Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: خصوصی افراد میں وہیل چیئرز اور معاون آلات کی تقسیم

    سیالکوٹ: خصوصی افراد میں وہیل چیئرز اور معاون آلات کی تقسیم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خصوصی افراد کے لیے معاون آلات اور وہیل چیئر پروگرام کے تحت سیالکوٹ میں معذور افراد میں وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات تقسیم کیے گئے۔ اس تقریب میں اراکین صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ اور چودھری طارق سبحانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شریف گھمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاصمہ احمد اور ابرار عبداللہ ساہی بھی موجود تھے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ حکومت پنجاب خصوصی اور نادار افراد کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور عوامی فلاحی منصوبوں کی تکمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات عوامی خدمت میں مصروف ہیں اور ہر شعبہ زندگی کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔

    چیئرمین پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی چودھری طارق سبحانی نے کہا کہ ہمت کارڈ کے بعد اب خصوصی افراد میں معاون آلات کی فراہمی مریم نواز شریف کے خدمت کے عزم کا عملی مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت خدمت کی سیاست کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کر رہی ہے، اور معذور افراد کو معاشرے کا باعزت حصہ بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    شرکاء نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے تحت مزید فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔

  • ڈسکہ: پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز، 1 لاکھ 70 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    ڈسکہ: پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز، 1 لاکھ 70 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) ملک بھر کی طرح ڈسکہ میں بھی پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تحصیل بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے 1 لاکھ 70 ہزار 500 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم 26 مئی سے 30 مئی تک جاری رہے گی۔

    ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سادات انور نے خانہ بدوش بستیوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے اور وٹامن اے کی خوراک پلا کر مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 611 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں 568 موبائل ٹیمیں، 29 فکس ٹیمیں اور 14 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔

    یہ ٹیمیں گھروں، اسکولوں، مدارس، بس اسٹینڈز اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی اور وٹامن اے کی خوراک بھی فراہم کریں گی۔ ڈاکٹر سادات انور نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں مستقل معذوری سے بچایا جا سکے اور پاکستان کو پولیو فری ملک بنایا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: ٹریفک حادثے پر ڈاکٹر افتخار امجد کا اظہار افسوس، ہیوی ٹریفک پر پابندی کا مطالبہ

    اوکاڑہ: ٹریفک حادثے پر ڈاکٹر افتخار امجد کا اظہار افسوس، ہیوی ٹریفک پر پابندی کا مطالبہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)سابق صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع اوکاڑہ اور معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر افتخار امجد نے کہا ہے کہ دو روز قبل ہونے والے المناک ٹریفک حادثے میں محمد ندیم اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت نے ضلع بھر کی فضاء کو سوگوار کر دیا ہے۔ شہری حدود میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات ضلعی پولیس اور ٹریفک حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر افتخار امجد نے کہا کہ اوکاڑہ شہر میں ہیوی ٹریفک کی بلا روک ٹوک آمد و رفت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے، جس کے سدباب کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ٹریفک پولیس افسر سے مطالبہ کیا کہ شہری اور تعلیمی اداروں کی حدود میں ہیوی گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جائے، اور ان گاڑیوں کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر کیا جائے تاکہ ایسے اندوہناک حادثات سے بچا جا سکے۔

    ڈاکٹر افتخار امجد نے زور دیا کہ ٹریفک کے بگڑتے ہوئے نظام کو قابو میں لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیسے اسپیڈ کیمرے، مانیٹرنگ سسٹمز، اور خودکار چالاننگ کا استعمال کیا جائے تاکہ تیز رفتاری، بے ہنگم ڈرائیونگ اور غلط اوور ٹیکنگ جیسے عوامل پر قابو پایا جا سکے۔

    انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے، تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے محمد ندیم اور ان کے بچوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

  • اوکاڑہ: سی سی ڈی پولیس اور ڈاکوؤں میں مقابلہ، دو گرفتار، ایک فرار، اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد

    اوکاڑہ: سی سی ڈی پولیس اور ڈاکوؤں میں مقابلہ، دو گرفتار، ایک فرار، اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) سی سی ڈی پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان کراس فائرنگ کے تبادلے میں دو ڈاکو گرفتار کر لیے گئے جبکہ ایک ڈاکو موقع سے فرار ہوگیا۔ ترجمان سی سی ڈی کے مطابق، سی سی ڈی ٹیم اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے دیا رام پل پر موجود تھی کہ اسی دوران لکڑانوالہ کی جانب سے تین موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد نمودار ہوئے۔

    سی سی ڈی ٹیم نے رکنے کا اشارہ کیا تو ڈاکوؤں نے سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ موٹر سائیکل تیزی سے موڑتے ہوئے پھسل گئی، جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا، جسے فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار زخمی ڈاکو کی شناخت محمد ارشد عرف صدی، سکنہ لکڑانوالہ کے نام سے ہوئی ہے۔

    سی سی ڈی ٹیم نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے دوسرے ساتھی کو بھی تعاقب کر کے گرفتار کر لیا، جس کی شناخت احمد شہزاد، سکنہ 56 ڈی پاکپتن کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کر لیا گیا ہے، جو بعد ازاں چیکنگ پر چوری شدہ نکلا۔

    فرار ہونے والے تیسرے ڈاکو کی تلاش کے لیے سی سی ڈی اور مقامی پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ سی سی ڈی پولیس کی ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ زخمی ڈاکو کو علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • سیالکوٹ: صوبائی وزیر فیصل ایوب کھوکھر کا سوشل سیکیورٹی ہسپتال کا دورہ،ریلیف کا اعلان

    سیالکوٹ: صوبائی وزیر فیصل ایوب کھوکھر کا سوشل سیکیورٹی ہسپتال کا دورہ،ریلیف کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض) صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت فیصل ایوب کھوکھر نے سوشل سیکیورٹی ہسپتال سیالکوٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور زیر علاج مریضوں کی عیادت کی۔ صوبائی وزیر نے او پی ڈی، ایمرجنسی، میڈیکل وارڈ، فارمیسی اور لیبارٹری سمیت تمام یونٹس میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انہوں نے ایم ایس اور طبی عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ سوشل سیکیورٹی کے تحت پنجاب کے تمام ہسپتالوں کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا۔ فیصل ایوب کھوکھر کے مطابق سوشل سیکیورٹی ہسپتال سیالکوٹ 64 ہزار رجسٹرڈ لیبر خاندانوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جس سے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور سٹاف کی کمی جلد پوری کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ہدایت کی کہ چائلڈ لیبر کی کسی صورت اجازت نہ دی جائے، جبکہ محکمہ لیبر کم از کم اجرت کی فراہمی یقینی بنائے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر نے صوبائی وزیر کو محکمانہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    صوبائی وزیر نے مزید اعلان کیا کہ یکم جولائی سے وزیراعلیٰ پنجاب راشن کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے، جس سے محنت کش طبقے کو براہ راست ریلیف ملے گا۔

  • ڈسکہ: بیٹے نے معمولی تکرار پر قینچی مار کر باپ کو قتل کر دیا

    ڈسکہ: بیٹے نے معمولی تکرار پر قینچی مار کر باپ کو قتل کر دیا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) ڈسکہ میں باپ بیٹے کے درمیان گھریلو جھگڑا خونی صورت اختیار کر گیا، معمولی تکرار کے بعد ناخلف بیٹے نے قینچی کے وار سے اپنے ضعیف والد کو قتل کر دیا۔ واقعہ تھانہ سٹی کے علاقے محلہ حاجی پورہ میں پیش آیا جہاں ارشد محمود نامی بزرگ شہری کا اپنے حقیقی بیٹے ثمران سے گھریلو تنازع ہو گیا۔ تکرار کے دوران بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی اور ثمران نے غصے میں آ کر زمین پر پڑی قینچی اٹھا کر اپنے باپ کے سینے میں گھونپ دی۔

