Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟

    ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟

    ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    ڈاکٹر من موہن سنگھ بھارت کے سابق وزیر اعظم، ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی دیانت داری، علمی قابلیت، اور ملک کے لیے بے شمار خدمات سے ہمیشہ کے لیے یاد گار چھوڑی۔ وہ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم تھے اور 2004 سے 2014 تک کے اپنے دس سالہ اقتدار کے دوران ملک کو اقتصادی ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے جسد خاکی کو نگم بودھ گھاٹ لے جایا گیا، جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ تاہم، ان کی آخری رسومات راج گھاٹ پر نہ ہونے کا فیصلہ ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے، جس پر اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے اسے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی بے توقیری قرار دیا ہے۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ ایک ماہر اقتصادیات تھے اور بھارت کی معیشت کے 1991 میں شروع ہونے والی اصلاحات کے معمار کے طور پر ان کا کردار اہم رہا۔ وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے عالمی سطح پر بھارت کے وقار میں اضافہ کیا اور داخلی طور پر متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔ ان کی سادگی، شرافت اور سیاسی استحکام کے لیے کام کرنے کا جذبہ انہیں بھارت کی سیاست میں ایک منفرد مقام فراہم کرتا ہے۔

    راج گھاٹ بھارت کا ایک تاریخی مقام ہے جہاں مہاتما گاندھی کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ یہ جگہ بھارت کے عظیم رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے اور یہاں جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور دیگر اہم شخصیات کی آخری رسومات بھی منعقد کی گئیں۔ اس مقام کی علامتی حیثیت اسے بھارت کی قومی یکجہتی اور عظیم رہنماؤں کی خدمات کی یادگار بنا دیتی ہے۔

    نگم بودھ گھاٹ دہلی کا ایک روایتی شمشان گھاٹ ہے جہاں عام طور پر آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ یہ مقام دہلی کے عوام کے لیے عام حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کی قومی سطح پر وہ علامتی حیثیت نہیں ہے جو راج گھاٹ کی ہے۔ یہاں عوام کو رسائی ہوتی ہے اور سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود اس میں راج گھاٹ کے مقابلے میں عوامی شمولیت زیادہ ہے۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ کی آخری رسومات کا نگم بودھ گھاٹ پر ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس فیصلے کو کچھ حلقوں نے سکھوں سے تعصب قرار دیا، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ تھا۔ راہل گاندھی نے اس فیصلے کو ڈاکٹر من موہن سنگھ کی بے توقیری قرار دیا اور کہا کہ ایک سابق وزیر اعظم کی خدمات کو نظر انداز کرنا بھارت کی روایات کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو انتظامی چیلنجز اور موجودہ حالات کے تناظر میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ راج گھاٹ پر انتظامات ممکن نہیں تھے، اس لیے نگم بودھ گھاٹ کا انتخاب کیا گیا۔

    اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل آیا ہے، اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ معاملہ صرف ایک شخصیت کی آخری رسومات کا نہیں، بلکہ اس کا تعلق بھارت کی سیاست، اخلاقیات اور قومی وقار سے بھی ہے۔ اگر قومی رہنماؤں کو ان کے مقام کے مطابق عزت نہ دی جائے، تو یہ بھارت کی جمہوریت کے لیے ایک خطرناک رجحان ہو سکتا ہے۔

    اس واقعے نے بھارت کی سیاست میں موجود تعصبات کو بے نقاب کیا ہے۔ کیا سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے رہنماؤں کو قومی مفاد کے بجائے جماعتی تعصب کی نظر سے دیکھتی ہیں؟ حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قومی رہنماؤں کو مساوی عزت دے، چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ راج گھاٹ جیسی روایات کا تحفظ قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے۔ اگر ان روایات کو توڑا جائے تو اس سے بھارت کے سماجی اور سیاسی تانے بانے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ کی آخری رسومات کا معاملہ ایک علامتی تنازعہ ہے، جو بھارت کی سیاست اور سماج میں موجود گہرے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ بھارت اپنی روایات اور اقدار کو دوبارہ زندہ کرے اور اپنے عظیم رہنماؤں کو ان کے شایان شان مقام دے۔ راج گھاٹ اور نگم بودھ گھاٹ کے فرق کو سمجھتے ہوئے، قومی رہنماؤں کو ان کی خدمات کے مطابق عزت دینا بھارت کی جمہوری اقدار کے لیے ناگزیر ہے۔

