Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازیخان: وفاقی محتسب کا فری اور فوری انصاف، 179 فیصلے، 13 لاکھ ریلیف، نادرا کو بھی احکامات جاری

    ڈیرہ غازیخان: وفاقی محتسب کا فری اور فوری انصاف، 179 فیصلے، 13 لاکھ ریلیف، نادرا کو بھی احکامات جاری

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)وفاقی محتسب کے ریجنل ہیڈ ڈاکٹر محمد زاہد ملک نے 27 مئی 2025 کو عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک شاندار مثال قائم کی۔ انہوں نے ایک ہی دن میں 179 سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، جن کے نتیجے میں شہریوں کو 13 لاکھ روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا گیا۔ اس کارکردگی نے عوام میں وفاقی محتسب کے ادارے پر اعتماد کو مضبوط کیا۔

    سب سے زیادہ شکایات واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے خلاف تھیں، جن کی تعداد 171 تھی۔ ان میں سے سب ڈویژن ڈیرہ غازی خان سے 84، جام پور سے 65، کوٹ چھٹہ سے 9 اور لیہ سے 13 درخواستوں پر فیصلے کیے گئے۔ واپڈا کے خلاف شہریوں نے بلنگ، ناجائز کٹوتیوں اور دیگر مسائل کی شکایات درج کی تھیں، جن پر فوری اور مفت انصاف فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے خلاف 4 درخواستوں پر فیصلے کیے گئے، جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو 4 شہریوں کے شناختی کارڈز جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

    دور دراز سے ڈیرہ غازی خان انصاف کے حصول کے لیے آنے والے شہریوں نے وفاقی محتسب کے فوری اور مفت انصاف کے نظام کی تعریف کی اور ڈاکٹر محمد زاہد ملک کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ ان کے لیے امید کی کرن ہے، جہاں بغیر کسی فیس یا سفارش کے انصاف ملتا ہے۔

    سماعت کے دوران ڈاکٹر محمد زاہد ملک نے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے حکام کو تنبیہ کی کہ وہ عوام کو ناحق تنگ کرنے سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ "غریبوں کی عدالت” ہے، جہاں انصاف صرف سچائی اور حق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

    اس موقع پر لیاقت علی میمن نے بطور انسپکٹر ریجنل ڈائریکٹر (IRD) وفاقی محتسب ڈیرہ غازی خان کا چارج سنبھال لیا اور عوامی شکایات کے حل کے لیے کام شروع کر دیا۔ ان کی تعیناتی سے ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    وفاقی محتسب کا یہ اقدام ادارے کے بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ عام اور بے بس شہریوں کو بغیر کسی وکیل، سفارش یا فیس کے فوری اور منصفانہ انصاف فراہم کیا جائے۔ اس کارکردگی نے نہ صرف شہریوں کے مسائل حل کیے بلکہ ادارے کے تئیں عوامی اعتماد کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

  • پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکوں کی گونج نے پاکستان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ یوم تکبیر کا دن تھا، جب پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ اس دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کا خواب حقیقت بن گیا، میاں نواز شریف کا عزم فتح یاب ہوا، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سائنسی کاوشوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنیان مرصوص عطا کی۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ قومی غیرت، خودمختاری اور عالم اسلام کے لیے فخر کا لمحہ تھا، جس نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا اور خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس وقت وجود میں آیا جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1965 میں قومی اسمبلی کے خطاب میں اعلان کیا کہ اگر بھارت ایٹم بم بنائے گا تو ہم گھاس کھائیں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے (قومی اسمبلی کے ریکارڈز کے مطابق بھٹو نے 1965 میں اپنے خطاب میں ایٹمی پروگرام کی ضرورت پر زور دیاتھا)۔ ان کے اس وژن نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور پاکستانی قوم کو اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم دیا۔ برسوں بعد جب 11 مئی 1998 کو بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے (دی ہندو کی 11 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے) تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ بھارت نے نہ صرف اپنی ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر فوج جمع کر کے پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کااعلان کردیا۔ بھارتی سائنسدانوں نے تکبر سے دعویٰ کیا کہ جامع ایٹمی پابندی معاہدہ (CTBT) صرف کمزور ممالک کے لیے ہے (ٹائمز آف انڈیا کی 12 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سائنسدانوں نے CTBT کو مسترد کیا)۔ اس گھمنڈ نے پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکایااور پورے ملک سے مطالبہ اٹھا کہ پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں نے بھی اس کی پرزور حمایت کی۔

