Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازیخان:ڈیوا اجلاس، جاویدبروہی جیوری چیئرمین نامزد، عید پر خصوصی پروگرام

    ڈیرہ غازیخان:ڈیوا اجلاس، جاویدبروہی جیوری چیئرمین نامزد، عید پر خصوصی پروگرام

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹر) ڈیرہ آرٹس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (ڈیوا) کا اہم اجلاس زیر صدارت اخوند ساجد مجید خان منعقد ہوا، جس میں تنظیم کے عہدیداران اور اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع راجن پور سے مصطفیٰ رضوی، مظفرگڑھ سے معروف قانون دان کاشف آکاش ایڈووکیٹ اور آصف سعیدی نے تنظیم کی مکمل حمایت اور باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا۔

    اجلاس میں معروف سماجی رہنما اور سینئر فنکار جاوید اسلم بروہی کو جیوری چیئرمین نامزد کیا گیا، جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ اس موقع پر تنظیم کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر خصوصی ثقافتی پروگرام ترتیب دینے کا اعلان کیا گیا، جبکہ ڈرامہ اور میوزک پروگرامز کی باقاعدہ اجازت بھی دی گئی۔ اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ شہر میں ڈرامہ اور میوزک فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے تاکہ مقامی فنکاروں کو پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔

    اس ضمن میں چیئرمین آرٹس کونسل، کمشنر ڈیرہ غازی خان اور ڈائریکٹر آرٹس کونسل سے خصوصی وفد کی ملاقات کی بھی سفارش پیش کی گئی تاکہ ڈیرہ غازی خان میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

    اجلاس کے اختتام پر عہدیداروں اعجاز گولڈن، احسان قادر پتافی، امجد حبیب، غضنفر عباس گگن، مجاہد اعجاز، عرفان خان بزدار، اکبر عطائی، مصطفیٰ رضوی، مہر لطیف سیال، اکرام بخاری، امجد سلطان اور نعیم گجر نے راجن پور سے مصطفیٰ رضوی، مظفرگڑھ سے کاشف آکاش ایڈووکیٹ، آصف سعیدی اور کوٹ ادو سے زاہد رزاق کی تنظیم میں شمولیت پر شکریہ ادا کیا اور خوش آمدید کہا۔

  • لنڈی کوتل: واٹر سپلائی اسکیم پر الزامات، مولانا تاج علی شاہ کی سخت تردید

    لنڈی کوتل: واٹر سپلائی اسکیم پر الزامات، مولانا تاج علی شاہ کی سخت تردید

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) میری خیل قوم کے مشران کی جانب سے لگائے گئے حالیہ الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مولانا تاج علی شاہ نے اپنے رفقا کے ہمراہ ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ جاوید، حاجی ماسم، کتاب شاہ، عظمت شیر اور امتحان شاہ بھی موجود تھے۔

    مولانا تاج علی شاہ نے وضاحت کی کہ ان پر واٹر سپلائی اسکیم کی منتقلی سے متعلق جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں، بلکہ یہ سب ان کی ساکھ کو مجروح کرنے کی منظم سازش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی خود کو میری خیل قوم سے منسلک نہیں کیا، نہ ہی کسی قوم کی نمائندگی کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے علم میں کسی مبینہ لیٹر کی موجودگی بھی نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ علاقہ میں پینے کے صاف پانی کی قلت کے پیش نظر انہوں نے علامہ نور الحق قادری سے واٹر سپلائی اسکیم کے لیے درخواست کی تھی، جس کے بعد عدنان قادری کی قیادت میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ منصوبہ تمام قانونی تقاضوں، فزیبلٹی رپورٹ اور علاقہ مکینوں کی مشاورت سے شروع کیا گیا۔

    مولانا تاج علی شاہ کا کہنا تھا کہ جس جگہ ٹیوب ویل نصب کیا جا رہا ہے وہ زمین انہوں نے ذاتی طور پر وقف کی ہے تاکہ عوام کو بلا تعطل صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہی افراد جو اس منصوبے کی منظوری پر مبارکباد دینے آئے تھے، اب سیاسی یا ذاتی مفادات کی بنا پر ان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ہر قدم علاقہ کی خدمت کے جذبے سے اٹھایا گیا ہے اور وہ حلفاً کہتے ہیں کہ ان کی نیت اس منصوبے میں بالکل صاف ہے۔ مخالفین کے پاس الزامات کے کوئی شواہد موجود نہیں اور محض الزام تراشی سے حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔

  • ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے

    ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے

    ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے
    تحریر: قاری عبدالرحیم کلیم
    ایک دن سعودی عرب کے شہر ریاض میں دارالسلام کا سالانہ جلسہ تھا۔ اس کے مہمان خصوصی علامہ پروفیسر حافظ ساجد میر صاحب تھے۔ ان کے ہمراہ ڈاکٹر لقمان، مفسر قرآن رحمہ اللہ، عبدالمالک مجاہد، اور مولانا صفی الرحمن مبارک پوری سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ میر صاحب جیسے ہی آئے، عوام کی کرسیوں میں مجھے دیکھا اور کہنے لگے، "میں بھول رہا ہوں یا یہ قاری عبدالرحیم کلیم، ہماری جماعت کے خطیب ہیں؟” انہوں نے اس انداز میں بات کی کہ مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا، "قاری صاحب کو سٹیج پر لے آؤ۔” میر صاحب کے بیان کے بعد میرا بیان کرایا گیا اور انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا۔ خیر و خیریت رہی۔

    اسی طرح جماعت کے تنظیمی دورہ جات میں ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، قائم مقام امیر مرکزیہ پاکستان نے بلوچستان کے دورے کی جماعت کو دعوت دی۔ اس میں میر صاحب کی قیادت میں بندہ ناچیز مکران، خاران، پنجگور اور کراچی کے کئی دنوں کے تنظیمی دورے پر علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب کے ساتھ رہا۔ وہ عظیم انسان تھے، اکثر قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کا میرے ساتھ پیار اس وقت سے تھا جب علامہ صاحب 35 نمبر کوٹھی اچھرا لاہور میں تھے اور ہم ان کی تنظیم میں ورکر، کارکن اور یوتھ فورس کے رکن تھے۔ اس وقت سے میر صاحب کے ساتھ تعلق بنا۔

    وہ بھی کیا وقت تھا جب جماعت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ استاد محترم قاری عبدالوکیل صدیقی، علامہ پروفیسر ساجد میر، علامہ خالد محمود ندیم ملتان، عوامی سواریوں میں مرکز التوحید کے سالانہ اجتماع میں تشریف لاتے تھے۔ اس کے بعد دو مرتبہ ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ پر بھرپور استقبال ہوتا رہا۔ تنظیمی وسعت اور تنظیم ہمارے علاقے کی جماعت میں اس وقت آئی جب ملتان میں آل پاکستان کانفرنس کرائی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب نے 100 بسوں کا قافلہ ڈیرہ غازی خان سے اپنے خرچے پر ملتان روانہ کیا۔ اس کی سواریاں ہم جیسے کارکن بسیں بھرنے میں مصروف تھے۔ الحمدللہ! پوری کامیابی سے ایک سو بسوں کا قافلہ ہم لے گئے۔ اس کے بعد میاں جمیل صاحب اور میر صاحب بہت خوش ہوئے۔ حافظ عبدالکریم صاحب اور فضیلہ شیخ محمد شریف خان کو جماعت میں دعوت دی گئی۔

    الحمدللہ، آج ڈیرہ غازی خان ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مرکزی جمعیت ایک قوت، ایک تحریک اور پیغام ٹی وی کی صورت میں ایک بلند آواز ہےحق کی آواز۔ اللہ ہمارے امیر محترم علامہ پروفیسر ساجد میر جو پوری امت کے لیڈر تھے، مدبر، زیرک، شہادتوں کے بعد معاملہ فہم، کثیر الوقت، جماعت کو سنبھالا۔ دور دور تک ان جیسا بندہ نظر نہیں آتا۔ اللہ پوری جماعت کو اور خاص کر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہماری جماعت کو نعم البدل عطا فرمائے۔ اللہ ہمارے قائدین کی کوششوں، کاوشوں، محنتوں اور محبتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین

  • اوکاڑہ: پاک افواج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی، تمام مکاتب فکر کی بھرپور شرکت

    اوکاڑہ: پاک افواج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی، تمام مکاتب فکر کی بھرپور شرکت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری جاوید علاؤالدین اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب کی قیادت میں پاک افواج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی جس میں ضلعی انتظامیہ، مختلف سرکاری محکموں، بار ایسوسی ایشن، انجمن تاجران، طلباء اور شہریوں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    ریلی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ محمد عمر طیب، اسسٹنٹ کمشنر رب نواز اور دیگر افسران بھی شریک تھے۔ شرکاء نے قومی پرچم، پاک افواج کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان زندہ باد اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر چوہدری جاوید علاؤالدین نے کہا کہ پاک افواج قوم کی شان اور ہماری جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہیں۔

