Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ کی سکول بس کو شکرپڑیاں میں حادثہ ،ایک طالبہ جاں بحق، متعدد زخمی

    سیالکوٹ کی سکول بس کو شکرپڑیاں میں حادثہ ،ایک طالبہ جاں بحق، متعدد زخمی

    اسلام آباد (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) سیالکوٹ کے حافظ پبلک ہائی اسکول کی بس آج صبح اسلام آباد کے شکرپڑیاں علاقے میں خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثے کی وجہ بس کے بریک فیل ہونے کو قرار دیا گیا ہے۔ افسوسناک واقعے میں 24 سالہ طالبہ شازین جاں بحق ہو گئی، جبکہ دیگر طلبہ اور اساتذہ زخمی ہو گئے۔

    حادثہ شکرپڑیاں کے قریب سی ڈی اے اوپن ایئر تھیٹر کے پاس پیش آیا۔ بس میں اسکول کے طلبہ اور اساتذہ سیر کے لیے جا رہے تھے کہ اچانک بس کے بریک فیل ہو گئے، جس سے بس بے قابو ہو کر حادثے کا شکار ہو گئی۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر پمز اسپتال اور پولی کلینک منتقل کیا گیا۔ زخمیوں ہونے والے جو پمز اسپتال میں زیر علاج ہیں،ان میں ایمان فاطمہ (16 سال، جماعت 10)،مشال (15 سال، جماعت 9)دیا بی بی (17 سال، جماعت 12)اسنا حشمت (ٹیچر، 24 سال)شامل ہیں

    جبکہ پولی کلینک اسپتال میں زیر علاج ملائکہ بی بی (17 سال، جماعت 12)،تسکین زہرہ (ٹیچر)،سعدیہ حمید (ٹیچر) شامل ہیں

    حادثے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ایس پی خالد اعوان اور ایس ایچ او آبپارہ نے موقع کا معائنہ کیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ بس کے بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا تاہم مزید تحقیق جاری ہے۔

    یہ اسکول ٹرپ رانا آفتاب کے حافظ پبلک ہائی اسکول کی جانب سے ترتیب دیا گیا تھا۔ حادثے کی خبر ملتے ہی والدین میں شدید بے چینی پھیل گئی اور وہ اپنے بچوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اسپتال پہنچنا شروع ہو گئے۔ اسکول انتظامیہ سے بھی حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • تنگوانی: شہری ایکشن کمیٹی کا بدامنی کے خلاف بھوک ہڑتال کیمپ قائم

    تنگوانی: شہری ایکشن کمیٹی کا بدامنی کے خلاف بھوک ہڑتال کیمپ قائم

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف شہری ایکشن کمیٹی نے رہبر چوک پر تین دن کے لیے بھوک ہڑتال کیمپ قائم کر دیا ہے۔

    شہری ایکشن کمیٹی کے رہنما قاری کفایت اللہ کوسو، وقار احمد ملک، رحمدل لاشاری، اعظم کوسو، عبدالفتاح کنڈرا، مولانا شہمور بکرا اور سہراب ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تنگوانی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں مسلسل بدامنی کا راج ہے، جس سے عوام شدید پریشان ہیں۔

    رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اب وہ پولیس اہلکاروں سے بھی ہتھیار چھین لیتے ہیں اور انتظامیہ مکمل طور پر بے بس نظر آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی خاموشی نے عوام کو مایوس کر دیا ہے اور حکام کی جانب سے مؤثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔

    شہری ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ایس پی کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور کسی ایماندار اور قابل ایس ایس پی کو تعینات کیا جائے تاکہ شہر میں امن و امان بحال ہو سکے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ: امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کا سنیپ چیکنگ آپریشن جاری

    ٹھٹھہ: امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کا سنیپ چیکنگ آپریشن جاری

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،نامہ نگاربلاول سموں) آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دھاریجو کی ہدایات پر ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات کے تحت ضلع میں امن و امان کی بحالی کے لیے سنیپ چیکنگ کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

    پولیس کی جانب سے مختلف داخلی و خارجی راستوں اور اہم مقامات پر موٹرسائیکلوں، رکشوں، مسافر وینز، بسوں اور دیگر گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔ اس دوران متعدد گاڑیوں سے ٹنٹڈ گلاسز اور فینسی نمبر پلیٹس بھی ہٹائی گئیں۔

