Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • تنگوانی: کاروکاری کے پرانے تنازع پر چولیانی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، ایک شخص قتل، دو زخمی

    تنگوانی: کاروکاری کے پرانے تنازع پر چولیانی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، ایک شخص قتل، دو زخمی

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگارمنصور بلوچ)تنگوانی کے نواحی علاقے جمال میں واقع گاؤں کریم چولیانی میں پرانی کاروکاری کے جھگڑے پر چولیانی برادری کے دو فریقین کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس کے دوران دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان قربان علی چولیانی موقع پر جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔

    واقعہ کرم پور تھانے کی حدود میں پیش آیا، تاہم اطلاع کے باوجود اب تک پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تصادم روکنے یا فریقین کے درمیان فائرنگ بند کرانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

    علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی شہریوں اور رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لایا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • میرپورخاص: 57واں مینگو فیسٹیول، آموں کی 396 اقسام کی نمائش، باکسنگ مقابلے بھی منعقد

    میرپورخاص: 57واں مینگو فیسٹیول، آموں کی 396 اقسام کی نمائش، باکسنگ مقابلے بھی منعقد

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)میرپورخاص میں 57ویں سالانہ قومی آموں اور موسمِ گرما کے فیسٹیول کا رنگا رنگ آغاز ہو گیا، جس کا افتتاح چیئرمین ضلع کونسل میر انور تالپور نے فیتہ کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر میرپورخاص فیصل احمد عقیلی، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود خان، ایس ایس پی ڈاکٹر سمیر نور چنہ، ایڈیشنل کمشنرز، ضلعی افسران اور فیسٹیول مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین سمیت معزز شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    فیسٹیول میں آموں کے 60 سے زائد اسٹالز لگائے گئے ہیں جن میں آموں کی 396 مختلف اقسام نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں، جو شہریوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ اس موقع پر محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے روایتی ثقافتی اسٹال بھی سجائے گئے ہیں جنہوں نے تقریب کو مزید رنگوں سے بھر دیا۔

    فیسٹیول کے سلسلے میں محکمہ کھیل اور محکمہ زراعت سندھ کے زیر اہتمام ریلوے اسٹیشن میرپورخاص پر باکسنگ کے شاندار مقابلے بھی منعقد ہوئے، جن میں 5 اضلاع کے 60 سے زائد باکسرز نے بھرپور شرکت کی۔ باکسروں نے اپنی مہارت کا زبردست مظاہرہ کر کے تماشائیوں سے خوب داد سمیٹی۔

    اختتامی تقریب میں ڈپٹی کمشنر میرپورخاص ڈاکٹر رشید مسعود خان اور ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر واشدیو مالہی نے کامیاب باکسرز میں میڈلز اور نقد انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر کھیلوں کی مختلف تنظیموں کے عہدیداران اور کھیلوں کے شوقین افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    مینگو فیسٹیول آئندہ دنوں میں بھی مختلف ثقافتی و تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ جاری رہے گا، جو نہ صرف شہریوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن رہا ہے بلکہ سندھ کی زراعت، ثقافت اور کھیلوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • سیالکوٹ: فیملی کے سامنے شہری پر بدترین تشدد، ویڈیو وائرل، ایک ملزم گرفتار

    سیالکوٹ: فیملی کے سامنے شہری پر بدترین تشدد، ویڈیو وائرل، ایک ملزم گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)کراچی کے بعد اب سیالکوٹ میں بھی ایک شہری پر اس کی فیملی کے سامنے تشدد کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آ گیا۔ سرکلر روڈ پر ایک الیکٹرانکس کمپنی کے ریکوری ایجنٹ نے قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر نوجوان کو راستے میں روک کر سرعام بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ نوجوان کے ساتھ موجود خواتین چیختی چلاتی رہیں، لیکن درندگی کی انتہا کرنے والے ریکوری ایجنٹ اور اس کے ساتھیوں نے ایک لمحے کو بھی رحم نہ کیا۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی سٹی طارق محمود ڈھڈی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم حسیب کو کشمیری محلہ سے گرفتار کر لیا، جبکہ واقعے میں ملوث دیگر تین ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ متاثرہ شہری کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ پولیس مظلوم شہری کی ہر ممکن مدد کرے گی تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رہے۔