    شدید زخمی ارشد محمود کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ اطلاع ملتے ہی سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا، جب کہ ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اہل علاقہ نے افسوسناک واقعے پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان :کارڈیالوجی ہسپتال،سکیورٹی گارڈز 5 ماہ سے بغیر تنخواہ، انتظامیہ کے خلاف احتجاج

    ڈیرہ غازی خان :کارڈیالوجی ہسپتال،سکیورٹی گارڈز 5 ماہ سے بغیر تنخواہ، انتظامیہ کے خلاف احتجاج

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی سٹی رپورٹرجواداکبر) سردار فتح محمد بزدار انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سکیورٹی گارڈز نے پانچ ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انتظامیہ کی مسلسل لاپرواہی کے خلاف ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر زبردست احتجاج کیا۔ پلے کارڈز اٹھائے غریب گارڈز نے "ہمارا حق دو، تنخواہیں ادا کرو!”، "انتظامیہ کی ظالمانہ پالیسی ختم کرو!” اور "بھوک سے مر رہے ہیں، انصاف کب ملے گا؟” جیسے نعرے لگائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت لا دی ہے، بچوں کی تعلیم اور گھریلو اخراجات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایک گارڈ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم شرم سے رات کو منہ چھپا کر گھر جاتے ہیں کیونکہ گھر والوں سے آنکھیں نہیں ملتیں۔”

    گارڈز نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے نہ صرف تنخواہیں روک رکھی ہیں بلکہ احتجاج کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بائیو میڈیکل انجینیئر محمد وسیم، جو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے قریبی ہیں، سیکیورٹی انچارج کا کردار بھی نبھا رہے ہیں اور شکایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ مقامی سماجی کارکنوں اور لیبر یونین رہنماؤں نے انتظامیہ پر ملازمین کے بنیادی حقوق پامال کرنے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ اگر تنخواہیں فوری ادا نہ کی گئیں تو ہڑتال کی جائے گی، جس سے ہسپتال کی سکیورٹی اور مریضوں کی سہولیات متاثر ہوں گی۔

    عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور سیکرٹری صحت پنجاب سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے کہ گارڈز کی تنخواہیں ادا کی جائیں اور انتظامیہ کے غیر انسانی رویے کی تحقیقات کی جائے۔ یہ صرف تنخواہوں کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا سوال ہے۔ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ احتجاج ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو ہسپتال کی ساکھ اور خدمات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔

  • پاک بھارت جنگ 2025:فتح ، شکست اور عالمی میڈیا

    پاک بھارت جنگ 2025:فتح ، شکست اور عالمی میڈیا

    پاک بھارت جنگ 2025:فتح ، شکست اور عالمی میڈیا
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    مئی 2025 کا پاک بھارت فوجی تصادم جو محض چار دن جاری رہا، نہ صرف جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا بلکہ عالمی میڈیا کے لیے ایک سنسنی خیز داستان بھی بن گیا۔ یہ تنازعہ، جومقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں 26 شہریوں کی ہلاکت سے شروع ہوا، دو جوہری طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک کھیل تھا، جس نے دنیا کو ایک ممکنہ تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ عالمی میڈیا نے اس تنازعہ کو مختلف زاویوں سے دیکھاپاکستان کی فوج کی بحال شدہ ساکھ سے لے کر بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی تک اور ڈس انفارمیشن سے لے کر عالمی ثالثی کی کمزوریوں تک،ہم اس کالم میں تنازعہ کے فتح و شکست کے دعوئوں، اس کے اثرات اور عالمی میڈیا کے تجزیاتی نقطہ نظر کی روشنی میں اس کی گہرائی سے جائزہ پیش کررہے ہیں۔

    تنازعہ 7 مئی 2025 کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارت نے پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مقامات پر بمباری کی، جسے اس نے "آپریشن سندور” کا نام دیا۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت نے اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ قرار دیا جبکہ پاکستان نے اسے شہری علاقوں پر جارحیت کہا۔ چار روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کا تبادلہ کیا۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ "How the India-Pakistan Clashes Unfolded and What We Know About the Cease-Fire” میں لکھا کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی، جیسے کہ ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال نے اس تنازعہ کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے 10 مئی کو جنگ بندی ہوئی، لیکن دونوں ممالک نے فتح کے دعوے کیے، جس نے تنازعہ کے نتائج پر عالمی بحث کو جنم دیا۔