    محمد ابراہیم ارباب نے کہا کہ بھارتی پروپیگنڈے اور جنگی جنون کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، قوم متحد ہے اور مودی سرکار کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ حافظ محمد عمر طیب نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے اور تمام مکاتب فکر کی نمائندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    ریلی کے اختتام پر بھارتی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور پاک افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

  • حافظ آباد تا گجرات 8 ارب کی سڑک پر کارپٹنگ کا آغاز، ڈپٹی کمشنر کا  کام کا جائزہ

    حافظ آباد تا گجرات 8 ارب کی سڑک پر کارپٹنگ کا آغاز، ڈپٹی کمشنر کا کام کا جائزہ

    حافظ آباد (باغی ٹی وی ،خبرنگار شمائلہ) حافظ آباد سے گجرات (ہیڈ خانکی) تک 8 ارب روپے کی لاگت سے بننے والی 45 کلومیٹر طویل بین الاضلاعی سڑک پر کارپٹنگ کا کام باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف حافظ آباد اور گجرات کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے بلکہ علی پور چٹھہ، وزیرآباد اور دیگر ملحقہ علاقوں کے ہزاروں شہریوں کو آرام دہ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق، سپیشل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو عثمان خالد، اور ایکسئین ہائی ویز اسجد علی نے سڑک کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور جاری کارپٹنگ و دیگر تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف علاقائی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ گجرات اور ملحقہ اضلاع کے عوام کو موٹر وے ایم-2 اور ایم-4 تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔

    انہوں نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ناقص میٹریل کے استعمال کو ہر صورت روکا جائے۔ سپیشل سیکرٹری عثمان خالد نے بھی معیار کو یقینی بنانے اور کام کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔

    ہیڈ ساگر حافظ آباد سے شروع ہو کر یہ سڑک ہیڈ خانکی گجرات تک مکمل کی جائے گی، جسے علاقائی ترقی کا ایک اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبہ بروقت مکمل ہونے کی صورت میں علاقے کی معیشت اور آمدورفت دونوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • پشاور: گورنر سے قبائلی وفد کی ملاقات، طورخم بارڈر مسائل اور ٹیکس نفاذ پر تحفظات کا اظہار

    پشاور: گورنر سے قبائلی وفد کی ملاقات، طورخم بارڈر مسائل اور ٹیکس نفاذ پر تحفظات کا اظہار

    پشاور(باغی ٹی وی) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پبلک ڈے کے موقع پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، تاجر نمائندوں اور سیاسی راہنماؤں پر مشتمل وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی ضلع خیبر کے جنرل سیکریٹری شاہ رحمان شینواری نے کی، جبکہ وفد میں قبائلی عمائدین ملک ماصل، ملک تاج الدین، چیمبر آف کامرس اور انجمن تاجران کے عہدیداران بھی شامل تھے۔

    ملاقات میں طورخم بارڈر پر ٹرمینل کی عدم فعالیت، کسٹم اہلکاروں کے رویے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مسائل، ضلع خیبر کے ہسپتال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور من پسند افراد کو چوری بجلی کی فراہمی جیسے سنگین عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    وفد نے گورنر کو طورخم بارڈر پر جاری مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمینل کی غیر فعالیت کے باعث مقامی تاجروں اور عوام کو شدید مالی اور انتظامی دشواریوں کا سامنا ہے۔ کسٹم اہلکاروں کے نامناسب رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے تاکہ مقامی اقدار و روایات کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔

    قبائلی عمائدین نے ضلع خیبر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بدانتظامی، اور ہسپتال میں بجلی کی مسلسل بندش جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہیں، ایسے اقدامات مسائل کو مزید سنگین کر رہے ہیں۔

    گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفد کے تحفظات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طورخم بارڈر خیبرپختونخوا کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی تاکہ سرحدی علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا بھر میں بارڈر ایریاز ترقی کے مراکز سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں یہ بدامنی اور نظراندازی کا شکار ہیں۔

    گورنر نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت اور ضم اضلاع میں مستحقین کے لیے خصوصی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے وفد کو ہدایت دی کہ وہ اپنے تحفظات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ تیار کریں، جس کی روشنی میں اسلام آباد میں متعلقہ وفاقی اداروں سے بات چیت کی جائے گی تاکہ عملی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

