Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • طورخم بارڈر پر پاک افغان کشیدگی برقرار، آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل

    طورخم بارڈر پر پاک افغان کشیدگی برقرار، آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی ) طورخم بارڈر پر پاک افغان فورسز کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے، جس کے باعث ہر قسم کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کشیدگی کا آغاز گزشتہ رات اس وقت ہوا جب افغان فورسز نے سرحدی حدود کے متنازع علاقے میں چیک پوسٹ تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی فورسز کی جانب سے تعمیراتی کام روکنے پر افغان اہلکاروں نے مورچے سنبھال لیے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

    سرحدی تناؤ کے باعث سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ طورخم گیٹ کو دونوں جانب سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بارڈر ذرائع کے مطابق تجارتی سرگرمیوں کی معطلی سے درجنوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور دونوں اطراف سے پیدل آمدورفت بھی معطل ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس کشیدہ صورتحال میں افغان فورسز بدستور متنازع علاقے میں تعمیراتی کام پر بضد ہیں، جبکہ پاک افغان دوستی اسپتال بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مسافر اور تاجر گیٹ کھلنے کے منتظر ہیں، تاہم کشیدگی میں تاحال کمی نہیں آئی۔

    یاد رہے کہ ماضی میں بھی طورخم بارڈر پر ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن سے نہ صرف سفارتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  • وزیراعظم کا راجن پور میں یونیورسٹی اور ڈی خان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان

    وزیراعظم کا راجن پور میں یونیورسٹی اور ڈی خان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال اور راجن پور میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کا وسیع نیٹ ورک پھیلا کر جنوبی پنجاب سمیت ملک کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے ڈیرہ غازی خان کے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے اور زراعت، صنعت اور برآمدی شعبے کی ترقی کے لیے دن رات محنت کریں گے۔ جلسہ گاہ پہنچنے پر جنوبی پنجاب کے عوام نے وزیراعظم کا بھرپور استقبال کیا، جس پر انہوں نے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وہ عوام کی محبت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کے وژن کے مطابق جنوبی پنجاب کو ہمیشہ زیادہ ترقیاتی منصوبے دیے گئے، جو کسی پر احسان نہیں بلکہ عوام کا حق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز پنجاب بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھا رہی ہیں، مفت ادویات کی فراہمی جاری ہے، جبکہ لیپ ٹاپ اور کسان کارڈ بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرگودھا میں امراض قلب کا ایک بڑا ہسپتال اور لاہور میں نواز شریف کینسر ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی درخواست پر ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے سیاست پر ملک کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد پر آ گئی ہے اور بینک قرضوں کی شرح سود 22 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور ترقی پاکستان کا مقدر بن چکی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جنوبی پنجاب کی ترقی مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوئی اور اب مریم نواز روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو مہنگائی عروج پر تھی، لیکن نواز شریف نے سیاست قربان کر کے ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان قرضوں کے سہارے ترقی نہیں کر سکتا، اس کے لیے زراعت، صنعت اور برآمدی شعبے کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ملک کو احتجاجی سیاست اور انتشار سے نکالنا ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے لیہ پل کی تکمیل کی ہدایت بھی جاری کی اور کہا کہ اب ڈیرہ غازی خان کی ترقی کا جائزہ لینے خود آئیں گے۔ جلسے میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اویس لغاری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

    وفاقی وزیر اویس لغاری نے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان کو 131 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ترقی کر رہا ہے، اور وزیراعظم نے اپنی سیاست قربان کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

    جلسہ گاہ میں شرکاء نے وزیراعظم کا پرجوش استقبال کیا اور خیرمقدمی نعرے لگائے۔ سردار جمال لغاری نے بھی خطاب میں وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ قبل ازیں، وزیراعظم نے فاروق احمد خان لغاری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن منصوبے کی نقاب کشائی کی اور 331 کلومیٹر طویل انڈس ہائی وے کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

    انڈس ہائی وے منصوبے کی تکمیل سے خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب کے درمیان مواصلاتی رابطے بہتر ہوں گے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

