Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سوات: دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے سیالکوٹ کا خاندان بہہ گیا، 7 جاں بحق، 8 لاپتہ

    سوات: دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے سیالکوٹ کا خاندان بہہ گیا، 7 جاں بحق، 8 لاپتہ

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہدریاض)سوات میں سیلابی ریلے سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد دریا میں بہہ گئے، 3 زندہ بچا لیے گئے، 7 کی لاشیں برآمد

    سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان سیر کے لیے سوات گیا جہاں دریائے سوات پر افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ دریا کے کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک آئے سیلابی ریلے میں خاندان کے 18 افراد بہہ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو زندہ بچا لیا جبکہ اب تک 7 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ باقی 8 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ صبح 8 بجے کے قریب پیش آیا، جب سیاح ناشتہ کر رہے تھے اور کچھ بچے دریا کے قریب تصویریں بنا رہے تھے۔ اسی دوران بارش کے باعث دریا میں اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو کے پہنچنے میں تاخیر پر متاثرہ خاندان نے افسوس اور غم کا اظہار کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق دریا کے قریب جانے پر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، تاہم سیاحوں کی جانب سے اس پابندی کی خلاف ورزی جاری ہے۔ متاثرہ سیاح کا کہنا ہے کہ بچے سیلفی لے رہے تھے، دریا میں اچانک پانی آیا اور ان کی موجودگی میں بچے ڈوب گئے، ریسکیو ٹیم تاخیر سے پہنچی اور بروقت مدد نہ دے سکی۔

    سیر و تفریح کی غرض سے سوات جانے والا سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان دریاۓ سوات کے بے رحم سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ المناک سانحہ اس وقت پیش آیا جب خاندان کے 18 افراد دریا کے کنارے ناشتہ کررہے تھے کہ اچانک دریا میں طغیانی آ گئی اور تمام افراد پانی میں بہہ گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ صبح آٹھ بجے کے قریب پیش آیا، جب اہلِ خانہ بائی پاس کے قریب دریا کے کنارے بیٹھے تھے اور موسم خوشگوار ہونے کے باعث ناشتہ کررہے تھے۔ اس دوران اچانک پانی کے بہاؤ میں غیرمعمولی تیزی آئی جس کے نتیجے میں 18 افراد دریا میں بہہ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    اب تک 3 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ باقی 6 افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق پانی کا بہاؤ شدید ہے جس کی وجہ سے تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں ڈسکہ کے رہائشی محسن غوری کی چار کمسن بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ میرب (17 سالہ، سیکنڈ ایئر کی طالبہ)، عجوہ (15 سالہ، میٹرک کی طالبہ)، شال (12 سالہ، ساتویں جماعت) اور انفال (7 سالہ، تیسری جماعت)۔ ان میں سے عجوہ اور میرب کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    متاثرین میں محسن غوری کی بیوی، سالی توبینہ اسلام، ایک خالہ زاد بہن، ایک ڈاکٹر، اور چھ سالہ بچہ ایان شبباز بھی شامل ہیں جن کی لاشیں بھی شناخت ہو چکی ہیں۔ محسن اپنے سسرالی رشتہ داروں، دوستوں کی فیملیوں اور عزیزوں سمیت ایک ہی کوسٹر میں سیر کے لیے گئے تھے۔ گاڑی میں کل 35 افراد سوار تھے جن میں بیشتر کا تعلق محلہ لالاریاں اور پرانا ڈسکہ سے تھا۔

    واقعہ چشم زدن میں خوشیوں بھرے سفر کو المیے میں تبدیل کر گیا۔ ایک متاثرہ سیاح نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کنارے سیلفی لینے گئے۔ پانی کم تھا، لیکن اچانک ریلہ آیا اور سب کو بہا لے گیا۔ ریسکیو کو فوری اطلاع دی گئی لیکن وہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد پہنچے، ان کی موجودگی میں ہی کئی بچے ڈوبے اور بچائے نہ جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق دریا کے قریب جانے اور نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے، مگر سیاح احتیاط نہیں کرتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضابطوں کی پابندی کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

