Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: نالے میں نہاتے ہوئے دو معصوم بھائی ڈوب کر جاں بحق، گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی

    اوکاڑہ: نالے میں نہاتے ہوئے دو معصوم بھائی ڈوب کر جاں بحق، گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی علاقے 36 جوڑے روڈ پر واقع بستی غلام آباد میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جہاں دو سگے بھائی نالے میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 6 اور 8 سال تھیں، جو محنت کش لیاقت علی کے بیٹے تھے۔

    ذرائع کے مطابق چھ سالہ وارث اور آٹھ سالہ احمد گھر کے قریب واقع نالے میں نہانے کے لیے گئے، مگر کافی دیر تک واپس نہ آئے۔ بچوں کی تاخیر پر لواحقین کو تشویش ہوئی اور وہ تلاش کرتے ہوئے نالے پر پہنچے۔ نالے میں اترنے پر دونوں بچوں کو نیم بیہوشی کی حالت میں نکالا گیا اور فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور راستے میں بچوں کو سی پی آر دینے کی کوشش کی گئی، مگر دونوں بچے جانبر نہ ہو سکے۔ ریسکیو اہلکاروں نے ضروری کارروائی کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کر دیں۔

    جاں بحق بچوں کی میتیں جب گھر پہنچیں تو کہرام مچ گیا، ماں باپ غم سے نڈھال، بہن بھائی اور اہلِ محلہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ بستی غلام آباد کی فضا سوگوار ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ علاقے میں گہرے رنج و الم کی کیفیت طاری ہے۔

  • جنوبی پنجاب: نہروں میں نہانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    جنوبی پنجاب: نہروں میں نہانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    اوچ شریف / ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،نامہ نگار+سٹی رپورٹر)جنوبی پنجاب کے دو بڑے اضلاع بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت نہروں، آبی گزرگاہوں اور دریاؤں میں نہانے، تیرنے، کشتی رانی، کھیل کود اور غیر ضروری اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق نے ضلع بھر میں نہروں اور پانی کے دیگر ذخائر میں نہانے پر 30 روزہ پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے 27 جولائی تک دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم جاری کرتے ہوئے دریائے سندھ اور تمام بڑی نہروں کے کنارے سرگرمیوں پر مکمل روک لگا دی ہے۔

    دونوں اضلاع میں جاری اعلامیوں کے مطابق یہ فیصلے بڑھتے ہوئے ڈوبنے کے واقعات، انسانی جانوں کے ضیاع اور موسم برسات کے خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے والدین سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نہروں اور دریا کے قریب جانے سے روکیں اور قانون کی پابندی کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی حفاظت یقینی بنائیں۔

    دونوں ڈپٹی کمشنرز نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور ان کا مقصد صرف ایک ہے: انسانی جانوں کو بچانا اور ممکنہ سانحات کا راستہ روکنا۔

    انتظامیہ کا یہ فیصلہ عوامی تحفظ کے لیے ایک بروقت اور سنجیدہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ننکانہ: زیڈ بلاک گندے پانی میں ڈوبا، سیوریج بند، میونسپل افسران کی لڑائی سے عوام بے حال

    ننکانہ: زیڈ بلاک گندے پانی میں ڈوبا، سیوریج بند، میونسپل افسران کی لڑائی سے عوام بے حال

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب ہاؤسنگ کالونی زیڈ بلاک کے مکین گزشتہ پانچ روز سے شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جہاں بند سیوریج لائنوں نے پورے علاقے کو بدبو، گندگی، تعفن اور مچھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ گلیاں اور سڑکیں گندے پانی سے بھر چکی ہیں، اسکول جانے والے بچے، بزرگ اور بیمار افراد گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔ بدترین صورتحال کے باوجود میونسپل کمیٹی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی بار شکایات کے باوجود تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

    زیڈ بلاک، جو شہر کے مہنگے رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، آج گندے پانی کے جوہڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مکینوں کے مطابق رات دن بدبو کے بھبکے اٹھتے ہیں، مچھر گھروں کے اندر تک داخل ہو چکے ہیں، اور بیماریاں پھیلنے کا خدشہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔

    صورتحال کی سنگینی اس وقت دوگنی ہو گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ قائم مقام چیف آفیسر راؤ انوار اور میونسپل آفیسر سروسز صدام کے درمیان چپقلش اور اختیارات کی جنگ نے پورے بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ عملہ بے یار و مددگار ہے، صفائی و نکاسی کی مشینری نایاب ہے، سیورمین بانس، رسے، لہو کی تار اور دیگر ضروری سامان کے بغیر ننگے ہاتھوں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک طرف میونسپل ادارے کو عملے اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، دوسری طرف افسران کی باہمی رنجش عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سسٹم کی اس مکمل ناکامی کے نتیجے میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ گندے پانی میں ڈینگی، ٹائیفائیڈ، اور ہیضے جیسے امراض کا امکان بڑھ رہا ہے، لیکن متعلقہ افسران کی لاپرواہی برقرار ہے۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ایڈمنسٹریٹر شہزاد کھوکھر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے زیڈ بلاک کی بند سیوریج لائن کو کھولا جائے، مستقل بنیادوں پر نئی سیوریج لائن ڈالی جائے، صفائی کے لیے مشینری، بانس، تار، رسہ اور دیگر بنیادی سامان مہیا کیا جائے، اور میونسپل افسران کو ان کے دائرہ اختیار میں رہ کر فرائض انجام دینے کا پابند بنایا جائے۔

    شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار ڈی سی آفس اور میونسپل کمیٹی تک بڑھا دیا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: دفعہ 144 نافذ، برسات اور شہری دفاع سے متعلق ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر صدارت اہم اجلاس

    سیالکوٹ: دفعہ 144 نافذ، برسات اور شہری دفاع سے متعلق ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر صدارت اہم اجلاس

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہد ریاض) ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر صدارت ڈی سی آفس کانفرنس روم میں برسات، شہری دفاع اور دفعہ 144 سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس، اور ایمرجنسی سروسز کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ مظفر مختار، اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر، اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال غلام فاطمہ، اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار، ڈی او ایمرجنسی نوید اقبال، انچارج ڈی ڈی ایم اے کیوان حسن اور چیف وارڈن شہری دفاع طاہر مجید کپور سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نے موسم برسات کی شدت اور نہروں میں نہانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو ندی نالوں اور نہروں میں نہانے سے روکیں تاکہ قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن ہو۔

    اجلاس میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جس پر لوکل گورنمنٹ کو فوری مہم تیز کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ تمام ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے چیف وارڈن شہری دفاع طاہر مجید کپور سے ملاقات کے دوران ساتویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر سیکیورٹی و ایمرجنسی ڈیوٹی پلان پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران شہری دفاع کی تنظیم نو اور ریسکیو 1122 کے ساتھ مشترکہ ایکشن پلان کی تیاری پر زور دیا گیا تاکہ ہنگامی حالات میں بہتر، مربوط اور بروقت خدمات فراہم کی جا سکیں۔

  • واربرٹن:پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ایس ایچ او آغا حسین

    واربرٹن:پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ایس ایچ او آغا حسین

    واربرٹن (نامہ نگار) پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ایس ایچ او آغا حسین.عوامی خدمت اور امن و امان کے قیام میں میڈیا کا کردار قابلِ تحسین ہے، مہر عبدالغفور

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او منڈی فیض آباد آغا حسین نے کہا ہے کہ پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، عوام کو بروقت اور درست معلومات کی فراہمی میں میڈیا کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ وہ سٹی پریس کلب رجسٹرڈ واربرٹن کے صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور میڈیا کے تعمیری کردار کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اس موقع پر سینئر صحافی مہر عبدالغفور نے کہا کہ ایس ایچ او آغا حسین نہ صرف ایک فرض شناس اور باصلاحیت پولیس آفیسر ہیں بلکہ خوش اخلاق، نرم گو اور عوام دوست شخصیت کے حامل انسان ہیں۔ ان کی عوامی خدمت، انصاف پسندی اور خوش اخلاقی کے باعث علاقے کے لوگ ان سے دلی محبت اور اعتماد رکھتے ہیں۔

    مہر عبدالغفور نے امن و امان کے قیام کے لیے آغا حسین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جرائم کے خاتمے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی پولیس اور میڈیا باہمی رابطے اور تعاون کے ساتھ عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔

  • 20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟

    20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟

    20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    کمشنر ساہیوال نے پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) میں 16 سے 22 جون 2025 کے دوران 20 بچوں کی اموات کا نوٹس لے کر ایک نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے تکنیکی عملے پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی پانچ دن میں نئے سرے سے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق ان چھ دنوں میں چلڈرن وارڈ میں 20 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں جن میں 15 نومولود اور 5 ایک سال سے کم عمر بچے شامل تھے۔ خاص طور پر 19 جون کو 5 بچوں کی موت ہوئی۔ والدین نے الزام لگایا کہ عملے کی غفلت، آکسیجن کی کمی اور ادویات کی عدم دستیابی نے ان معصوم جانوں کو نگل لیا۔ ایک والد نے بتایا کہ ان کے نومولود کو آکسیجن کی ضرورت تھی لیکن وارڈ میں عملہ غیر حاضر تھا اور جب ڈاکٹر آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک ماں نے بیان کیا کہ ان کے بچے کو بخار کی دوا تک بروقت نہ دی گئی اور جب تک معائنہ ہوا، بچہ دم توڑ چکا تھا۔ یہ سانحہ نہ صرف پاکپتن بلکہ پورے ملک کے لیے ایک دردناک لمحہ ہے، جو نظام صحت کی زبوں حالی کو بے نقاب کرتا ہے۔