  • سیالکوٹ: عیدالاضحیٰ پر صفائی، 4500 ملازمین کی ڈیوٹی، 25 عارضی کلیکشن پوائنٹس قائم

    سیالکوٹ: عیدالاضحیٰ پر صفائی، 4500 ملازمین کی ڈیوٹی، 25 عارضی کلیکشن پوائنٹس قائم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہر میں صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی (SWMC) کے 4500 ملازمین کو خصوصی ڈیوٹی پر تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ تمام مقامی حکام اور متعلقہ عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ عید کے دنوں میں صفائی کے عمل میں کوئی خلل نہ آئے۔

    ڈی سی صبا اصغر علی کے مطابق، ضلع بھر میں 25 عارضی کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاں آلائشیں جمع کی جائیں گی۔ 1100 سالڈ ویسٹ کمپنی کی گاڑیاں اس مہم میں حصہ لیں گی جبکہ اضافی طور پر 600 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئی ہیں۔ عید کے دنوں میں ڈور ٹو ڈور کلیکشن کا نظام فعال ہوگا تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ساڑھے چار لاکھ ویسٹ بیگز شہریوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آلائشیں ان ویسٹ بیگز میں ڈال کر مقررہ عملے کے حوالے کریں تاکہ شہر میں گندگی اور تعفن سے بچا جا سکے۔

    سری پائے جلانے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی سی سیالکوٹ نے مزید بتایا کہ شکایات کے فوری ازالے کے لیے 1139 ہیلپ لائن 24 گھنٹے فعال رہے گی اور شہریوں کی شکایات روزانہ کی بنیاد پر نمٹائی جائیں گی۔ چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز صفائی آپریشن کی خود نگرانی کریں گے تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

  • تنگوانی: بدامنی کے خلاف آواز اٹھانے پر 28 صحافیوں و رہنماؤں پرپیکاایکٹ کا مقدمہ، احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری

    تنگوانی: بدامنی کے خلاف آواز اٹھانے پر 28 صحافیوں و رہنماؤں پرپیکاایکٹ کا مقدمہ، احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری

    تنگوانی،باغی ٹی وی،نامہ نگارمنصور بلوچ)تنگوانی میں بدامنی کے خلاف آواز بلند کرنے اور سوشل میڈیا پر پولیس کی نااہلی کو اجاگر کرنے پر پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صحافیوں، مذہبی رہنماؤں، قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں اور شہری اتحاد سے وابستہ افراد سمیت 28 افراد کے خلاف پیپکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ تنگوانی میں درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان افراد نے کچہ میں ڈاکوؤں کی لوٹ مار کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا۔ مقدمے میں صحافی عطاالرحمن ملک (صدر پریس کلب تنگوانی)، عطا حسین ملک، احمد علی لاشاری، سہراب سندھی، محمد علی ڈہانی، لطف سندھی، عبدالباری ملک، مسعود باجکانی، کندھکوٹ سے حافظ ملک اکبر بگوار، اور غوث پور کے صحافی کا نام سمیت دیگر افراد کے نام شامل ہیں۔

    شہری اتحاد سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں میں کفایت اللہ کھوسو، فضل الرحمن، قوم پرست رہنما رحمدل لاشاری اور دیگر بھی شامل ہیں۔

    پولیس پر الزام ہے کہ یہ مقدمہ دراصل بدامنی کے واقعات اور پولیس کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ حقائق سامنے لانے والوں کو دبایا جا سکے۔