    دوسری جانب ڈسکہ شہر میں واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، پورا شہر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل افسردہ ہے۔ اہل علاقہ اور سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے سیرگاہوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے مستقل سیکیورٹی اور نگرانی کا بندوبست کیا جائے۔

  • واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ یا سانحہ نہیں، بلکہ ایک عظیم پیغام ہے

    واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ یا سانحہ نہیں، بلکہ ایک عظیم پیغام ہے

    واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ یا سانحہ نہیں، بلکہ ایک عظیم پیغام ہے
    مکہ سے کربلا کا سفر – یک محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    محرم الحرام کی آمد ہر سال صرف اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہی نہیں لاتی بلکہ یہ مہینہ دلوں میں ایک گہری اداسی، روح میں ایک عجیب اضطراب اور تاریخ میں ایک عظیم جدوجہد کی یاد کو بھی تازہ کر دیتا ہے۔ یکم محرم الحرام کا دن مسلمانوں کے لیے نہ صرف نئے سال کی شروعات کا دن ہے بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب اہل بیتِ اطہارؑ کی عظیم قربانیوں کے ایک نئے اور کٹھن سفر کا آغاز ہوا۔ کربلا کی طرف جانے والا راستہ اسی دن سے ایک ایسی تاریخ کی بنیاد بن گیا جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی کہانی میں ڈھلنے جا رہا تھا۔

    یکم محرم وہ دن تھا جب امام حسینؑ، رسول کریم ﷺ کے نواسے ے اپنے خاندان اور رفقاء کے ہمراہ یزیدی حکومت کے ظلم اور جبر کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ امام حسینؑ نے یہ فیصلہ کسی ذاتی مفاد، اقتدار یا سیاسی مفاہمت کے لیے نہیں کیا، بلکہ یہ فیصلہ ایک اصول، ایک سچائی اور دینِ اسلام کے حقیقی چہرے کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک مسلمان اگر حق پر ہو تو وہ تنہا ہو کر بھی باطل کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے، چاہے دشمن کا لشکر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

    امام حسینؑ کے ساتھ ان کے جانثار رفقاء، وفادار اصحاب اور اہل بیتؑ کے وہ افراد شامل تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلکہ اپنی غیر متزلزل وفاداری، صبر، استقامت، اور قربانی سے تاریخِ انسانیت کو وہ باب عطا کیا جو رہتی دنیا تک مظلوموں کی ڈھارس اور ظالموں کے لیے ایک بے آواز احتساب بن کر گونجتا رہے گا۔ ان میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے جو پیاسے لبوں سے وفا کی شمع جلائے ہوئے تھے، نوجوان جو حسینؑ کے نام پر اپنی جوانیاں وار دینے کو تیار تھے، ضعیف اصحاب جو تھر تھراتے جسموں کے ساتھ بھی ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور باوقار خواتین جنہوں نے اسیری کے عالم میں بھی حوصلے، وقار اور پیغام رسانی کا کردار ادا کیا۔

    یکم محرم کو جب امام حسینؑ نے کربلا کی بے آب و گیاہ سرزمین پر قدم رکھا، تو یہ محض ایک قافلے کا پڑاؤ نہیں تھا بلکہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی نظریاتی تحریک کا آغاز تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں حق و باطل کا فیصلہ تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے ہونا تھا۔ کربلا صرف میدانِ جنگ نہ تھا بلکہ ایک درسگاہ بن چکا تھا جہاں ہر لمحہ، ہر قدم اور ہر سانس ایک پیغام تھا۔

    واقعۂ کربلا درحقیقت صرف ایک خونریز معرکہ یا سانحہ نہیں بلکہ ایک عالمی اور آفاقی پیغام ہے۔ یہ وہ صدا ہے جو وقت کے ہر یزید کے خلاف حسینؑ کے لہجے میں گونجتی ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق اور انصاف کے لیے زندہ رہنا اور ضرورت پڑے تو اس پر قربان ہو جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی جان دی بلکہ اصولوں کی حفاظت کے لیے اپنے پیاروں کو قربان کیا اور تاریخ کو یہ سکھایا کہ مقصد جب عظیم ہو تو قربانی بھی عظیم ہونی چاہیے۔

