Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم

    کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم

    کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    بعض سرزمینیں صرف مٹی کی چادر اوڑھے ویران نہیں ہوتیں، وہ وقت کے سینے میں دفن صداؤں کی گونج رکھتی ہیں۔ کربلا بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے: خاموش، مگر سچ بولتی ہوئی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ، تقدیر اور قربانی ایک دوسرے سے آ ملے۔

    جب امام حسینؑ کا قافلہ صحرا کی تپتی وسعتوں کو عبور کرتا ہوا فرات کے قریب پہنچا، تو حر بن یزید ریاحی نے مؤدب ہو کر عرض کی:
    "مولا! یہاں قیام کیجیے، فرات قریب ہے، پانی میسر ہے، زمین ہموار ہے۔”

    امام حسینؑ نے ایک لمحے کو قدم روکے، زمین کی طرف دیکھا، پھر سوال کیا:
    "اس جگہ کا نام کیا ہے؟”
    جواب ملا: "یہ کربلا ہے۔”

    نام سنتے ہی امامؑ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ گہری خاموشی چھا گئی۔ ایک آہ، جو صدیوں کے دکھ میں لپٹی ہوئی تھی، سینے سے نکلی۔ امامؑ نے فرمایا:
    "یہ کرب (غم) اور بلا (مصیبت) کا مقام ہے۔”

    یہ نام فقط ایک جغرافیائی پہچان نہ تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں حضرت علی صفین جاتے ہوئے ٹھہرے تھے، اور پوچھا تھا:
    "یہ جگہ کون سی ہے؟”
    جب نام سنا، تو فرمایا:
    "یہی وہ سرزمین ہے جہاں ان کا خون بہے گا، جہاں خاندانِ محمدؐ کا قافلہ اترے گا۔”

    اب وہ لمحہ آ چکا تھا۔ قافلہ اتر گیا، ساز و سامان کھولا گیا، خیمے نصب ہوئے۔ لیکن امامؑ کا دل اضطراب سے بھرا ہوا تھا۔ یہ دو محرم 61 ہجری کا دن تھا۔

    امام حسینؑ نے اپنے اہلِ خاندان کو جمع کیا۔ بیٹے، بھتیجے، بھائی، بھانجے سب سامنے موجود تھے۔ ایک نظر سب پر ڈالی، وہ نگاہ جو محبت سے لبریز اور آگاہی سے پر تھی۔ پھر آپؑ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور امامؑ نے آسمان کی طرف رخ کر کے وہ دعا مانگی جو رہتی دنیا تک مظلوموں کی زبان بن گئی:

    "اللهم انا عترة نبيك محمد، وقد اخرجنا وطردنا، وازعجنا عن حرم جدنا، وتعدت بنو امية علينا، اللهم فخذ لنا بحقنا، وانصرنا على القوم الظالمين”

    "اے اللہ! ہم تیرے نبیؐ کا خاندان ہیں، ہمیں ہمارے وطن سے نکالا گیا، ہمیں حرمِ نبویؐ سے ہراساں اور بے دخل کیا گیا، اور بنو امیہ نے ہم پر ظلم ڈھائے؛ اے اللہ! ان سے ہمارا حق لے لے اور ہمیں ان ظالموں پر نصرت عطا فرما!”

    یہ صرف ایک ذاتی فریاد نہ تھی، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر حریت پسند کی زبان تھی۔ یہ پکار تھی ہر اس دل کی جو اقتدار کے ایوانوں میں بند سچائی کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔

    اسی لمحے امامؑ نے اپنے باوفا ساتھیوں کی طرف رخ کیا اور وہ جملہ کہا جو صدیوں سے اہلِ حق کے لیے آئینہ اور اہلِ دنیا کے لیے تنبیہ ہے:

    "الناس عبيد الدنيا، والدين لعق على السنتهم، يحوطونه ما درت معايشهم، فإذا محصوا بالبلاء قل الديانون”
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں، دین صرف ان کی زبانوں پر ہے، جب تک ان کے مفادات محفوظ رہیں، دین کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں؛ لیکن جب آزمائش آتی ہے تو سچے دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔”