    مقدمے کے اندراج کے خلاف تنگوانی پریس کلب میں آج صبح صحافیوں، سیاسی، سماجی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں عطاالرحمن ملک، عطا حسین ملک، سہراب سندھی، باری ملک، منصور بلوچ، کفایت اللہ کھوسو، رحمدل لاشاری اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مقدمات، گرفتاریوں یا دباؤ کے باوجود جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کسی صورت پولیس کے سامنے سر نہیں جھکایا جائے گا۔

    اس جدوجہد کے تسلسل میں آج تیسرے روز بھی تنگوانی شہر میں ویگن اسٹینڈ کے مقام پر شہری اتحاد، مذہبی و قوم پرست جماعتوں کی قیادت میں احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں حافظ کفایت اللہ، سہراب سندھی، محمد اسماعیل باجکانی، رحمۃ اللہ لاشاری سمیت دیگر رہنماؤں اور شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس چاہے جتنی بھی جھوٹی ایف آئی آر درج کرے، وہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے اور بدامنی و پولیس کی نااہلی کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

  • عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟

    عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟

    عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    عیدالاضحیٰ کا تہوار جو عام طور پر خوشیوں، محبتوں، ملاقاتوں اور قہقہوں کا پیغام لاتا ہے، اس سال پاکستان کے کئی گھروں میں صفِ ماتم لے کر آرہا ہے۔ معاشی بدحالی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کو اس قدر بے حال کر دیا ہے کہ عید سے دو روز قبل ہی خودکشیوں کی خبریں عام ہو رہی ہیں۔ لاہور میں ایک باپ بچوں کے سامنے خود کو آگ لگا رہا ہے، سکھر میں ایک مزدور بیوی کے لیے کپڑے نہ خرید سکنے کے دکھ میں پنکھے سے جھول کر جان دے رہا ہے، کراچی میں ایک ماں بچوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگا رہی ہے۔ یہ واقعات محض خبروں کی سرخیاں نہیں بلکہ ریاستی بے حسی کے چیختے ہوئے ثبوت ہیں۔ یہ عید خوشبوؤں سے نہیں، جنازوں کی بو سے مہک رہی ہے۔ نہ قہقہے گونج رہے ہیں، نہ چراغاں ہو رہا ہے ،ہرطرف صرف بین ہیں، کفن ہیں اور قبرستان کی خاموشی۔

    رحیم یار خان کے سردار گڑھ میں عبدالرحمان نامی ایک باپ اپنے دو گونگے بیٹوں، 9 سالہ محمد سفیان اور 11 سالہ محمد عمر اور بیٹی آصفہ بی بی کو عید کے کپڑوں کا مطالبہ برداشت نہ کرتے ہوئے گندم کی زہریلی گولیاں کھلاتا ہے اور خود بھی زہر نگل کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ریسکیو 1122 انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کرتا ہے مگر عبدالرحمان اور اس کے دونوں بیٹوں کی زندگی نہیں بچ پاتی ہے۔ آصفہ بی بی اب بھی ہسپتال میں موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اسی طرح اوچ شریف میں محنت کش امداد حسین کا بیٹا ثاقب حسین جو برف کےگولے کی ریڑھی لگا کر گھر چلاتا ہے، غربت اور گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لیتا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ غربت اور بجلی کے ظالمانہ بلوں نے پاکستانی عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔

    غربت اور ظالمانہ بجلی بلوں کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں کی ذمہ داری اویس لغاری کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف پر عائد نہیں ہوتی؟ اویس لغاری کی وزارت توانائی کی پالیسیوں نے پاکستانی عوام کے لیے عید کی خوشیوں کو زہر آلود کر دیا ہے۔ دو میٹروں پر پابندی، نان پروٹیکٹڈ سلیب کی ظالمانہ منتقلی اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے غریب اور متوسط طبقے کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ یہ عید نہیں، قیامت ہے!” عبدالرحمان جیسے باپ کو اپنے بچوں کے لیے عید کے کپڑے نہ دینے کی شرمندگی خودکشی پر مجبور کرتی ہے جبکہ بجلی کے بھاری بل اس جیسے کئی عبدالرحمان کی آمدنی کھا جاتے ہیں۔ اویس لغاری عام پاکستانی کے چولہے بجھا رہے ہیں اور ان کے جھوٹے وعدوں اور دروغ گوئی نے عوام کو صرف مایوسی دی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سرچارجز نے بل ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچا دیے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف جو غیر ملکی دوروں میں ملکی مفاد کے لیے سفارتی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں کیا وہ اس سسکتی ہوئی قوم کی چیخوں سے بے خبر ہیں؟ اویس لغاری کی وزارت وزیراعظم کے دائرہ اختیار میں ہے اور وہ ان کے فیصلوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ شہباز شریف نے اویس لغاری کے ظالمانہ اقدامات پر کیا نوٹس لیا؟ ہر موبائل کال کے آغاز میں آنے والی ریکارڈنگ، جس میں شہباز شریف کی آواز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "ہم نے بجلی سستی کر دی ہے”،عوام کیلئے بھونڈااور ایک ظالمانہ مذاق بن چکی ہے۔ یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے کیونکہ بجلی کے نرخ کم ہونے کے بجائے عوام پر بھاری بلز کی صورت میں بمباری کر رہے ہیں۔ لاہور کی ایک خاتون کہتی ہے کہ "ہمارے گھر کا بل 15 ہزار سے 40 ہزار ہو گیا۔ عید پر بچوں کے کپڑوں کے بجائے ہم قرض مانگ رہے ہیں۔” یہ حالات اویس لغاری کی پالیسیوں اور شہباز شریف کی خاموشی کا نتیجہ ہیں۔

    عید جو محبت، قربانی اور خوشیوں کا تہوار ہے، اب غریبوں کے لیے ماتم کا منظر بن رہی ہے۔ عبدالرحمان اور ثاقب جیسے لوگوں کی خودکشیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عوام میں مزید بوجھ برداشت کرنے طاقت نہیں رہی اوپر سے بھاری بلوں کا بوجھ اب جان لیوا بن چکا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا گھرانے اس بار قربانی چھوڑ رہے ہیں کیونکہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد جانور خریدنے کی گنجائش ہی نہیں بچی۔” اویس لغاری کی پالیسیاں نہ صرف غریبوں کی عید چھین رہی ہیں بلکہ متوسط طبقے کو بھی اس حال تک پہنچا رہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے شرمندہ ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت نے ان ظالمانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ کیا وزیراعظم کو یہ خبر نہیں کہ ان کے وزیر توانائی کے فیصلوں نے عوام کو خودکشی پر مجبور کر دیا ہے؟

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوام کے لیے لعنت بن چکی ہے۔ ان کے فیصلوں نے نہ صرف معاشی تباہی پھیلائی بلکہ شہباز شریف کی حکومت کو بھی عوامی غیظ و غضب کے شعلوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ عروج پر ہے: "اویس لغاری کا اپنا بل چند روپے اور ہمارا 34 ہزار! یہ کیسا انصاف ہے؟” جب ایک باپ اپنے بچوں کو عید پر نئے کپڑے دینے سے قاصر ہوتا ہے تو وہ خودکشی کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کی حفاظت اور حکومت کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ عوام فوری عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں.

    بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے، ناجائز ڈیٹیکشن بلز ختم کیے جائیں، دو میٹروں پر پابندی ہٹائی جائےاور ظالمانہ نان پروٹیکٹڈ سلیب نظام کو ختم کیا جائے۔ اگر یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو عید صرف جاگیر داروں اور اشرافیہ کے لیے تہوار بن کر رہ جائے گی اور عام پاکستانی ہمیشہ کے لیے خوشیوں سے محروم ہو جائے گا۔ عبدالرحمان اور ثاقب کی المناک خودکشیوں کو روزمرہ کا واقعہ نہیں بننا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف، آپ کی ریکارڈ شدہ آواز میں بجلی سستی کرنے کا دعویٰ ایک ظالمانہ جھوٹ ہےاوراس جھوٹ اوردھوکے کا ذمہ دار کون ہے؟

    عیدالاضحیٰ جو قربانی اور ایثار کا درس دیتی ہے، اس سال پاکستانی عوام کے لیے ایک امتحان بن گئی ہے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں اور شہباز شریف کی خاموشی نے غریبوں اور متوسط طبقے کی عید کی خوشیوں کو چھین لیا ہے۔ عبدالرحمان اور ثاقب جیسے واقعات صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک قوم کی چیخ ہیں جو اپنی حکومت سے انصاف مانگ رہی ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور عوام کو نہ سنبھالا تو عید ہر سال ماتم کا پیغام لاتی رہے گی۔ کیا شہباز شریف اور اویس لغاری اس قوم کے درد کے ذمہ دار نہیں؟ وقت ہے کہ حکومت جاگے، ظالمانہ پالیسیاں ختم کرے، بجلی کے نرخ کم کرے اور عوام کو وہ عید واپس دے جو خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لاتی ہے، نہ کہ جنازوں اور قبرستانوں کی خاموشی کا۔ اویس لغاری کو ہٹائیں اور پاکستانی عوام کو اس معاشی عذاب سے نجات دلائیں، ورنہ یہ خودکشیوں کا سلسلہ عید کے تہوار کو ہمیشہ کے لیے داغدار کر دے گا۔

  • علی پور: فرسٹ ایئر طالبہ پر خاوند اور نند کا تشدد، مقدمہ درج

    علی پور: فرسٹ ایئر طالبہ پر خاوند اور نند کا تشدد، مقدمہ درج

    علی پور (باغی ٹی وی,حبیب خان کی رپورٹ) تھانہ سٹی علی پور کی رہائشی فرسٹ ایئر کی طالبہ حجاب زہرہ نے اپنے خاوند حامد اور نند دعا کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ حجاب زہرہ نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل حامد سے شادی ہوئی تھی، شروع میں اس کا رویہ ٹھیک تھا لیکن بعد میں اس نے اور اس کی بہن ( نند )نے مسلسل تشدد شروع کر دیا۔ دونوں ملزمان اسے کھانا نہیں دیتے اور کمرے میں قید کر رکھا تھا۔

    گذشتہ روز ملزمان نے اسے کہا کہ اپنے والد سے میکے سے رقم منگواؤ، جس پر اس نے انکار کیا تو ملزمان نے اس پر مار پیٹ شروع کر دی۔ تشدد کے دوران حجاب کے کان سے چالیس ہزار روپے کی بالی گر گئی جو اس کی نند نے اٹھا لی۔ شور شرابہ سن کر حجاب کے والد اور برادری کے افراد موقع پر پہنچے اور اس کی جان بچائی۔

    اطلاع ملنے پر پولیس تھانہ سٹی علی پور موقع پر پہنچی اور مقدمہ درج کر کے ملزمان کیخلاف تفتیش شروع کر دی۔ ملزمان نے پولیس کو بھی قتل کی دھمکیاں دی ہیں۔

  • لودھراں: دکان کے باہر سویا نوجوان ،چھریوں کے وار سے قتل

    لودھراں: دکان کے باہر سویا نوجوان ،چھریوں کے وار سے قتل

    لودھراں (باغی ٹی وی رپورٹ) نواحی علاقہ چک 50ایم میں دکاندار رمضان گاذر کو دکان کے باہر سوئے ہوئے حالت میں نامعلوم ملزمان نے چھرے کے وار کرکے قتل کر دیا۔ رمضان گاذر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ اہل علاقہ کو یہ ہولناک واقعہ اس وقت معلوم ہوا جب ایک شخص نماز فجر کے لیے اسے جگانے پہنچا۔ جائے وقوعہ سے مقتول کا موبائل، پرس اور دکان کی چابیاں چارپائی پر موجود تھیں، جس کی اطلاع گیلےوال پولیس کو دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے، تاہم قتل کی اصل وجہ معلوم نہ ہو سکی۔

