Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: گورنمنٹ علامہ اقبال گریجویٹ کالج برائے خواتین میں کلچرل ڈے منایا گیا

    سیالکوٹ: گورنمنٹ علامہ اقبال گریجویٹ کالج برائے خواتین میں کلچرل ڈے منایا گیا

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیورو چیف شاہد ریاض سے) گورنمنٹ علامہ اقبال گریجویٹ کالج برائے خواتین سیالکوٹ میں کلچرل ڈے کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پرنسپل زیبا ظہور نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کالج میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ان کی آمد کو طالبات اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ کالج میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ طالبات کو اپنے میدان میں مزید کامیاب ہونے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔ زیبا ظہور نے مزید کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور کامیاب بچی مستقبل میں کامیاب بیوی اور ماں بن سکتی ہے، اس لیے ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

    کلچرل ڈے کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی سیدہ ارم شیرازی، پرنسپل لیڈی اینڈرسن سکول و کالج سیالکوٹ نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں شرکت کرکے انہیں بے حد خوشی ہوئی اور طالبات کو اتنا پرعزم اور پراعتماد دیکھ کر دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں دے۔

    انہوں نے کلچرل ڈے کے کامیاب انعقاد پر پرنسپل زیبا ظہور اور اساتذہ کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے اتنے منظم اور صاف ستھرے ماحول میں اس پروگرام کا انعقاد کیا۔ سیدہ ارم شیرازی نے طالبات کو اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

  • اٹک :بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے سیریز 2-1 سے جیت لی

    اٹک :بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے سیریز 2-1 سے جیت لی

    اٹک،باغی ٹی وی (ملک امان شجاع سے) اٹک اسلام آباد بلائنڈ کرکٹ ٹیموں کے درمیان منعقد تین میچوں کی سیریز میں اٹک بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے دو میچ جیت کر سیریز اپنی طرف کر لی۔

    مہمان خصوصی چیف ایگزیکٹو مائی ڈیرہ ساجد خان اور تحصیل سپورٹس آفیسر اٹک میڈیم نور الامین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی ہمت و حوصلہ کی داد دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نابینا افراد نے بصارت کی کمی کو اپنی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنایا اور معاشرے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ "ان کی مثبت سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔” انہوں نے کہا۔

    اس موقع پر بلائنڈز کرکٹ ٹیم اٹک کے سنیئر کھلاڑی محمد نیاز، محمد سہیل اور دیگر کھلاڑیوں نے کہا کہ اٹک کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے ملک بھر میں اہم ٹورنامنٹس میں شرکت کی ہے اور متعدد ٹورنامنٹس میں اپنے نام کر کے ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ "ہماری ٹیم نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا ہے اور ہم مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ کھیلیں گے۔” محمد نیاز نے کہا۔

    مقررین نے راجہ زاہد حسین سپرنٹنڈنٹ میونسپل کمیٹی اٹک کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی سرپرستی اور رہنمائی نابینا افراد کو ہمیشہ دستیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی نے ہر موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کیں، جس سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

  • کوٹ چھٹہ: سعودی عرب میں غلام سرور دلشاد کے بھتیجے کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی

    کوٹ چھٹہ: سعودی عرب میں غلام سرور دلشاد کے بھتیجے کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی

    کوٹ چھٹہ،باغی ٹی وی(تحصیل رپورٹرمریدحسین ٹالپور) سعودی عرب میں غلام سرور دلشاد کے بھتیجے کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی

    تفصیل کے مطابق سیاسی شخصیت غلام سرور دلشاد کے بھتیجے محمد نواز ڈمر کے بیٹے محمد احمد کی وفات پر ان کے ایصالِ ثواب کے لیے سعودی عرب میں بروز منگل شہداء بدر میں قرآن خوانی کا انعقاد کیا گیا۔

    قرآن خوانی میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں، دوستوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان، اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر عالم اسلام، پاکستان کی سلامتی اور مرحوم محمد احمد کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

