Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: تھانہ میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    اوچ شریف: تھانہ میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور محمد حسن اقبال نے تھانہ اوچ شریف میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل براہ راست سننا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا تھا۔

    یہ کچہری انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے وژن "انصاف آپ کی دہلیز پر” کے تحت منعقد ہوئی۔ ڈی پی او نے شہریوں کی شکایات بغور سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ان کے فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف، دیگر پولیس افسران اور معززین علاقہ بھی موجود تھے۔

    ڈی پی او محمد حسن اقبال نے کہا کہ تھانوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد پولیس کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوامی مسائل کو موقع پر ہی حل کیا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کا میرٹ پر ازالہ کیا جائے، کیونکہ یہی عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں سے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں اور پولیس کو خدمت خلق کا حقیقی ادارہ بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ایس ایچ او کو ہدایت دی گئی کہ شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

    شرکاء نے ڈی پی او کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر کا براہ راست عوامی مسائل سننا خوش آئند ہے اور اس سے پولیس پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور اُمید ظاہر کی کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

    آخر میں ڈی پی او محمد حسن اقبال نے عوام کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ عوامی خدمت کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔

  • اوچ شریف:پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا طوفان، عوام کا جینا محال

    اوچ شریف:پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا طوفان، عوام کا جینا محال

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ملک بھر کی طرح اوچ شریف میں بھی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول 8 روپے 36 پیسے اضافے کے بعد 266.79 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 10 روپے 39 پیسے بڑھا کر 272.98 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ دیہی علاقوں سے شہر آنے والے مزدوروں پر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آمدن کا بڑا حصہ صرف سفر پر خرچ ہو جاتا ہے، باقی رقم سے گھر کا گزارا ناممکن ہو گیا ہے۔

    ایندھن مہنگا ہونے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی 10 سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک شہری خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے کہا، "پہلے 300 روپے میں سبزی آ جاتی تھی، اب 500 میں بھی آدھی تھیلی ملتی ہے۔ بچوں کو پالیں یا بجلی کا بل دیں؟” انہوں نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے تحت 2.31 روپے فی یونٹ اضافے کو بھی ناقابل برداشت قرار دیا۔

    ایک محنت کش عبدالرزاق نے بتایا، "میری تنخواہ 25 ہزار ہے اور بجلی کا بل 8700 روپے آ گیا ہے۔ نہ کھانے کا راشن خرید سکتے ہیں، نہ بچوں کی فیس دے سکتے ہیں۔” زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور دیگر زرعی مشینری کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں۔ مقامی زمینداروں کا کہنا ہے کہ فصل اگانا اب گھاٹے کا سودا بنتا جا رہا ہے، جس سے خوراک کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    ادھر چھوٹی صنعتیں، ورکشاپس، ویلڈنگ یونٹس اور دیگر کاروبار بجلی اور ایندھن کی مہنگائی کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں۔ کئی مقامات پر مالکان نے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    اوچ شریف کے شہری اپنے منتخب ایم این اے اور ایم پی اے سے سخت نالاں ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ نمائندے اس مشکل وقت میں غائب ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں پر فوری نظرثانی کی جائے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

  • اوکاڑہ:ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری، 20 جاں بحق، کروڑوں کی پراپرٹی بچا لی گئی

    اوکاڑہ:ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری، 20 جاں بحق، کروڑوں کی پراپرٹی بچا لی گئی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ریسکیو 1122 اوکاڑہ کا ماہانہ کارکردگی اجلاس ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کی زیر صدارت سنٹرل اسٹیشن اوکاڑہ میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کی ایمرجنسیز، طبی امداد، آتشزدگی، روڈ حادثات اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں ریسکیو 1122 کو کل 28 ہزار 638 کالز موصول ہوئیں جن میں 5 ہزار 965 ایمرجنسی کالز تھیں۔ موصول شدہ کالز میں بڑی تعداد غیر متعلقہ، ڈسٹربنگ اور معلوماتی نوعیت کی رہی، جن میں 13 ہزار 541 ڈسٹربنگ، 5 ہزار 90 معلوماتی، 26 رونگ، اور 31 جعلی کالز شامل تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق 5 ہزار 965 ایمرجنسیز میں سے 1261 روڈ ٹریفک حادثات، 3908 میڈیکل کیسز، 72 آتشزدگی کے واقعات، 167 جرائم سے متعلق کیسز، ایک ڈوبنے کا واقعہ اور دیگر 556 متفرق حادثات شامل تھے۔ ٹریفک حادثات میں 1553 افراد متاثر ہوئے جن میں 20 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 832 افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ 701 کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

