Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ:ریسکیو1122نے 2024 میں39,192 ایمرجنسیز پر ریسپانس دیا،آگ کے واقعات میں اضافہ

    ننکانہ:ریسکیو1122نے 2024 میں39,192 ایمرجنسیز پر ریسپانس دیا،آگ کے واقعات میں اضافہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ریسکیو1122نے 2024 میں39,192 ایمرجنسیز پر ریسپانس دیا،آگ کے واقعات میں 62فیصد اضافہ،سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

    ضلعی ہیڈ کوارٹرز پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب میں 2024ء کی سالانہ کارکردگی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کی۔ اجلاس میں ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران، عمران شہزاد، کنٹرول روم انچارج محمد نوید، اسٹیشن کوآرڈینیٹر محمد نواز، شاہد یوسف اور تمام ریسکیو آفیسرز کے ساتھ میڈیا کوآرڈینیٹر ریسکیو 1122 علی اکبر بھی موجود تھے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے بتایا کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب کو سال 2024ء میں 139,962 کالز موصول ہوئیں جن میں 39,192 ایمرجنسی کالز تھیں۔ ان 39,192 ایمرجنسی کالز میں 39,623 متاثرین کو ریسکیو کیا گیا جن میں سے 7,709 روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹس، 25,829 میڈیکل ایمرجنسیز، 455 آگ لگنے کے واقعات، 837 لڑائی جھگڑے اور تشدد، پانی میں ڈوبنے کے 38 واقعات، عمارتوں کے منہدم ہونے کے 28 حادثات اور 4,296 متفرق نوعیت کی ایمرجنسیز کو ریسپانڈ کیا گیا۔ 2024ء میں آگ لگنے کے واقعات کی شرح میں 62% اضافہ دیکھا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کہا کہ ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب نے اوسطاً 7 منٹس کا ریسپانس ٹائم برقرار رکھتے ہوئے 39,192 ایمرجنسیز میں 14,623 زخمیوں کو موقع پر طبی امداد فراہم کی، جبکہ 24,112 متاثرین کو طبی امداد دینے کے بعد مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ سڑک کے حادثات اور میڈیکل ایمرجنسیز میں 888 متاثرین جانبر نہ ہو سکے۔ ضلعی سطح پر علاج کی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز نے 2,746 مریضوں کو ریفر کر دیا۔ پنجاب ایمرجنسی سروس ننکانہ صاحب کی پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے لاہور اور فیصل آباد کے ہسپتالوں میں بلا معاوضہ اور بحفاظت منتقل کیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 محمد اکرم پنوار نے پنجاب ایمرجنسی سروس ننکانہ صاحب کی پیشہ ورانہ کارکردگی پر ریسکیورز اور افسران کی شبانہ روز محنت اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسکیورز کی جسمانی فٹنس اور پیشہ ورانہ استعداد کار کو بڑھانے کے لیے جدت کو اپنایا جائے گا۔ پنجاب ایمرجنسی سروس ننکانہ صاحب 2025ء میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں عوام الناس کے ساتھ ہم آہنگی اور روابط کو مزید فروغ دے گی اور حادثات کی روک تھام کے لیے آگاہی اور بنیادی تربیت کو ہر فرد تک یقینی بنائے گی تاکہ حادثات و سانحات کا موجب بننے والے عناصر کو کنٹرول کیا جا سکے۔

  • پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے روابط کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ اس بڑھتے ہوئے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

    روس پاکستان کے لیے ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے جو نہ صرف اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کو بھی مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ روس کی جانب سے توانائی کے شعبے میں پیش کیے جانے والے وسیع مواقع، جیسے گیس پائپ لائن منصوبے اور خام تیل کی برآمد، پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید برآں روس اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے کارگو ٹرین منصوبے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کو عالمی تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے آزاد خارجہ تعلقات کے تناظر میں روس کے ساتھ تعلقات کی یہ نئی پیش رفت نہ صرف اقتصادی استحکام بلکہ دفاعی تعاون میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی معاہدوں پر بھی کام کیا ہے جو ان کے رشتہ کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    تاہم امریکہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام پرتاکہ پاکستان کو روس کے قریب جانے سے روکا جا سکے۔ امریکہ کے اس اقدام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلا ئوکو روکنا بتایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ناکام کوشش معلوم ہوتی ہے جو پاکستان کی خودمختاری میں مداخلت کی غماز ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں کو تعصب پر مبنی اور بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جیسے نارتھ سائوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت اور دیگر مشترکہ منصوبوں کی منصوبہ بندی۔