    تقریب کا اہتمام امیدوار ایم پی اے حلقہ پی پی 291 غلام سرور دلشاد اور اجمل شاہین نے کیا۔ دعائیہ تقریب میں معززینِ علاقہ اور مزدور طبقہ کے افراد بھی شریک ہوئے۔

    اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے اور ان کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • سیالکوٹ: نئے سال پر ہوائی فائرنگ اور ون ویلنگ پر سخت کارروائی کا اعلان

    سیالکوٹ: نئے سال پر ہوائی فائرنگ اور ون ویلنگ پر سخت کارروائی کا اعلان

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق نے نئے سال کے موقع پر ہلڑ بازی، ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور آتش بازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی حرکات نہ صرف قانون شکنی ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔

    ڈی پی او کے احکامات پر تھانہ رنگپورہ کے ایس ایچ او سب انسپکٹر محمد سرمد فیاض نے گشت کے دوران سخت اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی فائرنگ یا دیگر غیر قانونی افعال سے اجتناب کریں، بصورت دیگر فوری گرفتاری اور مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    ایس ایچ او محمد سرمد فیاض نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر ان مسائل پر قابو پانا ممکن نہیں۔ اگر کسی پولیس اہلکار کی جانب سے شہریوں کو بلاوجہ تنگ کیا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    تھانہ رنگپورہ کی حدود میں ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم جاری ہے تاکہ تمام شہری سال نو کی خوشیاں محفوظ اور پرامن انداز میں منائیں۔

  • ریسکیو 1122 ڈیرہ غازیخان کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

    ریسکیو 1122 ڈیرہ غازیخان کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

    ڈیرہ غازیخان:ریسکیو1122 کی سال 2024 کی جائزہ رپورٹ
    ڈیرہ غازی خان سے سٹی رپورٹر جواد اکبر کی رپورٹ
    تعارف
    پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 جنوبی ایشیا کی صف اول کی ایمرجنسی سروس ہے۔ ریسکیو 1122 پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 کے تحت ہنگامی حالات جیسے روڈ ٹریفک حادثات، طبی ایمرجنسی، عمارت گرنے، آگ لگنے، خطرناک مواد کے واقعات، دھماکے، سیلاب اور پانی میں ڈوبنے سے بچاؤ اور جانوروں کے بچاؤ وغیرہ کے پیشہ ورانہ مدد فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں یہ سروس 2007 میں شروع کی گئی اور تب سے یہ ادارہ انسانی زندگی کے تحفظ اور خدمت کے مشن پر گامزن ہے۔ ریسکیو 1122 نے ڈیرہ غازیخان میں اب تک 642,401 ایمرجنسیز پر رسپانس کر کے 755,450 افراد کو مدد فراہم کی ہے۔

    سال 2024 کی کارکردگی
    سال 2024 کے دوران ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس سال کے اعدادوشمار دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سروس اپنی تمام تر چیلنجز کے باوجود جانفشانی اور لگن کے ساتھ انسانیت کے تحفظ کے مشن پر گامزن ہے۔ سال کے دوران ریسکیو کو مجموعی طور پر 375,806 کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 94,793 اصل ایمرجنسی کالز تھیں۔ ان کالز پر فوری ردعمل دے کر 96,000 سے زائد مریضوں کو ریسکیو کیا گیا۔ اس دوران 10,427 روڈ ٹریفک حادثات، 72,633 میڈیکل ایمرجنسیز، 540 آگ لگنے کے واقعات، 45 عمارت گرنے کے حادثات، 1,694 جرائم کی وارداتیں، 58 پانی میں ڈوبنے کے کیسز، 2 سلنڈر دھماکے، 1,841 بلندی سے گرنے کے واقعات اور 7,553 دیگر نوعیت کی ایمرجنسیز کو کامیابی سے ڈیل کیا گیا۔ اگرچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے 384 ایمرجنسیز پر تاخیر سے رسپانس ہوا لیکن یہ معمولی تعداد ان کی مجموعی کامیابی پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔

    ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان انسانی جانوں کے تحفظ کے مشن کے تحت نہ صرف ایمرجنسی خدمات فراہم کرتا ہے بلکہ مریضوں کو بہتر علاج کے لیے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ سال 2024 کے دوران مجموعی طور پر 5,402 مریضوں کو ٹرانسفر کیا گیا۔ ان میں سے 4,271 مریضوں کو ضلع کے اندر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں منتقل کیا گیا، جبکہ 1,131 مریضوں کو بہتر علاج کی خاطر دیگر اضلاع کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان میں ریسکیو 1122 کی ان کامیابیوں کا سہرا نہ صرف اس ٹیم کے محنتی ریسکیورز، جن میں قابل ذکر انچارج آپریشن عبدالرائوف صاحب، انچارج رپیر اینڈ مینٹیننس کنور فہیم صاحب، تمام اسٹیشنز کوارڈینیٹرز کے ساتھ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال کی قیادت کو بھی جاتا ہے۔ ان کی غیرمعمولی قیادت اور انتظامی مہارت نے ٹیم کو مزید مضبوط بنایا۔

    سال 2024 میں انجینئر احمد کمال صاحب کی قیادت میں نہ صرف ایمرجنسی کی حالت میں لوگوں کی مدد کی بلکہ کمیونٹی سیفٹی کے فروغ کے لیے بھی شاندار اقدامات کیے۔ کمیونٹی آگاہی پروگرامز کے تحت 2,367 اسکاؤٹس کو رجسٹر کیا گیا، جن میں سے 630 کو سرٹیفکیٹ دیے گئے، اور 171 سی ای آر ٹی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ مزید برآں، 481 آگاہی اور تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے تاکہ عوام کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے شعور دیا جا سکے۔ وزیرِ اعلیٰ لائف سپورٹ پروگرام کے تحت 2,871 افراد کی رجسٹریشن کی گئی، جس نے عوامی آگاہی اور فرسٹ ایڈ دینے میں نمایاں اضافہ کیا۔ اور اس کے ساتھ شہر کی 50 مختلف ہائی رائز بلڈنگز کا بھی دورہ کیا اور ان عمارتوں میں بلڈنگ سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ کے معیار کو یقینی بنایا۔ یہ اقدامات ایک محفوظ اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال کی دوراندیشی اور ان کی ٹیم کی لگن کا نتیجہ یہ ہے کہ ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے سال 2024 میں نہ صرف اپنے ریسپانس ٹائم کو بہتر بنایا بلکہ فیول کی کھپت میں بھی نمایاں کمی کی۔ مختلف کی پوائنٹس کا قیام جیسی حکمت عملی اور کفایت شعاری کے اصولوں پر عمل درآمد نے ان مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

    جیسا کہ ریسکیو 1122 میں ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز ہو چکا ہے، پنجاب حکومت اس سہولت کو جلد ہی ڈیرہ غازی خان میں بھی فعال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے اس علاقے کے لوگوں کو مزید بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔

    ریسکیو ٹیم کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کے باوجود ٹیم کا عزم اور حوصلہ بلند ہے۔ ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے ریسکیورز اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ہر لمحہ انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی قربانیاں اور خدمات نہ صرف ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال ہیں۔ ان کا عزم اور حوصلہ ہمیں ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی امید دلاتا ہے۔

  • سیالکوٹ: ایم پی اے کا ہسپتال دورہ، نئے ڈی ایچ کیو کی تعمیر کا اعلان

    سیالکوٹ: ایم پی اے کا ہسپتال دورہ، نئے ڈی ایچ کیو کی تعمیر کا اعلان

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے گورنمنٹ علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال سیالکوٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضوں کی عیادت کی اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مظفر مختار، ایم ایس ڈاکٹر سہیل انجم بٹ، ڈاکٹر انیل، شاہد بٹ اور ابوذر بھی موجود تھے۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ موجودہ ہسپتال شہر کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر اپنی استعداد سے خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم سیالکوٹ میں ایک نئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پسرور روڈ پر موزوں جگہ کی نشاندہی اور منصوبہ بندی کی ہدایت دے دی ہے، اور جلد حکومت پنجاب سے اس منصوبے کی منظوری حاصل کی جائے گی۔

