Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پاکستان میں تالی کون مارے گا۔۔؟

    پاکستان میں تالی کون مارے گا۔۔؟

    پاکستان میں تالی کون مارے گا۔۔؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    کہتے ہیں کہ افغانستان کے صدر سردار داؤد کو اطلاع ملی کہ کابل میں تانگے کا کرایہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سردار داؤد نے فورا عام لباس پہنا اور بھیس بدل کر ایک کوچوان کے پاس پہنچ کر پوچھا محترم، پل چرخی (افغانستان کے ایک مشہور علاقے کا نام ہے) تک کا کتنا کرایہ لو گے؟کوچوان نے سردار داؤد کو پہچانے بغیر جواب دیا : میں سرکاری نرخ پر کام نہیں کرتا۔صدر داؤد خان نے کہا: 20؟اس پرکوچوان نے کہا اور اوپر جاؤ۔صدرداؤد خان: 25؟،کوچوان: اور اوپر جاؤ۔صدرداؤد خان نے کہا 30؟توکوچوان نے کہا اور اوپر جاؤ۔صدرداؤدخان نے کہا 35؟جس پرکوچوان راضی ہوگیا اور کہا مارو تالی۔
    صدرداؤد خان تانگے پر سوار ہو گیا، تانگے والے نے داؤد خان کی طرف دیکھا اور پوچھا : فوجی ہو؟داؤد خان نے جواب اوپر جاؤ۔کوچوان بولا اشتہاری ہو؟داؤد خان نے کہا اور اوپر جاؤ۔کوچوان بولا جنرل ہو؟داؤد خان نے جواب میں کہا اور اوپر جاؤ۔کوچوان پھربولامارشل ہو؟داؤدخان نے پھرکہا اوپر جاؤ۔کوچوان نے حیرت سے پوچھاکہ کہیں داؤد خان تو نہیں ہو؟داؤد خان بولامارو تالی۔کوچوان کا رنگ اڑ گیا۔کوچوان نے داؤد خان سے کہا مجھے جیل بھیجو گے؟داؤد خان نے اسی طرح کوچوان کوجواب دیااور اوپر جاؤ۔کوچوان نےپھرکہاکیا جلا وطن کرو گے؟داؤد خان نے کہا اور اوپر جاؤ۔کوچوان ڈرے سہمے ہوئے لہجے میں بولا پھانسی پر چڑھاؤ گے؟ توداؤد خان نے کہا مارو تالی۔

    اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف خبر کے مطابق راولپنڈی میں واسا کے واٹر لیول گیج اسٹیشن پر چوری کی انوکھی واردت سامنے آگئی ، چوروں نے برساتی نالوں میں سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والاسسٹم چوری کر لیا ،نامعلوم چوروں نے واٹر لیول گیج اسٹیشن کے کنڈے تیز دھار آلے سے کاٹ دیے، سیلاب او ربارش کی صورتحال بتانے والا یہ سسٹم جاپان نے دیا تھا۔سسٹم چوری کے بعد سیلاب و بارش کی پیشگی اطلاع کا نظام مکمل مفلوج ہوگیا، چور سسٹم کی سولر پلیٹس، ہیوی بیٹریاں ،قیمتی کمپیوٹرز اور ڈیوائسز بھی ساتھ لے گئے۔ چوری ہونے والا سسٹم جدید خود کار سیلاب کی اطلاع دینے والا نظام تھا۔کلوز سرکٹ کیمرے کے حوالے سے بھی فوٹیج سامنے نہ آسکی، سیلاب بارش کی صورتحال کا یہ سسٹم گزشتہ 15 سال سے بہترین انداز سے کام کررہا تھا۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اور کمشنر نے بھی اس بڑی چوری کے حوالے سے رپورٹس طلب کی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اتنا بڑا سسٹم کیسے چوری ہوگیا ،پاکستان میں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے جب کسی معاملے کودبانا ہویا دفن کرنا ہوتو اس کی کمیٹیاں بنادی جاتی ہیں یاپھر نوٹس لیکر رپورٹ طلب کی جاتی ہے ،اس طرح چاہے جتنی بڑی چوری ہویاکرپشن کی گئی ہو رپورٹ دررپورٹ کی فائلوں میں گم کردی جاتی ہیں ،پاکستان میں ہے کوئی مائی کالال جو اس انوکھی چوری پر تالی بجائے..؟

