Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرانوالہ : انتظامیہ کی نااہلی ، بنیادی مرکز صحت اروپ برساتی پانی میں ڈوب گیا

    گوجرانوالہ : انتظامیہ کی نااہلی ، بنیادی مرکز صحت اروپ برساتی پانی میں ڈوب گیا

    گوجرانوالہ باغی ٹی وی (نامانگار محمد رمضان نو شاہی ) انتظامیہ کی نااہلی ، بنیادی مرکز صحت اروپ برساتی پانی میں ڈوب گیا

    بارشکا سپیل بندہو نے کے 24 گھنٹے بعد بھی مرکز صحت میں برساتی پا نی نہ نکالاجاسکا،عمارت میں کھڑے پا نی سے مشینری، ادویات اور بچوں کی ویکسین ضائع ہونے کا خدشہ

    مرکز صحت کی بیرونی دیوار ٹوٹنے سے گٹروں کا پا نی بھی ہسپتال میں داخل ہوگیا ہے دوسری طرف مقامی ذرائع کا بتانا ہے کہ بچوں کو بیماریوں سے بچاو کی ادویات بھی ضائع ہو گئی ہیں

    مر کز صحت کی انتظامیہ اورمریض خوار ہو نے پر مجبور ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ پانی نکالنے اور سیوریج کا پانی بند کرنے میںمکمل طور ناکام ہوچکی ہے
    عوامی وسماجی حلقوں کمشنر گوجرانوالہ سے اصلاح احوال کامطالبہ کیا ہے.

  • تنگوانی: ڈاکوؤں کے بعد اب شہرچوروں کے نشانے پرآگیا،ایک ہی رات میں 6 دکانوں کاصفایا

    تنگوانی: ڈاکوؤں کے بعد اب شہرچوروں کے نشانے پرآگیا،ایک ہی رات میں 6 دکانوں کاصفایا

    تنگوانی، باغی ٹی وی ( نامہ نگار منصور بلوچ )تنگوانی شہرمیں ڈاکوؤں کے بعد اب چور سرگرم ہوگئے ہیں،ایک ہی رات میں مین بازار سے نامعلوم چور 6 سے زائد دکانوں کے تالے توڑ کر صفایا کر گئے

    تفصیل کے مطابق تنگوانی شہر کے مین بازار کی موبائل مارکیٹ سے نامعلوم چوروں نے ظفر ملک، ریاض لاشاری، رب نواز ڈاہانی ،حیدر بکھرانی صوفی ماڑوائی اور دیگر دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کی نقدی ،قیمتی سامان اور موبائل فون لے اڑے ،اطلاع کے باوجود بھی پولیس جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکی ہے

    دکانداروں کا کہنا ہے کہ پولیس کا گشت اور تھانے کے قریب ہونےکےباوجودچور با آسانی ہماری دکانوں کے تالے توڑ کرلاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کر کے فرار ہوگئے ہیں، اطلاع کے باوجود پولیس کاجائے وقوع پر نہ پہنچنے سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے،ان کاکہناتھاکہ پولیس کا گشت اور تھانے کے قریب ہونے کے باوجود یہ واقعہ کیسے رونما ہواجوکہ ایک سوالیہ نشان ہے

    شہریوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ اور آئی جی سندھ سےفوری نوٹس لیکر چوری شدہ سامان واپس دلانے اورتحفظ فراہم کرنے کامطالبہ کیا ہے

  • تلہ گنگ:پرائیوٹ ہاسپٹل ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس،ایف بی آر کا پوائنٹ آف سیل مسترد کر دیا

    تلہ گنگ:پرائیوٹ ہاسپٹل ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس،ایف بی آر کا پوائنٹ آف سیل مسترد کر دیا

    تلہ گنگ، باغی ٹی وی (شوکت علی ملک سے) پرائیوٹ ہاسپٹل ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس، ایف بی آر کا پوائنٹ آف سیل مسترد کر دیا، اس ٹیکس سے محکمانہ بھتہ خوری بڑھے گی، معیاری علاج لوگوں کی دسترس سے باہر ہو جائے گا۔ ڈاکٹرز کمیونٹی، پرائیوٹ ہاسپٹل ایسوسی ایشن کا حکومت سے پوائنٹ آف سیل کے نفاذ کا نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ،