    حیران کن طور پر ابتدائی سرکاری انکوائری رپورٹ نے ڈاکٹرز اور نرسز کو کسی بھی قسم کی غفلت سے بری الذمہ قرار دیا اور کوئی ذمہ دار شناخت نہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عملے کی تربیت ناکافی تھی لیکن اسے جرم یا غفلت قرار نہ دیا گیا۔ اس کے بجائے صرف نچلے درجے کے ملازمین جیسے سویپرز اور وارڈ بوائز کو ہٹانے کی سفارش کی گئی۔ یہ رپورٹ انصاف کے بجائے ایک ایسی کوشش لگتی ہے جو ہسپتال کے اعلیٰ حکام اور انتظامیہ کی ناکامیوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ اگر عملہ تربیت یافتہ نہیں تھا تو اسے حساس نیونیٹل وارڈ میں کس نے تعینات کیا؟ کیا تربیت کی کمی کو جواز بنا کر 20 بچوں کی اموات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش نہیں؟

    پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات جیسے آکسیجن، ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی رہی۔ والدین کے مطابق وارڈ میں اکثر اوقات ڈاکٹرز غیر حاضر ہوتے تھے اور نرسز کی تعداد بھی ناکافی تھی۔بے روزگاری ،غربت اور بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا۔ نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے غریب عوام سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن وہاں بدحالی اور سہولیات کی کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ صحت کا شعبہ براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگر سوات میں 12 افراد کے ڈوبنے پر کے پی حکومت اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورذمہ دار ہیں اور ان سے استعفےٰ کا مطالبہ جائز ہے تو پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات پر پنجاب حکومت کی خاموشی کیوں؟کیا ان 20 معصوموں کی ہلاکت کی ذمہ دار مریم نواز نہیں ہیں ؟ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟

    یہ سانحہ صرف ایک ہسپتال کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام صحت کی زبوں حالی کا ثبوت ہے۔ اگر 20 معصوم بچوں کی اموات کے بعد بھی کوئی جوابدہ نہیں تو یہ نظام غریب کے لیے موت کا پروانہ ہے۔ ہسپتال جو زندگی کی امید ہوتے ہیں، آج پاکستان میں موت کے گہوارے بن چکے ہیں۔ کمشنر ساہیوال کی نئی انکوائری کمیٹی سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس سانحے کی غیر جانبدارانہ چھان بین کرے گی ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کر پائے گی؟ اس سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد جوڈیشل انکوائری ناگزیر ہے۔ جنہوں نے غیر تربیت یافتہ عملے کو بھرتی کیا، جنہوں نے سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی برتی اور جنہوں نے والدین کی چیخوں کو نظر انداز کیا، ان سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ صرف نچلے درجے کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانا انصاف نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے، طبی عملے کی تربیت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ہیلتھ کارڈ جیسے پروگراموں کو بحال کیا جائے تاکہ غریب عوام کو علاج کی سہولت مل سکے۔ پاکپتن کے 20 ننھے جنازوں نے ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نظام کی عکاسی ہے جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور غریب کی جان کو معمولی سمجھتا ہے۔ کیا ہم اس نظام کو بدلنے کے لیے آواز اٹھائیں گے؟ کیا 20 معصوم جانوں کا خون رائیگاں جائے گا؟ کیا وزیراعلیٰ پنجاب اس سانحے کی ذمہ داری قبول کریں گی؟ کیا نئی انکوائری کمیٹی محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوگی یا انصاف کی طرف پہلا قدم؟ کیا ہمارے ہسپتال کبھی زندگی کی امید بن پائیں گے یا موت کے گہوارے ہی رہیں گے؟ یہ چبھتے سوالات ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہے ہیں اور ان کے جوابات ہی ہمارے معاشرے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

  • سیالکوٹ: پولیس نے کروڑوں کی چوری کا معمہ چند دنوں میں حل کر لیا، 2 خواتین سمیت 3 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ کا مسروقہ مال برآمد

