Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: جبوکہ روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 خطرناک ڈاکو ہلاک، 2 فرار

    اوکاڑہ: جبوکہ روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 خطرناک ڈاکو ہلاک، 2 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے علاقے جبوکہ روڈ پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں دو خطرناک ملزمان ہلاک جبکہ ان کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ ملزمان علاقے میں خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

    ڈسٹرکٹ آفیسر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) مہر محمد یوسف کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت صدی مراثی اور علی شیر وٹو کے ناموں سے ہوئی ہے۔ صدی مراثی پر ڈکیتی، موٹر سائیکل چوری، نقب زنی سمیت 32 سنگین مقدمات درج تھے جبکہ علی شیر وٹو کے خلاف ڈکیتی، گاڑی چوری اور نقب زنی سمیت 72 مقدمات زیرِ تفتیش تھے۔

    واقعے کے بعد سی سی ڈی پر حملہ، مزاحمت، قتل اور اسلحہ برآمدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے دو پسٹل اور متعدد گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دونوں ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور وہ جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

    ریجنل آفیسر سی سی ڈی ساہیوال ریجن ساجد کھوکھر اور ڈی او اوکاڑہ مہر محمد یوسف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ عوام نے خطرناک ڈاکوؤں کی ہلاکت پر سکھ کا سانس لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

  • ڈسکہ: گورنرز پنجاب و خیبرپختونخوا کی سانحہ سوات پر متاثرہ خاندان سے ملاقات، وزیراعلیٰ کے استعفے اور ایف آئی آر کا مطالبہ

    ڈسکہ: گورنرز پنجاب و خیبرپختونخوا کی سانحہ سوات پر متاثرہ خاندان سے ملاقات، وزیراعلیٰ کے استعفے اور ایف آئی آر کا مطالبہ

    سیالکوٹ،ڈسکہ (باغی ٹی وی،شاہد ریاض + ملک عمران)خیبرپختونخوا میں 13 سال سے ایک ہی سیاسی جماعت کی مسلسل حکومت ہونے کے باوجود انتظامی نااہلی اور وسائل کے فقدان کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو فوری مستعفی ہونا چاہیے اور ان کے خلاف سانحہ سوات کی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کندی نے ڈسکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    دونوں گورنرز سانحہ سوات میں جاں بحق ہونے والے خاندان سے تعزیت کے لیے ڈسکہ پہنچے، جہاں انہوں نے سوگواران سے ملاقات، فاتحہ خوانی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ گورنر سلیم حیدر خان اور فیصل کریم کندی کچھ دیر غم زدہ خاندان کے ہمراہ رہے اور سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے ایک ہی پارٹی برسراقتدار ہے، لیکن بدترین انتظامی نااہلی کے باعث سوات میں ہولناک سانحہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو بروقت کارروائی کے ذریعے بچایا جا سکتا تھا، مگر ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے بے بس نظر آئے۔
    انہوں نے بتایا کہ متاثرین تقریباً دو گھنٹے تک پانی میں پھنسے رہے، ریسکیو 1122 ایک گھنٹہ قبل موقع پر پہنچی مگر ان کے پاس صرف رسیاں تھیں، کوئی مؤثر سہولت یا عملی منصوبہ نہیں تھا۔ گورنر نے کہا کہ یہاں تک کہ جنگ زدہ ممالک میں بھی انسانی جانیں بچانے کے لئے سسٹم ہوتا ہے مگر خیبرپختونخوا کی مشنری مکمل طور پر ناکام رہی، اور خاندان کے دس افراد اپنے پیاروں کے سامنے پانی میں بہہ گئے۔

    گورنر نے کہا کہ سوات کا سانحہ پوری قوم کے دل پر گہرا زخم ہے، ہر پاکستانی دل گرفتہ ہے اور آنکھیں اشکبار ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کندی نے کہا کہ وہ کے پی کی عوام کی طرف سے متاثرہ خاندان سے معافی مانگنے ڈسکہ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے کیونکہ وہ وزیر سیاحت بھی ہیں اور اس شعبے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔
    فیصل کریم کندی نے کہا کہ 13 سال سے ایک سیاسی پارٹی خیبرپختونخوا پر مسلط ہے، جس نے سیاحت کے فروغ کو اپنا نعرہ بنایا مگر سانحہ سوات نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ "قیدی نمبر 420” کو اس انسانی المیے کا جواب دینا ہو گا۔

