Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:اپووا اور کاروان قلم رائٹر فورم کے زیر اہتمام اپووا ادبی کانفرنس کا شاندار انعقاد

    سیالکوٹ:اپووا اور کاروان قلم رائٹر فورم کے زیر اہتمام اپووا ادبی کانفرنس کا شاندار انعقاد

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہد ریاض)آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور کاروان قلم رائٹر فورم پاکستان کے زیر اہتمام اپووا ادبی کانفرنس ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈویژنل صدر تنظیم الاخوان پاکستان عبدالحمید چھینہ ایڈووکیٹ نے ذکرِ قلبی کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی جبکہ چیئرمین اپووا زبیر احمد انصاری نے زندگی کے مقصد اور آخرت کی تیاری پر تفصیلی خطاب کیا۔

    تقریب میں نامور ادبی شخصیات اور ماہرین نے نوجوان لکھاریوں کی رہنمائی کے لیے اصلاحی لیکچرز دیے۔ مقررین میں لیجنڈ وصدارتی ایوارڈ یافتہ راشد محمود، پروفیسر ہارون الرشید تبسم، سینئر صحافی ندیم نظر، سعدیہ ہما شیخ ایڈووکیٹ، بانی و صدر ایم ایم علی اور ڈاکٹر انعم پری شامل تھے۔

    اس موقع پر اعلیٰ صحافتی خدمات پر مختلف صحافیوں کو ایوارڈز سے نوازا گیا، جن میں امین رضا مغل، جنید آفتاب، ڈاکٹر ندیم ملک اور باغی ٹی وی کے بیوروچیف شاہد ریاض شامل تھے۔ علاوہ ازیں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات، بشمول خرم میر اور مرزا عرفان علی کو بھی ایوارڈز دیے گئے۔

    تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ صحافیوں، موٹیویشنل اسپیکرز، شعراء اور کالم نگاروں سمیت مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    یہ ادبی کانفرنس نوجوان لکھاریوں کی تربیت، ادب کے فروغ اور صحافتی خدمات کے اعتراف کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔

  • گوجرانوالہ: یومِ کاشتکاران،کسانوں کے لیے مفید زرعی رہنمائی، حکومتی اقدامات پر بریفنگ

    گوجرانوالہ: یومِ کاشتکاران،کسانوں کے لیے مفید زرعی رہنمائی، حکومتی اقدامات پر بریفنگ

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) فتح والا مرکز، قلعہ دیدار سنگھ میں یومِ کاشتکاران کے سلسلے میں خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ڈاکٹر جاوید اختر اور پرنسپل ایگریکلچر آفیسر/ اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) محمد اعظم مغل نے کی۔

    اس تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ڈاکٹر جاوید اختر، ریجنل ہیڈ این آر ایس پی امجد علی بخآری، زرعی ماہرین حافظ عنایت اللہ سمیت علاقے بھر کے ترقی پسند کاشتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اختر اور محمد اعظم مغل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہیں، جن میں کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر اسکیم، سولرائزیشن اور گندم کی پیداوار بڑھانے کے مقابلے شامل ہیں۔

    ماہرین نے کسانوں کو ہدایت کی کہ محکمہ زراعت (توسیع) کی سفارشات پر عمل کرکے ہی بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

    امجد علی بخآری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام کسانوں کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ ان میں اچھی پیداوار کے سنہری اصول بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے NRSP کے تحت کسانوں کے لیے جاری فلاحی منصوبوں پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔

    محمد اعظم مغل نے کسانوں کو خشک سالی کے اثرات کم کرنے اور کھادوں کے مؤثر استعمال پر آگاہ کیا اور جدید زرعی تکنیکوں پر روشنی ڈالی۔

    پروگرام کے آخر میں زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کے سوالات کے جوابات دیے اور انہیں جدید زرعی طریقوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔
    یہ تقریب کسانوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوئی، جہاں انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی، حکومتی مراعات اور زیادہ پیداوار کے طریقے سیکھنے کا موقع ملا۔

  • ڈیرہ غازیخان: این جی اوز کو این او سی کے بغیر کام کی اجازت نہیں،  ایک ماہ کی مہلت

