Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: چوروں نے مسجد کو بھی نہ بخشا، پانی کی موٹر لے اڑے

    اوچ شریف: چوروں نے مسجد کو بھی نہ بخشا، پانی کی موٹر لے اڑے

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان) چوروں نے مسجد کو بھی نہ بخشا، پانی کی موٹر لے اڑے

    اوچ شریف کے نواحی علاقے میں ایک دل دہلا دینے والی واردات نے مقامی لوگوں میں خوف اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ موہانہ والی پل کے قریب واقع ایک مسجد میں چوروں نے گھس کر وہاں سے پانی کی موٹر چوری کر لی۔ یہ موٹر مسجد میں وضو اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ تھی۔ اس گھناؤنے فعل نے نہ صرف اہلِ علاقہ کو پانی کی سہولت سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے مذہبی جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔

    مقامی لوگوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقدس مقام کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوروں نے نہ صرف چوری کی ہے بلکہ ان کی عبادت میں بھی رکاوٹ ڈالی ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں اور ان مجرموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دیں۔

    علاقے کے معززین نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ دوسروں کے لیے یہ ایک عبرت کا نشان بن جائے۔

    اس واقعے نے مقامی لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے اور وہ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر

    میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر

    میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر
    تحریر:حبیب خان (نامہ نگار باغی ٹی وی )
    میلہ اوچ شریف ایک ایسا روحانی اجتماع ہے جو برصغیر کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ میلہ دراصل ان عظیم اولیائے کرام کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دین اسلام کی ترویج اور لوگوں کی روحانی رہنمائی کی۔ ان بزرگ ہستیوں میں حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت عثمان مروندی (لعل شہباز قلندر) شامل ہیں۔ ان اولیائے کرام کی تعلیمات کا مقصد انسانوں کو روحانیت کی طرف متوجہ کرنا، ظلم و جبر سے نجات دلانا اور محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا تھا۔ ان کی زندگی کے ہر پہلو میں انسانیت کی خدمت اور خدا کی رضا کی تلاش تھی، لیکن افسوس کہ آج میلہ اوچ شریف میں ان کے مقاصد سے ہٹ کر مختلف نوعیت کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔

    حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت بہاؤ الدین زکریا، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت عثمان مروندی کی تعلیمات نہ صرف عبادات کے حوالے سے بلکہ معاشرتی اصلاحات پر بھی زور دیتی تھیں۔ ان بزرگوں کا مقصد لوگوں کے دلوں میں خدا کی محبت بٹھانا، انسانوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینا اور ظلم و فساد کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ ان کا پیغام محبت، اخوت اور انسانیت کی خدمت تھا، جس میں کسی قسم کا لالچ، تشہیر یا دنیاوی مفاد کی جگہ نہ تھی۔

    ان بزرگ ہستیوں کی زندگی اور ان کی تعلیمات کے مطابق میلہ اوچ شریف ایک روحانی اجتماع ہونا چاہیے تھا جہاں عقیدت مند اپنے روحانی سفر کو مکمل کرنے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرنے آتے۔ ان کا مقصد لوگوں کے دلوں میں تقویٰ، خشوع اور ایمان کی روشنی بٹھانا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میلہ اوچ شریف کی روحانیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں شامل سرگرمیاں اس کے اصلی مقصد سے بہت دور ہو چکی ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ میلہ اولیائے کرام کی یاد میں ہونا چاہیے تھا، وہاں اب یہ ایک تفریحی اور تجارتی ایونٹ بن چکا ہے۔ تفریحی پروگراموں کی شکل میں فحاشی اور اخلاقی گراوٹ نے اس میلے کی روح کو متاثر کیا ہے۔

