Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرانوالہ: قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ڈاکو دو لاکھ تیس ہزار لے کر فرار

    گوجرانوالہ: قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ڈاکو دو لاکھ تیس ہزار لے کر فرار

    گوجرانوالہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ڈاکو دو لاکھ تیس ہزار لے کر فرار

    گوجرانوالہ میں جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے معروف فاسٹ بولر حسن علی کی والدہ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واردات اُس وقت پیش آئی جب حسن علی کی والدہ روزمرہ خریداری کے لیے بازار جا رہی تھیں۔

    قومی کرکٹر کے بھائی خرم علی کے مطابق اُن کی والدہ جیسے ہی اپنے گھر سے بازار کی طرف روانہ ہوئیں تو موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم ملزمان نے اُن کا تعاقب کیا۔ راستے میں موقع پاکر ملزمان نے زبردستی ان کا پرس چھین لیا جس میں نقدی کی صورت میں تقریباً دو لاکھ تیس ہزار روپے موجود تھے۔ واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس فوری طور پر متحرک ہوئی اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس حکام کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب واقعے نے سیکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر جب معروف شخصیات کے اہلِ خانہ بھی جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آ رہے ہیں۔

    حسن علی اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے واقعے پر تاحال کسی قسم کا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم قریبی ذرائع کے مطابق اہل خانہ واقعے پر شدید پریشان ہیں اور فوری انصاف کی امید رکھتے ہیں۔

  • میرپورماتھیلو: دشمنی پر قتل، ملزمان کے گھر مسمار و نذر آتش

    میرپورماتھیلو: دشمنی پر قتل، ملزمان کے گھر مسمار و نذر آتش

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری) دشمنی پر نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کے گھروں پر پولیس کا بڑا ایکشن، گھر مسمار و نذر آتش

    گھوٹکی پولیس نے ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ گزشتہ روز سب ڈویژن میرپور ماتھیلو پولیس نے ڈی ایس پی محمد یونس کی قیادت میں تھانہ خانپور مھر کی حدود سوہانجھڑو میں قتل کیس میں ملوث ملزمان کے خلاف بڑا ایکشن لیا۔

    کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری نے اے پی سی چین کے ساتھ ملزمان شاہی بوزدار، ہولی بوزدار اور دیگر کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے گھروں کو سخت کارروائی کے بعد مسمار کر کے نذر آتش کر دیا گیا۔ تاہم، ملزمان پولیس کے پہنچنے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل شاہی بوزدار، ہولی بوزدار و دیگر نے پرانی دشمنی کی بناء پر نوجوان وقار بوزدار ولد اٹکل، عمر تقریباً 22/23 سال کو قتل کر دیا تھا۔

    گھوٹکی پولیس کے ترجمان کے مطابق قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے اور جلد تمام عناصر کو قانون کے شکنجے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  • ڈیرہ نواب صاحب: یومِ تکبیر کے موقع پر صادق عباس گریجویٹ کالج میں ریلی، طلبہ کا وطن سے تجدیدِ عہد

    ڈیرہ نواب صاحب: یومِ تکبیر کے موقع پر صادق عباس گریجویٹ کالج میں ریلی، طلبہ کا وطن سے تجدیدِ عہد

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) یومِ تکبیر 2025 کے موقع پر ڈیرہ نواب صاحب میں گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج میں ایک پُرجوش ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب ڈائریکٹر کالجز ڈویژن بہاولپور، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز بہاولپور اور کالج کے پرنسپل پروفیسر شاہد حسین مغل کی خصوصی ہدایات پر منعقد ہوئی۔

    ریلی میں طلباء، اساتذہ اور عملے کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدر شعبہ سرائیکی پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی، جو اس موقع پر انچارج سیکیورٹی آفیسر و کنٹرولر امتحانات بھی تھے ، نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

    "آج کا دن یومِ تجدیدِ عہد ہے۔ نعرہ تکبیر، اللہ اکبر! پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ.یہی ہمارے نظریے کی بنیاد ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے، جو ہماری مسلح افواج اور قومی اتحاد کی بدولت ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے دوبارہ میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔

    ڈاکٹر الطاف نے آپریشن "بنیان مرصوص” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا اور پاکستانی قوم پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔

    تقریب میں پروفیسر احمد نواز بھٹو، محمد عمران ملک اور طلباء و طالبات نے وطن سے تجدیدِ عہد کیا اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ریلی کا اختتام قومی ترانے اور افواج پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ہوا۔

  • پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ کئی دہائیوں سے اصلاحات کا متقاضی رہا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور تعلیمی نظام کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کے ذریعے ہی معاشی، سائنسی اور سماجی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر اور مضبوط مقام حاصل کرنا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز ایک جامع حکمت عملی کی صورت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

    سب سے پہلے نصاب کی باقاعدہ نظرثانی ناگزیر ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں اب بھی پرانے طرز کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ اس لیے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا، اور رٹے بازی کے بجائے تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں عالمی جامعات کے نصاب کا جائزہ لینا اور ان کے کامیاب ماڈلز کو مقامی حالات کے مطابق اپنانا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

    ملک بھر میں یکساں تعلیمی معیار اور نصاب کا نفاذ بھی ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ جب مختلف علاقوں اور اداروں میں مختلف نصاب رائج ہوتے ہیں تو اس سے تعلیمی عدم مساوات اور مواقع کی تقسیم میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قومی سطح پر یکساں نصاب کی پالیسی نافذ کرنی ہوگی، جس سے تمام طلبہ کو برابر مواقع میسر آئیں گے اور تعلیمی نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔

    اساتذہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے جامع پروگراموں کی ضرورت ہے۔ تدریس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کی تربیت، اور اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق جیسے اقدامات معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اساتذہ کے لیے بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور ریسرچ فیلوشپس کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی علمی سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔

    تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا کسی بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کا مرکزی ستون ہوتا ہے۔ پاکستان میں تحقیق کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی مسابقتی تحقیقی گرانٹس کی فراہمی، اور یونیورسٹیوں و صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط کر کے عملی تحقیق کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کا دائرہ صرف سائنسی موضوعات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سماجی، معاشی اور انسانی علوم کی تحقیق بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تحقیقی مقالوں کی اشاعت، عالمی جرائد تک رسائی اور پیٹنٹس کی رجسٹریشن پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

    تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں، تو معیار خود بخود بہتر ہوتا ہے۔ والدین اور کمیونٹی کی شمولیت سے بھی اداروں کو مثبت فیڈبیک اور سماجی حمایت حاصل ہوتی ہے، جس سے طلبہ کی کارکردگی پر بھی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ تعلیمی بورڈز اور ایچ ای سی کو اداروں کے سالانہ جائزے کا ایک مؤثر نظام مرتب دینا ہوگا تاکہ بہتری کی راہ ہم وار ہو سکے۔

    اعلیٰ تعلیم کو طلب اور روزگار کی ضروریات کے مطابق بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ جب فارغ التحصیل نوجوان مارکیٹ کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے تو بے روزگاری بڑھتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیمی اداروں کو ایسے مضامین اور پروگرامز متعارف کرانے ہوں گے جو عملی میدان میں مؤثر ثابت ہوں۔ انٹرن شپس، انڈسٹری سے براہ راست منسلک کورسز، اور ٹیکنیکل تعلیم کے شعبے کو بڑھاوا دے کر گریجویٹس کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    حکومت، ایچ ای سی، تعلیمی ادارے، صنعت اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو باہم مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ صرف نصاب کی اصلاح یا اساتذہ کی تربیت کافی نہیں؛ یہ سب پہلو ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جنہیں یکجا کر کے ہی معیار اور رسائی کو ایک ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کی شمولیت جیسے اقدامات تعلیمی ترقی کے سفر کو تیز کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو کسی بھی قوم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، لیکن اگر ان نوجوانوں کو معیاری تعلیم نہ دی جائے تو یہی اثاثہ بوجھ بن سکتا ہے۔ اس لیے تعلیمی نظام کو نوجوانوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کے مطابق تشکیل دینا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی سنوار سکیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔

    عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کا مقام بہت پیچھے ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تحقیق، نصاب اور تدریسی معیار میں کمی ہے۔ اگر ہم بین الاقوامی معیار کی تعلیم کو اپنا ہدف بنائیں تو نہ صرف ہمارے تعلیمی ادارے ترقی کریں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرے تاکہ پاکستانی جامعات کو عالمی سطح کے تحقیقی و تدریسی مواقع میسر آ سکیں۔

    یہ تجاویز محض کاغذی نکات نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو روشن بنانے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان تجاویز کو پالیسی کی سطح پر اپنایا جائے اور ان پر عمل درآمد کے لیے نیک نیتی سے اقدامات کیے جائیں۔

  • ننکانہ: باغی ٹی وی کے احسان اللہ ایاز کو بہترین صحافتی خدمات پر بابا گورونانک یونیورسٹی کا اعزاز

    ننکانہ: باغی ٹی وی کے احسان اللہ ایاز کو بہترین صحافتی خدمات پر بابا گورونانک یونیورسٹی کا اعزاز

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی رپورٹ) باغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز باغی کو بابا گورونانک یونیورسٹی نے صحافت کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد مبین نے انہیں شیلڈ اور تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ یہ اعزاز احسان اللہ ایاز باغی کی بے لوث، جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا اعتراف ہے۔

    اس موقع پر جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے کے مرکزی صدر میاں عامر علی، جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر سمیع اللہ عثمانی، ننکانہ صاحب پریس کلب کے صدر شیخ آصف اقبال اور جنرل سیکرٹری عرفان رشید بھٹی، پنجاب یونین آف جرنلسٹس ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب کے جنرل سیکرٹری راؤ توقیر السلام، پاکستان مرکزی مسلم لیگ ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب کے صدر میاں عابد علی، اور پیر سید زاہد حسین ترمزی سجادہ نشین درگاہ پیر سید یعقوب شاہ رحمتہ اللہ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے احسان اللہ ایاز باغی کو مبارکباد پیش کی۔

    ان شخصیات نے کہا کہ ایسے باصلاحیت اور محنتی صحافی معاشرے میں سچ اور حق کی آواز بن کر سامنے آتے ہیں اور ایسے صحافیوں کو سراہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے امید ظاہر کی کہ احسان اللہ ایاز باغی آئندہ بھی اپنے صحافتی فرائض اسی جذبے اور دیانتداری سے نبھاتے رہیں گے اور نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔

  • چولستان میں شدید خشک سالی، لاکھوں جانوروں سمیت چولستانی نقل مکانی پر مجبور

    چولستان میں شدید خشک سالی، لاکھوں جانوروں سمیت چولستانی نقل مکانی پر مجبور

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان): صحرائے چولستان، جو 66 لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اس وقت شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہے۔ کئی ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے باعث پانی کے قدرتی ذخائر (ٹوبھے) خشک ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان اور جانور دونوں پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو خشک سالی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    چولستان کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد اپنے لاکھوں جانوروں (جن کی سرکاری تعداد 16 لاکھ سے زائد ہے) کے ہمراہ چکوک اور سرکاری پانی کی پائپ لائنوں پر منتقل ہو چکی ہے۔ ڈیراوڑ، ٹوبہ سلطان شاہ، لنگاہ والا، رکن پور، کاڈو والا، طوفانہ، مروٹ، اور جگیت پیر کے علاقوں میں واقع تقریباً 1100 ٹوبوں میں سے 95 فیصد خشک ہو چکے ہیں۔ ان میں چڈھڑا والا، دولو جمال، نواں پرھاڑاں، ٹوبہ سراں، باہو والا، عام والا، شیر خان، کالے پاڑ ٹھنڈی کھوئی، جام سر، قائم سر، نور سر بلوچاں، حیدر والا، سکندر والا، اسلام گڑھ کے نواب والا سوڑیاں، پنچ کوہی، شیخ والا، ٹوبیاں والا، کنڈیرا، آلے والا، ٹوبہ کھارڑی، پچھال، بوہڑ والا، بھانے والا، دانڈ والا، رینال، سیاہی والا، جانو والا، گڈلہ، مٹھو والا، کرم والا، دینے والا، اچل والا، گلو والا، قطب والی، بھمبھے والا، پنجکوٹ، ڈاک والا، اور دین گڑھ شامل ہیں۔

