Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • میرپورخاص : 17 سالہ لڑکی سے زیادتی، ایس ایس پی کا سخت نوٹس، ملزم گرفتار

    میرپورخاص : 17 سالہ لڑکی سے زیادتی، ایس ایس پی کا سخت نوٹس، ملزم گرفتار

    میرپورخاص، باغی ٹی وی (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ): میرپورخاص کے علاقے سیال کالونی میں رہائشی 17 سالہ لڑکی سگنا کولہی کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس واقعے پر ایس ایس پی میرپورخاص شبیر احمد سیٹھار نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر خبر پھیلنے کے بعد ایس ایس پی نے ایس ایچ او غریب آباد اور ایس ایچ او وومین پولیس کو ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کا میڈیکل معائنہ کروا لیا ہے اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایس ایچ او غریب آباد تھانہ انسپکٹر فیصل شفیع میمن نے اپنی ٹیم کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے ملزم غلام نبی لنگھانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کے خلاف تھانہ وومین پولیس میں زیادتی کا مقدمہ نمبر 37/2024 زیر دفعہ 376,452 تعزیرات پاکستان (3ii) (TIP) ایکٹ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔

    ایس ایس پی میرپورخاص نے ملزم کی فوری گرفتاری پر ایس ایچ او کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

  • کندھ کوٹ: مزاحمت پر ڈاکوؤں نے نوجوان کو قتل کر کے موٹر سائیکل چھین لی

    کندھ کوٹ: مزاحمت پر ڈاکوؤں نے نوجوان کو قتل کر کے موٹر سائیکل چھین لی

    تگوانی ،باغی ٹی وی(نامہ نگار منصور بلوچ) کندھ کوٹ کے قریب دبئی ہوٹل اڈس ہائی وے روڈ پر ڈاکوؤں نے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت کرنے پر 22 سالہ نوجوان عابد علی بھیو کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق، نوجوان نے بہادری سے مزاحمت کی، تاہم ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور موٹر سائیکل لے کر با آسانی فرار ہو گئے۔ پولیس نے مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثہ کے حوالے کر دیا ہے۔

    واقعے کے بعد شہید کے گھر میں غم اور ماتم کی فضا چھا گئی ہے، جبکہ عوام میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد نے پولیس سے فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ٹھٹھہ: بزرگ شہریوں کی پناہ گاہیں تاخیر اور ناقص میٹریل سے تباہی کے خطرے سے دوچار

    ٹھٹھہ: بزرگ شہریوں کی پناہ گاہیں تاخیر اور ناقص میٹریل سے تباہی کے خطرے سے دوچار

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگاربلاول سموں) سندھ حکومت کی جانب سے بزرگ شہریوں کے لیے قائم کی جانے والی پناہ گاہیں ناقص میٹریل اور تاخیر کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان پناہ گاہوں کی حالت اب تک بدتر ہو چکی ہے۔ سندھ سینئر سٹیزن ویلفیئر ایکٹ 2014 کے تحت ان پناہ گاہوں کا قیام ایک دہائی پہلے منظور کیا گیا تھا، مگر اس قانون کی اہم شقیں اب تک نافذ نہیں ہو سکیں۔

    سال 2019 میں سندھ ہائی کورٹ نے ہر ضلع میں ایک اولڈ ایج ہوم قائم کرنے کا حکم دیا تھا، تاکہ بزرگ شہریوں کو رہائش، خوراک اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ تاہم، ان ہدایات پر عمل درآمد میں دانستہ تاخیر کی جا رہی ہے۔

    ٹھٹھہ کے مکلی میں سوشل ویلفیئر آفس کے زیر تعمیر سینئر سٹیزن شیلٹر ہاؤس میں ناقص میٹریل کے استعمال اور غیر ضروری تاخیر کے باعث بارشوں اور دھوپ کی وجہ سے عمارت کی حالت خراب ہو چکی ہے، جس سے کروڑوں روپے کی عمارت کے تباہ ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    بزرگ شہریوں اور سماجی کارکنوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے میں معیار اور تاخیر کا نوٹس لیا جائے اور جلد از جلد پناہ گاہ کی تکمیل کی جائے تاکہ بزرگ شہریوں کو سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ ساتھ ہی اس غفلت کے مرتکب افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • اوچ شریف: ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت، شہری بیماریوں کا شکار

    اوچ شریف: ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت، شہری بیماریوں کا شکار