    گورنر کندی نے اس موقع پر تین انسانی جانیں بچانے والے ریسکیو 1122 کے ڈرائیور کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کی خدمات کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت اور میڈیا سے گفتگو کے دوران دونوں گورنرز کا لب و لہجہ افسردہ اور سخت گیر تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ سوات کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے المیوں سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان منصوبے میں 172 ارب کا اسکینڈل، سینیٹ میں این ایچ اے کی گھوسٹ ٹینڈرنگ بے نقاب

    ڈیرہ غازی خان منصوبے میں 172 ارب کا اسکینڈل، سینیٹ میں این ایچ اے کی گھوسٹ ٹینڈرنگ بے نقاب

    اسلام آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے اقتصادی امور، جس کی سربراہی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کر رہے ہیں، نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ٹینڈرنگ اور معاہدوں کے عمل میں اربوں روپے کی بدعنوانی، فراڈ اور بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ یہ انکشافات کریک ٹرانچ-III (راجن پور – ڈی جی خان – ڈی آئی خان پراجیکٹ) کے حوالے سے سامنے آئے ہیں جو ایک بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبہ ہے۔ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹرز حاجی ہدایت اللہ خان، سید وقار مہدی، فلک ناز، کامران مرتضیٰ، اور کامل علی آغا نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، خصوصی سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی)، چیئرمین این ایچ اے محمد شہریار سلطان، منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے)، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

    سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انکشاف کیا کہ ایک چینی کمپنی، جسے این ایچ اے نے 2023 میں نااہل قرار دیا تھا، کو 2021 میں لودھراں – ملتان پراجیکٹ کے لیے 6.86 ارب روپے کا معاہدہ دیا گیا تھا، جہاں صرف 8 فیصد کام مکمل ہوا جبکہ تقریباً 2 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، اسی کمپنی کو 2024 میں کریک ٹرانچ-III کے لیے 172 ارب روپے کا نیا معاہدہ غیر قانونی طور پر دیا گیا۔ سینیٹر ابڑو نے اسے "گھوسٹ ٹینڈرنگ” کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کمپنی ختم اور نااہل ہو چکی ہے، اسے دوبارہ ٹینڈر کیسے دیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی بار بار ہدایات کے باوجود بولی کے دستاویزات فراہم نہیں کیے جا رہے، اور این ایچ اے کا ایک سابق رکن ان دستاویزات کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ کیس ایف آئی اے کو بھیجا گیا تو پوری این ایچ اے ٹیم ملوث ہو سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مطالبہ کیا کہ لودھراں – ملتان پراجیکٹ سے متعلق عدالتی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، اور نشاندہی کی کہ نااہل کمپنی کے مشیر کو ثالث مقرر کیا گیا، جس نے این ایچ اے کے خلاف فیصلہ دیا۔ سینیٹر ابڑو نے زور دیا کہ این ایچ اے کے حکام غلط کاموں کا دفاع نہ کریں اور وفاقی وزیر اقتصادی امور اربوں روپے کی بدعنوانی کے خلاف کارروائی کریں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے ٹینڈرنگ کے عمل کو منظم اور ہیرا پھیری سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ لالچ کی وجہ سے ٹھیکیداروں کو فائدہ دیا جاتا ہے، جو ایک قومی جرم ہے اور چھوٹے صوبوں میں محرومی کا احساس بڑھاتا ہے۔

