Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ صاحب: عدالتی حکم کے باوجود سستے بازار بند، سی ای او پر رشوت خوری کا الزام

    ننکانہ صاحب: عدالتی حکم کے باوجود سستے بازار بند، سی ای او پر رشوت خوری کا الزام

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی، نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، سی ای او ضلع کونسل نے سستے بازار زبردستی بند کروا دیے، دکاندار سراپا احتجاج

    ننکانہ صاحب میں مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے لگائے گئے سستے بازار بھی بیوروکریسی کی مبینہ رشوت خوری کی نذر ہوگئے۔ عدالت عالیہ کے حکم امتناعی کے باوجود سی ای او ضلع کونسل عامر اختر بٹ نے سیدوالہ اور موڑکھنڈا کے علاقوں میں قائم سستے بازار زبردستی بند کروا دیے، جس سے درجنوں دکاندار بے روزگار ہو گئے اور شہری سستے داموں اشیاء خریدنے کی سہولت سے محروم ہو گئے۔

    ٹھیکیدار آصف اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ اُس نے عدالت عالیہ سے سٹے آرڈر حاصل کر رکھا ہے جس میں واضح طور پر ضلع کونسل کو سستے بازاروں میں مداخلت سے روکا گیا تھا۔ مگر اس عدالتی حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے سی ای او ضلع کونسل عامر اختر بٹ نے بازاروں کو اُکھاڑ دیا۔ ٹھیکیدار کا الزام ہے کہ چیف آفیسر اور فنانس آفیسر اس سے مبینہ طور پر رشوت طلب کر رہے تھے اور انکار پر بازار بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

    بازار میں موجود دکانداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں ناجائز طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور روزگار چھینا جا رہا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہم مہنگائی کے مارے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے بیٹھے ہیں، مگر ضلع کونسل کے افسران رشوت نہ دینے پر زبردستی کاروبار ختم کروا رہے ہیں۔

    انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    دوسری جانب سی ای او ضلع کونسل عامر اختر بٹ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کے احکامات پر کی گئی ہے، تاہم اس مؤقف پر شہریوں اور متاثرہ دکانداروں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔



  • عوام کی جھولی اور حکمران

    عوام کی جھولی اور حکمران

    عوام کی جھولی اور حکمران
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی

    حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے سے بڑھ کر 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ 262 روپے 59 پیسے سے بڑھ کر 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی اور پاکستانی عوام کی جھولی میں ایک نیا معاشی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

    یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبایا گیا ہو۔ 2023 میں پٹرول کی قیمت 331.38 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھی جو صرف 15 دنوں میں 41 روپے کا اضافہ تھا۔ اس بار کا اضافہ بھی عام پاکستانی اور خاص طور پر مزدور طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور کم آمدنی سے پریشان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پمپ پر پٹرول اور ڈیزل کے نرخ تک محدود نہیں بلکہ یہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نجی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10-20% اضافہ ہوچکا ہے۔ مزدور طبقہ جو اپنی آمدنی کا 20-30% آمدورفت پر خرچ کرتا ہے، اس اضافے کی وجہ سے خوراک اور تعلیم جیسے بنیادی اخراجات پر کٹوتی کرنے پر مجبور ہے۔ ایک مزدور جس کی ماہانہ تنخواہ 20,000 سے 30,000 روپے کے درمیان ہے، اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف ٹرانسپورٹ کرایوں پر خرچ کرنا پڑرہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل کے اخراجات 15-25% بڑھ چکے ہیں جو زرعی اجناس، سبزیوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ آٹا، چینی، اور سبزیوں کی قیمتوں میں 10-15% اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی ضروریات کو پورا کرنا مشکل بنا دیاہے۔ مزدور طبقہ جو اپنی آمدنی کا 50-60% خوراک پر خرچ کرتا ہے، غذائی قلت اور قرض کے دلدل میں دھنس چکا ہے۔

    اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے زرعی مشینری اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، جس سے زرعی اور صنعتی شعبوں کے اخراجات میں 5-10% اضافہ ہونالازم ہے۔ جس کا نتیجہ صنعتی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ صنعتیں اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کی تعداد کم کر رہی ہیں، جس سے مزدور طبقے کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ مجموعی مہنگائی کی شرح کو بڑھاچکا ہے، جیسا کہ 2010 میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا اور 2025 تک یہ رجحان جاری ہے۔ اس سے عام پاکستانی کی قوت خرید کم ہوچکی ہے اور وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

    بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (FCA) نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ 2024 میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.31 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا جو صارفین کے بلوں میں غیر متوقع اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کا بل 3,000-3,500 روپے سے بڑھ کر 8,500-9,000 روپے تک جا سکتا ہے اگر وہ ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال کر لے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی زیر نگرانی بنائی گئی سلیب پالیسی، جسے عوام "سلیب گردی” کہتے ہیں، غریب صارفین کو سبسڈی سے محروم کر دیتی ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین (200 یونٹ تک) کو 260 ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے لیکن 201 یونٹ پر بل 5,000 روپے تک بڑھ جاتا ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2,400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس کا بوجھ فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ اویس لغاری نے بجلی چوری اور اوور بلنگ کے خلاف اقدامات کا دعویٰ کیا لیکن میپکو میں 152 ملازمین اوور بلنگ میں ملوث پائے گئے اور انہیں صرف وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔

    غریب طبقہ جو پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متاثر ہے، اب بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہے۔ 2023 میں بجلی کی قیمتوں میں 14 بار اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی برداشت کو پار کر دیا۔ ملک بھر میں احتجاج ہوئے، جہاں لوگوں نے بجلی کے بل جلائے اور سڑکیں بلاک کیں۔ سوشل میڈیا پر عوام نے اسے "ظلم” قرار دیا، جیسا کہ ایک صارف نے لکھا کہ "ایک یونٹ اضافے سے بل دگنا ہو جاتا ہے۔” غریب خاندان خوراک، تعلیم اور صحت پر خرچ کم کر رہے ہیں، جس سے غذائی قلت اور غربت بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ جو پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے، اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ان کی آمدنی کا 60-70% خوراک، ٹرانسپورٹ اور رہائش پر خرچ ہوتا ہے اور اضافی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً وہ قرضوں اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔

    حکومت کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات بڑھا رہی ہیں۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کو جواز بنا کر یہ بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی قیادت میں پاور سیکٹر کی اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود بجلی چوری، اوور بلنگ اور گردشی قرضے کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم لیوی کو کم کر کے یا سبسڈی دے کر عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حسابات کو شفاف بنایا جائے اور اسے پچھلے مہینوں کے بجائے موجودہ بل میں شامل کیا جائے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سلیب کی حد کو 200 سے بڑھا کر300 یونٹ تک کیا جائے۔ 250 ارب روپے کی بجلی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ پن بجلی، سولر اور ونڈ پاور جیسے سستے ذرائع پر انحصار بڑھایا جائے تاکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت کم ہو۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کے بھاری بلوں نے پاکستانی عوام کی جھولی کو مہنگائی اور معاشی دباؤ سے بھر دیا ہے۔ غریب اور مزدور طبقہ جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس "ظلم” کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غم و غصہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ریلیف نہ دیا تو عومی بے چینی بہت بڑے احتجاج کا باعث بن سکتی ۔ حکمرانوں کوعوام کی جھولی کو خالی کرنے کے بجائے اسے سہارا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشی بدحالی سے نکل سکیں اور ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔

  • احمد پور شرقیہ: ٹرین سے اترنے کی کوشش میں بزرگ شہری کی ٹانگ کٹ گئی،ہسپتال منتقل

    احمد پور شرقیہ: ٹرین سے اترنے کی کوشش میں بزرگ شہری کی ٹانگ کٹ گئی،ہسپتال منتقل

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) ڈیرہ نواب ریلوے اسٹیشن پر افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک 60 سالہ بزرگ شہری ٹرین سے اترتے ہوئے زخمی ہو گیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کے کنٹرول روم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صبح 4 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا، جب لاہور سے کراچی جانے والی پاک بزنس ٹرین جیسے ہی ڈیرہ نواب اسٹیشن پر آہستہ ہوئی تو ایک مسافر اسلم شاہ ولد امام شاہ ٹرین سے اترنے کی کوشش کے دوران پھسل کر نیچے آ گیا۔

    حادثے کے نتیجے میں اسلم شاہ کی بائیں ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کٹ گئی۔ ریسکیو ٹیم (BPA-32) نے چھ منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور زخمی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    زخمی کا تعلق موضع ٹبی تکوان، احمد پور شرقیہ سے ہے۔

  • سانحہ سوات: حافظ طلحہ سعید کی لواحقین سے ملاقات، واٹر ریسکیو سنٹر کے قیام کا اعلان

    سانحہ سوات: حافظ طلحہ سعید کی لواحقین سے ملاقات، واٹر ریسکیو سنٹر کے قیام کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے سانحہ سوات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ڈسکہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے دریائے سوات کنارے واٹر ریسکیو سنٹر قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل وفد کے ہمراہ حافظ طلحہ سعید نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنکھوں کے سامنے خاندان کے افراد کا سیلاب میں بہہ جانا انتہائی کربناک اور المناک لمحہ ہے، جو پوری قوم کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ پیشگی حفاظتی اقدامات کرتی، لیکن مجرمانہ غفلت کے باعث یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگیں اور ان آزمائشوں کے وقت متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے اور خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ اسی سلسلے میں دریائے سوات کے کنارے واٹر ریسکیو سنٹر قائم کیا جا رہا ہے جہاں 24 گھنٹے تربیت یافتہ عملہ تعینات ہو گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کے سانحات سے بچا جا سکے۔

