Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ صاحب: بابا گرو نانک یونیورسٹی میں "نوجوان فکری قیادت” پر سیمینار کا انعقاد

    ننکانہ صاحب: بابا گرو نانک یونیورسٹی میں "نوجوان فکری قیادت” پر سیمینار کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بابا گرو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کی کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کے زیر اہتمام "نوجوان مستقبل کے فکری رہنما” کے عنوان سے ایک پُراثر فکری سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد نوجوانوں میں قیادت، تنقیدی شعور، خود اعتمادی اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں کو ابھارنا تھا۔

    سیمینار کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید اختر (شعبۂ انگریزی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد) نے نوجوانوں سے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کو تنقیدی سوچ، وسعتِ نظریہ اور بڑے خوابوں کی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ خود کو فکری رہنمائی کے لیے تیار کریں کیونکہ قوموں کا مستقبل نوجوانوں کی فکری پختگی سے جُڑا ہوتا ہے۔

    سیمینار کے اختتامی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر اظہر رسول (چیئرمین شعبہ زوالوجی، ڈائریکٹر ORIC، کنوینر کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی) نے کامیاب زندگی کے لیے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ ناکامی کے خوف سے نکلیں، فیصلوں پر پشیمانی نہ کریں، اور منفی سوچ سے بچتے ہوئے مسلسل آگے بڑھنے کا جذبہ رکھیں۔

    اس موقع پر مہمانِ خصوصی کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔ سیمینار کے کامیاب انعقاد میں ڈاکٹر ہاشم فاروق (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ فزکس و کوآرڈینیٹر سوسائٹی) نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ سوسائٹی کے دیگر اراکین نے بھی بھرپور معاونت کی۔

    یہ سیمینار نوجوان طلبہ، اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے فکری رہنمائی، قیادت، اور مثبت طرزِ فکر کی جانب اہم قدم ثابت ہوا۔

  • ڈیرہ غازی خان: محرم سیکیورٹی انتظامات کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

    ڈیرہ غازی خان: محرم سیکیورٹی انتظامات کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹرشاہد خان)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت ڈویژنل انٹیلی جنس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان، تمام ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان، ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد، اور حساس معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    کمشنر اشفاق چوہدری نے ہدایت کی کہ لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر فوری کارروائی کی جائے اور شعلہ بیان مقررین کی زبان بندی اور ضلع بندی کو ہر صورت نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام منتظمین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے اور مجالس و جلوسوں کے اوقات اور روٹس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے بیانات، وال چاکنگ اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کو فوری روکا جائے، حساس مجالس اور جلوسوں کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ، سیف سٹی کیمروں اور دیگر ذرائع سے نگرانی بڑھائی جائے۔

    آر پی او سجاد حسن خان نے کہا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور پنجاب پولیس دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سیکیورٹی انتظامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

  • ٹھٹھہ: بلڈر مافیا کا غریب شہری کی زمین پر مبینہ قبضہ، مکان بھی گرا دیا گیا

    ٹھٹھہ: بلڈر مافیا کا غریب شہری کی زمین پر مبینہ قبضہ، مکان بھی گرا دیا گیا

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)گھارو شہر کے رہائشی محمد ایوب خانیو نے عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ گھارو کے بااثر لینڈ گریبر عالم شیر ہديو نے ان کی ذاتی زمین پر نہ صرف غیرقانونی قبضہ کر لیا ہے بلکہ وہاں غیرقانونی پلاٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔ ایوب خانیو نے پریس کانفرنس کے دوران شدید رنج اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں ایک غریب انسان ہوں، 8 ایکڑ پر مشتمل یہ زمین میں نے 30 سالہ لیز پر حاصل کی تھی، میرے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود طاقت کے زور پر قبضہ کر کے میرا مکان بھی گرایا گیا۔”

    متاثرہ شہری نے بتایا کہ مذکورہ زمین گھارو پمپ ہاؤس کالونی کے قریب جعفر گوٹھ میں واقع ہے جہاں قبضہ مافیا نے سرعام نہ صرف ان کی ملکیت چھینی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ظلم ہے، قانون کی آنکھوں کے سامنے میرا مکان گرایا گیا اور میں انصاف کے لیے دربدر پھر رہا ہوں۔”