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان) شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں مبینہ ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی کھلے عام فروخت جاری، جس کے باعث پیٹ اور معدے کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ دودھ اور دہی میں مضر صحت کیمیکلز کی آمیزش کے بارے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں ملاوٹ مافیا کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف شہر میں ناقص اجزاء سے ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت عروج پر ہے، جس سے عوام کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں جیسے الشمس چوک، غوث اعظم چوک، علی پور روڈ، حسینی چوک، ٹینکی چوک وغیرہ میں دکاندار مضر صحت کیمیکلز سے ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی فروخت کر رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ راتوں رات ملاوٹ شدہ دودھ کے ڈرم شہر لائے جاتے ہیں اور انہیں خالص دودھ کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مبینہ خاموشی اور محکمہ کی آشیرباد سے یہ مضر صحت دودھ شہریوں کے معدے اور صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں ملاوٹ شدہ دودھ خریدنا ایک مشکل کام بن چکا ہے، اور فوڈ اتھارٹی سمیت کوئی ادارہ ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے اور ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کو روکا جائے۔

  • آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!

    آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!

    آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!
    تحریرِ:شاہد نسیم چوہدری
    سال 2024 کی آخری سانسیں جاری ہیں اور ہمیں یہ موقع مل رہا ہے کہ ہم اپنی ذات کا احتساب کریں۔ یہ لمحہ نہ صرف اپنے اعمال پر غور کرنے کا ہے بلکہ اپنے معاشرے، ملک، اور انسانیت کے ساتھ کیے گئے رویوں کا جائزہ لینے کا بھی ہے۔ ایک ایسا موقع جو ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے، اپنی کامیابیوں کو سراہنے، اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی تحریک دیتا ہے۔

    سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم نے اپنی ذاتی زندگی میں وہ مقاصد حاصل کیے جن کا عہد سال کے آغاز میں کیا تھا؟ کیا ہم نے اپنی روحانی، جسمانی، اور ذہنی صحت کا خیال رکھا؟ کیا ہم نے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارا، ان کے جذبات کو سمجھا، اور ان کے مسائل حل کیے؟ کیا ہم نے اپنی اخلاقیات کو بہتر بنایا، یا وہی پرانی عادات برقرار رکھیں جو ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں؟ہوسکتا ہے کہ ہم نے کچھ خواب پورے کیے ہوں، لیکن کیا وہ خواب محض ہماری ذاتی خوشی تک محدود تھے؟ کیا ہم نے اپنی زندگی کے فیصلوں میں دوسروں کی بھلائی کو شامل کیا؟ یہ سب سوالات ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

    ہم اس دنیا میں اکیلے نہیں جی رہے۔ ہمارا وجود دوسروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس سال ہم نے کتنے لوگوں کا بھلا کیا؟ کیا ہم نے ضرورت مندوں کی مدد کی؟ کیا ہم نے اپنے پڑوسیوں کے دکھ سکھ میں شرکت کی؟کیا ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے جذبات اور مسائل کو سمجھا؟ یہ سوالات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ہم سے محبت، عزت، اور تعاون کی توقع کرتا ہے۔ اگر ہم نے ان اقدار پر عمل نہیں کیا تو ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔

    پاکستان ایک عظیم نعمت ہےمگر اس کی ترقی اور خوشحالی میں ہم نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے ملک کی بھلائی کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھایا؟ کیا ہم نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، جیسے ٹیکس دینا، قوانین کی پابندی کرنا، اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینا؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے میں تعلیم، صحت، یا انصاف کی بہتری کے لیے کوئی عملی کام کیا؟
    اگر ہم نے ان میں سے کسی بھی میدان میں کردار ادا نہیں کیا، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا ورثہ چھوڑ رہے ہیں۔

    خود احتسابی کی اہمیت بہت زیادہ ہے، لیکن خوداحتسابی ایک مشکل مگر ضروری عمل ہے۔ یہ ہمیں اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا جو ہمیں دوسروں کے لیے مفید بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کے وہ مقاصد ترتیب دینے ہوں گے جو نہ صرف ہماری بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ہوں۔

    آؤ نیا عہد کریں آنے والے سال کی منصوبہ بندی کریں۔ سال 2024 ختم ہونے کو ہے اور 2025 ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ اب وقت ہے نئے عہد کرنے کا۔ ہم عہد کریں کہ آنے والے سال میں ہم دوسروں کے لیے زیادہ حساس ہوں گے۔ہم عہد کریں کہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بھلائی کے لیے بھی کام کریں گے۔ ہم عہد کریں کہ اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں گے۔

