Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

    اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

    اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    تحریر: سید شاہزیب شاہ

    محبت ایک ایسا منفرد اور کمزور احساس ہے جو اس دنیا میں موجود کروڑوں لوگوں میں سے چند لوگوں کی زندگی میں دستک دیتا ہے۔ ویسے تو ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے احساس پیدا کر رکھا ہے جو ہر جاندار چیز کے لیے ہمدردی کے روپ میں محسوس کیا جاتا ہے، مگر محبت ایک ایسا احساس ہے کہ جب کوئی ہمارے معاشرے میں اسے سنتا ہے تو اُس کے ذہن میں ایک مختلف خیال پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہم لوگ بچپن سے بزرگوں سے، کتابوں کے مطالعے سے اور ماحول و معاشرے سے دیکھتے، سنتے اور پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ محبت وہ احساس ہے جو کسی کو کسی کی اجازت کے بغیر ہو جاتا ہے۔ جب کسی کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو اُس محبوب کے علاوہ اُسے کچھ نظر نہیں آتا۔ دن ہو یا رات، خوشی ہو یا غم، آندھی ہو یا طوفان، اُسے اُس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک عاشق اپنے محبوب کے خیال و فکر میں مدہوش و مگن رہتا ہے، اُس کے لیے جانے کیسی کیسی اور بڑے سے بڑے مشکلات کو خوشی خوشی مول لے لیتا ہے اور اُس کو حاصل کرنے کی جستجو میں مصروف ہو جاتا ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اُسے محبت نہیں کھلاتی۔ زندگی کے سفر میں جیسے محبت کا سفر ہوتا ہے، ویسے ہی نجی زندگی میں بھی اور بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو پہلے اپنے گھر سے تین چار سال کی عمر میں بہت کچھ گھر و خاندان کی دیکھی سُنی چیزیں اپنے دماغ میں سما لیتے ہیں اور پھر ہمیں سکول یا مدرسے میں دین و دنیا کی کامیابی کے لیے داخلہ دلوایا جاتا ہے۔ پھر جوانی کی عمر میں، آج کے دور میں، ہم کالج، یونیورسٹی میں بڑی تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تاکہ ہم اپنی اس زندگی میں کچھ کر سکیں، کامیاب بن سکیں، دنیا کو کچھ کر کے دکھا سکیں، والدین کی محنت کا نتیجہ دیکھا سکیں۔ لیکن یہ زندگی ہے، اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جب ہم محبت کے سمندر میں ڈبکی لگاتے ہیں تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سمندر کا پانی کھارا ہے۔ محبت کے اس سفر میں بہت کچھ حاصل کرنا پڑتا ہے اور بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔ عاشق کی زندگی صرف محبت پر نہیں گزرتی۔ عاشقی تب ٹھکانے لگتی ہے جب اُسے رشتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رشتے ناتے سنبھالنا ایک عاشق کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ محبت کرنے والا جب پریشانیوں، دکھ، تکلیفوں اور رکاوٹوں کو ذہنی طور پر دیکھتا اور محسوس کرتا ہے تو وہ بےبس، کمزور اور بےحال ہو جاتا ہے۔ اور سب سے زیادہ کمزور تب ہوتا ہے جب اُسے اپنے ذاتی رشتوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور یہاں سے عاشق کی ناکامی شروع ہوتی ہے۔ اور وہی بات ہے کہ عاشق ناکام ہی اچھے لگتے ہیں۔

    لیکن یہ صرف منہ زبانی بات ہے۔ میری نظر میں عاشق کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ جب آج ہم محبت کی بات کرتے ہیں تو پنوں، مجنوں اور بھی بڑے بڑے نام کامیابی کے طور پر لیے جاتے ہیں۔ آج بھی جب کوئی نوجوان محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میں ناکام ہوں یا مجھے ذاتی رشتوں یا پھر ناکامیوں کی وجہ سے کوئی مشکل درپیش ہے۔ نہیں بلکہ تم ناکام نہیں ہو، بلکہ تم محبت کر کے کامیاب ہو گئے ہو اور اس محبت سے تم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور بہت کچھ حاصل کیا ہے اور سب سے زیادہ محبت کا سلیقہ سیکھا ہے، جو عظیم ہے۔ اگر آج بھی آپ کی خواہش ہے کہ محبوب کو حاصل کیا جائے تو پھر میں یہاں فیض احمد فیض کا لکھا ہوا شعر کہنا چاہوں گا:

    "اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”

  • ضلعی انتظامیہ خیبر کی کارروائی، میٹرک امتحانات میں منظم نقل کا انکشاف

    ضلعی انتظامیہ خیبر کی کارروائی، میٹرک امتحانات میں منظم نقل کا انکشاف

    خیبر: ضلعی انتظامیہ خیبر نے ہفتے کے روز جاری میٹرک امتحانات کے دوران منظم نقل کا انکشاف کرتے ہوئے اس میں ملوث اساتذہ، طلباء اور امتحانی عملے کے خلاف فوری کارروائی کی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال شاہد راؤ نے صحافیوں کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ گورنمنٹ ہائی اسکول ہاشم آباد میں اسکول کا عملہ لائبریری میں امتحانی پرچے حل کرکے ان کی فوٹو کاپیاں تیار کرتا ہے اور یہ حل شدہ پرچے امتحان دینے والے طلباء کو فراہم کیے جاتے ہیں۔اطلاع ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر جمرود فہد ضیاء نے نجی گاڑی کے ذریعے امتحانی مرکز کا اچانک معائنہ کیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ دورانِ معائنہ، گریڈ 8 کے طلباء اور اساتذہ کو پرچہ حل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، جبکہ حل شدہ پرچوں کی فوٹو کاپیاں تیار کرکے نجی اور سرکاری اسکولوں کے طلباء کو فراہم کی جا رہی تھیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے موقع سے فوٹو کاپی مشین اور حل شدہ پرچوں کی کاپیاں تحویل میں لے لیں اور ملوث اساتذہ و طلباء کو تحصیل جمرود منتقل کر دیا۔ڈپٹی کمشنر خیبر نے کہا کہ گرفتار اساتذہ اور طلباء کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں اور واقعے کی مفصل رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے جو چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ، محکمہ تعلیم اور پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) کو مزید کارروائی کے لیے بھیجی جائے گی۔کیپٹن (ر) بلال شاہد راؤ نے مزید کہا کہ امتحانی ہالز میں نقل کے مکمل خاتمے کے لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو تحصیل سطح پر مانیٹرنگ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں نقل کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت امتحانی مراکز کے اردگرد عوامی اجتماعات، پاکٹ گائیڈز کی خرید و فروخت، موبائل فونز، فوٹو کاپی مشینوں اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

  • اوچ شریف میں چوری کی بڑھتی وارداتیں، ایک ہی رات دو گھروں کو نشانہ

    اوچ شریف میں چوری کی بڑھتی وارداتیں، ایک ہی رات دو گھروں کو نشانہ

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان )اوچ شریف اور مضافاتی علاقوں میں چوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ شب ایک ہی رات میں دو الگ الگ مقامات پر چوروں نے وارداتیں کر کے نہ صرف قیمتی سامان چوری کیا بلکہ علاقہ مکینوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پہلی واردات چک مانک کے رہائشی عرفان حیدر ولد خلیل احمد کے بند گھر میں ہوئی، جو کچھ عرصہ قبل محلہ جگ پورہ منتقل ہو چکے تھے۔ صبح جب وہ واپس اپنے آبائی گھر پہنچے تو دروازے کھلے اور اندر سامان بکھرا ہوا پایا۔ تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ چور ایک چھت والا پنکھا اور دو عدد چارپائیاں لے اڑے۔ عرفان حیدر کے مطابق تین نامعلوم افراد رات کی تاریکی میں دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور واردات کے بعد فرار ہو گئے۔