  • سال بدلے لیکن ہم نہ بدل سکے؟

    سال بدلے لیکن ہم نہ بدل سکے؟

    سال بدلے لیکن ہم نہ بدل سکے؟
    تحریر:فیصل رمضان اعوان

    جنوری کی کچھ صبحیں اور کچھ شامیں گزر چکی ہیں۔ سال نو 2025ء کا آغاز ہو چکا ہے۔ یکم جنوری کو بہت دیر تک نئے سال کی مبارکباد کے فون آتے رہے۔ لفظ "مبارک” چونکہ خیر کا لفظ ہے، طبیعت پر گراں نہیں گزرتا اور اچھا لگتا ہے۔ لیکن مسلسل دن بھر اس جشنِ بے ہودہ کو یاد کرواتے رہنا اور شہر میں رات بھر شرلیاں چھوڑنے اور چھچھورے پن سے ہمیں سخت نفرت اور چڑھ ہے۔ نئے آنے والے سال کا اس طرح بے ہودہ طریقے سے استقبال کرنا اور جشن منانا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بس یہی کہنا کافی ہے کہ اللہ آپ کی زندگی میں آنے والے نئے سال کو آپ کے لئے خیر و برکت اور عافیت کا سال بنائے۔ ہم تو نئے سال کو بس اتنا ہی اہم سمجھتے ہیں۔ نئے سال کے استقبال کا طریقہ ہی انوکھا ہے۔ ہم بھی نجانے کس معاشرے کے پیروکار بن بیٹھے ہیں۔ پٹاخے، آتشبازی، رنگ رلیاں، مہ نوشیاں، ہمارے کرنے کے کام نہیں تو ہم ایسا کیوں کر کریں؟ لیکن خیر، ہم جدید اور تیزترین ترقی کی شاہراہوں پر ہیں۔

    ہمارے گزرے ماہ و سال کیسے بیتے ہیں، ہم سب اس ستم کا شکار رہے۔ سیاسی ماحول پر ہم سے نہیں لکھا جاتا اور آج کل کا گرما گرم سیاسی ماحول تو ویسے بھی فل گرم ہے۔ ایسے میں ہمارے تخیل میں دھواں سا بھر جاتا ہے۔ ان حالات میں ہم تو کچھ لکھنے سے بھی گئے ہیں، لکھنے کی کیفیت اب بنتی ہی نہیں، تو کیسے لکھا جائے؟ آزادی رائے کا حق مکمل طور پر چھینا جا چکا ہے۔

    پیارے وطن کا معاشرہ بھی کچھ عجیب سا ہوگیا ہے۔ آپ کسی بھیڑ میں چلے جائیں، جاکر کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں، ان مایوس چہروں کو ہی پڑھ لیں، اتنا ہی کافی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دنیا بھر میں آنے والے مہلک وائرس کرونا نے تباہی مچائی۔ اس سے معاشی طور پر انتہائی مضبوط ممالک بھی متاثر ہوئے۔ سب سنبھل گئے اور بدقسمتی سے جس خطے میں ہمارا ٹھکانہ ہے، ہم آج تک نہ سنبھل سکے۔ تنکوں کی طرح بکھر کر رہ گئے۔ ہمارے ہاں اقتدار کے حصول کے لئے وہ شیطانی کھیل کھیلا جاتا ہے جسے عام آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ اور اس عام بے بس طبقے کو ایسے خوار کیا جاتا ہے کہ ان کا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    بجلی کے ظالمانہ بلوں کی بات کی جائے تو عام آدمی کی جان نکال دی گئی ہے۔ اتنی بے تحاشہ ناجائز دولت جمع کرکے بندر بانٹ کا شکار کی جارہی ہے۔ یہ بدترین ڈاکہ ڈال کر صرف اپنی جیبیں بھری جا رہی ہیں۔ اس ظلم کی وجہ سے صنعتیں بند ہو گئی ہیں، معاشی اعداد و شمار کو پڑھیں، آنکھیں کھل جائیں گی۔ عملی طور پر اس وقت ہم مافیا کے مکمل نرغے میں ہیں اور اس طاقتور مافیا کی سرپرستی بھی کمال سے کی جارہی ہے۔ بادشاہت کا کہنا ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے، ہمارے میڈیا کے کنٹرولڈ چینل بھی یہی بتا رہے ہیں، لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ رہی ہے۔ ہمارے لوگ تو ان اذیت ناک ماہ و سال سے گزر رہے ہیں، پھر کیسے جشن؟