    کربلا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عزت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں سے آتی ہے۔ حسینؑ نے پیاسے رہ کر سیراب دلوں کو جلا بخشی، انہوں نے تنہا ہو کر انسانیت کو اجتماع کی اہمیت سکھائی اور انہوں نے مر کر بھی اسلام کو زندہ کر دیا۔ محرم کی ہر آمد کے ساتھ کربلا کا پیغام ایک نئی شدت سے دلوں کو جھنجھوڑتا ہے، ضمیروں کو جگاتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ باطل کتنے ہی وسائل سے لیس ہو، حق کی طاقت کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی قیمت پر سچائی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ جب حالات ناسازگار ہوں، جب دشمن طاقتور ہو اور جب ظاہری دنیا حق سے منہ موڑ چکی ہو، تب بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ امام حسینؑ کا پیغام نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک دائمی درس ہے کہ مظلوم اگر صاحبِ حق ہو تو وہ زمانے کے یزیدوں کو شکست دے سکتا ہے، وہ بھی میدانِ کربلا میں اور وہ بھی صرف کردار، صبر اور صداقت کے ہتھیاروں سے۔

    امام حسینؑ کا پیغام رہتی دنیا تک مظلوموں کے لیے امید اور ظالموں کے لیے ایک کھلا چیلنج بنا رہے گا۔ محرم ہمیں صرف آنسو نہیں دیتا، بلکہ حوصلہ بھی دیتا ہے . باطل کے خلاف کھڑا ہونے کا، سچ بولنے کااور عدل و انصاف کے لیے قربانی دینے کا۔

  • سیالکوٹ: مبینہ پولیس مقابلہ، ساتھی کی گولی سے خطرناک ڈاکو ہلاک، دوسرا فرار

    سیالکوٹ: مبینہ پولیس مقابلہ، ساتھی کی گولی سے خطرناک ڈاکو ہلاک، دوسرا فرار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ نیکاپورہ پولیس کی جانب سے ایمن آباد روڈ، رام گڑھا چوک کے قریب ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے کے دوران ایک خطرناک ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا ملزم اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے مشتبہ موٹر سائیکل سوار دو مسلح افراد کو ناکہ بندی کے دوران رکنے کا اشارہ کیا، جس پر انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی اور نالہ ایک کی جانب فرار ہونے لگے۔ پولیس نے فوری جوابی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے دفاعی پوزیشن سے فائرنگ کا جواب دیا اور ملزمان کا تعاقب شروع کیا۔

    فائرنگ کے تبادلے کے بعد جب علاقہ میں سرچ آپریشن کیا گیا تو نالہ ایک کے قریب ایک ملزم کی لاش ملی جو اپنے ہی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو چکا تھا۔ ہلاک ملزم کی شناخت معصوم عرف موما کے نام سے ہوئی ہے جو اقدام قتل، ڈکیتی، راہزنی اور پولیس مقابلوں سمیت 17 سنگین مقدمات میں ملوث اور پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔ فرار ہونے والے دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقہ بھر میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور پولیس ٹیمیں متحرک ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور ملزم کے مجرمانہ ریکارڈ کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

  • بہاولپور: سسرالیوں سے تنگ خاتون کی بچیوں سمیت نہر میں چھلانگ، ایک بچی  حالت نازک

    بہاولپور: سسرالیوں سے تنگ خاتون کی بچیوں سمیت نہر میں چھلانگ، ایک بچی حالت نازک

    بہاولپور (باغی ٹی وی) تحصیل خیرپور ٹامیوالی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر ایک خاتون نے اپنی تین کمسن بچیوں کے ساتھ نہر میں کود کر خودکشی کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق خاتون کو سسرال میں روزانہ کے جھگڑوں اور ناروا سلوک کا سامنا تھا، جس پر وہ ذہنی دباؤ میں آ گئی اور انتہائی اقدام اٹھا لیا۔