    ایک اور خبرکے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زیر التوا مقدمات 59 ہزار سے تجاوز کر گئے، 15 جولائی تک زیر التوا مقدمات کی تعداد 59064 تک پہنچ گئی، یکم سے 15 جولائی تک 1206 مقدمات دائر ہوئے لیکن صرف 481 مقدمات نمٹائے جا سکے۔گزشتہ پندرہ روز کے دوران انسانی حقوق کے کسی کیس کا فیصلہ نہیں ہوسکا، ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف 32 ہزار سے زائد اپیلیں قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کی منتظر ہیں، زیر التوا فوجداری اپیلوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی،جیلوں میں موجود افراد کی اپیلوں کی تعداد 3295 تک پہنچ گئی۔سپریم کورٹ آف پاکستان اور صوبائی ہائی کورٹس کی موسم گرما کی چھٹیوں کے نوٹیفکیشن جاری ہو چکے ہیں، جس کے مطابق عدالت عظمی میں تعطیلات 15 جولائی سے شروع ہوئیں،سکولوں کے بچوں کی طرح ججوں کو موسم گرما کی چھٹیاں جو انگریز دور کی روایت ہے،انگریزتوچلے گئے لیکن ان کی یہ روایت اسی آن بان اور شان کے ساتھ آج بھی قائم ہے ،اس پر کون تالی بجائے گا؟

    ایک اور اہم خبرجسے تمام قومی اخبارات نے شائع کیا اور نیوزچینل نے نشرکیا وہ یہ ہے کہ سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ 4 پاور پلانٹس بجلی پیدا کیے بغیر ہزار کروڑ روپے ماہانہ لے رہے ہیں اور آئی پی پیز کو ماہانہ 150 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کو کپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی ادائیگیوں کا ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ مختلف آئی پی پیز کو جنوری 2024 سے مارچ تک 150 ارب ادا کیے گئے۔اِدھرایک سوال پیداہوتا ہے جب گوہر اعجازوفاقی وزیرتھے اور سیاہ سفید کے مالک بنے ہوئے تھے تو اس وقت انہوں نے ان آئی پی پیز کیخلاف آواز کیوں نہ اٹھائی اور اس وقت جب وہ کچھ کرسکتے تھے تو تالی کیوں نہ بجائی؟

    ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان میں ایک ایسا شعبہ بھی موجود ہے جس نے 32 سال میں وطن عزیز کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا، وہ ہیں آئی پی پیز بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے، ہم ان 90کمپنیوں سے کئے معاہدوں پر بات نہیں کریں گے کہ کیسے اور کن شرائط پر انہیں پاکستان کی شہہ رگ پر بٹھادیا گیا ؟ لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان آئی پی پیزکمپنیوں کے اصل مالک کون ہیں؟ 68فیصدکمپنیاں تو حکمرانوں (شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ)کی ملکیت ہیں ان کے علاوہ 8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما 10 فیصد اسٹبلشمنٹ، 8 فیصد چین کے سرمایہ کا اور7 فیصدقطری عرب اور7 فیصد پاکستانی سرمایہ دارشامل ہیں ۔اب عوام سے ایک سوال ہے جب 68فیصدآئی پی پیزکمپنیوں کے تین مالک شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ ہوں ایسا کون ہے مائی کا لال جو ان آئی پی پیز کمپنیوں کے خلاف تالی بجاسکے ،پاکستان ایسا ملک جہاں اگر کسی نے تالی بجانے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنادیا گیا ،اس لئے یہاں پاکستان میں تالی بجانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور پاکستان کی سرزمین میں ایسے تالی بجانے والے حکمران ماؤں نے پیدا ہی نہیں کئے جوعوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے باہرنکلیں،
    لیکن تاریخ اسلام میں ایک ایسا حکمران بھی آیا تھا جس کی 24لاکھ مربع میل پر حکومت تھی جوراتوں کو اٹھ اٹھ کرپہرادیتے تھے اور لوگوں کی ضروریات کاخیال رکھتے تھے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلیفہء ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذات تھی اور جناب عمرکہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمرسے اس بارے میں پوچھاجائے گا۔