    سال نو کے ایسے بے ہودہ استقبال سے بہتر ہے رہنے دیں، بس یونہی گزرتے جائیں، گزرے اور آنے والے سال کے قصوں کو چھوڑیں۔ وقت اتنی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے کہ اب تو خوف محسوس ہوتا ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ وقت کی دھول میں کھو جانے کا احساس مزید گہرا ہونے لگتا ہے۔ جو گزر گیا، وہ واپس نہیں آئے گا اور جو آنے والا ہے اس کی خبر نہیں، کیسے گزرے گا۔ رہنے دیں صاحبو، ہم ایسے جشن مناتے ہی نہیں۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہمارے کندھے جھکتے جا رہے ہیں، توانائیاں، طاقت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا ہم آنے والے ان اذیت ناک لمحات کو پر مسرت بنانے کا یہ طریقہ درست کہہ دیں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ زندہ رہے تو یہ ہوشیاریاں، یہ توانائیاں آنے والے سالوں میں ہمیں محتاج، کمزور، اور بیمار بنا دیں گی۔ یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا؟ سال نو کے یہ جشن، یہ خوشیاں ہمیں راس نہیں آئیں گی۔

    دعا ہے کہ نیا سال پوری قوم کے لیے خوشیوں کا باعث بنے، یہ گلشن مہکنے لگے اور ہم سب امن و سکون میں رہیں۔ یہ ملک امن کا گہوارا بن جائے۔ اللہ رب العزت اس ملک پر رحم فرمائے اور جینا آسان ہو جائے۔ یہ سال ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، لیکن نجانے ہمارے دن کیوں نہیں بدلتے؟ اب تو رہبر رہزن لگتے ہیں، مسیحا فرعون بن جاتے ہیں۔
    الٰہی تو کرم فرمائے
    خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

  • نیا سال 2025، آؤ محبتیں بانٹنے کا عہد کریں

    نیا سال 2025، آؤ محبتیں بانٹنے کا عہد کریں

    نیا سال 2025، آؤ محبتیں بانٹنے کا عہد کریں
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    سال 2025 کی آمد ایک نئی صبح، نئی امیدوں، اور نئے عزم کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی زندگی کی کتاب میں ایک نیا باب شروع کریں۔ میرے لیے یہ موقع ذاتی اور قومی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ میں اپنے دل کے جذبات کو لفظوں میں سمیٹتے ہوئے ان سب لوگوں کے لیے نیک تمنائیں پیش کرنا چاہتا ہوں جو میری زندگی کا حصہ ہیں اور جنہوں نے میری زندگی کو محبت، خلوص، اور خوشیوں سے بھر دیا ہے۔

    سب سے پہلے میں اپنی شریکِ حیات کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو میری زندگی کی بنیاد ہیں۔ وہ نہ صرف میری شریکِ حیات ہیں بلکہ میری بہترین دوست، میرے خوابوں کی ساتھی، اور میرے مشکل وقت کی طاقت ہیں۔ ان کی محبت اور خلوص نے مجھے وہ اعتماد دیا ہے جس کی بدولت میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ پایا ہوں۔