    تمام ایس ڈی پی اوز نے اپنے علاقوں کے ایس ایچ اوز کے ہمراہ مختلف مقامات پر سنیپ چیکنگ کی نگرانی کی۔ پولیس اہلکار شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات رہے تاکہ ہر مشکوک شخص اور بغیر نمبر پلیٹ کے موٹرسائیکلز کی جانچ کی جا سکے۔

    چیکنگ کے دوران متعدد مشکوک افراد اور گاڑیاں تحویل میں لی گئیں اور ان کی تصدیقی عمل (ویری فکیشن) جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سنیپ چیکنگ کا بنیادی مقصد ضلع میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو پیش آنے سے قبل ہی روکا جا سکے۔

  • میرپورخاص: چاندنی چوک پر تجاوزات کے خلاف  بھاری مشینری سےبڑا آپریشن

    میرپورخاص: چاندنی چوک پر تجاوزات کے خلاف بھاری مشینری سےبڑا آپریشن

    میرپورخاص(باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)چاندنی چوک پر قائم دکانوں اور مکانات کے آگے موجود غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا جس میں بھاری مشینری استعمال کرتے ہوئے تجاوزات کو مسمار کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق چاندنی چوک میں طویل عرصے سے انکروچمنٹ کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جس پر انتظامیہ نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے تمام غیر قانونی قبضوں کو ختم کر دیا۔ بھاری مشینری کے ذریعے دکانوں اور مکانات کے آگے بنائی گئی تجاوزات کو ہٹایا گیا۔

    ان کارروائیوں کی نگرانی ڈائریکٹر انکروچمنٹ اورنگزیب مغل نے کی، جنہوں نے موقع پر موجود انکروچمنٹ آفیسر عدنان مغل اور خانزادہ کے ساتھ مل کر آپریشن کی قیادت کی۔ ایس ایچ او غازی خان راجڑ اور پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود رہی تاکہ کسی بھی مزاحمت یا ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    ڈائریکٹر انکروچمنٹ اورنگزیب مغل کا کہنا تھا کہ چاندنی چوک میں بارہا غیر قانونی تجاوزات کی شکایات موصول ہو رہی تھیں، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری طور پر کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کو تجاوزات سے پاک کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

    آپریشن کے دوران کسی قسم کی مزاحمت کی اطلاع نہیں ملی اور تمام قبضہ شدہ جگہوں کو خالی کرا لیا گیا۔

  • ڈیرہ غازی خان: کینسر کا بڑھتا عفریت، ہسپتال کے قیام کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان: کینسر کا بڑھتا عفریت، ہسپتال کے قیام کا مطالبہ

    ڈیرہ غازیخان (ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی کی رپورٹ)ڈیرہ غازیخان میں کینسر کا بڑھتا عفریت،اس جان لیوا مرض کے علاج کیلئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے کینسر ہسپتال بنانے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کا شمار ملک کے اہم اداروں میں ہوتا ہے جو نہ صرف ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ طبی شعبے میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ڈیرہ غازی خان جہاں اس ادارے کا ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے سماجی اور معاشی لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ تاہم اس علاقے میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد نے صحت کی سہولیات کے فقدان کو واضح کر دیا ہے۔ عوام ایک عرصے سے جدید سہولیات سے لیس کینسر ہسپتال کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ان کی بنیادی طبی ضروریات پوری ہو سکیں۔

    کینسر کے بڑھتے کیسز اور سہولیات کا فقدان
    ڈیرہ غازی خان میں تابکاری کے اثرات اور غربت کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں کے لوگ نہ صرف معاشی مسائل کا شکار ہیں بلکہ انہیں صحت کی بنیادی سہولیات تک بھی رسائی حاصل نہیں۔ اس صورتحال میں کینسر جیسے موذی مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ایک چیلنج بن چکا ہے۔ کینسر کے علاج کے لیے مریضوں کو ملتان، لاہور یا دیگر شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جو اکثر ان کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔

    PAEC کے تحت ملک بھر میں جدید کینسر ہسپتال
    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک کے مختلف شہروں میں 19 جدید کینسر ہسپتال چلا رہا ہے، جن میں لاہور کا "انمول” (Institute of Nuclear Medicine and Oncology Lahore) اور "سینم” (Centre for Nuclear Medicine) جیسے مراکز شامل ہیں۔ اسی طرح ملتان میں "مینار” (Multan Institute of Nuclear Medicine and Radiotherapy) بھی کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ بلوچستان میں صرف کوئٹہ میں ایک کینسر ہسپتال موجود ہے جو صوبے بھر کے لیے ناکافی ہے۔ تاہم ڈیرہ غازی خان جہاں کینسر کے کیسز کی تعداد دیگر علاقوں سے زیادہ ہے اس سہولت سے تاحال محروم ہے۔