    واقعے کے وقت اہل علاقہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور تینوں بچیوں کو نہر سے زندہ نکال لیا۔ مقامی افراد کے مطابق خاتون اپنے دیور اور سسرالی رشتہ داروں کے رویے سے شدید پریشان تھی۔ بچیوں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جسے فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال خیرپور ٹامیوالی منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متاثرہ خاتون اور بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔

  • اوچ شریف: ستلج میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا، ساتھی موقع سے فرار

    اوچ شریف: ستلج میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا، ساتھی موقع سے فرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے بستی چاکر خان کے مقام پر دریائے ستلج میں نہاتے ہوئے ایک نوجوان ڈوب گیا جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق دونوں نوجوان کشتی کے ذریعے دریا عبور کر کے نہانے کے لیے پانی میں اترے، مگر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث ایک نوجوان تیز لہروں کی نذر ہو کر ڈوب گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں افراد نے بغیر کسی حفاظتی جیکٹ یا تیراک کی مدد کے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ حادثے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش شروع کر دی، جب کہ ریسکیو 1122 کی ٹیم کو بھی اطلاع دے دی گئی۔

    تاہم ڈوبنے والے نوجوان کی لاش تاحال برآمد نہیں ہو سکی۔واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دریا کے کنارے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ننکانہ:مرکزی مسلم لیگ کا محور خدمتِ انسانیت ہے، چوہدری شفیق الرحمن

    ننکانہ:مرکزی مسلم لیگ کا محور خدمتِ انسانیت ہے، چوہدری شفیق الرحمن

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر شعبہ خدمت خلق چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ نے کہا ہے کہ ہماری جماعت کی سیاست اقتدار نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کے اصول پر استوار ہے۔ وہ ضلع ننکانہ صاحب میں شعبہ خدمت خلق اور تاجر برادری کے تحصیلی ذمہ داران سے ایک خصوصی ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے، جس میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری ضلع ننکانہ ڈاکٹر ثاقب مجید بھی شریک تھے۔

    اس موقع پر چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ نے "نیکی فاؤنڈیشن” کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ کا وژن ہر گاؤں، ہر تحصیل اور ہر ضلع میں منظم، شفاف اور دیرپا فلاحی نیٹ ورک قائم کرنا ہے تاکہ دکھی انسانیت کی بلا تفریق خدمت کی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں تھلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے بلڈ سپورٹ پروگرامز، ڈائیلاسز سینٹرز اور روزانہ بنیاد پر عوام کے لیے مفت دسترخوان جیسے منصوبے جلد شروع کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ خلوص، اتحاد اور مسلسل جدوجہد کو اپنایا جائے۔

    چوہدری شفیق الرحمن نے پارٹی کارکنوں اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار افراد سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر ان منصوبوں میں عملی کردار ادا کریں تاکہ فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ دیرپا سماجی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکے۔

    مجلس میں شامل تاجر برادری اور دیگر ذمہ داران نے اس فلاحی ویژن کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا خدمت خلق کا شعبہ حقیقی معنوں میں عوام کی امیدوں کا مرکز بنے گا۔

    ملاقات کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، خدمت خلق کے جذبے کی کامیابی، اور معاشرے میں یکساں فلاحی نظام کے قیام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • ننکانہ بارش سے وینس بن گیا، مشینری ناکارہ، افسران غائب، عوام پانی میں خوار

    ننکانہ بارش سے وینس بن گیا، مشینری ناکارہ، افسران غائب، عوام پانی میں خوار

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)مون سون کی پہلی بارش نے ننکانہ صاحب کو یورپ کے "وینس” کا منظر تو دے دیا، مگر یہ منظر خوبصورتی نہیں، اذیت اور غفلت کی داستان لیے ہوئے ہے۔ شہر کی گلیاں، بازار اور سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہو گئیں، شہری پانی میں گھِر کر رہ گئے، جبکہ میونسپل کمیٹی کے دعوے اور منصوبے بہہ گئے۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کی تمام کوششیں، نیک نیتی اور وژن محض کاغذی دکھائی دینے لگیں، کیونکہ میدانِ عمل میں افسران کی لاپرواہی اور نااہلی نے سب کچھ خاک کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق، میونسپل کمیٹی کے قائم مقام چیف آفیسر راؤ انوار اور سروسز آفیسر صدام حسین کے درمیان اختیارات کی جنگ اور ذاتی چپقلش نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ شہر کی صفائی، نکاسیِ آب اور سیوریج نظام پر ان دونوں افسران کے جھگڑے کی چھاپ صاف نظر آ رہی ہے۔ یہ اندرونی لڑائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام کا سکون برباد ہو چکا ہے۔ دفتر کی جنگ نے شہر کو پانی میں ڈبو دیا ہے۔