    میرے دل سے دعا ہے کہ اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے، صحت مند رکھے، اور ان کی زندگی میں ہر لمحہ خوشیوں کا گزر ہو۔ ان کی دعائیں میرے لیے ہر میدان میں کامیابی کی وجہ بنی ہیں۔ ان کی محبت کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا، لیکن نئے سال پر میرا عزم ہے کہ میں انہیں مزید خوشیاں دوں اور ان کے لیے اپنی محبت اور خلوص کو مزید مضبوط بناؤں۔

    میرے بچے میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ ان کے ہنستے چہرے اور معصوم باتیں میرے دل کو خوشی اور سکون عطا کرتی ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت، بہتر مستقبل، اور خوشحال زندگی میری اولین ترجیح ہے۔
    2025 میں میری دعا ہے کہ اللہ میرے بچوں کو علم، عقل، اور نیک اعمال کی دولت سے نوازے۔ میں ان کے لیے محبت، تربیت، اور بہترین مواقع فراہم کرنے کی کوشش جاری رکھوں گا تاکہ وہ ایک بہترین انسان بن سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔

    میرے والدین میری دعاؤں کا محور ہیں۔ ان کی قربانیوں اور محبت نے مجھے آج یہاں تک پہنچایا ہے۔ ان کی دعاؤں کے بغیر میرا کوئی قدم کامیاب نہیں ہو سکتا۔ میرے بہن بھائی بھی میری زندگی کی خوشیوں کا حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ میری زندگی کے خوبصورت ترین لمحات میں شامل ہے۔2025 میں میری دعا ہے کہ اللہ میرے والدین کو صحت اور سکون عطا کرے اور میرے بہن بھائیوں کو خوشیوں اور کامیابیوں سے نوازے۔ ان کے لیے میری محبت کبھی کم نہیں ہو سکتی اور میں ہمیشہ ان کے لیے دعاگو رہوں گا۔

    میرے دوست اور احباب میری زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میری زندگی کو رنگین اور خوشگوار بناتے ہیں۔ میں ان سب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہر موقع پر میرا ساتھ دیا، مجھے سمجھا، اور میرے دکھ سکھ کے ساتھی بنے۔
    2025 میں میری دعا ہے کہ میرے دوست اور رشتہ دار ہمیشہ خوشحال رہیں۔ ان کے لیے میری محبت اور خلوص کبھی کم نہیں ہوگا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہمارا تعلق مزید مضبوط ہوگا اور ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے۔

    ادب میری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، اور میرے ادبی ساتھی میری سوچ اور خیالات کو نکھارنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے ساتھ کی گئی گفتگو، تبادلہ خیال، اور ادبی نشستیں ہمیشہ مجھے تحریک دیتی ہیں۔میری دعا ہے کہ 2025 میں تمام ادبی ساتھی مزید کامیاب ہوں۔ ان کا قلم مزید طاقتور ہو، اور وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں کامیاب ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ادب کی دنیا میں نئی بلندیوں کو چھوئیں اور اپنے کام سے لوگوں کے دل جیتیں۔

    میرا ادارہ "پہچان پاکستان نیوز” اور "ورلڈ کالمسٹ کلب” میری زندگی کے اہم ستون ہیں۔ ان کے ذریعے میں نے اپنی آواز کو لوگوں تک پہنچانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع پایا۔ 2025 میں میری دعا ہے کہ یہ دونوں ادارے مزید ترقی کریں اور اپنی خدمات کے ذریعے ملک و قوم کے لیے بہترین کردار ادا کریں۔ میری نیک تمنائیں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو ان اداروں کا حصہ ہیں اور جو ان کی کامیابی کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔

    پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری جان ہے۔ اس وطن کی محبت ہمارے دلوں میں رچی بسی ہوئی ہے۔ یہ ملک ہمیں ہر طرح کی آزادی اور مواقع فراہم کرتا ہے، اور اس کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ ہے، ہماری آزادی کی ضامن ہے۔ ان کے بغیر ہم اپنی زندگی کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمارے لیے سکون اور تحفظ یقینی بناتے ہیں۔