    یہ ہے کربلا کی روح ، حق کی وہ کسوٹی جو ہر دور کے باطن کو بے نقاب کرتی ہے۔

    امام حسینؑ نے صرف روحانی تیاری پر اکتفا نہ کیا بلکہ عمل کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ آپؑ نے کربلا کی زمین کو نینوی اور غاضریہ کے باشندوں سے چھے ہزار درہم میں خریدا اور شرط رکھی کہ وہ آپ کی قبر کی طرف آنے والوں کی رہنمائی کریں گے اور کم از کم تین دن تک ان کی مہمانی کریں گے۔

    اس عمل نے یہ طے کر دیا کہ کربلا صرف ایک معرکہ نہیں، بلکہ یاد، شعور، زیارت، اور بیداری کا مرکز ہے۔ ایک سوال آج بھی زندہ ہے: کربلا آج بھی ہمیں بلاتی ہے۔

    پوچھتی ہے کہ:
    کیا تم دین کو زبان تک محدود رکھتے ہو؟ یا بلاء کی گھڑی میں بھی حسینؑ کے قافلے میں شامل ہو سکتے ہو؟

    یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ، یہ ایک جاری سوال ہے، جو ہر دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے:

    حق کے ساتھ ہو؟ یا خاموش تماشائی؟

  • اوکاڑہ:محرم الحرام کیلئے 2200 پولیس اہلکار تعینات، سیکیورٹی پلان جاری

    اوکاڑہ:محرم الحرام کیلئے 2200 پولیس اہلکار تعینات، سیکیورٹی پلان جاری

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنے کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت کی ہدایت پر اوکاڑہ پولیس نے فول پروف سیکیورٹی پلان جاری کر دیا۔ یکم محرم سے 10 محرم تک ضلع بھر میں کل 639 مجالس منعقد ہوں گی، جن میں 56 مجالس اے کیٹگری، 228 بی کیٹگری اور 355 سی کیٹگری میں شامل ہیں، جبکہ 176 عزاداری جلوسوں میں 27 اے کیٹگری، 67 بی کیٹگری اور 82 سی کیٹگری کے جلوس شامل ہیں۔

    پولیس سیکیورٹی کے لیے 2200 سے زائد افسران و اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں 7 ڈی ایس پیز، 34 انسپکٹرز، 138 سب انسپکٹرز، 210 اے ایس آئی، 106 ہیڈ کانسٹیبل اور 1646 کانسٹیبل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 104 لیڈی پولیس اہلکار، سپیشل فورس، ریزرو فورس اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

    ضلع کے داخلی و خارجی راستوں پر پکٹس قائم کر دی گئی ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔ طیب سعید شہید پولیس لائنز میں ریزرو نفری موجود رہے گی۔ حساس مجالس و جلوسوں کے روٹس پر CCTV کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔

    شرکاء کی میٹل ڈیٹیکٹر، واک تھرو گیٹس اور بائیو میٹرک کے ذریعے جامعہ تلاشی لی جائے گی۔ ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کرائی جائے گی، جبکہ علماء و ذاکرین کو نفرت انگیز تقاریر سے روکنے اور امن کمیٹی کو متحرک رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور قابل اعتراض وال چاکنگ، بینرز، اسلحہ کی نمائش و لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    کسی بھی ہنگامی صورت یا مشکوک سرگرمی کی اطلاع ہیلپ لائن 15 یا کنٹرول روم نمبر 9200363 پر دی جا سکتی ہے۔

  • میرپورخاص: بجلی بحران پر علیم خانزادہ کا نوٹس، حیسکو پر برہمی

    میرپورخاص: بجلی بحران پر علیم خانزادہ کا نوٹس، حیسکو پر برہمی

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)میرپورخاص میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری شدید بجلی بحران پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے حق پرست رکن قومی اسمبلی انجینئر علیم خانزادہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے حیسکو میرپورخاص کی ناقص کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی فوری یقینی بنائی جائے۔

