Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے

    گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے

    گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے
    تحریر: حبیب اللہ خان
    کچھ عرصہ قبل گڑ اور ککو ہر گھر میں عام دستیاب ہوتے تھے(ککوجسے انگریزی میں Blackstrap molasses کہتے ہیں)، خاص طور پر سردیوں میں یہ دونوں اشیاء گھریلو زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھیں۔ گڑ سے بنے میٹھے چاول، جنہیں سرائیکی زبان میں "بھت” کہا جاتا ہے، بڑی محبت اور اہتمام سے تیار کیے جاتے تھے۔ دوست احباب کو بھت کی دعوتیں دینا روایت کا حصہ تھا اور یہ میٹھا پکوان محفلوں کی رونق بڑھاتا تھا۔

    صبح کے وقت ناشتے میں ککو، جس میں دیسی مکھن ڈالا جاتا تھا، توانائی بخش غذا سمجھی جاتی تھی۔ گڑ سے بنی موٹی میٹھی روٹی اور "بُسری” کا تو جواب ہی نہیں تھا۔ یہ خصوصی پکوان دسمبر اور جنوری کی یخ بستہ راتوں میں بڑے اہتمام سے تیار کیے جاتے تھے اور عزیز و اقارب مل بیٹھ کر ایک ہی برتن میں کھاتے تھے، جو خلوص اور محبت کی علامت ہوا کرتا تھا۔

    مگر افسوس کہ ہوشربا مہنگائی اور ذخیرہ اندوز مافیا کی بدولت یہ روایتی پکوان اب صرف یادیں اور کہانیاں بن کر رہ گئے ہیں۔ گڑ اور ککو جیسے عام کھانے جو کبھی ہر گھر کی دسترس میں ہوا کرتے تھے، اب غریب کے لیے خواب بن چکے ہیں۔

    مہنگائی کا طوفان عوام کی زندگی اجیرن بناتا جا رہا ہے اور اب گڑ اور ککو جو پہلے معمولی اشیاء تصور کی جاتی تھیں اب نایاب اشیاء میں تبدیل ہوکر خواب بنتی جارہی ہیں۔ وہ چیزیں جو کبھی ہر گھر کی دسترس میں ہوتی تھیں، آج امیروں تک محدود ہو گئی ہیں۔ گڑ اور ککو جیسی سستی اور مقبول اشیاء جو غریبوں کے لیے خوشی کا باعث بنتے تھے، اب مہنگائی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

    گڑ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ہر طبقے کو پریشان کر دیا ہے۔ گڑ جو پہلے 50 سے 60 روپے فی کلو ملتا تھا اب 150 سے 170 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اس قیمت میں اتنا بڑا اضافہ کیوں ہوا؟ گڑ کی پیداوار میں کمی نہیں آئی لیکن اس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ پروسیسنگ میں زیادہ لاگت نہیں آتی، پھر بھی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ "گڑ مافیا” ہے، جو گڑ کی خرید و فروخت پر قابض ہو چکا ہے اور کسانوں کو اپنی فصلیں انتہائی کم قیمتوں پر بیچنے پر مجبور کر رہا ہے۔

    ککو(Blackstrap molasses)جو کبھی بچوں کا پسندیدہ سستا میٹھا ہوا کرتاتھا اب ان کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔ یہ وہ چیز تھیں جنہیں غریب معمولی قیمت خریدتے تھے لیکن اب اس کی قیمت اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ یہ غریب طبقے کے لیے ایک عیش بن کر رہ گئی ہے۔ جیسے گڑ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے لیے مشکلات بڑھائیں، ویسے ہی ککو کی قیمتوں میں اضافہ بھی غریب خاندانوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔

    غریب طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہے۔ روزمرہ کی ضروریات جیسے آٹا، چاول، سبزیاں اور دالیں، اب ان کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ جب تک حکومت مہنگائی کے اس جن کو قابو نہیں کرے گی، غریب طبقہ اپنی زندگی کی چھوٹی خوشیوں سے بھی محروم رہے گا۔

    عوامی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پردیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ گڑ اور ککو کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کرے۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے غریب طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ اشیاء صرف یادیں بن کر رہ جائیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان مافیا گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو ان بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کر رہے ہیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر گڑ اور ککو کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کی حالت زار میں بہتری لانے کے لیے انہیں مناسب قیمتوں پر اجناس بیچنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مافیا کے شکنجے سے آزاد ہو سکیں۔ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گڑ اور ککو کی قیمتیں عوام کی دسترس میں رہیں تاکہ یہ قدرتی نعمتیں دوبارہ ہر گھر میں میسر ہو سکیں۔

  • سقوطِ ڈھاکہ کا اصل مجرم بنگالیوں نے پہچان لیا۔۔۔!

