Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: مستوئی روڈ پر اندوہناک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوچ شریف: مستوئی روڈ پر اندوہناک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے مستوئی روڈ پر ایک افسوسناک اور غفلت پر مبنی حادثے میں 30 سالہ موٹر سائیکل سوار محمد ذیشان جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سڑک کنارے کھڑی ایک ٹرالی سے لکڑیاں اتارنے کے لیے لوہے کی زنجیر (ٹوچین) سڑک پر باندھی گئی تھی، تاہم اندھیرے اور مناسب حفاظتی علامات کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ زنجیر نظر نہ آ سکی۔

    عینی شاہدین کے مطابق محمد ذیشان ولد عبدالقادر ایک مریض کو موٹر سائیکل پر اسپتال لے جا رہے تھے کہ تیز رفتاری کے باعث ان کی موٹر سائیکل مذکورہ زنجیر سے ٹکرا گئی، جس سے وہ سڑک پر جا گرے اور ان کے سر، گردن اور سینے پر شدید چوٹیں آئیں۔ موقع پر موجود افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جنہوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، OPA اور CPR کے ذریعے جان بچانے کی کوشش کی اور انہیں شدید زخمی حالت میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    حادثے کے بعد علاقہ غم و اندوہ میں ڈوب گیا ہے جبکہ شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد نے حادثے کی ذمہ داری غیر محفوظ انداز میں ٹرالی سے سامان اتارنے اور سڑک پر بغیر کسی وارننگ کے رکاوٹیں ڈالنے پر عائد کی ہے۔ عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں پر عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    مرحوم محمد ذیشان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی۔ ان کی ناگہانی موت پر ہر آنکھ اشکبار ہے، اور پورا علاقہ سوگوار ہے۔

  • سیالکوٹ:ساتویں محرم کے جلوس اور مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    سیالکوٹ:ساتویں محرم کے جلوس اور مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ضلع سیالکوٹ میں ساتویں محرم الحرام کے موقع پر عزاداری کے جلوس اور مجالس کا سلسلہ پُرامن انداز میں جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں۔

    مرکزی جلوس امام بارگاہ دربتول اڈا پسروریاں سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا نمازِ فجر سے قبل اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہے جن کے لیے سبیلوں اور نیاز کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ضلع بھر میں آج مجموعی طور پر 73 جلوس اور 129 مجالسِ عزا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 2000 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ جلوس کے تمام راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی نگرانی کے لیے 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے کنٹرول روم سے منسلک کیے گئے ہیں۔

    داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے گئے ہیں جبکہ اہم مقامات اور عمارتوں کی چھتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات ہیں۔ پنجاب رینجرز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔

    پولیس کے مطابق ضلع میں کیٹیگری "اے” کے 12، کیٹیگری "بی” کے 22 اور کیٹیگری "سی” کے 39 جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا جامع پلان جاری کیا گیا ہے۔

    جلوس میں شرکت کرنے والے تمام افراد کو مکمل جامہ تلاشی کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

  • راجستھان میں پاکستانی ہندو جوڑے کی مسخ شدہ لاشیں برآمد

    راجستھان میں پاکستانی ہندو جوڑے کی مسخ شدہ لاشیں برآمد

    راجستھان (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جیسلمیر میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان شادی شدہ جوڑے کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کی شناخت 17 سالہ روی کمار اور 16 سالہ شانتی بائی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے گاؤں غلام حسین لغاری سے بتایا جا رہا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جوڑا غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہوا تھا اور ابتدائی شواہد کے مطابق شدید گرمی اور پیاس کے باعث بھارتی ریگستان میں جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں کی لاشیں ایک درخت کے نیچے سے ملی ہیں اور ان کے پاس سے پاکستانی شناختی کارڈز اور موبائل سم کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔

    پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ موت 8 سے 10 روز قبل واقع ہوئی، تاہم حتمی سبب پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد معلوم ہو سکے گا۔ جوڑے نے 12 روز قبل گھر والوں کو بتائے بغیر روانگی اختیار کی تھی، جس کے بعد کئی روز تک ان کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔

    روی کمار کے والد دیوان جی نےنجی ٹی وی کو بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کے علاقے جیسلمیر میں دو لاشیں ملنے کی اطلاع ملی، بعد ازاں تصاویر سے تصدیق ہوئی کہ وہ لاشیں ان کے بیٹے اور بہو کی تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں میاں بیوی کی آخری رسومات بھارت میں ہی ادا کر دی گئی ہیں۔ واقعے نے سرحد پار انسانی جانوں کے خطرات اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ کے حساس مسئلے پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

  • ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 6 سے 10 جولائی تک ملک بھر میں شدید بارشوں، آندھی، طوفان اور متعدد علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق شدید موسمی حالات کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ پنجاب کے اضلاع اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، لاہور، قصور، اوکاڑہ، ملتان، خانیوال، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    خیبرپختونخوا میں دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، ملاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، ہری پور، بنوں اور کوہاٹ میں گرج چمک اور طوفانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    گلگت بلتستان کے علاقوں گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے مظفرآباد، وادی نیلم، راولا کوٹ، حویلی اور باغ میں بھی شدید بارشیں متوقع ہیں۔

    سندھ کے شہروں سکھر، نوابشاہ، کشمور، حیدرآباد، کراچی، تھرپارکر، میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ، جامشورو، ٹنڈو الٰہ یار، ٹھٹہ، بدین، مٹھی، گھوٹکی، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلات، خضدار، آواران، بارکھان، جعفرآباد، کوہلو، سبی، ڈیرہ بگٹی، لورالائی، لسبیلہ اور نصیرآباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت کی ہے، جبکہ عوام کو بھی احتیاط برتنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ادارے نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو خاص طور پر ہوشیار رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں 1122 یا متعلقہ ضلعی کنٹرول روم سے فوری رابطے کی ہدایت کی ہے۔

  • اوکاڑہ: انسداد ڈینگی مہم تیز، مون سون میں چیکنگ اور سرویلنس بڑھانے کی ہدایت

    اوکاڑہ: انسداد ڈینگی مہم تیز، مون سون میں چیکنگ اور سرویلنس بڑھانے کی ہدایت

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں انسدادِ ڈینگی مہم کے تحت جاری اقدامات، ڈینگی سرویلنس، ہاٹ سپاٹس کی چیکنگ، اور انسپیکشن اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد ابراہیم ارباب نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ڈینگی سرویلنس کو مزید مؤثر اور مربوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارشی پانی کے جمع ہونے سے ڈینگی مچھر کی افزائش ہوتی ہے، اس لیے نکاسی آب کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی مقام پر پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔

    انہوں نے متعلقہ اداروں کو تاکید کی کہ حکومت پنجاب کی جانب سے طے کردہ انسپیکشن ٹارگٹس کو ہر صورت مکمل کیا جائے اور کارروائیوں کا ریکارڈ باقاعدگی سے ڈیش بورڈ پر اپلوڈ کیا جائے۔ ڈینگی سکواڈ کو متحرک کرنے اور موذوں مقامات پر مسلسل چیکنگ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ ڈینگی لاروا کو پنپنے کا موقع نہ ملے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے انسداد ڈینگی مہم میں تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے عمل کو بھی تسلسل سے جاری رکھنے پر زور دیا تاکہ شفافیت اور کارکردگی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اجلاس میں انسداد ڈینگی کے لیے تمام محکموں کے مابین بھرپور تعاون کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

  • اوکاڑہ: نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا عزم، غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

    اوکاڑہ: نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا عزم، غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی پی او راشد ہدایت، پاک آرمی کے افسران اور وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ضلع میں نیشنل ایکشن پلان کے مختلف نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا۔

    اجلاس میں غیر قانونی پیٹرول پمپس اور ایل پی جی شاپس کے خلاف کارروائیاں، ہیومن ٹریفکنگ کی روک تھام، بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف آپریشن، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ٹرانسپورٹرز کے خلاف اقدامات، گداگری کے خاتمے، انسداد تجاوزات مہم، مدارس کی رجسٹریشن اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل جیسے اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت پنجاب کے احکامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور قانون شکنی کے مرتکب افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ اجلاس میں طے پایا کہ ضلعی سطح پر بین المحکماتی رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام اہداف بروقت اور مکمل طور پر حاصل کیے جا سکیں۔

  • تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب

    تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب

    تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    سلام ہو حسینؑ پر…
    سلام ہو ان پر جو پیاسے رہے مگر سچائی کو تر رکھا،
    سلام ہو عباسؑ پر… جو دریا کے کنارے تک پہنچے مگر وفا کے پیکر بن کر واپس لوٹ آئے۔