    دوسری واردات موضع حیدرپورہ میں محمد قربان ولد حضور بخش کے گھر پر ہوئی، جہاں چور ایک مہنگی جانوروں کو پانی پلانے والی مشین (موازنہ) چرا کر لے گئے۔ واردات اُس وقت ہوئی جب محمد قربان اپنے مویشیوں کے باڑے کے قریب سوئے ہوئے تھے۔ صبح کے وقت چوری کا انکشاف ہوا تو گواہان محمد نادر اور محمد جاوید کو طلب کیا گیا، جنہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ چور دیوار پھلانگ کر باڑے میں داخل ہوئے اور نشانات سڑک تک پائے گئے جہاں سے وہ غائب ہو گئے۔پولیس نے دونوں واقعات میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    دوسری جانب شہریوں نے بڑھتی ہوئی چوریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف اور گردونواح کے علاقے جرائم پیشہ افراد کا مرکز بن سکتے ہیں۔

  • سیالکوٹ،ممکنہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں میٹنگ

    سیالکوٹ،ممکنہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں میٹنگ

    سیالکوٹ باغی ٹی وی سٹی رپورٹر مدثر رتو سے ، ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر اتھارٹی نےممکنہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں میٹنگ کا انعقاد کیا،

    ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمحد ذوالقرنین کی زیر صدارت ممکنہ سیلابی صورتحال سے بروقت نبردآزما ہونے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر کمیٹی کا جلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال، DDMC سیالکوٹ کیوان حسن کے علاوہ ضلع بھر کے مہکموں کے نمائندگان اور سوشل ورکر صدر روز ویلفئیر اشفاق نذر نے حصہ لیا۔میٹنگ میں DDMC کیوان حسن نے ضلع میں سیلاب کے حوالے تیاریوں کی بابت تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ سیلاب کے حوالے تیاریوں کو مون سون سیزن شروع ہونے سے پہلے مکمل کیا جائے اس سلسلہ میں کوتاہی قبول نہیں ہو گی۔

  • اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے

    اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے

    اوچ شریف (جنرل رپورٹر)اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری۔ کمشنر بہاول پور ڈویژن

    تفصیل کے مطابق:کمشنر بہاول پور ڈویژن مسرت جبیں نے کہا ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے تاریخی اور روحانی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جن کے تحت اُچ شریف میں واقع صدیوں پرانے مزارات کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ بات انہوں نے اوچ شریف کے دورے کے موقع پر دربار محبوب سبحانی سید جلال الدین سرخ پوش بخاری اور دیگر مزارات پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کہی۔کمشنر کو جاری منصوبوں پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 63 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان منصوبوں میں مزارات کی بحالی، ملحقہ مساجد کی تعمیر و مرمت، زائرین کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی، اور سیاحتی ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔

    کمشنر مسرت جبیں نے بتایا کہ 9.5 کروڑ روپے کی لاگت سے زائرین کے لیے خصوصی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں، جن میں شاندار داخلی گیٹ، وسیع پارکنگ ایریا، وضو خانے، واش رومز، اور پینے کے صاف پانی کا بندوبست شامل ہے۔ اس کے علاوہ 9 مزارات کو ملانے والی سڑک پر ٹائلز نصب کی جائیں گی جبکہ ایک کرافٹ بازار بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ مقامی ہنرمندوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، بی بی جیوندی، حضرت بہاول حلیم اور دیگر مزارات کی مکمل مرمت و تزئین کی جائے گی، جو نہ صرف روحانی سیاحت کو فروغ دے گا بلکہ ملکی و غیر ملکی زائرین کے لیے ایک پرکشش مقام بن جائے گا۔

    کمشنر نے اس موقع پر منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے باہمی ہم آہنگی سے کام کریں اور ہر اسکیم کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی سستی یا ناقص کارکردگی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ترقیاتی فنڈز کا 100 فیصد مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔یہ منصوبے نہ صرف خطے کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہیں بلکہ جنوبی پنجاب میں سیاحت، معیشت اور مقامی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوں گے۔

