Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ : تحفظ ختم نبوت کونسل کے زیر اہتمام عظیم الشان ٹیچرز کنونشن کا انعقاد

    ننکانہ : تحفظ ختم نبوت کونسل کے زیر اہتمام عظیم الشان ٹیچرز کنونشن کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) تحفظ ختم نبوت کونسل ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام "عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے ایک عظیم الشان ٹیچرز کنونشن مقامی شادی ہال میں منعقد ہوا۔ کنونشن کی صدارت امیر جماعت تحفظ ختم نبوت کونسل، حبیب احمد عابد نے کی۔

    کنونشن کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، جس کی سعادت علامہ قاری فیض نے حاصل کی، جبکہ نعت رسول مقبول ﷺ محمد لطیف نے پیش کی۔

    کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ثاقب رضا گیلانی، علامہ مولانا محمد نوید اقبال چشتی، اور سرپرست تحفظ ختم نبوت کونسل محمد متین خالد نے عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر مدلل اور جامع گفتگو کی۔

    محمد متین خالد نے اپنے خطاب میں اساتذہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم و تدریس ایک عظیم شعبہ ہے اور اساتذہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبا میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کے قیمتی ایمان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ کا کردار کلیدی ہے۔

    جماعت کی جانب سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت کے موضوع پر لٹریچر تقسیم کیا گیا، جبکہ شرکاء نے کونسل کی رکنیت بھی حاصل کی۔

    ٹیچرز نے کنونشن کے مقاصد کو سراہتے ہوئے مزید ایسے پروگرامز کے انعقاد پر زور دیا۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کی ضیافت کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کیا گیا۔

    یہ کنونشن عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔

  • غم کی ماری انسانیت بولتی ہے

    غم کی ماری انسانیت بولتی ہے

    غم کی ماری انسانیت بولتی ہے
    فیصل رمضان اعوان
    14دسمبر کو لاہور کی ایک خوبصورت ادبی تقریب میں عدم شرکت پرہم ایک عجیب سی الجھن اور پچھتاوے کا شکار ہیں پاکستان رائٹرز کونسل کے چیئرمین چھوٹے بھائی مرزا یسین بیگ صاحب سے کیا گیا وعدہ بھی پورا نہ ہوا ،سجادجہانیہ کی تحریروں پر مشتمل کتاب کہانی بولتی ہے کی تقریب رونمائی کو براہ راست دیکھنے سننے کا اتفاق نہ ہوسکا

    سجاد جہانیہ جیسا کہ وہ منفرد اسلوب کے لکھاری ہیں ان کی منفرد اور گزرے ہوئے بھولے بچپن کی اپنی یادیں تازہ کرنے سے بھی رہے افضل عاجز کی خوبصورت اور سبق آموز باتوں سے محرومی پر بھی دل مغموم ہے، ادبی دنیا کے ایک بڑے نام جناب اصغرندیم سید کی میٹھی گفتگو بھی نہ سن سکے ،عطاالحق قاسمی بھی اس پیاری محفل میں تشریف لائے تھے ان کی بیان کردہ نصیحتوں سے بھی مستفید نہ ہوسکے ،گل نوخیز اختر کی محبتوں بھری سچی داستانیں تک بھی نہ سن سکے

    اس سے قبل اسی ای لائبر یری کے ہال میں سجاد جہانیہ کی تصنیف” ٹاہلی والا لیٹربکس” کی تقریب رونمائی میں شرکت آج تک نہ بھلا سکے ،وہ محفل بھی بڑی شاندار تھی، لکھنے والے ان خوبصورت لوگوں میں گزری چند گھڑیاں ہم جیسے آوارہ لکھاریوں کے لئے گویا صدیوں کا پیغام ہوتی ہیں، ان سنئیرزاحباب کے ساتھ بیٹھے چند لمحے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں.

