Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ہیڈ پنجند بند شکستہ، سیلاب سر پر، بند ٹوٹا تو تباہی یقینی! ذمہ دار کون؟

    ہیڈ پنجند بند شکستہ، سیلاب سر پر، بند ٹوٹا تو تباہی یقینی! ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ہیڈ پنجند بند شکستہ، سیلاب سر پر، بند ٹوٹا تو تباہی یقینی! ذمہ دار کون؟

    تفصیلات کے مطابق ہیڈ پنجند سے خیرپور ڈاہا تک دریائی حفاظتی بند شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو ممکنہ سیلابی تباہی کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد بند کی سطح پر گہرے کھڈے پڑ چکے ہیں، جبکہ کئی مقامات سے مٹی اور پتھر بہہ جانے کے باعث اس بند کی مضبوطی کو شدید خطرات درپیش ہیں۔

    عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق بند کی حالت اتنی خستہ ہو چکی ہے کہ اگر بروقت مرمت نہ کی گئی تو آئندہ مون سون میں بند کے ٹوٹنے کا قوی امکان ہے، جو وسیع پیمانے پر انسانی اور زرعی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ کسانوں اور دیہاتیوں نے محکمہ ایریگیشن کی مجرمانہ غفلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ تاحال خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے اور زمینی صورتحال کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا گیا۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور چیف انجینئر ایریگیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حفاظتی بند کی مرمت اور بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔
    عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی، وسائل کے ضیاع اور عدم توجہی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی سانحے سے پہلے اقدامات نہ کیے گئے تو ذمہ داری مکمل طور پر حکومت اور محکمہ ایریگیشن پر عائد ہو گی۔

  • محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں… ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض کی خصوصی رپورٹ)دریائے سوات کے کنارے آج پھر لہریں خاموش نہیں۔ وہ کسی بین کرتی ماں کی طرح چیخ رہی ہیں۔ آج پھر پانی کا شور نہیں بلکہ معصوم جانوں کی سسکیوں کا ماتم سنائی دے رہا ہے۔ سیالکوٹ، ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کی 12 زندگیاں لمحوں میں بہہ گئیں۔ نہ کوئی جنگ تھی، نہ دہشت گرد حملہ، صرف ریاستی غفلت تھی۔ یہ واقعہ قدرت کا عذاب نہیں بلکہ انسانوں، اور درحقیقت حکومتوں کے پیدا کردہ ظلم کا نتیجہ ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران اپنے محلوں کے آرام میں مدہوش ہوں اور ریاست کا وجود صرف پروٹوکول تک محدود رہ جائے، تو پھر حادثے نہیں بلکہ سانحے جنم لیتے ہیں — وہ سانحے جو خون رلاتے ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے وہ لمحہ تاریخ کے ماتھے پر سیاہ دھبے کی صورت نقش ہو چکا ہے، جب ایک خاندان خوشی خوشی آیا اور واپسی پر لاشوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔

    بارہ زندگیاں ، جن میں معصوم بچے، خواتین، والدین، بہن بھائی، اور ایک چار سالہ بچی شامل تھی، جو شاید آخری بار صرف اتنا بولی ہو گی:
    "بابا، مجھے بچا لو!”
    اور اپنے بابا کے کندھوں پر چڑھ گئی۔
    مگر وہ نہ جانتی تھی کہ یہ پاکستان ہے . یہاں عوام کے بچوں کے لیے نہ کندھے محفوظ ہیں اور نہ میسر۔

    کیا یہ اٹھارہ افراد، بشمول اس معصوم بچی کے، غیر ملکی سیاح ہوتے تو ہیلی کاپٹر آ جاتا؟
    کیا وہ کسی وزیر، مشیر یا اشرافیہ کے رشتہ دار ہوتے تو ریسکیو ٹیمیں پلک جھپکتے پہنچ جاتیں؟
    مگر افسوس! وہ صرف "عام پاکستانی” تھے۔
    نہ ہیلی کاپٹر آیا، نہ ریاست جاگی، نہ کوئی بچانے والا پہنچا۔

    یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ سوات انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت جو "سیاحت کے فروغ” کے خواب دکھاتی رہی، جو بل بورڈز پر پہاڑ، دریا، اور جنگلات کی خوبصورتی دکھا کر فخریہ دعوے کرتی رہی . وہ حکومت ایک سادہ سا انتباہی بورڈ بھی نہ لگا سکی، نہ کوئی حفاظتی انتظامات کیے، نہ کوئی واچ ٹیم تعینات کی۔