    اس نازک موڑ پر پاکستان کو مغربی دنیا سے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ دی نیویارک ٹائمز کی 15 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے براہ راست رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ ایٹمی دھماکوں کی صورت میں پاکستان کو سخت اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بی بی سی کی 16 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی قیادت نے بھی پاکستان پر ایٹمی تجربات نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ لیکن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قومی وقار اور سلامتی کو مقدم رکھا۔ جیو ٹی وی کے آرکائیوز کے مطابقوزیراعظم میاں نواز شریف نے 1998 میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنی آزادی اور غیرت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاک فوج کی قیادت نے اس فیصلے میں بھرپور تعاون کیا اور سول و عسکری قیادت کی یہ یکجہتی پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔

    اس عظیم مشن کے مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے، جنہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی سائنسی مہارت اور قومی جذبے سے اس پروگرام کو کامیابی تک پہنچایا۔ ڈان اخبار کی 2004 کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا کہ میں نے اپنی قوم کی حفاظت کے لیے کام کیا۔ 28 مئی 1998 کو جب چاغی کے پہاڑوں میں پانچ ایٹمی دھماکوں کی گونج بلند ہوئی تو پورا پاکستان خوشی سے جھوم اٹھا۔ یہ لمحہ صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں تھا بلکہ شہید بھٹو کے وژن، میاں محمد نواز شریف کے فیصلے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت اور سول عسکری قیادت کے اتحاد کا نتیجہ تھا۔ ڈان اخبار کی 29 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابقوزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نشان پاکستان سے نوازا اور کہا کہ یہ قوم کی طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ اس دن پاکستان نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ ایک خودمختار اور غیرتمند قوم ہے جو اپنی سلامتی پر کوئی سودا نہیں کرے گی۔

    یوم تکبیر کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوئی جب 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنا شاید ناممکن ہوتا۔ اسٹریٹجک اسٹیڈیز انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ایٹمی صلاحیت نے خطے میں دفاعی توازن قائم رکھا اور بھارت کو جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ یہ فتح شہید بھٹو کے اس عزم کی تکمیل تھی کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی آزادی کی حفاظت کرے گا۔ میاں نواز شریف نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفادات کو مقدم رکھا جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر سائنسدانوں نے اپنی محنت سے اس خواب کو حقیقت بنایا۔ پاک فوج اور سول قیادت کی یکجہتی نے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنایا، جس سے پاکستان آج دنیا کے خودمختار ممالک میں سر فخر سے بلند کر کے کھڑا ہے۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اس کی اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے فخر کا باعث ہے۔ یہ عالم اسلام کو پیغام دیتا ہے کہ عزم، اتحاد اور سائنسی ترقی سے کسی بھی دشمن شکست سے دوچار کیاجا سکتا ہے۔ یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک کا یہ سفر ہر پاکستانی کو یاد دلاتا ہے کہ ہماری قیادت نے مشکل حالات میں بھی اپنی غیرت اور خودمختاری پر سودا نہیں کیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وژن، میاں نواز شریف کا عزم، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سائنسی کاوشیں اور سول عسکری قیادت کی یکجہتی اس بنیان مرصوص کی بنیاد ہیں۔آج دنیا کے افق پر پاکستان کا پرچم شان و شوکت سے لہرا رہا ہے، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک غیرت مند، خودمختار قوم ہیں جو اپنی مٹی، اپنے وقار اور اپنے نظریے کی حفاظت کرنا جانتی ہے اور دشمن کی ہر سازش کا سینہ تان کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔

  • عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع ضلع راجن پور، محض ایک جغرافیائی حد بندی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جو فطرت کے حسین مناظر، دریا اور پہاڑوں کی آغوش میں ہونے کے باوجود محرومیوں، پسماندگی اور بے توجہی کی تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ ضلع ایک طرف کوہِ سلیمان کے دلکش پہاڑی سلسلے سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف دریاۓ سندھ کی موجیں اس کی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ قدرتی حسن کی یہ سرزمین معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں نہ صرف پیچھے رہ گئی بلکہ کئی حوالوں سے وقت کے قافلے سے کٹ کر رہ گئی ہے۔

    جب ڈیرہ غازی خان کو ڈویژن کا درجہ ملا، تو اس کے ساتھ ہی اس کی تحصیل راجن پور کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس تبدیلی سے علاقے کی تقدیر نہ بدل سکی۔ ترقیاتی عمل یہاں تک پہنچتے پہنچتے جیسے تھک سا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان، بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی اور سب سے بڑھ کر قبائلی و جاگیردارانہ نظام کی جکڑ نے اس خطے کے عوام کو ایک مسلسل معاشرتی جمود میں قید کر رکھا ہے۔

    راجن پور کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ یہاں کی خواتین ہیں، جو دہری محرومی کا شکار ہیں۔ ایک طرف پسماندہ معیشت اور بنیادی سہولیات کی کمی، تو دوسری طرف روایتی تمن داری، قبائلی رسوم و رواج، اور سماجی رکاوٹیں۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور خود مختاری کے مواقع فراہم کرنا آج بھی ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔

    یہ بات سچ ہے کہ راجن پور آج بھی کئی حوالوں سے محروم ہے، مگر تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ سیلاب، غربت اور بندشوں نے اگرچہ پروین بی بی جیسی خواتین کی زندگیاں مفلوج کر دیں، لیکن یہی بحران ان کے لیے ایک موقع بھی بن گیا۔ انہوں نے تربیت حاصل کی، روزگار اپنایا، اور رفتہ رفتہ خود کو اور اپنے علاقے کو بدلنے لگیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر حالات کو بدلا جائے، مواقع دیے جائیں، تو محرومیوں کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے۔

    تاہم، اس سیاہی میں امید کی کچھ روشن کرنیں بھی نظر آتی ہیں۔ راجن پور کی کچھ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنے حوصلے، علم، ہنر اور آواز کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے نئی راہیں تلاش کیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی مشعلِ راہ بنیں۔ ان میں ڈاکٹر شریں مزاری کا نام نمایاں ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں، جبکہ منیبہ مزاری ایک حوصلہ مند کہانی اور خواتین کے لیے طاقت کی علامت ہیں۔ شازیہ عابد اور نرجس بتول، شہناز اکبر جیسے نام بھی راجن پور کی شناخت کا فخر ہیں جنہوں نے سماجی سطح پر خدمات انجام دے کر خواتین کی آواز کو تقویت دی۔

    حال ہی میں راجن پور کی تاریخ میں ایک مثبت موڑ اس وقت آیا جب موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق، جو نہ صرف ایک فعال منتظم بلکہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے افسر ہیں، نے "عورت بااختیار قومی کانفرنس” کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ اُس گونگی آواز کو زبان دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی جو صدیوں سے دبی ہوئی ہے۔

    ملک بھر سے ممتاز خواتین، ماہرین اور سماجی کارکنان اس کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کی موجودگی نے راجن پور کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان رول ماڈل خواتین کی کامیابیاں ایک ایسی روشنی ہیں جس کی کرنیں اب راجن پور کی گلیوں، بستیوں اور جھونپڑیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف ہیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اُن کی قیادت میں راجن پور جیسے اضلاع کے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ایسے میں خواتین کی قومی کانفرنس کا راجن پور میں انعقاد یہ ثابت کرتا ہے کہ اب پسماندہ علاقوں کی خواتین بھی قومی مکالمے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