    مزید براں، سیوریج نظام کی بہتری کے لیے درکار سکرمشین، جیٹرمشین اور دیگر ضروری مشینری گزشتہ کئی برسوں سے ناکارہ پڑی تھی، جنہیں حالیہ دنوں میں ایڈمنسٹریٹر و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شہزاد کھوکھر نے مرمت کے لیے بیرون شہر بھجوا تو دیا ہے، مگر نتائج آنے سے پہلے ہی بارش نے سب کچھ بےنقاب کر دیا۔ شہر کی سڑکوں پر گٹر ابلنے لگے، بازاروں میں دکاندار اپنے سامان کو بچاتے رہے، اور شہری کیچڑ، تعفن اور گندے پانی سے بچنے کی تگ و دو کرتے رہے۔

    یہی صورتحال اسمبلی اجلاس میں بھی زیرِ بحث آئی، جہاں ایم پی اے مہر کاشف رنگ الٰہی پڈھیار نے حکومت سے سخت مطالبہ کیا کہ ننکانہ صاحب کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سیوریج کی خصوصی گرانٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا: "اب ننکانہ کو سڑکیں نہیں، کشتیاں درکار ہیں۔”

    شہری حلقوں میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر مون سون سے قبل مشینری کو ٹھیک کر لیا جاتا، افسران ذاتی رنجشوں کو بالا رکھ کر کام کرتے، اور پیشگی انتظامات کر لیے جاتے، تو آج پورا شہر پانی میں نہ ڈوبا ہوتا۔ ہر سال مون سون آتا ہے، مگر ہر سال یہی تماشہ ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ فنڈز موجود ہیں، افسران موجود ہیں، مگر کام کرنے کا جذبہ ندارد۔

    شہر کی عوام نے اعلیٰ حکام، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر بلدیات سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ عوامی مسائل کا مستقل اور عملی حل نکالا جا سکے۔ بصورت دیگر، ہر سال ننکانہ "وینس” بنتا رہے گا، اور عوام مشکلات کی دلدل میں دھنسے رہیں گے۔

  • میرپورخاص: یوسی 5 سمنا آباد میں گٹر اور کچرے کے ڈھیر، نمازی اور مکین شدید اذیت کا شکار

    میرپورخاص: یوسی 5 سمنا آباد میں گٹر اور کچرے کے ڈھیر، نمازی اور مکین شدید اذیت کا شکار

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)یوسی 5 سمنا آباد، تعلقہ شجاع آباد میں گٹروں کے پانی کا پھیلاؤ اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر شہریوں کے لیے عذاب بن گئے۔ مقامی مسجد کے امام اور علاقہ مکینوں نے منتخب نمائندوں کی عدم توجہی اور وعدہ خلافیوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوسی 5 کے مختلف علاقوں میں صفائی کا کوئی انتظام نظر نہیں آتا، نالیاں گندے پانی سے ابل رہی ہیں جبکہ گٹر کا پانی سڑکوں پر بہنے سے نمازیوں کو مسجد جانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ علاقہ کی مرکزی مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ نالیوں کے مسائل پر متعدد بار یوسی چیئرمین سے رجوع کیا گیا، جنہوں نے الیکشن سے قبل ہر مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر کامیابی کے بعد نہ صرف وہ غائب ہو گئے بلکہ علاقے کے مسائل بد سے بدتر ہو گئے۔