  • ڈیرہ غازیخان:مشکل حالات میں ملکر پاکستان کی تعمیرو ترقی کےلیےکردار ادا کرناہوگا ،حنیف پتافی

    ڈیرہ غازیخان:مشکل حالات میں ملکر پاکستان کی تعمیرو ترقی کےلیےکردار ادا کرناہوگا ،حنیف پتافی

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹر) مشکل حالات میں ملکر پاکستان کی تعمیرو ترقی کےلیےکردار ادا کرناہوگا صحافیوں کے حقوق کا تحفظ میری اولین ترجیحی ہے سٹی ایم پی اے ،ادارےمضبوط پاکستان محفوظ قلم کامثبت استعمال پڑھےلکھےصحافی کی پہچان ہے نویدنقوی

    تفصیلات کے مطابق صحافیوں کےایک وفدنے سٹی ایم پی اے حنیف خان پتافی کو حج کے ادائیگی پر مبارک باد دی اس موقع پر سٹی ایم پی اے حنیف خان پتافی نے کہا کہ صحافیوں کے بنیادی حقوق ان کے مسائل کے حل کےلیے ہمیشہ سے کردار ادا کیا اور کرتے رہیں گے اور بہت جلد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے ملاقات میں صحافتی کالونی دیگر مسائل پر سنجیدگی سے گفتگو کریں گے کیونکہ صحافی معاشرہ کی آنکھ اورکان ہیں ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے

    ہم اپنے بھائیوں کو کسی صورت تنہاء نہیں چھوڑیں گے آئیے آج اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیں اس موقع پر سینئرصحافی اورہردل عزیز شخصیت سیدنوید نقوی نے کہا کہ اچھی اور مثبت رپورٹنگ ہمارا نصب العین ہے ادارےمضبوط ہوں گے پاکستان اور عوام محفوظ ہوگی

    حکومت پنجاب اچھے لکھاری اور تعلیم یافتہ صحافیوں کی حوصلا افزائی کرے اور ان کے اوپر ہونے والے ناجائز مقدمات ختم کرے اور ان کے حقوق کے تحفظ کےلیے کردار ادا کرے اس موقع پر ملک جمیل ماڑھا ،ملک ربنواز آرائیں ،زوہیب کمبوہ، فیاض کھوسہ ،فضل حسین سولنگی ،میر اعجاز رند ،میر خالد فرید رند، قاسم خان چانڈیہ رائے نواز ،بشیر بلوچ، آصف بلوچ ،کاشف بلوچ، نصراللہ گورمانی، سجاد سومرو ،اکبر خان چانڈیہ ،حشمت کوریجہ
    سمیع اللہ، ملک نذر حسین، اختر لسکانی ،فرحت عباس ،فیض احمد چنگوانی، سید غلام عباس شاہ، سیف اللہ احمدانی ودیگرصحافیوں نے شرکت کی

  • اوکاڑہ:رینالہ خورد،تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی،  نیٹ ورک کاایک رکن گرفتار،بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    اوکاڑہ:رینالہ خورد،تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی، نیٹ ورک کاایک رکن گرفتار،بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر )رینالہ خورد میں تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی، نیٹ ورک کاایک رکن گرفتار،بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    تفصیلات کے مطابق نوجوان نسل کو چید پیسوں کے عوض منشیات جیسی لعنت میں مبتلا کرنے والے گروہ کا رکن پولیس صدر رینالہ نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ملزم کی شناخت محمد شاہد کے نام سے ہوئی ملزم کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی منشیات بھی برآمد کر لی برآمد ہونے والی منشیات میں 13 کلو گرام چرس 51 سو گرام افیون اور 1200 سو گرام آئس شامل ہے