    راجن پور کی عورت اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار بننے کو تیار ہے۔ اسے اگر تعلیم، تربیت، معاشی خودمختاری، اور تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ معاشرے کے دھارے کو بھی مثبت سمت میں موڑ سکتی ہے۔

    یہ وقت ہے کہ ہم راجن پور کی عورت کی آواز بنیں، اس کے مسائل کو سنیں، اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ جب ایک عورت بااختیار ہوتی ہے، تو ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، اور جب ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، تو ایک قوم کی تقدیر بدلتی ہے۔

  • ہندوتوا کا خونی چہرہ، مدھیہ پردیش میں قبائلی خاتون سےاجتماعی زیادتی و لرزہ خیز قتل

    ہندوتوا کا خونی چہرہ، مدھیہ پردیش میں قبائلی خاتون سےاجتماعی زیادتی و لرزہ خیز قتل

    مودی کے ہندوتوا بھارت میں درندگی کی انتہا؛ قبائلی خاتون کی اجتماعی زیادتی کے بعد سفاکانہ قتل، ملک ’ریپستان‘ بن گیا،انسانیت سسک اٹھی، مدھیہ پردیش میں خاتون کے جسم کے اعضا چاک، قاتل آزاد

    بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں درندگی کی ایک ایسی لرزہ خیز واردات پیش آئی ہے جس نے پورے ملک کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ضلع کھنڈوا میں ہندوتوا نظریے سے متاثر جنونی افراد نے ایک قبائلی خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس قدر سفاکی سے قتل کیا کہ انسانیت بھی شرما گئی۔ سفاک ملزمان نے خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اُس کے جسم کو اس درندگی سے نوچا کہ اندرونی اعضا باہر آ گئے۔ قاتلوں نے خاتون کے جسم میں لوہے کی سلاخیں داخل کیں، اس کی کوکھ باہر نکالی اور پھر خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    مقتولہ دو بچوں کی ماں تھیں اور تعلق ایک غریب قبائلی برادری سے تھا۔ جائے واردات سے خاتون کے جسم کے بکھرے اعضا بھی برآمد ہوئے، جنہیں دیکھ کر اہل علاقہ اور پولیس اہلکار بھی لرز گئے۔ خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقے اس واقعے کو مودی سرکار کے دور میں قانون کی ناکامی اور اقلیتوں، خاص طور پر قبائلی خواتین کے خلاف بڑھتی درندگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    مدھیہ پردیش جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے زیرِ انتظام ہے، حالیہ برسوں میں جنسی جرائم کے حوالے سے کئی بار خبروں کی زینت بن چکا ہے۔ خواتین کے خلاف زیادتی کے بڑھتے واقعات پر بھارتی سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنان بھارت کو ’ریپستان‘ کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔

    یہ واقعہ صرف ایک خاتون کے ساتھ درندگی کا نہیں بلکہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر قبائلی برادریوں، کی جان و مال کے تحفظ کی بدترین صورتحال کا آئینہ دار ہے۔ انتہاپسند عناصر کو کھلی چھوٹ ملنے سے ایسے جرائم نہ صرف بڑھتے جا رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی امید بھی دم توڑتی جا رہی ہے۔

  • سیالکوٹ: PP-52 ضمنی الیکشن، سیکیورٹی پلان حتمی شکل دے دی گئی

    سیالکوٹ: PP-52 ضمنی الیکشن، سیکیورٹی پلان حتمی شکل دے دی گئی

    سیالکوٹ (بیوروچیف باغی ٹی وی شاہد ریاض) ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کی زیر صدارت حلقہ PP-52 کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات پر اہم اجلاس پولیس لائنز سیالکوٹ میں منعقد ہوا، جس میں تمام ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور متعلقہ شعبہ جات کے افسران نے شرکت کی۔