    تفصیلات کے مطابق پرائیوٹ ہسپتال اور کلینکس پر پوائنٹ آف سیل لاگو کرنا صحت عامہ سے دشمنی کے متراف ہوگا، معیاری علاج ناپید ہوجائے گا ڈاکٹر و ہسپتال تو متاثر ہوں گے کیونکہ علاج پہلے سے مزید مہنگا ہو جائے گا، پوائنٹ آف سیل کے نفاذ سے حکومت کو ریونیو ملے گا یا نہیں؟ تاہم اس ٹیکس سے محکمانہ بھتہ خوری بڑھ جائے گی، معیاری علاج لوگوں کی دسترس سے باہر ہو جائے گا اتائیت کو فروغ ملے گا،

    ضلع بھر کے ڈاکٹرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی پی ایم اے تلہ گنگ کے صدر ڈاکٹر ارشد ملک، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صابر امیر ملک کی میڈیا سے گفتگو پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر ارشد ملک جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صابر امیر ملک اور دیگر پرائیوٹ ہاسپٹل ایسویسی ایشن کے ڈاکٹرز کا اجلاس الفلاح سرجیکل ہسپتال تلہ گنگ میں منعقد ہوا، جہاں پر ائیوٹ ہاسپٹل ایسویسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور آئندہ اجلاس میں پرائیوٹ ہاسپٹل ایسوسی ایشن کے عہدے داران کا انتخاب بھی کیا جائے گا اور پرائیوٹ ہاسپٹل ایسویسی ایشن کے پلیٹ فارم سے ہسپتال اور کلینکس کو در پیش مسائل کو حل کیا جائے گا، تمام ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے اجلاس میں بھاری تعداد میں شرکت کی،

    اجلاس میں ڈاکٹر نثار احمد ملک، ڈاکٹر علی حسنین نقوی، ڈاکٹر بشیر احمد ملک، ڈاکٹر اقبال سیف، ڈاکٹر حافظ حبیب سلطان، ڈاکٹر زبیر شاہ، ڈاکٹر یوسف خان نیازی، ڈاکٹر منصور امتیاز، ڈاکٹر یعقوب اعوان، ڈاکٹر مسعود الحسن، ڈاکٹر راؤ شفیق، ڈاکٹر فیصل نعمان، اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی، معززین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی او ایس کے نفاذ سے خالصتا ڈاکٹرز کیمیونٹی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے حالانکہ ڈاکٹرز پہلے ہی انتہائی کم ریٹ اور چارجز پر غریب شہریوں کو معیاری علاج و معالجہ فراہم کر رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹرز آئے روز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے اچھی طرح آگاہ ہیں ،پوائنٹ آف سیلز ٹیکس کلینک اور ہسپتالوں پر نہیں لگنا چاہئے اس سے ڈاکٹر تو متاثر ہو نگے لیکن غریب عوام کو بھی بھگتنا پڑے گا، ڈاکٹرز کیمیونٹی نے وفاقی حکومت سے پوائنٹ آف سیل کے نفاذ کا نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • منڈی بہاؤالدین : تھانہ بھاگٹ پولیس کی کارروائی،ڈکیت گینگ کے دو سہولت کار گرفتار

    منڈی بہاؤالدین : تھانہ بھاگٹ پولیس کی کارروائی،ڈکیت گینگ کے دو سہولت کار گرفتار

    منڈی بہاؤالدین ،باغی ٹی وی ( افنان طالب نامہ نگار )تھانہ بھاگٹ پولیس کی کارروائی،ڈکیت گینگ کے دو سہولت کار گرفتار

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منڈی بہاوالدین احمد محی الدین کی ہدایت پر زیر نگرانی ڈی ایس پی پھالیہ سرکل ضیاء اللہ خان ایس ایچ او تھانہ بھاگٹ محمد اکرم ہجن اور انکی ٹیم ظفر اقبالASIمعہ ٹیم نے مقدمہ نمبر 203/24بجرم 392 ت پ تھانہ بھاگٹ میں ملوث ڈکیت گینگ کے 2 ممبران مسمیان 1غلام نبی ولد خوشی محمد قوم کمہار سکنہ جونوکے 2 طارق بٹ سکنہ دینہ جہلم کو گرفتار کر کے انکے قبضہ سے مقدمہ میں چھینا جانے والا رکشہ برآمد کیا گیا