    آج کے میلے میں ورائٹی شوز، سرکس اور دیگر تفریحی پروگرام شامل ہیں، جہاں عریانی اور فحاشی کا پرچار کیا جاتا ہے۔ رقاصائیں نیم عریاں لباس میں رقص کرتی ہیں اور یہ سب کچھ "تفریح” کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف اولیائے کرام کی تعلیمات سے متصادم ہیں، بلکہ یہ عوامی سطح پر اخلاقی گراوٹ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے افراد کی دولت کو لٹانا اور ان سے دھوکہ دہی کرنا، اس میلے کے اصل مقصد کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا غماز ہے کہ میلے میں شریک ہونے والے افراد اور انتظامیہ نے اولیائے کرام کے پیغام کو بھلا دیا ہے اور اس کے بجائے تجارتی مفادات اور عوامی تفریح کے ذریعے پیسہ کمانا شروع کر دیا ہے۔

    اولیائے کرام کی تعلیمات میں سب سے اہم پہلو انسانوں کی خدمت اور اللہ کی رضا کی تلاش ہے۔ ان بزرگوں کی زندگی میں عبادت، علم، اخلاقی عظمت اور انسانوں کی مدد کی اہمیت تھی۔ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کی تعلیمات کی بنیاد پر انسانیت کی خدمت اور تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھا، لیکن آج جب ہم میلہ اوچ شریف کی صورت حال دیکھتے ہیں تو اس میں ان کی تعلیمات کے برعکس سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

    میلہ اوچ شریف میں اولیائے کرام کی تعلیمات کو یاد رکھنا اور ان کے پیغامات کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اس میلے کو دوبارہ اس کی اصل روح میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں اخلاقی طور پر صحت مند پروگرامز کا انعقاد کیا جائے، جو لوگوں کو روحانیت کی طرف مائل کریں اور ان کے دلوں میں تقویٰ، ہمت اور محبت کا جذبہ پیدا کریں۔

    میلہ اوچ شریف کی سیکیورٹی اور انتظامی تدابیر بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوتے ہیں تو ان کے لیے امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اضافی نفری تعینات کرتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات صرف جرائم کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ میلے کی اصلی روح کو بحال کرنے کے لیے بھی ہونے چاہئیں۔ عوامی سطح پر ہونے والی اخلاقی گراوٹ اور جرائم کی روک تھام کے لیے حکومتی اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔

    میلہ اوچ شریف کی اصلی روح کو واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ میلے کی سرگرمیاں مذہبی، اصلاحی اور ثقافتی پروگرامز تک محدود کی جائیں۔ اولیائے کرام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو اخلاقی تربیت، روحانی رہنمائی اور تقویٰ کی اہمیت بتائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو امن و سکون کے ساتھ روحانی ترقی کے مواقع مل سکیں۔

  • قصور: فارم ہاؤس پر چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

    قصور: فارم ہاؤس پر چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

    قصور ( ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو ) فارم ہاؤس پرپولیس کا چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

    تفصیل کے مطابق تھانہ مصطفیٰ آباد پولیس نے ڈی ایس پی صدر افضل ڈوگر کی سربراہی میں ایک فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا اور ڈانس پارٹی کے دوران نشے میں دھت 30 مردوں اور 25 لڑکیوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فارم ہاؤس سے شراب کی بوتلیں، ڈانسنگ پلز، شیشہ پینے کا سامان اور ساؤنڈ سسٹم بھی قبضے میں لے لیا۔

    تھانہ مصطفیٰ آباد پولیس کو پکی حویلی کے قریب فارم ہاؤس پر ڈانس پارٹی کی خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ڈی پی او محمد عیسیٰ خان کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر کی سربراہی میں ایس ایچ او ثقلین بخاری پر مشتمل ٹیم نے بھاری نفری کے ساتھ فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا۔ پولیس نے فارم ہاؤس کے مالک سمیت نشے میں دھت 30 مردوں اور 25 لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