    محرم کی ساتویں شب وہ لمحہ ہے جب کربلا کے آسمان پر تپتی دھوپ کا سایہ گہرا ہونے لگا، جب خیموں میں معصوم بچے پانی کو ترسنے لگے، اور جب صحرائے کربلا کے ذرے ذرے نے پیاس کے مارے لبوں کی صدائیں اپنے سینے میں دفن کر لیں۔ چھٹے محرم کے بعد ذخیرہ شدہ پانی ختم ہو چکا تھا۔ سات محرم کا سورج آگ برسا رہا تھا۔ ماؤں کی گود میں بلکتے بچے، پانی کی تلاش میں دوڑتی بچیاں، اور خالی مشکیزوں کو دیکھتے مردوں کی آنکھیں… یہ سب کچھ کربلا کے ماتمی منظر کو اور ہولناک بنا رہا تھا۔

    امام حسینؑ جانتے تھے کہ پانی کا ایک ایک قطرہ اب امانت ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے حضرت سکینہؑ پیاس سے نڈھال تھی، مگر ان کے لہجے میں شکایت نہیں تھی، فقط ایک سوال تھا: "بابا! کل پانی ملے گا نا؟”

    شیعہ روایات اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسینؑ کے قافلے کو ساتویں محرم سے دسویں محرم کی شب تک پانی میسر نہ تھا۔ تشنگی کی یہ حالت صرف جسمانی نہیں، بلکہ روحانی آزمائش بھی تھی۔ خیموں میں بڑوں کے ہونٹ خشک ہو چکے تھے، بچوں کی چیخیں دل چیر رہی تھیں، اور صبر کا وہ پہاڑ تھا جو صرف حسینؑ کے کارواں کو نصیب تھا۔

    امامؑ کے ایک وفادار ساتھی، یزید بن حسین الحمدانی، نے بچوں کی بلکتی آوازیں سن کر امامؑ سے عمر بن سعد کے پاس جانے کی اجازت طلب کی۔ وہ دربار یزید کے اس نمائندے کے سامنے گئے اور کہا: "تم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟” ابن سعد نے جواب دیا، "کیوں نہیں، میں مسلمان ہوں!”
    الحمدانی بولے: "تو پھر رسول اللہؐ کے نواسے اور ان کے ننھے بچوں کو پانی سے محروم رکھنا کون سا اسلام ہے؟ کیا تم قیامت کے دن رسولؐ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟”

    ابن سعد نے بڑی سفاکی سے کہا، "قیامت کی فکر بعد میں کروں گا، ابھی مجھے رے کی حکومت چاہیے!”

    اس پر امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ کو حکم دیا کہ بیس سواروں کے ساتھ دریا کی طرف جائیں اور پانی لانے کی کوشش کریں۔ جیسے ہی عباسؑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرات کے کنارے پہنچے، یزیدی سپاہی حجاج نے انہیں روکا۔ دونوں جانب سے تلواریں چلیں، تیروں کی بوچھاڑ ہوئی۔ عباسؑ اور ان کے وفادار ساتھی چند مشکیزے بھرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن واپسی پر ہجوم اور تیزی میں کچھ برتن الٹ گئے، پانی زمین پر بہہ گیا۔ جو پانی خیموں میں پہنچا، وہ پیاس بجھانے کے لیے ناکافی تھا، مگر سکینہؑ کے لب تر ہوئے تو ماں کی آنکھ بھیگ گئی۔

    انھی لمحوں میں ایک اور واقعہ کربلا کی تپتی ریت پر رقم ہوا۔ یزیدی لشکر کا ایک سپاہی، عبداللہ بن حسین العزدی، فرات کے کنارے کھڑا ہو کر طنز کرتا ہے: "حسین! یہ دیکھو، یہ شفاف پانی! خدا کی قسم، ایک قطرہ بھی تمہیں نصیب نہ ہوگا!”
    امامؑ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: "اے پروردگار! اسے زندگی میں ایسی پیاس دے جو کسی نے نہ چکھی ہو!”
    راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ سپاہی دریا سے پانی پیتا رہا، قے کرتا رہا، بار بار پیتا، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا اور وہ فرات کے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب ابن سعد کو غصہ آیا کہ حسینؑ کے سوار دریا سے پانی لا سکے۔ اس نے دریا کا پہرہ مزید سخت کر دیا، اب پانی کا ایک قطرہ بھی امامؑ کے کیمپ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔

    آٹھویں شب کو امام حسینؑ خود چند ساتھیوں کے ساتھ ابن سعد سے گفتگو کے لیے نکلے۔ انہیں امید تھی شاید ضمیر کی کوئی چنگاری ابھی باقی ہو۔ امامؑ نے کہا: "کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا؟ کیا تو نہیں جانتا میں رسولؐ کا نواسہ ہوں؟ کیا بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے مجھے قتل کرو گے؟”

    اسی رات، سکینہؑ پھر اپنی ماں سے لپٹ کر کہہ رہی تھی: "امّی! کل پانی ملے گا نا؟”
    اور ماں… بس آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی، جیسے دعائیں بھی پیاسی ہو گئی ہوں۔