    حضرت عمرؓ کا قول آج بھی تاریخ کی دیواروں پر گونجتا ہے:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر جائے تو روزِ قیامت عمرؓ سے اس کی بازپرس ہو گی!”
    لیکن یہاں؟ دریائے سوات کے کنارے بارہ انسان ڈوب گئے اور نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی شرمندگی سے سر جھکانے والا۔

    یہ جانیں اگر کسی دہشت گردی یا دشمن کے حملے میں نہ بھی گئیں، تو حکومتی نااہلی اور بےحسی کی وجہ سے ضرور قتل ہوئیں۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کے زوال سے قبل دریا بہتے تھے، مگر انصاف اور غیرت مر چکے تھے۔
    آج سوات میں بھی دریا بہہ رہا تھا مگر ساتھ ہی ریاستی شعور، انسانی ہمدردی، اور حکومتی ذمہ داری بھی بہہ گئی۔

    خیبر پختونخواہ کی انتظامیہ میٹنگز میں "تصویری سیاحت” کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی،
    مگر دریا کی لہروں میں ڈوبتی انسانیت کی آہیں کسی وزیر، مشیر، یا افسر کی سماعت تک نہ پہنچ سکیں۔

    یہ تحریر ایک سوال ہے…
    ایک سوال اُس معصوم بچی کی طرف سے…
    جس نے بس اتنا چاہا تھا کہ:
    "بابا، بچا لیں مجھے”
    مگر ریاستی سستی نے اس کا بابا بھی اس سے چھین لیا۔

    کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
    کب تک صرف فاتحہ پڑھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟
    کب تک حکمرانوں کے محل روشن اور عوام کی قبریں تاریک رہیں گی؟

    یہ صرف ایک خاندان کی موت نہیں،
    یہ خیبر پختونخواہ کی ناکام حکمرانی کا نوحہ ہے….
    جہاں سیاحت کے نام پر اشتہار تو لگائے گئے، وائرل ویڈیوز تو بنائی گئیں،
    مگر دریا کنارے عوام کے تحفظ کے لیے نہ کوئی سیفٹی پلان، نہ ریگولیشن، نہ تربیت، نہ جان کی قدر کی گئی۔

    یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی شعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں:
    ریسکیو کہاں تھا؟ سول ڈیفنس کہاں تھا؟ پولیس؟ وارننگ دینے والا کوئی عملہ؟
    اگر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا تھا تو پیشگی اطلاع کیوں نہ دی گئی؟
    اگر دریا کنارے ناجائز تجاوزات تھیں تو ان کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

    خدارا!
    سیاحت صرف خوبصورت وادیوں، پہاڑوں، اور پوسٹروں کا نام نہیں ….
    سیاحت تحفظ مانگتی ہے، سہولتیں مانگتی ہے اور ذمہ داری مانگتی ہے۔

    یہ جاگنے کا وقت ہے۔
    ورنہ ایک دن یہ دریا ہمیں بھی نگل جائیں گے۔

  • سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی

    سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی

    سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    26 جون 2025 کو دریائے سوات کے کنارے ایک دلخراش سانحہ پیش آیا جب سیالکوٹ سے آئے ایک خاندان سمیت 17 سیاح اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ 11 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، 4 کو بچایا گیا جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 12 سالہ حکمرانی کی انتظامی ناکامی کا عکاس ہے۔ پی ٹی آئی نے "تبدیلی” کا نعرہ لگایا لیکن سوات کا یہ المناک سانحہ بتاتا ہے کہ سیاحوں کی حفاظت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور عوامی فلاح کے وعدے محض کاغذی نعروں تک محدود رہے۔

    خیبر پختونخوا سیاحت کا گہوارہ ہے، جہاں سوات اور چترال جیسے دلکش مقامات لاکھوں سیاحوں کو کھینچتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 2013 سے اپنی حکمرانی میں سیاحت کے فروغ کے بلند بانگ دعوے کیے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے غیر قانونی تجاوزات اور غیر محفوظ ناشتہ پوائنٹ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ 2 جون سے دفعہ 144 کے تحت دریا کے کنارے جانے پر پابندی تھی، لیکن نہ سیاحوں کو روکا گیا اور نہ ہی انتظامیہ نے اس پابندی کو نافذ کیا۔ انتباہی بورڈ تو لگے تھے مگر پولیس اور مقامی انتظامیہ کی غیر فعالیت نے انہیں بے اثر کر دیا۔ محکمہ موسمیات کی یکم جولائی تک موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کے باوجود سیلاب کی پیشگی اطلاع کا نظام یا موسمیاتی خطرات کے انتظام کا کوئی موثر طریقہ موجود نہ تھا، جس نے اس سانحے کی شدت کو بڑھایا۔