    پاکستانی تھنک ٹینکس اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قومی مفادات اور خطے میں روس کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دیں اور امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ امریکی پابندیوں کی پاکستان پر ایک طویل تاریخ ہے، اور امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بناتا آیا ہے۔ اس لیے اب ان پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو
    اپنے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے جو نہ صرف موجودہ حالات بلکہ مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مضبوط ہو۔

    امریکہ کا طویل مدتی مقصد ہمیشہ اپنے مخالفین کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے دبائو میں لانا رہا ہے، لیکن پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ایک واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان اب اپنی خارجہ پالیسی میں مزید خودمختاری حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستان اور روس کے تعلقات کا نیا دور نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے بلکہ جغرافیائی استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اس نئے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہو گا یا نہیں؟

    پاکستان اور روس کے مضبوط ہوتے تعلقات خاص طور پر امریکی دبائو اور پابندیوں کے باوجود اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایک آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کامیاب ہو رہا ہے۔ یہ شراکت نہ صرف خطے میں جغرافیائی استحکام کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے اور اپنے اقتصادی و دفاعی شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کو روس جیسے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینی ہوگی۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان سفارتی سطح پر مضبوطی سے اپنے مفادات کا دفاع کرے اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک متوازن اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے۔

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    دوسری وآخری قسط۔
    پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے شاید اس وجہ سے اپنے پی ایچ ڈی(PhD) مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” منتخب کیا۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں نے پورے سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں دمان و تھل کے قصولیوں کے قصوں پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔لوک قصہ دراصل انسانی عروج و زوال کی تاریخی دستاویز ہے۔حق سچ، شر و خیر میں فیصلہ کرنے کا عملی مظہر ہے۔نصیحت و وصیت کا عملی نمونہ ہے۔قصہ گوئی کا خوبصورت فن اس دن سے شروع ہے، جب سے قوت گوئی کا آغاز ہوا۔لوک قصہ میں امن و رواداری کا پیغام ہے۔لوک دانش و تربیت کا بہترین نصاب ہے۔آرٹ کا شاندار اظہار ہے۔سرائیکی لوک قصہ سرائیکی وسیب کے قصولیوں کی حکمت و ست کا نچوڑ ہے۔مقالے کے نتارا سمیت سات ابواب ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    پہلا باب "سرائیکی لوک قصے دی لوڑ تے ایندے سماجی اثرات "جس میں سرائیکی قصے کا آغاز، قصوں کی اقسام، قصے و کہانی کے بارے ماہرین کی رائے کے ساتھ قصے کے سماجی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔لوک قصے میں انسانی شعور، ماضی، حال اور مستقبل کی روشن ضمانت ہے۔مقالے کا دوسرا باب "روہی چولستان دی تاریخ” ہے۔جس میں قدیم چولستانی مورخین کی آراء میں صحراء چولستان کے سیاق وسباق کو پڑکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔تیسرے باب ” چولستانی لوک کہانیاں دے ہر قصے دا فکری ویورا ” ہے۔احمد غزالی/ نسیم اختر کے ہر قصے کا فکری تجزیہ کیا گیا ہے۔چوتھے باب ” قلعہ ڈیراور وچ وسدے لوکاں دے قصے ” شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،محقق محمد الطاف خان ڈاھر (تھیسز سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین خان سنڈھر)کے ایم فل تھیسز میں موجود ہر قصے کا بھی فکری تجزیہ شامل ہے۔

    پانچویں باب”لوک قصے تحصیل لیاقت پور دی حدود وچ موجود زبانی قصیں دی گول” کلید عمر محقق ایم فل تھیسز (نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز خان بلوچ چیئرمین شعبہ سرائیکی) شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ہر قصولی کے قصے کا تجزیاتی فکری مطالعہ شامل ہے۔پی ایچ ڈی مقالے کا اہم باب چھٹا ہے۔جس کا عنوان ” سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” ہے۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں کے اثرات کو دوسرے سرائیکی وسیب میدانی، تھل و دمان کے قصولیوں کے قصوں پر اثرات کو ان پہلوؤں سے تجزیاتی و تقابلی تحقیق سے ثابت کیا گیا۔قصے کےعنوانات کے حوالے سے، قصے کے آغاز سے،مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے حوالے سے، ہیرو،شاہی کرداروں، مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے،گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے، فانا اور فلورا، آکھانیں/ضرب المثل،دعائیں،ثقافت، محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سے شخصیات، شئیں،جگہوں کے حوالے سے،متن و فکری سانجھ کے حوالے سے سرائیکی چولستانی قصوں کے اثرات کا سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں کے قصولیوں کے قصوں پر لیا گیا ہے۔

