Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائیاں، جون میں 8231 افراد کو امداد

    ڈیرہ غازی خان: ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائیاں، جون میں 8231 افراد کو امداد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر، جواد اکبر)ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائیاں، جون میں 8231 افراد کو امداد

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان انجینیئر احمد کمال کی زیر صدارت گزشتہ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جون 2025 کے دوران ادارے کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نے جون کے مہینے میں 828 روڈ ٹریفک حادثات، 66 آتشزدگی، 221 لڑائی جھگڑوں، 6008 میڈیکل ایمرجنسیز، 5 عمارتیں گرنے کے واقعات، پانی میں ڈوبنے کے 7 کیسز اور 1064 متفرق نوعیت کے حادثات میں بروقت ریسپانس دیتے ہوئے امدادی سرگرمیاں سر انجام دیں۔ مجموعی طور پر 8231 مریضوں کو ریسکیو کیا گیا جن میں سے 5171 افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ 2918 زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    انجینیئر احمد کمال نے بتایا کہ تمام ایمرجنسیوں میں ریسپانس ٹائم کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا، جو ادارے کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔ تاہم، انہوں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ادارے کو موصول ہونے والی 40798 کالز میں سے 26831 کالز غیر متعلقہ، 8 غلط اور 13 جھوٹی کالز تھیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ریسکیو 1122 کے ایمرجنسی نمبرز کا استعمال صرف حقیقی ضرورت کے وقت کیا جائے، کیونکہ جھوٹی یا غیر ضروری کالز نہ صرف ادارے کا وقت ضائع کرتی ہیں بلکہ اصل ایمرجنسی میں کسی کی جان بچانے میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے یقین دلایا کہ ریسکیو 1122 اپنی خدمات کا معیار مزید بہتر بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور عوام کے تعاون سے ہی ہنگامی صورتحال میں مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

  • ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ

    ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ

    ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ انڈیکس ایک لاکھ اکتیس ہزار پوائنٹس کی حد پار کر چکا ہے اور سرمایہ دار طبقے کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن اس معاشی پیش رفت میں ایک سوال ہے جو دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا ہے اور ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ کیا یہ ترقی عام پاکستانی کے لیے بھی ہے یا یہ صرف چند مخصوص خاندانوں، اشرافیہ اور مالیاتی مافیاز کی جیبیں بھرنے کا ذریعہ ہے؟ جب غریب کا چولہا بجھا ہوا ہو، بچے فاقوں پر ہوں اور گھر کا مالک بجلی، پانی، آٹا اور دوائی کے اخراجات سے تنگ آ کر دیوار سے سر ٹکرا رہا ہو، تو سٹاک ایکسچینج کا یہ جشن سراسر تماشہ معلوم ہوتا ہے۔

    ملک کا عام شہری آج مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ بجلی کے بلوں نے اس کا ذہنی سکون چھین لیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں عام سواری کو بھی لگژری بنا چکی ہیں۔ ریلویز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا، بسوں نے کرائے بڑھا دیے اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ ملک شہزاد اعوان جیسے نمائندے ٹیکسوں اور ٹولز ٹیکس سے تنگ آ کر احتجاج کر رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ان کی گاڑیاں نذرِ آتش اور لوٹ مار کا شکار ہو رہی ہیں۔ یہ صرف ٹرانسپورٹ کا بحران نہیں، یہ ہر اس شہری کا درد ہے جس کی روزمرہ اشیاء ان گاڑیوں سے جُڑی ہوئی ہیں اور جب ان اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ان کا بوجھ بھی عوامی کمر پر آ گرتا ہے۔