    ڈیرہ غازیخان: این جی اوز کو این او سی کے بغیر کام کی اجازت نہیں، ایک ماہ کی مہلت

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ضلع ڈیرہ غازی خان میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو این او سی کے بغیر کام کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ این او سی کی تجدید کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

    یہ اعلان ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے این جی اوز کے نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفادِ عامہ کے منصوبوں کے لیے این جی اوز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاہم کسی بھی منصوبے کے آغاز سے قبل انتظامیہ کو مکمل آگاہی دینا لازم ہوگا۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تمام این جی اوز کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا، اور ان کے سربراہان کو ہر اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ باہمی مشاورت سے علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔

    محمد عثمان خالد نے کہا کہ حکومت تنہا تمام مسائل کا حل نہیں نکال سکتی، لہٰذا این جی اوز حکومت کے شانہ بشانہ کام کریں تاکہ فلاحی منصوبے مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں۔

    یہ اقدامات علاقے میں شفافیت، منصوبوں کی مؤثریت اور عوامی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

  • جمرود: خرکی آباد امن فٹبال ٹورنامنٹ اختتام پذیر، ینگ خرکی آباد کی شاندار کامیابی

    جمرود: خرکی آباد امن فٹبال ٹورنامنٹ اختتام پذیر، ینگ خرکی آباد کی شاندار کامیابی

    جمرود (باغی ٹی وی رپورٹ) خرکی آباد خواڑ میں منعقدہ امن فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل ینگ خرکی آباد فٹبال ٹیم اور خیبر گرین فٹبال ٹیم کے درمیان کھیلا گیا، جس میں ینگ خرکی آباد نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

    اس ایونٹ میں ضلع خیبر کے مختلف علاقوں سے 20 ٹیموں نے حصہ لیا، جس نے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔

    اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی سابق ایم پی اے الحاج شفیق شیر آفریدی اور تحصیل جمرود چیئرمین حاجی عظمت خان آفریدی تھے، جبکہ چیف آرگنائزر ملکزادہ احمد اللہ، فوکل پرسن تحصیل چیئرمین حاجی شفیق آفریدی، کونسلر مصور خان اور ظہور آفریدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    مہمان خصوصی الحاج شفیق شیر آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی اضلاع، خصوصاً ضلع خیبر، کھیلوں کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں، مگر سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنے دور میں کھیلوں کو سپورٹ کیا، ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا تاکہ نوجوان منشیات سے دور رہ کر مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ کھیل کے میدان آباد ہونا امن اور ترقی کی نشانی ہے۔”

    انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ اپنے علاقے اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی نے کھلاڑیوں اور آرگنائزرز کے لیے 20 ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کیا اور کامیاب کھلاڑیوں میں ٹرافیاں تقسیم کیں۔

    یہ ٹورنامنٹ نہ صرف نوجوانوں کے جوش و جذبے کا عکاس تھا بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کھیل کے ذریعے امن، بھائی چارہ اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

  • اوچ شریف:نواحی علاقہ رسول پور میں پل پنجند کی خستہ حالی، عوام کا احتجاج

    اوچ شریف:نواحی علاقہ رسول پور میں پل پنجند کی خستہ حالی، عوام کا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رسول پور میں پل پنجند کی خستہ حالی کے باعث عوام سراپا احتجاج بن گئے اور حکام سے فوری مرمت و تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ برسوں سے مخدوش حالت میں موجود یہ پل درجنوں دیہاتوں کو قومی شاہراہ اور سی پیک سے جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے، لیکن اس کی خطرناک صورتحال روزانہ سیکڑوں شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہے۔

    پل کے پشتے کمزور ہو چکے ہیں جبکہ حفاظتی جنگلے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی کسانوں کو اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک لے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے علاقے کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں گاڑیاں اس پل سے گزرتی ہیں، لیکن حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے ارباب اختیار کو پل کی مرمت کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے، جو نہ صرف قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے بلکہ علاقے کی ترقی کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔

    اہلیانِ علاقہ نے کمشنر بہاول پور، ڈپٹی کمشنر بہاول پور، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پل کی مرمت اور توسیع کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پل نہ صرف مقامی ٹریفک کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک کے راستے کو بھی سہولت فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔

  • لنڈی کوتل: جامعہ بنوریہ اشخیل میں سالانہ پروقاردستاربندی، علمائے کرام کی شرکت

    لنڈی کوتل: جامعہ بنوریہ اشخیل میں سالانہ پروقاردستاربندی، علمائے کرام کی شرکت

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) جامعہ بنوریہ اشخیل میں سالانہ دستاربندی کی روح پرور اور پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ممتاز علماء کرام، مقامی عمائدین اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی دستاربندی کی گئی، جبکہ علماء کرام نے مدارس کی اہمیت اور قرآن و حدیث کی فضیلت پر روشنی ڈالی۔

    تقریب میں ممتاز عالم دین مفتی سید قمر صاحب بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ دیگر معزز علماء میں مفتی کفایت اللہ عباسی، شیخ الحدیث مولانا تحسین اللہ، شیخ الحدیث مولانا شیر حیدر، جے یو آئی خیبر کے امیر مولانا حضرت خان، سینئر نائب امیر الحاج شمس الدین، قاری جہاد شاہ آفریدی، تحصیل لنڈی کوتل امیر مولانا عاقب درویش، مولانا مجاہد، مولانا رحمت اللہ ناصح، مولانا انوار اللہ عثمانی عرف سرائے استاد، مولانا ودان اللہ درویش، قاری محمد عظیم مدنی اور جامعہ کے مہتمم مولانا سید محمد احمد بنوری عرف باچا جی سمیت کئی علماء کرام و عمائدین نے خصوصی شرکت کی۔

    تقریب میں ختمِ بخاری شریف کی سعادت مفتی سید قمر صاحب نے حاصل کی، جبکہ فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی دستاربندی کی گئی، جن کی تفصیلات درج ذیل ہے شعبہ بنات: 35 عالمات (بخاری شریف)، 92 طالبات (شعبہ تجوید)شعبہ بنین: 13 حفاظ کرام، 42 ناظرہ قرآن کے طلبہ

    تقریب میں مختلف علماء کرام نے قرآن و حدیث کی فضیلت اور موجودہ دور میں مدارس دینیہ کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی، جسے حاضرین نے نہایت توجہ اور عقیدت سے سنا۔

    آخر میں جامعہ کے ناظمِ تعلیمات مولانا سید علی احمد بنوری نے تمام معزز مہمانوں، علماء کرام اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ تقریب کا اختتام امت مسلمہ اور جامعہ کی کامیابی و ترقی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

  • اوچ شریف: سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی کمی، بڑھتے حادثات کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف: سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی کمی، بڑھتے حادثات کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) شہر کی مصروف سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی عدم موجودگی کے باعث حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور حفاظتی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اوچ شریف کی اہم شاہراہوں، خصوصاً علی پور روڈ، خیر پور ڈاہا روڈ اور احمد پور شرقیہ روڈ پر اسپیڈ بریکرز نہ ہونے کے باعث تیز رفتار گاڑیاں اور موٹر سائیکل سوار شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بھی اسپیڈ بریکرز کی کمی کے سبب حادثات معمول بن چکے ہیں۔

    گزشتہ دنوں اوچ گیلانی کے رہائشی رفیق حسین تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثہ مخدوم سید علی گیلانی شہید چوک پر پیش آیا، جہاں گاڑی بے قابو ہو کر انہیں کچلتی ہوئی گزر گئی اور ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس حادثے کی وجہ تیز رفتاری اور اسپیڈ بریکرز کی عدم موجودگی کو قرار دیا گیا ہے۔

    مقامی افراد محمد علی، محمد مکی، ادریس احمد، شہزاد احمد، باسط علی، سرفراز احمد اور دیگر شہریوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز تعمیر کیے جائیں تاکہ مزید جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

    شہریوں نے کہا کہ اگر بروقت اسپیڈ بریکرز نہ بنائے گئے تو مزید حادثات رونما ہو سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ کیا انتظامیہ شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گی، یا پھر یہ مسئلہ بھی فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟

  • اوچ شریف: 74 ہجری میں تعمیر شدہ تاریخی مسجد مٹی میں ملنے لگی، تحفظ کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف: 74 ہجری میں تعمیر شدہ تاریخی مسجد مٹی میں ملنے لگی، تحفظ کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان )محمد بن قاسم کے دور کی یادگار اوچ موغلہ کی تاریخی مسجد اپنی آخری سانسیں لینے گی،کیا یہ عظیم ورثہ حکومتی عدم توجہی کی نذر ہو جائے گا؟ 74 ہجری میں تعمیر کی گئی یہ قدیم مسجد، جو فنِ تعمیر کا شاندار نمونہ اور تاریخ کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے، آج زبوں حالی کا شکار ہے۔ کیا اس ورثے کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات کیے جائیں گے؟