    14دسمبر کی اس ادبی بیٹھک کا حال احوال بھی لگ بھگ چارروز بعد ہوا چونکہ تقریب کا انعقاد وسط دسمبر میں کیا گیا ویسے ہمارے بچپن کے دسمبر کی یادوں نے آج تک پیچھا نہ چھوڑا، اداس شاموں اور گہری تاریک راتوں کو بھلا کیسے بھلایا جاسکتا ہے، ہم بھی خیر سے حسب معمول ہر سال دسمبر کے سحر میں گرفتار ہونے کے لئے گاؤں ضرور جاتے ہیں لیکن اس بار دسمبر کی راتوں میں چلنے والی سرد ہواؤں نے وہ موسیقی نہیں سنائی جو ہم اکثر تنہائی میں گھر کے آنگن سے دور نکل کر سنا کرتے تھے فاروق روکھڑی مرحوم کی غزل کا ایک شعر ہے
    تھیں جن کے دم سے رونقیں وہ شہروں میں جابسے
    ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا

    لیکن یقین کریں اس بار گاؤں ویران لگا تاحد نگاہ گندم کے کھیت ویران سرسوں کے پھولوں کی وہ ٹھنڈی ٹھنڈی خوشبوئیں نجانے کہاں لاپتا ہوگئی ہیں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ہرطرف مٹی کے گردو غبار ،سرما میں جھڑیوں کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور گھر کے پرانے کوٹھوں کے کچے چھت سے بارش کے قطروں کی ٹپکتی وہ مسحورکن آوازیں سب نظارے نجانے کہاں کھو گئے ہیں ،حضرت انسان کی ایک دوسرے کے لئے پیدا کردہ جدید آسائشیں اور سہولتیں کہیں تو ان کا وجود ہوگا لیکن ہمارے ان گاؤں دیہاتوں میں ستے خیراں ہیں ،نہ سڑکوں کا وجود ،نہ ہی تعلیم، نہ صحت ،نہ ہی سماجی رابطوں کی جدید ٹیکنالوجی انٹرنیٹ اور نہ ہی موبائل فون کی سروس

    کہانی بولتی ہے کے مصنف محترم سجاد جہانیہ صاحب اگر ہمارے ان دور دراز علاقوں میں کبھی تشریف لے آئیں تو ہمیں امید ہے کہ وہ کہانی بولتی ہے تصنیف کے بعد” غم کی ماری انسانیت بولتی ہے” لکھیں گے لیکن بہرحال ہم 14دسمبر کی لاہور میں منعقدہ تقریب میں شرکت نہ کرنے پر اپنے آپ سے بہت ناراض ہیں کیونکہ اپنے گاؤں کوٹ گلہ ضلع تلہ گنگ کی دھول اڑاتی کچی سڑکوں کی حالت زار تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ہمارے مستقبل کے معمار وطن ہماری نوجوان نسل کا تاریک مستقبل یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے یقین کریں دکھ ہوتا ہے ہماری نسل اس تیز ترین دنیا کے ساتھ کیسے چل سکے گی، جہاں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتیں ہی ناپید ہوں، شاید ہماری ان محرومیوں کو سمجھنے والا کوئی نہ ہو لیکن یقین کریں یہ وہ کرب ناک اور اذیت ناک دکھ ہیں جن کا رونا ہم ایک عرصے سے رو رہے ہیں لیکن ہمارے ان مسائل میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے

    لاہور کی ایک پیاری محفل میں شرکت نہ کرنے اور اچانک گاؤں جانے کے تجربے نے اس بار ہمیں بہت رلایا ہے” کہانی بولتی ہے ” تاحال ہم تک نہیں پہنچ سکی، انشااللہ جلد ہی کتاب کے حصول کو ممکن بنائیں گے اس کا مطالعہ کریں گے اور اس کے بعد ہم "غم کی ماری انسانیت بولتی ہے "کی تحریر کے لئے کوششیں تیز کردیں گے .
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