    آگ لگنے کے 72 واقعات میں سے 2 کمرشل، 6 رہائشی اور 64 دیگر علاقوں میں پیش آئے۔ ان میں شارٹ سرکٹ، گیس لیکج، کچن فائر، فائر ورکس اور لاپرواہی کو اہم وجوہات قرار دیا گیا۔ ان حادثات میں بروقت کارروائی کے ذریعے 54 ملین روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کو نقصان سے محفوظ بنایا گیا۔

    ریسکیو موٹر بائیک سروس نے 3528 ایمرجنسیز پر 5.14 منٹ کے اوسط ریسپانس ٹائم سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 3665 افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی۔ پیشنٹ ریفرل سسٹم کے تحت 117 مریضوں کو ڈی ایچ کیو اوکاڑہ جبکہ 156 مریضوں کو دیگر اضلاع کے بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام نے کہا کہ ریسکیو 1122 کا عملہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے مستعد اور فرض شناس انداز میں خدمات انجام دے رہا ہے۔

  • اوکاڑہ: محرم الحرام کے انتظامات کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس، صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت

    اوکاڑہ: محرم الحرام کے انتظامات کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس، صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)محرم الحرام کے دوران ضلعی سطح پر عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت ڈی سی آفس اوکاڑہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب سلمہ بٹ، ایم این اے ریاض الحق جج، ممبران صوبائی اسمبلی میاں محمد منیر، چوہدری غلام رضا ربیرہ، چوہدری جاوید علاؤالدین، ملک علی عباس کھوکھر، کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل، آر پی او محبوب رشید، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، ڈی پی او راشد ہدایت اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے اجلاس کو محرم الحرام کے موقع پر عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈی پی او راشد ہدایت نے مجالس و جلوسوں کی سکیورٹی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔

    صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں اور مجالس میں شریک عزاداروں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپس اور کلینک آن وہیلز خدمات فراہم کریں گے، جبکہ سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر نے ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم کا بھی دورہ کیا اور وہاں موجود اہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رہے اور ضلعی سطح پر مانیٹرنگ اور تمام محکموں سے موثر رابطہ کاری یقینی بنائی جائے۔
    انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے تمام انتظامات کی خود نگرانی کروں گا، جبکہ کمیٹیاں اپنے اپنے دائرہ کار میں کلیدی کردار ادا کریں تاکہ پرامن، منظم اور بااحترام انداز میں مجالس و جلوسوں کا انعقاد ممکن ہو سکے۔

  • پیاس کے صحرا میں صبر کا دریا بہتا رہا

    پیاس کے صحرا میں صبر کا دریا بہتا رہا

    پیاس کے صحرا میں صبر کا دریا بہتا رہا.مکہ سے کربلا تک کا سفر،6محرم
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب
    چھ محرم الحرام، وہ لمحہ جب سورج کربلا کی پیاسی زمین پر یوں ڈھل رہا تھا گویا افق پر خون پھیلنے لگا ہو، اور ہوا ایسی ساکت ہو چکی تھی جیسے پوری کائنات امام حسینؑ کے صبر اور استقلال کو دم سادھے دیکھ رہی ہو۔ کربلا کے اس بے در و دیوار میدان میں نہ کوئی بازار تھا، نہ دروازہ، صرف خیمے تھے، سجدے تھے، سسکیاں تھیں، اور آنکھوں میں انتظار کی نمی۔

    اسی دن ابن زیاد نے ظلم کا تاج پہن کر عمر بن سعد کو وہ آخری پیغام بھیجا، جو تاریخ کے ہر صفحے کو لہو سے رنگین کر گیا:
    "حسینؑ سے یزید کے حق میں بیعت لو، ورنہ فرات کے کنارے اُن کا خون بہا دو۔”