    2025 میں میری دعا ہے کہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو۔ میں دعا کرتا ہوں کہ پاک فوج ہمیشہ مضبوط اور کامیاب رہے، اور ہمارے جوان اپنی عظیم قربانیوں کے بدلے میں عزت اور محبت کے حقدار بنیں۔

    نیا سال محبت، امید، اور خلوص کے جذبات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ عناصر ہیں جو زندگی کو خوبصورت اور کامیاب بناتے ہیں۔ محبت دلوں کو جوڑتی ہے، انسانیت کو قریب لاتی ہے، اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ امید زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے اور نئے خواب دیکھنے کی جرات پیدا کرتی ہے۔
    خلوص ہر عمل کو خوبصورت اور کامیاب بناتا ہے۔

    2025 میں ہمیں ان تین عناصر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے اردگرد محبت پھیلانی ہوگی، ایک دوسرے کے لیے امید کا باعث بننا ہوگا، اور اپنے اعمال میں خلوص کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سال 2025 کی آمد ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنانے، اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے، اور اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور اپنی زندگی کو محبت، امید، اور خلوص سے بھرپور بنائیں۔

    میری دعا ہے کہ نیا سال سب کے لیے خوشیوں، کامیابیوں، اور سکون کا سال ثابت ہو۔ اللہ سب کو صحت، خوشحالی، اور کامیابی عطا کرے اور ہمیں اپنے وطن پاکستان کی خدمت کا موقع فراہم کرے۔ آمین!
    آؤ ہم سب محبتیں بانٹنے کا عہد کریں۔۔۔!!

  • گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے جوڈیشل کمپلیکس پسرور کا افتتاح کیا

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے جوڈیشل کمپلیکس پسرور کا افتتاح کیا

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے جوڈیشل کمپلیکس پسرور کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور باقاعدہ طور پر جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کے بعد انصاف کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی کیونکہ معاشرے میں انصاف کا فقدان کسی بھی ترقی کے لئے رکاوٹ بنتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جب انصاف کا نظام ٹھیک ہو جائے گا، تو ساری چیزیں خود بخود ٹھیک ہو جائیں گی۔ گورنر پنجاب نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں سب نے مل کر چیزوں کو بہتر کرنا ہے، اور اس کے لئے پارلیمانی جماعتوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد 19 ویں ترمیم میں کمزوریاں پیدا کی گئیں، جس سے پارلیمانی پارٹیوں کی طاقت متاثر ہوئی۔

    گورنر نے وکلا برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وکلا کا معاشرے میں بہت اہم کردار ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح بھی ایک وکیل تھے جنہوں نے پاکستان کو تشکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کی برادری کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اور ہمیں مل کر پاکستان کو بہتری کی جانب لے کر جانا ہے۔

  • میرپورخاص:  مہنگائی کا طوفان، عوام کی چیخیں نکل گئیں، ضلعی انتظامیہ بے بس

    میرپورخاص: مہنگائی کا طوفان، عوام کی چیخیں نکل گئیں، ضلعی انتظامیہ بے بس

    میرپورخاص،باغی ٹی وی (نامہ نگارسیدشاہزیب شاہ کی رپورٹ) مہنگائی کے طوفان نے عوام کی چیخیں نکال دیں، ضلعی انتظامیہ بے بس

    تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں مہنگائی کا نیا طوفان نے شہر بھر میں عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ گوشت، سبزیاں، دالیں، گھی، تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں یکمشت اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو سخت متاثر کیا ہے اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

    میرپورخاص میں گوشت، سبزیوں، دالوں، گھی، تیل اور دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اچانک 80 سے 100 روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔ پیاز کی قیمت 150 روپے فی کلو، لہسن 680 روپے فی کلو، ادرک 480 روپے فی کلو اور ٹماٹر 180 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ اسی طرح مرغی کا گوشت بھی 660 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے، جس نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

    مصالحہ جات اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے، جس نے شہریوں کی زندگی مزید دشوار کر دی ہے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے، جس سے عوام میں شدید بے چینی اور احتجاج کا ماحول ہے۔