    ایوب خانیو نے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ، اسسٹنٹ کمشنر ساکرو، ایس ایس پی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں، غیرقانونی قبضہ ختم کرائیں اور غیرقانونی پلاٹنگ بند کروائیں۔ انہوں نے عوام کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ زمین میری ذاتی ملکیت ہے، اس پر کوئی بھی فرد پلاٹ خریدتا ہے تو وہ مکمل طور پر غیرقانونی عمل تصور ہو گا اور قانونی کارروائی اس خریدار کے خلاف کی جائے گی۔”

    ایوب خانیو نے عوام سے اپیل کی کہ سازشوں اور فراڈ سے بچیں اور ایسی کسی بھی غیرقانونی سکیم کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ ان کی فریاد سنے گی اور انہیں ان کا حق واپس دلایا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: چیمبر آف کامرس کا سیفٹی اجلاس، محرم و سیلاب سے نمٹنے کی حکمت عملی

    سیالکوٹ: چیمبر آف کامرس کا سیفٹی اجلاس، محرم و سیلاب سے نمٹنے کی حکمت عملی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کی انڈسٹریل سیفٹی اینڈ رسک مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس چیمبر کے میٹنگ روم میں منعقد ہوا، جس میں حالیہ مون سون سیزن، محرم الحرام کے جلوسوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔

    اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ذوہیب سیٹھی نے کی، جبکہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر نوید اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیزاسٹر مینجمنٹ عدیل انجم، ڈی ڈی ایم سی کیوان حسن، اٹلس ہنڈا کے ریجنل سیفٹی مینیجر عدیل احمد، روز ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر اشفاق نذر اور متعدد صنعتی و فلاحی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات، آگ سے بچاؤ، سیلاب کی پیشگی تیاری، اور محرم کے جلوسوں کے دوران صنعتی علاقوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    چیئرمین ذوہیب سیٹھی نے کہا کہ سیالکوٹ ایک برآمدی صنعتی شہر ہے، جہاں حفاظتی اقدامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنانا از حد ضروری ہے۔ فیکٹریز میں سیفٹی آلات کی تنصیب، آگ سے بچاؤ کے اقدامات اور ایمرجنسی راستوں کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چیمبر آف کامرس اس سلسلے میں صنعتی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فیکٹری مالکان سیفٹی آڈٹ کروائیں تاکہ ملازمین اور عمارتوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انجینئر نوید اقبال نے سیکریٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے ریسکیو تربیتی سیشنز کا انعقاد کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو حادثات سے بچاؤ کی تربیت دی جا سکے۔

    ریسکیو افسران اور ماہرین نے زور دیا کہ فیکٹریوں میں آگ بجھانے والے آلات، ایمرجنسی الارم سسٹم، فائر ہائیڈرنٹس اور ہنگامی انخلاء کے راستے قائم کیے جائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔

    اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ سیالکوٹ کی تمام صنعتی یونٹس میں فیکٹری سطح پر آگاہی مہم اور عملی مشقوں کا سلسلہ تیز کیا جائے گا تاکہ انسانی جانوں اور ملکی سرمایہ کو حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا محرم انتظامات کا جائزہ، متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا محرم انتظامات کا جائزہ، متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیرصدارت محرم الحرام کے انتظامات سے متعلق اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی، جس میں سیکیورٹی، صفائی، جلوسوں کے روٹس، وال چاکنگ اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سمیت دیگر اہم نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان، شہری سہولیات اور مذہبی احترام کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام انتظامات مؤثر اور بروقت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جلوسوں کے روٹس کا خود دورہ کریں اور تمام انتظامی امور کی خود نگرانی کریں۔

    گیپکو حکام کو ہدایت دی گئی کہ جلوسوں کے راستوں میں موجود لٹکتی ہوئی تاروں کو فوری طور پر ہٹا کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ سڑکوں کی مرمت، پیچ ورک اور وال چاکنگ کے خاتمے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی تاکید کی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر نے لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق محرم کے دوران ڈرون کی پرواز پر مکمل پابندی عائد ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