    آج بھی جدید عہد میں چولستان جیپ ریلی،چولستان یونیورسٹی کے اثرات تھل جیپ ریلی و تھل یونیورسٹی پر واضح ہیں۔روہی چینل،روہی آٹوز، روہی ٹرانسپورٹ سروس اب سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں نظر آرہی ہے۔چولستانی فنکار ہر جگہ اپنے اثرات مرتب کررہےہیں۔ویندے وگدے، ویندے وگدے،واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے۔خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ،وہ تاں صرف زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا، اصل بادشاہ تاں صرف آپ اللہ اے۔۔متنی ٹوٹے جو ہمیں چولستانی لوک قصوں میں بار بار ملتے ہیں۔یہی ایک جیسا ٹیکسٹ ہمیں دوسرے سرائیکی قصوں پر بطور اثرات نظر آتے ہیں۔لوک قصے کی جدید ٹیکنالوجی ہمیں فلم،تھیٹر، ڈرامے،فنکشنز میلوں اور مشاعروں میں نظر آرہی ہے۔

    مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر نے آخر میں اپنے تھیسز کی ریکمنڈیشنز/کمنٹس/سفارشات جو مرتب کیں ہیں،آنے والے نئے ریسرچرز کے لیے بہترین معاون ثابت ہوگیں۔میرے نزدیک یہی مقالے کا محاکمہ/نتائج یعنی حاصل مقاصد بھی ہیں۔سفارشات Comments/Recommendations قصہ بنیادی طور پر انسانیت کی اصلاح و تربیت کے لیے ایک مضبوط اور سایہ دار درخت کی طرح نسلاں کے لیے پھل بھی ہے چھاؤں بھی ہے،جس طرح تپتے صحراء میں جال کا گھاٹا درخت پیلھوں پھل اور گھاٹی چھاؤں دونوں کا باعث نعمت خداوندی ہے،جس کی چھپر چھاؤں کے نیچے ضعیف نحیف بڈھڑے قصولی اپنا ما فی الضمیر قصے کی شکل میں بیان کرتے ہیں ۔ان کی اور ان کے پاس قصوں کے خزانے کی بقاء، حکمت ودانش کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

    چولستانی قصےگو اس سے پہلے جو اپنے قیمتی ادبی خزانے کے ساتھ دنیا سے پردہ کرجائیں،فوری جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ان کی اپنی آواز وچ قصوں کو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیا جائے ۔چولستانی قصولیوں کی طرح تھل،دمان سمیت پورے سرائیکی وسیب کے قصولیاں کو مراعات یافتہ بنایا جائے۔ان کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے فوری انفراسٹرکچر و مالی امداد کااعلان کیا جائے تاکہ یہ لوگ اقتصادی آسودگی کے ساتھ سرائیکی قصوں کو ہم تک پہنچا سکیں۔ہر چولستانی قصولی دراصل ہک آرٹسٹ ہے، اس لیے ان کے سماجی مقام و مرتبہ کے لیے قصولیوں کے درمیان مقابلے کرائے جائیں ۔ایوارڈز،میڈلز وظائف مقرر کیے جائیں۔چولستانی قصےگو اور ان کی نئی نسل کے لئے اعلی تعلیم وتربیت اور صحت کے ماڈل ادارے تعمیر کیے جائیں ۔پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں چولستانی قصولیاں کے بچوں کوٹہ مقرر کیا جائے۔مال مویشی و جڑی بوٹیاں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔

    روہی چولستان کا خطہ وادی ہاکڑہ چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن کا آمین ہے۔قلعہ ڈیراور،پتن منارہ،گنویری والا کے آس پاس قصولیوں کی فلاح وبہبود کے لیے کلچرل اینڈ آرکیالوجی سوسائٹی ریسرچ سنٹرز تعمیر ہونے چاہئیں،تاکہ مقامی لوک ادب،وذڈم، حکمت و دانش کو فروغ دیا جاسکے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، چینلز ، آگاہی سمینار میں آن ائیر قصولیوں کے قصے چلائے جائیں۔ہفتہ وار پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے ۔ تاکہ نئی نسل کو اپنےادبی ورثے کے ساتھ شناخت ہوسکے۔چولستان جیپ ریلی و تھل جیپ ریلی کے موقع پر چولستانی و تھلوچڑ قصہ گو کے فن کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری سطح پر انتظامات کئے جائیں۔ان افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انفرادی وظائف مقرر ہونے چاہئیں تاکہ چولستانی قصہ گو اور مقامی دستکاری کی صنعت کی بہتری کیلئے مالی امداد ہوسکے۔