  • سیالکوٹ: مریم نواز کی تعلیم دوست پالیسی، طالبات میں انعامات تقسیم

    سیالکوٹ: مریم نواز کی تعلیم دوست پالیسی، طالبات میں انعامات تقسیم

    سیالکوٹ ، باغی ٹی وی( سٹی رپورٹر مدثر رتو )رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے پُر عزم ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول بٹر میں میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں میڈلز، تعریفی اسناد اور یونیفارم تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ مفت تعلیم، کتب، لیپ ٹاپ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اربوں روپے کے تعلیمی وظائف اور نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے سکول کی طالبات کی شاندار کارکردگی کو اساتذہ کی محنت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے سکول کی توسیع کے لیے مجوزہ سرکاری زمین کو سکول کے نام منتقل کرنے کا وعدہ کیا اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اسی جذبے سے طالبات کو تعلیم دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خواتین کو باصلاحیت اور بہادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ملک و قوم کو مایوس نہیں کیا۔ تقریب میں سٹی صدر پی ایم ایل این ویمن ونگ نصرت جمشید، مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما چودھری نثار احمد، سی ای او ایجوکیشن مجاہد حسین علوی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

  • اوکاڑہ : والدین کی غفلت، تین بچے آگ کی لپیٹ میں آکر جاں بحق

    اوکاڑہ : والدین کی غفلت، تین بچے آگ کی لپیٹ میں آکر جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر) والدین کی غفلت، تین بچے آگ کی لپیٹ میں آکر جاں بحق

    اوکاڑہ کے نواحی قصبے 31 جی ڈی میں ایک دلخراش واقعے میں، والدین کی غفلت کے باعث گھر میں آتشزدگی سے 2 کمسن بھائی اور ان کی بہن جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق قصبہ 31 جی ڈی کے رہائشی زاہرے خان کے 3 کمسن بچے ایک ہی چارپائی پر چادر اوڑھے سو رہے تھے اور گھر والوں نے مچھر سے بچاؤ کے لیے چارپائی کے قریب اُپلے جلا رکھے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اُپلوں کی آگ بستر کی چادر کو لگی جس نے تینوں بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ سے 4 سالہ شیزہ اور 2 سالہ قمر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئےجبکہ 7 سالہ عبداللہ کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے احکامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب اور اسسٹنٹ کمشنر ممتاز سوگوار خاندان کے گھر پہنچے۔ ضلعی انتظامیہ نے جاں بحق بچوں کی تدفین کے اخراجات اٹھائے اور اپنی نگرانی میں بچوں کو سپرد خاک کیا۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ آتشزدگی سے جھلس کر فوت ہونے والے بچوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے فوت ہونے والے بچوں کے والدین کی مالی امداد کے لیے فوری درخواست کرنے کا بھی اعلان کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے محکمہ سول ڈیفنس کو آتشزدگی کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے موثر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کو فائر سیفٹی اقدامات سے آگاہ کرنے پر زور دیا۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا ہسپتال کا معائنہ، مفت ادویات کی فراہمی کا حکم

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا ہسپتال کا معائنہ، مفت ادویات کی فراہمی کا حکم

    ڈیرہ غازی خان(نیوزرپورٹرشاہدخان) ڈپٹی کمشنر کا ہسپتال کا معائنہ، مفت ادویات کی فراہمی کا حکم

    ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے میں ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر صدر تیمور عثمان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں ٹراما سینٹر اور ایمرجنسی وارڈ بھی شامل تھے۔ انہوں نے مریضوں کی عیادت کی اور ان کے لواحقین، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے ہسپتال کی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

    اس دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں باہر کی ادویات تجویز کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس کی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ داخل مریضوں کو تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں اور باہر کی ادویات تجویز کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق ہسپتالوں میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سخت نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بروقت حاضری یقینی بنانے اور صفائی، سکیورٹی، پارکنگ اور کینٹین سمیت ہسپتال کے تمام شعبوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی کہا کہ اگر انہیں مفت ادویات فراہم نہیں کی جاتیں تو وہ ہیلپ لائن 103 پر کال کر کے شکایت درج کروا سکتے ہیں، جس پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے کہا کہ وہ ٹیم ورک کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کے معاملات کو بہتر بنائیں۔