    پاکستان کے لیے یہ تنازعہ فوج کی ملکی ساکھ کو بحال کرنے کا ایک سنہری موقع ثابت ہوا۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ "How conflict with India helped boost the Pakistan militarys domestic image” میں بتایا کہ پاکستانی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے دعوی کیا کہ پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیاروں، ایک ڈرون اور کئی کواڈ کاپٹروں کو مار گرایا۔ اس کامیابی نے پاکستانی فضائیہ کی صلاحیت کو اجاگر کیا اور 11 مئی کو ہزاروں افراد نے فوج کی حمایت میں ریلیاں نکالیں، جو مئی 2023 کے فوج مخالف مظاہروں کے بالکل برعکس تھا۔ پاکستانی تجزیہ کار عارفہ نور نے کہا کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ تنازعہ عوام کو فوج کے گرد متحد کرتا ہے اور اس تنازعہ نے پاکستانی فوج کو قومی فخر کا نشان بنا دیا۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ "Kashmir: How China benefited from India-Pakistan hostilities” میں لکھا کہ چینی ساختہ J-10C جنگی طیاروں اور PL-15 میزائلوں کی کامیابی نے پاکستان کی فوجی طاقت کو مضبوط کیا اور چین کی دفاعی صنعت کی عالمی ساکھ کو فروغ دیا۔ تاہم، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ یہ مقبولیت عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ سیاسی مسائل جیسے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری، عوامی جذبات کو تقسیم کر رہے ہیں۔

    بھارت کے لیے یہ تنازعہ اسٹریٹجک ناکامی کا باعث بنا۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ "Why Theres No Battlefield Solution to Indias Perpetual Pakistan Problem” میں لکھا کہ بھارت کو کوئی واضح فوجی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی حملوں سے محدود نقصان ہوا اور سابق قومی سلامتی مشیر شیو شنکر مینن نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تنازعہ بھارت کے لیے ایک "اسٹریٹجک خلفشار” ہے جو اس کی ترقی کو متاثر کرتا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ "What did India and Pakistan gain and lose in their military standoff?” میں بتایا کہ بھارت نے کشمیر کے تنازعہ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، لیکن اس کی سخت گیر پالیسیوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا۔ نریندر مودی کی ہندو قوم پرست پالیسیوں نے پاکستانی عوام اور عالمی برادری میں بھارت کے خلاف جذبات کو ہوا دی، جس سے بھارت کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی۔

    عالمی ردعمل اس تنازعہ کے حوالے سے ملاجلا رہا۔ روائٹرز نے اپنی رپورٹ "Pakistan says it is committed to truce with India, vows response to aggression” میں لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی نے جنگ بندی کو ممکن بنایا۔ تاہم، انڈراسٹرا نے اپنی رپورٹ "India and Pakistans Escalating Conflict: A Crisis Without a Mediator” میں خبردار کیا کہ عالمی ثالثی کے میکانزم کمزور ہو رہے ہیں۔ چین نے پاکستانی فوج کی حمایت کی، جیسا کہ ووکل میڈیا نے اپنی رپورٹ "India-Pakistan Crisis 2025: A Comprehensive Political, Economic, and Global Analysis” میں ذکر کیا جبکہ ایران اور روس نے خطے کے استحکام کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

    ڈس انفارمیشن نے اس تنازعہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ "Why Disinformation Surged During the India-Pakistan Crisis” میں لکھا کہ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز، جیسے کہ ایرانی میزائل حملوں کو بھارتی حملوں کے طور پر پیش کرنا اور مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز نے عوامی جذبات کو بھڑکایا۔ اٹلانٹک کونسل نے اپنی رپورٹ "Experts react: India and Pakistan have agreed to a shaky cease-fire” میں بتایا کہ پاکستان نے ایکس پر پابندی ہٹائی جبکہ بھارت نے ہزاروں ایکس اکائونٹس کو ڈس انفارمیشن پھیلانے کے الزام میں ہٹایا۔ اس ڈس انفارمیشن نے دونوں ممالک کے دعوئوں کی صداقت پر سوالات اٹھائے اور عالمی برادری کے لیے تنازعہ کے حقائق کو سمجھنا مشکل بنا دیا۔