    سقوطِ ڈھاکہ کا اصل مجرم بنگالیوں نے پہچان لیا۔۔۔!

    سقوطِ ڈھاکہ کا اصل مجرم بنگالیوں نے پہچان لیا۔۔۔!
    تحریر: قاضی کاشف نیاز
    آہ! دسمبر ایک بار پھر آ گیا۔ ہر سال یہ مہینہ ہماری تاریخ کی تلخ ترین یادوں کو تازہ کرنے آتا ہے، لیکن الحمدللہ اس بار تلخیاں شیرینی میں حل ہو کر پہلے سے کہیں کم محسوس ہو رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ اب شام سے بھی خوشی کی خبریں آ رہی ہیں۔ وہ قوتیں جنہوں نے ہمارے بنگالی مسلم بھائیوں کو ہم سے لڑا کر الگ کر دیا تھا اس بار ان کی سازشوں کا جال بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور دنیا ایک بار پھر بدلنے کو تیار ہے۔

    وہی بنگالی جنہیں بھارت نے زہریلا پروپیگنڈا کرکے مغربی پاکستان کی عوام اور فوج کے خلاف کھڑا کیا تھا اور پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوا تھا، آج اس بڑے شیطان (بھارت) کو پہچان چکے ہیں۔ وہ گرزِ ابراہیمی لے کر بھارت کے بڑے آلہ کار اور بنگلہ دیش کے نام نہاد بانی کے بت کو پاش پاش کر چکے ہیں۔ بنگالی بھائیوں نے اپنی واپسی اور "مراجعت الی الحق و الباکستان” کا سفر حیرت انگیز طور پر بڑی تیزی سے شروع کر دیا ہے۔ ہمیں بھی ان کے اس جذبے کا جواب اسی گرمجوشی سے دینا ہوگا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقی پاکستان کے سانحے میں ہم سے بھی کئی غلطیاں ہوئیں لیکن بنگالی بھائیوں نے اپنے تازہ رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ اس سارے معاملے میں اصل قصوروار بھارت تھا، جس نے پاکستان کے وجود کو پہلے دن سے تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس تاک میں رہا کہ کسی طرح دو بھائیوں کے باہمی جھگڑوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نقصان پہنچائے۔

    آج بنگالی عوام نے اپنے ملک میں انقلاب لا کر ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اصل دشمن پاکستان نہیں بلکہ بھارت اور اس کے آلہ کار ہیں۔ وہ بھارت جس نے بنگالی عوام کو اپنے سازشی جال میں پھنسا کر پاکستان کے خلاف کھڑا کیا، آج خود بنگالی عوام کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے۔

    بنگالی عوام نے اپنی تازہ تحریک سے بھارت کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ وہ عوام جو پہلے بھارت کے پروپیگنڈے کے زیر اثر تھے، آج لبیک اللہم لبیک کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ شیخ مجیب اور اس کی بیٹی حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن بنگالی عوام نے اس کے خلاف بغاوت کر دی۔ حسینہ واجد کے خلاف یہ تحریک نہ صرف ایک سیاسی انقلاب ہے بلکہ ایک خالص نظریاتی انقلاب بھی ہے۔ یہ انقلاب اس نظریے کی تجدید ہے جسے پاکستان کے قیام کے وقت دو قومی نظریہ کہا گیا تھا۔

    آج بنگالی عوام بھارت کو دشمن اور پاکستان کو دوست سمجھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈھاکہ میں قائداعظم محمد علی جناح کی برسی اور علامہ اقبال کے یومِ پیدائش کی تقریبات کا انعقاد اسی نظریاتی تبدیلی کا ثبوت ہیں۔

    ہمیں بھی چاہیے کہ ان بچھڑے بھائیوں کو دوبارہ گلے لگانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

