Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: قصابوں کی لوٹ مار، عوام مہنگائی کا شکار، انتظامیہ خاموش

    سیالکوٹ: قصابوں کی لوٹ مار، عوام مہنگائی کا شکار، انتظامیہ خاموش

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض) قصابوں کی لوٹ مار، عوام مہنگائی کا شکار، انتظامیہ خاموش

    تفصیل کے مطابق  ضلع سیالکوٹ کی چاروں تحصیلوں پسرور ڈسکہ سمبڑیال  سیالکوٹ اور مضافات جن میں گھوئینکی ، آڈھا موترہ ،جامکی چیمہ ،آدمکے چیمہ ، جیسروالہ ،رنجھائی  منڈیکی گورائیہ سمیت  دیگر علاقوں میی قصائیوں نے  کھلے عام انتظامیہ کو آنکھیں دیکھادیں.

    ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی طرف سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کو  جوتے کی نوک پر رکھتے ہوۓ سرکاری ریٹ کی بجاۓ من مرضی کے ریٹ پر گوشت کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے،  مٹن گوشت 1800 روپے کی بجاۓ 2600 اور بڑاگوشت 800 کی بجاۓ 1500 سو روپے، مرغی کا گوشت 750 روپے کی بجاۓ 950 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے،

    پرائس کنٹرول مجسٹريٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل چشم پوشی سےشہری مذہبی تہوار عیدالفطر کے موقع پر ناجائزمنافع خور قصابوں کے ہاتھوں مہنگے داموں گوشت خریدنے پر مجبور ہوگئے، شہریوں نے  ارباب اختیار سے نوٹس کا مطالبہ کیا کہ ناجائز  منافع خوروں کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری ریٹ پر گوشت کی فروخت کو یقینی بنایاجائے.

  • اوکاڑہ اور ٹھٹھہ میں عید پر المناک حادثات، 6 افراد جان کی بازی ہار گئے

    اوکاڑہ اور ٹھٹھہ میں عید پر المناک حادثات، 6 افراد جان کی بازی ہار گئے

    باغی ٹی وی:عید الفطر کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں، جب اوکاڑہ اور ٹھٹھہ میں ہونے والے حادثات میں میاں بیوی اور بیٹی سمیت 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 33 فور ایل کے قریب تیز رفتار لینڈ کروزر نے سامنے سے آنے والی موٹر سائیکل کو خوفناک ٹکر ماری۔ مقامی ذرائع کے مطابق حادثے کی وجہ تیز رفتاری اور لاپرواہی تھی۔ ریسکیو 1122 کے حکام نے بتایا کہ اس المناک حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار میاں، بیوی اور ان کی کمسن بیٹی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت باسط، روبینہ اور فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے۔

    دوسرا حادثہ ٹھٹھہ کے قریب لدیا اسٹاپ پر دو تیز رفتار موٹر سائیکلوں کے درمیان خوفناک تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں تین نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی وجہ تیز رفتاری تھی۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ناظم شیدی (24 سال)، گلو کمبہار (27 سال) اور احمد شیدی (25 سال) کے ناموں سے ہوئی۔ زخمی ندیم کمبہار (35 سال) کو فوری طور پر شیخ زید اسپتال میرپورساکرو منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں کراچی ریفر کر دیا گیا۔

  • تعلقات میں نئی اُمنگ، 22اپریل کو اسحاق ڈار  بنگلہ دیش کا تاریخی دورہ کریں گے

    تعلقات میں نئی اُمنگ، 22اپریل کو اسحاق ڈار بنگلہ دیش کا تاریخی دورہ کریں گے

    اسلام آباد (باغی ٹی وی) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ماہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں بنگلہ دیش کا تاریخی دورہ کریں گے۔ یہ دورہ 2012 کے بعد کسی بھی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ ہوگا، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    حنا ربانی کھر بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی آخری وزیر خارجہ تھیں، جنہوں نے شیخ حسینہ کو ڈی 8 سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے یہ دورہ کیا تھا۔

    شیخ حسینہ کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری رہی اور پاکستان کی جانب سے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ تاہم گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد دوطرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی اور اعلیٰ سطحی رابطے بحال ہوئے۔

    بنگلہ دیش نے پاکستانی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دیں، جس سے تجارت میں اضافہ ہوا، سمندری راستے سے براہ راست تجارت شروع ہوئی، اور براہ راست پروازوں پر بھی اتفاق ہوا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات بھی مضبوط ہوئے۔

    جنوری میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ فوجی حکام نے پاکستان کا دورہ کیا جو شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد تعلقات میں ایک اہم پیشرفت ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار 22 اپریل کو تین روزہ دورے پر بنگلہ دیش پہنچیں گے، جہاں وہ بنگلہ دیش کے عبوری چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر محمد یونس کے علاوہ اپنے ہم منصب توحید حسین اور بنگلہ دیشی کابینہ کے دیگر ارکان سے ملاقاتیں اور مذاکرات کریں گے۔ اس دورے کے دوران، متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔

  • 45 سالہ مہمان نوازی کا ختم، افغان مہاجرین کی مہلت آج ختم

    45 سالہ مہمان نوازی کا ختم، افغان مہاجرین کی مہلت آج ختم

    لاہور (باغی ٹی وی) پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن آج 31 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ جس کے بعد ان کی وطن واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس موقع پر لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں افغان مہاجرین امن کمیٹی کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا، جس میں لاہور میں مقیم افغان خاندانوں کے سربراہان اور بزرگوں نے شرکت کی۔

    جرگہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افغان مہاجرین امن کمیٹی کے نائب صدر حاجی محمد نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 45 سال پاکستان میں گزارے ہیں اور یہاں ملنے والی محبت، عزت اور احترام کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل مرحلہ وار کیا جائے اور جن افراد کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈ موجود ہیں، انہیں اپنا کاروبار سمیٹنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ساتھ خواتین، بچے، بیمار اور بزرگ بھی ہیں، اس لیے حکومت مختلف تحصیلوں اور اضلاع کے لیے واپسی کے الگ الگ دن مقرر کرے۔

    افغان مہاجرین امن کمیٹی کے فوکل پرسن محمد خان نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح پاکستان نے 45 سال تک ان کی مہمان نوازی کی، اسی طرح واپسی کا عمل بھی باعزت طریقے سے مکمل کیا جائے۔

  • حافظ آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عید کے موقع پر مٹھائی تقسیم

    حافظ آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عید کے موقع پر مٹھائی تقسیم

    حافظ آباد(خبرنگارشمائلہ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے عید کے موقعہ پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مریضوں، ڈسٹرکٹ جیل کے قیدیوں اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے اہلکاروں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے مریضوں، قیدیوں اور سینٹر سٹاف میں مٹھائی تقسیم کی۔

    ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات میں زیر علاج مریضوں کی تیمارداری کرتے ہوئے انہیں عید کی مبارکباد دی اور ان میں مٹھائی تقسیم کی۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عید کے اس پر مسرت موقعہ پر تمام ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، نرسز اور دیگر اہلکار مبارکباد کے مستحق ہیں جو اپنی خوشیاں قربان کر کے مریضوں کے علاج معالجہ میں مصروف ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ظہیر احمد، ایم ایس ڈاکٹر رضوان علی تابش اور دیگر ڈاکٹرز بھی انکے ہمراہ تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے شہر بھر میں صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کرنے پر ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے افسران اور اہلکاروں میں بھی مٹھائی تقسیم کی۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ جیل کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کی اور انہیں عید کی مبارکباد دیتے ہوئے ان میں بھی مٹھائی تقسیم کی۔

  • سیالکوٹ : ڈپٹی کمشنر نے عید کے موقع پر جیل، دارالامان اور ہسپتال کا دورہ کیا

    سیالکوٹ : ڈپٹی کمشنر نے عید کے موقع پر جیل، دارالامان اور ہسپتال کا دورہ کیا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے عید الفطر کے پر مسرت موقع پر عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ڈسٹرکٹ جیل اور دیگر مختلف سرکاری اداروں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے اسیران، بے سہارا بچوں اور خواتین اور مریضوں میں مٹھائی تقسیم کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے سب سے پہلے ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا، جہاں قیدیوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں مقیم بے سہارا بچوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان میں مٹھائی تقسیم کی۔

    دارالامان (سوشل ویلفیئر کمپلیکس) میں مقیم خواتین کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کے لیے مٹھائی پیش کی گئی۔ اسی طرح علامہ اقبال میموریل ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کو مٹھائی دی گئی تاکہ وہ بھی عید کی مسرتیں محسوس کر سکیں۔

    انہوں نے علامہ اقبال میموریل ہسپتال میں عید کے موقع پر ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹروں اور دیگر عملہ کی حاضری بھی چیک کی اور کہا کہ اس پر مسرت موقع پر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر سرکاری امور نبھانے والے ڈاکٹرز، افسران اور عملہ ستائش کے مستحق ہیں۔

    آخر میں ڈپٹی کمشنر نے ایس او ایس ولیج کا دورہ کیا اور وہاں کے بچوں کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارے اور انہیں مٹھائی دی۔

    ان مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر ذولقرنین لنگڑیال نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت پنجاب کی عوامی فلاح و بہبود کے جذبے کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کا مقصد ان افراد کے ساتھ خوشیاں بانٹنا تھا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے گھروں سے دور ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عید الفطر خوشیاں تقسیم کرنے کا موقع ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً بزنس کمیونٹی اور سٹوڈنٹس کو اس موقع پر مجبور اور بے سہارا لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے اور انکے ساتھ وقت گزارنا چاہیے۔

