Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • باڑہ پولیس کی بڑی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد، اسمگلر گرفتار

    باڑہ پولیس کی بڑی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد، اسمگلر گرفتار

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی)باڑہ میں پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ٹریکٹر لوڈر کی ڈگھی میں چھپائی گئی بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی، ملزم گرفتار، مقدمہ درج۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سرکل افسر باڑہ سوالزار خان کی نگرانی میں ایس ایچ او باڑہ ہردم گل، تکیہ چوکی انچارج حمید خان اور دیگر پولیس اہلکاروں نے علاقے برقمبرخیل میں خصوصی ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک ٹریکٹر لوڈر کو روکا۔ تلاشی کے دوران ٹریکٹر لوڈر کی ڈگی میں نہایت مہارت سے چھپائی گئی بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئیں، جن میں 125 کلوگرام افیون اور 200 کلوگرام چرس شامل ہیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم اقبال خان کو گرفتار کر لیا، جسے مزید تفتیش کے لیے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔

    آئی جی اور سی سی پی او نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور منشیات کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "منشیات کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا۔”

  • محکمہ یوتھ افیئرز خیبر کے زیر اہتمام باڑہ گرلز ڈگری کالج میں شاندار پینٹنگ مقابلہ

    محکمہ یوتھ افیئرز خیبر کے زیر اہتمام باڑہ گرلز ڈگری کالج میں شاندار پینٹنگ مقابلہ

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) محکمہ یوتھ افیئرز خیبر نے ضلعی انتظامیہ خیبر کی نگرانی میں باڑہ گرلز ڈگری کالج میں ایک شاندار پینٹنگ مقابلے کا انعقاد کیا، جس کا مقصد امن، ہم آہنگی اور نوجوان طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔

    مقابلے میں تحصیل باڑہ، ضلع خیبر کی طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور اپنی مصوری کی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ اس تقریب نے نوجوان لڑکیوں کو ایک مثبت پلیٹ فارم فراہم کیا اور امن، اتحاد اور خوشحالی کے پیغام کو اجاگر کیا۔

    تقریب میں ایم پی اے عبدالغنی مہمان خصوصی تھے، جبکہ ضلعی یوتھ آفیسر ساجد خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دونوں شخصیات نے طالبات کی محنت اور فنکارانہ مہارت کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے پوزیشن ہولڈرز کو نقد انعامات دیے۔

    ایم پی اے عبدالغنی نے اپنے خطاب میں طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس قسم کے مقابلے اخلاقی اقدار، بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضلعی یوتھ آفیسر ساجد خان نے بھی طالبات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

    یہ پینٹنگ مقابلہ خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جہاں تمام شرکاء نے مل کر امن، تعلیم اور خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس تقریب نے ثابت کیا کہ ضلعی انتظامیہ خیبر نوجوان طالبات کے لیے بہترین مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ وہ ایک ہم آہنگ اور خوشحال معاشرے کی تشکیل میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

  • 21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    21 فروری کو "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مختلف زبانوں کی اہمیت،افادیت اور تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔خاص طور پر دنیا کی ان کی کمزور زبانوں کے وجود کی حفاظت کرنا ہے،جوخطرے میں ہیں۔اس دن کی بنیاد 1999ء میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے رکھی تھی۔تاکہ زبانوں کی تنوع،علم وادب،عرفان وحکمت،روحانیت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جاسکے۔ماہرین لسانیات کے مطابق مادری زبان ایک فرد کی وہ زبان ہوتی ہے،جسے اس نے بچپن میں اپنے والدین یا قریبی لوگوں سے سیکھا ہو۔اور جو اُس کی روح، ثقافت،وجدان،شعور،تہذیب وتمدن اور شناخت کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔مادری زبان کا تحفظ اس بات کی ضمانت ہے کہ قدیم انسانی نسل در نسل والدین کی دانش،اعلی اخلاق،تعلیم وتربیت،رسوم رواج،ادب،ثقافتی ورثہ اور تاریخ محفوظ رہیں گے۔