    مقتول کی لاش 53ایم اسپتال منتقل کی گئی، جہاں سے پوسٹ مارٹم کے بعد ڈی ایچ کیو لودھراں منتقل کر کے ورثاء کے حوالے کی گئی۔ نماز جنازہ چک نمبر 50 ایم کی عیدگاہ میں ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔ مقتول رمضان گاذر مقامی صحافی عمر فاروق کا بھانجا اور دو بچوں کا باپ تھا۔ پولیس تھانہ گیلےوال ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔

  • ایران میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی خاندان امداد

    ایران میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی خاندان امداد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) حکومت پنجاب نے ایران میں قتل ہونے والے آٹھ پاکستانی مزدوروں کے لواحقین کو مالی امداد کے طور پر فی خاندان 10 لاکھ روپے کے چیک تقسیم کر دیے۔ یہ امدادی تقریب اویسی ہاؤس خانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ میں منعقد ہوئی، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی نمائندگی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز میاں محمد عثمان نجیب اویسی نے کی۔

    تقریب میں میاں شعیب اویسی، ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق، اسسٹنٹ کمشنر قراۃ العین اور محمد نوید حیدر بھی شریک ہوئے۔ میاں عثمان نجیب اویسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد کو اپنی اولین ترجیح بنایا، حکومت پنجاب دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے امدادی عمل کو شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام چیک بروقت اور منظم طریقے سے تقسیم کیے گئے۔ لواحقین نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ مالی امداد ان کے دکھ بانٹنے کا عملی مظہر ہے۔ مقامی معززین اور سماجی رہنماؤں نے بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہا۔

  • احمد پور شرقیہ: طارق بشیر چیمہ کے قریبی ساتھی کا بیٹا اور بھائی فائرنگ میں قتل

    احمد پور شرقیہ: طارق بشیر چیمہ کے قریبی ساتھی کا بیٹا اور بھائی فائرنگ میں قتل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اڈا 42 ہزار لاشاری پٹرول پمپ پر رشتہ داروں کے درمیان خونی جھگڑا، ایم این اے چوہدری طارق بشیر چیمہ کے بااعتماد ساتھی حاجی ندیم خان لاشاری کا نوجوان بیٹا ڈاکٹر شیراز خان اور بھائی وسیم خان فائرنگ سے جاں بحق، تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق معمولی رنجش پر شروع ہونے والا تنازعہ جان لیوا تصادم میں بدل گیا۔ اڈا 42 ہزار پر واقع لاشاری پٹرول پمپ پر حاجی ندیم خان لاشاری بلوچ کے کزنوں کے بیٹوں نے فائرنگ کر کے ان کے صاحبزادے ڈاکٹر شیراز خان — جو حال ہی میں ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر چکے تھے — اور بھائی وسیم خان کو موقع پر ہی قتل کر دیا۔
    فائرنگ کے نتیجے میں حاجی ندیم خان لاشاری کے دوسرے بیٹے شہزاد لاشاری، بھائی اسد لاشاری اور بھانجا سجاد خان لاشاری شدید زخمی ہو گئے، جنہیں تشویشناک حالت میں بہاولپور وکٹوریہ اسپتال ریفر کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔

    واقعہ کی اطلاع پر احمد پور شرقیہ اور یزمان تھانوں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جبکہ مقتولین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا گیا۔ پولیس نے حاجی ندیم خان لاشاری کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق واقعہ کی بنیاد گزشتہ روز ہونے والا ایک معمولی جھگڑا تھا، جس نے خونریز رخ اختیار کر لیا۔ پولیس عینی شاہدین اور مقتولین کے لواحقین سے معلومات اکٹھی کر رہی ہے، جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