    2/2

  • قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قصہ درد:حکومت پاکستان، چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کے نام
    تحریر:مبشرحسن شاہ
    ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
    قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    جب سے ہوش سنبھالا ہے، شعبۂ تعلیم کے بیڑے کو طلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما پایا۔ بہرحال، چلتے، گرتے، لڑکھڑاتے 2011 میں سولہ سالہ تعلیم مکمل کر لی اور بزعم خود نکلے تیری تلاش میں (سفرنامہ مستنصر حسین تارڑ، "سفر یورپ”) کے مصداق کام کاج یعنی نوکری کی تلاش میں نکلے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ حقیقی معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ ویسے تو یہ محاورہ ہے، لیکن عملی زندگی کی پہلی 10 ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض نوائے وقت کے ہاتھ لگے تو پہلی ہی اسائنمنٹ بازار سے اشیائے خور و نوش کے دام معلوم کرنا تھی اور پھر اس پر خبر نگاری کہ مہنگائی کے مارے عوام کی حالت کیسی ہے۔

    خیر وقت کی ایک خوبی ہے کہ وہ رکتا نہیں۔ 2017 میں ایک پروانۂ تقرری گھر پر بذریعہ ڈاک موصول ہوا، جب کہ ہم تو "چڑی بیچاری کی کرے، ٹھنڈا پانی پی مرے” پر عمل کرتے ہوئے ایمان لا چکے تھے کہ سرکاری ملازمت کا صرف ٹیسٹ ہوتا ہے، بھرتی نہیں۔ خیر طوالت سے اختصار کی جانب چلتے ہیں۔ یکم اگست 2017 کو 22 ہزار 380 روپے کے عوض سرکار نے ہماری خدمات بسلسلۂ تدریس حاصل کر لیں۔ تقرری کا پروانہ تھما کر 35 کلومیٹر کے فاصلے کی مدد سے ہماری خطیر تنخواہ کو مینج کیا گیا چونکہ تنخواہ کی زیادتی سے افراطِ زر کا خدشہ تھا۔

    بھنور میں گھری ناؤ کے پتوار تھامنے کا موقع 2019 میں ملا جب پرائمری اسکول کی ہیڈ شپ کے نام پر دو کنال رقبے پر ہمارے نام کا سکہ چلنے لگا۔ نوکری کبھی بھی ہمارے لیے باعثِ آمدن نہ رہی لیکن اب وجۂ عزت بھی نہ رہی کیونکہ ہیڈ ماسٹری میں عزتِ سادات بھی گئی۔

    حکم ہوا مچھروں کا قلع قمع کرو، ارشاد پر کورنش بجا لا کر تلاشِ دشمنِ نمرود شروع کی۔ شام کو ایک عدد مچھر گرفتار ہوا۔ "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” لہٰذا مچھر کو قتل کیا، ہتھیلی پر لیے پھرتے، جو جان وہ بچانے کے لیے مقتول کی لاش کا فوٹو بھیجا اور لگے متوقع توصیف پر اظہارِ عاجزی کی مشق کرنے کہ اتنے میں تختِ لاہور سے بگڑے تیور تختِ بابری سے ہوتے دو سے ضرب کھاتے ہم پر ایسے تقسیم ہوئے کہ سب خساروں کو جمع کر کے یہ حاصل نکلا کہ دلِ نادان کی کوئی بات نہ مانی جائے۔

    پھر تو ایک طوفان تھا جس کی زد میں آئے۔ نوکری کے دیے کو جلانے کے لیے سانسوں کی مالا پر "جی سر” کہتے 7 سال ایسے گزرے جیسے کسی شہرِ ویران پر وقت گزرے۔

    2024 میں بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا کہ "میاں! تیرے آن تے کھڑاک بڑے ہون گے” (لاہور انارکلی 2024 میں لگا بینر)۔ دل نے تسلی دی کہ معاملات بہتر ہوں گے۔ تختِ لاہور پر بنتِ خاتونِ اول براجمان ہوئیں تو مراد راس کے محاذ پر رانا سکندر حیات کو تعینات کیا گیا۔ اب سمجھ آئی کہ سکندر نوجوانی میں کیوں قتل ہوا تھا۔