    21 فروری کو اس دن کا تعین اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ 1952 میں بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت کے ذریعے بنگالی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم نہ کیے جانے پر طلباء نے احتجاج کیا تھا۔جس میں پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کی یاد میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کی شروعات ہوئی۔اس دن کا مرکزی مقصد مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔کلچر اگر ایک جسم ہے تو اس کی روح روشنی زبان ہی ہوتی ہے۔ماں کا احترام دنیا کے ہر مذہب کا خوبصورت فلسفہ ہے۔انسانوں کی مختلف زبانیں،ثقافتیں اور روایات خوبصورت رنگ برنگے پھولوں کی مانند ہیں۔جس سے آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و خلوص کی خوشبو مہکتی ہے۔

    کائنات کے خالق حقیقی رب العزت جلال کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے عملی مثالی کردار والے ہر عہد میں برگزیدہ انبیاء کرام علیہم السلام اجمعین کو ان کی مادری زبانوں میں تبلیغ کی اجازت فرمائی۔انسان میں اعلی ترین ذریعہ ابلاغ زبان ہے۔مادری زبان بہترین و آسان ترین کلیہ ہدایت وتربیت ہے۔بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک بھر میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

    سال2010ء کی ہایئر ایجوکیشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔لفط سرائیکی سرسوتی سے نکلا ہے۔علم آثارقدیمہ ریسرچ مطابق موجودہ روہی چولستان کا ایک گمشدہ شہر گنویری والا دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کا تقریبا آٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر ہے۔سرائیکی زبان کی ادبی روایت کئی صدیوں پر محیط ہے۔ حضرت بہاالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی رحمۃاللہ علیہ کی سرائیکی شاعری دراصل کلاسک سرائیکی مادری زبان کی شناخت و عظمت کی گواہی ہے۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی زبان کا لازوال عروج ہے۔”میں تے یار فرید منیسوں رل مل شہر بھنبھور” سرائیکی خطے کے قدیم ہزار سالہ ادبی و ثقافتی دستاویز ہے۔لیکن صد افسوس کہ آج تک اس زبان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا ۔جو اس کا اولین حق تھا۔یہ ادبی اعتبار سے کسی بھی دوسری زبان سے پیچھے نہیں ہے۔اس میں ہمارے مذہب اسلام،دین،فقہ،علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ موجود ہے۔

    پاکستان کے ہر صوبے اور ہرضلع میں سرائیکی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔انڈیا میں کثیر تعداد میں سرائیکی زبان بولنے افراد رہتے ہیں۔سرائیکی زبان اب عالمی شہرت یافتہ زبان کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔سرائیکی وسیب میں ہر حملہ آور نے اس کے زرخیز خطے پر قبضہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی زبان اور ثقافت پر شدید حملہ کیا۔مگر دھرتی واسیوں نے مکمل اعتماد و یقین سے ان کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔سرائیکی علاقہ محبت و احترام آدمیت اور تصوف سے مالا مال ہے۔سرائیکی آکھان جو "مٹھاس تے وفا دا ڈوجھا ناں سرائیکی ہے”۔سندھ میں جس کو سرائیکی نہیں آتی اس کو ڈھگو کہا جاتا ہے۔

    انگریز نے فاتحانِ عالم کی طرح ہمت اور بہادری کے ساتھ برصغیر کو فتح نہیں کیا۔بلکہ تاجروں کا بھیس بدل کر روٹی کی بھیک مانگتے ہوئے بھارت میں آیا اور مغلیہ حکمرانوں کے سامنے دامن پھیلا کر تجارتی سہولیات حاصل کیں۔لیکن موقع ملتے ہی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی محسنوں کے گھر پرقبضہ کر لیا۔انگریزنے قدم جمانے کے بعد مقامی زبانوں کو نظر انداز کر دیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو‘‘ تو قوم کی روایات، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔

    مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے۔کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن انگریزوں نے سرائیکی وسیب میں رائج نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے پرائمری تک تعلیم کے لیے مقامی زبانوں سرائیکی،بلوچی،پنجابی،سندھی،پشتو، بلتی،گلگتی وغیرہ کی جگہ اردو زبان کو لازمی قرار دیا۔جبکہ فارسی کی جگہ انگریزی سرکاری زبان بنا دی گئی۔ انگریزی بولنے اور پڑھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلانے لگے۔جب کہ مقامی مادری زبانوں سے محبت کرنے والے مہذب اہل علم جاہل،جانگلی،ان پڑھ اور گنوار کہلانے لگے۔

    مادری زبان انسان میں احساس عزت و توقیر،غیرت، اخلاقی اقدار، سلیقہ،وفا، دلیری، ثقافت و تہذیب وتمدن اور وطن عزیز سے بے پناہ عقیدت پیدا کرتی ہے۔مگر انگریز نے غلامی کا وار اس انداز میں کیا کہ مسلمانوں کا صدیوں سے رائج نصاب بے وقعت ہو گیا۔ایک طرف مسلمان معاشی و سماجی طور پر دلد ل میں پھنستے چلے گئے تو دوسری طرف تعلیمی میدان میں انگریزی زبان کے فروغ کا زور و شور ان کو لے ڈوبا۔علم و عمل کی بنیاد پر برصغیر پر ہزار سال حکومت کرنے والی مسلم قوم کو ایک دم جاہل گنوار بنا کر رکھ دیا گیا۔انگریز کی اس کاری ضرب کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔

    سرائیکی دھرتی کے عظیم ہیرو احمد خان کھرل شہید اور نواب مظفر خان شہید کو ڈاکو اور لٹیرے بنا کر پیش کیا گیا۔اِس طرح سرائیکی وسیب کی نئی نسل اپنی ہی مادری زبان اور ثقافت پر نازاں ہونے کی بجائے شرمندگی محسوس کرنے لگے۔انگریز نے ملتان پر قبضہ کیا۔ ملتان جو ہزاروں سال پرانی سرائیکی ریت وثقافت اور شناخت کا مرکز رہا۔جس کی گواہی آج کے ضرب المثل ہیں۔جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ سرائیکی قوم میں منتقل ہورہے ہیں۔جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان”۔آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر”۔ناجائز قبضہ گیری نے یہاں کے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا اور انگریزی و اردو زبان کو اتنا اونچا درجہ دے دیا گ،عوام دیسی زبانیں بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگے۔

    مگر آج بھی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی ہرشعبہ ہائے زندگی میں انگریزی کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی ایک ترقی یافتہ اور جدید سائنسی علوم کے ذخیرے سے مالا مال زبان ہے۔لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی زبان اور روایات چھوڑ کر کسی غیر کی زبان اور تہذیب و تمدن کو اپنا کر کبھی ترقی نہیں کی۔کیونکہ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تصوف،تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ثقافتوں اور روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔جس سوسائٹی میں دانشور اپنی دھرتی کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور ان کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے تو ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت،زبان اور اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔لہٰذا ہمیں ہر صورت اپنی ماں بولی کا بغیر کسی تعصب کے ضرورتحفظ کرنا چاہیے۔