    مزید ڈکیت گینگ کے ممبران سے دوران واردات استعمال کئے جانے والے پسٹل بھی برآمد کر کے مقدمات درج کئے گئے ،نیز چوری شدہ موٹر سائکل بھی برآمد کیا گیا

  • 22 خاندانوں سے آئی پی پیز تک،کب تک چلے گی یہ لوٹ مار؟

    22 خاندانوں سے آئی پی پیز تک،کب تک چلے گی یہ لوٹ مار؟

    22 خاندانوں سے آئی پی پیز تک،کب تک چلے گی یہ لوٹ مار؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    14اگست1947ء کو برصغیر کی تقسیم کی بعد پاکستان معرض وجود میں آیا، اس آزادی کی جنگ میں بہت سے لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانے پیش کئے جوکہ پاکستان آزاد ہونے کے بعد بھی پاکستانیوں کی قربانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، آئیے ذرا اس بات کاجائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے اسلاف کی بیمثال قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی عظیم مملکت پاکستان میں کیا واقعی پاکستانیوں کو حقیقی آزادی میسر ہے یاجس امید کی بنیاد پر اسلاف نے قربانیاں دی تھیں ان قربانیوں کا پھل ان کی نسلوں کاملا ؟

    سب سے پہلے ذکر کرتے جنرل ایوب خان کے دور حکومت کا جسے پاکستان کی ترقی کا سنہری دور کہاجاتا ہے اس سنہری دور میں کس طرح پاکستان کی دولت پر ہاتھ صاف کئے گئے اور کیسے کرپشن کی ابتداء ہوئی 15جون 1964 کو ممبر قومی اسمبلی اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے بجٹ تقریر کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان( جو اس وقت متحدہ پاکستان تھامشرقی پاکستان علیحدہ نہیں ہواتھا)کی 60 سے 80 فیصد دولت پر صرف” 22 خاندان” قابض ہیں۔ ان کے مطابق 66 فیصد صنعتیں ، 79 فیصد بیمہ کمپنیاں اور 80 فیصد بینکوں کا سرمایہ صرف "بائیس خاندانوں” کے قبضے میں ہیں، محبوب الحق کے اس انکشاف کی بنیاد وزارت مالیات کے ایک اعلی افسر ظہیر الدین کی کریڈٹ کمپنی کی رپورٹ پر استوار کی گئی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ بینکوں نے عوام کی امانتوں میں سے جو روپیہ کاروباری طبقے کو ادھار دینے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے اس میں بڑی بڑی رقوم چند خاندان کے افراد نکلوا کر لے جاتے ہیں اور نام بدل بدل کر ان سے استفادہ کرتے رہتے ہیں (بعد میں لی گئی رقوم معاف کرائی جاتی رہیں)

    ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ 22 دسمبر 1957 کو صرف 23 شخصیات ایسی تھیں، جنہیں 33 کروڑ 83 لاکھ روپے بطور قرض دیا گیا تھا۔ 31 مارچ 1959 تک ان افراد کی تعداد بڑھ کر 31 اور 31 دسمبر 1961 تک41 ہو گئی۔ ان 41 افراد کو جو رقوم بطور قرض دی گئی تھیں وہ 62کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ 1961 میں اسی بات کو منصوبہ بندی کمیشن کے شعبہ تحقیق کے سربراہ مسٹر آر ایچ کھنڈیکر نے آگے بڑھایا اور ان کی تحقیق کی بنیاد پر 64-1963 کے بجٹ میں وزیر خزانہ مسٹر محمد شعیب نے انکشاف کیا کہ بینکوں نے جو رقم ادھار کے لیے علیحدہ کر رکھی ہے اس سے صرف 20 خاندان مستفیض ہو رہے ہیں۔

