Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • تنگوانی: نوجوان کی خودکشی اور موبائل مارکیٹ میں چوری کی واردات

    تنگوانی: نوجوان کی خودکشی اور موبائل مارکیٹ میں چوری کی واردات

    تنگوانی، باغی ٹی وی( نامہ نگارمنصور بلوچ)نوجوان کی خودکشی اور موبائل مارکیٹ میں چوری کی واردات

    تنگوانی اور اس کے قریبی علاقوں میں دو الگ الگ واقعات نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پہلے واقعے میں ایک نوجوان نے مبینہ طور پر گھریلو پریشانیوں کے باعث خودکشی کر لی جبکہ دوسرے واقعے میں چوروں نے شہر کی موبائل مارکیٹ میں تین دکانیں لوٹ لیں۔

    تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے قریب جمال تھانے کی حدود میں واقع گاؤں اللہ ورایو نندوانی میں 16 سالہ نوجوان غلام یاسین ولد حاجی پریو نندوانی نے پسٹل سے فائر کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق نوجوان گھریلو پریشانیوں سے تنگ تھا، جس کے باعث اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ واقعے کے بعد اس کے گھر میں ماتم کا سماں ہے۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    دوسری جانب تنگوانی شہر کی مصروف موبائل مارکیٹ میں نامعلوم چوروں نے رات کے وقت تین دکانیں لوٹ لیں۔ چوروں نے دکاندار ظفر ملک، محمد بخش لاشاری اور ایک دیگر دکان کے تالے توڑ کر موبائل فون، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا چوری کیں اور فرار ہو گئے۔ شہریوں نے پولیس کی خاموشی پر سوالات اٹھائے ہیں تاہم پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے چوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • سیالکوٹ: فائر فائٹرز کے عالمی دن پر ریسکیو 1122 کی فارورڈ اسپورٹس میں فرضی مشق

    سیالکوٹ: فائر فائٹرز کے عالمی دن پر ریسکیو 1122 کی فارورڈ اسپورٹس میں فرضی مشق

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر مدثر رتو) فائر فائٹرز کے عالمی دن پر ریسکیو 1122 کی فارورڈ اسپورٹس میں فرضی مشق

    ریسکیو 1122 نے فائر فائٹرز کے عالمی دن کی مناسبت سے سیالکوٹ کے فارورڈ اسپورٹس، ساہیوالہ میں ایک فرضی مشق کا انعقاد کیا۔ یہ مشق ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ ڈاکٹر فواد شہزاد کی زیر نگرانی اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس کا مقصد فیکٹری کے ورکرز اور سٹاف کو ہنگامی حالات جیسے آگ لگنے یا زلزلے سے نمٹنے کی تربیت فراہم کرنا تھا۔

    مشق کے دوران ریسکیو ٹیم نے آگ لگنے کی صورتحال میں عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے، بلند عمارتوں سے لوگوں کو نیچے اتارنے، آگ پر فوری قابو پانے، اور زخمیوں کو جلد از جلد ہسپتال منتقل کرنے کے عملی مظاہرے پیش کیے۔ فرضی مشق میں فارورڈ اسپورٹس کی فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹر ٹیم نے بھی حصہ لیا، جس کی قیادت سمیر رزاق نے کی، جبکہ مجموعی کمانڈ ایمرجنسی آفیسر عرفان یعقوب کے پاس تھی۔ ریسکیو سکاؤٹس نے ڈسٹرکٹ وارڈن جمیل جنجوعہ کی سربراہی میں فعال کردار ادا کیا۔