    قومی و صوبائی سطح کی نصاب سازی میں چولستانی قصولیوں کے قصوں کو شامل کیا جائے۔سرائیکی چولستانی قصولیوں سمیت تھل،دمان پورے وسیب کے قصولیوں کے حقوق کے تحفظ کی آگاہی کے لیے نیشنل و انٹرنیشنل سطح سہ ماہی و سالانہ سمینار،اجلاس،مشاعرے وغیرہ کا انعقاد ہونا چاہیے۔روہی چولستان کے ادیب،دانشور،شاعر قصولیوں کے قصوں کے اثرات کی بدولت چولستان یونیورسٹی و چولستان جیپ ریلی سے تھل جیپ ریلی،تھل یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ہے،ہر یونیورسٹی میں چولستانیات شعبے کھولیں جائیں۔ روہی چینل، روہی آٹوز، روہی بس سروس پورے سرائیکی خطہ سمیت پورے پاکستان میں نظر آنا خوش آئند ہے۔فنون لطیفہ کے شعبوں میں روہی چولستان آرٹ بھی شامل کیا جائے۔

    چولستانی سرائیکی قصولیوں کے قصوں نے جو اثرات سرائیکی لوک قصہ گو کے قصوں پر مرتب کیے ہیں، وہ پہلو یہ ہیں۔عنوانات کے اعتبار سے،قصے کے آغاز کے حوالے سے، مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے اعتبار سے،ہیرو، شاہی کرداروں اور مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے، گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے ، فانا، فلورا کے حوالے سے،آکھانیں،دعائیں،ثقافت،محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سےشخصیات،جگہوں،شئیں کے اعتبار سے،متن اور فکری سانجھ کے حوالے سے اثرات پر آنے والے نئے ریسرچرز ایک ایک پہلو پر ایم فل، پی ایچ ڈی مقالے لکھیں گے۔

    چولستانی قصہ گو میدا رام،سمارا ، مجید مچلا، مہر غلام رسول،احمد غزالی کے قصوں کے اثرات طاہر غنی (تھل)، ملک عبداللہ عرفان (میدانی)، ملک آصف سیال (دمان) کے قصوں پر واضح ہیں۔سرائیکی مہان صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا اٹھارہ سال روہی چولستان میں گزارنا،انہاں کے آفاقی کلام میں روہی،چولستان کا قصہ موجود ہے۔کلام میں موجود چولستانی بودوباش کو عام کرنے کے لیے عالمی سطح پر ریسرچ انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔
    ختم شد

  • ٹھٹھہ: پولیس مقابلہ، زخمی حالت میں ملزم گرفتار، جرائم میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد

    ٹھٹھہ: پولیس مقابلہ، زخمی حالت میں ملزم گرفتار، جرائم میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگاربلاول سموں) پولیس مقابلہ، زخمی حالت میں ملزم گرفتار، جرائم میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد

    تفصیل کے مطابق تھانہ ٹھٹھہ کی حدود میں بگھاڑ موری لنک روڈ کے قریب پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

    گرفتار ملزم کی شناخت شاہد ولد فقیر محمد سموں ٹھٹھہ کے رہائشی طور پر ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے ٹھٹھہ اور مکلی کے مختلف علاقوں میں چوری، ڈکیتی، راہزنی اور موٹرسائیکل چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

    پولیس نے ملزم کے قبضے سے جرائم میں استعمال کی گئی ریوالور برآمد کر لی ہے۔ گرفتار ملزم کا مکمل کریمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    ٹھٹھہ پولیس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے

  • ٹھٹھہ: وزیراعلیٰ سندھ کا کے بی فیڈر منصوبے کا دورہ، کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا اعلان

    ٹھٹھہ: وزیراعلیٰ سندھ کا کے بی فیڈر منصوبے کا دورہ، کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا اعلان

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگاربلاول سموں کی رپورٹ )وزیراعلیٰ سندھ کا کے بی فیڈر منصوبے کا دورہ، کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا اعلان