    یہ معاشی دباؤ صرف تاجر یا ٹرانسپورٹر نہیں بلکہ ہر عام پاکستانی کی گردن پر ہے۔ گوجرانوالہ میں انور نامی محنت کش کا بجلی کا بل صرف 3800 روپے کی عدم ادائیگی پر کاٹ دیا گیا۔ جب اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے اس پر چوری کا مقدمہ درج کرا کے جیل بھجوا دیا اور 700 یونٹ کابل بنادیا۔ یہی مقدمہ اس وقت قیامت بن گیا جب اس کا بیٹا فراز تیزاب پی کر زندگی سے منہ موڑ گیا۔ ماں کی فریاد "میرا بیٹا بلوں کے دفتر کے چکر لگاتا رہا اور آخر مر گیا” صرف ایک بین نہیں، پورے سسٹم پر ایک تھپڑ ہے۔کچھ عرصہ قبل اسی شہر میں ایک بھائی نے بجلی کے بل کے جھگڑے پر اپنے ہی بھائی کو قتل کر دیا۔ ڈسکہ کی نسرین بی بی نے بیس ہزار روپے کے بل سے تنگ آ کر خود کو جلا لیا۔ یہ خبریں نہیں، ماتم ہیں، جن پر پورا معاشرہ آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے بجلی کی قیمت میں سات روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا مگر یہ کمی بنیادی ٹیرف میں نہیں بلکہ عارضی فیول ایڈجسٹمنٹ میں کی گئی، جو اپریل سے جون تک محدود تھی۔ اب وہ ریلیف ختم ہو چکا ہے اور عوام پھر اسی ظلم کے شکنجے میں آ چکی ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری کا یہ کہنا کہ "ہم نے مستقل ریلیف دیا ہے”، گویا ان ماں باپ کے زخموں پر نمک پاشی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے کھو دیا۔ آج ایک دو کمروں کے گھر کا بجلی بل آٹھ سے دس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جو ایک تنخواہ دار یا مزدور کے لیے موت کا پروانہ ہے۔

    قانون دان اور ماہرنفسیات بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مہنگائی نہ صرف معاشی تباہی کا پیش خیمہ ہے بلکہ معاشرتی تنزلی، تشدد اور ذہنی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ گھروں میں جھگڑے، طلاقیں، قتل، خودکشیاں…یہ سب سلیب گردی کے بدترین نتائج ہیں۔ اگر یہی تسلسل جاری رہا تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں انسانیت صرف کتابوں میں رہ جائے گی۔

    اور اب وہ خونی سوال جو ہر دل کو چیر رہا ہے کہ جب سٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو کیا اس کا کوئی فائدہ عام پاکستانی کو مل رہا ہے؟ جب ایک غریب محنت کش کا بیٹا بجلی کے بل کی وجہ سے خودکشی کر لیتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جب بھائی بھائی کا قاتل بن جاتا ہے اور خواتین خودسوزی پر مجبور ہوتی ہیں تو کیا یہ نظام کی ناکامی نہیں؟ وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری، آپ کے فیصلوں نے عوام کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا ہے۔ آپ اس "سلیب گردی” کے نتیجے میں معصوم پاکستانیوں کی اور کتنی جانیں لیں گے؟

    کیا کوئی ادارہ یا لیڈر اس معاشرتی تباہی کو روکنے کے لیے آگے بڑھے گا یا ہم صرف اعدادوشمار کی چمک دمک میں کھوئے رہیں گے جبکہ عام آدمی کی چیخیں دبتی رہیں گی؟ اربابِ اختیار سے سوال ہے کہ آپ کے پاس اس درد کا کوئی مداوا ہے یا بس وعدوں اور عارضی ریلیف کے جھانسوں سے عوام کو مزید ٹھگتے رہیں گے؟ کب تک اویس لغاری کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بچے یتیم، عورتیں بیوہ اور مائیں اپنے لخت جگر کی لاشوں پر بین کرتی رہیں گی؟ اس ظلم کے خلاف کون بند باندھے گا؟ کب تک سلیب گردی کی بھینٹ چڑھ کر جنازے اٹھتے رہیں گے؟ کیا کوئی آج کے دور کا عمر پیدا ہوگا جس نے کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کا جوابدہ عمر ہوگا؟

    اب ان بھوکے، بے بس اور اویس لغاری کی سلیب گردی کی وجہ سے مرنے والوں کے خون کا ذمہ دار حاکم وقت وزیر اعظم میاں شہباز شریف نہیں تو اور کون ہے؟