  • گوجرہ: اے ڈی سی ٹوبہ ٹیک سنگھ کا گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال کا اچانک دورہ

    گوجرہ: اے ڈی سی ٹوبہ ٹیک سنگھ کا گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال کا اچانک دورہ

    گوجرہ(نامہ نگار چوہدری عبد الرحمن جٹ) اے ڈی سی ٹوبہ ٹیک سنگھ ذیشان لھبا نے گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال گوجرہ کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایمرجنسی وارڈ اور دیگر وارڈز میں داخل مریضوں سے ادویات کی فراہمی کے بارے میں دریافت کیا۔

    اے ڈی سی نے کہا کہ ایمرجنسی اور وارڈز میں داخل مریضوں کو ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اگر کوئی دوا دستیاب نہیں ہے تو وہ بھی جلد فراہم کر دی جائے گی۔

    میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رانا وسیم حیات نے بتایا کہ ہسپتال سے بلیک میلر مافیا اور ہسپتال کی زمین پر قابض مافیا کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ادویات مہنگی فراہم کرنے والے مافیا کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر رانا وسیم حیات نے کہا کہ انہوں نے عطیات اور سرکاری امداد سے ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اب ہسپتال میں ہر قسم کی ادویات دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے مریضوں سے کہا کہ اگر انہیں کوئی شکایت ہو تو وہ ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • عید الفطر اور ہمارے رسم و رواج

    عید الفطر اور ہمارے رسم و رواج

    عید الفطر اور ہمارے رسم و رواج
    ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    عید الفطر کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے خوشی اور کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ رحمتوں اور برکتوں والے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد عید کی صورت میں جو خوشیوں کی سوغات ملتی ہے اس کی اہمیت ایک مسلمان روزہ دار ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی، سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سر فہرست ہے۔

    عید کی آمد ہے چند ہی دن بعد جب فرزندان توحید ایک ماہ کی روح پرور مشقت کے بعد اس کی اجرت پائیں گے تو وہ کتنے نہال اور شادماں ہوں گے کہ اللہ رب العزت نے ان کی اس مشقت کا صلہ کتنا جلدی ان کو عطا کر دیا کیوں کہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ "رمضان کے روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی اس کا اجر دوں گا” اس فرمان سے روزے اور اس کے اجر کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی لئے اس دن ایک ناقابل بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں اور یہ پورے ایک ماہ کی روحانی تربیت کا اثر ہی ہوتا ہے کہ فرزندان توحید کو اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیں حاصل کی جاسکتی۔

    ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ پوسٹ مین موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ کیا بچے، بوڑھے، عورتیں سب کارڈ کو چھو کر دیکھتے تھے۔ یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرا رہا ہوتا تھا یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوں کو لگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔ بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے اور یکم رمضان سے ہی عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے۔ شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے۔ کارڈ تو رہا ایک طرف کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔ البتہ سائنس ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی جو کارڈ 20 روپے میں مل جاتا تھا وہ 10 پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے۔ اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ میں جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔

    عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو پوری دنیا کے مسلمان مناتے ہیں۔ اور سب خوشی کا اظہار اپنے علاقائی کلچر کے مطابق کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی لوگ ہر تہوار کو بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں اور ان مذہبی تہواروں میں بھی اپنی علاقائی رسمیں شامل کرکے اس کے لطف کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ آج ہم عید الفطر کے حوالے سے موجود رسوم کا مختصر جائزہ لیں گے۔ کچھ رسمیں اس مخصوص دن کے حوالے سے ہوتی ہیں مثلاً یہ بڑی خوبصورت رسم ہے کہ عید سے پہلے رمضان کے آخری عشرے میں والدین اپنی شادی شدہ بیٹیوں کے گھر جاتے ہیں اور ان کے لئے مختلف اشیاء ضرورت خرید کر انہیں تحفہ دیتے ہیں۔ اس کیلئے "عیدی” دینے کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ جس لڑکی کے والدین زندہ نہ ہوں تو اس کے بھائیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ فریضہ سر انجام دیں۔ عید کے قریب لڑکی کو بھی انتظار رہتا ہے اور اس کی نگاہیں گھر کے دروازے پر ٹکی ہوتی ہیں کہ کب اس کے میکے سے کوئی آئے۔ یہ رسم بھی محض لین دین کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد آپس میں محبت کے جذبات کو تقویت دینا اور اس کی آڑ میں اپنے غریب بہن بھائیوں کی امداد کرنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ اور یوں یہ خوبصورت رسم اپنے اندر ایک خوبصورت مقصد کو بھی سموئے ہوئے ہے۔