    تفصیلات کے مطابق شہر میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں۔ اس صورتحال پر انجینئر علیم خانزادہ نے رات گئے حیسکو چیف حیدرآباد، کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنگ انجینئر حیسکو میرپورخاص سے ہنگامی رابطہ کر کے بجلی بحران کی مکمل رپورٹ طلب کی۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ میرپورخاص کو لوڈشیڈنگ فری بنانے کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن نتیجہ صفر ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ ان کروڑوں روپے کا جواب دینا ہوگا۔ اگر فوری بہتری نہ آئی تو یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔

    علیم خانزادہ نے واضح کیا کہ میرپورخاص کے شہری شدید گرمی، پانی کی قلت اور کاروباری نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جو کسی طور بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حیسکو حکام کو بجلی کی بندش کی وجوہات فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت دی۔

    ادھر شہر کی حق پرست عوام اور تجارتی حلقوں نے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی منتخب نمائندوں کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کی بروقت مداخلت کو سراہا ہے۔ شہریوں کو امید ہے کہ اب بجلی بحران کا مستقل حل نکالا جائے گا اور انہیں اس اذیت ناک صورتحال سے نجات ملے گی۔

  • ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) تحصیل بابوزئی، ضلع سوات میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد ڈسکہ میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ جی قربان ریسٹورنٹ بائی پاس روڈ کے قریب دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محترمہ صبا اصغر علی نے متاثرہ خاندان سے ان کے گھر جا کر تعزیت کی اور اس دل دہلا دینے والے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ”یہ سانحہ پوری قوم کے لیے ایک صدمہ ہے۔ ہم دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔”

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا اور اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ عثمان غنی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں گزشتہ شب وصول کیں اور تدفین سمیت تمام تر انتظامی امور کی نگرانی کی۔

    یاد رہے کہ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر و تفریح کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر ایک ہوٹل کے قریب دریا کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا جس نے فیملی کو دریا کے خشک حصے میں بیٹھے ہوئے اچانک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد لاپتہ تھے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں اچانک ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے، جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آج ہونے والی تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش دریا سے نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    آج ڈسکہ میں آٹھ جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شہر بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور غم کی کیفیت چھائی رہی۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاحتی مقامات اور دریا کنارے ہوٹلوں پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک سانحات سے بچا جا سکے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کو غم میں مبتلا کیا بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔

  • واربرٹن: پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    واربرٹن: پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    واربرٹن (نامہ نگارعبدالغفار چوہدری)پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    تھانہ واربرٹن پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈکیت گینگ کے سرغنہ اعجاز عرف ججی اور اس کے ساتھی رضوان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے نقدی، شہریوں سے چھینی گئی چار موٹرسائیکلیں اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کی ہدایت پر واربرٹن پولیس نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کی، جس کے دوران ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف رابری اور موٹرسائیکل چوری سمیت 15 وارداتوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس نے پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈکیت گینگ کی گرفتاری پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: پولیس کی کارروائی، 11 کلو چرس برآمد، ڈرگ ڈیلر گرفتار

    اوکاڑہ: پولیس کی کارروائی، 11 کلو چرس برآمد، ڈرگ ڈیلر گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ گوگیرہ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بدنامِ زمانہ ریکارڈ یافتہ ڈرگ ڈیلر محسن سرفراز کو گرفتار کر لیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کے قبضے سے 11 کلوگرام اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد کی گئی ہے۔

    ایس ایچ او سعید احمد بھٹی اور انچارج انویسٹی گیشن عظمت علی نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران جھٹیانہ پل کے قریب چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا۔ ملزم کے خلاف امتناعِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ محسن سرفراز ماضی میں بھی منشیات کے کئی مقدمات میں ملوث رہ چکا ہے۔ اس کامیاب کارروائی پر عوامی حلقوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ منشیات کے خلاف جاری مہم مزید شدت سے جاری رہے گی۔