    انہوں نے ہسپتال میں بے ہنگم ٹریفک اور رانگ پارکنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ کمشنر روڈ پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے میونسپل حکام کو فوری اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی۔

    مزید برآں، محمد منشاء اللہ بٹ نے ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچرل کو ہسپتال کے داخلی راستے پر لینڈ اسکیپنگ اور شجرکاری کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ہسپتال کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے۔

  • پاک روس تعلقات،نئے دور کا آغاز

    پاک روس تعلقات،نئے دور کا آغاز

    پاک روس تعلقات،نئے دور کا آغاز
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے روابط کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ 5 دسمبر 2024 کی ایک خبر کے مطابق پاکستان اور روس نے ماسکو سے پاکستان تک کارگو ٹرین چلانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ ٹرین نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور کے تحت براستہ ایران اور آذربائیجان چلائی جائے گی۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے روسی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ آزمائشی طور پر یہ ٹرین مارچ 2025 سے شروع کی جائے گی جو تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔

    ماسکو میں حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے وزرائے توانائی کی زیرِ صدارت بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں متعدد فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اجلاس میں کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل کی تعمیر کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ علاوہ ازیں دوطرفہ تجارت، صنعتی و معاشی تعاون اور انسولین کی تیاری جیسے شعبوں میں آٹھ اہم معاہدے طے پائے۔

    پاکستان اور روس کے درمیان نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس منصوبے میں پاکستان کو شامل ہونے کی دعوت دی تھی، جسے پاکستان نے اصولی طور پر قبول کر لیا۔ اس راہداری کے ذریعے ہوائی، ریلوے اور شاہراہوں کے راستوں کا ایک 7,200 کلومیٹر طویل نیٹ ورک قائم کیا جائے گا جو ایران، بھارت، آذربائیجان، پاکستان، وسطی ایشیائی ممالک اور شمالی یورپ کے درمیان نقل و حمل کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ منصوبہ خطے میں تجارت اور اقتصادی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

    تجارتی تعلقات کی ایک اور بڑی کامیابی پاکستانی کینو کی پہلی کھیپ کا ایران اور آذربائیجان کے راستے روسی ریاست داغستان تک پہنچنا ہے۔ اس کے علاوہ، روس سے لکڑی کی درآمد اور جدید فرنیچر کی صنعت میں تعاون پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک زراعت، ماحولیاتی پائیداری اور تعلیمی مواقع کے شعبوں میں بھی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔روس اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ روسی خام تیل کی کامیاب درآمد کے بعد پاکستان توانائی کے شعبے میں مزید استحکام کے لیے روس کے ساتھ شراکت داری کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ براہ راست ہوائی سروسز کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

    پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے منصوبے خطے کے ممالک کو جوڑنے اور تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس
    شراکت داری کے ذریعے پاکستان اور روس نہ صرف اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ علاقائی استحکام اور ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔

  • ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش

    ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش

    ٹھٹھہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار) عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر بلاول سموں اور جنرل سیکریٹری محمد عمر سرائی نے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ ٹھٹھہ کے دفتر اور سینئر سٹیزنز شیلٹر ہاؤس کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر خدا بخش بھرآنی سے ملاقات کرتے ہوئے ضلع میں کام کرنے والی این جی اوز کی تفصیلات حاصل کیں۔