    ایک نئی صبح کا آغاز خود احتسابی کا عمل ہمیں بہتر انسان بننے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم دنیا میں محض اپنی خواہشات پوری کرنے نہیں آئے بلکہ ایک مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔اگر ہم نے اس سال غلطیاں کیں تو وہ ہماری ناکامی نہیں بلکہ ہماری اصلاح کا موقع ہیں۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہے۔

    2024 کا سال ہماری تاریخ کا ایک اور باب بن گیا، لیکن کیا ہم نے پاکستان کے لیے وہ کچھ کیا جو ہمارا فرض تھا؟ کیا ہم نے اپنے وطن کو اس کا حق دیا؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، کیا ہم نے ایمانداری، محنت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا؟ یا صرف خواب دیکھے اور دوسروں پر الزام تراشی کی؟
    پاکستان ہمیں ایک نعمت کی صورت میں ملا، مگر کیا ہم نے اسے سنوارنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے ارد گرد کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو سچائی اور دیانت داری کا سبق دیا؟

    آئیں، اپنے وعدے یاد کریں اور عہد کریں کہ 2025 میں ہم اپنے پاکستان کے لیے وہ سب کریں گے جو اس کا حق ہے۔ یہ زمین ہم سے قربانی مانگتی ہے، محبت مانگتی ہے۔ آئیے، اسے وہ سب لوٹائیں جو اس کا ہے۔

  • گوجرانوالہ: کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا گھنٹہ گھر چوک کا دورہ، تجاوزات کے خلاف آپریشن

    گوجرانوالہ: کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا گھنٹہ گھر چوک کا دورہ، تجاوزات کے خلاف آپریشن

    گوجرانوالہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) کمشنر گوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی اور ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن حیدر علی چٹھہ کے ہمراہ گھنٹہ گھر چوک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کارپوریشن عملے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چوک گھنٹہ گھر کے اطراف ہرقسم کی تجاوزات کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

    دورے کے دوران اسکواڈ لیڈر انکروچمنٹ سپرائیٹنڈنٹ رحمت علی انصاری اور انکروچمنٹ انسپکٹر عرفان نسیم بٹ نے تجاوزات نہ ہٹانے پر 3 دوکانیں سیل کر دیں اور 3 افراد کو موقع پر پکڑ کر متعلقہ تھانے کی پولیس کے حوالے کیا، جہاں ان کے خلاف پرچہ درج کروا دیا گیا۔

    اس کے علاوہ، چوک نیائیں سٹی کالج، جی ٹی روڈ، گوندلنوالہ اور ریلوے پھاٹک پر غیر قانونی لنڈا لگانے والی مافیا کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا گیا۔ ہیوی مشینری کی مدد سے 100 کے قریب ہتھ ریڑھیاں ہٹا کر جگہ کو صاف کر دیا گیا۔

    کارپوریشن عملے نے تمام تجاوزات کنندگان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دوبارہ کسی نے بھی اس جگہ پر تجاوزات لگائیں تو ان کے خلاف فوری طور پر پرچہ درج کروایا جائے گا۔

  • حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    جب تاریخ کا فیصلہ لکھا جائے گا، تو وقت کی گرد میں چھپے کئی راز بے نقاب ہوں گے۔ 9 مئی کا دن پاکستان کی سیاست کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ایک تحریک نے اپنے پیروکاروں کو جنونیت کی حد تک دھکیل دیا۔ آج ان واقعات کے نتیجے میں 60 مزید افراد کو فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں، اس سے پہلے 80 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور اب عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو 10 سال قید بامشقت کا سامنا ہے۔

    لیکن ان سزاؤں سے زیادہ اہم، حسان نیازی کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں نے عدالت میں اپنی بے بسی کے عالم میں کہے "میں نے اپنے ماموں عمران خان کے لیے جو قربانیاں دیں، ان کا صلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سالہ قید کے دوران نہ تحریک انصاف نے مجھے پوچھا اور نہ ہی عمران خان نے۔

    یہ الفاظ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کی داستان ہیں جو ایک خواب کے پیچھے اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے۔ ایک ایسا خواب جسے خوابوں کے سوداگر بیچتے ہیں اور عام لوگ اس کے دام میں آ کر اپنے مستقبل کا سودا کر لیتے ہیں۔ حسان نیازی جیسے بے شمار افراد، جنہوں نے اپنے گھر بار، عزت اور آزادی کو ایک تحریک کے لیے قربان کیا، آج اپنی تنہائی اور بے بسی پر ماتم کناں ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے لیڈر پر بھروسہ کیا جو ان کی امیدوں کا مرکز تھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ بھروسہ یک طرفہ تھا۔

