Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرہ: چوہدری خالد جاوید وڑائچ کی مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

    گوجرہ: چوہدری خالد جاوید وڑائچ کی مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

    گوجرہ . باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ)چوہدری خالد جاوید وڑائچ کی مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

    تفصیل کے مطابق سابق ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ چوہدری خالد جاوید وڑائچ نے گوجرہ کی کچہری بار میں قریبی دوست مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر بار منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر انہوں نے مرزا طارق محمود کو پھولوں کے ہار پہنائے اور گلدستہ پیش کیا۔

    اس موقع پر سینیئر ایڈوکیٹ چوہدری عباس علی، شیخ محمد فیصل، چوہدری سلیم بسرا، سلمان ایڈووکیٹ، سینیئر ایڈوکیٹ چوہدری محمد افضل، چوہدری وقار افضل، سینیئر ایڈوکیٹ شیخ محمد جاوید اور دیگر کثیر تعداد میں سینیئر وکلا بھی موجود تھے۔ ان تمام وکلا نے مرزا طارق محمود کو کامیاب صدر منتخب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور ان کے مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

  • اوچ شریف: محکمہ لائیو اسٹاک کی غفلت، ویٹرنری ڈسپنسریاں خستہ حال، مویشی پال پریشان

    اوچ شریف: محکمہ لائیو اسٹاک کی غفلت، ویٹرنری ڈسپنسریاں خستہ حال، مویشی پال پریشان

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) محکمہ لائیو اسٹاک کی غفلت، ویٹرنری ڈسپنسریاں خستہ حال، مویشی پال پریشان

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف وگردو نواح میں جانوروں کے علاج کے لئے قائم ہسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ محکمہ لائیو اسٹاک کی طرف سے اس اہم مسئلے پر کوئی سنجیدہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے یہ ہسپتال بنیادی خدمات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہیں۔

    زیادہ تر ویٹرنری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے، جیسے کہ دوائیں، تشخیصی آلات اور عملہ۔ حیدر پور، چناب رسول پور اور دیگر علاقوں کے ویٹرنری ہسپتالوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور وہاں بنیادی ضروریات فراہم نہیں کی جا رہی۔ مویشی پالوں کو اپنے جانوروں کا علاج کرنے کے لئے نان پروفیشنل افراد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو کہ جانوروں کی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ غیر پیشہ ور افراد کے غلط علاج کی وجہ سے کئی قیمتی جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔ مویشی پالوں کو اپنے جانوروں کے علاج کے لئے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ مناسب سہولتوں کی کمی کی وجہ سے پریشانی میں ہیں۔

    اوچ شریف اور اس کے اطراف میں روزانہ سینکڑوں جانور بیمار ہو جاتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ان کے علاج کے لئے مناسب دیکھ بھال کا انتظام نہیں۔ ہسپتالوں میں ویکسین کی کمی اور جانوروں کے علاج کے لئے کسی قسم کی سہولت دستیاب نہیں۔ دیہی علاقوں میں نان پروفیشنل افراد جانوروں کو ٹیکے لگا کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔مویشی پال کسانوں نے ارباب اختیار سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے پر نوٹس لیں اور ہسپتالوں میں ضروری سہولتیں فراہم کریں تاکہ وہ اپنے جانوروں کا مناسب علاج کرا سکیں.

  • کوٹ مبارک پولیس اسٹیشن کی تعمیرات میں محکمہ بلڈنگ کی لاپرواہی یا کرپشن؟

    کوٹ مبارک پولیس اسٹیشن کی تعمیرات میں محکمہ بلڈنگ کی لاپرواہی یا کرپشن؟

    کوٹ مبارک،باغی ٹی وی (نامہ نگارامداد اللہ تھہیم)کوٹ مبارک پولیس اسٹیشن کی تعمیرات میں محکمہ بلڈنگ کی لاپرواہی یا کرپشن؟