    علم ہوا کہ وزیرِ اعلیٰ و ادنیٰ دونوں تعلیمی میدان میں کودے ہیں، لیکن یہ کودنا وہ کودنا نہیں جو عشق آتشِ نمرود میں کودا تھا، بلکہ یہ تو "کھیل سکتے نہیں، اب ہمیں بھی نہیں کھیلنے دیں گے” والا کودنا ہے۔ ایس ایس ایز، اے ای اوز دو کیس، جو انتہائی آسانی سے ایک پُرسکون ماحول میں ایڈریس کیے جا سکتے تھے، ان کو ہر حکومت نے ایسے خراب طریقے سے ڈیل کیا گویا یہ لوگ انسان نہ ہوں۔

    سال کا کنٹریکٹ، ہر 365 دن کے بعد کیا ہوگا کی غیر یقینی، کسی بھی سرکاری ملازمت میں پہلے سے سرکاری ملازم ہونے کا فائدہ صفر، حکومتی پروگرامز (نظامت حج ایک مثال) کے لیے اہل نہیں کہ کنٹریکٹ پر ہیں۔ اے ای اوز کو 2017 میں بھرتی کیا تو یہ شق احکاماتِ تقرری میں شامل تھی کہ اے ای اوز اسکولوں میں بطور ٹیچر ٹرانسفر نہیں ہوں گے، یہ انتظامی عہدہ ہے، اس پر ہی رہیں گے۔ پھر کسی نے صلاح دی کہ ان کا سروس اسٹرکچر تو بنا لیتے، یہ ساری زندگی اے ای او ہی رہیں گے؟ اس کا سکہ شاہی حل یہ نکلا کہ کچھ کو سکولوں میں بطور ٹیچر بھیجا، کوئی مرضی سے گیا، کوئی سکول سے نکال کر نواز دیا گیا۔

    ایم ای ایز کو مسلط کرنے والے گجرات سے کبھی رائے ونڈ تو کبھی بنی گالا، اور ان کی نازل شدہ مخلوق کے ستائے اساتذہ کبھی معطل تو کبھی پیڈا۔ حد یہ ہے کہ ایم ای ایز کے حوصلے اتنے بڑھے کہ خواتین اساتذہ محکمۂ تعلیم کے مجاز افسران سے چھٹی مانگیں تو جواب ملا: "ایم ای اے صاحب سے خود پوچھو پہلے”۔

    بندہ پوچھے، یہ سکیل و تعلیم میں کم (محکمہ زراعت) کے نیم خواندہ، "یس سر، آرڈر از آرڈر” کے پروردہ اپنی ذات میں ہیرو کس اتھارٹی کے تحت چھٹیاں منظور کر رہے؟

    اوپر سے کبھی ایک لایعنی بات بصورتِ حکم، کبھی دوسری۔ اب ملکۂ معظمہ نے کہا پودے لگانے، "کلین اینڈ گرین ایپ” اساتذہ کے سر میں دے ماری۔ سڑکوں پر زیبرا کراسنگ، اساتذہ رنگ لے کر ہر اس رنگ میں ڈوبیں، جس نے جس رنگ میں چاہا انہیں رسوا کرنا…

    گندم خریداری، ووٹر لسٹس، کورونا ڈیوٹیز، پولیو مہم۔ یو پی ای ٹارگٹ (یونیورسل پرائمری ایجوکیشن ) اس کی مزید شاخیں، انرولمنٹ ڈرائیو، اینرجنسی انرولمنٹ کمپین،وژن 2025 ( پاکستان برینڈ اشتہاروں والا) ہر سکول ہر روز داخلہ فروری و مارچ، مردم شماری،پوسٹ اینموریشن سروے، آؤٹ آف سکول چلڈرن۔ زراعت شماری ۔ سٹوڈنٹ ہیلتھ پروفائل(بچوں کو ہسپتال لے کر جانا واپس آنا ) فروری یوم یکجہتی کشمیر پر اساتذہ انگیج، 15 فروری جشن بہاراں و شجر کاری ہر بچہ ہر استاد ایک پودا، مارچ کلچر ڈے، افسران بالا کے مزید بالا افسران کو خوش کرنے کے لیے فرمائشی پروگرامز، اب ڈے ٹائم Meal اساتذہ کے ذمے وصولی و تقسیم( پائلٹ پراجیکٹ ابھی چند اضلاع تک محدود) یوم مزدور، یوم آزادی ( کون سی؟)
    یومِ قائد، یومِ اقبال، یومِ پاکستان دیگر اہم ایام، سب پر اساتذہ کو پابند کیا جاتا کہ تصویر بھیجیں مکمل انتظامات کے ساتھ فنکشن کر کے۔