    ڈاکٹر محبوب الحق کے اس انکشاف کا ذو الفقار علی بھٹو نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور جب انہوں نے 1968 میں صدر ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تو ڈاکٹر محبوب الحق کی اس تقریر کو اپنی تحریک کا مرکزی نکتہ بنادیا۔ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کا ایک اہم نعرہ بھی یہی تھا کہ اس ملک پر بائیس خاندانوں کا قبضہ ہے۔ یہ نعرہ اس قدر مقبول تھا کہ ذو الفقار علی بھٹو جیسا بڑا زمیندار جس کی پارٹی میں مصطفی جتوئی، مخدوم طالب المولی اور مصطفی کھر جیسے لاتعداد بڑے بڑے زمیندار تھے، اس نے بھی ووٹ کی سیاست اور عوامی مقبولیت کے لیے سرمایہ داری کے خلاف پارٹی پوزیشن اس حد تک لی کہ پیپلز پارٹی کے منشور کے چار بنیادی نکات میں سے تیسرا نکتہ یہ تھا کہ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ ملک پر بائیس خاندانوں کا قبضہ ہے، یہ فقرہ بھٹو کی تقریروں کا جزوِلاینفق تھا۔ اور اس نعرے سے وہ اپنے جلسوں میں عوام کا لہو گرماتا تھا۔ آج نصف صدی گزرنے کے بعد اب ان بائیس خاندانوں کا دائر اثر بڑھ کر اس ملک کی ایک فیصد آبادی تک پھیل چکا ہے۔ یعنی24 کروڑ سے زائدلوگوں کی آبادی میں سے بائیس لاکھ لوگ ایسے ہیں جو اس ملک کے نوے فیصد سے زیادہ سرمائے پر قابض ہیں۔ اس کیفیت کو دنیا بھر میں "Elite Capture” یعنی اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ کہتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان میں بجلی کےبھاری بلوں کے سبب عوام کی خودکشیاں معمول بن چکی ہیں ،مہنگی بجلی اور آئی پی پیز معاہدے درد سر بن گئے ، عوامی مشکلات اور ردعمل شدیدہوتاجارہاہے،پی ٹی آئی دور حکومت 2021 میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی تجدید پاور ڈویژن نے کی تھی۔پاور ڈویژن نے 2021 میں معاہدوں کی تجدید کیلئے مذاکرات کیے تھے

    اب ذرا تھوڑی سی نگاہ ادھر بھی ڈال لیتے ہیں کہ کس دورِ حکومت میں آئی پی پیز کے ساتھ سب سے زیادہ معاہدے کیے گئے تو مسلم لیگ ن کے 2013 سے 2018 کے دور حکومت میں سب سے زیادہ 130 بجلی بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 48 کمپنیوں، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 35 کمپنیوں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 30 کمپنیوں کے ساتھ بجلی بنانے کے طویل معاہدے کیے گئے۔انڈیپنڈنٹ پاورپلانٹس یعنی آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے باعث ہر سال اربوں روپے کی ادائیگی عوام سے وصول کیے گئے بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے نیپرا نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں اور کچھ کمپنیوں کے ساتھ 2057 تک کے معاہدے کیے گئے ہیں یعنی آئندہ 33 سال تک ان کمپنیوں کو ادائیگیاں جاری رہیں گی۔وزارت توانائی کے مطابق، گزشتہ 10 سال یعنی 2013 سے 2024 تک کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں آئی پی پیز کو 8 ہزار 344 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال میں آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 1300 ارب ادا کیے گئے جبکہ رواں سال 2 ہزار 10 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔

    پاکستانی عوام شاید یہ نہیں جانتی کہ ان آئی پی پیزکمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں؟ 68فیصدکمپنیاں تو حکمرانوں(شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ)کی ملکیت ہیں ان کے علاوہ 8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما 10 فیصد اسٹبلشمنٹ، 8 فیصد چین کے سرمایہ کار اور7 فیصدقطری عرب اور7 فیصد پاکستانی سرمایہ دارشامل ہیں ۔اب عوام سے ایک سوال ہے جب 68فیصدآئی پی پیزکمپنیوں کے تین مالک شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ ہوں توان سے کئے گئے معاہدوں کے خلاف کون لب کشائی کرے گا؟

    قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین انہوں نے کوئی بھی ایسا منصوبہ شروع نہیں کیا جو عوامی مفاد میں ہو یا عوام کے دکھوں کامداواکرنے کی کوشش کی گئی ہو،جنرل ایوب خان دور کے 22 خاندانوں اور موجودہ آئی پی پیزتک ہردور میں صرف عوام کوقربانی کابکرابنایا گیا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کروایا گیاہے۔ 22 خاندان ملک کی معیشت پر قبضہ جما کر قیمتوں میں اضافہ، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا باعث بنے۔ دوسری جانب آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں سے بجلی کے بل آسمان کوچھوگئے، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پیدا کیا اور قومی خزانے پر بوجھ ڈالاگیا دونوں صورتوں میں عوام کی قربانیاں بڑھتی رہیں جبکہ چند افراد جو صرف حکمران خاندان ہیں یاپھر ان کے رشتے دار نے اپنی جیبیں بھریں.

    ملک کی دولت چند خاندانوں اور سیاسی گٹھ جوڑوں کی لوٹ مار کا شکار ہوتی رہی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ عوام کی خاموشی نے اس ظلم کو پروان چڑھایا ہے، آئی پی پیز جیسے سیاسی گروہوں نے بھی اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے، یہ لوٹ مار کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ سوال یہ نہیں کہ ملک کے وسائل کہاں جا رہے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کب تک اس بے انصافی کو برداشت کرے گی؟ تبدیلی صرف نعرے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔عوام کی خاموشی ان ظالموں کی طاقت کا باعث ہے، جب تک عوام بیدار نہیں ہوں گے، یہ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا،ملک کے وسائل عوام کی امانت ہیں، اس امانت کی خیانت کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے،تاریخ گواہ ہے کہ ظالم ہمیشہ شکست خوردہ ہوتے ہیں، یہ لوٹ مار کا دور بھی ایک نہ ایک دن ختم ہوگا، لیکن اس کے لیے عوام کو متحد ہو کرتوانا آواز بلند کرناہوگی،ورنہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور عوام یونہی سسکتی،جلتی ،کٹتی اور خودکشیاں کرکے مرتی رہے گی۔

  • لیہ:کرنٹ لگنے سے بہن بھائی جاں بحق،ایک شخص زخمی

    لیہ:کرنٹ لگنے سے بہن بھائی جاں بحق،ایک شخص زخمی

    لیہ (باغی ٹی وی رپورٹ)کرنٹ لگنے سے بہن بھائی جاں بحق،ایک شخص زخمی

    تفصیل کے مطابق بارش کے باعث ایک افسوسناک حادثہ میں تین افراد کرنٹ لگنے سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے دو بہن بھائی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ شہر کے محلہ قادر آباد میں پیش آیا جہاں 14 سالہ ماہ نور اور 15 سالہ علی حسن وضو کرتے ہوئے پانی کی ٹوٹی میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق علی حسن جب وضو کر رہا تھا تو اسے کرنٹ لگا اور اس کی بہن ماہ نور نے اسے بچانے کی کوشش میں خود بھی کرنٹ کا شکار ہو گئی۔ اس کے علاوہ عیدگاہ کے رہائشی 50 سالہ ناصر حسین کو بھی کرنٹ لگا جسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ریسکیو 1122 نے عوام کوخبردار کرتے ہوئے کہا کہ بارش کے دوران بجلی کے آلات کا استعمال انتہائی خطرناک ہوتا ہے، لوگوں کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • میہڑ اور گردنواح میں موسلادھار بارش، گرمی کی چھٹی

    میہڑ اور گردنواح میں موسلادھار بارش، گرمی کی چھٹی

    میہڑ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)میہڑ اور گردنواح میں موسلادھار بارش، گرمی کی چھٹی

    تفصیل کے مطابق میہڑ اور اس کے گردنواح میں گزشتہ کچھ گھنٹوں سے گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارش سے شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے اور علاقے میں موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ تاہم اس بارش کے باعث کئی کچے مکانات کے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری طرف بارش شروع ہوتے ہی بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے جس کے باعث علاقے میں معمولات زندگی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