    اس موقع پر انہوں نے ٹھٹھہ میں کام کرنے والی این جی اوز کی جانب سے مقامی نوجوانوں کو ملازمت میں نظرانداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ این جی اوز مقامی قابل نوجوانوں کو ملازمتیں دینے میں ناکام ہیں، جس کے باعث نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    بلاول سموں نے کہا کہ ضلع میں متعدد نیشنل اور انٹرنیشنل این جی اوز کروڑوں روپے کے منصوبے چلا رہی ہیں، لیکن ان کی کارکردگی زمین پر کہیں نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی این جی اوز نے اپنے کام کو خفیہ رکھا ہوا ہے، یہاں تک کہ ان کے دفاتر پر نام کے بورڈ تک نصب نہیں ہیں۔

    انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان منصوبوں میں کرپشن اور خرد برد کی جا رہی ہے، جس کے باعث علاقے کی کمیونٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اور نہ ہی ترقیاتی نتائج نظر آ رہے ہیں۔

    بلاول سموں نے کہا کہ این جی اوز کے فنڈز کا حساب لینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ صحافیوں کے وفد کے ساتھ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سے ملاقات کریں گے اور منتخب نمائندوں کو بھی اس معاملے پر نوٹس لینے پر قائل کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ڈونر اداروں، تھرڈ پارٹی آڈٹ، وفاقی و صوبائی محتسب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن، اور دیگر متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔ ساتھ ہی مقامی کمیونٹی کو احتجاجی تحریک کے لیے موبلائز کیا جائے گا۔

    بلاول سموں نے خبردار کیا کہ آرٹیکل 19 اے اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت تسلی بخش وضاحت نہ دینے والی این جی اوز کے این او سیز منسوخ کرا کر انہیں ضلع سے باہر نکال دیا جائے گا۔

    بعد ازاں انہوں نے سینئر سٹیزنز شیلٹر ہاؤس کا دورہ کرتے ہوئے جاری کام کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    پہلی قسط
    سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں میٹھی زبان کا اعزاز سرائیکی زبان کو حاصل ہے۔ جس طرح آم کو پھلوں کا بادشاہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے، اسی طرح سرائیکی زبان میں محبت و احترام جیسی خوبصورت روحانی مٹھاس آم، کھجور، شہد، گڑ کی رس بھری ہوئی ہے۔ سات دریاؤں کی سرزمین سرسبز خطہ، روحانیت، معدنیات اور زراعت کی دولت سے مالا مال ہے۔

    ماں اور مادری زبان سے بےپناہ محبت اور عقیدت فطری تقاضا ہے۔ ریسرچ میتھڈالوجی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماں بولی میں تعلیم و تربیت، علم و ادب کے فروغ سے شرح خواندگی میں اضافہ ممکن ہے۔ ماں کی گود ہی انسانی شعور کی بیداری کی پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ تحقیق و تنقید کی بدولت ہمیشہ قومی تعلیمی ادارے اپنا نام روشن کرتے ہیں۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان کی تعمیر و طرز اور تعلیمی ماحول کو قاہرہ، مصر کی یونیورسٹی الازہر کے طرز پر ارتقائی اعتبار سے بنایا گیا تھا۔ تعلیم و تربیت ہی قوموں کی ترقی و خوشحالی کا راز ہے۔ مادری زبانوں میں علم کا حصول درحقیقت انسانی آرٹ اینڈ کلچر، تہذیب و تمدن، تاریخ، تصوف، رسوم و رواج کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان اپنی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، روہی چولستان کے ساتھ وادی سندھ میں سرائیکی زبان صدیوں سے اپنا ادبی، سماجی، ثقافتی، شعوری، تاریخی، تنقیدی و تحقیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مادری زبان ہی دراصل انسانی عروج کا تاج ہے۔ ہر آدمی اپنا ما فی الضمیر آسان اور مؤثر ترین انداز میں صرف ماں بولی میں بیان کرسکتا ہے۔