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری نے واضح موقف دیا ہے کہ سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیں گے، کالاباغ ڈیم کی طرح کینالوں کے بھی مخالف ہیں۔ دریائے سندھ سے نکلنے والے کینالوں کا معاملہ جب تک کسی فورم پر نہیں آئے گا، ختم نہیں ہوگا۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کلری بگھار فیڈر کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء سعید غنی، جام خان شورو، سید ریاض حسین شاہ شیرازی، ایم این اے سید ایاز علی شاہ شیرازی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر حیدرآباد بلال احمد میمن، ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان و دیگر بھی موجود تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں ترقی کا سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ نئے سال کے حوالے سے عوام سے درخواست کروں گا کہ ہر شخص اپنے حصے کا کام کرے۔ سندھ حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں دن رات کوشاں رہے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کے بی فیڈر کی لائننگ کے منصوبے سے کراچی کو یومیہ 7600 کیوسک سے بڑھ کر 9800 کیوسک پانی ملے گا۔ سندھ حکومت کراچی کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ کلری بگھار فیڈر اپر سسٹم اور کینجھر جھیل کی بہتری پر کام جاری ہے۔ کے بی فیڈر اپر فیز ون کی کناروں کی پختگی اور لائننگ کا کام ہو رہا ہے۔ لائننگ کی پختگی کا منصوبہ ایکنک نے 19 جولائی 2023 کو منظور کیا۔ کے بی فیڈر کے لیے 39,942.559 ملین روپے منظور ہوئے، جن میں پچاس فیصد وزارتِ آبی وسائل اور پچاس فیصد حکومتِ سندھ خرچ کرے گی۔ کے بی فیڈر کی لائننگ سے 510 کیوسک پانی کے اخراج کو بچایا جا سکے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مذکورہ پانی کے فور پروجیکٹ فیز-I کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔ کے بی فیڈر کی لائننگ کی پختگی کا منصوبہ چار سال میں مکمل ہوگا۔ کلری بگھار فیڈر کی گنجائش میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ وفاق اور سندھ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس سال وفاق نے کم پیسے دیے ہیں۔ اس سال منصوبے کا 40 فیصد حصہ مکمل کر لیں گے جبکہ کے بی فیڈر کا منصوبہ اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔ صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو منصوبے پر کام کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ کراچی کو پانی ملنے کی وجہ سے کسی علاقے کا پانی کم نہیں ہوگا۔ کے بی فیڈر کی لائننگ سمیت نکاسی آب کا سسٹم بھی بنایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کینجھر جھیل کی فلنگ لیول کو آر ایل 53.50 سے آر ایل 56.00 بڑھا کر ذخیرہ کو 0.38 سے 0.42 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے بی فیڈر کے ذریعے کراچی کے لیے 260 ایم جی ڈی پانی فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔ 22.734 کلومیٹر کے بی فیڈر کی لائننگ پختگی کے کام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ 6 کلومیٹر طویل آر ڈی 0 سے 65 تک لائننگ پختگی کے کام پر 103 ملین روپے جاری ہونے ہیں، جبکہ 7.62 کلومیٹر طویل آر ڈی 65 سے 130 تک 1170 ملین روپے کی دس فیصد ادائیگی ہو چکی ہے۔ 9.144 کلومیٹر طویل آر ڈی 130 سے 189 تک 1182 ملین روپے کی دس فیصد ادائیگی کر دی گئی ہے۔

    اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارا چنار میں انسانی المیہ ہو رہا ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔ حکومت سندھ نے گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست پر ہلال احمر کے ذریعے امداد بھیجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن دھرنوں کے بالکل خلاف نہیں ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم سے مذاکرات جاری ہیں۔ دھرنے ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دھرنے والوں کو ایک جگہ پر دھرنا دینے کی پیشکش کی ہے۔ 8 جگہوں سے دھرنے ختم کرائے گئے ہیں، جبکہ 4 جگہوں پر اب بھی جاری ہیں، جو بات چیت یا ایکشن سے ختم کر دیے جائیں گے۔ دھرنوں کے خلاف ایکشن بھی لیں گے، جس سے کچھ لوگ ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔

    سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پارا چنار کے مسئلے کا حل وہیں ہوگا، ہمارے پاس نہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی آر ٹی بسوں کو پورے سندھ تک توسیع دیں گے۔ پہلے ایس آر ٹی سی ہوتی تھی، اب بھی اشد ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ملیر ایکسپریس وے کا اگلا مرحلہ بھی 2025 میں مکمل کر لیں گے۔ کراچی سے باہر جانے والوں کا سفر ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کے بی فیڈر کی لائننگ پروجیکٹ کا دورہ کرکے کراچی کے لیے پانی کے منصوبے کے بی فیڈر پروجیکٹ پر اہم پیشرفت کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے پروجیکٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