    ڈی پی او نے اجلاس میں بتایا کہ سیالکوٹ پولیس نے ضمنی انتخابات کے لیے ایک جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا ہے جس کے تحت حساس پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے، جہاں اضافی نفری، خواتین اہلکار، کیمروں سے نگرانی اور ریزرو فورس تعینات کی جائے گی۔ انتخابی عمل کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے فوری رسپانس ٹیمیں اور کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ ایمرجنسی سروسز سے بھی مربوط رابطہ رکھا جائے گا۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ پولنگ اسٹیشنز کے اطراف امن و امان کی صورتحال پر سخت نظر رکھیں اور سیاسی یا ذاتی دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو کھانے، پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو بھی سیکیورٹی پلان کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا سکیں۔

    اجلاس میں تمام افسران نے اپنی تیاریوں سے آگاہ کیا اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اظہار کیا۔

  • پنڈی بھٹیاں: بدترین لوڈ شیڈنگ، بچوں اور مریضوں کو شدید مشکلات

    پنڈی بھٹیاں: بدترین لوڈ شیڈنگ، بچوں اور مریضوں کو شدید مشکلات

    حافظ آباد (خبرنگارشمائلہ) پنڈی بھٹیاں کے علاقے ٹبہ شاہ بہلول اور گردونواح میں بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی ہے۔ شدید گرمی اور گھنٹوں جاری رہنے والی بجلی کی بندش نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں۔

    والدین کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے کے باعث بچے رات کو سکون سے سو نہیں پاتے اور صبح وقت پر اُٹھنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

    علاقے میں موجود ہسپتالوں اور گھروں میں زیرِ علاج مریضوں کے لیے یہ صورتحال مزید تکلیف دہ بنتی جا رہی ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی سے نہ صرف تیمارداری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ مشینوں پر انحصار کرنے والے مریض بھی اذیت کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں۔ مقامی تاجروں نے شکایت کی ہے کہ بجلی کی بندش نے ان کے روزگار کو شدید نقصان پہنچایا ہے، دکانیں ویران ہو گئی ہیں اور صارفین کی آمد کم ہو چکی ہے۔

    اہلِ علاقہ نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے اور علاقے میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں، خصوصاً بچوں، مریضوں اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

  • اوکاڑہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا پولیو مہم کا جائزہ، والدین سے تعاون کی اپیل

    اوکاڑہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا پولیو مہم کا جائزہ، والدین سے تعاون کی اپیل

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر نے یونین کونسل 95 میں انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف گھروں کا دورہ کر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کا معائنہ کیا اور ویکسینیشن کے حوالے سے ڈور مارکنگ، فنگر مارکنگ اور ٹیلی شیٹس کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے مہم کے مائیکرو پلان، ٹرانزٹ اور فکسڈ پوائنٹس پر بھی ویکسینیشن کی نگرانی کی اور ٹیموں کو ہدایت کی کہ سخت موسم کے باوجود تمام ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ویکسینیشن کے دوران تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھا جائے تاکہ بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    چوہدری عبدالجبار گجر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ انسداد پولیو مہم کی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں تاکہ معاشرے کو اس مہلک مرض سے پاک کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر کا انسداد پولیو مہم کا جائزہ، والدین سے تعاون کی اپیل