  • ننکانہ : ریسکیو 1122 کا ماہانہ اجلاس، جون میں 3930 افراد کو ریسکیو، مون سون میں احتیاط کی ہدایت

    ننکانہ : ریسکیو 1122 کا ماہانہ اجلاس، جون میں 3930 افراد کو ریسکیو، مون سون میں احتیاط کی ہدایت

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ماہ جون 2025 کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کی۔ اجلاس میں کنٹرول روم انچارج محمد نوید، ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران، اسٹیشن کوارڈینیٹر محمد سعید، میڈیا کوارڈینیٹر علی اکبر اور دیگر افسران و انچارجز نے شرکت کی۔

    کنٹرول روم انچارج محمد نوید نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جون کے مہینے میں ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب کو کل 17013 کالز موصول ہوئیں جن میں سے 3817 ایمرجنسی کالز تھیں۔ ان کالز پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو اہلکاروں نے 3930 افراد کو امداد فراہم کی۔

    تفصیلات کے مطابق 700 روڈ ٹریفک حادثات، 2460 میڈیکل ایمرجنسیز، 43 آگ لگنے کے واقعات، 101 لڑائی جھگڑے و تشدد، 4 پانی میں ڈوبنے اور 509 متفرق نوعیت کی ایمرجنسیز رپورٹ ہوئیں۔ مجموعی طور پر 1451 متاثرین کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ 2371 مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے ان ایمرجنسیز کے دوران 108 افراد جانبر نہ ہو سکے۔

    ڈاکٹروں کی سفارش پر 341 مریضوں کو ضلعی سطح پر علاج کی سہولت نہ ہونے کے باعث لاہور اور فیصل آباد کے بڑے ہسپتالوں میں ریسکیو 1122 کی پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے مفت اور محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے مون سون سیزن کے پیش نظر عوام سے خصوصی احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کو جوہڑوں اور سیلابی پانی میں جانے سے روکیں، چھتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، اور بجلی کے کھمبوں یا گیلی حالت میں سوئچ بورڈز سے دور رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔

  • پیر عادل: سات محرم کا مرکزی جلوس، عزاداری و لنگر کا وسیع انتظام

    پیر عادل: سات محرم کا مرکزی جلوس، عزاداری و لنگر کا وسیع انتظام

    پیرعادل (باغی ٹی وی،نامہ نگارباسط علی )ملک بھر کی طرح ڈیرہ غازی خان کے علاقے پیر عادل میں بھی محرم الحرام کی مناسبت سے علم پاک کا مرکزی جلوس مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ برآمد ہوا۔ جلوس مرحوم فدا حسین فوجی کے گھر سے برآمد ہوا اور مقررہ روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ کاظمیہ پیر عادل پر اختتام پذیر ہوا۔

    جلوس سے قبل مجلسِ عزاء سے ذاکر اہل بیت سید حسین شاہ، مولانا حافظ ابوزر غفاری اور حافظ مدثر عباس نے خطاب کیا۔ مجلس کے بعد عزاداروں نے ماتم داری کی اور مختلف ماتمی سنگتوں جن میں "قائم آل محمد”، "انتظار حجت”، "غلامان معصومین”، "آل اللہ”، "کاروانِ علمدار” اور "سقائے معصومہ” شامل تھیں، نے نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    جلوس کے اختتام پر بانی جلوس منتظر مہدی کی جانب سے لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا۔ سیکیورٹی انتظامات مکمل طور پر فعال رہے اور جلوس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

  • اوکاڑہ: سات محرم کا مرکزی جلوس آج رات برآمد، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

    اوکاڑہ: سات محرم کا مرکزی جلوس آج رات برآمد، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر)اوکاڑہ میں محرم الحرام کے سلسلے میں ساتویں محرم الحرام کا مرکزی ماتمی جلوس آج رات 9 بجے امام بارگاہ ایوانِ حسین سے برآمد ہوگا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا راوی روڈ پر اختتام پذیر ہوگا۔

    ضلع بھر میں سات محرم کو مجموعی طور پر 24 جلوس اور 70 مجالس عزاداری کا انعقاد کیا جائے گا۔ سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن کے تحت 1300 سے زائد افسران اور پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔

    جلوس کے تمام راستوں کو قناتیں لگا کر اور خاردار تاروں سے سیل کیا جائے گا جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریزرو نفری اور کوئیک ریسپانس فورس (QRF) کو سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کو ہر سطح پر چوکس رکھا گیا ہے۔