  • فاٹا کو صوبہ میں ضم کرکے قبائلی عوام کا حق چھینا گیا، بسم اللہ آفریدی

    فاٹا کو صوبہ میں ضم کرکے قبائلی عوام کا حق چھینا گیا، بسم اللہ آفریدی

    پچیسواں آینی ترمیم غیر آئینی طریقے سے پاس کیا گیا ہے، ہم اسے مسترد کرتے ہیں، فاٹا کو صوبہ میں ضم کرکے قبایلی عوام کا حق چھینا گیا، بسم اللہ آفریدی دیگر مشران کا ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل رجسٹرڈ میں خصوصی گفتگو

    فاٹا لویہ جرگہ کے سینیر رہنما بسم اللہ آفریدی نے دیگر مشران کے ساتھ ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل رجسٹرڈ میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوے کہا کہ فاٹا کو صوبہ میں ضم کرکے قبایلی عوام کے ساتھ دھوکا او ظلم کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ 25 ویں آینی ترمیم کو ہم مسترد کرتے ہیں اور ہم نے تمام قبایلی ایجنسیوں میں عوام کی راے معلوم کرنے کے لیے فارمز تقسیم کیے ہیں تاکہ قبایلی عوام اجتماع طور پر اس غیر آئینی اقدام کو مسترد کریں۔
    ان کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام سے پہلے وعدے کیے گیے لیکن وفاقی اور صوبایی دونوں حکومتوں نے قبایلی عوام کے ساتھ کیے گیے وعدے پورے نہیں کیے، نہ تو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا گیا الٹا قبایلی عوام سے نوکریوں،ٹیکس اور میڈیکل کالجوں،دیگر کالجوں میں قبایلی عوام کے لیے مختص کوٹہ سسٹم ختم کیا گیا جو قبایلی عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کو مسترد کرنے کے لیے قبایلی عوام کی راے معلوم کرنے کے لیے تمام قبایلی اضلاع میں فارمز تقسیم کیے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قبایلی عوام تحریری اور زبانی طور پر فاٹا انضمام کو مسترد کریں۔

  • اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات،حکام کی خاموشی

    اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات،حکام کی خاموشی

    اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات کی کھلم کھلا تیاری شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ جاری پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی شہریوں کا ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے علاقوں میں غیر معیاری، مضر صحت اور انسانی جانوں کے لیے خطرناک مشروبات کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ خصوصاً "لیمن دودھ سوڈا” کے نام پر تیار کیے جانے والے یہ مشروب زہر قاتل بن چکے ہیں، جن کی تیاری میں ٹیکسٹائل کلرز، کیمیکل اور سکرین کا استعمال عام ہے۔زرائع کے مطابق ان جعلی مشروبات کی تیاری زنگ آلود مشینوں پر انتہائی ناقص صفائی کے ماحول میں کی جاتی ہے، جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ورکروں کے پاس نہ دستانے ہوتے ہیں، نہ ہی سر ڈھانپنے کے لیے ٹوپیاں، اور ان کی میڈیکل فٹنس تک کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔اوچ شریف میں درجنوں ایسے کارخانے قائم ہو چکے ہیں جہاں لیمن دودھ سوڈا، صندل شربت، الائچی، بادام اور دیگر اقسام کے مشروبات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ ان مشروبات کے استعمال سے پیٹ کی شدید بیماریاں، آنتوں کی سوجن، انفیکشن، گیسٹرو، اور ڈائریا جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مشروبات کا استعمال روزمرہ میں عام ہو چکا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں لوگ پیاس بجھانے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں، مگر لاعلمی میں اپنی صحت دائو پر لگا رہے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے تاحال کسی قسم کی کارر وائی سامنے نہیں آئی، جو عوام میں شدید تشویش اور غصے کا باعث بن رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے اور انسانی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف کسی قسم کی مہم یا چیکنگ کا آغاز نہیں کیا گیا۔شہریوں وزیر احمد شہباز خان سمیع اللہ فاروقی عبد الستار ساجد خان ودیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری فوڈ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان زہریلے مشروبات کے خلاف کارروائی کی جائے، تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،