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ ڈغازیخان کوٹ مبارک پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت کی تعمیر میں سنگین کرپشن اور ناقص میٹیریل کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت کے لئے جو ٹھیکہ دیا گیا ہے اس میں کم معیار کا میٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عمارت کی پائیداری پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ اس کے طویل عرصے تک کارآمد رہنے کا بھی خطرہ ہے۔

    بنیادی ساخت میں ناقص میٹیریل کا استعمال کیا جا رہا ہے جو عمارت کو وقت سے پہلے ناقابل استعمال بنا سکتا ہے۔ یہ معاملہ کرپشن اور بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔ محکمہ تعمیرات کے افسران نے مرضی کے ٹھیکیدار کو ٹینڈر ذریعے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے جو کہ عوام کےٹیکس کے پیسوں کی بدترین لوٹ مار ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ٹھیکے میں ملوث افراد نے اپنے حصے بٹورنے کے لئے عمارت کی معیار پر سمجھوتہ کیا، جس سے نہ صرف پولیس اسٹیشن کی عمارت کی زندگی کم ہو گی بلکہ عوام کے ٹیکس کےپیسے بھی ضائع ہوں گے۔ اگر یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو کرپشن اور مافیاز کے اثرات مزید گہرے ہو جائیں گے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو گا۔

    اعلیٰ افسران اور حکومتی ذمہ داران سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کرپٹ مافیا کے خلاف فوری قانونی کارروائی کریں اور ایسے منصوبوں کی نگرانی کے عمل کو مزید شفاف بنائیں تاکہ قومی خزانے کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ ایسے کرپٹ مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کر کے ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال ہو سکے اور ملک کی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔

  • پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن

    پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن

    پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    کسی بھی ملک کی ایک مضبوط بحریہ نہ صرف دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے بلکہ اس ملک کی سلامتی اور ترقی کا بھی ضامن ہوتی ہے۔ پاکستان نیوی بھی ایسی ہی ایک مضبوط بحری قوت ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام سے ہی ایک مکار اور بدنیتی پر مبنی پڑوسی سے واسطہ پڑا ہے جو ہمیشہ سے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہا ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نیوی ایک قابل اعتماد اور لائق فوج کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہے

    1947 میں تقسیم ہند کے بعد دونوں ملکوں نے اپنی بحریہ قائم کیں۔ بھارت نے اپنی بحری طاقت میں جلد اضافہ کیا جبکہ پاکستان نے کم وسائل کے باوجود اپنی دفاعی حکمت عملی پر زور دیا۔ وقت کے ساتھ دونوں ممالک نے اپنی بحری صلاحیتوں کو بہتر بنایا لیکن پاکستان نے زیادہ دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دی۔ آج کے دور میں پاکستان کی بحری فوج خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دینیش ترپاٹھی نے پاکستانی بحریہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور چین سے اس کے اشتراک پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انڈین بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ انڈیا پاکستانی بحریہ کی ’حیرت انگیز ترقی‘ سے پوری طرح آگاہ ہے جو آئندہ برسوں میں اپنے موجودہ بحری بیڑے کی صلاحیت 50 بحری جہازوں تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایڈمرل ترپاٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اُن (پاکستان) کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہیں اسی لیے ہم اپنے مفادات پر پڑنے والے کسی ممکنہ منفی اثر کو زائل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی اور آپریشنل منصوبے میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اِس وقت چین پاکستانی بحریہ کی بحری جہاز اور آبدوزیں بنانے میں مدد کر رہا ہے۔

    1947 میں قیام پاکستان کے وقت پاک نیوی بہت کمزور تھی لیکن وقت کے ساتھ یہ ادارہ مضبوط ہوا۔ آج پاکستان نیوی نہ صرف ملکی سمندری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    پاکستان کے پاس تقریباً 45 جنگی جہاز ہیں جن میں چھ آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ مزید آبدوزیں اور جنگی جہاز تیاری کے مراحل میں ہیں جو مستقبل میں نیوی کی صلاحیتوں کو مزید بڑھائیں گے۔ پاکستانی نیوی نے چین کے ساتھ مل کر ٹائپ 054 اے جنگی جہازوں کا معاہدہ کیا جن میں سے دو جہاز حال ہی میں بیڑے میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ بھی جاری ہے جو 2028 تک مکمل ہو گا۔