    خشک سالی بڑھنے کی وجہ سے جانوروں کے لیے چارہ بھی ناپید ہو گیا ہے، اور جنگلی جڑی بوٹیاں تک سوکھنے لگی ہیں۔ چولستان کے باسی اپنے جانوروں کے لیے چارہ اور پانی نہ ہونے کے باعث آبادیوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ واضح رہے کہ چولستان میں تین لاکھ سے زائد چولستانی بستے ہیں جو زیادہ تر مال مویشی پر انحصار کرتے ہیں۔

    چولستانی ذرائع کے مطابق، ٹوبہ کٹانے والا، ٹوبہ قصائی والا، گورکن، لاکھن، پتھانی والا، باڑی والا، بوہڑ والا ڈھوری، ونجو والا، جیاء والا، تلوے والا، پنج کوٹ، گونجراں والا، اور بھالے والا پر پائپ لائنوں کے واٹر پوائٹس پر اپنے جانوروں کے ہمراہ رہائش پذیر محمد وریام، عبدالمجید، اقبال مٹھو، عبدالحمید، محمود نواز، سچو خان، بشیر احمد و دیگر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ آنے والے بجٹ میں چولستان میں نئی پائپ لائنز، نئے ٹوبوں کی تعمیر، پرانے ٹوبوں کی بحالی اور نئے پانی کے کنڈز بنائے جائیں، اور پائپ لائنوں کو سولر پر منتقل کیا جائے۔

    اس حوالے سے جب ایم ڈی چولستان ترقیاتی ادارہ طارق بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پائپ لائنوں پر 24 گھنٹے پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی آبادیاں جو پائپ لائنوں سے دور ہیں، انہیں بائوزر کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

  • بہاولپور چیمبر آف کامرس میں نادرا آفس کے قیام کی منظوری

    بہاولپور چیمبر آف کامرس میں نادرا آفس کے قیام کی منظوری

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر (ہلال امتیاز ملٹری) نے بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں نادرا آفس کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس آفس میں شناختی کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام پر چیمبر کے ممبران نے چیئرمین نادرا اور صدر چیمبر سید ظفر شریف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد نے صدر سید ظفر شریف کی قیادت میں نادرا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر سے ملاقات کی۔ وفد میں چیمبر کے نائب صدر محمد اعظم قریشی، ایگزیکٹو ممبر انس اشتیاق بسراء اور سیکرٹری جنرل چیمبر سید عبیر حیدر شامل تھے۔

    ملاقات کے دوران صدر چیمبر نے چیمبر میں نادرا سب آفس کے قیام کی منظوری پر چیئرمین نادرا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر میں نادرا آفس کے قیام سے اراکین چیمبر کو یقیناً سہولیات دستیاب ہوں گی۔

    چیئرمین نادرا نے چیمبر وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ بہاولپور میں قائم دیگر نادرا آفسز کی طرح بہاولپور چیمبر میں بھی نادرا آفس مکمل طور پر فعال کیا جائے گا اور اراکین چیمبر کو تمام سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس آفس کے قیام اور نادرا سروسز کو مانیٹر کریں گے۔ انہوں نے نادرا کی جانب سے دی جانے والی سروسز میں مزید بہتری، آن لائن شناختی کارڈ اپلائی، شناختی کارڈ کی تجدید اور دیگر سروسز کے بارے میں بھی وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے صدر چیمبر کو نادرا ہیڈ کوارٹر کی مکمل سروسز کی فراہمی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

    ملاقات کے آخر میں صدر چیمبر کی جانب سے چیئرمین نادرا کو بہاولپور کی مقامی اجرک اور سوینئیر پیش کیا گیا، جبکہ چیئرمین نادرا نے بھی چیمبر وفد کے اعزاز میں شیلڈز پیش کیں۔

    چیئرمین نادرا سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر چیمبر سید ظفر شریف نے کہا کہ بہاولپور چیمبر کو مثالی چیمبر بنانا ان کا مشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری مسائل کے حل اور ممبران چیمبر کو دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب شازیہ رضوان کا  جیل کا دورہ