    لودھراں – ملتان پراجیکٹ میں نامزد چینی کمپنی اصل بولی دہندہ نہیں تھی؛ بلکہ ایک مقامی کمپنی جوائنٹ وینچر پارٹنر تھی۔ این ایچ اے کے معاہدہ ختم کرنے پر کمپنی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دعویٰ کیا کہ پراجیکٹ کی ذمہ داری مقامی کمپنی کی تھی، کیونکہ وہ صرف 3 فیصد ویلیو وصول کر رہی تھی۔ کمیٹی نے کہا کہ این ایچ اے کو عدالت میں مضبوط موقف اپنانا چاہیے تھا، کیونکہ کمپنی نے ابتدا میں خود کو لیڈ پارٹنر قرار دیا تھا۔ مزید یہ کہ اس پراجیکٹ کی لاگت دوبارہ ٹینڈرنگ کے بعد 6.86 ارب سے بڑھ کر 15 ارب روپے ہو گئی، جس پر سینیٹر ابڑو نے سخت سوالات اٹھائے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے منصوبوں پر پاکستان کے بیشتر صوبوں میں 20 سے 22 فیصد کمیشن دیا جا رہا ہے، لیکن اے ڈی بی اپنی شرائط نافذ کرنے میں ناکام ہے۔ سینیٹر ابڑو نے کہا کہ ای اے ڈی اور این ایچ اے کو قرضوں کے استعمال اور منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت یقینی بنانی چاہیے۔ منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آر اے نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ کے خلاف شکایت پر 12 جون 2025 کو سماعت ہوئی، لیکن این ایچ اے نے مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کیں۔ طریقہ کار پی پی آر اے قواعد کی خلاف ورزی میں پایا گیا، اور کریک ٹرانچ-III کا ٹینڈر دستاویزات کی کمی کی وجہ سے معطل کر دیا گیا۔ سینیٹر ابڑو نے ہدایت دی کہ ای اے ڈی ایف بی آر کو خط لکھ کر ثالث اور کوالیفائیڈ کمپنی کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرے۔

    کمیٹی نے دیگر منصوبوں میں بھی بے ضابطگیاں نوٹ کیں۔ 765kV داسو – اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن گرڈ اسٹیشن (Lot-IV) سے 1.282 ارب روپے کی وصولی کے معاملے میں، چیئرمین نے کہا کہ این ٹی ڈی سی بورڈ کو انکوائری کا اختیار نہیں تھا۔ کمیٹی نے ای اے ڈی کو ہدایت دی کہ پاور ڈویژن اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو رجوع کرے۔ این-45 سیکشن-I (چکدرہ – تیمرگرہ) پراجیکٹ کئی سالوں سے نامکمل ہے۔ سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ این ایچ اے نے چترال کی سڑکیں توڑ دیں لیکن کام غلط جگہ سے شروع کیا، اور قومی شاہراہوں پر زیادہ ٹول ٹیکس اور جرمانوں پر اعتراض اٹھایا۔

    کمیٹی نے ٹینڈرنگ کا عمل فوری معطل کرنے، دو دن میں بولی جائزہ رپورٹ پیش کرنے، ای اے ڈی کو بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے، اے ڈی بی کو خط لکھنے، پاور ڈویژن کے حکام کے خلاف کارروائی، اور غیر کارکردگی دکھانے والے محکموں کی فنڈنگ روکنے کی سفارش کی۔ سینیٹ کمیٹی نے زور دیا کہ این ایچ اے کے منصوبوں میں بدعنوانی ایک قومی جرم ہے، اور بین الاقوامی قرضوں کی شفافیت اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • سیالکوٹ: خصوصی افراد میں 60 سے زائد وہیل چیئرز اور معاون آلات تقسیم

    سیالکوٹ: خصوصی افراد میں 60 سے زائد وہیل چیئرز اور معاون آلات تقسیم

    سیالکوٹ (شاہد ریاض، بیوروچیف باغی ٹی وی)حلقہ پی پی 50 سے رکنِ پنجاب اسمبلی چوہدری نوید اشرف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی پروگرام کے تحت 60 سے زائد معذور افراد میں وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات تقسیم کیے۔ یہ تقریب سوشل ویلفیئر آفس سیالکوٹ میں منعقد ہوئی، جس میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ارشاد وحید، ڈپٹی ڈائریکٹر شریف گھمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز عدنان سرور، عاصمہ احمد اور ابرار عبداللہ ساہی نے بھی شرکت کی۔

    چوہدری نوید اشرف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے رہی ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں تمام شعبوں میں عوامی خدمت کے منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کے لیے وہیل چیئرز اور معاون آلات کی فراہمی حکومت کی احساس اور خدمت کی سیاست کی عملی مثال ہے۔

    ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ارشاد وحید نے کہا کہ معذور افراد کی مالی و فنی معاونت کے لیے "ہمت کارڈ” اور معاون آلات کی فراہمی حکومت پنجاب کے انسان دوستی پر مبنی ویژن کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں سوشل ویلفیئر کے تمام منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