    قصہ ہر زبان کے شاعری و نثری ادب کا نوبل قیمتی اثاثہ ہے۔ مادری زبان میں ابلاغ ایک فطری اور آسان ترین عمل ہے۔ رب العزت خود قصہ گو ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سورہ "القصص” درحقیقت ادب کی صنف قصہ کو عروج بام بخشنے کا مقصود ہے۔ اس میں بے شمار و بے پناہ موضوعات کا خزانہ موجود ہے۔ قصہ لوگوں کے لیے وصیت، رشد و ہدایت کے ساتھ خوبصورت تفریح کا باعث بھی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے نے اپنے وسیب کو علم، دانش و تربیت کا بہترین نصاب مہیا کیا ہے۔ اگر دنیا سے کتابیں ختم ہوجائیں تو قصے زبانی طور پر زندہ رہیں گے۔ وہ نسل در نسل، سینہ بہ سینہ، پیڑھی در پیڑھی اپنی تخلیق ادب کو دنیا تک پہنچاتے رہیں گے اور پھر کتابیں اور لائبریریاں وجود میں آئیں گی۔ لکھی ہوئی تحریر ہمیشہ اپنا لوہا منواتی ہے۔

    شاید دنیا کے پہلے ادیب نے کونی فارم رسم الخط میں کوئی قصہ ہی لکھا ہوگا، جو دنیا کی 6500 سال پرانی میسوپوٹامیا، سومیری تہذیب و تمدن کی نشاندہی کرتا ہے۔ مصری اہرام اور سوڈانی اہرام دریائے نیل پر قدیم تاریخی آباد شہروں کی گواہی ہیں۔ اردن کے پرانے کھنڈرات اور محلات کا ثبوت ہزاروں سالوں کی انسانی منظم معاشرے کا قدیم حوالہ ہے۔

    آثار قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہورہا ہے کہ وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں 6000 سال پرانی وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، موجودہ روہی چولستان ہے۔ دریائے ہاکڑہ، جسے دریائے گھاگھرا، گھگھر، گھارا، یا دریائے سرسوتی بھی کہا جاتا ہے، کا ذکر دنیا کے قدیم ترین ویدک ادب میں موجود ہے۔

    تقریباً ساڑھے چھ سو سال پرانی قصہ گوئی کی تاریخ کے مطابق، جب دریائے ہاکڑہ نے اوچ شریف میں سیلاب کی صورت میں ورلڈ ہیریٹیج مقبرے بی بی جند وڈی، حلیم و نوریا کے آدھے حصے کو نقصان پہنچایا، تو حکم ربی اور کرامت ولی کامل حضرت شیر شاہ سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ سے دریائے ہاکڑہ واپس چلا گیا اور شہر مزید تباہی سے محفوظ رہا۔

    "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کے مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر ہیں، جبکہ نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو، سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) ہیں۔ شعبہ سرائیکی نے 25 ستمبر 2024ء بروز بدھ اوپن ڈیفنس میں کامیابی پر پی ایچ ڈی ڈگری کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

    بیرونی ممتحن پروفیسر ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی، سابق پرنسپل گورنمنٹ صادق ایجرٹن گریجویٹ کالج بہاولپور اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن، ملتان کیمپس تھے۔ ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر نے ایم اے سرائیکی میں تھیسز بعنوان "احمدپور شرقیہ دی سرائیکی ادبی گوجھی” پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو کی زیر نگرانی 2007ء تا 2009ء مکمل کیا تھا۔

    محقق ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا انتساب اپنے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ کے نام کیا ہے۔ والدین سمیت دنیا کے تمام قصہ گوؤں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    قصہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب واقعہ، حادثہ، کہانی، کتھا، یا داستان ہے۔ سرائیکی وسیب کا خوبصورت جغرافیہ قدرتی حسن سے مزین ہے۔ دھرتی کے باکمال حصوں میں میدانی، پہاڑی، تھلوچڑ اور روہی چولستان واضح ہیں۔ سرائیکی علاقہ اپنے منفرد تہذیب و تمدن، ثقافتی و ادبی ورثے کا مالک ہے۔ یہاں کے قدرتی وسائل میں معدنیات، دستکاریاں اور مال مویشی ملکی معاشی استحکام اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس سال سرائیکی زبان و ادب کو انٹرنیشنل لینگویجز میں شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ عہد کے آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق میں ملنے والے صحرائے چولستان کے مختلف مقامات سے شواہد کے مطابق، وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن (روہی چولستان، گنویری والا، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور وغیرہ) کو وادی سندھ تہذیب و تمدن (ہڑپہ و موہنجوداڑو) کی ماں مانا گیا ہے۔