  • قومی مفادات کی قربانی، کیا یہی حب الوطنی ہے؟

    قومی مفادات کی قربانی، کیا یہی حب الوطنی ہے؟

    قومی مفادات کی قربانی، کیا یہی حب الوطنی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں کئی مواقع پر قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر قربان کیا گیا ہے، جس کا نتیجہ نہ صرف معیشت کے نقصان بلکہ حب الوطنی کے تصور پر سوالات کی صورت میںسامنے آتا ہے۔ حب الوطنی کا اصل مطلب اپنے ملک کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھنا ہوتا ہے لیکن جب سیاسی مفادات قومی مفادات سے بڑھ جائیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی حب الوطنی کی اصل تعریف ہے؟ موجودہ حالات میں دو اہم واقعات سانحہ 9 مئی اور عمران خان کی ترسیلات زر روکنے کی اپیل سے پاکستان کے موجودہ حالات کو مزید پیچیدہ اور گھمبیر بنا رہے ہیں۔

    9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دنوں میں شمار کیا جائے گا۔ اس دن مسلح افواج کی تنصیبات پر حملے اور قومی اثاثوں کی بے حرمتی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور پوری دنیا نے پاکستان کا تماشہ دیکھاجس سے پاکستان کی دنیا میں رسوائی ہوئی۔ یہ واقعات نہ صرف حب الوطنی کے برعکس تھے بلکہ انہوں نے ملکی اداروں اور قومی یکجہتی کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے ملک کے مفاد کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر ترجیح دے لیکن جب سیاسی اختلافات شدت اختیار کر جائیں اور ریاستی اداروں کی تقدیس کو پامال کیا جائے تو یہ حب الوطنی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

    فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں، یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں، سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے لیکن یہ اس وقت تک مکمل انصاف پر مبنی نہیں ہو سکتا جب تک ان واقعات کے ماسٹر مائنڈز کو بھی عدالت کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ ان اقدامات سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاست اپنے اداروں اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی بغاوت یا مداخلت کو برداشت نہیں کرے گی۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے اس لئے کل سے ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال پر عمل شروع کردیا جائے۔ عمران خان کی طرف سے ترسیلات زر روکنے کی اپیل نے ایک نیا تنازعہ پیدا کیا۔ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اور اس کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ عمران خان کی اپیل کہ ترسیلات زر روک دی جائیں نہ صرف ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ عوام کے لیے بھی یہ قدم انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    یہ اقدام اگرچہ ذاتی یا سیاسی مفاد کے تحت کیا گیا ہو لیکن یہ ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ترسیلات زر روکنے کا مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کوپہلے ہی شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور اس سے عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے جو کہ حب الوطنی کے اصولوں
    سے متصادم ہے۔

    حب الوطنی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ملک کے مفاد کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد سے اہمیت دے۔ جب کسی گروہ یا فرد کی جانب سے قومی اثاثوں پر حملہ کیا جائے یا معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے تو یہ اقدامات حب الوطنی کے برعکس ہیں۔ 9 مئی کے واقعات نے پاکستان کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا اور ترسیلات زر روکنے کی اپیل سے اقتصادی بحران مزید گہرا ہوجائے گا۔ دونوں صورتوں میں ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی گئی، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی حب الوطنی ہے؟

    پاکستانی قوم کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ سیاست یا ذاتی مفادات کے تحت ریاستی اداروں یا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ ہمیں ان عناصر کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات کی خاطر قومی نقصان کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے جو ملکی مفادات کو نقصان پہنچائیں۔ اگر ہم حب الوطنی کے اصل مفہوم کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو ہم اپنے ملک کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان کو اس وقت کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں اتحاد اور حب الوطنی کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں اور عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر ترجیح دینا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے ملک کے مفادات کو اپنے ذاتی مفادات سے مقدم رکھیں اور تمام قومی اثاثوں اور اداروں کے تقدس کو برقرار رکھیں۔

  • اوچ شریف:جامع مسجد و قبرستان اوچ موغلہ کی بے حرمتی جاری، حکام نوٹس نہ لے سکے

    اوچ شریف:جامع مسجد و قبرستان اوچ موغلہ کی بے حرمتی جاری، حکام نوٹس نہ لے سکے

    اوچ شریف، باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) مغلیہ دور کی تاریخی جامع مسجد اور قبرستان اوچ موغلہ کی تقدس کی پامالی اور بے حرمتی کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، جس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

    اس تاریخی اور مذہبی مقام کی چار دیواری نہ ہونے کے باعث قبرستان کی زمین مسلسل سکڑ رہی ہے جبکہ ناجائز قابضین نے اس پر قبضہ جما رکھا ہے۔ قبرستان میں قبروں پر جانور باندھے جا رہے ہیں اور آوارہ کتے اور گدھے اس مقدس مقام کی بے حرمتی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