  • اٹک: "روشنی کی ایک صدی” کی تقریب رونمائی، شیخ آفتاب کا خطاب

    اٹک: "روشنی کی ایک صدی” کی تقریب رونمائی، شیخ آفتاب کا خطاب

    اٹک،باغی ٹی وی (ملک امان شجاع) رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی کتاب "روشنی کی ایک صدی” کی طباعت ایک عظیم اور تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کتاب کی تقریبِ رونمائی سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت سابق ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ پنجاب خواجہ طاہر جمیل نے کی۔

    تقریب میں کتاب کے مصنف ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج پروفیسر خالد جاوید صدیقی، سابق پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج اٹک پروفیسر ماجد وحید، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز پروفیسر ارشد خان، پروفیسر ہمایوں شکیل، پروفیسر طارق نعمانی، پروفیسر ابرار حسین، پروفیسر شریف زاہد، پروفیسر ڈاکٹر زوار حسین، پروفیسر ناصر علی شاہ، پروفیسر راحت علی خان، پروفیسر وسیم حیدر، پروفیسر عثمان صدیقی، پروفیسر اظہر محمود، مشتاق عاجز، شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ، شیخ وقار عظیم ایڈووکیٹ، سردار ساجد خان، چیئرمین بلدیہ اٹک شیخ ناصر محمود، سید شوکت بخاری، شیخ وقاص، اعجاز مہر، محمد سلیم، پروفیسر نصرت بخاری، مونس رضا، محمد طاہر، طاہر اسیر، اقبال زر کاش، ارشاد احمد، سیکرٹری اطلاعات پاکستان مسلم لیگ (ن) ڈاکٹر میاں راشد مشتاق، ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) سلیم شہزاد، گورنمنٹ پائلٹ اسکول کے اکرم ضیاء، پرنسپل گورنمنٹ بوائز اسکول کامرہ ملک عامر اقبال، معروف تاریخ دان و محقق راجہ نور محمد نظامی، امجد حسین، سابق سی ای او ایجوکیشن راجہ مختار احمد، میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریاض احمد، معروف مصنف ڈاکٹر خاور چوہدری اور دیگر معزز مہمان شریک تھے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی کتاب "روشنی کی ایک صدی” کا شائع ہونا ان کی محنتِ شاقہ اور ایک صبر آزما کام کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پورے صوبہ خیبر پختونخوا میں صرف اسلامیہ کالج پشاور کے نام سے ایک کالج موجود تھا، اور اس کے بعد گورنمنٹ کالج اٹک کا نام آتا تھا۔ اس عظیم درسگاہ نے ایسی شخصیات پیدا کیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا، اور یہ سب اس تاریخی درسگاہ کے اساتذہ کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس کالج کے سابق طالب علم رہے ہیں، اور ان کی کامیابی میں ان کے اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ پنجاب خواجہ طاہر جمیل نے ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی تاریخی کاوش کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ناشاد ایک اعلی درجے کے شاعر، ادیب، محقق، اور ماہرِ تعلیم کے طور پر ادبی اور علمی حلقوں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ شعر و ادب کے مختلف موضوعات پر ان کی تین درجن سے زائد شائع شدہ تصانیف کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ خواجہ طاہر جمیل نے کہا کہ "روشنی کی ایک صدی” لکھنے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر ناشاد کے لیے مخصوص کر رکھی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں گورنمنٹ کالج اٹک کی 100 سالہ تعلیمی ترقی کا ایک سچا اور قابل رشک مرقع پیش کیا۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے اسلوبِ تحریر کی سادگی، شگفتگی، اور بے ساختگی کو آخر تک برقرار رکھا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کتاب کے مصنف ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ وہ اس اہم تاریخی دستاویز کو کامیابی سے مکمل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ کالج کی 100 سال کی تاریخ کو بخوبی اور جامع انداز میں مرتب کر سکیں، مگر ان کے خیال میں شاید کہیں کوئی تشنگی رہ گئی ہو۔ انہوں نے کالج کے کتب دار نذر محمد صابری کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ جب وہ گورنمنٹ کالج اٹک سے منسلک مشہور شخصیات کے بارے میں لکھ رہے تھے تو انہیں محسوس ہوا جیسے وہ تمام شخصیات ان کے سامنے موجود ہیں اور ان سے ہم کلام ہیں۔