    مشق کے موقع پر فارورڈ اسپورٹس کے سی ای او خواجہ مسعود، ڈائریکٹر آپریشن میجر شاہد، اور صدر روز ویلفیئر سوشل ورکر اشفاق نذر بھی موجود تھے۔ خواجہ مسعود نے مشق کا جائزہ لیتے ہوئے ریسکیو 1122 کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ایسی مشقیں ہنگامی حالات کے لیے تیاری اور ردعمل کو بہتر بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس طرح کی مشقوں کا مقصد ہمیں یہ سکھانا ہے کہ ایمرجنسی میں ہمارا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔” انہوں نے ریسکیو ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی تعریف کی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے کہا کہ ریسکیو 1122 سیکریٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے ویژن کے تحت معاشرے کو محفوظ اور صحت مند بنانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے فائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے فائر فائٹرز حقیقی ہیرو ہیں، جو اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔”

    تقریب کے اختتام پر ریسکیو 1122 کے شہدا کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جس میں ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ یہ مشق نہ صرف تربیتی مقاصد کے لیے اہم تھی بلکہ فائر فائٹرز کے عالمی دن کے موقع پر ان کی خدمات کو سراہنے کا ایک بہترین موقع بھی فراہم کیا۔

  • گوجرانوالہ: وزیر اعلیٰ پنجاب معاون آلات سکیم کے تحت معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم

    گوجرانوالہ: وزیر اعلیٰ پنجاب معاون آلات سکیم کے تحت معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم

    گوجرانوالہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) وزیر اعلیٰ پنجاب معاون آلات سکیم کے تحت معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم کرنے کی ایک پروقار تقریب ماڈل چلڈرن ہوم میں منعقد ہوئی۔

    کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اسسٹیو ڈیوائسز اینڈ وہیل چیئرز پروگرام معاشرے کے پسماندہ اور خصوصی افراد کی خدمت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے ایک عظیم انسانی فریضہ ہے۔ آج کی یہ پروقار تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں معذور افراد کو مفت وہیل چیئرز فراہم کی گئیں۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد معذور افراد کی زندگیوں میں سہولت پیدا کرنا اور ان کے لیے نقل و حرکت کو ممکن بنانا ہے، تاکہ وہ بھی معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نوید احمد بھی کمشنر کے ہمراہ موجود تھے۔

    تقریب میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ارشاد وحید، ڈپٹی ڈائریکٹر میڈم سمیرا اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر تعلقات عامہ منور حسین، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز مس زیب النساء، میڈم رابعہ افضل، سوشل ویلفیئر آفیسر عبید رحمت، کامران حسین اور 50 سے زائد معذور افراد نے شرکت کی۔ کمشنر سید نوید حیدر شیرازی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق اسپیشل افراد کے لیے معاون آلات کے بڑے منصوبے کا آغاز گوجرانوالہ ضلع سے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سکیم کے تحت وزیر اعلیٰ خودکار وہیل چیئر، پیڈز وہیل چیئر، ٹرائی وہیل سکوٹی اور دیگر معاون آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے معذور افراد کے حوصلے اور عزم کو سراہا اور حکومت کے ایسے فلاحی اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہر ضرورت مند تک مدد پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب نہ صرف مدد کا ذریعہ بنی بلکہ ایک پیغام بھی دے گئی کہ اگر نیت خالص ہو تو معاشرہ ہر فرد کے لیے آسان بن سکتا ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر میڈم سمیرا اقبال نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ آج 30 معذور بچوں اور بڑوں میں وہیل چیئرز تقسیم کی گئی ہیں اور اب تک 300 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 15 مئی تک ضلع بھر کے معذور افراد کی رجسٹریشن کے بعد قواعد و ضوابط پر پورا اترنے والے 215 معذور افراد میں وزیر اعلیٰ پنجاب معاون آلات تقسیم کیے جائیں گے۔

  • ٹھٹھہ:جھرک شہر میں پانی کا بحران، 4 سال سے تعطل کا شکار واٹر سپلائی سکیم، مبینہ کرپشن پر شہری سراپا احتجاج

    ٹھٹھہ:جھرک شہر میں پانی کا بحران، 4 سال سے تعطل کا شکار واٹر سپلائی سکیم، مبینہ کرپشن پر شہری سراپا احتجاج