    بدقسمتی سے اربابِ اختیار اور منتخب نمائندگان (ایم این ایز اور ایم پی ایز) اس سنگین مسئلے پر خاموش ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ قبرستان کے اندر سیوریج کا پانی چھوڑا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس تاریخی مقام کی بے حرمتی ہو رہی ہے بلکہ فضائی آلودگی اور صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔

    علاقے کے مکینوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر قبرستان کی زمین کو ناجائز قابضین سے واگزار کرایا جائے اور چار دیواری کی تعمیر کے احکامات جاری کیے جائیں۔ انہوں نے وزیرِاعظم، وزیرِاعلیٰ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر فوری نوٹس لے کر اس مقدس مقام کی حرمت بحال کریں تاکہ مرنے والوں کی آخری آرامگاہ محفوظ رہ سکے۔

  • اوچ شریف:موٹروے ایم-5 پر حادثہ، چار افراد شدید زخمی

    اوچ شریف:موٹروے ایم-5 پر حادثہ، چار افراد شدید زخمی

    اوچ شریف، باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) موٹروے ایم-5 پر اوچ شریف انٹرچینج کے قریب بستی ڈمر کے علاقے میں تیز رفتاری کے باعث ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں چار افراد شدید زخمی ہوگئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک فارچونر گاڑی بے قابو ہو کر ٹرالر سے ٹکرا گئی، جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ زرائع کے مطابق، زخمیوں میں ایک مرد اور ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر دو زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔

    مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں انجام دیں۔ ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجوہات میں تیز رفتاری اور ممکنہ غفلت شامل ہیں۔ پولیس حادثے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔

  • گوجرہ: پولیس کی بروقت کارروائی سے فرقہ وارانہ کشیدگی کا خطرہ ٹل گیا

    گوجرہ: پولیس کی بروقت کارروائی سے فرقہ وارانہ کشیدگی کا خطرہ ٹل گیا

    گوجرہ، باغی ٹی وی (نامہ نگار عبد الرحمن جٹ) چوکی مونگی بنگلہ کے انچارج محسن صدیق کی بروقت اور دبنگ کارروائی نے ایک بڑے حادثے سے علاقہ کو بچا لیا۔ ڈی ایس پی اختر علی وینس اور ایس ایچ او صدر حاکم علی بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق گوجرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 180 گ ب کے رہائشیوں نے امام مسجد قاری غلام مصطفیٰ کو اطلاع دی کہ شازیہ زوجہ یونس قوم مسیح، سکنہ چک نمبر 180 گ ب، نے اپنے گھر کے باہر کچھ اوراق جلائے ہیں جن میں مبینہ طور پر قرآنی آیات بھی شامل تھیں۔ امام مسجد قاری غلام مصطفیٰ نے فوری طور پر چوکی مونگی بنگلہ کے انچارج کو اطلاع دی۔

    محسن صدیق موقع پر پہنچے اور شازیہ کو حراست میں لے کر تھانہ منتقل کیا۔ موقع پر موجود قاری غلام مصطفیٰ اور میاں زاہد نمبردار نے پولیس کی کارروائی کو سراہا۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی بروقت کارروائی نے علاقے کو ممکنہ بڑے انتشار سے بچا لیا ہے۔

    مقامی پولیس نے معاملے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے شروع کر دی ہے۔ عوام نے پولیس کے کردار کو لائق تحسین قرار دیا ہے اور پرامن ماحول کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

  • اوچ شریف: خاتون پر وحشیانہ تشدد، پولیس سے انصاف کی اپیل

    اوچ شریف: خاتون پر وحشیانہ تشدد، پولیس سے انصاف کی اپیل

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان )نواحی موضع مانک نوشہرہ کی رہائشی خاتون عذرا بی بی نے تھانہ اوچ شریف میں ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں اس نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ خاتون کے مطابق 20 دسمبر 2024 کو صبح کے وقت جب وہ اپنی فصل میں گھاس کاٹ رہی تھی تو ملزمان جہانزیب، محمد شفیق اور غلام حسن مسلح ڈنڈے اور سوٹیاں لے کر آئے اور اس پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔

    عذرا بی بی کا کہنا ہے کہ جہانزیب نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جبکہ محمد شفیق نے تھپڑوں اور مکوں سے تشدد کیا، جس سے اس کے کپڑے پھٹ گئے اور وہ نیم برہنہ ہو گئی۔ خاتون نے مزید بتایا کہ اس دوران اس کی سونے کی چین زمین پر گر گئی، جسے ملزمان نے چوری کر لیا۔ جب اس نے شور مچایا تو اس کے شوہر خلیل احمد اور گواہ حاجی احمد موقع پر پہنچے اور اس کی جان بچائی۔