    کینسر ہسپتال کی فوری ضرورت
    ڈیرہ غازی خان کے عوام نے حکومت اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں ایک علیحدہ کینسر ونگ یا اسپیشلائزڈ ہسپتال قائم کیا جائے۔ یہ ہسپتال دیگر شہروں کے مراکز کی طرح جدید سہولیات سے آراستہ ہو اور PAEC کے انتظامی کنٹرول میں ہو۔ اگر ممکن ہو تو حال ہی میں سخی سرور روڈ پر بنائے گئے جنرل ہسپتال کے اندر بھی ایک کینسر ونگ قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    بلوچستان کے عوام بھی مستفید ہوں گے
    ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کا قیام نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ بلوچستان میں اس وقت صرف کوئٹہ میں ایک کینسر ہسپتال موجود ہے۔ نیا ہسپتال خطے بھر کے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرے گا اور انہیں دیگر شہروں کا سفر کرنے سے بچائے گا۔

    مرض کی ابتدائی تشخیص اور بہتر علاج کے امکانات
    علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ کینسر ہسپتال کے قیام سے مریضوں کو بروقت تشخیص اور ابتدائی مرحلے میں علاج کی سہولت میسر ہوگی جس سے ان کی زندگی بچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ جدید ہسپتال کے بغیر زیادہ تر مریض بیماری کے پیچیدہ مراحل تک پہنچ جاتے ہیں جس سے علاج مزید مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔

    حکام سے فوری اقدامات کی اپیل
    ڈیرہ غازی خان کے عوام نے اعلیٰ حکام خاص طور پر PAEC سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور فوری طور پر کینسر ہسپتال کے قیام کو یقینی بنائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ ان کا بنیادی حق اور جائز مطالبہ ہے۔ ہسپتال کے قیام سے نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا بلکہ انہیں معیاری اور باوقار زندگی گزارنے کا موقع بھی ملے گا۔

    ڈیرہ غازی خان کے لوگ اس امید کے ساتھ حکومتی توجہ کے منتظر ہیں کہ جلد از جلد اس اہم مسئلے پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

  • میرواہ گورچانی: شہری کا پولیس پر منشیات فروشی کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام

    میرواہ گورچانی: شہری کا پولیس پر منشیات فروشی کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام

    میرپورخاص (باغی ٹی وی،نامہ نگارسیدشاہزیب شاہ کی رپورٹ) شہری کا پولیس پر منشیات فروشی کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام

    تفصیل کے مطابق تحصیل میرواہ گورچانی شجاع آباد کے رہائشی دانیال ولد تاج محمد رنگھڑ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او میرواہ، جنید قمر میمن اور تھانہ میرواہ کے منشی رفیق لغاری نے اسے منشیات فروشی پر مجبور کیا۔

    دانیال نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ جب اس نے منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے سے انکار کیا تو ایس ایچ او جنید میمن اور پولیس اہلکاروں نے اسے ہوٹل سے گرفتار کر لیا اور پولیس گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے گئے۔ اسی رات پولیس اہلکار اس کے گھر بھی پہنچے اور مبینہ طور پر زبردستی اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔

    دانیال نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایس ایچ او جنید میمن کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے درخواست کی کہ میرواہ تھانے میں کسی ایماندار افسر کو تعینات کیا جائے تاکہ انصاف فراہم ہو۔

    دانیال نے مزید کہا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے اور اسے ایس ایچ او جنید قمر میمن اور ان کے عملے سے جان کا خطرہ ہے۔ اس نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی ہے کہ اسے اور اس کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف زندگی گزار سکے۔

    یہ واقعہ میرپورخاص میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عوامی حلقوں نے بھی واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور پولیس اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • میرپور خاص: 13 سالہ لڑکی اور 21 سالہ لڑکے کی مشکوک ہلاکت، ورثاء کا معاملہ دبانے کی کوشش

    میرپور خاص: 13 سالہ لڑکی اور 21 سالہ لڑکے کی مشکوک ہلاکت، ورثاء کا معاملہ دبانے کی کوشش