  • بل نہیں دیا؟ مر جاؤ!، ریاست کے ہاتھوں ایک اور قتل

    بل نہیں دیا؟ مر جاؤ!، ریاست کے ہاتھوں ایک اور قتل

    بل نہیں دیا؟ مر جاؤ!، ریاست کے ہاتھوں ایک اور قتل
    تحریر: حبیب اللہ خان
    گوجرانوالہ کے چھوٹے سے علاقے ونیہ والا میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس نے صرف ایک خاندان کو نہیں، بلکہ پورے ریاستی نظام کو بےنقاب کر دیا ہے۔ محض 38 ہزار روپے کے بجلی کے بل کی عدم ادائیگی پر ایک محنت کش باپ کو گرفتار کر لیا گیا ، وہ بھی ایسے حالات میں جب اس کے گھر کی بجلی تین دن سے منقطع تھی اور حالات شدید غربت کی چغلی کھا رہے تھے۔ یہ کہانی انور اور اس کے بیٹے فراز کی ہے۔ بجلی کامیٹر کٹ گیا، گھر میں تاریکی چھا گئی اور اسی دوران گیپکو نے ہمسایوں سے عارضی بجلی لینے پر انور کو بجلی چوری کے الزام میں گرفتار کروا دیا۔ ریاستی مشینری نے اپنی چال چل دی مگر شاید اسے اندازہ نہ تھا کہ اس بار شکار صرف قید و بند تک محدود نہیں رہے گا۔

    فراز … ایک حساس دل رکھنے والا نوجوان تھا جو والد کی گرفتاری اور گھریلو تاریکی سے اندر ہی اندر جل رہا تھا، وہ ہر ممکن کوشش کرتا رہا کہ گیپکو کے دفتر جا کر کسی حل تک پہنچے۔ لیکن جب مایوسی حد سے بڑھ گئی تو اس نے تیزاب پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ وہ زندگی جس نے شاید کبھی سکون کا سانس ہی نہ لیا ہو، اُسے ریاست کی بےحسی نے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ ہم سب نے بچپن میں سنا ہے کہ "ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے”۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ماں اس طرح اپنے بھوکے بچے کو سزادیتی ہے؟ کیا ماں بجلی نہ ہونے پر اپنے بیٹے کو موت کی طرف دھکیلتی ہے؟ فراز کی خودکشی ایک عام خبر نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج دیرپا ہونی چاہیے۔

    جب وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری بجلی چوروں کے خلاف "ریکوری مہم” پر فخر کرتے ہیں تو کیا ان سے یہ پوچھا نہیں جانا چاہیے کہ کیا یہ "ریکوری” انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ کیا ان کی مہم نے غربت کو جرم بنا دیا ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ انور ایک محنت کش تھا، اسے جیل میں ڈالنا جائز تھا؟ اور کیا فراز کی موت کا مقدمہ اب صرف والدین کے آنسوؤں میں دفن کر دیا جائے گا یا وزیرِ توانائی کو بھی کٹہرے میں بلایا جائے گا؟ یہ محض ایک افسوسناک واقعہ نہیں، یہ اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس نے ہر قیمت پر ریکوری کا نعرہ لگا کر انسانیت کو پچھلی صف میں دھکیل دیا ہے۔ کیا اویس لغاری کی وزارت اس موت کی شریک مجرم نہیں؟ کیا ان کے اقدامات سے جنم لینے والے سانحات کا کوئی حساب نہیں ہونا چاہیے؟

    آج ملک بھر میں اربوں روپے کے بل ادا نہ کرنے والے طاقتور سیاستدان، تاجر، افسران اور اشرافیہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کے خلاف نہ ایف آئی آر درج ہوتی ہے، نہ گرفتاری، نہ ذلت۔ مگر ایک محنت کش انور، جو شاید 38 ہزار کی قسط بھی مانگتا ہوگا، اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا یہی قانون ہے؟ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ فراز کی موت ایک نوحہ ہے، ایک احتجاج ہے، ایک سائلانہ چیخ ہے ، وہ کہتا ہے "میرا جرم کیا تھا؟ کہ میں غریب تھا؟”

    یہ سب کچھ ایک لمحاتی جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ریاست کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں وہ اپنی پالیسیوں، اپنی ترجیحات اور اپنی بےحسی کا عکس دیکھ سکتی ہے۔ گیپکو حکام کے خلاف فوری انکوائری ہونی چاہیئے اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو اس واقعہ پر ایوان میں طلب کیا جانا چاہیے۔ وزارتِ توانائی کی "ریکوری پالیسی” کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ ایسے تمام کیسز میں جہاں غربت کی وجہ سے بل ادا نہ کیے جا سکے، ریاستی ریلیف، اقساط یا سماجی تحفظ کی اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔ فراز کی خودکشی پر عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ذمہ دار کون ہے . صرف بجلی چوری کرنے والا یا وہ نظام جو انسان کو جینے کا حق نہیں دیتا۔

    اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں اگر ہم نے فراز کے آنسوؤں کو نظرانداز کیا، تو شاید کل کو کسی اور کا بیٹا، کسی اور کا باپ اسی ریاستی ظلم کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ تب ہم صرف کفِ افسوس ہی ملتے رہ جائیں گے۔ کیا ہم ایک زندہ قوم ہیں؟ یا پھر ہم صرف زندہ لاشیں ہیں جو ہر دن ایک نیا ماتم سن کر تھوڑا سا افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے تک خاموش ہو جاتے ہیں؟ فراز چلا گیا، انور شاید رہا بھی ہو جائے، لیکن یہ سوال ہمارے دل و دماغ پر نقش ہونا چاہیے کہ کیا ہم واقعی ایک زندہ ریاست ہیں؟ اگر ہم خاموش رہے، تو یہ خاموشی صرف ایک قتل پر نہیں ہو گی ، یہ ہمارے ضمیر کے قتل پر مہرِ تصدیق ہو گی۔

  • بجلی بل کی عدم ادائیگی پر باپ گرفتار، بیٹے کی خودکشی

    بجلی بل کی عدم ادائیگی پر باپ گرفتار، بیٹے کی خودکشی

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)نواحی علاقہ ونیہ والا میں غربت اور بے بسی ایک اور جان لے گئی۔ بجلی بل کی عدم ادائیگی پر گیپکو حکام نے شہری انور کو گرفتار کروا دیا، جس پر اس کا بیٹا فراز دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر بیٹھا۔

    تفصیلات کے مطابق تین ماہ کا 38 ہزار روپے کا بل ادا نہ کرنے پر گیپکو نے انور کا بجلی میٹر منقطع کر دیا۔ انور نے وقتی طور پر ہمسایوں سے بجلی لینا شروع کی تو گیپکو حکام نے بجلی چوری کا مقدمہ درج کروا کر اسے گرفتار کروا دیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق مسلسل تین دن تک گھر میں بجلی نہ ہونے اور والد کی گرفتاری سے متاثر ہو کر انور کا نوجوان بیٹا فراز شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا اور بالآخر تیزاب پی کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    مرحوم کی والدہ نے بتایا کہ فراز والد کی رہائی اور بجلی کی بحالی کے لیے گیپکو دفتر کے چکر لگاتا رہا، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔

    یہ افسوسناک واقعہ سوال چھوڑ گیا ہے کہ کیا بجلی چوری کے خلاف کارروائی انسانی جان سے زیادہ ضروری ہے؟ حکام بالا کی خاموشی اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے۔

  • میرپورخاص:ایم کیو ایم وفد کی شہید راحیل قائمخانی و دیگر مرحومین کے لواحقین سے تعزیت

    میرپورخاص:ایم کیو ایم وفد کی شہید راحیل قائمخانی و دیگر مرحومین کے لواحقین سے تعزیت

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)ایم کیو ایم میرپورخاص ڈسٹرکٹ کے انچارج خالد تبسم، جوائنٹ انچارج آفاق احمد خان اور اراکینِ ڈسٹرکٹ کمیٹی اسلم قریشی و لیاقت پیرزادہ پر مشتمل ایک وفد نے مختلف علاقوں میں جا کر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وفد میں حق پرست رکنِ اسمبلی انجینئر صابر قائمخانی بھی شامل تھے۔

    وفد نے کوٹ غلام محمد ٹاؤن میں شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں سے مقابلے کے دوران شہید ہونے والے فوجی جوان راحیل قائمخانی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ راحیل قائمخانی، سابق زونل ممبر عارف قائمخانی کے بھانجے اور سابق ممبر سیکٹر شکیل بھائی کے بھتیجے تھے۔ شہید راحیل کے والد شکیل قائمخانی ایم کیو ایم KGM کے دیرینہ ہمدرد ہیں۔

    اس کے علاوہ جھڈو ٹاؤن کے سابق سیکٹر انچارج شفیق قائمخانی کی والدہ، میرواہ ٹاؤن میں سابق جوائنٹ زونل انچارج خالد مجید کی نانی، سابق جوائنٹ سیکٹر انچارج علی حسن کی اہلیہ، سیکٹر ممبر رانا ذوالفقار کی والدہ اور حق پرست کونسلر ضیاء قاسمی کی تائی کے انتقال پر ان کے اہلِ خانہ سے بھی وفد نے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔

    اس موقع پر ڈسٹرکٹ ممبران عمران قائمخانی، شفیق قائمخانی، کوٹ غلام محمد ٹاؤن کے انچارج راؤ حامد، جھڈو ٹاؤن کے جوائنٹ انچارج ولایت قائمخانی، میرواہ ٹاؤن کے انچارج رانا اسحٰق، اراکینِ سیکٹر کمیٹی اور دیگر حق پرست کونسلرز بھی موجود تھے۔

    ایم کیو ایم کے وفد نے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی اور لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ایم کیو ایم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • سیالکوٹ: حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اسسٹنٹ کمشنرز پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر

    سیالکوٹ: حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اسسٹنٹ کمشنرز پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)حکومت پنجاب نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیشن اتھارٹی (پیرا) ایکٹ 2024 کے تحت اہم انتظامی اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر میں مختلف تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسرز (SDEO) مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ضلعی اور تحصیلی سطح پر انفورسمنٹ کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ جنرل پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیرا کے دوسرے اجلاس مورخہ 31 مئی 2025 کی روشنی میں، اور پہلے جاری کردہ نوٹیفکیشن (مورخہ 17 دسمبر 2024) میں ترامیم کے بعد، تمام اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز جنرل (ADC-G) کو پیرا ایکٹ کی سیکشن 16، 17 اور 18 کے تحت ہیئرنگ آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کو پیرا کا ایکس آفیشیو سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    ضلع سیالکوٹ میں ہونے والی اہم تعیناتیاں درج ذیل ہیں:

    * تحصیل سیالکوٹ: اسسٹنٹ کمشنر، سیالکوٹ
    * تحصیل پسرور: اسسٹنٹ کمشنر، پسرور
    * تحصیل ڈسکہ: اسسٹنٹ کمشنر، ڈسکہ
    * تحصیل سمبڑیال: اسسٹنٹ کمشنر، سمبڑیال

    ان تمام تحصیلوں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سیالکوٹ (ADC-G) کو پیرا ایکٹ 2024 کے تحت ہیئرنگ آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔

    اس فیصلے کا مقصد پیرا اتھارٹی کو ضلعی و تحصیلی سطح پر مؤثر بناتے ہوئے عوامی شکایات کا فوری ازالہ کرنا، اور تجاوزات، ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی تعمیرات اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے نہ صرف ضلعی انتظامیہ کو انفورسمنٹ کے عمل میں تقویت ملے گی بلکہ عوام کو بھی فوری انصاف اور ریلیف میسر آئے گا۔

  • سیالکوٹ: حاملہ بیوی کے قاتل کو دو بار سزائے موت، 5 لاکھ روپے دیت کا بھی حکم

    سیالکوٹ: حاملہ بیوی کے قاتل کو دو بار سزائے موت، 5 لاکھ روپے دیت کا بھی حکم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)بڈیانہ کے نواحی گاؤں ڈھلم میں سات ماہ کی حاملہ بیوی کو قتل کرنے والے مجرم شاہد کو عدالت نے دو بار سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے دیت ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق، دو سال قبل گھریلو جھگڑے کے دوران مجرم شاہد نے اپنی سات ماہ کی حاملہ بیوی کو بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ مقتولہ کے حاملہ ہونے کے سبب یہ واقعہ دو جانوں کے قتل کے مترادف تھا۔ عدالت نے مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔

    پراسیکیوشن کے مطابق ملزم کے خلاف ناقابل تردید شواہد اور گواہوں کے بیانات عدالت میں پیش کیے گئے، جن کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ مقتولہ کے اہلخانہ نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مظلوم خواتین کو انصاف دلانے کی سمت ایک اہم قدم ہے اور اس سے خواتین پر ہونے والے مظالم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان: محرم الحرام میں عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی، سیکیورٹی و صفائی انتظامات سخت، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد متحرک

    ڈیرہ غازی خان: محرم الحرام میں عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی، سیکیورٹی و صفائی انتظامات سخت، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد متحرک