    حسان کا گلہ ایک چیخ ہے، جو ان تمام لوگوں کے لیے سبق ہے جو شخصی عقیدت کے اندھے پیچھے چلتے ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی قائدانہ بے حسی کی واضح مثال دیکھنی ہے تو حسان نیازی کی داستان تحریک انصاف کی قیادت کی بے حسی کا مظہر ہے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب ان کے کارکنان مشکل حالات میں ہوں۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اپنے کارکنوں کی حالتِ زار سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ عمران خان جو ایک وقت میں "کپتان” کہلاتے تھے، آج وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف اپنے قریبی قید ہو جانے والے ساتھیوں کے لیے بھی کوئی وقت نہیں نکال پا رہے۔

    یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن صرف ایک زینے کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔ نوجوان نسل کے لیے سبق ہے اور یہ وقت ان تمام نوجوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سیاسی تحریکوں کا حصہ بننے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں۔ جذبات، عقیدت اور جوش و خروش وقتی ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک چلتے ہیں۔ حسان نیازی کے الفاظ ایک آئینہ ہیں، جس میں ہر نوجوان کو اپنا عکس دیکھنا چاہیے۔ کیا کسی تحریک کے لیے اپنی آزادی، عزت اور مستقبل کو قربان کرنا واقعی قابلِ ستائش ہے؟

    سیاست دان چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں، خواب بیچنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ وہ عوام کو ایک ایسا مستقبل دکھاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی یہی کیا، نوجوانوں کو تبدیلی کے خواب دکھائے اور ان کے جوش و خروش کا استعمال کیا۔ لیکن جب وقت آیا کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، تو یہ خواب فروش اپنی جادوئی جھولی لپیٹ کر غائب ہوگئے۔

    حسان نیازی کا پیغام ان تمام افراد کے لیے ایک وارننگ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کے پیچھے اپنی اندھی عقیدت کو قربان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "خدارا، ایسے لوگوں کے پیچھے نہ لگیں اور اپنے مستقبل کو تاریک نہ کریں۔” ان کے یہ الفاظ ان تمام لوگوں کے لیے ایک سبق ہیں جو سیاست کو جذبات کی بجائے شعور سے سمجھنے کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی نسلوں کو ایسے ہی خواب فروشوں کے حوالے کرتے رہیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل انہی وعدوں کے پیچھے گم ہوتا رہے گا جو کبھی وفا نہیں ہوتے؟

    حسان نیازی جیسے نوجوانوں کی قربانی ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ان کے وعدوں کی قیمت عام عوام چکاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خوابوں کے سوداگروں کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی آنکھیں کھول کر اپنے فیصلے کریں۔ اگر ہم نے آج سبق نہ سیکھا تو کل ہماری آنے والی نسلیں بھی ان خوابوں کے جال میں پھنس کر اپنی زندگیاں برباد کریں گی۔

    جو مجرمان تحریک انصاف کے جھانسے میں آ کر اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے اور سزائیں پا چکے ہیں، وہ درج ذیل ہیں، 9 مئی کے حوالے سے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان میں جناح ہاؤس حملے میں ملوث بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت، میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت، رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت، ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت اور علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت اور سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت، پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان پر حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔ سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان سزا پانے والے دیگر ملزمان میں ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ پر حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو 4 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت،

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت سنا دی گئی ہے۔ قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت، پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔

    راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت، جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت،

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال، پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت، ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت دیدی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال، اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال،

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت، گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت اور چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت کی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت جبکہ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نواز ولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لیے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے۔ فیصلہ میں بتایا گیا ہے کہ تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں۔ حسان نیازی نے نوجوانوں کے نام پیغام دیا ہے خدارا! ان سیاسی دھوکے بازوں سے بچ جاؤ۔ میں عمران خان کا بھانجا ہوں، میں نے جو کچھ کیا عمران خان کے لیے کیا۔۔۔۔لیکن کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ سوائے میرے باپ کے، کسی نے بھی مجھے پوچھا تک نہیں۔۔۔۔اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے۔۔تو آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔۔بچ جاؤ ان سے۔۔ان کے ورغلانے سے۔۔۔ان کے جھانسے سے۔۔۔یہی پیغام ہے حسان نیازی کا نوجوانوں کے نام۔۔۔۔۔

