Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: الحمد ہائیر سیکنڈری سکول چکی مراد میں سالانہ امتحانی نتائج کی رنگا رنگ تقریب

    اوچ شریف: الحمد ہائیر سیکنڈری سکول چکی مراد میں سالانہ امتحانی نتائج کی رنگا رنگ تقریب

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) الحمد ہائیر سیکنڈری سکول چکی مراد، اوچ شریف میں سالانہ امتحانی نتائج کے اعلان کے لیے ایک شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس نے علاقے میں تعلیمی شعور اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔ اس تقریب میں معزز شخصیات، اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے اس موقع کی اہمیت اور رونق میں مزید اضافہ ہوا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طلبہ نے ملی نغموں اور تعلیمی موضوعات پر مبنی خوبصورت پرفارمنسز پیش کیں۔ اس موقع پر امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ان کی محنت اور لگن کے صلے میں قیمتی انعامات سے نوازا گیا۔ ان انعامات میں لیپ ٹاپ، سائیکلیں، گھڑیاں، نقد انعامی رقوم اور دیگر تحائف شامل تھے۔ انعامات کی تقسیم کے دوران طلبہ کے چہروں پر خوشی اور فخر کے جذبات نمایاں تھے، جبکہ والدین نے بھی اسکول انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا۔

    مہمانانِ گرامی میں ایم این اے مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی، سابق ایم پی اے قاضی عدنان فرید کے پرسنل سیکرٹری قاضی نعیم احمد، صدرپریس کلب اوچ شریف و پی سی نیوز میاں محمد عامر صدیقی، معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر ضیاء شہزاد، مجسٹریٹ پرائس کنٹرولر قاضی نعیم احمد، ڈائریکٹر سلیمی بک ڈپو احمد پور الحاج سعید احمد سلیمی، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر مجاہد نذیر، زمیندار اعلیٰ رانا عبد الرحمٰن اور وائس چیئرمین صابر رسول چنڑ سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان معزز مہمانوں نے اپنے خطابات میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ کو مستقبل میں مزید محنت اور لگن سے کام کرنے کی ترغیب دی۔

    میاں محمد عامر صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو قوموں کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ آج کے ان باصلاحیت طلبہ میں ہمارا مستقبل چھپا ہے۔” انہوں نے اسکول انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب طلبہ کے اندر مقابلے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح قاضی نعیم احمد نے طلبہ سے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔

    تقریب کے دوران انعام یافتہ طلبہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اسکول کے اساتذہ اور والدین کا شکریہ ادا کیا جن کی رہنمائی اور تعاون نے انہیں یہ کامیابی دلوائی۔ ایک طالب علم نے کہا، "یہ لیپ ٹاپ میری تعلیم کو مزید بہتر بنانے میں میری مدد کرے گا اور میں اسے اپنی محنت کا صلہ سمجھتا ہوں۔”

    والدین نے اس تقریب کو علاقے کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرامز نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ والدین اور اساتذہ کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ ایک والد نے کہا، "ہمارے بچوں کو اس طرح سراہا جانا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، اور اس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔”

    اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جاتی ہے تاکہ طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے اور انہیں ان کی محنت کا صلہ دیا جا سکے۔ انہوں نے مہمانوں اور والدین کا شکریہ ادا کیا جن کی موجودگی نے تقریب کو یادگار بنایا۔

    یہ تقریب نہ صرف الحمد ہائیر سیکنڈری سکول کے طلبہ کی کامیابیوں کا جشن تھی بلکہ اوچ شریف کے تعلیمی منظر نامے میں ایک روشن باب کا اضافہ بھی ثابت ہوئی۔ علاقے کے لوگوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے، جو طلبہ کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیں گے۔

  • اوچ شریف: اکبر والا بھٹہ پر مزدور کا بازو مشین میں کچل گیا، حالت نازک

    اوچ شریف: اکبر والا بھٹہ پر مزدور کا بازو مشین میں کچل گیا، حالت نازک

    اوچ شریف، باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان )اکبر والا بھٹہ پر مزدور کا بازو مشین میں کچل گیا، حالت نازک