    یوں چھ محرم وہ دن بن گیا جب دریا سے پانی چھن گیا، مگر اہلِ بیتؑ کے صبر کا چشمہ چھلکنے لگا۔ عمر بن سعد نے پانچ سو سپاہیوں کو فرات پر تعینات کر دیا۔ وہ پانی جو درختوں کی جڑیں تر کرتا تھا، جانوروں کی پیاس بجھاتا تھا، آج حسینؑ کے معصوم علی اصغرؑ پر حرام ٹھہرایا گیا۔ یزیدی لشکر کے سائے میں معصوم چہرے پیاس کی شدت سے زرد ہونے لگے۔ بی بی سکینہؑ کی لرزتی آواز خیمے کے سکوت میں یوں گونجی جیسے کسی روح نے فریاد کی ہو:
    "اماں… پانی…”

    ماں نے آسمان کی طرف نگاہ کی، مگر لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ صرف خاموشی سے اشک بہہ نکلے، کہ شکوہ صبر والوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔

    مقتل کی روایت ہے کہ شام کے وقت بی بی سکینہؑ خیمے سے نکلی، شاید پانی کی تلاش میں، یا شاید چچا عباسؑ کی راہ تکتی ہوئی۔ امام حسینؑ نے اُسے واپس لا کر اپنی گود میں لیا، چادر میں لپیٹا، اور آسمان کی طرف خاموش نظروں سے دیکھا… گویا وقت کو گواہ بنا رہے ہوں، جیسے رب سے کہہ رہے ہوں:
    "پروردگار! یہ تیرے حبیبؐ کی نواسی ہے، اور آج اسے امتِ محمدؐ نے پیاسا کر دیا۔”

    اسی شام، جب افق پر غروبِ شمس کے سائے زمین پر لہو کی چادر کی طرح پھیل رہے تھے، امام حسینؑ نے اپنے جانثار اصحاب کو بلایا۔ خیموں کے درمیان خاموشی ایسی تھی جیسے موت بھی رک گئی ہو، مگر فضاؤں میں وفا کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔
    امامؑ نے فرمایا:
    "یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں، تم میں سے جو جانا چاہے، رات کی تاریکی میں نکل جائے، میں کسی پر بار نہیں رکھتا۔”

    مگر وہ اصحاب صرف محبتِ حسینؑ سے جیتے تھے۔ حبیب بن مظاہر، زہیر بن قین، مسلم بن عوسجہ نے یک زبان ہو کر کہا:
    "مولا! اگر ہمیں سو بار قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، اور پھر قتل کیا جائے، تب بھی ہم آپ کو تنہا نہ چھوڑیں گے۔”

    خیموں میں بی بی زینبؑ کی آنکھوں میں وہ بے قراری تھی جو آندھی سے پہلے درختوں پر چھا جاتی ہے۔ حضرت علی اصغرؑ کی سانسیں ڈول رہی تھیں، ہونٹوں پر خشکی جم چکی تھی، اور بی بی سکینہؑ کی نیند پیاس سے روٹھ چکی تھی۔ ماں کی گود میں بچہ بے سدھ پڑا تھا، مگر زبان پر فریاد نہ تھی، کیونکہ یہ خیمے اب سجدہ گاہ بن چکے تھے۔ ان کی خاموشی فریاد سے بڑھ کر تھی۔

    یزیدی فوج بڑھتی جا رہی تھی، کمک ہر سمت سے آ رہی تھی، اور خیموں کا محاصرہ لمحہ بہ لمحہ سخت ہوتا جا رہا تھا۔ مگر امام حسینؑ کے چہرے پر نہ مایوسی تھی، نہ خوف۔ ان کی آنکھوں میں وہ روشنی تھی جو وقت کے اندھیروں کو چیر رہی تھی۔ ان کا عزم تاریخ کے ہر ظالم پر حجت بن چکا تھا۔ ان کے سکوت میں بھی ایک للکار تھی:
    "ہم جھکنے نہیں آئے، ہم سر کٹانے آئے ہیں… مگر باطل کے در پر نہیں، حق کے علم کو بلند رکھنے کے لیے!”