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر کا انسداد پولیو مہم کا جائزہ، والدین سے تعاون کی اپیل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے ضلع میں جاری قومی انسداد پولیو مہم کا فیلڈ میں جا کر جائزہ لیا، مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور پولیو ٹیموں کی کارکردگی کو چیک کیا۔ انہوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے والے گھروں کی ڈور ٹو ڈور انسپکشن بھی کی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے انسداد پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ دیے گئے نقشہ جات اور مائیکرو پلان کے مطابق اپنی کارروائی جاری رکھیں، ویکسین کی کولڈ چین کا خاص خیال رکھیں، اور گھروں میں موجود نہ ہونے والے بچوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھ کر ایس او پیز کے مطابق انہیں کور کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ وائرس کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں 30 مئی تک پولیو ٹیم نہیں پہنچتی یا انسداد پولیو سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات یا رہنمائی درکار ہو تو شہری ڈسٹرکٹ کنٹرول روم کے نمبر 052-9250011 پر فوری رابطہ کریں۔

  • سرگودھا: سرکاری سکول میں کرپشن، سی ای او کی سرد مہری، وزیر تعلیم کے احکامات ردی میں پھینک دئے گئے

    سرگودھا: سرکاری سکول میں کرپشن، سی ای او کی سرد مہری، وزیر تعلیم کے احکامات ردی میں پھینک دئے گئے

    سرگودھا(باغی ٹی وی،نامہ نگارملک شاہنواز جالپ) سرکاری اسکول میں کرپشن کا نیا انداز، سی ای او ایجوکیشن بے اختیار، صوبائی وزیر کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا

    سرگودھا کے گورنمنٹ ایم سی گرلز ہائی اسکول میں کرپشن کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آ گیا ہے جہاں سابقہ ہیڈ مسٹریس اور ایس ایس ٹیچر بشریٰ پروین کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ پروین بغیر میڈیکل چھٹی یا سرکاری اجازت کے طویل عرصے تک غیر حاضر رہی اور تنخواہیں وصول کرتی رہیں، جس سے شفافیت شدید متاثر ہوئی۔ اسکول شہر کے مرکزی علاقے اور تعلیمی اداروں کے اعلیٰ حکام کے دفاتر کے قریب ہونے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی میں غفلت برتی جا رہی ہے۔

    نئی تعینات ہیڈ مسٹریس مہناز گیلانی نے انکشافات کے بعد تحریری طور پر انکوائری کی سفارش کی، جس کے باوجود ڈی ای او اور سی ای او ایجوکیشن کلثوم منشاء کی طرف سے سرد مہری دکھائی دے رہی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے حالیہ دورے میں بھی اسکول کی صورتحال پر فوری کارروائی کے احکامات دیے گئے تھے مگر عملدرآمد نہ ہونے سے شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔

    علاقہ مکینوں، والدین اور سول سوسائٹی نے بدعنوانی پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ اور افسران کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے اور سی ای او و ڈی ای او ایجوکیشن کے کردار کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کی بقاء کے لیے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت پنجاب سمیت اینٹی کرپشن اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ تعلیمی ادارے کرپٹ عناصر سے پاک ہو سکیں۔

  • سیالکوٹ:ڈی پی او کا ایکشن، شہری سے بدسلوکی پر ایس ایچ او معطل

    سیالکوٹ:ڈی پی او کا ایکشن، شہری سے بدسلوکی پر ایس ایچ او معطل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے شہری سے ناروا سلوک کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے تھانہ مراد پور کے ایس ایچ او اکرم شہباز کو معطل کر دیا اور ان کے خلاف انکوائری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ڈی ایس پی صدر محمد نعمان کو واقعے کی مکمل تحقیقات کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

    واقعہ کے مطابق، ٹبی آرائیاں کے رہائشی شہری قیصر نے چوری کی واردات کی اطلاع 15 پر کال کرکے دی تھی، تاہم ایس ایچ او اکرم شہباز نے مبینہ طور پر مقدمہ درج کرنے کے بجائے شہری کو جھوٹی کال کا الزام دے کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں ہراساں کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے افسران کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں، قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

    ڈی پی او سیالکوٹ نے واضح کیا کہ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے، اور کسی بھی ناانصافی پر فوری اور مؤثر کارروائی جاری رہے گی۔