    پاکستانی نیوی نے ترکی اور رومانیہ کے تعاون سے جنگی جہاز بنائے ہیں جو مستقبل میں پاکستان کی بحری دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط کریں گے۔ اس کے علاوہ کراچی کے شپ یارڈ میں بھی جدید جنگی جہازوں کی تیاری جاری ہے۔ پاکستانی نیوی کی قیادت نے ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے نہ صرف فنڈز حاصل کیے بلکہ جدید ہتھیاروں اور سینسرز کی خریداری کو بھی یقینی بنایا۔

    پاکستان نیوی کے مشنز بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد ملکی سمندری سرحدوں کی حفاظت اور تجارتی راستوں کی نگرانی کرنا ہے۔ پاکستان کی 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے نیوی کا کردار قومی معیشت کے تحفظ میں بھی اہم ہے۔

    پاکستانی نیوی ہر دو سال بعد مشقیں کرتی ہے تاکہ اپنی صلاحیتوں کو جانچ سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ حالیہ مشق ‘سی سپارک 2024’ نے نیوی کی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا۔ ان مشقوں کے دوران نیوی نے بھارتی بحری جہازوں اور آبدوزوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور ان کی جاسوسی کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

    دوسری جانب بھارتی نیوی کی تعداد اور وسائل پاکستان سے زیادہ ہیں۔ بھارت کے پاس 150 بحری جہاز، دو طیارہ بردار جہاز، 16 روایتی اور دو نیوکلیئر آبدوزیں موجود ہیں۔ بھارتی نیوی نے حال ہی میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘آئی این ایس وراٹ’ کی تیاری مکمل کی ہے اور مزید جہاز بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔

    تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی نیوی کی بڑی تعداد کے باوجود ان کی کئی آبدوزیں پرانی ہو چکی ہیں اور جنگی آپریشنز کے لیے غیر موزوں ہیں۔ پاکستان کے پاس موجود روایتی آبدوزیں بھارتی نیوی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ چین کے تعاون سے پاکستان نے ایریا ڈینائل میزائل حاصل کیے ہیں جو 200 سے 400 کلومیٹر تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پاکستان نیوی نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ نیوی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بحری صلاحیتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے لیے بھی ضروری ہے۔

    ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ فیصل شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوکہاکہ پاکستان نیوی نے اپنی حکمت عملی کو خطے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالا ہے۔ چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور جدید جہازوں کی تیاری مستقبل میں پاکستان کو ایک اہم بحری طاقت بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    وائس ایڈمرل ریٹائرڈ احمد تسنیم کے مطابق پاک نیوی کی قیادت نے بہترین فیصلے کیے جن کی بدولت پاکستانی بحریہ نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت بلکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستانی نیوی کی یہ پیش رفت انڈیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کے لیے تیار رہے۔

  • اوچ شریف:مزدور بھٹہ کے اندر گر کر جاں بحق

    اوچ شریف:مزدور بھٹہ کے اندر گر کر جاں بحق

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )مزدور بھٹہ کے اندر گر کر جاں بحق

    تفصیلات کے مطابق ضلع بہاولپور کی تصیل احمدپورشرقیہ کے علاقے موضع واہی جوگیاں میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ملک اکبر کھوکھر کے بھٹہ پر کام کرنے والا ایک مزدور بھٹہ کے اندر گر کر لاپتہ ہو گیا۔ اطلاع ملنے پر کنٹرول روم نے فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا۔

    ریسکیو آپریشن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مزدور کی تلاش کے لئے BPA-30 اور BF-06 کال سائن کے ساتھ گاڑیاں روانہ کی گئیں تھیں