  • قصور : انتخابی جھوٹ کی دہشتناک مثال، سڑکیں تباہ حال،جنوری میں سڑکیں اکھاڑ کر نئی بنانے کا وعدہ، ابھی تک پورا نہ ہوا

    قصور : انتخابی جھوٹ کی دہشتناک مثال، سڑکیں تباہ حال،جنوری میں سڑکیں اکھاڑ کر نئی بنانے کا وعدہ، ابھی تک پورا نہ ہوا

    قصور،باغی ٹی وی (بیوروچیف غنی محمود قصوری)نواحی گاؤں اوراڑہ نو و اوراڑہ کلاں کی سڑکیں ووٹوں کے نام پر رواں جنوری اکھاڑی گئیں کہ نئی بنائیں گے تاہم جیتنے اور گورنمنٹ بننے کے باجود وعدہ ایفا نہ ہوا ،اہلیان علاقہ کا مقامی ایم پی اے و ایم این اے سے مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں اوراڑہ نو و اوراڑہ کلاں میں الیکشن کمپین کے دوران مسلم لیگ ن کے امیدوار صوبائی اسمبلی چوہدری الیاس خان گجر و امیدوار قومی اسمبلی ملک رشید احمد خان نے وعدہ کیا کہ آپ کے دونوں دیہات کی جو مین سڑکیں خراب ہیں ان کو الیکش ہونے سے قبل نہ صرف نئی تعمیر کروایا جائے گا بلکہ ان دونوں سڑکوں کی توسیع بھی ہو گی جس پر وعدہ کرتے ہوئے رواں سال جنوری میں دونوں سڑکوں کو اکھاڑا گیا اور ان کے گرد مٹی ڈالی گئی تاہم جنرل الیکشن 8 فروری سے پہلے ہی کام روک دیا گیا اس کے بعد دونوں ممبران کے الیکشن جیتنے کے باوجود آج دن تک اکھاڑی گئی سڑکیں اکھڑی پڑی ہیں اور دیہاتیوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے بلکہ لوگوں نے اس کو چھوڑ کر قریبی حویلیوں و دیہات سے گزرنا شروع کر دیا ہے

    اہلیان دیہہ کی مزرا برادری،ڈوگر برادری،گجر برادری،انصاری برادری و دیگر دیہاتیوں نے ایم این اے ملک رشید احمد خان اور ایم پی اے الیاس خان گجر سے فریاد کی ہے کہ جناب ہمارا کیا قصور کہ ہماری سڑک اکھاڑ کر ہمیں گزرنے سے بھی تنگ کر دیا گیا ہے، اگر آپ ہمیں کشادہ اور نئی سڑک نہیں بنوا کر دینا چاہتے تو کم از کم پرانی جیسی چھوٹی سڑکیں ہی بنوا دیں ہم اسی پر خوش ہیں پر خدارا اسطرح ہمارے ساتھ زیادتی نا کریں

    واضع رہے کہ اس علاقے کے لوگ زیادہ تر کسان اور گوالے ہیں جن کی موٹر سائیکل اور رکشے وغیرہ اس خراب سڑک کے باعث برباد ہو چکے ہیں جبکہ ابھی تک سڑک پر مکمل طور پر پتھر بھی نہیں ڈالا گیا اور سڑک سے گزرنے والے کمر درد وغیرہ کا شکار ہو رہے ہیں،اس سلسلہ جب بھی معززین علاقہ رابطہ کرتے ہیں تو ان کو جواب ملتا ہے ٹھیکیدار جلد کر دے گا جبکہ ٹھیکیدار گزشتہ 8 ماہ سے نظر ہی نہیں آئے نیز جو مٹی سڑک کی توسیع کے لئے ڈالی گئی اب بارشوں کی وجہ سے وہ بھی ختم ہونا شروع ہو گئی ہے

    اہلیان دیہہ نے ایم این اے ملک رشید احمد خان اور ایم پی اے چوہدری الیاس گجر سے خصوصی ترس کھانے کی استدعا کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ ہمارے گاؤں کے لوگ آگے سے آپ سے کسی ترقیاتی کام کا مطالبہ نہیں کرینگے آپ بس ہماری سڑک ایک بار مکمل کروا دیں تاکہ ہم سکون سے اپنے گاؤں سے باہر آ جا سکیں.

  • ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دواؤں کا شدید بحران،مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں

    ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دواؤں کا شدید بحران،مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دواؤں کا شدید بحران،مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں، ڈپٹی کمشنر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ مریضوں نے شکایت کے انبار لگا دیے ،پرچی کاونٹرز پر عملے کی تعداد کو بڑھایا جاۓ ،عملہ باوردی ڈیوٹی سرانجام دے

    ڈاکٹرز اور عملہ اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے عام لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب کے معتبر ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر عوام الناس کو طبی سہولیات کی بہترین فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب چوہدری محمد ارشد کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا اچانک دورہ ، ڈپٹی کمشنر نے ادویات کے اسٹاک ، ڈاکٹرز و عملے کی حاضری ، ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کے معائنہ سمیت صفائی ستھرائی کے عمل کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے بچہ وارڈ سمیت مختلف وارڈز میں مریضوں کی عیادت کی اور ان سے طبی سہولیات کی فراہمی بارے بھی دریافت کیا۔ انہوں نے آوٹ ڈور میں آنے والے مریضوں سے بھی ہسپتال میں درپیش مشکلات بارے دریافت کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے پرچی کاونٹرز پر عملے کی تعداد بڑھانے اور عملے کو باوردی ڈیوٹی سرانجام دینے کے احکامات بھی جاری کیے۔انہوں نے کہا کہ پرچی بنانے والے مریضوں کی لائن نہ لگوائی جائیں۔اس موقع پر سی او ہیلتھ ڈاکٹر قربان علی رانا ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران علی شاہ,صدر وائی ڈی اے ڈکٹر خواجہ جنید احمد سمیت دیگر افسران بھی ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ تھے۔

    ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد ارشد نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں صاف اور ٹھنڈے پانی کی وافر مقدار میں دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ، شہریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور عملہ اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے عام لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

    ڈپٹی کمشنر نے سی او ہیلتھ اور ایم ایس کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے کسی بھی ہسپتال کی وارڈز میں اے سی بند یا خراب نہ ہو ، مریضوں کو سہولیات فراہم نہ کرنے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام الناس کو طبی سہولیات کی فراہمی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے

  • ڈیرہ غازیخان:ریسکیو1122کا اجلا س منعقد ہوا،ماہ جولائی کی ایمرجنسی رپورٹ کا جائزہ لیاگیا

    ڈیرہ غازیخان:ریسکیو1122کا اجلا س منعقد ہوا،ماہ جولائی کی ایمرجنسی رپورٹ کا جائزہ لیاگیا

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ ریسکیو1122ڈیرہ غازیخان انجینئر احمد کمال کی زیر صدارت سنٹرل سٹیشن چوک چورہٹہ پر اجلا س منعقد ہوا جس میں انہوں نے گزشتہ ماہ جولائی کی ایمرجنسی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران ریسکیو1122 کو43013 کالز موصول ہوئیں۔

    جن میں سے8694کالز ایمرجنسی کیلئے9541کالزانفارمیشن کیلئے ،9339کالز غیرمتعلقہ جبکہ99غلط کالز شامل تھیں۔پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122ڈیرہ غازیخان نے757روڈ حادثات ،29آگ لگنے کے واقعات، 191 لڑائی جھگڑے،6460 میڈیکل ایمرجنسیز،2عمارات منہدم ہونے ، پانی میں ڈوبنے کے 7 اور1248دیگر متفرق واقعات پرریسپانس کیا ،10378مریضوں کوریسکیوکیاگیا۔ جن میں7337افرادکوموقع پر ابتدائی طبی امدادکی فراہمی،2891افرادکو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا .

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال نے اجلاس میں بتایا کہ ریسکیو1122ڈیرہ غازیخان کی طرف سے شجر کاری مہم کا آغاز کر دیا گیاہے۔ 5000پھل داراور سایہ دار پودے لگانے کا ہدف ہے اور شجرکاری کے بعد پودوں کی نگہداشت کی ذمہ داری بھی لی جائے گی اور اس مہم کو کامیاب بنایا جائے گا۔