    ریسکیو 1122 اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ہنگامی حالات سے نمٹنے کے کلیدی ادارے ہیں لیکن ان کی کارکردگی اس سانحے میں شرمناک حد تک ناکافی رہی۔ متاثرین نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بروقت نہ پہنچیں اور نہ ہی ان کے پاس ضروری سازوسامان جیسے کشتیاں یا جال تھے۔ مردان کے روح الامین جو خود توبچ گیا لیکن انہوں نے اپنی بیٹی اور کزن کو اس سانحے میں کھو دیا، نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں لیکن کوئی مدد نہ کر سکیں۔ پی ڈی ایم اے نے خوازہ خیلہ میں پانی کی بلند سطح پر ہائی الرٹ جاری کیا، لیکن پیشگی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ 120 سے زائد ریسکیو اہلکار تعینات تھے مگر خراب موسم اور پانی کے تیز بہاؤ نے امدادی کارروائیوں کو معطل کر دیا، جس کے باعث پاک فوج کو طلب کرنا پڑا۔ یہ صورتحال صوبائی اداروں کی محدود صلاحیت اورناکامی کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سانحے کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمیت چار افسران کو معطل کر کے تفتیشی کمیٹی بنائی، لیکن کیا صرف نچلے درجے کے افسران کو قربانی کا بکرا بنانا کافی ہے؟ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے کیا علی امین گنڈاپور پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ اس سانحے نے 11 قیمتی جانیں چھین لیں، جن میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شامل تھے۔ کیا ان اموات کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر نہیں آتی؟ عوامی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ صوبائی قیادت نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے بنیادی ڈھانچہ کیوں نہ بنایا؟ کیا وفاقی حکومت اس سانحے پر نوٹس لے کر گنڈاپور کی لاپرواہی اور غفلت کے باعث ہونے والے اس ناقابل تلافی نقصان پر انہیں ذمہ دار ٹھہرائے گی؟ پولیس کی تاخیر، غیر قانونی تجاوزات کی روک تھام میں ناکامی اور ہوٹل مالکان کی لاپروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا، لیکن نہ وہ جاں بحق ہونے والوں کے جنازوں میں شریک ہوئے اور نہ ہی ورثاء سے ملے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی قیادت کی ترجیحات عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی مفادات ہیں۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی کی قیادت صرف احتجاج اور سیاسی مہمات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟

    پی ٹی آئی کی 12 سالہ حکمرانی میں نہ صرف سیاحت بلکہ بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی۔ صوبے کی سڑکیں، ہسپتالوں کی ناقص سہولیات اور تعلیمی اداروں کی بدحالی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ "تبدیلی” صرف نعروں کی زینت رہی۔ معاشی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں کوئی خاص کمی نہ آئی۔ سوات جیسے سیاحتی مقامات پر ہسپتالوں کی خراب حالت اور ایمرجنسی سہولیات کی کمی نے اس سانحے کے اثرات کو اور سنگین کر دیا۔ عوام سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی نے صوبے کے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا؟

    دریائے سوات کا سانحہ ایک دردناک آئینہ ہے جو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی ناکامیوں کو عیاں کرتا ہے۔ سیاح بہہ گئے، لیکن تبدیلی کہیں پیچھے رہ گئی۔ کیا صوبائی حکومت اس سانحے سے کوئی سبق سیکھے گی؟ کیا سیاحوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے سیلاب کی پیشگی اطلاع کا نظام اور موثر ہنگامی خدمات قائم ہوں گی؟ کیا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنی توجہ سیاسی مہمات سے ہٹا کر عوام کے دکھوں کی طرف موڑیں گے؟ کیا پی ٹی آئی اپنے "تبدیلی” کے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے گی یا یہ سانحہ بھی ایک اور فراموش شدہ خبر بن کر رہ جائے گا؟ جب ایک ہی خاندان کے 10 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، کیا صوبائی قیادت کے ضمیر کو کوئی جھٹکا بھی لگا؟ یہ سوالات خیبر پختونخوا کے ہر شہری کے دل میں گونج رہے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار سوات کے کنارے بہہ جانے والے معصوم سیاحوں کے لواحقین کی چیخیں مانگ رہی ہیں۔ کیا صوبائی حکومت ان چیخوں کو سن پائے گی یا یہ خاموشی بدستور ان کی ترجیحات کو بیان کرتی رہے گی؟

  • سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس

    سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس

    سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    یہ کالم سکوٹی استعمال کرنے والے بچوں اور خواتین میں ٹریفک قوانین کی آگاہی کی کمی اور حکومتی غفلت کو اجاگر کرتا ہے۔ مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سکوٹی کی تقسیم سے پہلے تربیت اور لائسنس کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے تھا، تاکہ بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔ ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کی فوری توجہ اس اہم مسئلے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی معاشرہ پہلے ہی بے راہ روی کا شکار ہے۔ سگنل توڑنا، بغیر کٹ کے گاڑی موڑ لینا اور دورانِ سفر اشارہ نہ دینا، ہماری روزمرہ ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مثبت پہلو کم جبکہ منفی کرداروں کی کوئی کمی نہیں۔

    ان ہی حالات میں آج کل گورنمنٹ کی سطح پر سکوٹیاں تقسیم کی جا رہی ہیں، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی عورتیں اور بچے ان کے خریدار بن رہے ہیں۔ تاہم، سکوٹیاں تو فراہم کی جا رہی ہیں لیکن انہیں چلانے والے بچوں اور خواتین کے لیے کسی قسم کے مناسب حفاظتی یا تربیتی اقدامات نہیں کیے گئے۔

    ہم نے ہمیشہ عوامی منصوبوں کو بغیر کسی منظم منصوبہ بندی یا حکمت عملی کے نافذ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا نتیجہ منفی اثرات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہی حال سکوٹی چلانے والوں کا ہے۔ شہروں اور گردونواح میں حادثات کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بچوں اور خواتین کو ٹریفک قوانین اور ڈرائیونگ اصولوں سے آگاہی حاصل نہیں۔ نہ لائسنس، نہ تربیت اور نتیجتاً حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی سطح پر ان بچوں اور خواتین کی باقاعدہ تربیت اور آگاہی کے لیے پروگرامز ترتیب دیے جائیں، تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے اور یہ عمل سست روی کا شکار نہ ہو۔

    کاش سکوٹیاں تقسیم کرنے سے قبل ٹریننگ سیشنز کا اہتمام کیا جاتا اور باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے۔ نرمی اختیار کی جا سکتی تھی، لیکن مکمل غفلت اختیار کرنا موجودہ حالات میں شدید نقصان دہ ہے۔ مگر افسوس، حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں ، وجہ وہی پرانی: ڈنگ ٹپاؤ پالیسی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟

    آئی جی پنجاب ٹریفک پولیس کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے۔ یقیناً وہ ایسا کریں گے۔ ممکن ہے کسی مصروفیت یا لاعلمی کے باعث تاحال اس مسئلے پر توجہ نہ دی جا سکی ہو، لیکن ہمیں امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

  • سیالکوٹ: شہری افواج پاکستان کی فرنٹ لائن، محرم سیکیورٹی کیلئے جامع پلان تشکیل دے دیا گیا، برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین

    سیالکوٹ: شہری افواج پاکستان کی فرنٹ لائن، محرم سیکیورٹی کیلئے جامع پلان تشکیل دے دیا گیا، برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)چیئرمین وزیر اعلیٰ ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ، برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین (ستارہ امتیاز ملٹری) نے کہا ہے کہ سیالکوٹ امن و محبت کے علمبردار شہریوں کا شہر ہے، جنہوں نے ہمیشہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بات انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس سیالکوٹ کے کمیٹی روم میں ضلعی امن کمیٹی اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری، ایس پی عثمان سیفی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے کہا کہ امن کمیٹیاں ہمارے معاشرتی ڈھانچے کا روایتی مگر مؤثر حصہ ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف مکاتب فکر کا گہوارہ ہے، لیکن ہمارا مشترکہ رشتہ اسلام ہے، جو امن، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔

    میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مدلل، مہذب اور مؤثر جواب دیا اور 12 اپریل سے جاری میڈیا وار میں پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ میڈیا نے ہمیشہ امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، مسائل کی نشان دہی کی اور اُن کے حل کے لیے تجاویز بھی دیں۔

    برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران تمام بڑے ماتمی جلوسوں کے ساتھ کلینک آن ویلز گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی نگرانی میں سبیلوں اور لنگر کے معیار کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجالس اور جلوسوں کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر جنریٹرز بھی مہیا کیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بارش یا آندھی کی صورت میں ڈی واٹرنگ پمپس کی سہولت اور سیکیورٹی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ عزاداران کو کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے کہا کہ مسلمانوں میں بنیادی عقائد پر کوئی اختلاف نہیں، صرف چند عناصر ذاتی مفادات کی خاطر اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک دشمن عناصر کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے، کیونکہ پاکستانی قوم متحد ہے اور امن و بھائی چارے کا علَم تھامے ہوئے ہے۔

  • اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تھانہ اوچ شریف کی حدود بستی پہلوان والی میں انسانیت کو شرما دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں جائیداد کی لالچ میں ایک بیٹے نے ماں جیسے مقدس رشتے کو داغدار کر دیا۔ مقامی شخص عطا حسین نے اپنی بیوی شہناز اور سالی شاریہ کے ساتھ مل کر اپنی ضعیف ماں پٹھانی مائی پر وحشیانہ تشدد کیا، ان کے سر کے بال نوچ ڈالے اور بہنوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ماں کو بدترین بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

    ذرائع کے مطابق، جب پٹھانی مائی نے اس ظلم کے خلاف مزاحمت کی تو اُسے مزید مارا پیٹا گیا۔ دکھ اور بے بسی کی تصویر بنی ضعیف ماں تھانہ اوچ شریف پہنچی، مگر پولیس نے نہ کوئی کارروائی کی نہ شنوائی کی زحمت گوارا کی۔

    پٹھانی مائی نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی ہے کہ وہ اس ظلم سے بچائیں۔ روتے ہوئے اس نے کہا، "بی بی جی! میرا بیٹا درندہ بن چکا ہے، اور پولیس بھی اُس کی پشت پر ہے۔ اگر میری داد رسی نہ ہوئی تو میں خودکشی کر لوں گی۔”

    علاقہ مکینوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مظلوم ماں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور ظالم بیٹے و اس کے ساتھیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کو بے نقاب کیا ہے بلکہ معاشرتی اقدار کی پستی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گردونواح میں ڈاکوؤں کا راج برقرار، پولیس رٹ مکمل طور پر کمزور پڑ گئی۔ ایک ہی دن میں پانچ ڈکیتیوں کی وارداتیں رونما ہو گئیں، جن میں بیشتر وارداتیں دن دہاڑے اور بعض پولیس چوکی کے سامنے ہوئیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

    پہلی واردات میں ڈاکوؤں نے ہیبت خان باجکانی کے قریب گڈو نہر پر ارشاد احمد باجکانی کا دو بھینسوں سے بھرا ہوا ڈاٹسن اس وقت لوٹ لیا جب وہ ڈرائیور سمیت گھر جا رہا تھا۔ ڈاکو ڈرائیور اور مالک کو رسیوں سے باندھ کر گاڑی اور مویشی لے اُڑے۔

    دوسری واردات مانجھی پل کے قریب غلام یاسین لاشاری کے ساتھ پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر اس سے موٹر سائیکل، نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔

    تیسری واردات انتہائی حیران کن اور خوفناک تھی، جب ڈاکو کرم پور کے قریب پولیس چوکی کے عین سامنے لقمان گولو کی مچھلی سے بھری ہوئی ڈاٹسن لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے پر مشتعل گولا برادری نے احتجاجاً سڑک بلاک کر دی، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، تاہم تاحال پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔

    چوتھی واردات میں سبزل باجکانی کے قریب ایک شہری سے موٹر سائیکل، موبائل اور نقد رقم چھینی گئی، جبکہ پانچویں واردات تھانہ ڈیرہ سرکی کی حدود میں پیش آئی، جہاں ڈاکووں نے دیدہ دلیری سے لوٹ مار کر کے فرار ہو گئے۔

    مسلسل وارداتوں اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکو سرعام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • سیالکوٹ: محرم الحرام کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان، صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایات پر انتظامات مکمل