    میرپورخاص کی عوام حکومت سندھ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر قابو پائیں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق علی لغاری) باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا فوری نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے تھانہ سرحد میں مرتضیٰ کھوسو کے اغوا اور بہیمانہ تشدد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ "مرتضیٰ کھوسو اغوا، بہیمانہ تشدد، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مقدمہ درج نہ ہوسکا”۔ اس خبر کے بعد ڈی آئی جی سکھر نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔

    ایف آئی آر میں کاشف ملک، سحر آفتاب نائچ، سلامت کلوڑ، مختیاراں شیخ، نادر مگنھار اور تین نامعلوم افراد کو ملزمان قرار دیا گیا ہے۔ گل کالونی کے رہائشی اور بینک ملازم مرتضیٰ کھوسو کو چند دن قبل اغوا کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی اور آدھی زبان کاٹ دی گئی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ابھی تک زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سحر آفتاب نائچ جو ایک پرائیویٹ ڈاکٹر ہیں اور میرپور ماتھیلو میں اپنا ہسپتال چلاتی ہیں، نے مرتضیٰ سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ مرتضیٰ کے انکار کے بعد ملزمہ نے اسے سبق سکھانے کے لیے یہ سنگین اقدام کیا۔

    مرتضیٰ کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے مقدمہ درج نہ ہونے پر پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیاتھا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    میرپورماتھیلو: مرتضیٰ کھوسو اغوا، تشدد سے آنکھ ضائع، زبان کاٹ دی، مقدمہ درج نہ ہوا

    باغی ٹی وی کی خبر کے بعد ڈی آئی جی سکھر نے فوراً نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ عوام نے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    یہ واقعہ علاقے میں خوف و ہراس کا باعث بن چکا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور پولیس سے درخواست کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

  • اوچ شریف: تاریخی مزارات کی ناقص سیکیورٹی، شہریوں کی فوری اقدامات کی اپیل

    اوچ شریف: تاریخی مزارات کی ناقص سیکیورٹی، شہریوں کی فوری اقدامات کی اپیل

    اوچ شریف باغی ٹی وی( نامہ نگارحبیب خان) 500 سالہ قدیم تاریخی شہر اوچ شریف میں واقع مذہبی مزارات پر نصب واک تھرو گیٹس کی خرابی نے شہر کی سیکیورٹی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں زائرین اور مقامی شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔ اس خرابی نے اہم مذہبی مقامات کو دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بنا دیا ہے، جس کے باعث علاقے میں بدامنی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    اوچ شریف جو پاکستان کے تاریخی اور روحانی مزارات کا مرکز ہے ہر جمعہ اور مذہبی تعطیلات پر ہزاروں عقیدت مندوں کی آمد کا مرکز بنتا ہے۔ ان مزارات پر نصب واک تھرو گیٹس عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لگائے گئے تھے لیکن ان گیٹس کے غیر فعال ہونے سے شہریوں اور زائرین کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس صورتحال نے سیکیورٹی کے دیگر انتظامات پر بھی شکوک پیدا کر دیے ہیں اور علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    شہریوں نے حکومت اور مقامی انتظامیہ سے فوری طور پر مسئلے کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واک تھرو گیٹس کی فوری مرمت اور سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ عقیدت مند محفوظ ماحول میں زیارت کر سکیں۔

    مقامی افراد نے مزید زور دیا کہ مزارات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوچ شریف کی مذہبی اور تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

    شہریوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جو زائرین کو سکون اور تحفظ فراہم کریں اور اس تاریخی شہر کی ساکھ برقرار رہے۔

  • میرپورماتھیلو: مرتضیٰ کھوسو اغوا، تشدد سے آنکھ ضائع، زبان کاٹ دی، مقدمہ درج نہ ہوا

    میرپورماتھیلو: مرتضیٰ کھوسو اغوا، تشدد سے آنکھ ضائع، زبان کاٹ دی، مقدمہ درج نہ ہوا

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری): مرتضیٰ کھوسو اغوا، بہمانہ تشدد، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا،مقدمہ درج نہ ہوسکا