    ادھر 2018 کے بعد سے اب تک ٹیچر جابز نہ دے کر پہلے موجود اساتذہ سے کام لیا جاتا ہے ،آدھے ریٹائر، کچھ فوت، کچھ مستعفی ،کچھ معطل، کچھ کو ریموول فرام سروس کا تمغہ۔ ابھی چند یوم قبل ایک انوکھا حکم نامہ بھی جاری ہوا قحط سالی حالیہ خشک موسم میں مسائل پر میٹنگ، اساتذہ و بچوں سے نماز استسقاء پڑھوائی گئی ، ایک ایپ ہے ایس آئی ایس اس سے اساتذہ واقف ہوں گے اس ہربچہ داخل کرتے وقت آن لائن کوائف میں غیر ضروری طوالت، PMIU, PITB کے درمیان مالی تنازعات ،اساتذہ کی اے سی آر چھٹیاں وغیرہ اکثر زیر التوا،کارپورل پنیشمنٹ کے جھوٹے کیس، پاکستانی پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم ( اب لگتا آیا فلسطین کا بھی) سکول میں کریکٹر بلڈنگ کونسل، واش کلب، ڈے ماسٹر، ( اساتذہ الگ بچے الگ) اس سب میں آپ سوچ رہے ہوں گے پڑھائی کدھر ہے؟؟؟؟؟؟ جی میں بھی یہی رونا رو رہا ہوں کہ ہڑھانے دیں۔

    اب میڈیم چیف منسٹر نے ویژن 2025 میں ارشاد فرمایا ہے’ پڑھتا پنجاب، بڑھتا پنجاب، ادھر وزیر کم گینگسٹر جٹ کو قلم مل گئی اس نے تباہی تو تعلیم کی، کیا تباہ شدہ کو مزید تباہ بچہ بھی کر لیتا ،یہاں منتری صاحب نے نیا کام شروع کیا کہ اساتذہ مفت میں اتنی تنخواہیں لیتے، چور، نکمے جس وقت جو دل کیا کہہ دیا ،اپنی تنخواہ 900 فیصد بڑھا کر بھی کم ہماری ہر طرف سے کاٹ کر بھی زیادہ۔ ساتھ ہی سکولوں کی نجکاری، اساتذہ کو ایسے ڈیل کرنا جیسے یہ اساتذہ نہیں بھارتی جاسوس ہیں ۔

    وزیر تعلیم جناب عزت مآب سر سکندر کی ڈکشنری بھی نئی نکلی۔ سرکاری ٹویوٹا ویگو کو "ڈالا” کہتے ہیں اور ہر روز کسی نہ کسی محکمے کے افسر کو تڑی لگاتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ "میں ریفرنس ٹھوکیا تے پنشن بند۔ بدھ نوں میٹنگ اے ہوم منسٹر نال، جمعرات نوں میں کڑاکا کڈھاں گا۔ سی او صاحب تہانوں سی او میں لایا اے۔” اللہ کرے کہ کہیں بوری بند لاش یا "نامعلوم افراد” والی دھمکی نہ آ جائے۔