    انہوں نے زور دیا کہ سانحہ سوات پر سیاست کرنے کے بجائے حکمرانوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی مجرمانہ غفلت کی جرات نہ ہو۔

    حافظ طلحہ سعید نے بتایا کہ سانحہ میں ڈوبنے والوں میں ڈاکٹر عبدالرحمان کے خاندان کے 10 افراد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل بیان اور ناقابل برداشت غم ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور پاکستان کو ایسے مزید سانحات سے محفوظ رکھے۔

  • ڈسکہ: صوبائی وزیر میاں ذیشان رفیق کا ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، سڑکوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کی ہدایت

    ڈسکہ: صوبائی وزیر میاں ذیشان رفیق کا ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، سڑکوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کی ہدایت

    سیالکوٹ/ڈسکہ (نمائندگان باغی ٹی وی)صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے ڈسکہ سٹی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا موقع پر جا کر جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ سڑکوں کی تعمیر میں رفتار اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

    زیر تعمیر سڑکوں میں پسرور روڈ، وزیرآباد روڈ، کالج روڈ اور بنک روڈ شامل ہیں، جب کہ جامکے روڈ پر ٹرنک سیور لائن بچھانے کا عمل جاری ہے، جس کے مکمل ہوتے ہی سڑک کی بحالی کا کام فوراً شروع کر دیا جائے گا۔ میاں ذیشان رفیق نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو دیرپا سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ تعمیراتی مقامات پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے واضح کیے جائیں اور مناسب سائن بورڈز نصب ہوں تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر نے پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت جاری سیوریج منصوبے کی جلد تکمیل اور نالوں کی صفائی کے عمل پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے مون سون کے پیش نظر میونسپل حکام کو ہدایت کی کہ تمام ڈسپوزل اسٹیشن فعال رکھے جائیں، بیک اپ جنریٹرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے، اور ڈی واٹرنگ سیٹس و عملے کی ڈیوٹی کا تحریری شیڈول فوری جاری کیا جائے۔

    میاں ذیشان رفیق نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق مفاد عامہ کے تمام منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں گے اور کسی بھی غفلت یا تاخیر پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔

  • راولپنڈی: کاروانِ امن کانفرنس، محرم میں اتحاد و امن کا مشترکہ اعلان

    راولپنڈی: کاروانِ امن کانفرنس، محرم میں اتحاد و امن کا مشترکہ اعلان

    راولپنڈی (نامہ نگار باغی ٹی وی: شوکت علی ملک) محرم الحرام کے موقع پر ڈویژنل انتظامیہ و امن کمیٹی راولپنڈی ڈویژن کے زیراہتمام "کاروانِ امن و اتحاد بین المسلمین کانفرنس” کا انعقاد نجی مارکی میں کیا گیا۔ اس اہم اجلاس کی صدارت چیئرمین علماء کونسل پاکستان علامہ طاہر اشرفی نے کی، جب کہ صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے خصوصی شرکت کی۔

    کانفرنس میں کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک، آر پی او بابر سرفراز الپا، ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ، سی پی او سید خالد ہمدانی، ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین، ڈپٹی کمشنر چکوال میڈم سارہ حیات، چیئرمین امن کمیٹی ضلع راولپنڈی مولانا محمد اقبال رضوی، اور مصالحتی کمیٹی کے رکن سائیں محمد اعجاز ملک سمیت راولپنڈی ڈویژن کے دیگر ضلعی افسران اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس موقع پر مقررین نے محرم الحرام میں قیام امن، اتحاد بین المسلمین، بین المسالک ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ پر زور دیا۔ شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ جلوسوں کے روٹس کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی شرانگیزی یا فرقہ وارانہ منافرت کو ہر صورت روکا جائے گا۔

    کانفرنس کے دوران تمام اداروں اور مکاتب فکر کے درمیان تعاون و اشتراک کو مزید مؤثر بنانے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور محرم الحرام کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے باہمی مشاورت سے جامع لائحہ عمل مرتب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • واربرٹن: پولیس کی کارروائی، 4 منشیات فروش گرفتار، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد

    واربرٹن: پولیس کی کارروائی، 4 منشیات فروش گرفتار، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد

    واربرٹن(باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالغفار چوہدری)منشیات فروشوں کے خلاف واربرٹن پولیس کی کامیاب کارروائیاں، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد، 4 ملزمان گرفتار