    صبا اصغر علی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کے مطابق عزاداروں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، اور ضلعی سطح پر کنٹرول روم 1718 کے ساتھ پولیس ہیلپ لائن 15 چوبیس گھنٹے فعال رہے گی تاکہ شہری کسی بھی ہنگامی صورت میں بروقت مدد حاصل کر سکیں۔

    اجلاس کے اختتام پر انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ محرم کے دنوں میں متحرک رہتے ہوئے اپنے فرائض کو ایمانداری سے ادا کریں اور شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنائیں۔

  • اوچ شریف: ڈپٹی کمشنر کا محرم کے جلوسوں کے روٹس کا معائنہ، سیکیورٹی و سہولیات کا جائزہ

    اوچ شریف: ڈپٹی کمشنر کا محرم کے جلوسوں کے روٹس کا معائنہ، سیکیورٹی و سہولیات کا جائزہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)محرم الحرام کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اوچ شریف سرگرم ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق نے 8، 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کے مرکزی روٹس کا تفصیلی معائنہ کیا، جس میں سیکیورٹی، صفائی، روشنی، نکاسی آب اور دیگر بلدیاتی سہولیات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

    معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر محمد نوید حیدر، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی فرخ عدنان، چیف آفیسر ضلع کونسل بہاولپور نصراللہ، سینئر SHO سجاد سندھو، میونسپل آفیسر قاضی محمد نعیم، سب انجینئر عمران گشکوری، انکارجمنٹ انچارج خواجہ قبول حسین، صفائی انچارج عامر تبسم سمیت متعلقہ محکموں کے افسران و اہلکار موجود تھے۔

    جلوس کے روٹس پر امام بارگاہ خواجگان گیلانی اور امام بارگاہ اوچ شریف کا بھی دورہ کیا گیا۔ موقع پر موجود عملے کو ہدایت دی گئی کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت ناقابلِ برداشت ہو گی۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ محرم الحرام کے دن ہمیں صبر، امن، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے کہ عزادارانِ امام حسینؑ کو ہر ممکن سہولت دی جائے اور تمام ادارے باہم ربط کے ساتھ کام کریں۔

    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122، محکمہ صحت اور پولیس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ رہیں گے۔

    معائنے کے دوران بلدیاتی عملے کی کارکردگی کو سراہا گیا، بالخصوص نائب قاصد محمد آفاق علی، محمد نعیم خان اور احمد اعجاز کی شبانہ روز محنت پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ انتظامیہ نے جلوس کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے، نکاسی آب بہتر بنانے، روشنی اور ساؤنڈ سسٹم کی درستگی پر بھی زور دیا۔

    دورے کے اختتام پر امام بارگاہ خواجگان میں حاضری دی گئی اور پُرامن محرم کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • اوچ شریف: بیوہ خاتون کا مکان چھین لیا گیا، جان کو خطرہ، انصاف نہ ملا تو خودسوزی کا اعلان

    اوچ شریف: بیوہ خاتون کا مکان چھین لیا گیا، جان کو خطرہ، انصاف نہ ملا تو خودسوزی کا اعلان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اسلام نگر اوچ شریف کی رہائشی بیوہ خاتون کوثر بی بی انصاف کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ آنکھوں میں آنسو، زبان پر فریاد، اور دل میں خوف لیے کوثر بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اُسے تحفظ دیا جائے اور اُس کا چھینا گیا مکان واپس دلوایا جائے۔

    کوثر بی بی کے مطابق اُس کے شوہر سید محمد رمضان شاہ نے اپنی زندگی میں ہی ڈھائی مرلہ مکان اس کے نام کر دیا تھا تاکہ وہ بیوی کی حیثیت سے باعزت زندگی گزار سکے۔ مگر شوہر کی وفات کے بعد اس کے بھائی، دوسری بیوی، بیٹے اور سوتن کے دیور اختر نے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کر کے مکان پر قبضہ جما لیا اور اُسے زبردستی بے دخل کر دیا۔