  • ننکانہ:بابا گورو نانک یونیورسٹی  میں "سسٹین ایبل انرجی” پر دو روزہ سمپوزیم کا انعقاد

    ننکانہ:بابا گورو نانک یونیورسٹی میں "سسٹین ایبل انرجی” پر دو روزہ سمپوزیم کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار: احسان اللہ ایاز)بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں شعبہ فزکس اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے اشتراک سے دو روزہ سمپوزیم بعنوان "سسٹین ایبل انرجی” کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس علمی و تحقیقی تقریب کا مقصد پائیدار توانائی سے متعلق آگاہی، تحقیق اور قومی و عالمی سطح پر قابلِ عمل مکالمے کو فروغ دینا تھا۔

    سمپوزیم کے پہلے روز ممتاز ماہرین تعلیم اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے پائیدار توانائی کے موضوع پر مفصل خطابات کیے۔ مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر یاسر جمیل، ڈاکٹر حفیظ انور، محمد فاروق (ایکسین، این ٹی ڈی سی)، اور ڈاکٹر لاریب کرن شامل تھے۔ ان ماہرین نے ایس ڈی جی اہداف، پاکستان کے توانائی بحران، بیٹری اسٹوریج سسٹمز اور شمسی توانائی جیسے موضوعات پر مفصل روشنی ڈالی۔

    پہلے روز کے اختتامی اجلاس میں چیئرمین شعبہ فزکس ڈاکٹر نصیب احمد نے مہمان مقررین کا شکریہ ادا کیا جبکہ رجسٹرار جناب مبشر طارق نے معزز مہمانوں کو اعزازی شیلڈز پیش کیں۔

    دوسرے روز طلبہ کی جانب سے پوسٹر پریزنٹیشنز کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہ فزکس کے طلبہ نے پائیدار توانائی سے متعلق تحقیقی منصوبے پیش کیے۔ پوسٹر مقابلے کے ججز میں ڈاکٹر قدسیہ مشتاق (شعبہ زولوجی)، ڈاکٹر عدیل غفار (شعبہ بوٹنی)، اور محترمہ عمارہ ارشاد (شعبہ کیمسٹری) شامل تھیں، جنہوں نے طلبہ کی پیشکشوں کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا۔

    اس کامیاب سمپوزیم کے انعقاد میں ڈاکٹر ہاشم فاروق (اسسٹنٹ پروفیسر) اور جناب ارسم دانش (لیکچرار شعبہ فزکس) نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اختتامی تقریب میں شریک طلبہ کو اسناد سے نوازا گیا، جنہیں ان کی تحقیقی محنت اور جذبے کا اعتراف قرار دیا گیا۔

    یہ دو روزہ علمی سرگرمی نہ صرف طلبہ کے لیے علم کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی بلکہ توانائی کے شعبے میں تحقیق، تعلیم، صنعت اور پالیسی سازی کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم بھی ثابت ہوئی۔

  • احمدپورشرقیہ: پٹواریوں کی گندم مہم تیز، کسانوں کو ‘پٹوار حصہ’ کا باردانہ بھجوا دیا گیا