    تفصیلات کے مطابق جلالپور روڈ پرشام کے اوقات میں محمد امجد اپنے معمول کے مطابق اینٹوں کی مشین پر کام کر رہا تھا۔ اچانک مشین میں خرابی یا غفلت کے باعث اس کا بایاں بازو مشین کے اندر چلا گیا، جس سے اس کے بازو کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور شدید خون بہنے لگا۔ ساتھی مزدوروں نے فوراً اسے مشین سے نکالنے کی کوشش کی، لیکن بازو بری طرح دب چکا تھا اور اس کی حالت تشویشناک ہو گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ریسکیو اہلکاروں نے ہنگامی بنیادوں پر محمد امجد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس میں خون بہنے کو روکنے اور زخموں کو باندھنے کی کوشش کی گئی۔ طبی عملے نے اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اس کے بعد زخمی مزدور کو ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ لے جایا گیا

    ریسکیو 1122کے مطابق محمد امجد کے بایاں بازو کی حالت انتہائی خراب ہے اور ممکنہ طور پر سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    اس واقعے نے بھٹہ مزدوروں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو اکثر مناسب حفاظتی سامان یا تربیت فراہم نہیں کی جاتی، جس کے نتیجے میں ایسے المناک حادثات رونما ہوتے ہیں۔ محمد امجد کے اہلخانہ اور ساتھی مزدوروں نے بھٹہ مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی کے علاج کا خرچہ اٹھایا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ریسکیو حکام نے بھی اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے اور متعلقہ اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • عید کی چھٹیاں، ہیڈ پنجند پر سیاحوں کا جم غفیر، حفاظتی انتظامات غائب، بڑے حادثے کا خدشہ

    عید کی چھٹیاں، ہیڈ پنجند پر سیاحوں کا جم غفیر، حفاظتی انتظامات غائب، بڑے حادثے کا خدشہ

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان)عید کی تعطیلات کے دوران، ہیڈ پنجند پر سیاحوں کا جم غفیر دیکھا گیا۔ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ، سیاحوں نے دریائے چناب میں کشتی رانی اور تیراکی سے بھی لطف اٹھایا۔ تاہم، انتظامیہ کی غفلت اور عدم توجہی کے باعث کسی بھی بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عید کی تعطیلات میں سینکڑوں سیاح ہیڈ پنجند کے مختلف مقامات پر آئے اور دریائے چناب میں تیراکی کی۔ ان میں سے بیشتر سیاحوں نے حفاظتی جیکٹ یا دیگر حفاظتی سامان کا استعمال نہیں کیا۔ کرائے پر دستیاب کشتیوں کی حالت بھی خستہ تھی اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے کوئی مناسب نگرانی یا رہنمائی موجود نہیں تھی۔

    انتظامیہ نے اس صورتحال کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ عید کی تعطیلات میں انتظامیہ کی تمام تر توجہ صرف تہوار کی تقریبات پر مرکوز رہی اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ انتظامیہ کی یہ غفلت کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔

    سیاحوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہی فراہم کی ہوتی اور حفاظتی جیکٹس فراہم کی ہوتیں تو صورتحال اتنی خطرناک نہ ہوتی۔ تاہم کسی قسم کی روک تھام نہ ہونے کی وجہ سے سیاح بغیر کسی خوف کے دریا میں تیراکی کرتے رہے، جس سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

    مقامی انتظامیہ کو اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان اقدامات میں حفاظتی جیکٹس کی فراہمی، کرائے کی کشتیوں کی حالت کو بہتر بنانا اور سیاحوں کو دریا میں جانے سے پہلے مناسب رہنمائی فراہم کرنا شامل ہے۔

    سیاحوں کی حفاظت کے لیے انتظامیہ کی فوری کارروائی نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی حکام سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انتظامیہ کی اس غفلت کے باعث کسی بھی وقت ہیڈ پنجند پر کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

    سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری طور پر مناسب اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور یہ سیاحتی مقام سیاحوں کے لیے مزید خطرناک ہو جائے گا۔ لہٰذا مقامی حکام کو فوری طور پر اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ہیڈ پنجند جیسے اہم سیاحتی مقام کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • سیالکوٹ:عید تعطیلات میں ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی، 508 جانیں بچ گئیں

    سیالکوٹ:عید تعطیلات میں ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی، 508 جانیں بچ گئیں

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہد ریاض) عید تعطیلات کے دوران ریسکیو 1122 نے 530 مختلف ایمرجنسی کالز پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے 508 قیمتی جانیں بچائیں۔

    تفصیلات کے مطابق سیکرٹری پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایت اور ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ فواد کی زیر قیادت، ریسکیو 1122 ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی نگرانی میں ہائی الرٹ رہا۔ عید تعطیلات کے دوران ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو 3403 کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 530 ایمرجنسی کالز تھیں۔ ان ایمرجنسی کالز میں 244 سڑک حادثات، 14 جرائم کے واقعات، 12 آگ لگنے کے واقعات، 197 طبی ایمرجنسیز، 1 ڈوبنے کا واقعہ، 1 عمارت گرنے کا واقعہ اور 61 جانوروں کو ریسکیو کرنے جیسے آپریشنز شامل تھے۔

    ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 244 زخمیوں کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور 264 متاثرین کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا۔ مختلف ایمرجنسیز میں 14 افراد موقع پر یا ہسپتال منتقلی کے دوران وفات پا گئے، جبکہ 1 شخص مچھلیوں کے تالاب میں ڈوب کر اور 6 افراد سڑک حادثات میں جان کی بازی ہار گئے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے مزید بتایا کہ عید تعطیلات کے دوران ریسکیورز نہروں، تفریحی مقامات اور ہیڈ مرالہ پر بھی ڈیوٹی انجام دیتے رہے تاکہ حادثات کی صورت میں بروقت کارروائی کر کے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ریسکیو 1122 نے چاند رات اور نماز عید کے اجتماعات میں بھی ڈیوٹی انجام دی۔ ریسکیو ڈسٹرکٹ وارڈن جمیل جنجوعہ کی سربراہی میں ریسکیو محافظین بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہے۔

  • گوجرہ: بھیک مانگنے کے بہانے بچی اغوا کرنے والی خواتین گرفتار

    گوجرہ: بھیک مانگنے کے بہانے بچی اغوا کرنے والی خواتین گرفتار

    گوجرہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار عبد الرحمن جٹ) بھیک مانگنے کے بہانے بچوں کو اغوا کرنے والی دو خواتین کو محلہ شاہ آباد کالونی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان نے نعمان نامی شخص کی چار سالہ بیٹی کو اس وقت اغوا کیا جب وہ گھر میں سو رہی تھی۔

    تفصیلات کے مطابق ملزم خواتین جن کی شناخت گڑیا اور فیروزہ کے نام سے ہوئی ہے، بچی کو اغوا کر کے فرار ہو رہی تھیں کہ محلے والوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں پکڑ لیا۔ اطلاع ملنے پر ایس ایچ او سٹی سرفراز احمد موقع پر پہنچے اور بچی کو بازیاب کروا کر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس نے ملزم خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • تنگوانی  :گھرمیں رکھی پرالی کے ڈھیر کوآگ ، فائر بریگیڈ کا انکار، انسانیت شرمسار!

    تنگوانی  :گھرمیں رکھی پرالی کے ڈھیر کوآگ ، فائر بریگیڈ کا انکار، انسانیت شرمسار!