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں محرم الحرام کے دوران عزاداروں، مجالس اور ماتمی جلوسوں کے لیے مثالی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد خود انتظامات کی نگرانی میں پیش پیش ہیں اور ڈی پی او سید علی سمیت متعلقہ افسران کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے لیے فول پروف سیکیورٹی، صفائی ستھرائی، سٹریٹ لائٹس کی مرمت، اور پانی و بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ جلوسوں کے منتظمین اور مقامی علماء کرام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے اور ان کی مشاورت سے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔

    سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں، جب کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی پلان جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی طبی امداد کے لیے موبائل میڈیکل یونٹس اور ریسکیو ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح امن و امان، بین المسالک ہم آہنگی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور انتظامات پر عملدرآمد کی خود نگرانی کی جائے گی۔

  • اوچ شریف: ایل پی جی کی غیرقانونی ری فلنگ اور ٹرانسپورٹ میں استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان

    اوچ شریف: ایل پی جی کی غیرقانونی ری فلنگ اور ٹرانسپورٹ میں استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ایل پی جی گیس کی غیرقانونی ری فلنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ میں اس کے خطرناک استعمال کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے اراکین، سول ڈیفنس، محکمہ تعلیم، کالجز، موٹر وے، ٹریفک اور پٹرولنگ پولیس سمیت ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے افسران شریک ہوئے جبکہ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    ڈاکٹر فرحان فاروق نے کہا کہ غیرقانونی ری فلنگ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ انسانی زندگیوں کے لیے مہلک خطرہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ایسی تمام دکانوں اور پوائنٹس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے جو غیرقانونی طور پر ایل پی جی کی ڈی کینٹنگ میں ملوث ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے پبلک ٹرانسپورٹ میں ایل پی جی سلنڈر کے استعمال کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ اجلاس میں تمام اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ فیلڈ میں جا کر کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    ڈاکٹر فرحان فاروق نے کہا کہ عوامی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس مہم میں عوام کا تعاون بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد موجود غیرقانونی ری فلنگ پوائنٹس کی نشاندہی کریں تاکہ کسی بڑے حادثے سے پہلے اس خطرناک رجحان کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: 6 محرم الحرام کے جلوس و مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    اوچ شریف: 6 محرم الحرام کے جلوس و مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح میں 6 محرم الحرام کے موقع پر جلوس اور مجالس کا پُرامن انعقاد ہوا، جہاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور احسن اقبال کی ہدایت پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا گیا۔ سیکیورٹی کے سخت اقدامات کے باعث تمام مذہبی سرگرمیاں بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوئیں۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف میں 6 ماتمی جلوس برآمد ہوئے جبکہ 8 مجالس عزاء منعقد کی گئیں۔ جلوس حسن جہانیاں شاہ بخاری کے گھر سے برآمد ہوکر جامڑہ چوک پر پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ امام بارگاہ مخدوم نوبہار سے نکلا جلوس دربار حضرت مخدوم جہانیاںؒ پر ختم ہوا۔ گیلانی امام بارگاہ، محلہ خواجگان اور نندے لعل دربار سے بھی جلوس برآمد ہوئے جو اپنے روایتی راستوں سے گزر کر پرامن انداز میں مکمل ہوئے۔

    جلوسوں کے دوران عزادارانِ امام حسینؑ نے نوحہ خوانی اور ماتم کیا، جبکہ ذاکرین نے واقعہ کربلا کی اہمیت اور شہادتِ امام حسینؑ پر روشنی ڈالی۔ شرکاء کے لیے جگہ جگہ سبیلیں اور لنگر لگائے گئے، جہاں پانی، شربت اور کھانے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

    سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی ڈی ایس پی احمدپور شرقیہ اور ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف سجاد حسین سندھو نے خود کی۔ پولیس اہلکار جلوس کے تمام راستوں پر موجود رہے اور گشت کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنایا۔

    جلوسوں کے پُرامن اختتام پر سجادہ نشین مخدوم سید زمرد حسین بخاری نے وطن عزیز کی سلامتی اور دفاعی اداروں کے استحکام کے لیے دعا کروائی۔ امام بارگاہ بستی سادات کوٹلہ رحمت شاہ کے لائسنسدار مخدوم سید زاہد حسین بخاری نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او احسن اقبال اور ایس ایچ او سجاد حسین سندھو کو بہترین سیکیورٹی انتظامات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