    سیالکوٹ: پولیس نے کروڑوں کی چوری کا معمہ چند دنوں میں حل کر لیا، 2 خواتین سمیت 3 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ کا مسروقہ مال برآمد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی تفتیش اور تیز رفتاری سے گھر میں ہونے والی کروڑوں روپے کی چوری کا معمہ قلیل وقت میں حل کر کے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کیا بلکہ 2 خواتین سمیت 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے 2 کروڑ روپے مالیت کا مسروقہ سامان بھی اصل مالک کے حوالے کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق 25 جون کو تھانہ حاجی پورہ کی حدود میں واقع مبارک پورہ میں شہری شیخ عبدالجلیل کے گھر سے نامعلوم ملزمان نے بڑی واردات کے دوران 50 لاکھ روپے نقدی، 31 تولے سونا اور 10 مختلف ممالک کی غیر ملکی کرنسی چوری کر لی تھی۔ کرنسی میں 5,900 امریکی ڈالر، 3,910 یورو، 1,360 برطانوی پاؤنڈ، 16,000 جاپانی ین، 20,000 جنوبی کورین وون، 530 سعودی ریال، 1,100 بھارتی روپے، 50 سنگاپور ڈالر اور 240 مصری پاؤنڈ شامل تھے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایچ او حاجی پورہ کو خصوصی ٹاسک دیا۔ پولیس ٹیم نے جدید سائنسی خطوط، سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹیکنیکل ڈیٹا اور خفیہ معلومات کی مدد سے چوری میں ملوث 2 خواتین حضرت، علیزہ اور ایک مرد احمد صابر کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر یہ تینوں ملزمان نہ صرف آپس میں سگے بہن بھائی ہیں بلکہ متاثرہ خاندان کے قریبی عزیز بھی نکلے۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے تمام مسروقہ مال برآمد کر لیا، جسے قانونی کارروائی کے بعد متاثرہ شخص کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد ازاں تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
    "سیالکوٹ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔”

    یہ کامیابی نہ صرف سیالکوٹ پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے بلکہ پولیس قیادت کی مؤثر نگرانی اور تفتیشی ٹیم کی محنت کا نتیجہ بھی ہے۔

  • واربرٹن: آندھی سے چھت سے گری سولر پلیٹ، 17 ماہ کا بچہ جاں بحق

    واربرٹن: آندھی سے چھت سے گری سولر پلیٹ، 17 ماہ کا بچہ جاں بحق

    واربرٹن (نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) واربرٹن شہر اور گردونواح میں آنے والی تیز آندھی نے ایک معصوم جان لے لی۔

    محلہ عیدگاہ نزد مدرسہ جامعہ امینیہ رضویہ میں آندھی کے دوران ایک ہمسائے کے گھر کی چھت پر نصب سولر پلیٹ اڑ کر نیچے آ گری، جو صحن میں کھیلتے 17 ماہ کے معصوم محمد موسیٰ ولد شاہ زیب انور پر آ گری،جس سے معصوم بچہ شدید زخمی ہوگیا،

    شدید زخمی ہونے والےبچے کو المصطفیٰ ویلفیئر ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ واقعے پر اہلِ علاقہ افسردہ اور سوگوار ہیں۔

  • فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم

    فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم

    فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    محرم الحرام کی ہر تاریخ اپنے دامن میں قربانی، صبر، اور بیداری کا پیغام لیے ہوئے ہے، مگر جب ہم تین محرم کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو کربلا کی سرزمین پر جاری ظلم و ستم اور امام حسینؑ کی استقامت ہمیں بے اختیار رُلا دیتی ہے۔
    یہ وہ دن ہے، جب امام عالی مقامؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب کو عملی طور پر دریائے فرات سے محروم کر دیا گیا اور مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔

    امام حسینؑ کا قافلہ مکہ سے روانہ ہوا تو ان کا مقصد واضح تھا: یزید کی بیعت سے انکار، دینِ محمدی ﷺ کی بقا اور امت کو خوابِ غفلت سے جگانا۔
    یہ سفر اقتدار یا حکومت کے لیے نہیں بلکہ حق و صداقت کے لیے تھا۔ امامؑ کے ہمراہ اہلِ بیت کے علاوہ وہ جانثار اصحاب بھی تھے جو صبر، وفا، اور قربانی کا استعارہ بنے۔

    تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ قافلے کے ہمراہ دو سو سے زائد اونٹوں پر صرف پانی کے مشکیزے لادے گئے تھے تاکہ راستے میں قافلے کے افراد، دیگر مسافروں، جانوروں اور یہاں تک کہ دشمنوں کی پیاس بھی بجھائی جا سکے۔جب حر بن یزید کا لشکر قافلے کے قریب پہنچا تو امام حسینؑ نے نہ صرف انہیں پانی پلایا بلکہ ان کے جانوروں کو بھی سیراب کیا۔ یہ عمل امام کی اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی کو تاریخ میں امر کر گیا۔