    آخر میں مہمانوں کو تحائف پیش کیے گئے۔

  • ننکانہ:ڈپٹی کمشنر کا شدید دھند میں بنیادی مراکز صحت کا اچانک دورہ، عملے کی کارکردگی کو سراہا

    ننکانہ:ڈپٹی کمشنر کا شدید دھند میں بنیادی مراکز صحت کا اچانک دورہ، عملے کی کارکردگی کو سراہا

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے شدید دھند اور سرد موسم کے باوجود شہریوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے رات کے وقت بنیادی مراکز صحت نتھوالا اور بورالہ کا اچانک دورہ کیا۔

    دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری، ادویات کے اسٹاک اور دیگر سہولتوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طبی عملے کی کارکردگی کو سراہا اور ان کی محنت کو خراج تحسین پیش کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، تحصیل ہیڈ کوارٹرز، رورل ہیلتھ سنٹرز اور دیہی مراکز صحت کا عملہ رات کے وقت بھی شہریوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے سخت موسم میں خدمات انجام دینے والے افسران اور ملازمین کی کاوشوں کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

    محمد تسلیم اختر راؤ نے سی او ہیلتھ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ضلع کے تمام دیہی مراکز صحت پر رات کے وقت 02 فی میل اور 01 میل سٹاف کو تعینات کیا جائے اور کسی بھی ہسپتال میں تین افراد سے کم عملہ نہ ہو، ان ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

    اس دورے کا مقصد شہریوں کو صحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنا اور ہسپتالوں میں عملے کی حاضری کو یقینی بنانا تھا تاکہ شدید موسم کے باوجود لوگوں کو فوری طبی امداد مل سکے۔

  • ننکانہ : ریسکیو 1122 کا اسپورٹس گالا، دلچسپ مقابلے اور انعامات کی تقسیم

    ننکانہ : ریسکیو 1122 کا اسپورٹس گالا، دلچسپ مقابلے اور انعامات کی تقسیم

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ہاکی اسٹیڈیم ننکانہ صاحب میں پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام ایک شاندار اسپورٹس گالا کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کی قیادت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کی۔

    اسپورٹس گالا کے دوران ریسکیو ننکانہ الیون اور ریسکیو شاہ کوٹ الیون ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچز کھیلے گئے۔ پہلے میچ میں ریسکیو شاہ کوٹ الیون نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 5 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 53 رنز بنائے۔ تاہم ریسکیو ننکانہ الیون کی ٹیم 48 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

    دوسرے میچ میں ریسکیو شاہ کوٹ الیون نے 5 اوورز میں 62 رنز کا ہدف دیا، لیکن ریسکیو ننکانہ الیون نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چوتھے اوور کی چوتھی گیند پر میچ جیت لیا۔ محمد حمزہ کی شاندار بیٹنگ نے ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    اس تقریب میں کرکٹ کے علاوہ رسہ کشی، بیڈمنٹن اور لڈو کے مقابلے بھی شامل تھے، جنہوں نے حاضرین کی دلچسپی کو مزید بڑھا دیا۔

    تقریب کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کھیلوں میں حصہ لینے والے ریسکیورز کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کھیلوں کو ٹیم ورک، ذہنی، جسمانی، اور نفسیاتی صحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا اور ریسکیورز کی فٹنس برقرار رکھنے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

    آخر میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامی ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کیے گئے۔ اس تقریب نے ریسکیورز کے درمیان ٹیم ورک اور مسابقتی جذبے کو مزید فروغ دیا۔

  • سیالکوٹ: مقدمات میں ریکارڈ اضافہ، پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی

    سیالکوٹ: مقدمات میں ریکارڈ اضافہ، پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض)مقدمات میں ریکارڈ اضافہ، پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی

    تفصیل کے مطابق سال 2024 کے 11 ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سیالکوٹ میں 44 ہزار 320 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 1850 مقدمات کو مختلف وجوہات کی بنا پر خارج کیا گیا۔ پولیس کی مصروفیت اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود 11 ہزار 240 مقدمات کو عدم پتہ قرار دے دیا گیا، جو شہریوں کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔

    2023 کے مقابلے میں رواں سال درج مقدمات میں 6138 کا اضافہ ہوا جبکہ عدم پتہ مقدمات کی تعداد بھی 1187 زیادہ رہی۔ گزشتہ سال 38 ہزار 182 مقدمات درج ہوئے تھے، جن میں سے 1599 مقدمات خارج اور 10 ہزار 53 مقدمات عدم پتہ قرار پائے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ تھانہ پھوکلیان میں 196 مقدمات درج ہوئے جو ضلع بھر میں سب سے کم ہیں اور یہاں کوئی بھی مقدمہ عدم پتہ قرار نہیں دیا گیا جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    عوامی حلقوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور جرائم کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • پاکستان کیلئے 2024 کیسا رہا

    پاکستان کیلئے 2024 کیسا رہا

    پاکستان کیلئے 2024 کیسا رہا

    (باغی ٹی وی رپورٹ)سال 2024 پاکستان کی تاریخ میں سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز کے ساتھ ساتھ چند مثبت کامیابیوں کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ یہ سال ملک کی سمت کو متاثر کرنے والے اہم واقعات اور پیش رفت کا عکاس رہا، جنہوں نے عوام اور حکومت دونوں کے لیے سنگین آزمائشیں پیش کیں۔

    سیاسی منظرنامہ
    2024 کا آغاز شدید سیاسی ہلچل سے ہوا۔ جنوری میں سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیا، جس کے نتیجے میں جماعت کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ فروری میں عام انتخابات منعقد ہوئے، جو عوام کی بھرپور شرکت کے باوجود تنازعات اور انٹرنیٹ بندش جیسے مسائل کی زد میں رہے۔ انتخابی نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مخلوط حکومت تشکیل دی لیکن پیپلزپارٹی نے کوئی وزارت نہیں لی،اسی طرح اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تنازعات سال بھر جاری رہے۔

    سیکیورٹی صورتحال
    سال 2024 میں سیکیورٹی کے حوالے سے صورتحال نہایت تشویشناک رہی۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کے بڑے مراکز بنے رہے، جہاں 2,500 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز نے کئی کامیاب آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد عناصر کو ختم کیا، جنہوں نے جزوی طور پر امن بحالی میں کردار ادا کیا۔

    معاشی بحران
    معاشی بحران سال بھر عوام کے لیے بڑا چیلنج رہا۔ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں بے پناہ اضافہ نے مہنگائی کو بے قابو کر دیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں عوام کو ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کی قوت خرید کو کمزور کیا۔ بجٹ 2024-25 میں عوامی سبسڈیز میں کٹوتیوں نے بھی مشکلات کو مزید بڑھایا۔

    ماحولیاتی مسائل
    2024 میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں رہے۔ سندھ اور بلوچستان میں غیر متوقع بارشوں نے سیلابی صورتحال پیدا کی، جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ شدید گرمی کی لہر نے کراچی سمیت دیگر شہروں میں انسانی جانوں کا نقصان کیا، جبکہ زراعت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

    سماجی اور تعلیمی پیش رفت
    سماجی میدان میں کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی۔ خواتین کی تعلیم کے فروغ اور نصاب میں اصلاحات کے منصوبے شروع کیے گئے، جنہوں نے عوام میں شعور بیدار کیا۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ملک گیر مہمات بھی دیکھنے کو ملیں، جنہوں نے معاشرتی سطح پر تبدیلی کی بنیاد رکھی۔

    کھیل اور ثقافت
    پاکستان کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ 2024 میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی، جو عوام کے لیے خوشی کا باعث بنی۔ اس کے علاوہ، ملک بھر میں ثقافتی تقریبات اور کلچرل ڈے جیسے ایونٹس نے معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

    عوام نے کیا کھویا، کیا پایا؟
    2024 پاکستانی عوام کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا۔ معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں نے عوام کو سخت آزمائشوں سے گزارا جبکہ سیاسی عدم استحکام نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ تاہم، جمہوری تسلسل، تعلیمی اصلاحات اور خواتین کے حقوق کی مہمات نے امید کی کرن دکھائی۔ عوام نے اپنی مشکلات کے باوجود حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا، جو ایک روشن مستقبل کی جانب ان کی جدوجہد کا ثبوت ہے۔

    مجموعی طور پر سال 2024 پاکستان کے لیے ایک سبق آموز سال رہا، جس نے ملک کو کئی اہم چیلنجز اور کامیابیوں کا تجربہ دیا۔ اگرچہ سیاسی اور معاشی بحرانوں نے عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا لیکن سماجی ترقی اور کھیلوں میں کامیابی نے امید کا دامن بھی تھامے رکھا۔ یہ سال اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان مشکلات کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکتا ہے۔