  • اوکاڑہ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں کٹوتی، چھاپہ مار ٹیم پر حملہ، مقدمہ درج

    اوکاڑہ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں کٹوتی، چھاپہ مار ٹیم پر حملہ، مقدمہ درج

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 4/1 اے آر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتی اور چھاپہ مار ٹیم پر حملے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈم شرمین ناز کی سربراہی میں ٹیم نے باوثوق اطلاع پر چھاپہ مارا تو مزاحمت، حملہ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق میڈم شرمین ناز کو اطلاع ملی کہ مذکورہ گاؤں میں خواتین سے دو، دو ہزار روپے کٹوتی کر کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچیں تو شکیلہ نامی خاتون، پرویز اور وقار نے چار نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر مزاحمت کی۔ حملہ آوروں نے سرکاری ڈرائیور کو گریبان سے پکڑ کر یرغمال بنایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا۔

    ذرائع کے مطابق موقع پر موجود کئی خواتین کے ویڈیو بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں جن میں کٹوتی اور رقم کی تقسیم کی تفصیلات شامل ہیں۔

    پولیس تھانہ صدر رینالہ خورد نے اس واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 450/25 درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں تین نامزد اور چار نامعلوم افراد کو سنگین دفعات کے تحت شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ غریب خواتین سے رقم کی کٹوتی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

  • بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق، علاقے میں کہرام

    بہاولپور کے علاقے بندرا پُل، امام بارگاہ والی گلی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں کھیلتے ہوئے دو سالہ معصوم بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت شہزاد ولد سہیل کے نام سے ہوئی ہے، جو کھیل کے دوران گھر کے باہر رکھے چلتے پیڈسٹل فین سے ٹکرا گیا، اور زوردار جھٹکے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق اہل علاقہ نے فوراً اطلاع دی، مگر جب ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی تو بچہ زندگی کی آخری سانسیں لے چکا تھا۔ ابتدائی معائنے میں تصدیق ہوئی کہ کرنٹ کی شدت سے بچے کی موت واقع ہو چکی ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی، ہر آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ تھا۔ بچے کے لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور انہوں نے میت کو اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا جہاں ایک کھلا پنکھا بغیر کسی حفاظتی انتظام کے چل رہا تھا۔ وہی پنکھا معصوم جان کے لیے جان لیوا بن گیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ علاقے میں حفاظتی تدابیر کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ والدین اور محلے دار ایسے آلات کو کھلے عام رکھنے سے گریز کریں تاکہ بچوں کی قیمتی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    تفصیلات کے مطابق ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد کے ساتھ سیر و تفریح کا سفر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا، جب دریائے سوات کی بے رحم موجوں نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ سوات کے مقام پر پیش آنے والے سانحہ میں خاندان کے 15 میں سے 10 افراد دریا میں ڈوب گئے، جن میں سے آٹھ کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ان آٹھ افراد کی نماز جنازہ آج ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جس میں شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پورا شہر سوگ میں ڈوبا رہا۔

    سانحہ گزشتہ روز اُس وقت پیش آیا جب سیالکوٹ کے نواحی شہر ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر خاندان کے افراد ایک ہوٹل کے قریب دریا کے کنارے ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا اور دریا کے خشک حصے میں اتری تمام فیملیز کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد پانی کی نذر ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں، جن کے دوران دریا سے آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد کی تلاش جاری تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا، باقی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    آج تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ اب بھی تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    خوفناک حادثے نے جہاں سیاحت کے خوشنما خواب کو المیے میں بدلا، وہیں ڈسکہ شہر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دکھی۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستانی معاشرے میں اگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج کا نوجوان تعلیم یافتہ ہے، باخبر ہے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، مگر جب بات تہذیب و اخلاق کی ہو، تو ایک نمایاں خلا دکھائی دیتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ترقی کی اس دوڑ میں نوجوان نے علم تو حاصل کر لیا، مگر تہذیب کہیں پیچھے رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم اور تہذیب الگ الگ چیزیں ہیں؟ اور اگر نہیں، تو پھر آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بدتہذیبی کا شکار کیوں ہے؟