    تھانہ واربرٹن پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ حالیہ آپریشن کے دوران پولیس نے 4 منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے مجموعی طور پر 6 کلو 490 گرام منشیات برآمد کر لیں، جب کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، پولیس نے مختلف کارروائیوں میں ملزم شجاع الرحمن سے 2100 گرام، فلک شیر سے 650 گرام، سلامت سے 2640 گرام اور شعبان سے 1100 گرام منشیات برآمد کی۔ برآمدہ منشیات میں چرس اور دیگر نشہ آور مواد شامل ہے، جو مختلف مقامات پر فروخت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

    پولیس حکام نے تمام ملزمان کے خلاف منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ڈی پی او ننکانہ سید ندیم عباس نے ایس ایچ او تھانہ واربرٹن مجاہد عباس ملہی اور ان کی ہمراہی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف بلا امتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    ڈی پی او نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ضلع ننکانہ کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور منشیات فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ منشیات فروشوں کی نشاندہی کر کے پولیس سے تعاون کریں تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: محرم الحرام کے دوران ریسکیو 1122 ہائی الرٹ، ڈیوٹی پلان جاری، چھٹیاں منسوخ

    اوکاڑہ: محرم الحرام کے دوران ریسکیو 1122 ہائی الرٹ، ڈیوٹی پلان جاری، چھٹیاں منسوخ

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر) محرم الحرام کے پیش نظر ریسکیو 1122 کی جانب سے ایمرجنسی تیاریوں کا جامع جائزہ اجلاس ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کی زیر صدارت سنٹرل اسٹیشن اوکاڑہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام تحصیل انچارجز نے شرکت کی اور اپنے اپنے علاقوں میں محرم الحرام کے دوران کیے جانے والے حفاظتی و انتظامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے تمام انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں 5 سے 10 محرم، خصوصاً یومِ عاشورہ کے موقع پر ریسکیو عملہ ہائی الرٹ پر ہوگا۔ اس سلسلے میں 200 سے زائد ریسکیو اہلکاروں کو ایمرجنسی ڈیوٹیوں پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ عملے کی تمام چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    محرم الحرام کے دوران ضلع بھر میں مجالس اور جلوسوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 13 سے زائد ریسکیو پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔ یہ پوسٹیں مجالس اور جلوسوں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس ممکن ہو۔ اس کے علاوہ موٹر بائیک ایمبولینس پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ گنجان راستوں اور ہجوم میں بروقت امدادی کارروائی کی جا سکے۔

    ریسکیو پوسٹوں پر ایمبولینسز، فائر وہیکلز، اور تربیت یافتہ ریسکیو اسٹاف چوبیس گھنٹے موجود رہے گا۔ کنٹرول روم انچارج کی نگرانی میں انسپیکشن ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو تمام ریسکیو پوسٹوں کا معائنہ کریں گی اور ہنگامی تیاریوں کو چیک کریں گی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران تعاون کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

  • احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں ناقص ایل پی جی سلنڈر کے پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک نوجوان طالبہ جاں بحق جبکہ 10 دیگر طالبات بری طرح جھلس گئیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، ہائی ایس وین میں سوار 19 طالبات لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ میں امتحان دے کر واپس جا رہی تھیں۔ جیسے ہی گاڑی ٹول پلازہ کے قریب پہنچی، اچانک زور دار دھماکے سے سلنڈر پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبات چیختی چلاتی باہر نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک آگ نے کئی کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی افراد نے فوراً امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور شدید زخمی طالبات کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا۔

    حادثے میں ایک طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر 10 طالبات کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔ جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    متاثرہ طالبات کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب والدین اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہو گئے۔

    علاقہ مکینوں اور سوشل ورکرز نے ناقص سلنڈرز کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: ٹریکٹر ٹرالی کھائی میں الٹ گئی، 25 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوکاڑہ: ٹریکٹر ٹرالی کھائی میں الٹ گئی، 25 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر) اوکاڑہ کے نواحی علاقے 36 جوڑے روڈ پر افسوسناک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق مٹی سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کا ٹائر اچانک برسٹ ہو گیا جس کے باعث وہ بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔

    حادثہ چک نمبر 6 سے چک 9 فارم والا کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرالی پر سوار 25 سالہ نوجوان شاہد ولد اسلم سکنہ چک نمبر 11 فور ایل، ٹرالی کے نیچے دب گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور نوجوان کو بیہوشی کی حالت میں ٹرالی کے نیچے سے نکالا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ہی نوجوان کو سی پی آر دینے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ حادثے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد متوفی کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور بوسیدہ ٹائر کے باعث پیش آیا۔ علاقہ مکینوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پرانی اور خراب ٹرالیوں کی فٹنس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