    مستقبل کے امکانات کے حوالے سے، بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے اپنی رپورٹ "Lessons for the next India-Pakistan war” میں لکھا کہ دونوں ممالک اس تنازعہ سے فوجی سبق سیکھیں گے۔ بھارت کے حملوں نے پاکستان کے حساس فوجی اڈوں جیسے کہ نور خان ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کے فضائی دفاع کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ دوسری جانب چینی ہتھیاروں کی کامیابی نے پاکستان کی حکمت عملی کو مضبوط کیا۔ بیلفر سینٹر نے اپنی رپورٹ "Escalation Gone Meta: Strategic Lessons from the 2025 India-Pakistan Crisis” میں خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور جدید ٹیکنالوجی نے غلط فہمیوں کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ سی بی ایس نیوز نے اپنی رپورٹ "Why were India and Pakistan on the brink of war?” میں کہا کہ کشمیر کا تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے اور اس کے حل کے بغیر مستقل امن ممکن نہیں۔

    مئی 2025 کا پاک بھارت تنازعہ ایک فوجی تصادم سے کہیں زیادہ تھایہ قومی فخر، سیاسی تقسیم اور عالمی سفارت کاری کی آزمائش تھا۔ پاکستانی فوج کی بحال شدہ ساکھ، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا نے قومی اتحاد کو فروغ دیا، لیکن نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سیاسی عدم استحکام اسے عارضی بنا سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ تنازعہ اسٹریٹجک ناکامی کا باعث بنا، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے بیان کیا جبکہ عالمی میڈیا نے اسے جوہری خطرات اور ڈس انفارمیشن کے تناظر میں دیکھا۔ کشمیر کا تنازعہ جو اس تصادم کی جڑ ہے، اب بھی حل طلب ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ثالثی کے میکانزم کو مضبوط کرے اور اس خطے میں امن کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے، ورنہ یہ تنازعہ مستقبل میں مزید تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں بے نقاب

    بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں بے نقاب

    بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں بے نقاب
    تحریر: سیدریاض جاذب
    بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں جو FATF، ورلڈ بینک اور IMF میں پاکستان کے خلاف مہمیں بے نقاب ہوگئیں۔ پاکستان کی اقتصادی بحالی اور ترقی ایک عرصے سے دشمن عناصر کو کھٹک رہی ہے، خصوصاً بھارت کو، جو خطے میں اپنی بالادستی کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر پاکستان کے خلاف ہر سطح پر سازشوں میں مصروف ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر بھارت کی ایسی کوششیں عالمی منظرنامے پر بے نقاب ہوئی ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی طور پر کمزور کرنا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

    بھارت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی دوبارہ شمولیت کی کوششیں بے کار گئیں۔ سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کو ایک بے بنیاد اور من گھڑت ڈوزیئر پیش کیا ہے، جس میں پاکستان پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان FATF کی تمام سفارشات پر عملدرآمد میں ناکام رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں اس سلسلے میں غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔

    بھارت کا مقصد واضح ہے کہ پاکستان کو دوبارہ FATF کی گرے لسٹ میں شامل کروا کر اسے عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں لانا اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا تاکہ ترقیاتی عمل متاثر ہو۔ تاہم عالمی مبصرین اس ڈوزیئر کو سیاسی مقاصد پر مبنی اور تعصب سے بھرپور قرار دے رہے ہیں۔

    بھارت کی سازشیں صرف FATF تک محدود نہیں رہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے منظور کردہ 20 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کی۔ اس مخالفت کے پیچھے بھارت کا وہی پرانا بیانیہ ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر غیر ترقیاتی مقاصد کے لیے فنڈز کا استعمال کرتا رہا ہے، حالانکہ اس کا کوئی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی ان حرکتوں کا مقصد پاکستان کی اقتصادی بحالی کو روکنا اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو خراب کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے پاکستان سے دور رہیں۔