  • ڈسکہ میں 57 کروڑ کے ترقیاتی منصوبے جاری، 5 اہم سڑکوں کی تعمیر کا آغاز

    ڈسکہ میں 57 کروڑ کے ترقیاتی منصوبے جاری، 5 اہم سڑکوں کی تعمیر کا آغاز

    سیالکوٹ.ڈسکہ(باغی ٹی وی ، شاہد ریاض +ملک عمران)صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے اعلان کیا ہے کہ ڈسکہ سٹی میں 57 کروڑ 2 لاکھ 78 ہزار روپے کی لاگت سے پانچ اہم سڑکوں کی ازسرنو تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے، جنہیں 31 اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں پسرور روڈ، وزیر آباد روڈ، کالج روڈ، بنک روڈ اور جامکے روڈ پر ٹرنک سیور لائن بچھانے کے بعد سڑک کی بحالی شامل ہے۔

    انہوں نے یہ بات پی پی 51 میں جاری ترقیاتی کاموں اور مون سون انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی، ایم پی اے چودھری نوید اشرف، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی، اے ڈی سی ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا، اے سی ڈسکہ عثمان غنی اور میونسپل کمیٹی کے افسران بھی موجود تھے۔

    میاں ذیشان رفیق نے بتایا کہ پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت ڈسکہ میں سیوریج کا ایک جامع منصوبہ تکمیل کے قریب ہے، جبکہ نالوں کی صفائی کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے مون سون کی ممکنہ شدید بارشوں کے پیش نظر فلڈ ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایات جاری کیں۔

    وزیر بلدیات نے میونسپل کمیٹی کو ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں سے بروقت پانی کی نکاسی، ڈسپوزل اسٹیشنز کی مکمل فعالیت، بیک اپ جنریٹرز، ڈی واٹرنگ سیٹس اور عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور تحریری روسٹر فوری طور پر جاری کیا جائے۔

    اس موقع پر کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محرم الحرام اور مون سون انتظامات کو ذاتی طور پر مانیٹر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے روٹس کو بارش کی صورت میں صاف اور قابل رسائی رکھنا اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • اوچ شریف: جرنلسٹ پروٹیکشن بل خوش آئند، آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل قرار

    اوچ شریف: جرنلسٹ پروٹیکشن بل خوش آئند، آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل قرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ملک بھر میں "جرنلسٹ پروٹیکشن بل” کی منظوری کو آزادیٔ صحافت کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پریس کلب اوچ شریف کے عہدیداران نے بل کی منظوری پر زبردست خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

    پریس کلب اوچ شریف کے صدر میاں محمد عامر صدیقی نے کہا کہ "یہ قانون صحافیوں کے لیے ایک نیا عہد لے کر آیا ہے۔ اب ہم بغیر خوف و دباؤ کے عوام کی آواز بن سکیں گے۔ حکومت کا یہ قدم لائقِ تحسین ہے، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔”

    جنرل سیکرٹری حبیب خان نے کہا، "ہم برسوں سے جس تحفظاتی قانون کے منتظر تھے، آج وہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔ اب صحافیوں سے زیادتی کرنے والا قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکے گا۔”

    چیئرمین خواجہ غلام شبیر نے بل کو آزادیٔ اظہار اور جمہوری قدروں کی جیت قرار دیا، جبکہ چیئرمین ایکشن کمیٹی ساجد خان نے کہا کہ "صحافت کوئی جرم نہیں، اور اب قانون بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بل ہمارے تحفظ، وقار اور اعتماد کی علامت ہے۔”

    پریس کلب کے دیگر عہدیداران شفیق انجم، خواجہ سہیل عباس، ساجد بنوں، ثاقب منظور، حسیب واحد خان، قاری سمیع اللہ فاروقی، محمد اسماعیل خان، مزمل وارن، سلیمان وارن اور باسط علی خان سمیت دیگر ممبران نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "یہ قانون آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پر مکمل اور شفاف عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ صحافی برادری کو حقیقی ریلیف حاصل ہو سکے۔”

    پریس کلب اوچ شریف کے تمام اراکین نے اس قانون کو صحافیوں کی طویل جدوجہد کا ثمر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ قانون صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا

  • واربرٹن: خودسوزی کرنے والا شخص دم توڑ گیا، صدمے سے والد بھی انتقال کرگئے

    واربرٹن: خودسوزی کرنے والا شخص دم توڑ گیا، صدمے سے والد بھی انتقال کرگئے

    واربرٹن (باغی ٹی وی، نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) واربرٹن کے نواحی گاؤں جسلانی خورد میں دل خراش واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خودسوزی کرنے والا سخاوت علی دم توڑ گیا، جبکہ بیٹے کی موت کی خبر سنتے ہی اس کے والد بھی صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔

    تفصیلات کے مطابق سخاوت علی، جو کہ 6 بچوں کا باپ تھا، نے چار روز قبل اپنے کھیتوں میں پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی تھی۔ وہ بری طرح جھلس گیا تھا جسے ابتدائی طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال ننکانہ منتقل کیا گیا، بعد ازاں تشویشناک حالت کے باعث لاہور اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تاہم چار روز تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ جاں بر نہ ہو سکا۔

    سخاوت علی کی میت جب آبائی گاؤں پہنچی تو اس کے والد بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ دونوں باپ بیٹے کی نماز جنازہ ایک ساتھ ادا کی گئی جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    علاقے میں اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور سوگ کی فضا قائم ہے۔

  • جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی

    جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی

    جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی.مکہ سے کربلا تک کا سفر.چار محرم 61 ہجری
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب

    اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک سانحات میں سے ایک واقعۂ کربلا محض میدانِ نینوا کا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل کے سیاسی و سماجی حالات بھی گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔ چار محرم الحرام 61 ہجری کو کوفہ میں پیش آنے والے چند اہم واقعات نے تاریخ کا رخ بدل دیا اور امام حسینؑ کی تنہائی کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ دن ایک دھمکی آمیز خطبے سے شروع ہوا اور ضمیر کے قیدیوں کے زخموں پر ختم۔

    کوفہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد، جسے یزید نے امام حسینؑ کی آمد روکنے کے لیے مقرر کیا تھا، نے اسی دن مسجدِ کوفہ میں ایسا خطبہ دیا جو جبر اور خوف کی علامت بن گیا۔ اس نے امام حسینؑ کا ساتھ دینے والوں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور قاضی شریح کا فتویٰ سنایا، جس میں امامؑ کے خون کو مباح قرار دیا گیا۔ یہ فتویٰ اس کوشش کی علامت تھا کہ ظلم کو شرعی رنگ دے کر جائز ٹھہرایا جائے۔

    ابن زیاد نے کوفہ کے تمام راستے بند کرا دیے تاکہ کوئی بھی فرد یا قافلہ امام حسینؑ کی نصرت کو نہ پہنچ سکے۔ یہ اقدام محض ایک فوجی یا سیاسی چال نہیں، بلکہ سچائی سے کوفہ کو کاٹ دینے کی شعوری سازش تھی۔ ایک طرف عوام کو دھمکایا گیا، دوسری جانب مال و منصب کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یوں بہت سے لوگ خوف یا مفاد کی بنیاد پر ابن زیاد کے ساتھ جا ملے۔

    جن لوگوں پر امام حسینؑ سے عقیدت یا حمایت کا شبہ تھا، انہیں قید کر دیا گیا۔ یہی قیدی بعد ازاں "توابین” کہلائے—وہ لوگ جنہیں اپنے جرمِ خاموشی پر ندامت تھی۔ ان کا ضمیر انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیتا تھا، اور آخرکار انہوں نے توبہ کے طور پر بنو امیہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔

    توابین نے سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے اور اپنی کوتاہی کا کفارہ ادا کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور یزیدی حکومت کے خلاف جنگ کی، یہاں تک کہ وہ بھی میدانِ شہادت میں اتر گئے۔ ان کی تحریک اس بات کی علامت بنی کہ تاریخ خاموش تماشائیوں کو معاف نہیں کرتی۔

    کوفہ کا قبیلوی نظام بھی امام حسینؑ کی تنہائی کا سبب بنا۔ بیشتر قبائل نے اپنے سرداروں کی اطاعت میں امام کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ سردار یا تو بنو امیہ سے قربت رکھتے تھے یا ابن زیاد کی طرف سے ملنے والے مفادات کے اسیر ہو چکے تھے۔ یوں ضمیر قبیلوی وفاداری کے نیچے دفن ہو گیا، اور عام قبائلی افراد بھی حق کا ساتھ نہ دے سکے۔