    یہ تاریخی مسجد جو مٹی سے بنی ہوئی تھی وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہو چکی ہے۔ اس کی دیواریں گرنے کے قریب ہیں اور اردگرد کی نئی تعمیرات اور زمین کی بھرائی اس قدیم ورثے کو مکمل طور پر دفن کرنے کے درپے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا آنے والی نسلیں اس عظیم تاریخ کے آثار دیکھ پائیں گی؟

    مقامی روایات کے مطابق یہ مسجد محمد بن قاسم کی فتوحات کے دور کی ایک نشانی ہے، لیکن آج اس کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آ رہی۔ کیا آثارِ قدیمہ کے ماہرین، مقامی انتظامیہ یا متعلقہ حکومتی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے؟ کیا کوئی ایسا اقدام کیا جائے گا جس سے یہ ورثہ مزید تباہ ہونے سے بچ سکے؟

    یہ مسجد نہ صرف ایک قدیم عبادت گاہ بلکہ اسلامی تاریخ اور ثقافت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق اس کے کھنڈرات بھنبھور اور الور کے قدیم آثار سے مماثلت رکھتے ہیں جو اس کی تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی گئی توایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی تاریخ اور شناخت کھو دیں گے

    یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ اس تاریخی مسجد کی بحالی اور تحفظ کے لیے کون اقدامات کرے گا؟ کیا محکمہ آثارِ قدیمہ یا حکومت کوئی عملی قدم اٹھائے گی یا پھر یہ مسجد بھی دیگر تاریخی ورثوں کی طرح ماضی کا ایک دھندلا عکس بن کر مٹی میں دفن ہوجائے گی؟

    مقامی شہریوں، سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس ثقافتی اور مذہبی ورثے کی بحالی کے لیے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ تاریخی علامت آنے والی نسلوں کو ہمارے شاندار ماضی کی گواہی دے سکے۔

  • اوچ شریف: دو موٹر سائیکلوں میں خوفناک تصادم، خاتون سمیت دو  زخمی

    اوچ شریف: دو موٹر سائیکلوں میں خوفناک تصادم، خاتون سمیت دو زخمی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان)دو موٹر سائیکلوں میں خوفناک تصادم، خاتون سمیت دو زخمی

    تفصیل کے مطابق تحصیل احمد پور شرقیہ کے علاقے کوٹلہ موسیٰ خان اڈہ میں دو موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق دو موٹر سائیکلیں تیز رفتاری کے باعث آمنے سامنے سے ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 50 سالہ رحیم بخش ولد جند وڈا اور 40 سالہ حسینہ مائی زوجہ اللہ یار شدید زخمی ہوگئے۔ دونوں زخمیوں کو سر پر گہرے زخم آئے، جن سے کافی خون بہہ رہا تھا۔ ریسکیو عملے نے موقع پر پہنچ کر فوری طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں انہیں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔

  • اوچ شریف:علی پور روڈ پر موٹرسائیکل سوار کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر شدید زخمی

    اوچ شریف:علی پور روڈ پر موٹرسائیکل سوار کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر شدید زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان ) علی پور روڈ لائن والی پلی نلکا اڈہ کے قریب ایک تیز رفتار موٹرسائیکل سوار کھڑی ہوئی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔

    حادثے میں متاثرہ شخص کی شناخت 55 سالہ عبدالمالک ولد اللہ بخش کے طور پر ہوئی جو موضع پتی خیارہ کا رہائشی ہے۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ عبدالمالک کی بائیں ران کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ سر پر گہرا زخم آیا، جس کے باعث وہ شدید زخمی حالت میں بے ہوش ہوگیا۔

    مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کردیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علی پور روڈ پر اکثر حادثات پیش آتے ہیں، جن کی بڑی وجہ سڑکوں پر کھڑی بھاری گاڑیاں اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہے۔ عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سڑک پر کھڑی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے۔