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حادثے میں مزدور جھلسنے کے باعث موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق شخص کی شناخت اورنگزیب ولد احمد بخش، عمر 30 سال سکنہ حامد پور کلاں احمدپور شرقیہ کے طور پر ہوئی ہےجاں بحق ہونے والا مزدوراوچ شریف کے نواحی علاقے حامد پور کلاں کا رہائشی تھا جو کہ واہی جوگیاں میں بھٹہ پر مزدوری کرتا تھا ،ریسکیو سٹاف نے جاں بحق مزدور کی لاش کو اس کے قریبی گھر منتقل کر دیا ہے۔

    ریسکیو آپریشن کی قیادت ابید رحیم ایس سی نے کی، اور آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے

  • بھارتی پارلیمنٹ فری سٹائل ریسلنگ کا میدان بن گئی، راہول گاندھی کے ہاتھوں بی جے پی  وزیرزخمی

    بھارتی پارلیمنٹ فری سٹائل ریسلنگ کا میدان بن گئی، راہول گاندھی کے ہاتھوں بی جے پی وزیرزخمی

    جمعرات کو صبح سویرے بھارتی پارلیمنٹ کو اراکین نے ڈبلیو ڈبلیو ای رائل رمبل کا رنگ بنا دیا، جہاں ہنگامہ آرائی کے دوران حکومتی جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے بزرگ کے رکن پارلیمنٹ زخمی ہوگئے۔

    بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ چندر سارنگی کے جمعرات کو زخمی ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں کشیدگی پھیل گئی۔

    یہ ہنگامہ آرائی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر پر کئے گئے تبصرے کے خلاف لئے گئے احتجاج کے درمیان ہوئی۔

    بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ایک رکن اسمبلی کو دھکا دیا، جو پرتاپ چند سارنگی پر گر پڑا۔
    سارنگی نے کہا کہ ’میں سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا جب راہل گاندھی آئے اور ایک رکن اسمبلی کو دھکا دیا جو مجھ پر گر پڑا اور میں بھی گر پڑا‘۔

    اپنے دفاع میں راہول گاندھی نے کہا کہ وہ داخلی دروازے کے پاس کھڑے تھے جہاں بی جے پی ممبران اسمبلی ان کا راستہ روک رہے تھے۔

    خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں امیت شاہ کے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے بارے میں کیے گئے تبصرے پر پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں وزیر داخلہ امت شاہ سے لگاتار استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    اس تنازعے میں تمل سپر اسٹار اور تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کے سربراہ وجئے بھی کود پڑے ہیں۔

    دلت تنظیموں نے ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے امیت شاہ کا پتلا پھونکا، جبکہ کچھ جگہوں پر کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیموں اور خود کانگریس کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے امیت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

    یہ تنازع اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ اب حکومت سے سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندرا مودی خود امیت شاہ کے دفاع میں اترے، لیکن دن بھر میں جیسے جیسے ان کے بیان کا ویڈیو وائرل ہوتا رہا امیت شاہ کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوتا رہا۔

    اب عالم یہ ہے کہ بی جے پی اور حکومت کی جانب سے مسلسل صفائی پیش کی جارہی ہے اور دھیان بھٹکانے کے لئے کانگریس پر مسلسل حملے بھی کئے جارہے ہیں، لیکن یہ تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

  • روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    باغی ٹی وی (ویب ڈیسک)روس نے کینسر کی ویکسین تیار کرلی ہے اور اسے مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روسی وزارت صحت کے مطابق یہ ویکسین کینسر ہونے سے روک نہیں سکتی لیکن اس کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

    یہ ویکسین mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور 2025 کے اوائل میں لانچ کی جائے گی۔ روسی حکومت اس کی ایک ڈوز پر 2 ہزار 869 ڈالر خرچ کرے گی لیکن اسے روس کے کینسر مریضوں میں بلا معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔

    ویکسین ہر مریض کو اس کے کینسر کی نوعیت کے مطابق دی جائے گی۔ تاہم، تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ویکسین کس قسم کے کینسر کے لیے زیادہ مؤثر ہے اور کس حد تک علاج میں معاون ہوگی۔

    روسی وزارت صحت کے ریڈیولوجی میڈیکل ریسرچ سینٹر کے سربراہ آندرے کپرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں روس میں کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2022 میں 6 لاکھ 35 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کا کینسر سب سے عام ہیں۔

    یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور ٹیومر سے متاثرہ حصوں کو کینسر سے لڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ روسی عوام کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے جو ان کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

  • سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہدریاض)انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

    تفصیل کے مطابق ضلع سیالکوٹ میں جاری سپلیمنٹری قومی انسداد پولیو مہم کے پہلے تین دنوں میں پانچ سال سے کم عمر 7 لاکھ 48 ہزار 421 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ یہ بات ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے ایک اجلاس میں بتائی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مہم کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں کچی آبادیوں، خانہ بدوش اور مائیگرنٹ موبائل پاپولیشن کو بھی کور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ٹارگٹ کے مطابق 94 فیصد بچوں کو کور کیا جا چکا ہے اور باقی بچوں کو بھی مہم کے اختتام تک کور کر لیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کا تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک مہلک بیماری ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے پولیو کے قطرے پلائینا بہت ضروری ہے۔

  • سیالکوٹ: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا ذکر قلبی اجتماع، ملکی ترقی کے لیے دعائیں

    سیالکوٹ: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا ذکر قلبی اجتماع، ملکی ترقی کے لیے دعائیں

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض)سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الااخوان ضلع سیالکوٹ کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں ضلع بھر سے سینکڑوں سالکین نے شرکت کی جس میں خواتین کی تعداد بھی قابل ذکر تھی۔

    اس موقع پر شیخ سلسلہ اور تنظیم الااخوان پاکستان کے سربراہ امیر عبدالقدیر اعوان نے سالکین سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ صاحب مجاز عبدالحمید چھینہ ایڈووکیٹ نے نئے آنے والے ساتھیوں کو طریقہ ذکر سکھایا۔ ضلع سیالکوٹ کے جنرل سیکرٹری عارف رفیق نے ضلع بھر کے ذمہ داران سے مختصر خطاب کرتے ہوئے تنظیمی امور پر روشنی ڈالی۔ آخر میں ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

  • گھوٹکی شوگر مل انتظامیہ پر الزامات، کسانوں اور تاجروں کا احتجاج

    گھوٹکی شوگر مل انتظامیہ پر الزامات، کسانوں اور تاجروں کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار باغی ٹی وی مشتاق علی لغاری) گھوٹکی شوگر مل غلام محمد مہر کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کسانوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ مل کے کین افسران پنو خان اور عبدالفتاح کی جانب سے بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے، جس نے گنے کی خریداری کے عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔

    کسانوں اور تاجروں کے مطابق، کین افسران کا کہنا ہے کہ اگر 5000 روپے رشوت دی جائے تو گنے سے بھری گاڑی کو مل کے اندر داخل ہونے دیا جائے گا، چاہے اس میں گند اور کچرا ہی کیوں نہ ہو۔ بصورت دیگر، گاڑی کو یا تو مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر 25 سے 35 فیصد کٹوتی کے ساتھ اندر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

    مزید براں، ان افسران کے مبینہ بروکر کسانوں کو دھمکاتے ہیں اور ناقص معیار کے گنے کو اندر بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ کسانوں نے شکایت کی ہے کہ یہ صورتحال ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے اور وہ مالی نقصان اٹھانے پر مجبور ہیں۔

    کسانوں اور تاجروں نے شوگر مل کے مالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو وہ مزید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    یہ صورتحال نہ صرف کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ علاقے کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ کسانوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور کسانوں کو ان کے حقوق دلانے میں مدد فراہم کریں۔