Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور

    ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور

    ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور
    تحریر:ملک ظفراقبال
    اوکاڑہ ایک گنجان آباد شہر ہے۔ اوکاڑہ کے گردونواح میں سینکڑوں دیہات ہیں۔ اوکاڑہ پہلے لاہور ڈویژن کا حصہ تھا اور اب ساہیوال ڈویژن میں شامل ہے۔ اوکاڑہ کی سرزمین کئی وجوہات کی بنا پر توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اوکاڑہ کی سرزمین کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تعلیم ہو یا سیاسی میدان، زراعت ہو یا کھیل کا میدان، اوکاڑہ کا ہمیشہ پنجاب میں نمایاں مقام رہا ہے۔

    اگر بات مزدور کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تو شاید اوکاڑہ ڈسٹرکٹ اس میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے مزدوروں کے بچے احساس کمتری کا شکار ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ویلفیئر سکول کا نہ ہونا ہے۔ ویلفیئر سکول خاص طور پر انڈسٹری میں کام کرنے والے ورکروں کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ورکروں کے بچوں کو مفت تعلیم اور دوسری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    اوکاڑہ میں ویلفیئر سکول نہ ہونا ورکروں کے لیے ذہنی اضطراب کا سبب بنا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس سلسلے میں کئی بار حکامِ بالا کو بذریعہ خط و کتابت آگاہ کیا جا چکا ہے اور اوکاڑہ کے سیاستدانوں اور انتظامیہ کو بھی مطلع کیا گیا ہے مگر آج بھی ورکر ویلفیئر سکول کا وجود اوکاڑہ میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ورکر ویلفیئر بورڈ کے چیئرمین کو بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔

    اوکاڑہ کے ورکروں کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد دوسری سکیموں کی طرح ورکر ویلفیئر سکول کا افتتاح کیا جائے تاکہ ورکروں کے بچوں کو احساسِ محرومی سے بچایا جا سکے۔ ورکر ویلفیئر سکولز ان خاندانوں کے بچوں کے لیے ضروری ہیں جو مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ یہ سکول نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو وہ سہولیات بھی مہیا کرتے ہیں جو عام سرکاری یا نجی سکولوں میں مہنگی ہونے کی وجہ سے مزدوروں کے بچوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔

    ورکر ویلفیئر سکول کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ کچھ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سکول مزدوروں کے بچوں کو جدید اور معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بھی دوسرے بچوں کے برابر ترقی کر سکیں۔
    ان سکولوں میں فری تعلیم، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات دی جاتی ہیں تاکہ کم آمدنی والے والدین کا تعلیمی بوجھ کم ہو۔
    کئی ورکر ویلفیئر سکولز میں تکنیکی اور فنی تعلیم (vocational training) بھی دی جاتی ہے تاکہ طلبہ مستقبل میں ہنر سیکھ کر خود کفیل بن سکیں۔
    یہ سکول مزدوروں کے بچوں کو وہی مواقع فراہم کرتے ہیں جو دیگر اعلیٰ طبقے کے بچوں کو میسر ہوتے ہیں، جس سے معاشرتی ناہمواری کم ہوتی ہے۔
    کئی ورکر ویلفیئر سکولز میں میڈیکل چیک اپ، کھیل کود، اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو۔
    یہ سکول دراصل مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہیں، کیونکہ تعلیم یافتہ نسل مستقبل میں اپنے والدین کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کر سکتی ہے۔

    اوکاڑہ کے مزدور والدین کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ اوکاڑہ میں ورکر ویلفیئر سکول کا قیام عمل میں لایا جائے۔

    ورکر ویلفیئر سکول ایک معاشرتی اور تعلیمی ضرورت ہیں جو مزدور طبقے کے بچوں کو روشن مستقبل کی امید فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اور نجی اداروں کو مل کر ان سکولوں کی تعداد بڑھانی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔

  • موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے نہ کوئی فرد بچ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم، ہر مذہب میں موت کے بعد کے مراحل اور آخری رسومات کا ایک خاص طریقہ رائج ہے۔ اسلام میں میت کو دفنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہندو مت میں جلانے کی رسم کو مقدس مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو ہندو مت میں مردہ سوزی کا عمل ایک بھیانک اور تکلیف دہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ خاص طور پر بنارس کے مانیکرنیکا گھاٹ پر ہونے والے مناظر انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

    اسلام نے تدفین کو نہ صرف ایک فطری عمل قرار دیا بلکہ اسے انسانی عظمت اور پاکیزگی کے عین مطابق بھی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ہابیل اور قابیل کے واقعے میں اللہ تعالی نے تدفین کی ہدایت کو واضح فرمایا، "پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے”(سور المائدہ 31)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی لاش کو مٹی میں دفنانا ایک الہی حکم اور فطری طریقہ ہے۔

    میت کو دفنانے کے کئی فوائد اور حکمتیں ہیں، سب سے پہلے یہ طریقہ پاکیزگی اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ میت کو غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے اور انتہائی احترام کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔ دوسرے تدفین ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے عین مطابق ہے کیونکہ دفنانے سے زمین میں میت کے اجزا تحلیل ہو جاتے ہیں اور فطرت میں کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ مزید برآں قبر کی زندگی برزخ کی ایک شکل ہے، جہاں میت کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بارہا ذکر ہے کہ"اسی(زمین)سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے”( سور طہ 55)۔

    ہندو مت میں میت کو جلانے کی رسم صدیوں سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آگ میں جلنے سے روح مکتی (نجات) پا لیتی ہے اور گنگا میں راکھ بہانے سے پاپ دُھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر بنارس کا مانیکرنیکا گھاٹ ہندوؤں کے نزدیک انتہائی مقدس مقام ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں لاشیں جلائی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمشان گھاٹ پر روزانہ جلی ہوئی لاشوں کا دھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ لکڑی کی کمی کے باعث اکثر لاشیں مکمل طور پر نہیں جل پاتیں اور انہیں گنگا میں بہا دیا جاتا ہے۔ گنگا میں نہانے اور اس کا پانی پینے والے یہی نہیں جانتے کہ وہ پانی انسانی راکھ اور نجاست سے بھرا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی نجات صرف اللہ کی رضا اور اعمال صالحہ میں مضمر ہے نہ کہ کسی مخصوص مقام پر جلنے میں۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایاکہ"اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت د ی”(سورة الاسرا ،70)، یہ آیت انسان کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں ہر عمل انسانی شرف اور عزت کے مطابق ہوتا ہے۔ تدفین کا طریقہ اسلامی پاکیزگی، سادگی اور عزت نفس کے اصولوں پر مبنی ہے جبکہ جلانے کا عمل انسانی وقار کے برعکس اور وحشت ناک تصور ہے۔

    رات کے وقت بنارس کے شمشان گھاٹ کا منظر اور بھی زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ جلتی ہوئی چتائیں، ہر طرف دھواں، راکھ میں لپٹے انسانی سائے، بانسوں سے کھوپڑیوں کو توڑنے کی آوازیں اور گنگا میں بہتی ہوئی ادھ جلی لاشیں اور گنگا کنارے ان لاشوں کو بھنبھوڑ کتے اور دوسرے جانور،جہاں وحشت ہی وحشت ہو۔ کیا یہی وہ مقدس جگہ ہے جہاں مکتی حاصل ہوتی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جگہ زمین پر جہنم کے ایک منظر سے کم نہیں۔

    اسلام میں تدفین کا نظام اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے جو انسانی شرف اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ جبکہ ہندو مت میں چتا پر جلانے کا عمل نہ صرف بے رحمانہ ہے بلکہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہر عقل مند شخص اگر تدبر کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ قبر سکون، رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے جبکہ آگ اور راکھ کی دنیا عذاب اور بے سکونی کی علامت ہے۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایاکہ "بے شک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی.” (سور ةالکہف 29)۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ چتا کی یہ آگ اسی عذاب کی ایک جھلک ہو؟ ایک ایسی آگ جس میں ایک انسان کو جلتے ہوئے راکھ میں بدل دیا جاتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو لوگ دنیا میں اپنے پیاروں کو آگ میں جھونکنے کو مقدس سمجھتے ہیں، وہی آخرت میں بھی ایسی ہی آگ کے مستحق ٹھہریں؟