    سیالکوٹ: محرم الحرام کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان، صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایات پر انتظامات مکمل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے محرم الحرام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی اور زائرین کی سہولت کے لیے جامع اور مؤثر پلان کی منظوری دے دی ہے۔

    ڈی سی آفس سیالکوٹ کے کانفرنس روم میں ویڈیو لنک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو جلوسوں کے روٹس کی مرمت، روشنیوں کی تنصیب، صفائی اور پانی کی فراہمی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جن پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    اجلاس میں کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی، آر پی او طیب حفیظ چیمہ، ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی، ڈی پی او فیصل شہزاد سمیت دیگر افسران شریک تھے۔

    میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں حضرت امام حسینؓ کی قربانی کی یاد دلاتا ہے، اور اس مہینے میں اتحاد، صبر و برداشت کا مظاہرہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلوسوں اور مجالس میں ڈرون کوریج پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

    بعد ازاں صوبائی وزیر نے امام بارگاہ اڈہ پسروریاں کا دورہ کیا، جہاں جلوسوں کے روٹس، سیکیورٹی اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے انہیں بریفنگ دی۔

    انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عزاداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، تاکہ محرم الحرام کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ دورے میں دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات کے جنازے، تعزیت کی آڑ میں سیلفیوں کا تماشا

    ڈسکہ: سانحہ سوات کے جنازے، تعزیت کی آڑ میں سیلفیوں کا تماشا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سانحہ سوات میں شہید ہونے والے ایک ہی خاندان کے افراد کی میتیں جب ڈسکہ پہنچیں تو شہر پر سکتہ طاری ہو گیا، ہر آنکھ اشکبار تھی، ہر دل غم سے نڈھال۔ شہداء کی نماز جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی، جنازے کے جلوس میں ہر قدم پر رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

    ریجنل پولیس آفیسر طیب حفیظ چیمہ، کمشنر گوجرانوالہ سید نوید شیرازی، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباء اصغر علی، ڈی پی او فیصل شہزاد اور صوبائی وزیر بلدیات نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، دعائے مغفرت کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    تاہم جنازے کے بعد ایک افسوسناک منظر نے ماحول کو مزید بوجھل کر دیا—سرکاری اور سیاسی شخصیات کی موجودگی کیمرہ فوکس میں آ گئی، اور غم کی اس گھڑی میں سیلفیوں، ویڈیو ریکارڈنگز اور سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک کلپس بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ متاثرہ اہل خانہ، جو اپنے پیاروں کی جدائی پر نڈھال تھے، تعزیت کرنے آئے مہمانوں کے شور میں تنہا رہ گئے۔

    یہ منظر نہ صرف سوشل رویوں کی تنزلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شہداء کی قربانیوں کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف بھی ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں حقیقی ہمدردی اور خاموشی، شاید سب سے بڑی تسلی ہوتی، مگر یہاں کیمرے اور جذباتی جملے ہی غالب آ گئے۔

  • اوکاڑہ: علی حسنین بھٹی کا دورہ، 3 لیڈی اسٹاف برطرف

    اوکاڑہ: علی حسنین بھٹی کا دورہ، 3 لیڈی اسٹاف برطرف

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے فوکل پرسن علی حسنین بھٹی نے اسسٹنٹ کمشنر رب نواز چدہڑ کے ہمراہ تحصیل اوکاڑہ میں محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی امام بارگاہ اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ کیا۔

    مرکزی امام بارگاہ کے دورے کے دوران وفد نے سیکیورٹی انتظامات، صفائی، روشنی اور دیگر سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا اور موقع پر موجود انتظامیہ کو بہتری کے لیے ہدایات جاری کیں۔

    بعد ازاں علی حسنین بھٹی اور اسسٹنٹ کمشنر رب نواز چدہڑ نے ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ کا وزٹ کیا، جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) جام شہزاد نے وفد کو ہسپتال کی صفائی، دواؤں کی فراہمی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے آگاہ کیا۔

    دورے کے دوران ایم ایس نے بتایا کہ مریضوں سے پیسے لینے کی شکایات پر تین لیڈی اسٹاف کو برطرف کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو بلاتعطل اور شفاف طبی سہولیات مہیا کی جا سکیں۔ وفد نے ہسپتال انتظامیہ کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