    لکھنے کو بہت کچھ ہے، کہنے کو ہزار شکوے، لیکن ہم فقیروں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے۔ سرکاری سکول نجی نہ کریں، ملازمین کو مستقل کریں اور پنشن قوانین کے حوالے سے کوئی درمیانی راستہ نکال لیں۔ باقی جو جوتے اور پیاز ہم کھا رہے ہیں، کھاتے رہیں گے۔ بلکہ اگر واقعی جوتے مارنے کی نوبت آئی تو دو کا حکم ہوگا، افسران بالا احتیاطاً چار ماریں گے اور ہم عادتاً دو مزید کھا لیں گے تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔

    تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لینا آپ کی مرضی، ہم اساتذہ کافی ہیں، کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔ بس آپ ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ کیا کسی دن کوئی استاد یا استانی خودکشی کرے گا تو تب آپ کو ہماری بات سمجھ آئے گی؟

    کتنے اساتذہ کو صرف اپنا حق مانگنے پر گرفتار کریں گے؟ کتنوں کو پولیس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرائیں گے؟ تھانوں میں مار، دھکے، گالیاں… کل رات سے حکومت اساتذہ کے مطالبات کے جواب میں انکار اور احتجاج کے ردعمل میں تادیبی کارروائیاں کر رہی ہے۔ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

    بہرحال، 21 فروری سے اساتذہ ایک بار پھر سڑکوں پر ہیں۔
    سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے،
    چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے۔

    ہم لوگ تو کچھ گزاری، کچھ گزری، باقی جو قیدِ حیات بچی ہے وہ بھی کاٹ لیں گے۔ لیکن سوچیں! تعلیمی نظام کو برباد اور غیر فعال کر کے آنے والے سالوں میں نقصان کس کا ہوگا؟ ملک کا!

    خدارا، کنٹریکٹ بیسڈ سیاست دانوں! پانچ سالہ مدت کے لیے کسی اور محکمے پر تجربات کر لو۔ یہاں تو جسے نشانہ لگانے کی مشق کرنی ہو، سیب ہمارے ہی سر پر رکھا جاتا ہے۔

    عام پاکستانی جو یہ تحریر پڑھے، وہ اسے سمجھے اور دوسروں کو بھی بتائے، کیونکہ یہ نیرو نما حکمران چند سال بعد بانسری بجاتے بیرونِ ملک ہوں گے، جبکہ یہاں رُل جانا ہم نے ہے۔

    ہم نے کچھ زیادہ نہیں مانگا—بس نوکری کی مستقلی اور پنشن قوانین پر نظرثانی۔ اگر یہ بھی کر دیں تو بھلا، نہ کریں تو بھی خیر! لیکن کم از کم ہمیں پڑھانے تو دیں، سکول تو نہ بیچیں!

    ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے، اللہ مدد کرے گا، ملکی حالات بہتر ہوں گے اور یہی نظام بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔ بچوں سے بنیادی، سستی اور معیاری تعلیم نہ چھینیں۔ غریب کا بچہ بمشکل ہی افسر بنتا ہے، لیکن اگر تعلیم چھین لی گئی تو یہ واحد راستہ بھی بند ہو جائے گا۔

    صاحب! آپ کی کرسی سلامت، یہ بیچارے کمپیٹیشن میں نہیں آتے۔ یہ تو زیادہ سے زیادہ 10ویں کے بعد فوج میں، 12ویں کے بعد بیرونِ ملک، یا بی اے/ایم اے کے بعد معمولی نوکری کے خواب دیکھتے ہیں۔ اب ہماری جیب پہلے ہی بہت وزنی ہو چکی ہے، اب بس کر دیں!

    کل آپ ہی کے بچوں نے آپ کی کرسیاں سنبھالنی ہیں، مگر تب تک حکمرانی کے لیے رعایا ہی باقی نہیں رہے گی۔

    جلوسِ اہلِ وفا کس کے در پر پہنچا ہے؟
    (اساتذہ، حکومتی ایوان کے باہر وعدہ وفا ہونے کے منتظر)
    نشانِ طوقِ وفا زینتِ گلو کر کے
    (کنٹریکٹ ختم ہونے کو ہے، مگر پھر بھی فکرِ تعلیم باقی ہے)

    کوئی تو حبسِ ہوا سے یہ پوچھتا، محسنؔ
    ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے؟