    حکومتِ وقت مادری و علاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعراء اور محققین کی سرپرستی کرے۔ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے۔سرائیکی مادری زبان کا مستقبل روشن ہے کہ پاکستان میں مقامی زبانوں میں سب سے زیادہ کتابیں سرائیکی میں شائع ہورہی ہیں۔الحمداللہ 2011ء سے سرائیکی زبان کالجز سطح پر نصاب کا حصہ ہے۔یونیورسٹیوں میں سندھی،بلوچی،پنجابی
    ،پشتون زبانوں میں اے ڈی پی،بی ایس،ایم فِل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی طرح اب سرائیکی میں بھی یونیورسٹی سطح پر اعلی تعلیم وتربیت دی جاری ہے۔سرائیکی مضمون فرسٹ ائیر کے پہلے سٹوڈنٹس راقم الحروف کے بہاولنگر کالج کے ہی تھے۔اب پرائمری و مڈل اور میٹرک میں سرائیکی نصاب سازی کا خواب حقیقت رواں دواں ہے۔تاہم ان ڈگریوں کی معاشی اہمیت و افادیت کو محدود سمجھا جارہاہے۔ کیونکہ ماں بولی کے احترام کے سوا عملاً کچھ نہیں ملتا۔میرے نزدیک جو قوم آپنی ماں بولی،والدین اور وطن عزیز کی ہمیشہ خیر و سلامتی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرتی رہے گی۔وہ قوم ہمیشہ عزت و وقار سے جیتی رہے گی۔ورنہ خود کسی غلام ہوکر خاک میں مل خاک بن صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

    سرائیکی زبان وادب کی آبیاری کے لیے جدید کلاسک شعراء کرام میں رفعت عباس،عاشق بزدار،جہانگیر مخلص،عزیز شاہد،ثاقب قریشی،شاہد عالم شاہد،سلیم صابر اورشاکر شجاع آبادی جیسے عظیم شاعر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔نوجوان طبقہ اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔یہ اشارے شاندار مستقبل کی روشن دلیل ہیں۔ہر انسان اور ہر مادری زبان کا تحفظ ہم سب انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سرائیکی زبان کو فوری دیگر زبانوں کی طرح پی ایس سی،سی ایس ایس امتحانات میں شامل کیا جائے۔سکولوں میں فوری سرائیکی سیٹوں کا اشتہار دیا جائے۔سرائیکی خطے میں سرائیکی بنک اور سرائیکی یونیورسٹی کے قیام سے مقامی سرائیکی مادری زبان بولنے والا کا اعتماد بلند ہوگا۔معاشی ترقی کا نیا پہیہ چلے گا۔اردو بھی عملاً سرکاری زبان نہیں اور اسے بھی انگریزی کی ضرورت کے سبب علاقائی زبانوں کے خیمے میں پناہ لینی پڑ گئی ہے۔

    حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ابتدائی کلاسز میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے۔پارلیمنٹ و نادرا میں بھی سندھی زبان کی طرح قومی شناختی کارڈ بھی سرائیکی میں جاری کیے جائیں۔سرائیکی وسیب کی ہر یونیورسٹی میں سرائیکی شعبے لازمی قائم ہوں۔دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبانوں کی ضرورت و اہمیت کو مانتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق حاصل ہے اور تمام زبانوں کی بلا امتیاز ترویج و ترقی شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی فرائض کا حصہ ہے۔لیکن پاکستان میں آج بھی علاقائی زبانوں کی اہمیت اور مقام و مرتبے پر بحث جاری ہے۔سندھ میں سندھی کی طرح سرائیکی زبان کو شامل کیاجائے،خیبر پختونخوا میں پشتو کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں سرائیکی زبان کے شعبے کو ہزارہ ڈویژن میں سرائیکی کو شروع کیا جائےاور بلوچستان میں بلوچی ابتدائی تعلیمی درجات میں پڑھائی کے ساتھ سرائیکی زبان بھی شامل کی جائے۔

    حکومت پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،پنجاب کری کولم ٹکسٹ بک بورڈ لاہور نے سرائیکی گیارہویں جماعت کی کتاب چھاپ کر سرائیکی مادری زبان کی ترویج کو تاریخی اہمیت دی ہے۔اس سے آپس میں مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کو محفوظ فروغ ملے گا۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلد نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں اور اس سے بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جس سے زبان کی آبیاری ہوتی ہے۔اس کے برعکس جن اقوام کا اپنی ہی مٹی سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔شکست اور ذلت و پستی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ پرائمری سے تمام صوبوں میں مقامی زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔مادری زبان انسان کی پہلی زبان ہی نہیں بلکہ پہلی ابتدائی درسگاہ،ثقافت، شناخت،تاریخ اور تعلقات کی بنیادی جڑ ہے۔