    افسوس! تین محرم کو وہی امامؑ، جو دشمنوں کو بھی پانی پلاتے تھے، خود اور ان کا قافلہ فرات کے کنارے ہوتے ہوئے بھی پیاسا کر دیا گیا۔
    یزیدی لشکر نے دریا پر پہرہ بٹھا دیا تاکہ امامؑ کے خیموں تک ایک قطرہ بھی نہ پہنچ سکے۔
    خیموں میں بچوں کی سسکیاں، عورتوں کی بے قراری اور پیاس کی شدت نے قیامت کا منظر پیدا کر دیا، مگر امامؑ نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔

    اسی کٹھن گھڑی میں امام حسینؑ نے حضرت زینبؑ کے ہمراہ اپنے دیرینہ دوست اور صحابیٔ رسول ﷺ، حبیب بن مظاہر کو خط لکھا۔
    خط کا مضمون سادہ مگر پراثر تھا:

    "اے حبیب! میں کربلا میں ہوں، میرا ساتھ دو۔”

    حبیب نے خط پڑھتے ہی اپنے قبیلے اور اہلِ خانہ کو چھوڑا اور فوراً امامؑ کی مدد کو روانہ ہو گئے۔
    یہ واقعہ امام حسینؑ کی حکمت، روابط اور اعتماد کا مظہر ہے، اور حضرت زینبؑ کی شراکت نے اس لمحے کو روحانی عظمت عطا کی۔

    اسی روز امام حسینؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
    "رات کی تاریکی ہے، تم جا سکتے ہو۔ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے، تم پر کوئی جبر نہیں۔”

    مگر تمام جانثاروں نے یک زبان ہو کر کہا:

    "ہم آپ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہم نے آپ کے ساتھ جینا ہے اور آپ کے ساتھ مرنا ہے۔”

    یہی وہ لمحہ تھا جب وفا اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
    تین محرم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچائی، صبر اور استقامت کی راہ پر چلتے ہوئے پیاس، تکلیف اور قربانی بھی سر بلندی کا باعث بنتی ہے۔

    امام حسینؑ نے فرمایا:

    "ہم نہ بیعت کریں گے، نہ ظلم تسلیم کریں گے۔ پیاسا مرنا قبول ہے، مگر ذلت کی زندگی ہرگز نہیں۔”

    یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ باطل کے سامنے جھکنا مومن کا شیوہ نہیں۔
    حق پر قائم رہنا مشکل ضرور ہے، مگر یہی قربانی تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔

    آج جب دنیا ظلم و ناانصافی سے بھری ہوئی ہے، تو تین محرم ہمیں حسینؑ کے راستے کی یاد دلاتی ہے — وہ راستہ جو صبر، قربانی، حق گوئی اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا راستہ ہے۔

  • سیالکوٹ: خواجہ آصف کی سانحۂ سوات متاثرین سے تعزیت، ریسکیو نظام اور حکومتی غفلت پر شدید تنقید

    سیالکوٹ: خواجہ آصف کی سانحۂ سوات متاثرین سے تعزیت، ریسکیو نظام اور حکومتی غفلت پر شدید تنقید

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، شاہد ریاض)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سانحہ سوات کے متاثرین سے تعزیت کے لیے ڈسکہ پہنچے، جہاں انہوں نے سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سانحہ سوات کو ایک ناقابلِ بیان المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "بیٹی کے سامنے اس کے بچے پانی میں بہہ گئے، یہ ایسا صدمہ ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ ایک بچہ تاحال لاپتہ ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ مکمل ریسکیو بریک ڈاؤن تھا، ٹیمیں خالی ہاتھ پہنچیں اور کوئی مناسب تیاری نظر نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، لیکن آج تک کوئی مؤثر پالیسی یا حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جو قابل افسوس ہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان پر تو قیامت ٹوٹ پڑی، مگر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ موجودہ حکومت پر کوئی قیامت ٹوٹی یا نہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ان افسران کو بحال کیا جائے جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، اور وہ خود بھی اس مؤقف سے متفق ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے۔

    انہوں نے کہا: "اللہ کسی بدترین دشمن پر بھی ایسا وقت نہ لائے، حکمرانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر عوامی مفادات کو ترجیح دیں۔”

    خواجہ آصف نے آخر میں سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ حکمرانی واقعی کانٹوں کی سیج ہے یا نہیں۔