    تفصیل کے مطابق میرپورماتھیلوکی گل کالونی کے رہائشی مرتضی کہوسہ، جو بینک میں کام کرتے تھے، چند دن قبل ایک بااثر شخص کے ہاتھوں اغوا ہو گئے۔ اغوا کے بعد انہیں بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور آدھی زبان بھی کاٹ دی گئی۔

    مرتضی کھوسو کو اغوا کے بعد شدید زخمی حالت میں کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ان کے علاج کے لئے میڈیکل لیٹر بھی فراہم کیا گیا ہے، لیکن گھوٹکی پولیس نے تاحال ان کے اغوا اور تشدد کے واقعے پر مقدمہ درج نہیں کیا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق مرتضی کھوسوپر ہونے والا یہ ظلم کسی ذاتی تنازعے یا کاروباری مخالفت کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنا سوالات اٹھا رہا ہے۔

    مرتضی کے اہل خانہ اور مقامی افراد نےاحتجاج کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں انصاف کا حصول مشکل بن رہا ہے، خاص طور پر جب بااثر افراد اس طرح کے جرائم میں ملوث ہوں۔

    مرتضی کھوسو کےلواحقین نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہاور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ شخص کو انصاف دلایا جائے۔

  • اوکاڑہ: سب انجینئر ابرار احمد کے خلاف کرپشن کا مقدمہ درج، پولیس نے حراست میں لے لیا

    اوکاڑہ: سب انجینئر ابرار احمد کے خلاف کرپشن کا مقدمہ درج، پولیس نے حراست میں لے لیا

    اوکاڑہ،باغی ٹی وی(نامہ نگارملک ظفر) وزیراعلیٰ پنجاب کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ضلعی انتظامیہ نے سب انجینئر ابرار احمد کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

    ابرار احمد پر الزام تھا کہ انہوں نے واٹر ڈسپوزل اسٹیشن ہاؤسنگ سکیم سے ٹف ٹائلز اکھاڑ کر اپنے گھر میں نصب کیں۔ اس الزام کی تحقیقات کے بعد اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد/ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چوہدری ضیاء اللہ نے اینٹوں کی چوری ثابت ہونے پر سب انجینئر کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ابرار احمد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر چوہدری ضیاء اللہ کا کہنا تھا کہ ابرار احمد کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی جاری ہے، اور کرپٹ عناصر کو سرکاری اداروں میں لوٹ مار کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • وزیراعلی خیبر پختونخوا میری بہن کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ صنم جاوید کا انکشاف

    وزیراعلی خیبر پختونخوا میری بہن کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ صنم جاوید کا انکشاف

    وزیراعلی خیبر پختونخوا میری بہن کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ صنم جاوید کا انکشاف،صنم جاوید کے الزامات نے پی ٹی آئی میں خواتین کے حقوق پر سوالات اٹھا دیے

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس سے پارٹی میں خواتین کے حقوق اور عزت کے حوالے سے نیا تنازعہ جنم لے چکا ہے۔ صنم جاوید نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ گنڈاپور ان کی بہن کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فیملی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی بہن کے بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔

    صنم جاوید کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا رویہ غیر مناسب ہے اور ان میں شرم و حیا کی کمی ہے، جس سے ان کی بہن کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے الزامات پی ٹی آئی کے اندر خواتین کے ساتھ عزت اور احترام کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

    صنم جاوید پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور بشری بی بی کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ وہ نومئی کے بعد سے پی ٹی آئی کے مختلف مسائل میں سرگرم رہی ہیں اور جیل میں بھی رہیں۔ ان کے الزامات پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اور پارٹی کے خواتین کے حوالے سے رویے پر مزید سوالات اٹھا رہے ہیں۔

    یہ الزامات پی ٹی آئی کی تاریخ میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات کی یاد دلاتے ہیں، جنہیں میڈیا میں کوریج بھی ملی تھی۔ صنم جاوید کے الزامات کے بعد پی ٹی آئی میں شدید تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے، اور اس سے پارٹی کے اندر خواتین کے حقوق کی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