Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان:آرٹ کونسل میں سرائیکی ثقافتی میلے کا شاندار افتتاح

    ڈیرہ غازی خان:آرٹ کونسل میں سرائیکی ثقافتی میلے کا شاندار افتتاح

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر ) ڈیرہ غازی خان آرٹس کونسل میں سرائیکی ثقافتی میلے کا شاندار افتتاح کیا گیا۔ میلے میں سرائیکی اجرکوں اور سرائیکی جھمر نے چار چاند لگا دئیے۔ سرائیکی ثقافتی اور کتابوں کے سٹالز بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

    افتتاح کے موقع پر ڈائریکٹر آرٹس کونسل نعیم اللہ طفیل، ڈائریکٹر تعلقات عامہ محمد شہزاد، سرائیکی رہنما منظور خان دریشک اور سرائیکی میلے کے چیف آرگنائزر ظہور دھریجہ موجود تھے۔ انہوں نے ربن کاٹ کر میلے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

    آرگنائزر ظہور دھریجہ نے کہا کہ وسیب کی شناخت کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب وسیب کے لوگ اپنا صوبہ اور اپنے حقوق حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں بعد وسیب کے لوگوں نے اپنی زبان و ثقافت کو پھر سے زندہ کر کے امن عالم کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

    ڈائریکٹر آرٹس کونسل نعیم اللہ طفیل نے کہا کہ سرائیکی ثقافت دنیا کی بہترین ثقافت ہے۔ انہوں نے ظہور دھریجہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ڈی جی خان آرٹس کونسل کے اشتراک سے بہترین اور یادگار پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔

    ڈائریکٹر تعلقات عامہ محمد شہزاد نے کہا کہ سرائیکی ثقافت کی ترقی کے لیے وسیب کے فنکاروں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ظہور دھریجہ اور ان کے ادارے کی خدمات کو سراہا۔

    اس موقع پر سرائیکی رہنما حضور بخش گلفاد، ڈاکٹر ارشاد احمد ناصر، مرتضیٰ موہانہ، خلیل خان چنگوانی، حاجی غلام فرید کنیرہ، ملک سلیم، عاشق صدقانی، رضوانہ تبسم درانی، ثوبیہ ملک، محمد اختر خان چنال، جعفر حسین جعفری، حسنین عباس، ریاض خان، انعام اللہ، آصف دھریجہ، سہیل صدیقی، واحد بخش خان گبول، عبدالخالق دھریجہ، حنیف خان گبول، ڈاکٹر شہزاد گھلو، یوسف خان گبول، سید عامر مشہدی، ڈاکٹر سکندر کھکھل، حاجی نذیر جھلن، سانول خان بلوچ، شان دھریجہ، ملک زبیر وینس، داؤد خان المانی، ولید خان المانی، حسان خان المانی سمیت وسیب سے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

  • حافظ آباد: ڈپٹی کمشنر کا شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ، صفائی کے ناقص انتظامات پر برہمی

    حافظ آباد: ڈپٹی کمشنر کا شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ، صفائی کے ناقص انتظامات پر برہمی

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی(خبرنگار) ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ سی ای او ایم سی اکرام اللہ سندھو اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے ٹیچر کالونی، بجلی محلہ، چوک صدیق اکبر، شیر پورہ، ریلوے لائن اور دیگر علاقوں میں صفائی کی صورتحال کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہر کے تمام گلی محلوں میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے سیوریج نالوں اور نشیبی علاقوں میں کھڑے پانی کی فوری نکاسی کا حکم دیتے ہوئے صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا عندیہ دیا۔

    دورے کے دوران شہریوں سے فیڈ بیک بھی لیا گیا، جنہوں نے صفائی مہم اور تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ شہر کی تمام سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں صفائی کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے گا اور ستھرا پنجاب پروگرام میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر

    ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر

    ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق جنوری کے مہینے میں ملک بھر میں صحت کی سہولتوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا،ایک ماہ کے دوران میڈیکل ٹیسٹ کی فیسوں میں 5.36 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 15.16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کلینک، ڈینٹل سروسز، ہسپتالوں اور ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے عام عوام کے لیے صحت کی سہولتوں تک رسائی مزید مشکل بنا دی ہے۔ جنوری میں کلینک کی قیمتوں میں 4.28 فیصد، ڈینٹل سروسز میں 2.22 فیصد اورہسپتالوں میں 0.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ادویات کی قیمتوں میں 0.52 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے صحت کے شعبے میں ایک نئی مہنگائی کی لہر پیدا کی ہے جو عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔

    صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن پاکستان میں یہ حق عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ شہریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی میں جو رکاوٹیں ہیں وہ نہ صرف سماجی بلکہ اقتصادی اور سیاسی عوامل کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں صحت کا نظام ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جہاں ایک طرف سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار ہے تو دوسری طرف نجی ہسپتالوں میں علاج معالجہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    ڈاکٹروں کی ہوس زر میں مبتلا ہونے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب مریض ڈاکٹر سے اپنی بیماری کا چیک اپ کرانے جاتا ہے تو سب سے پہلے باہر کاؤنٹر پر فیس کے نام پر مریض سے بھاری رقم ہتھیائی جاتی ہے، اس پربس نہیں ہوجاتی بلکہ یہاں سے مریض جو کہ پہلے ہی بیماریوں کی وجہ سے بہت تنگ ہوتا ہے جب ڈاکٹرز کے کیبن میں پہنچتا ہے تو ڈاکٹر اسے تسلی دینے کی بجائے اسے ڈراتا ہے اور ڈاکٹر کا یہیں سے ڈر کا بزنس شروع ہوتا ہے اور مریض سے کہتا ہے میرے خیال میں آپ کی بیماری خطرناک سٹیج پر پہنچی ہوئی ہے، آپ کو لیبارٹری ٹیسٹ کرانے ہوں گے، ساتھ میں الٹراساؤنڈ اور ایکسرے بھی ضروری ہیں، کاؤنٹر پر لڑکا آپ کو سمجھا دے گا ،یہ تمام ٹیسٹ کراکر آئیں پھر دوائی لکھوں گا۔

    جب مریض کے لواحقین کاؤنٹر پر لڑکے کے پاس جاتے ہیں تو لڑکا کہتا ہے کہ یہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ آپ نے فلاں لیبارٹری سے کرانے ہیں، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے فلاں سے کراکر لائیں اوراگر کوئی مریض دوسری لیبارٹری، الٹراسونوگرافکس، ایکسرے کے بارے میں کہتا ہے ہمارے اپنے جاننے والے ہیں ہم ان سے کراکر لاتے ہیں تو فوری طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کی رپورٹ ٹھیک نہیں ہوتی اور ڈاکٹر صاحب وہ رپورٹ نہیں مانیں گے لہذا آپ کو جہاں کا کہا گیا ہے صرف وہاں سے تمام ٹیسٹ کراکر لاؤ۔

    جب تمام رپورٹس آجاتی ہیں پھر دوائی لکھی جاتی ہے، دوائی بھی وہ لکھی جاتی ہے جو صرف ان کی کلینک یا ہسپتال کی اٹیچ فارمیسی سے ہی ملتی ہے، شہر کے بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر ڈاکٹر کے نسخے پر لکھی ہوئی ادویات نہیں مل پاتیں کیونکہ ڈاکٹر نے وہ کٹ ریٹ میڈیسن کمپنیوں سے اپنے برانڈ نیم بنوا کر پیک کرائی ہوئی ہوتی ہیں ،جن پر اپنی مرضی کی بھاری قیمت لکھوائی جاتی ہے۔ جس لیبارٹری ،الٹراساؤنڈ یا ایکسرے سنٹر سے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں وہاں سے ڈاکٹر 50فیصدکمیشن لیتا ہے اور اس لیبارٹری کی رپورٹ بھی ٹھیک ہوتی ہے جو ڈاکٹر کو بھاری کمیشن نہ دیں ان کی رپورٹ غلط قرار دے دی جاتی ہیں۔