  • لنڈی کوتل: شینواری قبیلے کے نوجوان کا بڑا تعلیمی اعزاز، مصنوعی ذہانت میں پی ایچ ڈی مکمل

    لنڈی کوتل: شینواری قبیلے کے نوجوان کا بڑا تعلیمی اعزاز، مصنوعی ذہانت میں پی ایچ ڈی مکمل

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے شینواری قبیلے کے باہمت نوجوان ڈاکٹر نذر جان شینواری نے کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کر کے علاقے کا نام روشن کر دیا۔ وہ ضلع خیبر سے اس جدید اور اہم مضمون میں ڈاکٹریٹ مکمل کرنے والے پہلے سکالر بن گئے ہیں۔

    ڈاکٹر نذر جان ولد حاجی عالم خان سکنہ فاطمی خیل لنڈی کوتل نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) پشاور کے شعبہ کمپیوٹر سائنس سے "Artificial Intelligence Based Minerals Recognition and Mapping Using Special Remote Sensing” کے عنوان سے کامیابی کے ساتھ اپنا تھیسز مکمل کیا اور کامیابی سے دفاع بھی کیا۔ ان کے سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر نصر من اللہ تھے جبکہ تھیسز پر ممتحن حضرات نے اطمینان کا اظہار کیا۔

    ڈاکٹر نذر جان کی اس شاندار کامیابی پر نہ صرف شینواری قبیلہ بلکہ پورے پشتون قبائل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔

    واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کی شرح مایوس کن حد تک کم ہے اور ایسے حالات میں ایک نوجوان کا مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین مضمون میں پی ایچ ڈی مکمل کرنا نہ صرف شینواری قبیلے بلکہ پورے ضلع خیبر کے لیے ایک نمایاں اعزاز ہے۔

  • الجزیرہ ٹی وی نے پہلگام واقعہ اور مودی حکومت کا ایجنڈا بے نقاب کردیا

    الجزیرہ ٹی وی نے پہلگام واقعہ اور مودی حکومت کا ایجنڈا بے نقاب کردیا

    عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں پیش آنے والے پہلگام فالس فلیگ حملے کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ رپورٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت مودی حکومت کی ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، اور انتہا پسند پالیسیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو جواز بنا کر کشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کی گئیں، جن کا مقصد خطے کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو کمزور کرنا اور عوام کو خوفزدہ کرکے خاموش کرنا ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پہلگام میں پیش آنے والا حملہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، جسے بی جے پی حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے کو بھارتی میڈیا، جسے رپورٹ میں "گودی میڈیا” کہا گیا، نے انتہا پسند قوم پرستی کو ہوا دینے کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس کا مقصد کشمیریوں کے خلاف سخت گیر پالیسیوں کو جائز قرار دینا اور عالمی برادری کی توجہ اصل حقائق سے ہٹانا تھا۔

    رپورٹ کے اہم نکات میں شامل ہے کہ حملے کے بعد بھارتی حکام نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے 1500 سے زائد بے گناہ افراد کو حراست میں لیا۔ ان افراد میں نوجوان، بزرگ اور حتیٰ کہ خواتین بھی شامل ہیں، جن پر بغیر کسی مقدمے کے دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے۔ حراست میں لیے گئے افراد کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیااور کئی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    اس کے علاوہ ہزاروں گھروں کو بغیر کسی پیشگی تحقیق یا قانونی جواز کے منہدم کر دیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق یہ کارروائیاں اجتماعی سزا کے طور پر کی گئیں تاکہ کشمیری عوام میں خوف کی فضا قائم کی جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان اقدامات نے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی بلکہ کشمیریوں کے بنیادی حقِ رہائش کو بھی پامال کیا۔

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بی جے پی حکومت کے آبادیاتی ایجنڈے پر بھی روشنی ڈالی، جس کا مقصد کشمیر کی منفرد ثقافتی اور مذہبی شناخت کو ختم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے غیر کشمیریوں کو خطے میں آباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے مقامی آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، کشمیری زبان، روایات اور تاریخی ورثے کو منظم طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ میں بھارتی میڈیا پر سخت تنقید کی گئی ہے، جسے بی جے پی حکومت کے زیر اثر پروپیگنڈا مشینری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ میڈیا نے پہلگام واقعے کو ایک خاص زاویے سے پیش کیا، جس میں کشمیریوں کو دہشت گرد اور غدار کے طور پر دکھایا گیا۔ زمینی حقائق کو چھپانے کے لیے سنسرشپ کا سہارا لیا گیا اور آزاد صحافت کو دبایا گیا۔ رپورٹ میں متعدد صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے حوالے دیے گئے ہیں جنہیں سچ بولنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا یا ان پر مقدمات درج کیے گئے۔