  • گوجرہ :کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ :کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ)کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ کے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر آوارہ کتوں کی موجودگی نے شہریوں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ باغی ٹی وی کے نامہ نگار عبد الرحمن جٹ کے مطابق، یہ آوارہ کتے دفتر کے باہر موجود رہتے ہیں اور آنے جانے والے لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ حال ہی میں، ایک وکیل میاں شرجیل اشرف اس وقت آوارہ کتوں کا نشانہ بنے جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر دفتر جا رہے تھے۔ کتوں کے حملے کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہو کر اپنی موٹر سائیکل سے گر گئے، جس سے ان کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور انہیں دیگر چوٹیں بھی آئیں۔

    شہریوں نے انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی گوجرہ کی آوارہ کتوں کو تلف کرنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تھوڑے دن پہلے، گوجرہ میں ایک شخص کتے کے کاٹنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گوجرہ کچہری اور شہر کے پارکوں سے آوارہ کتوں کو تلف کریں تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

  • آؤٹ سورس سکول، تبادلے کا آخری موقع، درخواست نہ دینے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم

    آؤٹ سورس سکول، تبادلے کا آخری موقع، درخواست نہ دینے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی )پنجاب حکومت نے صوبے میں آؤٹ سورس کیے گئے دس ہزار سکولوں کے 47 ہزار اساتذہ کو ان سکولوں سے اپنا تبادلہ کرانے کا ایک اہم اور آخری موقع دیا ہے۔ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اساتذہ کے تبادلوں کے لیے 7 اپریل سے ایک نیا آن لائن نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اساتذہ گھر بیٹھے ہی اپنی منتقلی کی درخواستیں جمع کروا سکیں گے۔ یہ اقدام ان اساتذہ کے لیے ایک اہم موقع ہے جو آؤٹ سورس سکولوں میں کام کر رہے ہیں اور اپنے تبادلے کے خواہشمند ہیں۔

    پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا سلسلہ جاری ہے جو کہ محکمہ تعلیم اور اساتذہ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ بھی بنا ہوا ہے۔ اب حکومت نے آؤٹ سورس سکولوں کے تقریباً 47 ہزار اساتذہ کو لازمی طور پر ان سکولوں سے تبادلہ کروا کر دوسرے سکولوں میں منتقل ہونے کا آخری موقع فراہم کیا ہے۔ اس فیصلے سے ان اساتذہ کو اپنی ملازمتوں کے مستقبل کے حوالے سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جن سرکاری اساتذہ کی نوکریاں ان سکولوں میں تھیں جو اب آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں، انہیں دس دن کے اندر اندر اپنی پسند کی ایسی جگہ کا انتخاب کرنا ہوگا جہاں وہ اپنا تبادلہ کروانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ مقررہ دس دن کے اندر تبادلے کی درخواست جمع نہ کروانے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم کر دی جائیں گی۔ یہ ایک سخت شرط ہے جس سے اساتذہ کو فوری طور پر تبادلے کے لیے درخواست دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی ایک خبر سامنے آئی تھی کہ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نےآئوٹ سورس کئے جانیوالے سکولوں میں اساتذہ اور دیگر سٹاف کی پوسٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ مجموعی طور پر40 ہزار سے زائد پوسٹیں ختم کی جارہی ہیں۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی 15 فیصد کے قریب پوسٹیں ختم کی گئیں، مختلف سکیلز کی 43 ہزار 960 پوسٹیں ختم کی جارہی ہیں۔

    فیصلہ سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی وجہ سے کیا گیا، مجموعی طور پر 10 ہزار کے قریب سکول آؤٹ سورس کئے گئے ہیں، آؤٹ سورس ہونے والے سکولوں کے اساتذہ کو قریبی سکولوں میں ٹرانسفر کیا جائیگا۔ اساتذہ کی جانب سے پوسٹیں ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اساتذہ کا کہناکہ محکمہ سکول ایجوکیشن کا مستقل سیٹوں کو ختم کرنا افسوسناک ہے۔

  • سیالکوٹ کے گاؤں کوٹلی مرلاں میں 6 ماہ کے دوران دوسری بہو قتل

    سیالکوٹ کے گاؤں کوٹلی مرلاں میں 6 ماہ کے دوران دوسری بہو قتل

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) سیالکوٹ سرکل ڈسکہ کے تھانہ موترہ کے علاقہ کوٹلی مرلاں میں ایک ہی گاؤں میں 6 ماہ کے دوران دوسری جوان سالہ بہو کو قتل کر دیا گیا۔