    اگر ایک متوسط اور غریب طبقے کے فرد کی بات کی جائے تو اسے صحت کی بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں کا حال دیکھ لیں، جہاں مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے لیکن ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور عملے کی تعداد اس کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے، ایک عام شہری جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے لیکن وہاں اسے لمبی قطاروں اور طبی عملے کی عدم موجودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹرز یا تو چھٹی پر ہوتے ہیں یا پھر ان کے آنے کاکوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال مریض کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوتی ہے۔

    دوسری طرف نجی ہسپتالوں کا منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ یہ ہسپتال جدید مشینری اور بہترین سہولتوں سے لیس ہوتے ہیں لیکن ان کی فیسیں عام شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ شہری جو معاشی طور پر مستحکم نہیں ہیں، اپنے علاج کے لیے کہاں جائیں اور کیا کریں؟ انہیں کیا مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔
    پاکستان میں صحت کی سہولتوں تک رسائی کا ایک اور سنگین پہلو دیہی علاقوں کی حالت زار ہے۔ شہر میں رہنے والے لوگ شاید اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ دیہاتوں میں صحت کی سہولتیں کتنی ناقص ہیں۔ ان علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کی کمی، ڈاکٹرز کی عدم موجودگی اور سہولتوں کا فقدان ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو اپنے علاج کے لیے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات وہ اپنی بیماری کی سنگینی کو سمجھنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ حکومت نے صحت کی سہولتوں کے نام پر جو منصوبے بنائے تھے، وہ کہاں تک پہنچے؟ اگرچہ حکومت کی طرف سے ہر سال صحت کے شعبے میں بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ یا تو بدعنوانی کی نذر ہوجاتا ہے یا پھر ان منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے جو عام آدمی کی رسائی میں نہیں ہوتے۔پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک اور اہم مسئلہ ادویات کی عدم دستیابی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کا وعدہ تو کیا جاتا ہے لیکن مریضوں کو اکثر اوقات باہر سے مہنگی دوائیں خریدنی پڑتی ہیں۔ فارمیسیز میں ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے دوا خریدنا تقریباََ ناممکن ہوچکاہے۔ اس صورتحال میں لوگ عطائی ڈاکٹروں اور جعلی حکیموں کا سہارا لیتے ہیں جو ان کی بیماری کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔

    حکومت نے مختلف ادوار میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے ہیں۔ صحت کارڈ جیسے پروگرامز متعارف کروائے گئے تھے، جن کا مقصد یہ تھا کہ ہر شخص کو معیاری صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان پروگرامز کا فائدہ صرف چند فیصد افراد تک پہنچ سکا۔ وہ لوگ جو ان پروگرامز سے مستفید ہو سکتے ہیں ان تک معلومات ہی نہیں پہنچ پاتیں اور جن کے پاس کارڈ موجود ہوتا ہے، انہیں مطلوبہ علاج نہیں ملتا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا صحت کا نظام ایک کھوکھلی عمارت کی طرح لگتا ہے، جس کی بنیادیں کمزور ہیں اور جسے کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ عوام کا اعتماد سرکاری ہسپتالوں پر سے ختم ہو چکا ہے اور نجی ہسپتالوں میں جانے کی استطاعت صرف اشرافیہ کو حاصل ہے۔ اس ستم ظریفی کا شکار وہ عام شہری ہوتا ہے جو اپنی بیماری کا علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتا۔