    مادری زبان کی اہمیت کا ادراک انسانی ترقی،معاشرتی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر اثرات کے حوالے سے بے حد ضروری ہے۔مادری زبان انسان کی پہچان اور کلچرل تنوع کی علامت ہے۔ایک شخص کی مادری زبان اس کی نسلی علم ودانش،ثقافتی اقدار اور جغرافیائی تاریخ کو ظاہر کرتی ہے۔اس زبان کے ذریعے فرد اپنی تہذیب وتمدن،کلچر،فہیم،ادب،روایات اور رسوم و رواج کو زندہ رکھتا ہے اور اپنے آباؤ اجداد کے تجربات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو زیادہ قدرتی اور حقیقی انداز میں اظہار خیال کرتا ہے۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا طالب علم کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔جب بچوں کو اپنی مادری زبان میں پڑھایا جاتا ہے، تو ان کی تفہیمی صلاحیت اور سیکھنے کی رفتار بہتر ہوتی ہے۔ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے زیادہ خود اعتماد، دلیر،وفادار، تخلیقی اور سیکھنے میں فعال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بچوں میں نئے تصورات،فنون لطیفہ،خیالات اور مہارتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم ہوتی ہے۔

    سماجی اور ثقافتی روابط ہمیشہ مادری زبان سے ہی مضبوط ہوتےہیں۔افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور ان کے درمیان بہتر سماجی تعلقات قائم کرتی ہے۔ یہ زبان افراد کو اپنے خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کے ساتھ جڑنے کا ایک قدرتی طریقہ فراہم کرتی ہے۔مادری زبان میں گفتگو کرتے وقت لوگ زیادہ آرام دہ اور اعتماد محسوس کرتے ہیں۔جس سے معاشرتی ہم آہنگی اور تعاون بڑھتا ہے۔ مادری زبان انسان کی جذباتی اور نفسیاتی حالت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے تو وہ اپنے خیالات اور جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔مادری زبان میں انسان زیادہ کھل کر اپنی باتوں کو شیئر کرتا ہے،جو اس کے ذہنی سکون اور جذباتی خوشی کے لیے ضروری ہے۔

    فطرت کا دوسرا خوبصورت نظارہ مادری زبان ہے۔اگر ایک زبان ختم ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ اس زبان میں چھپی سماجی و ثقافتی معلومات،ادب،حکمت ودانش،روایات اور علم بھی ضائع ہو جاتا ہے۔مادری زبانوں کا تحفظ اور ترقی عالمی سطح پر انسانوں کی متنوع شناخت اور ثقافتوں کے احترام کی علامت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دنیا میں مختلف زبانوں کا ہونے کے باوجود مادری زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا عالمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔عالمی تنظیمیں اور ادارے مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے سرگرم ہیں۔

    مادری زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ یہ ایک فرد کی ثقافتی شناخت، تعلیمی ترقی،جذباتی سکون،روحانی وابستگی اور عالمی سطح پر تعلقات کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم اپنی نسلوں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکیں۔مادری زبان کا تحفظ اور اس کا فروغ ایک روشن اور ہم آہنگ دنیا کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔مادری زبان میں ہی انسان مکمل طور اپنے دکھ سکھ کا قصہ بیان کرتاہے۔سرائیکی کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔
    کیا حال سنڑاواں دل دا
    کوئی محرم راز نہ ملدا

    سرائیکی ماں بولی سرائیکی ماں بولی
    سبھ توں مٹھی سبھ توں چسولی۔

  • بنام ڈی پی او چکوال/تلہ گنگ لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین صاحب

    بنام ڈی پی او چکوال/تلہ گنگ لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین صاحب