    سیالکوٹ: پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب شازیہ رضوان کا جیل کا دورہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب شازیہ رضوان نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کا دورہ کیا اور اسیران کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران شازیہ رضوان نے اسیران کے وارڈز کا معائنہ کیا اور خواتین اسیران سے ملاقات کر کے جیل میں دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔ جیل سپریٹنڈنٹ نے انہیں اسیران کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے جیل میں قائم ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور علاج معالجے کی سہولیات کا مشاہدہ کیا۔

    شازیہ رضوان نے سپریٹنڈنٹ جیل کے ہمراہ کچن کا بھی دورہ کیا اور اسیران کو دیئے جانے والے کھانے کی کوالٹی کو چکھ کر جائزہ لیا۔

  • ملک بھر میں 2 کروڑ 23 لاکھ، سیالکوٹ میں 8 لاکھ بچوں کو پولیو قطرے پلانے کا ہدف

    ملک بھر میں 2 کروڑ 23 لاکھ، سیالکوٹ میں 8 لاکھ بچوں کو پولیو قطرے پلانے کا ہدف

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)وزیر اعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے اعلان کیا ہے کہ قومی انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں 2 کروڑ 23 لاکھ بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے، جس میں ضلع سیالکوٹ کے تقریباً 8 لاکھ بچے شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ہر بچے کو پولیو ویکسین پلانا انتہائی ضروری ہے۔

    ڈی سی آفس سیالکوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ کاردار نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیالکوٹ میں جاری انسداد پولیو مہم کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم میں اب تک 90 فیصد ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ عظمیٰ کاردار نے مزید بتایا کہ سیالکوٹ کی 148 یونین کونسلز میں پولیو مہم جاری ہے اور اب تک 4 لاکھ بچوں کو ان کے گھروں میں جا کر ویکسین دی جا چکی ہے۔

    اجلاس کے دوران پولیو چیئرپرسن کو انسداد پولیو مہم کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس مظفر مختار، ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سیفی، اور ڈی ایچ او ڈاکٹر وسیم مرزا بھی موجود تھے۔ عظمیٰ کاردار نے والدین سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کی تیسری پولیو مہم 30 مئی تک جاری رہے گی۔

    انہوں نے پولیو ٹیموں کی محنت اور والدین کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب کی مشترکہ کاوشوں سے پولیو کے خلاف مہم میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

  • اوچ شریف: مویشی منڈی میں جعلی نوٹوں سے بکرا خریدنے کی کوشش ناکام، 2 فراڈیئے گرفتار

    اوچ شریف: مویشی منڈی میں جعلی نوٹوں سے بکرا خریدنے کی کوشش ناکام، 2 فراڈیئے گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف کی مویشی منڈی میں جعلی نوٹوں کے ذریعے بکرا خرید کر فرار ہونے کی کوشش میں 2 فراڈیئے عوامی ہتھے چڑھ گئے، جن کی خوب درگت بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق، گزشتہ روز مویشی منڈی میں علی رضا نامی ایک فراڈیئے نے اپنے ساتھی بلال کے ہمراہ ایک بکرا خریدا۔ بکرا مالک کو ہزار ہزار روپے کے جعلی نوٹ تھما کر، دونوں بکرا لے کر کار میں سوار ہو کر موقع سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بکرا مالک کو نوٹوں پر شک گزرا تو اس نے لوگوں کو دکھایا، جنہوں نے نوٹ جعلی ہونے کی تصدیق کی۔ اس پر مالک نے شور مچا دیا، اور سڑک پر رش کی وجہ سے پھنسی ہوئی کار کے سوار فراڈیئے گھبرا کر گاڑی سے نکل کر بھاگنے کی کوشش میں پکڑے گئے۔ ایک شخص گاڑی سے نکل کر بھاگنے کی کوشش میں پکڑا گیا، جبکہ دوسرا شخص بکرے اور کار سمیت لوگوں کے ہاتھ آ گیا۔ مشتعل افراد نے دونوں فراڈیوں کی خوب درگت بنائی اور پھر انہیں تھانہ اوچ شریف پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس نے مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو حوالات میں بند کر دیا ہے، جبکہ ان کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