  • اوچ شریف :طاہر والی پرٹریفک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوچ شریف :طاہر والی پرٹریفک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )طاہر والی پرٹریفک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف کے قریب طاہر والی کے مقام پر ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں ایک موٹر سائیکل سلپ ہونے کی وجہ سے دو افراد شدید متاثر ہوئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق20 دسمبر 2024 کی شام 5:58 پر موصول ہونے والی ہنگامی کال کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیم 16 منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچی۔ حادثہ طاہر والی کے قریب پیش آیا جہاں ایک موٹر سائیکل سلپ ہونے سے دونوں سوار روڈ پر جا گرے اور پیچھے سے آنے والا گیس بوزر ان کے اوپر چڑھ گیا۔ حادثے کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا معمولی زخمی ہوا۔

    ریسکیو سٹاف کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص محمد ارشد (27 سال) کا آدھا جسم گیس بوزر کے ویلوں میں پھنس گیا تھا۔ ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر باڈی کو نکالنے کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا۔ دوسرا فرد محمد تنویر (34 سال) معمولی زخمی تھا، جسے جائے وقوعہ پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور صورتحال کو کنٹرول کیا۔

  • ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو اور رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد سے ملاقات کی، جس میں ڈیرہ غازی خان میں جاری انسداد پولیو مہم کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    عظمیٰ کاردار نے ڈی سی آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پولیو فری پاکستان کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ غازی خان میں انسداد پولیو مہم کی 98 فیصد کوریج کو سراہا اور بتایا کہ ان کا دورہ پولیو مہم کی نگرانی اور پڑتال کے سلسلے میں ہے۔

    فوکل پرسن نے کہا کہ پنجاب بھر میں پولیو مہم کی مؤثر نگرانی کی گئی ہے، اور پاکستان و افغانستان مشترکہ طور پر پولیو کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کی وجہ سے انوائرمینٹل سیمپلز کے پازیٹیو آنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان، سندھ، اور خیبر پختونخوا کے ساتھ انسداد پولیو کے لیے قریبی رابطے میں ہیں۔

    انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو ملک کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا۔ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ حکومت، عوام، اور میڈیا کے تعاون سے جلد پولیو جیسے موذی مرض پر قابو پا لیا جائے گا۔ انہوں نے بارڈر کے قریب واقع ڈیرہ غازی خان میں پولیو مہم کے کامیاب انعقاد پر انتظامیہ اور کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں میں مقامی پولیو ورکرز کی خدمات کو بھی سراہا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کے تمام قبائلی بچوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا گیا ہے، اور پولیو فری ڈیرہ غازی خان کے لیے پرامید ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ادریس لغاری نے بتایا کہ کوہ سلیمان میں ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، اور قبائلی علاقوں میں ایڈز اسکریننگ کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔

    قبل ازیں، عظمیٰ کاردار نے دریائے سندھ کے کنارے بچوں کی ویکسینیشن کے عمل کا معائنہ بھی کیا اور انسداد پولیو کی مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • قائداعظم گیمز: خیبرپختونخوا کی ایتھلیٹکس میں شاندار کامیابی، 18 میڈلز جیتے

    قائداعظم گیمز: خیبرپختونخوا کی ایتھلیٹکس میں شاندار کامیابی، 18 میڈلز جیتے

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ)قائداعظم بین الصوبائی گیمز میں خیبرپختونخوا کے ایتھلیٹکس کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 18 میڈلز جیت کر مردوں کے ایونٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ اسلام آباد میں منعقدہ ان مقابلوں میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے 6 گولڈ، 5 سلور اور 7 برانز میڈلز حاصل کیے۔

    مردوں کی کیٹگری میں خیبرپختونخوا نے 5 گولڈ، 3 سلور اور 4 برانز میڈلز جیتے، جبکہ خواتین کی کیٹگری میں ایک گولڈ، دو سلور اور تین برانز میڈلز اپنے نام کیے۔ یہ شاندار کامیابی خیبرپختونخوا کی ایتھلیٹکس ٹیم کی بہترین تیاری اور کوچز کی محنت کا نتیجہ ہے۔