    ذرا سوچئے اور ان سوالات کا جواب دیجئے کہ موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟ کیا عزت و وقار کے ساتھ زمین کی آغوش میں سپرد کرنا زیادہ مناسب نہیں یا پھر جلتی چتا کی نذر کر دینا؟ کیا پاکیزگی اور سکون کی راہ افضل نہیں یا پھر آگ اور دھوئیں کی ہولناکی؟ فیصلہ عقل اور فطرت کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ انسان کا شرف اور آخری منزل ایک مقدس حقیقت ہے جس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔

  • پنجاب ہائر ایجوکیشن میں سیاسی تعیناتیاں، کالجز انتظامی بحران کا شکار

    پنجاب ہائر ایجوکیشن میں سیاسی تعیناتیاں، کالجز انتظامی بحران کا شکار

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے حالیہ دنوں میں کیے گئے انتظامی فیصلوں پر تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی تعیناتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے باعث تعلیمی اداروں کے انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ضلع ننکانہ صاحب میں مستقل ڈپٹی ڈائریکٹر کی عدم تعیناتی سے نو بوائز اور گرلز کالجز شدید مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 نومبر 2023 کے بعد سے ننکانہ صاحب میں کوئی بھی مستقل ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بجٹ کی منظوری، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تعیناتی اور دیگر بنیادی تعلیمی معاملات میں پرنسپلز کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی فیصلوں میں شفافیت کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایک انتہائی اہم عہدہ ہے جو کالجز کی بہتری اور تعلیمی معیار بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا اس پر سیاسی وابستگی کے بجائے میرٹ پر تعیناتی ہونی چاہیے۔

    کالجز کے پرنسپلز، اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ مستقل ڈپٹی ڈائریکٹر کی غیر موجودگی میں تعلیمی ادارے شدید مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق، اگر مسئلے کا جلد از جلد حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ طلبہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ انتظامی خلل کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ بھی احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔

    تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور طلبہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ننکانہ صاحب میں جلد از جلد ایک مستقل، قابل اور غیر جانبدار ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کیا جائے تاکہ تعلیمی ادارے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں۔ مزید برآں، ماہرین نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دینے کی بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر تعلیمی معیار اور میرٹ کو ترجیح دے۔

    اگر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کا سلسلہ بند نہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف تعلیمی معیار پر منفی اثر ڈالیں گے بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے بھی مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پنجاب بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    اسلام آباد(باغی ٹی وی )اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پانچ ججز کی ریپریزنٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے سینیارٹی لسٹ میں کی گئی تبدیلی کو برقرار رکھا۔

    فیصلے کے مطابق، صوبائی ہائیکورٹس سے ٹرانسفر ہونے والے ججز کو نئے حلف کی ضرورت نہیں، جبکہ جسٹس سرفراز ڈوگر بدستور سینئر پیونی جج رہیں گے۔

    ریپریزنٹیشن دائر کرنے والے ججز—جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، اور جسٹس ثمن رفعت کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ججز کی تقرری اور ٹرانسفر دو مختلف معاملات ہیں اور ٹرانسفر کی صورت میں سینیارٹی نئے سرے سے شمار نہیں ہوگی۔

    یاد رہے کہ دیگر ہائیکورٹس سے تین ججز کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر کے بعد سینیارٹی لسٹ میں رد و بدل کیا گیا تھا، جس کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی دوسرے نمبر پر چلے گئے جبکہ دیگر ججز کی پوزیشن بھی تبدیل ہوئی۔

  • میرپورخاص: غیر قانونی ٹول ٹیکس کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کا احتجاج