    بیوہ خاتون کا کہنا ہے کہ صرف بے گھر ہی نہیں کیا گیا بلکہ اب ان افراد کی جانب سے روزانہ حراساں کیا جا رہا ہے۔ کوثر بی بی نے بتایا کہ وہ مسلسل دھمکیوں، کردارکشی اور عزت پامال کیے جانے جیسے حالات کا شکار ہے۔

    اپنی تحریری درخواست میں کوثر بی بی نے تمام شواہد بھی پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ اگر اُسے انصاف نہ ملا تو وہ خود سوزی پر مجبور ہو جائے گی۔ اس کا کہنا تھا: "کیا بیوہ ہونا جرم ہے؟ کیا ہم اس معاشرے میں صرف مرنے کے لیے رہ گئے ہیں؟”

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کوثر بی بی نہایت شریف اور سادہ لوح خاتون ہے جس کے ساتھ شدید ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ اگر مقامی انتظامیہ نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ معاملہ ریاستی نااہلی اور انسانیت سوز غفلت کی علامت بن جائے گا۔

  • اوکاڑہ: محرم سیکیورٹی اجلاس، فرقہ واریت پر سخت کارروائی کا اعلان

    اوکاڑہ: محرم سیکیورٹی اجلاس، فرقہ واریت پر سخت کارروائی کا اعلان

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)چیئرپرسن وزیراعلیٰ ڈائریکٹوریٹ انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ پنجاب برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین محرم الحرام کے موقع پر امن و امان کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اوکاڑہ پہنچے، جہاں انہوں نے ڈی سی آفس میں ضلعی امن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید، ڈی پی او محمد راشد ہدایت، سیاسی و سماجی شخصیات، سول سوسائٹی نمائندگان اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، اور سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے تمام مسالک اور ضلعی امن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ محرم کے دوران بھائی چارے، اتحاد اور امن کا پیغام عام کریں۔ چیئرپرسن نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تیار کردہ سیکیورٹی پلان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تعاون سے محرم الحرام پُرامن طریقے سے گزارا جا سکتا ہے۔

  • اوچ شریف: محکمہ اوقاف کی غفلت، تاریخی مساجد میں آئمہ و مؤذنین کے عہدے خالی، نمازی پریشان

    اوچ شریف: محکمہ اوقاف کی غفلت، تاریخی مساجد میں آئمہ و مؤذنین کے عہدے خالی، نمازی پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں محکمہ اوقاف کے زیرانتظام درجنوں تاریخی مساجد میں آئمہ، خطباء اور مؤذنین کے عہدے طویل عرصے سے خالی چلے آ رہے ہیں، جس کے باعث نمازیوں اور زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جامع مسجد درگاہ حضرت شیر شاہ سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ، جامع مسجد درگاہ حضرت راجن قتالؒ سمیت دیگر بزرگانِ دین کے مزارات سے ملحقہ متعدد تاریخی مساجد میں عرصہ دراز سے آئمہ و خطباء اور مؤذنین کی سرکاری تعیناتیاں نہیں ہو سکیں۔ یہ تمام مزارات اور مساجد فروری 1966ء میں ناظم اعلیٰ اوقاف مغربی پاکستان کے تحت محکمہ اوقاف کی تحویل میں دی گئی تھیں۔

    ان مزارات سے محکمہ اوقاف کو چراغی، تیل، جھنڈ، لنگر، نمک اور پھول دانہ کی مد میں ہر ماہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی مالیاتی آمدنی کے باوجود محکمہ اوقاف نہ صرف مساجد میں آئمہ و مؤذنین کی تعیناتیوں میں ناکام رہا ہے بلکہ زائرین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی مجرمانہ غفلت برت رہا ہے۔

    بیشتر مساجد میں نمازوں کی امامت اور اذان کی ادائیگی مقامی افراد رضا کارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ اہلِ علاقہ اور زائرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان تاریخی اور روحانی اہمیت کی حامل مساجد میں آئمہ، خطباء اور مؤذنین کی باقاعدہ تعیناتیاں کی جائیں تاکہ نمازیوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • سمت کی تلاش. مگر کب تک؟