    میرپور خاص (باغی ٹی وی،نامہ نگارسیدشاہزیب شاہ کی رپورٹ) 13 سالہ لڑکی اور 21 سالہ لڑکے کی مشکوک ہلاکت، ورثاء کا معاملہ دبانے کی کوشش

    تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے تعلقہ کوٹ غلام محمد کے گاؤں سانولو کمدار میں ایک انتہائی مشکوک واقعہ پیش آیا جہاں رانا میگھواڑ کی دکان کے گاڈر سے 13 سالہ لڑکی کویتا بنت رانا گلوگار اور 21 سالہ لڑکے ہنس راج ولد سرون بھیل کی لاشیں لٹکی ہوئی پائی گئیں۔ اس واقعے کو بظاہر خودکشی قرار دیا جا رہا ہے مگر شواہد اور حالات سے یہ معاملہ مشتبہ دکھائی دیتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد ورثاء کی جانب سے اس معاملے کو دبانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو مؤقف دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس واقعے کو ذہنی توازن کی خرابی کا نتیجہ قرار دے کر اسے خودکشی کے طور پر پیش کیا جائے۔

    تعلقہ ہیڈکوارٹر اسپتال میں بھی بااثر افراد نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کی کارروائی کو رکوا دیا۔ اس وجہ سے لاشوں کی درست وجوہات جاننے کا عمل تعطل کا شکار ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ واقعے کی اصل حقیقت دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعی خودکشی ہے یا معاملہ کچھ اور ہے جو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکام فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا  دورہ تونسہ ،سیکیورٹی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا دورہ تونسہ ،سیکیورٹی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور ڈی پی او سید علی نے شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ دونوں افسران نے بین الصوبائی چیک پوسٹ، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، تعلیمی اداروں، اور کھیلوں کے مراکز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے بین الصوبائی چیک پوسٹ ترمن کا دورہ کیا جہاں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ تیمور عثمان، ایس پی آپریشنز بختیار احمد، اور دیگر افسران بھی ہمراہ تھے۔ نئی تعمیر ہونے والی جوائنٹ چیک پوسٹ کے لیے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا گیا اور تمام محکموں کو جلد کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    چیک پوسٹ کے اطراف درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ قریب موجود فاریسٹ عمارت کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ افسران نے چیک پوسٹ پر پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ دوسرے صوبوں سے آنے والے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی محنت کو سراہا اور کہا کہ انسداد پولیو مہم میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ کا معائنہ کیا اور ہسپتال کے باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں موجود فلڈ ریلیف کیمپ کا بھی دورہ کیا اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں اور ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ہسپتال میں ادویات کی کمی آئندہ ماہ تک پوری کی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے تونسہ جاتے ہوئے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کوٹ مبارک کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے سکول کی بوسیدہ عمارت کا جائزہ لیتے ہوئے فوری رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر تعلیمی سلسلے کو محدود کیا جائے اور تعلیمی اداروں کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بی ایچ یو کوٹ مبارک اور آر ایچ سی شاہ صدر دین کا دورہ کرتے ہوئے ان مراکز میں جاری تزئین و آرائش کے کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ عثمان خالد نے کہا کہ صحت کے مراکز میں کام مکمل ہونے کے بعد بہترین طبی ماحول فراہم کیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر نے تونسہ میں سپورٹس کمپلیکس کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے کھیلوں کے میدانوں کا جائزہ لیا۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر رابعہ بتول نے کرکٹ اور ہاکی اسٹیڈیم کے حوالے سے بریفنگ دی۔ عثمان خالد نے کرکٹ اسٹیڈیم کی مینٹی نینس بہتر کرنے اور بجلی کی فراہمی کو جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ تونسہ کے شہریوں کو جلد ہاکی اسٹیڈیم کا تحفہ دیا جائے گا اور کھیلوں کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے سنگھڑ پل کا بھی معائنہ کیا اور افسران سے پل کی تعمیر کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ حکام نے بتایا کہ پل کے اطراف 3.80 کلومیٹر کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ عثمان خالد نے ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور فنڈز کی دستیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سیکیورٹی کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے منصوبوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ادارے عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور محنت کریں۔

  • ننکانہ صاحب: بابا گورو نانک کے 555ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے فول پروف انتظامات مکمل