    اس کامیابی کا سہرا کوچز عابد آفریدی، سید جعفر شاہ، سہیل، عدنان، اور فیمیل کوچ فاطمہ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے شفاف ٹرائلز کے ذریعے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کوالیفائیڈ کوچز کے زیر نگرانی ٹریننگ دی۔ اس تربیت کا نتیجہ خیبرپختونخوا کی شاندار کارکردگی کی صورت میں سامنے آیا۔

    مقابلوں کے دوران خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے سپورٹس مین اسپرٹ اور عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا، جو کسی بھی اچھے کھلاڑی کی پہچان ہے۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں فرمان علی (لانگ جمپ)، وسعی اللہ (ڈسکس تھرو)، بلال (جیولن تھرو)، عطا اللہ (400 میٹر ریس اور 4×400 ریلے ٹیم ایونٹ) شامل ہیں، جنہوں نے گولڈ میڈلز حاصل کیے۔

    سلور میڈلز جیتنے والوں میں عطا اللہ (100 میٹر دوڑ)، اسامہ خالد (200 میٹر دوڑ)، اور حماد خان (لانگ جمپ) شامل ہیں، جبکہ برانز میڈلز جیتنے والوں میں ہائی جمپ، 110 میٹر ہرڈلز، 1500 میٹر ریس، اور 400 میٹر ریس کے کھلاڑی شامل ہیں۔

    خواتین کیٹگری میں ایمن شہزاد نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتا، مناحل نے ڈسکس تھرو میں سلور میڈل حاصل کیا، اور ریحاب علی نے 100 میٹر ہرڈلز میں سلور میڈل جیتا۔ ایمن، راشیدہ، اور 4×100 میٹر ٹیم ایونٹ کی خواتین نے برانز میڈلز جیتے۔

    ایتھلیٹکس کوچ عابد آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے صوبے اور ملک کا نام روشن کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ نیشنل گیمز میں بھی وہ اسی جوش و جذبے سے حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے محدود وسائل کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو قابل تحسین ہے۔

  • تلہ گنگ:فرینڈز ویلفیئر فاؤنڈیشن کا غریب طلباء کے لیے انوکھا اقدام

    تلہ گنگ:فرینڈز ویلفیئر فاؤنڈیشن کا غریب طلباء کے لیے انوکھا اقدام

    تلہ گنگ،باغی ٹی وی (نامہ نگار شوکت علی ملک ) فرینڈز ویلفیئر فاؤنڈیشن نے گورنمنٹ ہائی سکول صادق آباد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں 30 مستحق طلباء کو سردیوں کے موسم کے لیے سویٹر اور جوتے فراہم کیے گئے۔

    اس اقدام کا مقصد غریب، نادار اور مستحق افراد کی مدد کرنا ہے۔ فاؤنڈیشن کے سربراہ منیر احمد نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ادارہ ہمیشہ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور معذور افراد کی مدد کے لیے کوشاں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فاؤنڈیشن کا قیام ہی ان افراد کی زندگیوں میں بہتری لانے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

    تقریب میں سکول کے ہیڈماسٹر امتیاز اختر اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے فرینڈز ویلفیئر فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات معاشرتی بہتری کے لیے اہم ہیں۔ فاؤنڈیشن کی یہ مہم غریب طلباء کی زندگیوں میں سردیوں کی سختیوں سے بچاؤ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، اور یہ فاؤنڈیشن کی جانب سے غریبوں کے لیے مسلسل خدمت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

  • اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    باغی ٹی وی(اٹک سے ملک امان شجاع کی رپورٹ) حکومت پنجاب لائیو اسٹاک اور زراعت کے شعبوں کی ترقی کے لیے سرگرم عمل ہے، جس کا مقصد مویشی پال حضرات کی معیشت کو بہتر بنانا اور گوشت و دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ بات ملک حمید اکبر خان نے لائیو اسٹاک کارڈ کی تقسیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک اٹک، ڈاکٹر اویس اکرم نے تقریب میں حکومت پنجاب کے ویژن پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ محکمہ لائیو اسٹاک وزیر لائیو اسٹاک و ایگریکلچر اور سیکرٹری لائیو اسٹاک کی زیر نگرانی عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اٹک میں 25 لائیو اسٹاک کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں، جو مویشی پال حضرات کے لیے ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