    ہمیشہ ماں اپنی اولاد پر اپنی تہذیب و تمدن اور تربیتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سرائیکی زبان میں قصہ گوئی ایک قدیم فن ہے۔ شاعری اور نثری ادب میں سرائیکی قصہ اپنی پوری روشن دلیل کے ساتھ نمایاں ہے۔
    جاری ہے۔۔۔

  • سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال
    تحریر:سیدہ کنزا نقوی
    بات کی جائے سرکاری ہسپتالوں کی تو پاکستان بھر میں یہ حالات ہیں کہ مریض کا چیک اپ کروانے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، اور اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش نہ ہو تو پھر آپ کو پرائیویٹ ہسپتال میں ہی اپنا علاج معالجہ کروانے کے لیے جانا ہوگا، کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں بغیر سفارش کے آپ کو سہولیات ملنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دی گئی ہیں۔ ایسا ہی حال آزاد کشمیر مظفرآباد کے سرکاری ہسپتالوں کا بھی ہے، جہاں پر بھی کئی حیران کن واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ڈاکٹرز کی غفلت سے مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں، غلط آپریشن کی وجہ سے مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے یا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو داخل نہیں کیا جاتا۔

    یہ سارا خوف اس لیے پیدا کیا جاتا ہے کہ عوام سرکاری ہسپتالوں کے بجائے ان ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک پر چیک اپ کے لیے جائیں جو خود سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب مریض سرکاری ہسپتال میں ٹیسٹ وغیرہ کروانے جاتا ہے تو اسے ڈرایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی مشینری ناقابل اعتبار ہے جو کبھی چلتی ہے اور کبھی رک جاتی ہے۔ اس پر آنے والی ٹیسٹ رپورٹ بھی ناقابل اعتماد ہوتی ہے، اس لیے مریضوں کو پرائیویٹ کلینک جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جہاں ان سے تسلی بخش چیک اپ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

    یوں مریضوں کو بدظن کر کے انہیں پرائیویٹ کلینک پر بلایا جاتا ہے اور پھر الٹراساؤنڈ، ایکسرے وغیرہ کے نام پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ جو مریض ان ڈاکٹروں کے نجی کلینک پر جانے سے انکار کر دے، اسے یہ کہہ کر ذلیل کیا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے اور اسے ایسے نظرانداز کیا جاتا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی جانور ہو۔

    جو مریض سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کے لیے آتے ہیں، اگر وہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں کی بھاری فیس چکانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو وہ کبھی بھی سرکاری ہسپتال کا رخ نہ کریں۔ پرائیویٹ کلینکوں پر ٹیسٹ کروانے کی بھاری فیسیں، جیسے 1900 روپے یا 1200 روپے الٹراساؤنڈ کے لیے، غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔

    یہاں یہ بات کرنا لازم ہے کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز نے مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بلا کر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھنا ہے اور حکمران یونہی ان ڈاکٹروں کی غنڈہ گردی پر خاموش رہیں گے تو ان سرکاری ہسپتالوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ عوام کو یہ علم ہو کہ انہیں علاج کے لیے بھاری فیس ادا کرنی ہوگی۔

    حکومت وقت سے چند سوالات ہیں:

    کیا سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کا نجی کلینک چلانا قانونی ہے؟
    کیا ان کلینکوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے؟
    کیا حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے خلاف کارروائی کریں گے؟

    عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی تحقیقات کریں اور عوام کے ساتھ ہونے والے اس استحصال کو روکیں کیونکہ سرکاری تنخواہ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کو نجی کلینک کے ذریعے مریضوں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