    دوسری جانب شہریوں نے بتایا کہ میئر عبدالرؤف غوری نے بھی کچھ عرصہ قبل سمنا آباد کا دورہ کیا تھا اور نالیوں کے نظام کو فوری درست کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہ ہو سکا۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ یوسی چیئرمین کو ماہانہ 12 لاکھ روپے کے فنڈز ملتے ہیں، مگر یہ فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں، اس کا کوئی جوابدہ نظر نہیں آتا۔

    علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یوسی 5 میں صفائی کی صورتحال کو فوری بہتر بنایا جائے، نالیاں اور گٹروں کی مرمت کی جائے اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنایا جائے، کیونکہ بنیادی سہولیات سے محرومی شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کر رہی ہے۔ سوال تو بنتا ہے: عوام کا پیسہ آخر کہاں جا رہا ہے؟

  • میرپورخاص: وہیل چیئر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جمعہ خان کی میئر سے معیاری اسپورٹس وہیل چیئر کی اپیل

    میرپورخاص: وہیل چیئر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جمعہ خان کی میئر سے معیاری اسپورٹس وہیل چیئر کی اپیل

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) پاکستان وہیل چیئر کرکٹ ٹیم کے باصلاحیت کھلاڑی جمعہ خان نے میئر میونسپل کارپوریشن میرپورخاص عبدالرؤف غوری سے اپیل کی ہے کہ انہیں ایک معیاری اسپورٹس وہیل چیئر فراہم کی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی مؤثر انداز میں جاری رکھ سکیں۔

    جمعہ خان، جو کہ میرپورخاص سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، گذشتہ کئی برسوں سے قومی وہیل چیئر کرکٹ ٹیم کے مستقل رکن ہیں اور بطور لیفٹ ہینڈ بیٹر مختلف قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں وہ 16 سے 21 جون 2025 تک بورے والا گراؤنڈ میں منعقدہ پاکستان چیمپئن لیگ میں "کشمیر ٹائیگرز” کی جانب سے وائس کیپٹن کی حیثیت سے میدان میں اترے، جہاں ان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ ایک آئندہ انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، جو ان کے لیے اور پاکستان کے لیے باعث فخر موقع ہے، لیکن ان کی موجودہ وہیل چیئر نہایت خستہ حال اور غیر معیاری ہے، جو کھیل کے دوران ان کی کارکردگی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جمعہ خان کا کہنا ہے کہ ان کی توانائی کا بڑا حصہ خراب وہیل چیئر پر قابو پانے میں صرف ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ کھیل نہیں پاتے۔

    انہوں نے میئر عبدالرؤف غوری سمیت مخیر حضرات، اسپورٹس لورز اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک معیاری اور جدید اسپورٹس وہیل چیئر کی فراہمی میں ان کی مدد کریں تاکہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند رکھ سکیں۔

  • اوکاڑہ: محرم الحرام میں امن و امان کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید

    اوکاڑہ: محرم الحرام میں امن و امان کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران امن کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے تمام اداروں کو باہمی ربط کے ساتھ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رواداری، محبت اور باہمی برداشت کو فروغ دے کر ہی معاشرے میں پائیدار امن قائم رکھا جا سکتا ہے، اور اس ضمن میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے سیکیورٹی و دیگر انتظامات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پولیس سمیت تمام وفاقی و صوبائی اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر صفائی، تجاوزات کا خاتمہ، لٹکتی ہوئی بجلی، ٹیلی فون و کیبل کی تاروں کو اونچا کرنے، اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و تنصیب، پیچ ورک، طبی امداد کی فراہمی، اور پورٹ ایبل واش رومز کی بروقت تنصیب یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان ایام میں پولیس کے علاوہ واپڈا، سوئی گیس، محکمہ صحت، سول ڈیفنس، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے کو بھی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    انہوں نے تینوں تحصیلوں کے چیف افسران کو ہدایت کی کہ حالیہ بارشوں کے تناظر میں مشینری کو فنگشنل رکھا جائے اور فیلڈ اسٹاف کو الرٹ رکھا جائے تاکہ کسی بھی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے مطابق عاشورہ محرم کے دوران عزاداروں، ماتمی حضرات اور جلوسوں کے شرکاء کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، اور ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں مثالی اقدامات کرے گی۔