    بنام ڈی پی او چکوال/تلہ گنگ لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین صاحب
    تحریر شوکت علی ملک
    ویسے تو ڈی پی او چکوال/تلہ گنگ لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی پیشہ وارانہ قابلیت پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں بلکہ ان کی ایمانداری اور پروفیشنل ازم ہی ان کی پہچان ہے، انتہائی فہم و فراست سے بروقت موقع پر انصاف کی فراہمی ان کا خاصہ ہے یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف چکوال بلکہ پورے صوبہ پنجاب اور پاکستان میں وہ اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں اور ہر خاص و عام ان کا معترف نظر آتا ہے۔

    لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی چکوال میں بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعیناتی کو کچھ زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا مگر انہوں نے مختصر وقت میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چکوال پولیس کا قبلہ درست کرنے کےلیے کافی کام کیا ہے جس کے مثبت اثرات گراونڈ پر بھی نظر آتے ہیں، مگر بدقسمتی سے چکوال تلہ گنگ کی پولیس میں بیٹھے کچھ "گرو” اب بھی ڈپی پی او احمد کی گرفت سے بالاتر نظر آتے ہیں جوکہ ان کے شفاف ترین کیرئیر کو بھی داغ دار کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

    شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین تلہ گنگ/چکوال جہاں ایک طرف پرامن ترین اضلاع گردانے جاتے ہیں دوسری جانب زمین کے تنازعات کے باعث گزشتہ کچھ عرصہ سے یہاں پر قتل و غارت کے واقعات انتہائی خظرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، جوکہ نہ صرف علاقے کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ایک خطرناک صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں، جس کی جڑ مشترکہ کھاتے، تقسیم کا نہ ہونا، محکمہ مال کی غفلت، ملی بھگت اور دو نمبریاں ہیں اور رہی سہی کسر نچلی عدالتوں میں نظام انصاف کا بوسیدہ ترازو نکال دیتا ہے۔

    ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین نے آتے ہی محکمہ مال سے متعلقہ مسائل اور زمین سے متعلقہ تنازعات کے حل کےلیے تحصیل سطح پر لینڈ ریزولیشن کمیٹیوں (LRC) کا قیام عمل میں لایا جس میں متعلقہ ڈی ایس پی اور محکمہ مال کے افسران شامل ہوتے ہیں، جوکہ ان کا انتہائی مثبت اقدام ہے اور جس سے زمین کے تنازعات سے متعلق کافی حد تک لوگوں کے مسائل حل ہورہے ہیں مگر دوسری جانب زمین کے تنازعات سے متعلقہ مسائل کی ریشو اتنی زیادہ ہے کہ اتنے مختصر وقت میں ان کا حل ممکن نہیں ہے، جس کےلیے کافی وقت درکار ہوگا۔

    یہی وجہ ہے کہ زمین کے تنازعات سے متعلقہ مسائل پر آج بھی تلہ گنگ چکوال کے سینکڑوں خاندان عدالتوں اور تھانوں میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں، عدالتوں میں سالوں سال کیس چلتے ہیں مگر ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، اگر کسی خوش قسمت کا بروقت قرعہ نکل بھی آئے تو اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرواتے کرواتے رہی سہی کسر پولیس نکال دیتی ہے، جس کے باعث معاملات قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع تک پہنچ جاتے ہیں، جوکہ انتہائی افسوسناک اور علاقائی امن و امان کےلیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

    ایسے میں ڈی پی او چکوال احمد محی الدین کو کچھ اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کرنے ہوں گے جن میں سے سب سے پہلے ایل آر سی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے، تھانوں میں بہترین تفتیشی افسران اور ایس ایچ اوز کی میرٹ پر تعیناتیاں کرنی ہوں گی، ہیومن انفارمیشن انٹیلیجنس کو بہتر بنانے کےلیے متعلقہ ایجنسیز کو ایکٹو کرنا ہوگا، غفلت برتنے والے افسران و ملازمان کیخلاف سخت محکمانہ کاروائیاں کرنی ہوں گی، زمینوں کے تنازعات کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر محکمہ مال کیخلاف قانونی کاروائی کرنے کی بھی حکمت عملی بنانا ہوگی۔

