سوشل میڈیا کی خصوصیت ہے، جہاں سنسنی خیزی اور توجہ اہم ہوتی ہے۔ صحافت کا ہدف عوام کو درست، تصدیق شدہ، اور معروضی معلومات فراہم کرنا ہے، جو معاشرے میں بیداری اور مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔ وائرل ہونا صحافت کا ذیلی نتیجہ ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی مقصد نہیں۔

    اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ سچ اور صحافت کو بچانے کے لیے ہمیں فوری طور پر سوشل میڈیا اور صحافت کے فرق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے عوامی شعور، تعلیم و تربیت، اور صحافتی اقدار کی بحالی ضروری ہے۔ مواد تخلیق کاروں کو چاہیے کہ وہ سچائی کے ساتھ جُڑنے سے پہلے سچ کی ذمہ داری کو سمجھیں۔ صحافت ایک پیشہ ہے جو سچائی، غیر جانبداری، اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سوشل میڈیا ایک پلیٹ فارم ہے جو ہر قسم کے مواد کو جگہ دیتا ہے۔ اگر ہم یہ فرق بھول گئے تو صحافت کا چراغ سنسنی کے طوفان میں بجھ جائے گا۔

  • بہاولپور:چشتیاں روڈ پر بس اور کار میں خوفناک تصادم، 3 جاں بحق، 2 بچوں سمیت 5 زخمی

    بہاولپور:چشتیاں روڈ پر بس اور کار میں خوفناک تصادم، 3 جاں بحق، 2 بچوں سمیت 5 زخمی

    بہاولپور (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) تحصیل حاصل پور کے نواحی علاقے محمد پناہ موڑ، چشتیاں روڈ پر ایک دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا جس نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق بہاولپور سے بہاول نگر جانے والی طاہر کوچز کی اے سی بس جب محمد پناہ موڑ کے قریب پہنچی تو ایک خطرناک موڑ پر سامنے سے آنے والی کلٹس کار سے زوردار ٹکر ہو گئی۔

    تصادم اتنا شدید تھا کہ کار میں سوار آٹھ افراد میں سے تین افراد ، دو خواتین اور ایک مرد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ دیگر پانچ افراد جن میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں، شدید زخمی ہوئے۔ حادثے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حاصل پور منتقل کیا۔

    مقامی پولیس بھی حادثے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ تیز رفتاری اور خطرناک موڑ پر ڈرائیورز کا گاڑیوں پر قابو نہ رکھ پانا قرار دیا جا رہا ہے۔

    جائے حادثہ پر موجود شہریوں نے واقعے کو نہایت اندوہناک اور افسوسناک قرار دیا اور انتظامیہ سے چشتیاں روڈ پر حفاظتی اقدامات، سائن بورڈز اور رفتار کی حد متعین کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

    حادثے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر آنکھ اشکبار نظر آتی ہے۔

  • سیالکوٹ: شیراز عرف شم پم گینگ کے 4 خطرناک ڈاکو گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد

    سیالکوٹ: شیراز عرف شم پم گینگ کے 4 خطرناک ڈاکو گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ تھانہ کوٹلی سید امیر پولیس نے ڈی ایس پی صدر سرکل کی نگرانی اور ایس ایچ او سب انسپکٹر طیب حسین کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے خطرناک ڈکیت گینگ کے سرغنہ شیراز عرف شم پم سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان شہریوں سے اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکلیں، نقدی، قیمتی موبائل فونز اور طلائی زیورات چھین کر فرار ہو جاتے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ان ملزمان نے درجنوں وارداتوں کا انکشاف کیا ہے، جن میں تھانہ کوٹلی سید امیر اور تھانہ صدر کے علاقوں کی متعدد وارداتیں شامل ہیں۔

    پولیس نے ملزمان کے قبضہ سے درج ذیل مسروقہ سامان برآمد کر لیا:

    * 4 عدد چوری شدہ موٹرسائیکلیں
    * 31 ہزار روپے نقدی
    * 2 عدد قیمتی اسمارٹ موبائل فونز
    * طلائی زیورات
    * 2 عدد ناجائز پسٹل 30 بور بمعہ متعدد گولیاں
    * کل مالیتی رقم: 6 لاکھ 71 ہزار روپے

    گرفتار ملزمان کی شناخت درج ذیل ہے:

    1. شیراز عرف شم پم ولد محمد الیاس سکنہ پریم نگر، سیالکوٹ
    2. ستار ولد محمد صدیق سکنہ سیدڑہ خورد، سیالکوٹ
    3. نبیل احمد ولد نذیر احمد سکنہ ریسواں، سیالکوٹ
    4. شہباز ولد محمد افتخار سکنہ گامو گڑھ، سیالکوٹ

    پولیس کے مطابق ان ملزمان کے خلاف اب تک 9 مقدمات ٹریس کیے جا چکے ہیں اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے افسران و جوانوں کے لیے تعریفی سرٹیفکیٹس اور نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے بھی پولیس کی اس پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ایسے آپریشنز سے جرائم پیشہ عناصر کا نیٹ ورک جلد ختم ہو جائے گا۔