    بھارت نے آئی ایم ایف پروگرام میں مداخلت کی ناکام کوشش کی ہے۔ بھارت نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ جاری مالیاتی مذاکرات پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی، تاکہ پاکستان کے لیے طے پانے والے پروگرام کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے بھارت کے غیر متعلقہ اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جاری معاہدے کو برقرار رکھا، جو پاکستان کی معاشی شفافیت اور اصلاحاتی عمل پر بین الاقوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔

    پاکستانی حکام نے بھارت کے ان بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت خطے میں امن اور ترقی کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ پاکستان کی جانب سے FATF کی تمام سفارشات پر مؤثر عملدرآمد، مالیاتی شفافیت اور بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری کو سراہا جانا چاہیے نہ کہ سازشوں کی بھینٹ چڑھایا جائے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کی ان کوششوں کا مقصد صرف پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانا ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں اپنی غیر فطری بالادستی قائم رکھنا بھی ہے۔ اگر ان سازشوں کو روکا نہ گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

    بھارت کی جانب سے FATF، ورلڈ بینک اور IMF جیسے بین الاقوامی اداروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی یہ مذموم کوششیں بین الاقوامی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دنیا بھارت کے دوہرے معیار اور سازشی کردار کا ادراک کرے اور پاکستان کے مثبت، شفاف اور ترقی پسند اقدامات کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و ترقی کے سفر کو یقینی بنائے۔

    یہاں یہ بات لائق تحسین اور اطمینان بخش ہے کہ بھارت کے منفی پراپیگنڈے کے مقابلے میں پاکستان نے مؤثر جواب اور حکمت عملی اپنائی جس سے پاکستان کا کردار واضح اور روشن علامت کے طور پر ابھرا اور بھارت کو ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: بستی گجوجی میں الفلاح فاؤنڈیشن کافری میڈیکل کیمپ، 650 مریضوں کا مفت علاج

    ڈیرہ غازی خان: بستی گجوجی میں الفلاح فاؤنڈیشن کافری میڈیکل کیمپ، 650 مریضوں کا مفت علاج

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)الفلاح فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بستی گجوجی، یونین کونسل چھابری بالا میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں 650 مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا گیا۔ کیمپ میں تین ماہر ڈاکٹروں نے مریضوں کا معائنہ کیا، جبکہ خواتین کے لیے علیحدہ لیڈی ڈاکٹر نے نہ صرف چیک اپ کیا بلکہ 48 مفت الٹراساؤنڈ ٹیسٹ بھی کیے۔

    فری کیمپ کے دوران 80 سے زائد لیبارٹری ٹیسٹ بھی مفت فراہم کیے گئے اور مریضوں کو مفت ادویات بھی دی گئیں۔ کیمپ میں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی مسائل کے حل کے لیے روحانی کاؤنٹر بھی قائم کیا گیا، جہاں روحانی رہنمائی فراہم کی گئی۔

    الفلاح فاؤنڈیشن سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا ذیلی ادارہ ہے جو شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کی سرپرستی میں ملک بھر میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کر رہا ہے۔ بستی گجوجی کے عوام نے اس کاوش کو محبت، عقیدت اور شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ سراہا۔

    کیمپ کی کامیابی میں ڈویژنل صدر ڈاکٹر نوید اصف یوسفی کی قیادت میں الفلاح فاؤنڈیشن، تنظیم الاخوان اور سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے کارکنان نے بھرپور محنت اور لگن سے اپنے فرائض انجام دیے۔ خصوصی طور پر عابد بھائی کا تذکرہ کیا گیا جنہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، میزبانی کے فرائض ادا کیے اور ہر ممکن سہولیات فراہم کیں۔

    آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام کارکنان کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی خدمات قبول فرمائے اور فلاحی کاموں کے لیے مزید توفیق عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