    ننکانہ صاحب: بابا گورو نانک کے 555ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے فول پروف انتظامات مکمل

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) – بابا گورو نانک کے 555ویں جنم دن کی تقریبات 14 سے 16 نومبر تک جاری رہیں گی۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ محمد تسلیم اختر راو کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ کے تمام اعلیٰ افسران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ اوقاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    تمام تعلیمی ادارے 14، 15 اور 16 نومبر کو بند رہیں گے، جبکہ 15 نومبر کو ضلع ننکانہ میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔گوردواروں کے اطراف گوشت اور پان شاپس بند رہیں گی۔تمام افسران کو گوردواروں میں ڈیوٹی کے دوران ممنوعہ سرگرمیوں سے اجتناب کی ہدایت دی گئی ہے۔

    سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹس 24 گھنٹے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہیوی مشینری مکمل طور پر فعال رکھی جائے گی۔گوردوارہ جنم استھان میں مختلف ممالک کی کرنسی کے تبادلے کے لیے کاؤنٹرز قائم کیے جائیں گے۔

    میونسپل اداروں کو شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کے لیے فوری پلان تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہر بھر کو خوبصورت بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اور پیچ ورک مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تمام بینرز اور فلیکسز کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

    پولیس کو تھری لیئر اور روف ٹاپ سیکیورٹی کے علاوہ پارکنگ ایریاز کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    شہر میں سیکورٹی کیمروں کی تنصیب کا عمل جلد مکمل کرنے اور کنٹرول رومز کے ذریعے نگرانی کا عمل یقینی بنایا جائے گا۔
    محکمہ صحت تمام گوردواروں میں اسپرے کے ذریعے بیماریوں سے بچاؤ یقینی بنائے گا اور جنم استھان پر منی ہسپتال قائم کیا جائے گا۔

    ریسکیو 1122 تقریبات کے دوران دوسرے اضلاع سے ایمبولینسز اور عملے کی تعیناتی کے اقدامات کرے گا۔ فوڈ اتھارٹی اور محکمہ صحت کی ٹیمیں ساتوں گوردواروں میں لنگر کی چیکنگ کے بعد تقسیم یقینی بنائیں گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے کہا کہ تقریبات کے دوران ضلعی انتظامیہ کے تمام افسران اور ملازمین کی چھٹیاں منسوخ رہیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آنے والے تمام سکھ یاتریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ان تقریبات کے ذریعے پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت امیج اجاگر ہوگا۔

    دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ مہمان ہمارے لیے باعثِ عزت ہیں، اور انہیں بلا تفریق اعلیٰ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

  • سیالکوٹ: کانسٹیبل محمد اکرم کے اعزاز میں الوداعی تقریب،محکمانہ خدمات پر خراجِ تحسین

    سیالکوٹ: کانسٹیبل محمد اکرم کے اعزاز میں الوداعی تقریب،محکمانہ خدمات پر خراجِ تحسین

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) دفتر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سیالکوٹ میں کانسٹیبل محمد اکرم کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک پروقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد ان کی کئی دہائیوں پر محیط محکمانہ خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا اور انہیں بہترین انداز میں رخصت کرنا تھا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر جناب عابد حسین کاہلوں نے محمد اکرم کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں انتہائی محنت اور دیانتداری سے اپنے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمد اکرم جیسے قابل اور فرض شناس افراد کا ادارے سے رخصت ہونا ایک خلا پیدا کرتا ہے، تاہم ان کی خدمات کا ادارہ ہمیشہ معترف رہے گا۔

    اس موقع پر جناب صہیب مختار (ڈی ایس پی لیگل سیالکوٹ) نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور محمد اکرم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی تعریف کی۔ دیگر معززین میں جناب رانا عابد حسین، جناب عمران انور، جناب میاں لقمان (ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر) سمیت دفتر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے دیگر پراسیکیوٹر صاحبان اور ملازمین بھی موجود تھے۔

    تقریب کے اختتام پر محمد اکرم کانسٹیبل کو دفتر کی جانب سے خصوصی تحائف پیش کیے گئے۔ شرکاء نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دعا کی کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی میں بھی خوشحال اور صحت مند رہیں۔ تقریب ایک جذباتی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں ساتھیوں نے محمد اکرم کو پرخلوص دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

    یہ تقریب نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف تھی بلکہ ایک مثال بھی کہ سرکاری ادارے اپنے محنتی اور دیانتدار ملازمین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