  • اوچ شریف: زائرین کی بس میں تصادم، 35 سالہ شخص جاں بحق

    اوچ شریف: زائرین کی بس میں تصادم، 35 سالہ شخص جاں بحق

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) موٹر وے انٹرچینج اوچ شریف پر لال شہباز قلندر کے عرس سے واپس جانے والی زائرین کی بس میں جھگڑے کے دوران 35 سالہ شخص جان کی بازی ہار گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، چنیوٹ جانے والی بس میں زائرین کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا شدت اختیار کر گیا، جس میں ڈنڈوں اور سوٹوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق، ثناء اللہ ولد حبیب خان کو شدید سر کی چوٹیں آئیں، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور جاں بحق شخص کی لاش تحویل میں لے لی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ بس میں موجود دیگر زائرین سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔

  • ڈسکہ: انجمن خدمتِ خلق  اجلاس، رمضان المبارک کے لیے فنڈ ریزنگ کی اپیل

    ڈسکہ: انجمن خدمتِ خلق اجلاس، رمضان المبارک کے لیے فنڈ ریزنگ کی اپیل

    ڈسکہ،باغی ٹی وی(نامہ نگارملک عمران) انجمن خدمتِ خلق رجسٹرڈ ڈسکہ کا 751 واں ماہانہ اجلاس زچہ بچہ اسپتال میں زیر صدارت میاں سعید احمد صراف منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ عبد الغفار نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسول مقبولؐ انوار احمد سیال نے پیش کی۔

    جنرل سیکرٹری محمد انور مغل نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پیش کی، جسے توثیق کے بعد منظور کر لیا گیا۔ فنانس سیکرٹری انور احمد سیال نے آمدن و اخراجات کی رپورٹ دی، جسے بحث کے بعد منظوری دے دی گئی۔ سیکرٹری نشریات سہیل سلمان ٹھروہی نے اخباری تراشے پیش کیے، جن پر ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

    صدر میاں سعید احمد صراف نے رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر تمام ممبران سے فنڈ ریزنگ کی اپیل کی۔ اجلاس میں شہر میں امن و امان کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی اور انتظامیہ سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی درخواست کی گئی۔

    جنرل سیکرٹری نے ممبران کو ماہ میں کم از کم ایک یا دو بار اسپتال کا دورہ کرنے اور وہاں کے انتظامات کا جائزہ لینے کی تلقین کی۔ اجلاس کے اختتام پر انوار سیال کے بھائی سجاد ناز کی صحتیابی اور ادارے کے سرپرستِ اعلیٰ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ حافظ عبدالغفار کی دعا کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

  • خیرپور ٹامیوالی: بیوہ خاتون مبینہ طور پر دیور کے ہاتھوں زیادتی کا شکار، ملزم آزاد، خاتون کی دُہائی،

    خیرپور ٹامیوالی: بیوہ خاتون مبینہ طور پر دیور کے ہاتھوں زیادتی کا شکار، ملزم آزاد، خاتون کی دُہائی،

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )خیرپور ٹامیوالی ، چک نمبر 23 میں ظلم کی انتہا، بیوہ خاتون مبینہ طور پر دیور کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بن گئی، پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا لیکن پانچ روز گزرنے کے باوجود ملزم گرفتار نہ ہو سکا، متاثرہ خاتون انصاف کے لیے دربدر۔

    تفصیلات کے مطابق ریاض مائی دختر غلام قادر نے میڈیا کو بتایا کہ اس کا شوہر چند ماہ قبل وفات پا چکا ہے اور وہ اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ خاتون کے مطابق اس کا دیور محمد اقبال گزشتہ کئی دنوں سے اسے ہراساں کر رہا تھا اور چار روز قبل رات ساڑھے نو بجے زبردستی گھر میں داخل ہو کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی چیخ و پکار پر محلے دار موقع پر پہنچے، جس پر ملزم فرار ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، مگر تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم سرعام گھوم رہا ہے اور مقدمہ واپس لینے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

    ریاض مائی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز خان سے اپیل کی ہے کہ ملزم کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ اسے انصاف مل سکے۔