    بدقسمتی سے بیشتر ڈاکٹروں نے مسیحائی کے جذبے کو منافع خوری میں بدل دیا ہے۔ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج سے زیادہ کمائی کو ترجیح دی جانے لگی ہے اور مریضوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر اورفارما کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے مریضوں کو زائد اور غیر ضروری ادویات کے نسخے تجویز کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر پرائیویٹ میڈیسن کمپنیوں سے ڈیل کر کے لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ غریب عوام پر بہت بڑا ظلم ہو رہا ہے، جس میڈیسن کی ضرورت نہیں ہوتی وہ بھی مریض کو لکھ کر دے دیتے ہیں۔

    صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہمیں اپنے نظام کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔ دیہی علاقوں میں مراکز صحت کا قیام اور ان میں ضروری سہولتوں کی فراہمی لازمی ہے تاکہ دیہی عوام بھی معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہوسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا سخت نوٹس لے اور مسیحائی کے روپ میں چھپے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے ان ڈاکٹرز اور طبی اداروں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جائیں تاکہ غریب اور لاچار عوام کو ان سوٹڈ بوٹڈ ڈاکوئوں کی لوٹ مار سے بچایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں ایک مثبت قدم ثابت ہوں گے اور معاشرتی انصاف کے قیام کے لیے اہم سنگ میل ہوں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 3072 مواضعات میں سے 2794 کو آن لائن کردیا گیا

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 3072 مواضعات میں سے 2794 کو آن لائن کردیا گیا

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواداکبر) کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 3072 مواضعات میں سے 2794 کو آن لائن کردیا گیا ہے، جس سے ریونیو سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کی زیرِ صدارت اجلاس میں بتائی۔

    کمشنر نے مزید کہا کہ ڈویژن کی 16 تحصیلوں میں 26 پراپرٹیز کی نیلامی مکمل کرلی گئی ہے۔ سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے ریونیو افسران کو فیلڈ میں متحرک کر دیا گیا ہے، اور نادہندگان کی جائیداد قرق کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    رواں مالی سال کے دوران 582 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جس کے لیے حکومت پنجاب نے 39 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ معیاری مٹیریل کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔

  • یوم یکجہتی کشمیر باسکٹ بال سیریز,ضلع خیبر کی فتح

    یوم یکجہتی کشمیر باسکٹ بال سیریز,ضلع خیبر کی فتح

    پشاور (باغی ٹی وی) قیوم سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ یوم یکجہتی کشمیر باسکٹ بال سیریز کا فائنل ضلع خیبر نے پشاور فرینڈز کو 70-65 سے شکست دے کر جیت لیا۔

    ایڈیشنل سیکرٹری اسپورٹس پیر عبدﷲ شاہ مہمانِ خصوصی تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسپورٹس راہد گل ملاگوری، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر خیبر اعوان حسین سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

    تین میچوں پر مشتمل سیریز میں خیبر نے دو ایک سے کامیابی حاصل کی۔ پہلے میچ میں خیبر، دوسرے میں پشاور فاتح رہا، جبکہ فائنل خیبر کے نام رہا۔ افتتاح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس) خیبر گل نواز آفریدی نے کیا۔

    پیر عبدﷲ شاہ نے کھلاڑیوں سے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہر فورم پر کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسپورٹس کے فروغ اور کھلاڑیوں کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

  • اوچ شریف: ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر 5 سالہ بچہ جاں بحق

    اوچ شریف: ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر 5 سالہ بچہ جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے بیٹ احمد میں افسوسناک حادثہ، ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر 5 سالہ ریحان ولد شہباز جاں بحق ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق بچہ سڑک کنارے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک گنے سے لوڈ ٹریکٹر ٹرالی کے نیچے آ گیا اور شدید زخمی ہو گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور بچے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔جہاں بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا.