  • اوکاڑہ: ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا 31 دسمبر کو اوکاڑہ آمد پر مثالی استقبال ہوگا

    اوکاڑہ: ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا 31 دسمبر کو اوکاڑہ آمد پر مثالی استقبال ہوگا

    اوکاڑہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار ، ملک ظفر) چیئرمین سپریم کونسل تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل فرزند شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، صاحبزادہ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری 31 دسمبر 2024ء بروز منگل دوپہر ایک بجے اوکاڑہ تشریف لائیں گے۔ ان کی آمد کے حوالے سے استقبال کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔

    تحریک منہاج القرآن اوکاڑہ کے ضلعی صدر خالد محمود قادری اور ضلعی ناظم فرید احمد چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا استقبال ایک مثالی استقبال ہوگا، جو فیصل آباد روڈ نہر کے پل پر کیا جائے گا۔ اس استقبال میں تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک سمیت تمام فورمز کے کارکنان بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری فیضانِ کرمانوالا رائس ملز، برلبِ نہر 2 فور ایل میں ایک خصوصی نشست سے خطاب کریں گے۔ اس نشست میں تمام اہلِ اسلام اور اہلِ اوکاڑہ کو دعوت دی جاتی ہے۔ تمام دوست احباب کو اس شاندار استقبال اور خصوصی نشست میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ ان کے اذہان کو منور کیا جا سکے۔

  • گوجرانوالہ: اصلاحی جماعت کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل میلاد و حق باہو کانفرنس کا انعقاد

    گوجرانوالہ: اصلاحی جماعت کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل میلاد و حق باہو کانفرنس کا انعقاد

    گوجرانوالہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگارمحمد رمضان نوشاہی )میونسپل اسٹیڈیم میں اصلاحی جماعت عالمی تنظیم العارفین کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان محفل میلاد مصطفی ﷺ و حق باہو کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ تقریب کی صدارت صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز نے کی، جبکہ مرکزی ناظم اعلیٰ الحاج محمد نواز القادری نے خصوصی خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز القادری نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے بغیر زندگی بے مقصد ہے۔ انسان کی جسمانی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ ظاہر و باطن پاک ہو اور نوجوان نسل کی نظریاتی بنیاد مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کو دین کے قریب لانے اور معاشرے میں امن کے قیام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں دین سے دوری اور افتراق کے چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کے لیے بھی میدان عمل میں آنا ہوگا تاکہ اسلام کے ابدی پیغام کو دنیا بھر میں پہنچایا جا سکے۔

    تقریب میں معظم علی بھٹی ایڈوکیٹ، عثمان افضل چٹھہ ایڈوکیٹ، ملک علی رضا اعوان، رانا عدیل مقبول ایڈوکیٹ، جنید علی ایڈوکیٹ، رائے شکیل حسن ایڈوکیٹ، چوہدری احمد نواز تارڑ، اور اعجاز احمد مگل سمیت معززین، وکلاء، صحافی، اساتذہ، تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • گوجرانوالہ: جی یو جے ورکرز کا اجلاس، پریس کلب الیکشن پر تحفظات کا اظہار

    گوجرانوالہ: جی یو جے ورکرز کا اجلاس، پریس کلب الیکشن پر تحفظات کا اظہار

    گوجرانوالہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس (جی یو جے) ورکرز کا ہنگامی اجلاس پریس کلب کے حالیہ الیکشن کے معاملات پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت جی یو جے ورکرز کے صدر افتخار علی بٹ نے کی، جس میں الیکشن سے متعلقہ گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

    ورکرز یونین نے ووٹر لسٹوں کی تیاری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک مخصوص گروپ پر مکمل عدم اعتماد کا اعلان کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اعتراضات کو دور کرکے جمہوری عمل کو شفاف اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔

    تحفظات کے ازالے کے لیے جی یو جے ورکرز نے صدر افتخار علی بٹ کی قیادت میں 6 رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کے ارکان میں ممبر ایف ای سی عشرت الماس چوہدری، ایڈیشنل جنرل سیکریٹری حافظ شاہد ملک سمیت دیگر شامل ہیں۔

    مذاکراتی کمیٹی دونوں گروپس، حافظ شاہد منیر گروپ اور طارق منیر بٹ گروپ، سے رابطہ کرکے اپنے تحفظات اور اعتراضات ان تک پہنچائے گی۔ اجلاس میں شرکا نے شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