    اگر ڈی پی او چکوال/تلہ گنگ لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ جانے یہ تنازعات اور کتنی جانیں نگل جائیں گے، جوکہ نہ صرف ڈی پی او صاحب کی ماضی کی شاندار کارکردگی کو داغ دار کریں گے بلکہ علاقے بھر میں امن و امان کی فضا کو خطرناک حد تک خون آلود کرنے کا بھی سبب بنیں گے، دوسری جانب بطور معاشرے کے زمہ دار شہری ہمیں بھی اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، اپنے اردگرد کے لوگوں کو صبر برداشت اور صلہ رحمی کی ترغیب دینا ہوگی تاکہ ہم ایک پرامن معاشرے میں سکون سے زندگی گزار سکیں۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • اوکاڑہ: میگا پروجیکٹس پر تیزی سے کام جاری، عوام کو جلد ریلیف ملے گا، ملک خالد یعقوب

    اوکاڑہ: میگا پروجیکٹس پر تیزی سے کام جاری، عوام کو جلد ریلیف ملے گا، ملک خالد یعقوب

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سماجی کارکن ملک خالد یعقوب نے کہا ہے کہ اوکاڑہ میں کئی میگا پروجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے، جن کی تکمیل سے شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔

    اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج نے ہمیشہ اوکاڑہ کی ترقی میں خصوصی دلچسپی لی، جس کے نتیجے میں اہم ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔

    ملک خالد یعقوب کے مطابق حلقہ کے عوام کے لیے خصوصی منصوبے اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جو عوام کے لیے خوشخبری سے کم نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوکاڑہ کی تعمیر و ترقی ہی چوہدری ریاض الحق جج کا ویژن ہے، جس پر عملدرآمد جاری ہے۔

  • ننکانہ: ڈاکٹر کی تین ماہ سے غیر حاضری، سی ای او ہیلتھ کا سخت نوٹس

    ننکانہ: ڈاکٹر کی تین ماہ سے غیر حاضری، سی ای او ہیلتھ کا سخت نوٹس

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ڈاکٹر کی تین ماہ سے غیر حاضری، سی ای او ہیلتھ کا سخت نوٹس، وضاحتی لیٹر جاری

    تفصیل کے مطابق بنیادی ہیلتھ یونٹ لڑھکا کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فیصل نواز کی مسلسل غیر حاضری پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے وضاحتی لیٹر جاری کر دیا۔

    بائیومیٹرک حاضری کے مطابق ڈاکٹر فیصل نواز نومبر 2024 سے فروری 2025 تک مختلف تاریخوں میں بغیر اطلاع غیر حاضر رہے۔ سی ای او ہیلتھ نے ڈاکٹر فیصل نواز کی تنخواہ بند کرتے ہوئے انہیں 20 فروری تک تحریری جواب کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، بصورت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر کامران واجد اور ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ذیشان اختر سے بھی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین ماہ میں ہسپتال کے کتنے دورے کیے اور غیر حاضری کی اطلاع کیوں نہیں دی۔

    سی ای او ڈاکٹر طلحہ شیروانی نے واضح کیا کہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • حافظ آباد: کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتی جاری، میرٹ اور شفافیت کی یقین دہانی

    حافظ آباد: کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتی جاری، میرٹ اور شفافیت کی یقین دہانی

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی(خبرنگارشمائلہ) حافظ آباد پولیس میں کانسٹیبلان اور لیڈی کانسٹیبلان کی آسامیوں پر بھرتی کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ چیئرمین بھرتی بورڈ ڈی آئی جی عثمان اکرم گوندل، ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر اور ڈاکٹر خدیجہ عمر کی نگرانی میں قد، وزن اور چھاتی کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔

    ڈی پی او عاطف نذیر نے بتایا کہ 1782 امیدواروں کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ امیدواروں کے آرام اور سہولت کے لیے سائبان اور پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔

    ترجمان پولیس کے مطابق بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر ہوگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ڈی پی او نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی محنت، قابلیت اور صلاحیت پر بھروسہ کریں اور نوسربازوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھرتی کا عمل مکمل دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے گا تاکہ صرف اہل اور قابل امیدوار ہی فورس کا حصہ بنیں۔

  • سیالکوٹ: وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام عازمین حج کی تربیتی نشست

    سیالکوٹ: وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام عازمین حج کی تربیتی نشست

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام عازمین حج کی تربیتی نشست، 2500 افراد کی شرکت

    سیالکوٹ میں وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام وزیر آباد روڈ پر واقع جیسمین مارکی میں عازمین حج کی تربیتی نشست منعقد کی گئی، جس میں ضلع سیالکوٹ کے 2500 عازمین کو مناسک حج، حج ایپ کے استعمال، شکایات کے ازالے اور انتظامی امور سے متعلق آگاہی دی گئی۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور عمر بٹ کے مطابق ملک بھر میں 18 جنوری سے 27 فروری تک 147 تحصیلوں میں عازمین حج کی پہلی ایک روزہ تربیت دی جائے گی، جبکہ رمضان کے بعد دوسری نشست میں حاجی کیمپ، ویکسینیشن اور دیگر پروسیجرز پر رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 20 فروری کو نارووال میں بھی تربیتی نشست منعقد کی جائے گی۔

  • گھوٹکی: سی پیک روڈ پر حادثہ، مظفرگڑھ کا نوجوان جاں بحق، میاں بیوی زخمی

    گھوٹکی: سی پیک روڈ پر حادثہ، مظفرگڑھ کا نوجوان جاں بحق، میاں بیوی زخمی

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری) سی پیک روڈ پر حادثہ، مظفرگڑھ کا نوجوان جاں بحق، میاں بیوی زخمی

    تفصیل کے مطابق گھوٹکی میں سی پیک روڈ پر پیش آنے والے حادثے میں پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والا نوجوان جاں بحق ہوگیا، جبکہ ایک مرد اور خاتون زخمی ہوئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ کشمور کی حدود میں پیش آیا، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد تعلقہ اسپتال گھوٹکی سے رحیم یار خان منتقل کر دیا گیا۔

  • سیالکوٹ: بگ کیچ اپ مہم کا دوسرا فیز شروع، ویکسین مکمل کرانے کی اپیل

    سیالکوٹ: بگ کیچ اپ مہم کا دوسرا فیز شروع، ویکسین مکمل کرانے کی اپیل

    سیالکوٹ ,باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے ضلع سیالکوٹ میں 30 روزہ بگ کیچ اپ مہم کے دوسرے فیز کا افتتاح کردیا۔ بنیادی مرکز صحت میں افتتاح کے بعد انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ 15 مارچ تک جاری اس مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر ایسے تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائیں جو کسی وجہ سے ویکسینیشن کا کورس مکمل نہیں کر سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پنجاب حکومت حفاظتی ٹیکہ جات کے توسیعی پروگرام کے تحت بچوں کو 12 بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کرتی ہے، تاہم کورونا سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر کئی بچے ویکسینیشن سے محروم رہ گئے۔ ان بچوں کو کور کرنے کے لیے زیرو ولسگ، ہیرو مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

    انہوں نے موقع پر موجود ہیلتھ اتھارٹی حکام کو ہدایت کی کہ اس مہم کے دوران پولیو سے محروم رہ جانے والے بچوں کو بھی ویکسین دی جائے تاکہ ہر بچہ مکمل تحفظ حاصل کر سکے۔