    احمدپورشرقیہ: پٹواریوں کی گندم مہم تیز، کسانوں کو ‘پٹوار حصہ’ کا باردانہ بھجوا دیا گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ میں گندم کٹائی کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی پٹوار خانوں میں کرپشن کا نیا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے، جہاں مقامی پٹواریوں اور ان کے منشیوں کی جانب سے کسانوں پر دباؤ ڈال کر "پٹوار حصہ” کے نام پر زبردستی گندم کے بورے وصول کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مختلف دیہاتوں میں پٹواریوں کے منشیوں نے زمینداروں کو پیغام بھجوایا ہے کہ فی ایکڑ یا فی مشینری استعمال کے حساب سے گندم دینا ہوگی، بصورت دیگر زمینوں کے انتقال، فرد، یا دیگر قانونی معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ کئی کسانوں نے خوف کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ انکار کی صورت میں متعلقہ پٹواری ان کے قانونی کاغذات روک لیتے ہیں اور دفاتر کے چکر لگوا کر انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

    ایک کسان نے بتایا:
    "ہم دن رات کھیتوں میں کام کرتے ہیں، لیکن ہمیں ہماری ہی محنت کا صلہ نہیں ملتا۔ کچھ سرکاری اہلکار ناجائز حصہ وصول کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔”

    کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ روایت کئی سالوں سے چلی آ رہی ہے، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انکار ممکن نہیں رہا۔ اگر کوئی کسان جرات کا مظاہرہ کرے تو اس کا ریکارڈ روک لیا جاتا ہے، اور دفاتر میں شنوائی کے بجائے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    علاقے کے معززین، سماجی رہنماؤں اور کسان تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ مال اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل بھر میں ہونے والی اس "گندم گردی” کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار پٹواریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور کسانوں کو کرپٹ نظام سے نجات دلائی جائے۔

  • اوچ شریف:زنگ آلود سانچے،ناقص صفائی،عوام مضرصحت  برف استعمال کرنے پرمجبور

    اوچ شریف:زنگ آلود سانچے،ناقص صفائی،عوام مضرصحت برف استعمال کرنے پرمجبور

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے برف کے کارخانوں کی ابتر صورتحال نے شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہر بھر میں قائم درجنوں برف خانوں میں زنگ آلود سانچوں، صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر تربیت یافتہ ملازمین کی موجودگی کے باعث تیار کی جانے والی غیر معیاری برف شہریوں میں گیسٹرو، ڈائیریا اور جلدی امراض جیسی بیماریوں کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ انتظامیہ کی غفلت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی پر شہریوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، اوچ شریف میں موجود برف کے کارخانوں میں مضر صحت اور غیر معیاری برف کی کھلے عام فروخت جاری ہے۔ ان کارخانوں میں استعمال ہونے والے برف کے سانچے زنگ آلود ہو چکے ہیں اور صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ گندے اور آلودہ پانی سے تیار کی جانے والی یہ برف گھریلو اور تجارتی دونوں سطحوں پر استعمال ہو رہی ہے، جو کہ متعدد بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان برف خانوں میں کام کرنے والے بیشتر ملازمین طبی سرٹیفکیٹ سے محروم ہیں اور حفاظتی لباس، سر ڈھانپے بغیر اور صفائی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ پرانے اور میلے کپڑوں، گندے ناخنوں اور غیر محفوظ ماحول میں تیار کی جانے والی یہ برف عوام کی صحت کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

    مزید برآں، کئی برف خانوں میں پانی کے مائیکرو بائیولوجیکل اور کیمیکل ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے، جبکہ بیشتر مقامات پر فلٹریشن پلانٹ کا کوئی اندراج موجود نہیں ہے۔ ان کارخانوں میں مکھیوں سے بچاؤ کے لیے جالی اور کیڑے مار ادویات کا بھی کوئی استعمال نہیں کیا جاتا، جس سے برف مزید آلودہ ہو رہی ہے۔

    برف کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہیں۔ یہ گاڑیاں کھلے عام اور بغیر کسی کور کے برف لے کر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں گرد و غبار اور دیگر آلودگی آسانی سے برف میں شامل ہو جاتی ہے۔

    شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان برف خانوں کا باقاعدگی سے معائنہ، لیبارٹری ٹیسٹ اور سخت لائسنسنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات بدستور موجود رہیں گے۔