    چھ محرم وہ دن تھا جب فرات بند ہوا، مگر حسینؑ کا دریا جاری ہو گیا۔ جب سکینہؑ کی پیاس نے تاریخ کی پیشانی پر آنسو کا نشان چھوڑا۔ جب زینبؑ کے ضبط نے کربلا کی شام کو شکست دی۔ جب حسینؑ کا سجدہ وقت کے تختوں کو لرزانے لگا۔ جب ماں نے بیٹے کو پیاسا دیکھا، اور پھر بھی رب کا شکر ادا کیا۔
    جب صبر نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہاکہ"تو آ سکتی ہے، مگر ہمیں شکست نہیں دے سکتی!”

    یہی چھ محرم ہے، جہاں ریت تپ رہی تھی مگر سجدے ٹھنڈے تھے، جہاں زخم برس رہے تھے مگر ماتھا سجدے سے نہ اٹھا، جہاں پانی چھن گیا مگر وقار باقی رہا۔ یہ دن ہر سال آتا ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ عزت صرف تلوار سے نہیں، پیاس سے بھی بچائی جاتی ہے۔
    اور سچ صرف بول کر نہیں، کٹ کر بھی لکھا جاتا ہے۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین کی مشکلات اور تذلیل ، ایک افسوسناک منظرنامہ

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین کی مشکلات اور تذلیل ، ایک افسوسناک منظرنامہ

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین کی مشکلات اور تذلیل ، ایک افسوسناک منظرنامہ
    تحریر: آمنہ خواجہ ملتان
    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) حکومت پاکستان کی جانب سے کم آمدنی والے خاندانوں، خصوصاً خواتین کی مالی معاونت کے لیے ایک اہم فلاحی اقدام ہے۔ تاہم، اس عظیم مقصد کے باوجود، زمینی حقائق نہایت افسوسناک اور شرمناک ہیں۔ اوپر دی گئی تصویر میں جو منظر نظر آ رہا ہے، وہ صرف ایک تصویر نہیں بلکہ معاشرتی ناانصافی اور انتظامی ناکامی کی عکاسی ہے۔

    تصویر میں درجنوں خواتین ایک مرکز کے باہر قطار میں کھڑی یا زمین پر بیٹھی نظر آتی ہیں، جن میں معمر خواتین، بیمار و کمزور خواتین اور نوجوان لڑکیاں شامل ہیں۔ ان کے چہروں پر پریشانی، تھکن اور بے بسی واضح دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ خواتین دھوپ اور گرمی کی شدت سے نڈھال ہوکر فرش پر بیٹھ گئی ہیں، جبکہ باقی اپنی باری کے انتظار میں کھڑی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو سرکاری امداد کی حقدار ہیں، مگر ان کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعث شرم ہے۔

    ▪️ مشکلات کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟
    BISP کے تحت خواتین کو مالی امداد حاصل کرنے کے لیے اکثر گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ نہ کوئی مناسب بیٹھنے کی جگہ ہے، نہ سایہ، نہ پانی کی سہولت اور نہ ہی ٹوکن یا نظام کا کوئی شفاف طریقہ۔
    بعض اوقات خواتین کئی دن انتظار کے بعد بھی رقم حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں، کیونکہ یا تو رقم ختم ہو چکی ہوتی ہے یا سسٹم کام نہیں کرتا۔ عملے کا رویہ بھی اکثر تحقیر آمیز ہوتا ہے، جس سے خواتین کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔
    ساتھ میں رشوت بھی کی جاتی ہے جو پیسے دے اسکے پیسے جلدی دیتے ہیں جو نا دے اسکے یا تو پیسے نہیں اے یا پھر بغیر ویرفکیشن کے بول دیتے کہ فنگر پرنٹ میچ نہیں ہوتےـ

    ▪️ عزت یا خیرات؟
    یہ پروگرام خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس امداد کی وصولی کے لیے جن ذلت آمیز مراحل سے انہیں گزرنا پڑتا ہے، وہ اُن کی عزتِ نفس پر کاری ضرب ہے۔ بزرگ خواتین جو کہ شاید چل بھی نہ سکتی ہوں، ان کے لیے اس طرز کا انتظام مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اکثر جگہوں پر مردوں کی موجودگی میں خواتین کا گھنٹوں قطار میں لگنا اُن کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔

    ▪️ حل کیا ہو؟
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس پروگرام کے نظام کو بہتر بنائیں۔ خواتین کے لیے علیحدہ، باعزت اور آرام دہ مراکز قائم کیے جائیں۔ آن لائن یا موبائل ٹوکن سسٹم متعارف کروایا جائے تاکہ غیر ضروری ہجوم سے بچا جا سکے۔ خواتین کو قطاروں میں کھڑا ہونے کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں یا ATM کارڈز کے ذریعے رقم فراہم کی جائے۔ عملے کی تربیت کی جائے تاکہ وہ مستحق خواتین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اصل مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور غربت کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کرنا تھا۔ لیکن اگر یہ امداد تذلیل، تھکن اور پریشانی کی قیمت پر ملے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی ان خواتین کو "سپورٹ” کر رہے ہیں یا صرف اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا رہے ہیں؟ یہ وقت ہے کہ ہم صرف امداد نہ دیں بلکہ ان خواتین کی عزتِ نفس کا بھی تحفظ کریں۔

  • سوات کا سانحہ: ایک معصوم کی خاموشی، ایک قوم کی بے حسی

    سوات کا سانحہ: ایک معصوم کی خاموشی، ایک قوم کی بے حسی

    سوات کا سانحہ . ایک معصوم کی خاموشی، ایک قوم کی بے حسی
    عبدالرشید ترابی(جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ، بلتستان ڈویژن)
    قدرتی آفات جب آتی ہیں تو صرف زمین، مکانات اور فصلیں نہیں بہاتیں بلکہ انسانوں کے ارمان، خواب، رشتے اور زندگیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔ ان آفات کا قہر جہاں قدرت کی طاقت کا مظہر ہوتا ہے، وہیں ہماری ریاستی کمزوری، ناقص منصوبہ بندی اور اجتماعی بے حسی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ سوات کا حالیہ واقعہ، جس میں ایک ہی خاندان کے دو معصوم بچے دریا کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے اور کل اٹھارہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے قومی ضمیر پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔

    یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، یہ پوری قوم کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی غفلت، لاپرواہی اور ترجیحات کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو کتنا سنجیدہ لیا ہے؟ کیا ہمارے لیے انسانی جانیں واقعی اہم ہیں؟ یا ہم صرف تب جاگتے ہیں جب کسی ماں کی گود خالی ہونے کے بعد کوئی معصوم، ہمارے دلوں کو ہلا دے؟

    جب تعزیت کے لیے ڈسکہ جانا ہوا، تو دل بوجھل تھا۔ الفاظ جیسے ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ گھر میں ایک عجیب سی خاموشی طاری تھی—نہ قہقہے، نہ بچوں کی کلکاریاں، نہ روزمرہ کی چہل پہل۔ اس خاموشی میں سب سے نمایاں وہ بچہ تھا جو ایک اجنبی کی گود میں سر رکھے، موبائل پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ شاید موبائل کی چمکتی اسکرین میں وہ دنیا تلاش کر رہا تھا جہاں اس کے بھائی بہن اب بھی زندہ ہوں، ہنستے کھیلتے ہوں۔

    یہ وہ عمر ہے جہاں بچے کھلونوں کے لیے روتے ہیں، مگر یہ معصوم اپنے بہن بھائیوں کے لیے دل ہی دل میں رو رہا تھا۔ ہر چند لمحوں بعد وہ سر اٹھا کر ایک ہی سوال دہراتا: "بھائی کب واپس آئیں گے؟” یہ سوال صرف ایک بچے کا نہیں، یہ سوال اس قوم سے ہے جو آفات کے بعد تصویریں کھینچتی ہے، سوشل میڈیا پر کمنٹس کرتی ہے، اور پھر اگلے حادثے تک سب کچھ بھول جاتی ہے۔ وہ بچہ جو کل تک اسکول جانے کی تیاری کر رہا تھا، آج خاموش بیٹھا اپنی ننھی یادوں میں اپنے بچھڑ جانے والوں کو تلاش کر رہا ہے۔ کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جس کے جذبات بھی وقتی اور مصنوعی ہو چکے ہیں؟

    اصل سوال یہ نہیں کہ سیلاب کیوں آیا، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کب سے معلوم تھا کہ سیلاب آ سکتا ہے؟ کیا ہمارے پاس بروقت وارننگ سسٹم موجود تھا؟ کیا مقامی انتظامیہ نے خطرے کے پیشِ نظر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا؟ کیا ہم نے وہ تمام اقدامات کیے جن سے ان قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا؟ افسوس، ان سب سوالوں کا جواب "نہیں” ہے۔