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹر،بلاول سموں)جھرک شہر میں پانی کا بحران، 4 سال سے تعطل کا شکار واٹر سپلائی سکیم، مبینہ کرپشن پر شہری سراپا احتجاج

    تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ ضلع کے جھرک شہر، جو قائد اعظم محمد علی جناح کا آبائی و پیدائشی شہر ہے، میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ 4 کروڑ 83 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور شدہ واٹر سپلائی اسکیم گزشتہ چار سال سے تعطل کا شکار ہے، اور اس کی ناکامی کے پیچھے ٹھیکیداروں اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی مبینہ کرپشن و ملی بھگت کے الزامات نے شہریوں کے غم و غصے کو بھڑکا دیا ہے۔ انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی خاموشی اس سنگین بحران کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جھرک شہر کے ہزاروں شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، کیونکہ واٹر سپلائی اسکیم، جو شہر کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، چار سال سے التوا کا شکار ہے۔ مقامی ذرائع نے انکشاف کیا کہ اسکیم کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ ٹھیکیداروں کی جانب سے فنڈز کی مبینہ خرد برد اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی چشم پوشی ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ اس منصوبے کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز منظم طریقے سے ہضم کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکام اس سنگین بدعنوانی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    اس ناانصافی اور بدانتظامی کے خلاف جھرک شہر کے شہریوں نے سراپا احتجاج بنتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ جیئے سندھ محاذ کے رہنما امجد شورو کی قیادت میں ایک بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں، خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے واٹر سپلائی اسکیم کی فوری تکمیل، مبینہ کرپشن کی تحقیقات، اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین نے اعلیٰ حکام کو خبردار کیا کہ اگر اسکیم کا کام فوری شروع نہ کیا گیا اور کرپشن کے ذمہ داروں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ صوبائی سطح تک وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی شہریوں کا بنیادی حق ہے، اور اس حق سے محرومی ناقابلِ برداشت ہے۔ شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ، اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

    جھرک شہر کے اس بحران نے نہ صرف انتظامیہ کی نااہلی کو عیاں کیا ہے بلکہ حکومتی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر سپلائی اسکیم کے فنڈز کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، اور منصوبے کو شفاف طریقے سے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

    یہ صورتحال ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جو حکام کی توجہ اور فوری عمل کی متقاضی ہے۔ جھرک کے شہریوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ وہ اس مبینہ کرپشن کی تحقیقات کریں اور شہریوں کو ان کا بنیادی حق فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔

  • حافظ آباد: ٹارگٹ کلرز کا انوکھا وار، رشتہ داروں کے گھر گھس کر خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنایا

    حافظ آباد: ٹارگٹ کلرز کا انوکھا وار، رشتہ داروں کے گھر گھس کر خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنایا

    حافظ آباد،باغی ٹی وی(خبرنگارشمائلہ) ٹارگٹ کلرز کا انوکھا وار، رشتہ داروں کے گھر گھس کر خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنایا

    حافظ آباد کے پوش علاقے چوک فاروق اعظم میں ٹارگٹ کلرز نے ایک سنسنی خیز اور منفرد طریقہ کیا، جس میں انہوں نے رشتہ دار کے گھر گھس کر اسلحہ کے زور پر دو خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ زخمی خواتین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، دوپہر کے وقت نامعلوم ٹارگٹ کلرز نے زرگر اسحق خان کے گھر میں گھس کر تمام اہلِ خانہ کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے اسلحہ کے زور پر اسحق خان کے فون سے ان کی ہمشیرہ اور بھانجی کو فوری طور پر گھر آنے کی کال کی، یہ بتاتے ہوئے کہ اسحق کی طبیعت شدید خراب ہے۔ دونوں خواتین جیسے ہی گھر پہنچیں، ٹارگٹ کلرز نے ان پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق، دو نامعلوم ملزمان گھر کے باہر پہرہ دے رہے تھے، جو واردات کے دوران فرار ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی۔

    متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے معیز پٹھان نامی ایک اوورسیز پاکستانی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ شہر میں خوف و ہراس کا باعث بن گیا ہے، اور شہریوں نے حکام سے تحفظ اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سیالکوٹ:پشاور سے لائی گئی منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، خاتون منشیات فروش گرفتار

    سیالکوٹ:پشاور سے لائی گئی منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، خاتون منشیات فروش گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیورو چیف شاہد ریاض) سیالکوٹ پولیس نے منشیات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے پشاور سے لائی جانے والی منشیات کی بھاری کھیپ پکڑ لی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) فیصل شہزاد کی ہدایات پر صدر سیالکوٹ پولیس نے کریک ڈاؤن کے دوران ایک خاتون منشیات فروش کو گرفتار کیا۔

    ایس ایچ او انسپکٹر غازی میاں عبدالرزاق کی سربراہی میں لیڈی پولیس کے ہمراہ محلہ سالو گجر کی رہائشی شمع بی بی کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمہ کے قبضے سے 27 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، جس میں 8 کلو افیون، 6 کلو آئس، 6 کلو ہیروئن اور 7 کلو چرس شامل ہیں۔ برآمد شدہ منشیات کی مالیت تین کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ملزمہ سے منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی 10 لاکھ 42 ہزار روپے کی نقد رقم بھی برآمد کی گئی۔

    دورانِ تفتیش ملزمہ نے انکشاف کیا کہ وہ پشاور سے منشیات لا کر سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں سپلائی کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق، شمع بی بی کے خلاف ماضی میں بھی منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے کہا کہ اس کامیاب کارروائی سے منشیات کی سپلائی کی ایک بڑی چین کو توڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کارروائیوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ کارروائی میں شاندار کارکردگی دکھانے والی پولیس ٹیم کے لیے تعریفی سرٹیفکیٹس اور نقد انعامات کا اعلان بھی کیا گیا۔

    یہ کارروائی سیالکوٹ پولیس کی منشیات کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے، جو معاشرے سے اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔

  • پاکستان لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام سیالکوٹ میں "اقبال اور عشق رسول ” سیمینار کا انعقاد

    پاکستان لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام سیالکوٹ میں "اقبال اور عشق رسول ” سیمینار کا انعقاد

    سیالکوٹ/باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہد ریاض) پاکستان لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام سیالکوٹ آرٹ اینڈ کلچر سینٹر میں "اقبال اور عشق رسول (ص)” کے موضوع پر ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت سیالکوٹ آرٹ اینڈ کلچر سینٹر کے چیئرمین خالد لطیف نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض تاریخ سیالکوٹ کے مؤلف اور مرکزی صدر اشفاق نیاز نے بخوبی انجام دئیے۔

    اس موقع پر سیالکوٹ کے نامور شعرا کرام سید زاہد حسین بخاری، عبدالمجید صابری، رحمان امجد مراد اور صوفی حفیظ احمد قادری نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو اپنے منظوم کلام کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا۔

    تقریب کے صدر خالد لطیف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم فکر اقبال پر عمل پیرا ہو کر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ پروفیسر قاسم علی بٹ نے پاکستان لٹریری سوسائٹی کی جانب سے اس پرفتن دور میں اقبال اور عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے موضوع پر سیمینار کے انعقاد کو علامہ اقبال سے سچی محبت کا ثبوت قرار دیا۔

    پروفیسر مصدق علی نے علامہ اقبال کو محض ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک مفکر، مصلح، عاشق رسول (ص) اور ملت اسلامیہ کا نباض قرار دیا۔ پروفیسر شجاعت علی مجاہد نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور انسان بھی نامکمل رہتا ہے۔