    ملزم عرصہ دراز سے تعلیمی اداروں میں منشیات جیسے مکروہ دھندہ کامیابی سے چلا رہا تھا اے ایس پی رینالہ عدنان گل اور ایس ایچ او صدر رینالہ پولیس ملک ارشد کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف مذید تفتیش جاری ہے

    اور اس بات کا کھوج لگایا جا رہا ہے ملزم کن کن افراد کو منشیات سپلائی کرتا تھا اور ملزم کے پیچھے کون افراد ہیں جو ملزم کو سپلائی کرتے تھے ہم بہت جلد اس سارے نیٹ ورک کو بے نقاب کریں گے

  • آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں؟

    آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں؟

    آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں؟
    ازقلم غنی محمود قصوری

    پاکستان کا غربت میں دنیا میں 52 واں نمبر ہے جبکہ بنگلہ دیش 62 ویں اور بھارت 63 ویں نمبر پر ہیں،پاکستان میں فی کس سالانہ آمدن تقریباً 5 لاکھ روپیہ کے قریب ہےاور کل شرح خواندگی 62.2 فیصد اور اس میں سے مردوں میں شرح خواندگی 73.4 اور عورتوں میں 51.9 فیصد ہےیعنی کہ ہر اعتبار سے پاکستان ایک ترقی پذیر اور درمیانے درجے کا ملک ہے نا تو اس کا شمار غریب ممالک میں ہوتا ہے نا ہی امیر ممالک میں
    مگر ہم مغربی اور عرب ممالک کو دیکھیں تو ہم بہت پیچھے ہیں مگر اس کے باوجود جب بھی امت مسلمہ پر کوئی آفت آتی ہیں تو یہ مڈل کلاس قوم اپنی بساط کے لحاظ سے سب سے پہلے امت کیساتھ کھڑی ہوتی ہے

    میں حکومت کی بات نہیں کر رہا میں عام عوام کی بات کر رہا ہوںآپ موجودہ دور کو ہی لے لیجئے اسرائیل اور فلسطینی حماس کے مابین 7 اکتوبر 2023 سے جنگ جاری ہے جس پر پاکستانی قوم نے احتجاج کیا اور بطور احتجاج اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کیا،شروع میں بائیکاٹ کچھ خاص نا ہوا تو علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں نے عوام میں کمپین شروع کی جس کے باعث لوگوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ تیز کیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ گردن میں سریا لئے ملٹی نیشنل خاص کر اسرائیلی کمپنیوں کی چیزوں کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تو اپنی گرتی ساکھ اور خسارا دیکھ کر اسرائیلی و ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عوام کو لالچ دینے کے لئے چیزوں کیساتھ مختلف چیزیں دینا شروع کیں اور کچھ قیمتیں بھی کم کیں

    دوسری جانب اس بائیکاٹ سے پاکستانی کمپنیوں کی چیزوں کی فروخت میں واضع اضافہ دیکھنے کو ملا ،یہاں میں ایک چیز واضح کر دوں کہ دنیا بھر میں تین قسم کی اشیا بنتی ہیں، اول لوکل برینڈ دیسی ساختہ اشیا جو کہ گھریلوں و بہت چھوٹی سطح پر بنتی ہیں اور اکثر ناقص کوالٹی کی ہوتی ہیں مگر ان چیزوں میں سے کچھ بہتر بھی ہوتی ہیں ،دوم نیشنل لیول برینڈ کی وہ چیزیں جیسے کہ ہمارے ملک پاکستان میں ہمارے ملک کے ہی باشندوں کی انڈسٹری سے بنی پراڈکٹس ہیں جو باآسانی پورے ملک سے مل جاتی ہیں اور ان کا معیار بھی قدرے بہتر ہوتا ہے سوئم ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کہ پوری دنیا میں دستیاب ہوتی ہیں اور اپنی کوالٹی اور معیار و مقدار کا لوہا منوا کر لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں مگر وہ الگ بات ہے کہ اس کی آڑ میں مسلمانوں میں کیا کیا زہر گھولا جاتا ہے