    سوات جیسے پہاڑی علاقوں میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ معمول کا حصہ ہیں۔ وہاں کے لوگ ہر سال اس خطرے کے سائے میں جیتے ہیں۔ دریا کے کنارے آبادیاں، بغیر کسی حفاظتی بند یا فلڈ پروف انفراسٹرکچر کے، ہمیشہ خطرے کی زد میں رہتی ہیں۔ حکومت نے ماضی میں بھی دعوے کیے، فنڈز منظور کیے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا—صرف تصاویر، بیانات اور رسمی دورے۔

    بارہا یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہم صرف حادثات کے بعد متحرک ہوتے ہیں۔ آخر کیوں ہم ایک مؤثر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم قائم نہیں کر سکے؟ کیا مقامی حکومتوں کو اس سلسلے میں وسائل اور اختیارات دیے گئے؟ کیوں اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو محفوظ مقامات پر منتقل نہیں کیا گیا؟ یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کی مہلت ہمیشہ نہیں ملتی۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، تو کل کو کوئی اور بچہ یہی سوال پوچھے گا—اور شاید تب بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہو۔

    ایک اور پہلو جو اس سانحے کو مزید المناک بناتا ہے، وہ ہے ریاست کی غیر موجودگی۔ جب حادثہ ہوا، تو ابتدائی گھنٹوں میں نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی، نہ کوئی حکومتی اہلکار۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں نکالیں، زخمیوں کو اسپتال پہنچایا، اور بے یار و مددگار متاثرین کی دلجوئی کی۔ یہ کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا متاثرین کو حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہی ہمارا نیا قومی اصول بن چکا ہے؟

    میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے تنقید کا مستحق ہے۔ چند گھنٹوں کی کوریج کے بعد اس خبر کو یوں نظرانداز کر دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ افسوس، ریٹنگز کی دوڑ میں انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ہمارے عوام کا اجتماعی حافظہ بھی حد درجہ کمزور ہو چکا ہے۔ ہم سانحات کو صرف اس وقت یاد رکھتے ہیں جب وہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن جائیں۔ جیسے ہی کوئی نئی خبر آتی ہے، پرانی فراموش ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار انہی المیوں کو دہرا رہے ہیں، بغیر کسی سبق کے۔

    اگر ہم واقعی ایک باشعور اور مہذب قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اظہار افسوس سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں ایک جدید، مربوط اور فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم قائم کرنا ہوگا۔ ہر قدرتی آفت کی بروقت اطلاع کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی الرٹ سسٹم ہونا چاہیے، جو مقامی آبادی کو فوری خبردار کرے۔ دریا کے کناروں پر حفاظتی بند، فلڈ چینلز اور مضبوط پل بنائے جائیں تاکہ سیلاب کے خطرات کم ہوں۔ NDMA اور PDMA کی ٹیموں کو مقامی سطح پر بااختیار اور متحرک بنایا جائے۔ ہر ضلع کی انتظامیہ کو فنڈز، ساز و سامان اور عملہ مہیا کیا جائے تاکہ وہ مقامی طور پر ان آفات سے نمٹنے کے قابل ہو۔ عوام کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے شعور دیا جائے، خاص طور پر اسکولوں اور کالجوں میں، تاکہ بچے نہ صرف خود محفوظ رہ سکیں بلکہ دوسروں کی بھی مدد کر سکیں۔

    سوات کا یہ سانحہ صرف ایک خبر نہیں، ایک چیخ ہے۔ ایک دردناک یاد دہانی ہے کہ ہمیں اب جاگنا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ ہم انسانی زندگی کو اعداد و شمار کے بجائے حقیقی قیمت دیں۔ وہ بچہ جس نے سوال کیا: "بھائی کب واپس آئیں گے؟” اس کا جواب ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا، تو یہ سوال ہمیشہ کے لیے ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ بن کر رہ جائے گا۔

  • احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی, ایک اور طالبہ دم توڑ گئی، جاں بحق طالبات کی تعداد 2 ہوگئی

    احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی, ایک اور طالبہ دم توڑ گئی، جاں بحق طالبات کی تعداد 2 ہوگئی

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان)لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ امتحان دینے کے بعد واپس جانے والی نجی کالج کی طالبات کی وین میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والی ایک اور طالبہ اجالا بنت سلیم دم توڑ گئی، جس کے بعد جاں بحق طالبات کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ اجالا کو شدید جھلسنے کے باعث نشتر اسپتال ملتان منتقل کیا گیا تھا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ اس سے قبل طالبہ طیبہ عباس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی تھی، جن کی نمازِ جنازہ آبائی علاقے لیاقت پور میں ادا کر دی گئی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد فرار ہونے والے وین ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ وین مالک، تین نجی کالجوں کی انتظامیہ اور دیگر ذمہ داران کے خلاف اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ یکم جولائی کو احمد پور ٹول پلازہ کے قریب کالج وین میں نصب ایل پی جی سلنڈر میں اچانک لیکیج کے باعث دھماکہ ہوا، جس سے پوری وین آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ وین میں سوار 19 طالبات میں سے 10 جھلس گئیں۔ متاثرہ طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں، جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے وین میں آگ بھڑک اٹھی اور طالبات چیختی چلاتی وین سے نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک شعلوں نے کئی طالبات کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور زخمی طالبات کو اسپتال منتقل کیا۔

    ابتدائی طبی امداد کے بعد 10 زخمی طالبات کو ٹی ایچ کیو احمد پور منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ طالبات کو مزید علاج کے لیے بہاولپور وکٹوریہ اسپتال بھیجا گیا۔ تاہم برن یونٹ نہ ہونے کے باعث طالبات کو ملتان برن یونٹ منتقل کیا گیا، جہاں اُجالا نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔

    حادثہ نے ایک بار پھر اسکول وینز میں گیس سلنڈر کے استعمال اور متعلقہ اداروں کی غفلت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوکاڑہ: 15 گینگز کا خاتمہ، 425 اشتہاری گرفتار، کروڑوں کا مال برآمد

    اوکاڑہ: 15 گینگز کا خاتمہ، 425 اشتہاری گرفتار، کروڑوں کا مال برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)اوکاڑہ پولیس نے ماہ جون 2025 کے دوران جرائم کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ضلع بھر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق جون کے مہینے میں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے 15 خطرناک گینگز کو ختم کیا، جن کے 41 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان سے 2 کروڑ 10 لاکھ 8 ہزار روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا۔

    کارروائیوں کے دوران ملزمان سے 79 پسٹل، 13 بندوقیں، 7 رائفلیں، 2 ریوالور، ایک کاربین اور 315 گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں 132 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن سے 139 کلو چرس، 1787 لیٹر شراب، 741 لیٹر لہن اور 11 چالو بھٹیاں برآمد کی گئیں۔

    اشتہاری اور عادی مجرموں کے خلاف بھی موثر کارروائیاں جاری رہیں۔ پولیس نے 425 اشتہاری ملزمان، 53 ٹارگیٹڈ آفینڈرز اور 42 عدالتی مفروران کو گرفتار کیا، جب کہ سنگین مقدمات میں ملوث اے کیٹیگری کے 110 اور بی کیٹیگری کے 315 اشتہاری مجرموں کو بھی حراست میں لیا گیا۔

    شہر میں ایس او ایس ناکے، سرچ و کومبنگ آپریشنز، اور کرائم پاکٹس میں گشت کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لائی جائے گی تاکہ جرائم کا مکمل قلع قمع کیا جا سکے۔

  • تنگوانی: مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی: مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی(باغی ٹی وی،نامہ نگارمنصور بلوچ) مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی کے نواحی علاقے سلیم کھوسہ فاٹک کے قریب پولیس چوکی کے سامنے مسلح ڈاکوؤں نے دو نوجوانوں سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وقاص احمد باجکانی اور لالو گولو شدید زخمی ہو گئے۔

    زخمی نوجوانوں کو فوری طور پر کندھ کوٹ سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وقاص احمد باجکانی کی حالت تشویشناک ہونے پر اُسے سکھر کے ہرا اسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی افراد نے پولیس چوکی کے سامنے اس سنگین واردات پر سیکیورٹی کی ناکامی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