    لائیو اسٹاک کارڈ حکومت پنجاب اور بینک آف پنجاب کے اشتراک سے جاری کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مویشی پال حضرات کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ ان قرضوں سے جانوروں کی خوراک میں بہتری لا کر گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف مویشی پال حضرات کی معیشت مضبوط ہو گی بلکہ صوبائی اور قومی سطح پر گوشت کی ضروریات بھی پوری ہوں گی۔

  • پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں پاک فوج کا کردار ہمیشہ بے مثال رہا ہے۔ چاہے جنگ ہو، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، قدرتی آفات یا عالمی امن مشنز، پاک فوج نے ہر موقع پر اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

    2000 کے بعد کا دور پاکستان کے لیے ایک ہولناک حقیقت تھا۔ دہشت گردی کے حملوں نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بازار، تعلیمی ادارے، مساجد، اقلیتوں کی عبادت گاہیں اور ہسپتال تک محفوظ نہ تھے۔ خوف و دہشت نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی تھی۔ ایسے میں پاک فوج نے خفیہ اداروں کے تعاون سے ایک منفرد حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے شہری علاقوں کو محفوظ رکھنے کی خاطر دہشت گردوں کے خلاف انتہائی مشکل اور پیچیدہ آپریشنز کیے۔ ہر گلی اور ہر محاذ پر ان جوانوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کو شکست دی۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں دشمن چھپ کر وار کرتا تھا لیکن پاک فوج نے نہ صرف ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا۔

    قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج نے ہر جنگ میں جرأت اور بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 1947 کی جنگِ کشمیر، 1965 کی فتح یا 1999 کی کارگل وار، پاک فوج کے سپاہیوں نے ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر سرحدوں کی حفاظت کی۔ 21ویں صدی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ دنیا میں ایک منفرد مثال ہے، جہاں پاک فوج نے نہ صرف دشمن کو شکست دی بلکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور عوام کی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    پاک فوج کی قربانیاں صرف جنگوں تک محدود نہیں۔ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران پاک فوج نے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ یہی نہیں عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی فوجیوں نے نمایاں کردار ادا کیا، کئی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے امن کے فروغ کے لیے اپنا حصہ ڈالا۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر کچھ حلقے اپنی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاک فوج کی قربانیوں کو فراموش کر کے منفی بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو آج ملک میں امن و سکون کا خواب بھی ممکن نہ ہوتا۔ یہ ادارہ ہمارا فخر ہے اور اس کے خلاف سازشیں شہدا کے خون کی توہین ہیں۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی افواج کی قربانیوں کا اعتراف کریں اور ان کے وقار کو بلند کریں۔ ہمیں اپنی فوج کے خلاف منفی بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے ان قربانیوں کو سراہنا چاہیے جو وہ دن رات ہمارے تحفظ کے لیے دے رہی ہے۔ پاک فوج کے ہر سپاہی کی قربانی ہماری آزادی اور سکون کی ضمانت ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ان کے خلاف ہونے والے ہر پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیں گے۔

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاں ہمارے لیے امید کی کرن ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج ہم ایک محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ان کا احترام کرنا ہوگا۔ پاک فوج ہماری سرزمین کی محافظ ہے اور اس کا ہر جوان ہمارے وقار اور آزادی کی علامت ہے۔
    پاک فوج زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں سیوریج سسٹم ناکام، کروڑوں کے فنڈز کرپشن کی نذر

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں سیوریج سسٹم ناکام، کروڑوں کے فنڈز کرپشن کی نذر

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ٹیچنگ ہسپتال میں سیوریج سسٹم ناکام، کروڑوں کے فنڈز کرپشن کی نذر