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی کے قریب واقع گاؤں معصوم شاہ میں کندھ کوٹ کے مقامی صحافی فدا حسین باجکانی کے گھر میں آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ آگ کے شعلوں نے ان کے گھرمیں رکھی پرالی کے دو ڈھیروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے دو لاکھ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔

    آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ کو طلب کیا گیا، لیکن تنگوانی اور کندھ کوٹ دونوں فائر بریگیڈز نے موقع پر پہنچنے میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔ تنگوانی فائر بریگیڈ کے انچارج نے اپنی گاڑی کے خراب ہونے کا بہانہ بنایا جبکہ کندھ کوٹ فائر بریگیڈ کے انچارج نے سیاسی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایم پی اے عابد خان سندرانی اور تعلقہ چیئرمین راشد سندرانی کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتے۔

    آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے پڑوسیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر پانی برتنوں میں بھرکر اپنی مددآپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی۔ ان کی بروقت کوششوں سے مزید نقصان سے بچا جا سکا، لیکن پرالی کے دو ڈحیر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔

    اس واقعے نے مقامی انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عوام میں فائر بریگیڈ کی عدم دستیابی اور سیاسی مداخلت پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک صحافی کے گھر کی یہ حالت ہے تو عام آدمی کی حفاظت کا کیا عالم ہوگا۔

    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری طور پر تحقیقات کی جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کو سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ فائر بریگیڈ کو جدید آلات سے لیس کیا جائے اور سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے۔

  • کورنگی میں زمین کے نیچے گیس کا دریا، آگ بجھانا چیلنج!

    کورنگی میں زمین کے نیچے گیس کا دریا، آگ بجھانا چیلنج!

    کراچی (باغی ٹی وی)کورنگی میں 5 دن سے لگی آگ کے بارے میں ماہرِ ارضیات ڈاکٹر عدنان خان نے حیران کن باتیں بتائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آگ کئی مہینوں تک جل سکتی ہے کیونکہ زمین کے نیچے میتھین گیس کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ کورنگی کریک کے نیچے 2 کروڑ 50 لاکھ سال پرانی چٹانیں ہیں، جن میں دراڑوں کی وجہ سے گیس باہر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گیس پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔

    انہوں نے تجویز دی کہ آگ کو فوری طور پر محفوظ طریقے سے بجھایا جائے اور گیس کے دباؤ کو چیک کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنا ذخیرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چٹانوں میں گیس کے ساتھ کوئلے کے بھی آثار ہیں اور اگر ذخیرہ بڑا ہوا تو آگ لمبے عرصے تک جل سکتی ہے۔

    ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی بتایا کہ 1963 سے 2019 تک کے سروے سے پتا چلا ہے کہ کورنگی کریک میں تیل اور گیس کے ذخائر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اس جگہ کا ارضیاتی جائزہ لیا جائے تاکہ گیس ضائع نہ ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

  • بیوی کنواری ہے یا نہیں؟ شوہر کی عجیب درخواست، عدالت کا حیران کن فیصلہ

    بیوی کنواری ہے یا نہیں؟ شوہر کی عجیب درخواست، عدالت کا حیران کن فیصلہ

    باغی ٹی وی رپورٹ:بیوی کنواری ہے یا نہیں؟ شوہر کی عجیب درخواست، عدالت کا حیران کن فیصلہ

    تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی ہائی کورٹ نے ایک انوکھے مقدمے میں شوہر کی اس درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں اس نے اپنی بیوی کو کنوارے پن کا ٹیسٹ کرانے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بیوی نے شوہر کو "کمزور” قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے اور گھر میں رہنے سے انکار کر دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق جوڑے کی شادی اپریل 2023 میں ہوئی تھی، لیکن جلد ہی ان کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو گئی۔ بیوی نے شوہر پر کمزوری کا الزام لگایا اور فیملی کورٹ میں ماہانہ کفالت کے لیے درخواست دائر کی۔ جواب میں شوہر نے بیوی کے ناجائز تعلقات کا شک ظاہر کرتے ہوئے اس کے کنوارے پن کے ٹیسٹ کا مطالبہ کیا۔ فیملی کورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد اس نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

    ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے کہ کسی خاتون کو کنوارے پن کا ٹیسٹ کرانے پر مجبور کرنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت خواتین کے بنیادی حقوق اور تقدس کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ مطالبہ خواتین کے وقار کے منافی ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالت نے شوہر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بیوی کے "کمزوری” کے الزامات کو غلط سمجھتا ہے تو وہ خود اپنا طبی معائنہ کروا کر اپنی بات منوا سکتا ہے۔ فیصلے نے خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اس تنازع کو ایک نئی سمت دی ہے۔

  • تعلیم کا نیا سنگِ میل، چھابری زیریں میں الایمان ایجوکیشن سسٹم کا شاندار افتتاح

    تعلیم کا نیا سنگِ میل، چھابری زیریں میں الایمان ایجوکیشن سسٹم کا شاندار افتتاح

    پیر عادل،باغی ٹی وی( نامہ نگار باسط علی گاڈی)علم روشنی ہے اور اس روشنی کو پھیلانے کے لیے عید الفطر کے دوسرے روز چھابری زیرین، تونسہ روڈ ٹبے والی پل کے علاقے میں "الایمان ایجوکیشن سسٹم” کے نام سے ایک نئے تعلیمی ادارے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ سادہ مگر پروقار تقریب تعلیم کے فروغ کے عزم کا مظہر ثابت ہوئی۔

    ادارے کے سرپرست و علاقے کی معروف سماجی شخصیت ملک فیاض آرائیں اور پرنسپل محمد ذیشان آرائیں (ایم فل) کی سربراہی میں منعقدہ اس تقریب کے مہمان خصوصی لیکچرار گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان ملک محمد ارشد آرائیں تھے۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد سہیل نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔

    مہمان خصوصی ملک محمد ارشد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور "الایمان ایجوکیشن سسٹم” اس کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ادارے کے قیام کو علاقے کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

    پرنسپل محمد ذیشان آرائیں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میری تمنا ہے کہ میں اپنے علاقے میں تعلیم کی کمی کو دور کروں اور اپنے لوگوں کی خدمت کر سکوں۔ یہ ادارہ میری اس خواہش کا عملی روپ ہے۔”

    آخر میں ادارے کے سرپرست ملک فیاض آرائیں نے کہا کہ "میں نے ہمیشہ اپنے وطنِ عزیز اور علاقے کے لیے کچھ بہتر کرنے کی خواہش رکھی۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے علاقے میں تعلیم کا فقدان ہے اور ہم اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”

  • میرپورخاص:نیشنل پریس کلب میں رضی انصار کی سالگرہ اور عید ملن تقریب

    میرپورخاص:نیشنل پریس کلب میں رضی انصار کی سالگرہ اور عید ملن تقریب

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ)نیشنل پریس کلب میرپورخاص میں انفارمیشن سیکریٹری رضی انصار کی سالگرہ کے موقع پر ایک خوبصورت اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ عید الفطر کے دوسرے روز منعقدہ یہ تقریب عید ملن پارٹی کے رنگوں سے سج گئی۔

    تفصیلات کے مطابق نیشنل پریس کلب میرپورخاص میں صحافی رضی انصار، جو کلب کے انفارمیشن سیکریٹری بھی ہیں، کی سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے دوران کیک کاٹنے کی رسم ادا کی گئی، جس کے بعد رضی انصار نے نیشنل پریس کلب کے تمام ممبران کو کیک پیش کیا۔ کلب کے ممبران نے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انفارمیشن سیکریٹری کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔

    تقریب میں شریک نیشنل پریس کلب کے تمام عہدیداران اور ممبران نے انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ صحافت کرنے اور کلب کا نام روشن کرنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر کلب کے سرپرست آفاق احمد خان، صدر حیات قریشی، سینئر نائب صدر لیاقت علی شاہ، جنرل سیکریٹری اقبال سولنگی، جوائنٹ سیکریٹری مبین چانہیوں، شہریار بلند، انفارمیشن سیکریٹری رضی انصار، اشفاق احمد قریشی، گورننگ باڈی کے ممبران سہیل احمد خان، وسیم خانزادہ، سید شاہزیب شاہ، امام الدین شاہ، احتشام قریشی، فرخ راجپوت سمیت دیگر بھی موجود تھے۔