    معروف ادب شناس اور شاعر نصیر احمد بھلی نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں پاکستان کی تشکیل دی، لیکن اس سے بھی بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہمیں بتانے کی کوشش کی اور یہ اعزاز بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ معروف شاعر عبدالمجید صابری نے کہا کہ عشق ہر آدمی کے شعور کے مطابق ہوتا ہے اور وہ عشق، عشق نہیں ہوتا جو نتائج پیدا نہ کر سکے۔ مصنف و شاعر پروفیسر اکبر علی غازی نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد پر پاکستان لٹریری سوسائٹی کو خراج تحسین پیش کیا۔

    انگلینڈ سے تشریف لائے معروف ایجوکیشنسٹ مزمل حیدر نے زور دیا کہ فکر اقبال کی تشریح اس انداز سے کی جائے کہ نئی نسل بھی اس سے آگاہ ہو، کیونکہ اس وقت علامہ اقبال کے پیغام کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ معروف کیلیگرافر اور ماہر تعلیم عبدالوہاب نے کہا کہ شہر اقبال میں زندہ جاوید کارناموں کے حامل افراد کی پذیرائی کی جائے اور انہیں وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ پاکستان لٹریری سوسائٹی کی سیکرٹری اطلاعات و نشریات عینی ملک نے یقین دلایا کہ سوسائٹی مستقبل میں بھی ایسے معلوماتی سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی۔

    تقریب کے اختتام پر پاکستان لٹریری سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل ایم عابد ایڈووکیٹ نے تقریب میں شرکت کرنے والے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد باقر ڈار، پروفیسر عبداللہ خانزادہ، ماہر تعلیم چوہدری منور احمد گجر، حکیم حامد محمود قریشی، صحافی آصف سیٹھی، صباح الدین لائبریرین، پاکستان لٹریری سوسائٹی کے رضوان واحد (ایف بی آر انسپیکٹر)، پی ایل ایس کے ضلعی صدر پروفیسر محمد ارشد اور فوکل پرسن احسن علی احسن سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔

  • یومِ آزادیٔ صحافت: اظہارِ رائے، سچائی اور قربانیوں کا دن

    یومِ آزادیٔ صحافت: اظہارِ رائے، سچائی اور قربانیوں کا دن

    یومِ آزادیِ صحافت: اظہارِ رائے کا عالمی دن، ایک جامع رپورٹ
    (شاہد ریاض، بیورو چیف باغی ٹی وی سیالکوٹ،احسان اللہ ایاز، نامہ نگار باغی ٹی وی ننکانہ صاحب،مدثر رتو، سٹی رپورٹر باغی ٹی وی سیالکوٹ،منصور بلوچ، نامہ نگار باغی ٹی وی تنگوانی)

    ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے، جو نہ صرف صحافت کی آزادی اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ صحافیوں کے تحفظ اور آزاد میڈیا کے کردار پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزاد اور غیر جانب دار صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ صحافت صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوام کے حقِ جاننے کو یقینی بنانے، بدعنوانی کو بے نقاب کرنے، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے اور طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔

    صحافت کی اہمیت اور اس کا کردار
    شاہد ریاض، بیورو چیف باغی ٹی وی سیالکوٹ، کے مطابق صحافی معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ وہ اندھیروں میں روشنی کی شمع جلاتے ہیں اور خاموشوں کی آواز بنتے ہیں۔ آزاد صحافت عوام کو سچ تک رسائی دیتی ہے، جو ایک جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ جب صحافی آزاد ہوتے ہیں، تو وہ حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں، کرپشن کو عیاں کرتے ہیں اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، بشمول پاکستان، میں صحافیوں کو سچ بولنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ کہیں انہیں قید کیا جاتا ہے، کہیں ہراساں کیا جاتا ہے، اور کہیں ان کی جان لے لی جاتی ہے۔ میڈیا ہاؤسز پر حملے، رپورٹرز کا اغوا، اور جھوٹے مقدمات قائم کرنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں کئی صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہوئے، لیکن انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہا۔ اکثر مقدمات میں تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، اور مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف صحافت کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ جب سچ کو دبایا جاتا ہے تو جھوٹ اور پروپیگنڈا کو پھیلنے کا موقع ملتا ہے۔