    تھانہ موترہ کے علاقہ کوٹلی مرلاں میں شوہر نے 24 سالہ بیوی مریم کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ مقتولہ مریم کے والد کے مطابق ایک سال قبل بیٹی کی شادی واجد علی سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد سسرال میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور آئے روز لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔ تاہم وہ بیٹی کو سسرال میں خوش اسلوبی سے زندگی گزارنے کی تلقین کرتے رہے تھے۔

    اسی گاؤں کوٹلی مرلاں میں چند ماہ قبل سسرالیوں نے زارا نامی بہو کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے سیوریج نالہ میں پھینک دیے تھے۔

  • اوکاڑہ:عید ملن پارٹی سابق صدر بار سے وفد کی ملاقات، پاکستان کی ترقی کے لیے دعائیں

    اوکاڑہ:عید ملن پارٹی سابق صدر بار سے وفد کی ملاقات، پاکستان کی ترقی کے لیے دعائیں

    اوکاڑہ(نامہ نگار، ملک ظفر) عید ملن پارٹی سابق صدر بار سے وفد کی ملاقات، پاکستان کی ترقی کے لیے دعائیں

    اوکاڑہ میں عید ملن پارٹی کے پرمسرت موقع پر آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے ایک معزز وفد نے سابق صدر بار اوکاڑہ ملک مقبول حسین شاکر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد شریک ہوئے، جنہوں نے نہ صرف عید کی خوشیاں بانٹیں بلکہ وطن عزیز کی ترقی اور استحکام کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار بھی کیا۔

    ملاقات میں شریک اہم شخصیات میں ملک ریاض احمد (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ)، ملک سعید الرحمن (پاک آرمی)، سینئر ایڈیٹر ملک اکمل عارف، سماجی کارکن حلقہ این اے 136 ملک خالد یعقوب، ڈاکٹر ملک محمد احمد طلحہ، ملک عامر ذوالفقار ایڈووکیٹ، انسپکٹر ملک لیاقت علی بھوہڑ، ملک یسین آف حاصل پور، طالب علم رہنما ملک سرمد ریاض، ملک اسد وقاص ایڈووکیٹ، ملک ضیاء مانک ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور سینئر صحافی و کالم نگار ملک ظفر اقبال شامل تھے۔ ان تمام افراد نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور اس موقع پر ان کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

    اس موقع پر حاضرین نے مل کر پاکستان کی سربلندی، خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعا مانگی۔ دعائیہ کلمات کے دوران جذباتی لمحات دیکھنے میں آئے جب شرکاء نے وطن کے روشن مستقبل کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    سابق صدر بار اوکاڑہ ملک مقبول حسین شاکر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آج پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی مسائل، سماجی ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام جیسے موضوعات شامل ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ آنے والا دور پاکستان کے لیے خوشحالی، ترقی اور استحکام کا دور ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم سب کو مل کر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔”

    خاص طور پر نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ "نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ انہیں اپنے بہتر کل کے لیے مثبت سوچ اپنانے اور کردار سازی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیم، محنت اور ایمانداری کے ساتھ وہ نہ صرف اپنی زندگیاں سنوار سکتے ہیں بلکہ ملک کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔” ان کے یہ الفاظ حاضرین کے لیے ایک عظیم پیغام ثابت ہوئے اور انہوں نے اسے خوب سراہا۔

    تقریب کے دوران شرکاء نے عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا ،گلے ملےاور مستقبل میں بھی اس طرح کے اجتماعات کے انعقاد پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر وفد نے سابق صدر بار کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا، جنہوں نے ہمیشہ معاشرتی بہتری کے لیے کام کیا۔

    یہ عید ملن پارٹی نہ صرف ایک سماجی تقریب تھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ثابت ہوئی جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے مل کر وطن کی ترقی اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس ملاقات نے یہ پیغام دیا کہ اتحاد، مثبت سوچ اور اجتماعی کوششوں سے ہی پاکستان اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