    سمت کی تلاش. مگر کب تک؟

    سمت کی تلاش. مگر کب تک؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی 75 سالہ تاریخ اگر کسی ایک مقام پر کھڑی دکھائی دیتی ہے تو وہ ہے "چوراہا”ایک ایسا چوراہا جہاں سے کئی راستے نکلتے ہیں، مگر ہم نہ کبھی سمت کا تعین کر پائے، نہ منزل کی طرف بڑھ سکے۔ ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، نیا خواب، نئی امید اور پھر وہی پرانا دھوکہ۔ ہم بطور قوم ہر دور میں چوراہے پر ہی کھڑے رہے جمہوریت ہو یا آمریت، سیکولرزم ہو یا مذہبی سیاست، معیشت ہو یا نظریاتی شناخت،ہر موڑ پر سوال وہی رہا: اب کیا ہوگا؟ مگر ہم نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ بار بار ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

    ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ نہیں کہ ہم منزل تک نہیں پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کبھی یہ معلوم ہی نہیں رہا کہ منزل ہے کیا؟ تعلیمی پالیسی ہو یا خارجہ حکمتِ عملی، صنعتی وژن ہو یا زرعی منصوبہ بندی،ہماری تمام پالیسیاں وقتی، سطحی اور سیاسی فائدے کے تابع رہی ہیں۔ ہر نئی حکومت پرانی پالیسیوں کو لپیٹ کر نئی زبان میں پیک کر دیتی ہے، مگر عملی میدان میں صفر۔ وژن 2025 ہو یا وژن 2030، یہ سب خواب کاغذوں پر تو خوبصورت لگتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد کی نیت کہیں نظر نہیں آتی۔

    ملک میں ترقی کے دعوے تو ہوتے ہیں مگر یہ صرف رپورٹوں اور پریس کانفرنسز کی زینت بنتے ہیں۔ حقیقت میں ہم آج بھی صاف پانی، بنیادی تعلیم، صحت، بجلی اور گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کسان زبوں حالی کا شکار ہے، نوجوان بے روزگار ہیں اور متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ مگر سیاست دانوں کے پاس ہر بار ایک نیا بیانیہ، ایک نیا خواب ضرور ہوتا ہےجس کا اختتام صرف نعروں، ٹوئٹس اور اشتہارات پر ہوتا ہے۔

    ہر آنے والا حکمران "نیا پاکستان”، "ریاست مدینہ” یا "ترقی کے سنہرے دور” کے نعرے لے کر آتا ہے، مگر یہ نعرے صرف ماضی کے خوابوں کی طرح دم توڑ دیتے ہیں۔ اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرے، ادارے مضبوط بنائے، طویل المدتی منصوبہ بندی کرے،نہ کہ صرف تقاریر اور تصویری مہمات پر گزارا کرے۔

    یہ کہنا بھی درست ہے کہ صرف حکمران طبقہ ہی نہیں بلکہ ہم عوام بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہم ووٹ جذبات کی بنیاد پر دیتے ہیں، فیصلے سوشل میڈیا کی افواہوں سے کرتے ہیں اور جب نتائج برآمد ہوتے ہیں تو شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے کبھی سنجیدہ اجتماعی سوچ کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی طویل المدتی استحکام کو ترجیح دی۔

    کب تک؟
    یہ سوال اب صبر کا نہیں، بیداری کا ہے:
    ہم کب تک غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارتے رہیں گے؟
    کب ہم بحیثیت قوم اپنی سمت کا تعین کریں گے؟
    کب ہم اجتماعی روڈ میپ تشکیل دیں گے؟
    کب ہم نعرے بازی سے نکل کر منصوبہ بندی، ادارہ سازی اور قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار بنائیں گے؟

    اب بھی وقت ہے…
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو وقت کا بہاؤ ہمیں پیچھے چھوڑ دے گا۔ دنیا آگے بڑھ چکی ہے، ہم اب بھی اسی چوراہے پر کھڑے ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، اپنی منزل خود متعین کرنا ہوگا۔ وگرنہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف سوالات، خالی وعدے اور مایوسیوں کا ورثہ دے کر جائیں گے۔

    مگر… کب تک؟