    صحافی تنظیموں کی خاموشی، ایک المیہ
    احسان اللہ ایاز، نامہ نگار باغی ٹی وی ننکانہ صاحب، نے صحافی تنظیموں اور پریس کلبوں کی خاموشی پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب صحافیوں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، انہیں دھمکایا جاتا ہے، یا جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو صحافیوں کی نمائندہ تنظیمیں اکثر حکومتی دباؤ، سیاسی مفادات یا ذاتی تعلقات کے باعث خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ جب چینل بند کیے جاتے ہیں یا صحافیوں کی آوازیں دبائی جاتی ہیں، تو ان تنظیموں کا غیر فعال رویہ آزادیِ صحافت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا ہے۔

    ایاز نے زور دیا کہ صحافت صرف قلم، مائیک اور کیمرے کا نام نہیں، بلکہ ایک عہد اور جدوجہد ہے۔ اگر اس جدوجہد کی علمبردار تنظیمیں خود مصلحت کا شکار ہو جائیں، تو نہ صرف صحافت کمزور ہوتی ہے بلکہ معاشرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صحافیوں پر حملے ہوتے ہیں یا اخبارات اور چینلز بند کیے جاتے ہیں، تو یہ تنظیمیں کہاں ہوتی ہیں؟ کیا ان کا کام صرف بیانات جاری کرنا اور رسمی تقریبات منعقد کرنا ہی رہ گیا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافی برادری اور ان کی تنظیمیں اپنا حقیقی کردار ادا کریں، ورنہ تاریخ نہ صرف ظالم حکمرانوں کو بلکہ خاموش تماشائیوں کو بھی معاف نہیں کرے گی۔

    قلم کی حرمت اور صحافت کی زنجیریں

    مدثر رتو، سٹی رپورٹر باغی ٹی وی سیالکوٹ، نے اپنی تحریر میں کہا کہ یومِ آزادیِ صحافت صرف صحافیوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس فرد کے لیے باعثِ فکر ہے جو سچ جاننے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں صحافت دباؤ، سنسرشپ اور دھمکیوں کی زد میں ہے۔ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران جان سے جاتے ہیں، لاپتہ ہو جاتے ہیں، یا جھوٹی ایف آئی آرز کا نشانہ بنتے ہیں۔ قلم تھامنے والے ہاتھ ہتھکڑیوں میں جکڑ دیے جاتے ہیں، اور سچ بولنے والے لب خاموش کر دیے جاتے ہیں۔

    رتو نے زور دیا کہ آزادیِ صحافت کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں۔ جب صحافت آزاد نہ ہو، تو قوم اندھیرے میں بھٹکتی ہے، کرپشن اور انسانی حقوق کی پامالی بڑھتی ہے، کیونکہ سوال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں، جہاں وہ بلا خوف و خطر سچ بول سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ایک مشن ہے، جو سچائی، دیانتداری اور عوامی مفاد کے لیے وقف ہے۔ اس دن ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ قلم کی حرمت کے لیے آواز بلند کریں گے اور سچ کی تلاش میں نکلنے والوں کا ساتھ دیں گے۔

    صحافت کا بدلتا کردار اور معاشرتی اثرات
    منصور بلوچ،نامہ نگار تنگوانی نے صحافت کے بدلتے کردار پر گہری نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صحافت کو ملک کا چوتھا ستون سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ ایک مطلب پرست کاروبار بن گئی ہے۔ انہوں نے صحافت کو تین اقسام میں تقسیم کیا:

    1. ے باک صحافی: یہ وہ صحافی ہیں جو خدا سے ڈر کر شفاف صحافت کرتے ہیں اور مظلوموں کی آواز ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ سندھ میں ایسی صحافت کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے، جہاں سرداری اور وڈیرہ نظام صحافیوں کے قلم کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے باوجود، بے باک صحافی اپنی جان کی پروا کیے بغیر سچ بولتے ہیں۔ بلوچ نے سندھ کے شہید صحافیوں شاہد سومرو، جان محمد مہر، نصراللہ گڈانی اور عزیز میمن کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں نے قلم کی غداری نہیں کی اور اپنی شکست کو شہادت میں بدل دیا۔

    2. عطائی صحافی: یہ صحافی نہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں نہ ان کے پاس ضمیر ہوتا ہے۔ وہ پیسوں کے لیے صحافت کرتے ہیں، ظالموں کا ساتھ دیتے ہیں اور اپنا کاروبار چمکانے کے لیے گری ہوئی صحافت کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسی صحافت نے پیشے کو بدنام کیا ہے، اور اس کے باعث اصل صحافی خود کو صحافی کہلوانے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔

    3. مطلبی صحافی: یہ زرد صحافت کے علمبردار ہیں، جو بلیک میلنگ اور ذاتی مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ ویب سائٹس، چینلز اور اخبارات کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں، جس سے نہ صرف صحافت بدنام ہوتی ہے بلکہ بے باک صحافیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ صحافی اداروں کو ماہانہ فیس ادا کر کے پریس کارڈ حاصل کرتے ہیں اور شہروں میں بلیک میلنگ کا دھندہ چلاتے ہیں۔

    منصور بلوچ نے کہا کہ ایسی گراوٹ نے صحافت کے اصل مقصد کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ اچھے صحافیوں نے عوام کی خدمت کے لیے اپنے چینلز اور ویب سائٹس شروع کیں، لیکن مطلبی صحافیوں نے انہیں بھی تباہ کر دیا۔

    یومِ آزادیِ صحافت کا پیغام
    یومِ آزادیِ صحافت کا پیغام واضح ہے کہ حقِ اظہار کو دبانا عوام سے ان کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔ آزاد میڈیا سچ، شفافیت اور انصاف کی بنیاد رکھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قلم کی طاقت تلوار سے کہیں زیادہ گہری اور دیرپا ہوتی ہے۔ صحافت کی آزادی دراصل عوام کی آنکھ، کان اور زبان کی آزادی ہے۔

    حکومتوں، اداروں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور انہیں آزادانہ کام کرنے کی اجازت دیں۔ اس دن کو صرف رسمی تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ سچ، حق اور آزادی کے لیے آواز بلند کی جائے۔ اگر آج صحافی اپنی آواز کے لیے نہ اٹھے، تو کل کوئی بھی نہیں اٹھے گا۔

    آئیں، اس یومِ آزادیِ صحافت پر عہد کریں کہ ہم سچ کی لڑائی میں صحافیوں کا ساتھ دیں گے، قلم کی حرمت کو برقرار رکھیں گے، اور ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں حصہ لیں گے جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو۔ جب تک صحافت آزاد ہے، امید زندہ ہے۔

  • مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد

    مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد

    مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد
    تحریر :سیدریاض جاذب

    ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں "عالمی یوم صحافت” منایا جاتا ہے، جس کا مقصد آزادی صحافت کا دفاع، اظہارِ رائے کی آزادی کی حمایت، صحافیوں کے تحفظ کی جدوجہد، اور میڈیا پر دباؤ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا ہی ان کے حقوق کا محافظ ہے، اور اگر میڈیا پر قدغن لگے، تو عوام کی آواز بھی دب سکتی ہے۔

    سال 2025 کے عالمی یوم صحافت کا مرکزی موضوع ہے:
    "Reporting in the Brave New World: The Impact of Artificial Intelligence on Press Freedom and the Media”
    یعنی "نئی دنیا کی جرأت مند رپورٹنگ: صحافت اور آزادیِ صحافت پر مصنوعی ذہانت کا اثر”۔