  • سیالکوٹ: رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں اے ایس آئی گرفتار

    سیالکوٹ: رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں اے ایس آئی گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) اینٹی کرپشن ٹیم کی بڑی کارروائی، شاکر نامی شہری سے 40 ہزار روپے رشوت لینے والا اے ایس آئی عرفان رنگے ہاتھوں گرفتار، نشان زدہ نوٹ برآمد کر کے ملزم کو ہتھکڑی لگا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں اینٹی کرپشن سرکل افسر ملک ندیم منور اور سول جج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اے ایس آئی عرفان کو رشوت لیتے ہوئے موقع پر گرفتار کر لیا۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ملزم نے شاکر نامی شہری سے گاڑی کی سپرداری کے بعد 40 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔

    سی او اینٹی کرپشن ملک ندیم کے مطابق چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے نشان زدہ نوٹ برآمد کر کے اسے فوری ہتھکڑی لگا دی گئی۔ گرفتار اے ایس آئی کو مزید تفتیش کے لیے تھانہ اینٹی کرپشن منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • بہاولپور: سعید کٹانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 6 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ سے زائد مالیت کا سامان برآمد

    بہاولپور: سعید کٹانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 6 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ سے زائد مالیت کا سامان برآمد

    اوچ شریف,باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیبخان) تھانہ مسافرخانہ پولیس کی بڑی کارروائی، چوری، ڈکیتی اور سرقہ بالجبر کی وارداتوں میں ملوث خطرناک سعید کٹانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 6 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا ڈکیتی و چوری شدہ سامان برآمد کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر رائے بابر سعید اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسد سرفراز خان کی ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ مسافرخانہ محسن سردار نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر کامیاب کارروائی کی۔ پولیس نے چھاپہ مار کر گینگ کے 6 ارکان کو گرفتار کر لیا، جن سے 5 ٹریکٹر، 5 موٹر سائیکل اور 10 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے۔ ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا ناجائز اسلحہ، بشمول MP5 رائفل اور 30 بور کے 2 پسٹل بھی برآمد کیے گئے۔

    ایس ڈی پی او صدر سرکل بہاولپور کے مطابق ملزمان بہاولپور، مسافرخانہ، احمد پور شرقیہ اور یزمان کے علاقوں میں رات کے وقت لوٹ مار کی وارداتیں کرتے تھے۔ مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز خان نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔ علاقہ مکینوں نے پولیس کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے اظہار تشکر کیا۔

  • اوچ شریف: رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ عمرہ کی سعادت کے لیے روانہ

    اوچ شریف: رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ عمرہ کی سعادت کے لیے روانہ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) حلقہ پی پی 250 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر اور رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گئے۔

    روانگی سے قبل انہوں نے اپنے بھائی مرحوم مخدوم سید علی حسن گیلانی شہید کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے حلقے کے عوام، عزیز و اقارب اور پارٹی کارکنان سے ملاقات کر کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    مخدوم سید عامر علی شاہ نے روانگی کے موقع پر کہا کہ وہ مقدس مقامات پر حاضری کے دوران ملک، عوام اور خطے کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کریں گے۔

    ان کی روانگی پر سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

  • اوچ شریف:پرائیویٹ سکول میں سالانہ رزلٹ 2025 کا اعلان، طلبہ میں انعامات تقسیم

    اوچ شریف:پرائیویٹ سکول میں سالانہ رزلٹ 2025 کا اعلان، طلبہ میں انعامات تقسیم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) کامریڈ ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول نے پلے گروپ تا جماعت ہشتم سالانہ رزلٹ 2025 کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

    اس موقع پر سکول کے مین کیمپس میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں سی ای او فاروق احمد ملک اور بانی ادارہ محمد عثمان غنی نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات اور میڈل تقسیم کیے۔

    سی ای او فاروق احمد ملک نے طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی رہنمائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسکول کے بچوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی شاندار تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کو مزید محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔

    تقریب میں اساتذہ کرام اور والدین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ادارے کی کارکردگی کو خوب سراہا۔