    چار محرم الحرام 61 ہجری کا دن محض تاریخ کا ایک صفحہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ابن زیاد کا خطبہ، قاضی شریح کا فتویٰ، اور کوفہ کی خاموشی.یہ سب مل کر امام حسینؑ کی تنہائی کا پس منظر بنے۔ مگر انہی اندھیروں میں سے "توابین” جیسی روشنی بھی نکلی، جو یاد دلاتی ہے کہ اگر ضمیر جاگ جائے تو توبہ بھی قربانی کا راستہ چن لیتی ہے۔

    کربلا کا پیغام صرف ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ خاموشی بھی جرم ہے۔ اور کبھی، تاخیر سے جاگا ہوا ضمیر بھی تاریخ میں جگہ پا لیتا ہے.اگر وہ سچائی کے لیے لڑ مرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

  • ڈیرہ غازی خان: زہریلے آم تلف، کیمیکل پکڑ گیا، 94 ہزار جرمانہ

    ڈیرہ غازی خان: زہریلے آم تلف، کیمیکل پکڑ گیا، 94 ہزار جرمانہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)آم کو زبردستی پکانے کے لیے ممنوعہ کیمیکل کیلشیم کاربائیڈ کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بھرپور کارروائی، ڈائریکٹر آپریشنز شہزاد مگسی کی سربراہی میں 216 مقامات پر انسپکشن کی گئی، جہاں سے 117 کلو کاربائیڈ اور 95 کلو آم ضبط کر کے موقع پر تلف کر دیے گئے۔

    انسپکشن کے دوران فروٹ منڈیوں، باغات اور پھل بردار گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔ زہریلے کیمیکل کے استعمال پر 94 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

    ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا تاکہ عوام تک محفوظ اور صحت بخش خوراک پہنچائی جا سکے۔

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ آموں کو کیلشیم کاربائیڈ سے پکانا قانونی اور انسانی صحت کے خلاف جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زہریلے آم کینسر، معدے، گردے اور اعصابی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے تاجروں اور باغبانوں کو خبردار کیا کہ قدرتی طریقے سے آموں کو پکانے کی روایت کو اپنایا جائے، ورنہ قانونی کارروائی سے گریز ممکن نہیں ہوگا۔

  • اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے چناب رسول پور، بستی مقبول آرائیں میں میپکو کی مجرمانہ غفلت اور ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کی بدترین نااہلی کے باعث ایک ہولناک سانحہ پیش آیا۔ خستہ حال بجلی کے تین دیو ہیکل کھمبے اچانک گر کر سیدھے گھروں پر جا گرے۔ یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ یہ علاقہ موت کا کھیل بن چکا ہوتا۔ اس واقعے نے میپکو حکام کی انسانی جانوں کے تئیں سنگین بے حسی اور لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے غم و غصے میں بتایا کہ انہوں نے بارہا میپکو کو ان بوسیدہ کھمبوں کی تبدیلی کے لیے تحریری درخواستیں دیں اور زبانی شکایات بھی کیں، مگر ہر بار انہیں محض "نوٹ کر لیا گیا ہے” کا روایتی جواب دے کر ٹال دیا گیا۔ ایس ڈی او اوچ شریف، ملک ظفر اقبال کلیار، کی عدم دستیابی اور لاپروائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انہیں عوام کے تحفظ کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عوامی تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

    کھمبوں کے گرنے سے پورا علاقہ بجلی سے محروم ہو چکا ہے اور بجلی کی ننگی تاریں گھروں کے صحنوں اور گلیوں میں بکھر گئیں جو کسی بھی وقت ایک نیا حادثہ پیدا کر سکتی تھیں۔ اہل علاقہ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں، خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگوں کی نقل و حرکت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ ایمرجنسی میں واپڈا حکام کو فون کر کے بجلی بند کروائی گئی، جس سے ایک بڑا المیہ ٹل گیا۔

    اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ "کیا میپکو جیسے قومی ادارے صرف بل بھیجنے اور تنخواہیں لینے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ جب عوام کی جانیں ہی محفوظ نہ ہوں، تو ان اداروں کا وجود کس مقصد کے لیے ہے؟” انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری کی جائے، علاقے کے تمام خستہ حال کھمبوں کو فوری تبدیل کیا جائے، اور متاثرہ گھروں کو نقصان کا ازالہ دیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب صرف وعدوں سے بات نہیں بنے گی، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب، وفاقی وزارتِ توانائی، اور میپکو ہیڈ آفس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسیاں وضع کریں۔