    اسی طرح عید الفطر کی آمد سے قبل جس گھر میں کوئی فرد فوت ہوگیا ہو تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت کے بعد "پہلی عید” پر اس کے گھر جانا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا مقصد ایک تو جس گھر میں فوتگی ہوئی ان کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں اور ان کے عزیز و اقارب ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ وہ پریشان نہ ہوں اس موقع پر مرحوم کی بیوی بچوں کی مالی امداد بھی کی جاتی ہے یوں اس رسم کے ذریعے وہ لوگ بھی عید کی خوشیوں میں کسی حد تک شامل ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عید جیسے تہواروں کی رنگینیوں میں اضافہ کرنے کیلئے حکومت ایک قدم آگے بڑھائے اور مہنگائی کو قابو میں کرکے کم از کم ان خاص دنوں کو تو عوام کو کھل کر منانے کا موقع فراہم کرے۔

    عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عید بچوں کی ہوتی ہے، اور یہ اس اعتبار سے سچ بھی ہے کہ عید سے منسلک سرگرمیوں سے جو خوشی اور طمانیت بچوں کو ملتی ہے، وہ عام آدمی محسوس نہیں کر سکتا۔ بچوں کو عید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی عیدی کا بھی ہوتا ہے۔ نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لیے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے۔ اگرچہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی کی طرح عید کے موقع پر نئے نوٹ بھی جاری کرتا ہے لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے، اس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی، پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے، جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔ لیکن اب ان کی قدر اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے، اس لیے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

  • اوچ شریف: کنکریٹ کی سیڑھی گرنے سے مزدور جاں بحق

    اوچ شریف: کنکریٹ کی سیڑھی گرنے سے مزدور جاں بحق

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رسول واہ میں ایک افسوسناک حادثے میں 40 سالہ مزدور کنکریٹ کی سیڑھی گرنے سے جان کی بازی ہار گیا۔

    تفصیلات کے مطابق مزدور موضع مامون آباد میں کنکریٹ کی سیڑھیاں توڑنے کا کام کر رہا تھا کہ اچانک ایک بڑی سیڑھی اس پر گر گئی۔ سیڑھی کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لیا اور قانونی کارروائی کے لیے تحصیل احمدپور ایسٹ کے تھانے کے حوالے کر دیا۔ ریسکیو عملے کے مطابق، حادثہ اس قدر شدید تھا کہ مزدور کو بچانا ممکن نہ تھا۔

    جاں بحق ہونے والے مزدور کی شناخت لطیف ولد کریم بخش، رہائشی موضع کندی پیرا تحصیل احمدپورشرقیہ کے نام سے ہوئی ہے۔

  • ننکانہ : اسپائر کالج موڑکھنڈا میں ذہین طلباء کی پذیرائی، انعامات تقسیم

    ننکانہ : اسپائر کالج موڑکھنڈا میں ذہین طلباء کی پذیرائی، انعامات تقسیم

    ننکانہ صاحب(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) اسپائر کالج موڑکھنڈا نے اپنے زیر اہتمام منعقدہ اسپائر انٹیلیجنس ٹیسٹ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب کی صدارت کالج کے پرنسپل حافظ عظمت اللہ نے کی، جبکہ ڈائریکٹرز محمد طارق شہزاد، محمد امین آفتاب، محمد اشفاق، محمد بلال ارشد، فیض الرحمان پڈھیار، کرامت علی اور اساتذہ سمیت طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    اسپائر انٹیلیجنس ٹیسٹ میں طالبات میں فاطمہ حیدر نے پہلی، منیہا دلشاد نے دوسری اور عائشہ مانگٹ حسین نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح، طلباء میں سعد علی افتخار نے پہلی، محمد عزیر سلیم نے دوسری اور عزیر رمضان اور سعد اویس نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو پچاس ہزار روپے، دوسری پوزیشن والوں کو تیس ہزار روپے اور تیسری پوزیشن والوں کو بیس ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہیں کالج کی طرف سے دو سالہ انٹرمیڈیٹ کی مفت تعلیم بھی فراہم کی جائے گی۔ ٹیسٹ میں پہلی دس پوزیشنیں حاصل کرنے والے تمام طلباء و طالبات کو بھی دو سال تک مفت تعلیم دی جائے گی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کالج کے ڈائریکٹر محمد طارق شہزاد نے کہا کہ ان کا ادارہ "خواب سے تکمیل تک” کے مشن پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالج نے اپنے قیام کے صرف تین سالوں میں شاندار نتائج اور اعلیٰ روایات کی بدولت ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالج جدید ترین لیب، منفرد لائبریری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تجربہ کار اساتذہ کی بدولت ہر طالب علم کی پہلی پسند بن گیا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کیا اور والدین اور طلباء کی توقعات پر پورا اترنے کے عزم کا اظہار کیا۔