    عذرا بی بی نے پولیس سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اوچ شریف پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

  • اوچ شریف: کرکٹ اسٹیڈیم کو شہید علی حسن گیلانی کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ

    اوچ شریف: کرکٹ اسٹیڈیم کو شہید علی حسن گیلانی کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان )اوچ شریف کے کرکٹ اسٹیڈیم کو شہید علی حسن گیلانی کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ

    تفصیل کے مطابق صوبائی حلقہ پی پی 250 کے عوام اور مقامی کرکٹ کھلاڑیوں نے اوچ شریف کرکٹ اسٹیڈیم کا نام شہید علی حسن گیلانی کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی کرکٹ کھلاڑیوں شعیب احمد، منا بھائی، سہیل نہایا، مدثر راشد، بلال محسن علی، ذیشان اور دیگر نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی کہ علی حسن گیلانی کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ اقدام کیا جائے۔

    کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ علی حسن گیلانی نے نہ صرف کرکٹ کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا بلکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں بھی اہم کردار نبھایا۔ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں کامیابیاں حاصل کیں اور اوچ شریف میں کرکٹ اسٹیڈیم قائم کر کے علاقے کو کھیلوں کے میدان میں ایک نئی پہچان دی۔ اس اسٹیڈیم کا قیام نہ صرف کھیلوں کی ترقی کا سنگ میل ثابت ہوا بلکہ نوجوانوں کو ایک مثبت اور صحت مند پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔

    علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ شہید علی حسن گیلانی کی قربانیاں اور خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کے نام سے اسٹیڈیم کو منسوب کرنا ان کی قربانیوں کا اعتراف اور نوجوان نسل کے لیے ایک یادگار بن جائے گا۔ مقامی کرکٹ ٹیموں اور شائقین نے اس مطالبے کی بھرپور حمایت کی ہے اور اسے علاقے میں کھیلوں کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔

    عوام نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے شہید علی حسن گیلانی کی قربانیوں اور خدمات کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ کرکٹ کے شائقین اور مقامی کمیونٹی کی جانب سے اس مطالبے کی حمایت جاری ہے، اور انہیں امید ہے کہ ڈپٹی کمشنر بہاولپور اس درخواست پر جلد مثبت کارروائی کریں گے۔

  • اوچ شریف: تجاوزات کے خلاف آپریشن، شہری سہولیات کی نگرانی کا عزم

    اوچ شریف: تجاوزات کے خلاف آپریشن، شہری سہولیات کی نگرانی کا عزم

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تجاوزات کے خلاف آپریشن، شہری سہولیات کی نگرانی کا عزم

    تفصیل کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ محمد نوید حیدر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے گورننس بہتری انیشی ایٹوز کے تحت تجاوزات کے خاتمے اور دیگر اقدامات کی مستقل بنیادوں پر نگرانی جاری رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر بہاول پور ڈاکٹر فرحان فاروق کی خصوصی ہدایات پر سی پیک سے منسلک مرکزی شاہراہوں کو غیر قانونی تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے میونسپل انتظامیہ کو روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کی ہدایت دی گئی ہے۔

    گزشتہ روز اوچ شریف کے عباسیہ روڈ اور للووالی پل کے قریب غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کو ہدایات دیں۔ ان کے ہمراہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی اوچ شریف قاضی محمد نعیم بھی موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ صفائی ستھرائی، سیوریج لائنوں کی صفائی، آوارہ کتوں کی تلفی، عملے کی حاضری، اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کے مکمل فعال ہونے سمیت دیگر امور کی نگرانی کی جائے گی۔

    چیف آفیسر قاضی محمد نعیم نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف مہم بلاتفریق روزانہ کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔ دورانِ آپریشن عباسیہ روڈ اور للووالی پل کے وسط میں قائم تجاوزات کو ہٹا دیا گیا۔ شہریوں نے انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ مہم تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔

  • قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ
    تحریر:ابو سیف اللہ
    پاکستان میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے والے اور خصوصاً تعلیم دینے والے علماء و قراء عموماً تنگ دستی کے عالم میں صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے باوجود دین کا کام کرنے میں علماء کرام کی انتھک کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔

    ملک عزیز پاکستان کے طول و عرض میں جہاں سرمایہ داروں کو لوٹنے کے لیے قسم قسم کی فراڈ اسکیمیں چل رہی ہیں، وہیں پہلے سے مجبور طبقے کو لوٹنے اور تباہ کرنے کے لیے بھی دھوکہ دہی کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، جس پر کہا جا سکتا ہے کہ "مرے کو مارے شاہ مدار”۔

    آج کل ایک نیا فراڈ آن لائن چل رہا ہے جس سے احباب کو آگاہی دینا مقصود ہے تاکہ وہ اس سے بچیں اور کہیں بہتری کے لیے سوچتے ہوئے اپنے ساتھ دھوکہ نہ کر بیٹھیں۔

    جس طرح آن لائن فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر مختلف گیمز کے حوالے سے اشتہارات چلتے ہیں کہ ایک ہی دن میں اتنے پیسے کمائیں۔ یہ گیمز درحقیقت جوئے اور فراڈ پر مبنی ہوتے ہیں، اور ان کے اشتہارات سے شاید ہی کسی کو فائدہ ہوا ہو۔ زیادہ تر لوگ ان سے نقصان اٹھا کر افسوس کرتے نظر آتے ہیں۔

    بالکل اسی طرح کے اشتہارات چل رہے ہیں کہ آن لائن قرآن پڑھانے والے قراء و علماء رابطہ کریں۔ ان اشتہارات کے ذریعے واٹس ایپ پر رابطہ کرنے والے افراد کو ایک گروپ میں شامل کیا جاتا ہے، جہاں صبح سے شام تک مختلف پرکشش پیشکشیں ہوتی ہیں، مثلاً آسٹریلیا، یورپ یا امریکہ میں اردو بولنے والے بچوں کو قرآن ناظرہ پڑھانے کے مواقع، جن کے بدلے 60 پاؤنڈ، 90 ڈالر یا اس سے زیادہ فیس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہوتی ہے کہ اس طالب علم تک رسائی کے لیے پہلے 3000 یا 4000 روپے ادا کیے جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ طالب علم فیس ایڈوانس ادا کرے گا اور دو ماہ کی گارنٹی دی جاتی ہے۔

    اپنی ضروریات کے مارے بے شمار قراء و علماء ان لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور اپنی جمع پونجی یا ادھار کے ذریعے یہ رقم بھیجتے ہیں، اس امید پر کہ اس سے انہیں مستقل آمدن کا ذریعہ میسر ہوگا۔ لیکن ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے؟

    ایڈمن صاحب رقم بھیجنے کے بعد پیسوں کا اسکرین شاٹ طلب کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کون سی پیشکش خریدی جا رہی ہے۔ لیکن جیسے ہی رقم بھیج دی جاتی ہے، ایڈمن صاحب کوئی جواب نہیں دیتے۔ نہ فون کالز اٹھائی جاتی ہیں، نہ میسجز کا جواب دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ واٹس ایپ پر پرائیویسی سیٹنگز کے ذریعے 24 گھنٹے پرانے میسجز خودبخود حذف ہو جاتے ہیں، اور بار بار رابطہ کرنے پر متعلقہ افراد کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔

    ایڈمن کی جانب سے میسجز کی عدم موجودگی کے دعوے اور پیمنٹ کے ثبوت کے انکار سے متاثرہ افراد بے بس ہو جاتے ہیں۔ اور ایسے افراد، جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، نہ تھانے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کر سکتے ہیں، کیونکہ ہماری پولیس بھی معمولی درخواست کے لیے پانچ سات ہزار کے بغیر کچھ نہیں کرتی۔

    تحریر کے ساتھ ایک محترم کی جانب سے فراڈ کے شواہد کے طور پر اسکرین شاٹس موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے فیس ادا کر کے فوری میسج کیا تھا۔ لیکن 24 گھنٹوں کے بعد تمام ٹیکسٹ خودبخود حذف ہو گئے، جس کے باعث فراڈ ثابت کرنا مشکل ہو گیا۔

    یہ تحریر آپ احباب کو خبردار کرنے کے لیے ہے کہ آن لائن ان فراڈ کاریوں سے ہوشیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایسے دھوکہ دہی کرنے والوں سے محفوظ رکھے۔ اور اگر کوئی صاحب اختیار سائبر کرائم سے تعلق رکھتا ہو تو عوام کو ایسے فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے کارروائی کرے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے افراد کو ہدایت دے یا ان کے مظالم کا بدلہ دے۔