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے ٹیچنگ ہسپتال میں انتظامی نااہلی اور کرپشن نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایم ایس عبد الرحمن عامر، بلڈنگ ایکسئین شہزاد سمیع اور سب انجینیئر فیاض کھوسہ کی زیر نگرانی کروڑوں روپے کے فنڈز ہسپتال کی سیوریج نظام کی بحالی کے لیے جاری کیے گئے لیکن یہ رقم کرپشن کی نذر ہو گئی۔ نتیجتاً ہسپتال کے سیوریج کا نظام ابتر ہوچکا ہے۔

    ہسپتال کے مین ہول کھلے پڑے ہیں اور گٹر ابل رہے ہیں، جس کے باعث پارکنگ ایریاز اور گراسی پلاٹس گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہر طرف سیوریج کا پانی اور کیچڑ پھیلا ہوا ہے، جو ہسپتال آنے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ مریضوں کو نہ صرف اپنے کپڑوں کے خراب ہونے کا سامنا ہے بلکہ بدبو اور گندگی نے پورے علاقے کے ماحول کو خراب کر رکھا ہے۔

    محکمہ ہیلتھ نے سیوریج سسٹم کی بحالی کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے تھے جو ہسپتال انتظامیہ کے ذریعے محکمہ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کیے گئے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ فنڈز بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ضائع ہو گئے اور سیوریج سسٹم کی بحالی کے لیے کوئی موثر کام نہیں کیا جا سکا۔

    شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی خراب حالت انتظامیہ کی غفلت اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ ناصر قریشی، رانا انتظار، الیاس، بخت علی، عاشق علی اور ساجد خان جیسے نمائندہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کمشنر ناصر محمود بشیر، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اس معاملے میں فوری ایکشن لیں۔

    عوام کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی سیوریج نظام کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہسپتال انتظامیہ کے لیے نئے افسران تعینات کیے جائیں اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے موقع پر وزٹ کرکے معاملات کا جائزہ لیا جائے۔

  • اٹک:نواب شاہ زین بگٹی کا بارانی ادارہ خیری مورت کا دورہ، تحقیقی سرگرمیوں کی تعریف

    اٹک:نواب شاہ زین بگٹی کا بارانی ادارہ خیری مورت کا دورہ، تحقیقی سرگرمیوں کی تعریف

    باغی ٹی وی(اٹک سےملک امان شجاع کی رپورٹ)صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر نواب شاہ زین بگٹی نے تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک میں واقع بارانی ادارہ تحقیقات افزائش حیوانات خیری مورت کا تفصیلی دورہ کیا۔ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر مرتضی علی ٹیپو، ڈائریکٹر بارانی لائیو اسٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ خیری مورت نے انہیں خوش آمدید کہا اور ادارے کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بریفنگ دی۔

    تفصیلی بریفنگ کے دوران سابق وفاقی وزیر کو ادارے میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں اور اس کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ علاقہ پوٹھوہار وسیع و عریض رقبہ پر پھیلا ہوا ہے جہاں فصلات کی کاشت محدود ہے، لیکن غیر آباد رقبہ جات اور جنگلات پر گھاس، جڑی بوٹیاں اور درخت بڑے پیمانے پر موجود ہیں جو مویشیوں کے لیے بہترین چارہ فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے لوگ اپنے ذرائع معاش کا بڑا حصہ مال مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

    نواب شاہ زین بگٹی نے دھنی نسل کی گائے کو پسند کیا اور ذاتی طور پر دھنی کیٹل فارم بنانے کی خواہش ظاہر کی تاکہ دھنی نسل اور مقامی جانوروں کی نسلوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔

    سابق وفاقی وزیر نے خیری مورت انسٹیٹیوٹ کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے کیٹل سیکشن، کیمل سیکشن اور شیپ گوٹ سیکشن میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی اور عملہ کی پیشہ ورانہ مہارت، جانوروں کی دیکھ بھال اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے فارم پر ہونے والی تحقیقاتی سرگرمیوں کی تعریف کی اور دھنی نسل کی گائے، کیمل پوری اونٹ، سالٹ رینج کی بھیڑ اور مقامی ہیری بکریوں کو بہت پسند کیا۔