    الجزیرہ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے سیکیورٹی اقدامات عوام کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں مزید خوفزدہ کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان اقدامات میں رات کے کرفیو، گھر گھر تلاشی، اور فوجی چوکیوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ پالیسیاں کشمیری عوام کو اپنے ہی گھروں میں قیدی بنا رہی ہیں، جس سے ان کا روزمرہ کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بی جے پی حکومت نے سیاسی مخالفین اور سماجی کارکنوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔ متعدد رہنماؤں کو گھر پر نظر بند کیا گیا، جبکہ دیگر کو جھوٹے الزامات کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ سماجی کارکنوں، جنہوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھائی، کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جمہوریت کے نام پر ریاستی طاقت کا غلط استعمال ہیں۔

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر کے بحران پر توجہ دے اور بھارتی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو جبر کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نے خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کیا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔

    الجزیرہ کی رپورٹ نے پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارتی حکومت کے ایجنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے کشمیر کے جاری بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت کی پالیسیاں نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں بلکہ خطے کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی اور بھارتی میڈیا کی یک طرفہ رپورٹنگ نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ الجزیرہ کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر کشمیر کے مسئلے کو عالمی ضمیر کے سامنے پیش کیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک کشمیری عوام ریاستی جبر کا شکار رہیں گے؟

  • گوجرانوالہ: سیشن کورٹ  میں خون بہانے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    گوجرانوالہ: سیشن کورٹ میں خون بہانے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) سیشن کورٹ میں فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل کرنے والا ملزم اذان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق تھانہ لدھے والا وڑائچ کے علاقے میں سی سی ڈی ٹیم اور ملزم کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا، جبکہ اس کے دونوں ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اس سے قبل سول لائن پولیس ملزم اذان کو اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے لے جا رہی تھی کہ ملزم کے ساتھیوں نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کر دیا اور فائرنگ کر کے اسے چھڑا کر فرار ہو گئے۔ کچھ دیر بعد پولیس اور فرار ہونے والے افراد کا لدھے والا وڑائچ میں آمنا سامنا ہوا جہاں مبینہ مقابلہ ہوا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اذان نے تین روز قبل گوجرانوالہ سیشن کورٹ کے کمرہ عدالت میں فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل اور دو کو زخمی کر دیا تھا۔ پولیس نے ملزم کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا آغاز کر دیا ہے۔

  • مودی سن،  غلطی کی تو بھارت میں ہر طرف تباہی ہو گی،پاکستانی کسانوں کا اعلان

    مودی سن، غلطی کی تو بھارت میں ہر طرف تباہی ہو گی،پاکستانی کسانوں کا اعلان

    پاکستان کا کسان افواج پاکستان کے شانہ بشانہ،حافظ محمد سعید کو رہا کیا جائے،کسانوں کا مطالبہ
    مودی کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کیا جائے ،خالد مسعود سندھو،حافظ طلحہ سعید،چوہدری ذوالفقار علی اولکھ

    مرکزی کسان لیگ کے زیر اہتمام کسان مارچ کے ہزاروں شرکاء سے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سن،پانی روکنا تمہارے بس میں نہیں، اگر کوئی غلطی کی تو پاکستان کے کسان افواج پاکستان کے شانہ بشانہ لڑنے کو تیار ہیں،پاک فوج کی بہادری کے باعث بھارت کو ابھی تک حملے کی جرأت نہیں ہوئی، بھارت نے جو متنازعہ ڈیم بنائے ان پر یہ کسان قبضہ کریں گے،کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، بھارت کے بنائے گئےڈیموں سمیت کشمیر کو آزاد کروائیں گے،نظریہ پاکستان کے محافظ حافظ محمد سعید کو رہا کیا جائے،مودی کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کیا جائے