    تہذیب کا مطلب ہے: انسان کے ظاہر و باطن کو پاکیزہ اور متوازن بنانا، اخلاق، رویوں، اور معاملات کو نکھارنا۔ اسلامی تہذیب میں شائستہ گفتار، والدین کا ادب، بڑوں کا احترام، حقوق العباد، سچائی، دیانتداری، حیا اور صفائی جیسے اصول شامل ہیں۔

    نوجوان اور تہذیب میں فاصلے کی وجوہات کیا ہیں جو پاکستانی معاشرے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں؟ مغربی طرزِ زندگی کو "ترقی” سمجھا جانے لگا ہے، جس میں فیشن، آزاد خیالی، مادہ پرستی اور خود غرضی غالب ہیں۔ یہ یلغار میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے۔

    آج والدین بچوں کو موبائل، ٹی وی اور گیجٹس تو دے دیتے ہیں، مگر وقت اور تربیت نہیں دیتے۔ ماں باپ خود مصروف، اور بچے اکیلے — نتیجہ یہ کہ تہذیب سکھانے والا کوئی نہیں۔

    ہمارا تعلیمی نظام ڈگریاں دیتا ہے، لیکن کردار سازی نہیں کرتا۔ نہ نصاب میں اخلاقیات کی تربیت ہے، نہ اساتذہ کردار کے نمونے ہیں۔

    نوجوانوں کی زندگی کا بڑا حصہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر گزرتا ہے، جہاں نام نہاد "ستارے” فحاشی، شہرت، اور شہوت کو "کامیابی” کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ہمارے معاشرے میں برائی کی جڑ ہے۔

    نماز، قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور اسلامی تاریخ سے نابلد نوجوان، صرف دنیا کی چکا چوند کو جانتا ہے، مگر روحانی روشنی سے محروم ہے۔

    آج ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اور افسر بھی جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، بڑوں سے بدتمیزی کرتے ہیں، فحاشی میں مبتلا ہوتے ہیں، جس کی کئی ایک مثالیں ہماری معاشرتی زندگی میں موجود ہیں تو کیا ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ ہے؟

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:> "بدترین جاہل وہ ہے جو تعلیم یافتہ ہو کر بھی ادب سے خالی ہو۔”

    تہذیب سے محرومی کے نتائج

    * والدین اور اساتذہ کا احترام ختم
    * معاشرے میں بدتمیزی، جھوٹ، بے حسی
    * فحاشی، بے حیائی، اور اخلاقی زوال
    * خودغرضی، مادہ پرستی، اور بے سکونی
    * دین سے دوری اور دنیا پرستی

    حل کیا ہے؟ نوجوان کو مہذب کیسے بنائیں؟

    اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے
    قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور دینی تعلیم لازمی کی جائے۔

    خاندان میں تربیت کو ترجیح دی جائے

    والدین وقت دیں، کردار سے سکھائیں، دعاؤں پر نہ چھوڑیں۔

    اساتذہ اور ادارے تربیت کے مراکز بنیں
    صرف نصاب نہ پڑھائیں، اخلاقیات، کردار اور انسانیت بھی سکھائیں۔

    میڈیا کی اصلاح ہو
    ایسے کردار سامنے لائے جائیں جو اخلاق، حیا اور تہذیب کا نمونہ ہوں۔

    سوشل میڈیا پر نگرانی اور رہنمائی ہو
    نوجوانوں کو بامقصد استعمال کا شعور دیا جائے۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہے، مگر امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہی۔