  • ڈیرہ غازی خان: سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ

    ڈیرہ غازی خان: سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے ڈیرہ غازی خان، سخی سرور اور فورٹ منرو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

    کمشنر آفس میں ہونے والے اجلاس میں ریونیو اہداف، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور پر بریفنگ لی گئی۔ اس موقع پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد، پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اسد چانڈیہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    ایس ایم بی آر نبیل جاوید نے حضرت سخی سرورؒ کے مزار پر حاضری دی، چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ درگاہ کی جانب سے ان کی دستار بندی بھی کی گئی۔

    فورٹ منرو میں انہوں نے تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے احکامات جاری کیے اور کمشنر آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں تکنیکی جدت لائی جائے اور مٹیریل کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اراضی کو زراعت، فش فارمنگ اور جھینگا فارمنگ کے لیے استعمال کیا جائے، جبکہ قبضہ مافیا سے محکمہ اوقاف اور دیگر سرکاری محکموں کی زمینیں فوری واگزار کرائی جائیں۔

    لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو ذاتی دلچسپی لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • پنڈی بھٹیاں: تھانہ سکھیکی پولیس کی بڑی کارروائی، چوری شدہ کار برآمد

    پنڈی بھٹیاں: تھانہ سکھیکی پولیس کی بڑی کارروائی، چوری شدہ کار برآمد

    حافظ آباد،باغی ٹی وی (خبرنگار)پنڈی بھٹیاں میں تھانہ سکھیکی پولیس کی بڑی کارروائی، چوری شدہ کار برآمد

    تفصیل کے مطابق پنڈی بھٹیاں میں تھانہ سکھیکی پولیس نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل چوری ہونے والی کار کو ہزارہ سے برآمد کر کے اصل مالک کے حوالے کر دیا۔

    ایس ایچ او ظہیر عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دن رات محنت کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا، جس سے برآمد شدہ گاڑی مالک کے سپرد کر دی گئی۔

    کار کی واپسی پر متاثرہ شہری نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

  • بارکھان:وڈیرہ میر خان نانڈھا انتقال کر گئے، لغاری کوٹ میں سپرد خاک

    بارکھان:وڈیرہ میر خان نانڈھا انتقال کر گئے، لغاری کوٹ میں سپرد خاک

    کوٹ چھٹہ،باغی ٹی وی (تحصیل رپورٹر) وڈیرہ میر خان نانڈھا گزشتہ روز انتقال کر گئے، ان کی نماز جنازہ لغاری کوٹ، ضلع بارکھان میں ادا کی گئی، جس میں سیاسی، سماجی، صحافتی اور کاروباری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    نماز جنازہ مینجی صدیق احمد نے پڑھائی جبکہ مرحوم کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ تدفین کوٹ لغاری قبرستان میں عمل میں آئی۔

    جنازے میں میر ایوب خان کهیتران، میر بلوچ خان کهیتران، ڈاکٹر مرید حسین تالپور، نواب خان، باز محمد خان، راجہ خان بلوچ سمیت دیگر معززین شریک ہوئے۔

    مرحوم کی فاتحہ خوانی سات دن تک بستی نانڈھا، لغاری کوٹ میں جاری رہے گی۔

  • لاہور: باپ بیٹی گینگ منشیات فروشی میں گرفتار، 11 کلو چرس برآمد

    لاہور: باپ بیٹی گینگ منشیات فروشی میں گرفتار، 11 کلو چرس برآمد

    لاہور (باغی ٹی وی) شیرا کوٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروشی میں ملوث باپ بیٹی گینگ کو گرفتار کر لیا، جن سے 11 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔

    پولیس کے مطابق ملزمان حیات اللہ اور اس کی بیٹی رومیشہ پشاور سے لاہور منشیات سپلائی کر رہے تھے۔ ناکا چیکنگ کے دوران مشکوک گاڑی کی تلاشی لی گئی تو بھاری مقدار میں چرس برآمد ہوئی۔

    ڈی ایس پی مبشر اعوان کی نگرانی میں کارروائی کے بعد ملزمان کو تھانہ شیرا کوٹ منتقل کر دیا گیا جبکہ منشیات قبضے میں لے لی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کامیابی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