    جب ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چھوڑ کر عوام نیشنل کمپنیوں پر آئی تو نیشنل برینڈز کی چاندی ہو گئی ان کی پراڈکٹس کی فروخت میں بہت اضافہ ہوا اور نفع بھی زیادہ ہو گیا

    اب چاہئے تو یہ تھا یہ نیشنل کمپنیاں لوگوں کو ریلیف دیتیں اور اپنی پراڈکٹس کا معیار بہتر کرتیں تاکہ ان کو ملٹی نیشنل کمپنیاں بننے کا موقع ملتا مگر ان کمپنیوں نے لوگوں کو مجبور جان کر محض چند ہی ماہ میں اپنی پراڈکٹس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور معیار بھی کچھ کم کر دیا کیونکہ ان کو پتہ تھا اب مذہب کے نام پر لوگ ملٹی نیشنل و اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کر چکے ہیں اور اب مارکیٹ میں انہی کا راج ہو گا سو انہوں نے مجبور عوام پر ایسے وار کرنے شروع کر دیئے جیسے اس مجبور قوم پر ہر گورنمنٹ کرتی آئی ہے

    میں نام نہیں لینا چاہتا تاہم آپ سب جانتے ہیں اس وقت پاکستان میں کولڈ ڈرنکس کے ریٹ میں نیشنل اور ملٹی نیشنل برینڈز کا فرق اور کوالٹی کا فرق کتنا رہ گیا ہے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ نیشنل کمپنیاں نہ تو آسانی سے دستیاب ہیں الٹا ان کے ریٹس کچھ جگہوں پر ملٹی نینشل کمپنیوں سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں

    اسی طرح ایک واقعہ بتاتا ہوں میں ایک اسرائیلی ملٹی نیشنل ٹوٹھ پیسٹ خریدتا تھا مگر اس بائیکاٹ کے باعث میں نے ایک پاکستانی برینڈ کی ٹوٹھ پیسٹ کو ترجیح دی جس کی قیمت شروع میں 70 روپیہ تھی مگر دو ماہ کے اندر ہی اس کی قیمت 90 روپیہ ہو گئی اور اس میں وزن پورا کرنے کے لئے ہوا زیادہ بھر دی جانے لگی، اب مجبور اََمجھے ایک اور پاکستانی برینڈ منتخب کرنا پڑا مگر بے سود تھوڑے عرصے بعد بات وہیں پر آچکی ہے

    بات کریں ایمانداری کی تو قصور اس میں اپنی ملکی ساختہ پراڈکٹس کو خریدنے والی عوام کا ہے کہ اس ملکی ساختہ پراڈکٹس کو بنانے والے لوگوں کا؟
    عوام تو امت مسلمہ سے اظہار یکجہتی کی خاطر اعلی ملٹی نینشل برینڈز کو چھوڑ چکی مگر اب نیشنل ساختہ برینڈز نے اپنی ہی عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر قیمتیں زیادہ اور معیار و مقدار کو ناقص کر دیا جس کا نتیجہ آہستہ آہستہ یہ نکل رہا کہ عوام پھر سے انہی ملٹی نیشنل برینڈز کی جانب واپس پلٹنے لگی ہے