    مصنوعی ذہانت (AI) نے جہاں زندگی کے دیگر شعبہ جات کو متاثر کیا ہے، وہیں صحافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ AI کی مدد سے خبر تک رسائی، تحقیق، تجزیہ اور رپورٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ خبروں کی تیاری، ترسیل اور اشاعت کے عمل میں جدت آئی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سے خطرات اور چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی خبریں (Fake News)، گمراہ کن مواد، اور خبروں میں انسانی حساسیت کی کمی جیسے مسائل نے صحافت کے معیار اور سچائی کو چیلنج کیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق صحافت میں AI کے استعمال کے دوران اخلاقی اصولوں، شفافیت، اور نگرانی کا برقرار رہنا ناگزیر ہے تاکہ خبر کی سچائی متاثر نہ ہو۔ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی جگہ لینے کے لیے۔

    اگر ہم پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو سال 2024 صحافیوں کے لیے نہایت مشکل اور خطرناک رہا۔ فریڈم نیٹ ورک کی "امپونٹی رپورٹ 2024” کے مطابق، نومبر 2023 سے اگست 2024 کے درمیان صحافیوں کے خلاف 57 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 11 قاتلانہ حملے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ صحافیوں کو قانونی کارروائیوں، ہراسانی، دھمکیوں اور اغوا جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا۔

    خصوصاً خواتین صحافیوں کے لیے صورتحال اور بھی نازک رہی۔ انہیں جنسی ہراسانی اور آن لائن بدسلوکی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں کے خلاف "پیکا” (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت بھی کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور 20 سے زائد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    ان حالات میں جب صحافت پر کئی اطراف سے دباؤ ہے، آزادی صحافت کی جدوجہد مزید اہم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ جدوجہد کٹھن ہے اور فوری طور پر مثبت نتائج نظر نہیں آتے، تاہم صحافی برادری ہمت، جذبے اور عزم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

    عالمی یوم صحافت صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ آزادی اظہار، سچائی، اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کی علامت ہے۔ صحافت پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود، معاشرتی اقدار، اصولوں اور آزادیِ صحافت کا دفاع ضروری ہے۔ صحافیوں کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول کی فراہمی، ریاستی اور سماجی سطح پر ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • ڈیرہ نواب صاحب: علامہ اقبال ایکسپریس کا اسٹاپ مستقل کر دیا گیا

    ڈیرہ نواب صاحب: علامہ اقبال ایکسپریس کا اسٹاپ مستقل کر دیا گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) ڈیرہ نواب صاحب کے شہریوں کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت سامنے آ گئی،علامہ اقبال ایکسپریس کا ڈیرہ نواب صاحب ریلوے اسٹیشن پر عارضی اسٹاپ اب مستقل طور پر جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ریلوے حکام نے اس فیصلے کو بہتر ریونیو، مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مقامی عوام کے پرزور مطالبے کے نتیجے میں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ دو ماہ قبل مقامی انجمن تاجران، سماجی تنظیموں اور شہریوں کی درخواست پر آزمائشی بنیادوں پر علامہ اقبال ایکسپریس کو ڈیرہ نواب صاحب اسٹیشن پر دوطرفہ اسٹاپ دیا گیا تھا۔ مختصر عرصے میں ہی ریلوے کو نہ صرف ریونیو میں واضح بہتری ملی بلکہ مسافروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس نے اس فیصلے کی افادیت ثابت کر دی۔

    ریلوے حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس اسٹاپ کو تا حکمِ ثانی برقرار رکھا جائے گا تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور ریلوے کی آمدنی میں مزید بہتری آئے۔ اس فیصلے پر مقامی شہریوں، تاجروں اور سماجی رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف سفری سہولیات کو بہتر بنائے گا بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا، جس سے ڈیرہ نواب صاحب کی ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔

    شہریوں نے ریلوے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی عوامی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اس طرح کے فیصلے کیے جاتے رہیں گے۔