    ان خیالات کا اظہار پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ کسان،مرکزی کسان لیگ کے زیر اہتمام مال روڈ لاہور پر کسان مارچ کے شرکا سے مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو،نائب صدر حافظ طلحہ سعید، مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین چوہدری ذوالفقار علی اولکھ،صدر اشفاق ورک ،قاری محمدیعقوب شیخ،چوہدری سرور،شیخ فیاض ،اعجاز نصر، احسان اللہ منصور،مزمل اقبال ہاشمی،محمد احسن،،ارشد نواب،علی عمران شاہین.راشد سندھو،حافظ ابوالحسن،حافظ عثمان شفیق ،شہزاد ورک و دیگر نے خطاب کیا۔

    مرکزی کسان لیگ کے زیراہتمام بھارتی آبی جارحیت کے خلاف ہزاروں کسان ٹریکٹر لے کر سڑکوں پر آ ئے، مال روڈ لاہور مودی پانی روکا تو ہم واہگہ عبور کریں گے،نعروں سے گونج اٹھا،کسان مارچ کا آغاز استنبول چوک سے ہوا اور شرکاء اسمبلی ہال پہنچے، کسان مارچ میں ہزاروں کسان ٹریکٹر ٹرالیوں‘ موٹر سائیکلوں پر سوار سفید پگڑیاں باندھے ، ہاتھوں میں کدالیں اور بیلچے اٹھائے پہنچے ،شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے،جن پر بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اورپاک فوج کے حق میں تحاریر درج تھیں۔

    کسان مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ بھارتی آبی جارحیت کیخلاف کسان سڑکوں پر آ چکے، مودی نے اگر پاکستان کا پانی روکنے کی غلطی کی تو کسان خاموش نہیں رہے گی، کسان افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہیں گے، پانی کے تحفظ کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ بھارت سے جنگ لڑنے کو تیار ہے،مودی کی آبی جارحیت کے بعد قوم میں اتحاد و یکجہتی انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان کی زمین کو بنجر کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔

    حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ آج وطن عزیر کے حساس ترین حالات اور دشمنوں کی منصوبہ بندیاں جو انہوں نے بنائی تھیں ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمارے دشمنوں کی ساری منصوبہ بندیاں ناکام کر دی ہیں، اللہ نے پاکستان کی فضائیہ کو توفیق دی کہ ہندوستان کی فضائیہ کو بٹھا دیا ،میں پاکستان کے ائیر چیف اور تمام ارباب اختیار سے کہوں گا کہ سجدہ شکر ادا کریں اللہ نے دشمن کو ناکام کیا ہے،اسلام ہمیں جنگی جنونی نہیں بناتا لیکن جب جنگ شروع ہو جائے تو ثابت قدم ہو جاو،مرکزی مسلم لیگ ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہے۔

    مرکزی کسان لیگ کے صدر ذوالفقار علی اولکھ کا کہنا تھا کہ میں کسانوں کی نمائندگی کرتے ہوے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ابھی ہم حکومت پاکستان سے ناراض تھے کہ ہمیں ہماری گندم کے ریٹ نہیں ملے،لیکن اس دوران ہندوستان نے ہم پر بڑا حملہ کر دیا،ہم اپنے دکھ بھول گئے ہم اپنے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اعلان کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم کس طرح اپنے سینے پر پتھر رکھ راوی بیاس ستلج کی بندش برداشت کرتے رہے ہیں اب نہیں کریں گے، ہم اپنا پانی نہیں روکنے دیں گے

    قاری محمد یعقوب شیخ و دیگر رہنماوں کا کہنا تھا کہ ہندوستان ہمارا دشمن تھا رہے گا،دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہم جدا ہوئے، پاکستان کا جغرافیہ ہندوستان سے ہضم نہیں ہورہا،پہلگام میں مودی نے ڈرامہ رچا کر پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف اور پاکستان کی محب وطن جماعتوں اور قائدین کے خلاف بات کی،تم نے یہ ڈرامہ رچایا کہ پاکستان کا پانی بند کر دے گا اب سن یہ کسانوں کی فوج تمہارے خلاف کھڑی ہے،اگر ہمارا پانی بند ہوا تو پیاس سے ایڑیاں رگڑ کر مرنے کی بجائے پاکستان کی عوام تجھ سے ٹکرائے گی ،تمہارا ابھی نندن منہ کی کھا کر گیا تم اپنے جہازوں کو بھیجو گے وہ ملبے کا ڈھیر بنیں گے واپس نہیں جائیں گے،ہم نے ملک لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا تھا اسی پر قائم ہے اور رہے گا