    میرپورخاص: غیر قانونی ٹول ٹیکس کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کا احتجاج

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میرپورخاص ڈویژن کے صدر افتاب حسین قریشی اور سندھ کے نائب صدر ملک راجا عبدالحق نے عمرکوٹ روڈ پر بچہ بند کے قریب غیر قانونی ٹول ٹیکس کے خلاف سول سوسائٹی اور مقامی مکینوں کے احتجاج میں شرکت کی۔

    مظاہرین نے غیر قانونی ٹول ٹیکس کو عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ غیر قانونی وصولی عوام کے ساتھ زیادتی ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ پارٹی عوامی حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی، اور اگر ٹیکس فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو مزید سخت احتجاج کیا جائے گا۔

    احتجاج میں شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

  • ٹھٹھہ پولیس کی بڑی کارروائی، گٹکا سپلائی ناکام، چار ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ پولیس کی بڑی کارروائی، گٹکا سپلائی ناکام، چار ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں) پولیس کی بڑی کارروائی، گٹکا سپلائی ناکام، چار ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ پولیس نے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک بڑی کارروائی میں چار گٹکا سپلائرز کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 500 کلو گٹکا مٹیریل، 900 پیکٹ گٹکا ماوا اور دو سوزوکی پک اپس برآمد کرلیں۔

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات پر ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی نگرانی میں ٹھٹھہ پولیس منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ اسی تسلسل میں ایس ایچ او گاڑہو سب انسپکٹر منیر احمد ہیکڑو نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دانداری لنک روڈ پر گشت کے دوران کامیاب کارروائی کی۔

    پولیس نے گٹکا مٹیریل سپلائی کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے چار ملزمان مقصود ولد علی مراد لاکھو، ریاض احمد ولد جمن لاکھو، خادم حسین ولد علی محمد لاکھو اور فاروق ولد عبد الستار لاکھو کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے زیرِ استعمال دو سوزوکی پک اپس کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

    ملزمان کے خلاف تھانہ گاڑہو میں گٹکا ایکٹ کے تحت الگ الگ مقدمات درج کرلیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ٹھٹھہ کو جرائم سے پاک کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: انسداد پولیو مہم کے دوران 7.92 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی

    سیالکوٹ: انسداد پولیو مہم کے دوران 7.92 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے بتایا کہ پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران ضلع سیالکوٹ میں 7 لاکھ 92 ہزار 446 بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے گئے۔

    مہم کے دوران 2276 موبائل ٹیموں نے 5 لاکھ 51 ہزار 36 بچوں کو گھروں میں، 1 لاکھ 557 کو اسکولوں میں اور 12 ہزار 173 بچوں کو ویکسین دی۔ مزید برآں، 133 فکسڈ ٹیموں نے اسپتالوں اور صحت مراکز میں 6 ہزار 445 بچوں کو کور کیا، جبکہ 69 ٹرانزٹ ٹیموں نے 13 ہزار 246 بچوں کو ویکسین دی۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق، دیگر اضلاع اور صوبوں سے آئے 54 ہزار 19 بچوں کو بھی ویکسین دی گئی، جبکہ 5 ہزار 623 بچے مختلف وجوہات کی بنا پر کور نہ ہو سکے، جن کا مکمل ڈیٹا محفوظ کر لیا گیا ہے اور آئندہ مہم میں انہیں ترجیحی بنیادوں پر کور کیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انسداد پولیو مہم کامیاب رہی اور دورانِ مہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس مہم میں محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

  • میرپورخاص: طلبہ یونین کی بحالی کے لیے طلبہ اتحاد کا احتجاجی مظاہرہ

    میرپورخاص: طلبہ یونین کی بحالی کے لیے طلبہ اتحاد کا احتجاجی مظاہرہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ): ملک بھر میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کے حق میں طلبہ اتحاد نے ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔

    سرمد لغاری، واجد لغاری، کامریڈ پرشوتم داس اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 فروری 1984 کو ایک آمر نے طلبہ یونین پر پابندی عائد کی، جس کے منفی اثرات آج بھی سیاست اور تعلیمی اداروں پر نمایاں ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونین کی بحالی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی تاکہ طلبہ کو اپنی نمائندگی کا حق مل سکے۔

    "طلبہ یونین کی غیر موجودگی سے سیاست جاگیرداروں کے قبضے میں چلی گئی”
    مقررین کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین پر پابندی سے سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور جاگیردار و سرمایہ دار طبقے نے اس پر قبضہ جما لیا۔ انہوں نے طلبہ یونین کو "حقیقی عوامی قیادت کی نرسری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ طلبہ کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

    "اجتماعات پر پابندی آئینی حقوق کی خلاف ورزی”
    مقررین نے تعلیمی اداروں میں طلبہ اجتماعات پر پابندی کو آئین کے آرٹیکل 17 اور آزادیٔ اظہارِ رائے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین کو فوری بحال کیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں جمہوری روایات کو فروغ ملے اور نوجوان نسل کو قیادت کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

  • میرپورخاص: دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے خلاف قومی عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی

    میرپورخاص: دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے خلاف قومی عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ): وفاقی حکومت کی جانب سے دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکالنے، ایگریکلچر انکم ٹیکس کے نفاذ اور سندھ کی زمینوں کو کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر تقسیم کرنے کے خلاف قومی عوامی تحریک نے بھرپور احتجاج کیا۔

    مرکزی صدر ایاز لطیف پلیجو، مرکزی نائب صدر کرڑ رباری، جنرل سیکریٹری مظہر راہوجو، سینئر رہنما منظور احمد رضی اور دیگر قائدین کی قیادت میں اسٹیشن چوک سے مقامی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں آبادگاروں، کسانوں، تاجروں، وکلاء اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

    احتجاجی ریلی کے شرکاء نے شدید نعرے بازی کی۔ مقررین نے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت اور آصف علی زرداری دریائے سندھ کے پانی کو فروخت کر رہے ہیں، جبکہ حکومت پنجاب اسے خرید رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف کسانوں اور آبادگاروں کا نہیں بلکہ پورے سندھ کی معیشت کا مسئلہ ہے۔

    قومی عوامی تحریک کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر دریائے سندھ سے نئے کینال نکالے گئے تو سندھ کی زراعت، شوگر ملز، کاٹن فیکٹریاں، آئل ملز اور زرعی صنعتیں تباہ ہو جائیں گی، جس سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کالاباغ ڈیم کے ذریعے سندھ پر حملے کی کوشش کی گئی، اب نئے کینال کے ذریعے سندھ کے مستقبل کو تباہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔

    مقررین نے کہا کہ زرعی ٹیکس کسانوں پر ظلم کے مترادف ہے اور سندھ کی زمینوں کی بندر بانٹ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

    ریلی میں سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر زینت سموں، جنرل سیکریٹری نصرت خاصخیلی، کامریڈ رازو مل کولہی، انور نوحانی سمیت سینکڑوں افراد شریک تھے، جنہوں نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی کی۔

  • بابا گرو نانک یونیورسٹی میں سالانہ اسپورٹس گالا کی رنگا رنگ تقریب

    بابا گرو نانک یونیورسٹی میں سالانہ اسپورٹس گالا کی رنگا رنگ تقریب

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بابا گرو نانک یونیورسٹی میں سالانہ اسپورٹس گالا کا شاندار آغاز ہوگیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ممبرانِ صوبائی اسمبلی آغا علی حیدر اور خان بہادر ڈوگر تھے، جبکہ صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر محمد افضل نے کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔ اس کے بعد طلبہ نے شاندار مارچ پاسٹ، بھنگڑا اور ثقافتی پرفارمنسز پیش کیں۔

    اسپورٹس گالا میں طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کھیلوں کو نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد افضل نے کہا کہ ایسے مقابلے ٹیم ورک اور اسپورٹس مین شپ کو فروغ دیتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "جب کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو ہسپتال ویران ہوں گے۔”