    بات کریں ان نیشنل برینڈز کے مالکان کی تو وہ لوگ کوئی عام عوام نہیں وہ تو خاص لوگ بلکہ بیشتر تو حکمران لوگ ہیں چاہے وہ موجودہ گورنمنٹ کے ہیں یا سابقہ گورنمنٹس کے ،عوام کے بس میں تو جو تھا عوام نے کیا اب سوچنے کی بات ہے امت سے اظہار یکجہتی کی خاطر ساری قربانی کیا عوام نے ہی دینی ہے ہمارے جاگیردار اور ایلیٹ کلاس طبقے کو صرف موقع سے فائدہ اٹھانا ہی آتا ہے یعنی انہوں نے امت کی خاطر کوئی قربانی نہیں دینی؟

    یہ ان نیشنل برینڈز پراڈکٹس کے مالکان سے سوال ہے کہ کیا آپ ایمانداری سے ترقی کرکے ملٹی نیشنل برینڈز نہیں بننا چاہتے مطلب آپ مرغی کھانا پسند کرتے ہیں انڈہ نہیں؟

    اللہ کے بندو سوچو کچھ سوچو اس امت کا بھی اور عام عوام کا بھی کاروبار ضرور کرو مگر طریقہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ہی سیکھ لو حالانکہ ان بے دینوں نے سارا طریقہ اسلام کا بتایا ہوا اپنایا ہے.

  • گوجرانوالہ:شہریوں کی غیرقانونی حراست پرSHO ،سب انسپکٹراور ASI کیخلاف مقدمہ درج

    گوجرانوالہ:شہریوں کی غیرقانونی حراست پرSHO ،سب انسپکٹراور ASI کیخلاف مقدمہ درج

    گوجرانوالہ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی)شہریوں کی غیرقانونی حراست پرSHO، سب انسپکٹراور ASI کیخلاف مقدمہ درج

    تفصیل کے مطابق تھانہ صدر پولیس نے چوری کے مقدمہ میں شہریوں کو بغیر گرفتاری چوکی میں گرفتار کر رکھا تھا ، متاثرین نے عدالت سے رجوع کیا ہوا تھا اور بیلف نے کامیاب کارروائی کرنے ہوئے ناجائز پولیس چوکی میں مبحوس شہریوں کوبازیاب کروایا،

    عدالتی حکم پر ایس ایچ او تھانہ صدر قیصر عباس ، اے ایس آئی قمر شہزاد اور رضوان ورک پر مقدمہ اندراج کر لیا گیا ہے،اس طرح پولیس کے بااختیار شیرافسران کو شہروں کو غیرقانونی حراست میں رکھنا مہنگا پڑ گیا .

  • کندھ کوٹ:دیرینہ دشمنی پر زخمی شخص دم توڑ گیا,ورثاء کا لاش سمیت روڈ پر دھرنا

    کندھ کوٹ:دیرینہ دشمنی پر زخمی شخص دم توڑ گیا,ورثاء کا لاش سمیت روڈ پر دھرنا

    کندھ کوٹ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمختیاراعوان ) ایک ہفتہ قبل کوکاری نندوانی اور جعفری برادری کے درمیان جگھڑے کے دوران زخمی ہونے والے 5 افراد میں سےجعفری برادری کے زخمی اللہ داد جعفری سکھر کے ہسپتال میں دم توڑ گئے

    متاثرین نے ٹھل کندھ کوٹ انڈس ہائی وے روڈ پر لاش رکھ کر دھرنا دے دیا ،دھرنے کے باعث ٹریفک کی آمد رفت بند اورمسافروں کو پریشان کا سامنا کرنا پڑا۔
    جعفری برادری کے افراد کاکہناتھا کہ نندوانی برادری ہمیں بھتہ وصول کرنا چاہتے ہیں ،ملزمان کے فائرنگ سے اب تک ہمارے تیں افراد قتل ہو چکے ہیں اورپولیس ملزمان سے ملی ہوئی ہے،

    پولیس نے کامیاب مذکرات کر کے دھرنا ختم کرایا اور ٹریفک کی روانی بحال کرائی

    جبکہ دونوں گروپوں کے جگھڑے کے دوران قتل ہونے والے افراد کی تعداد 4 ہوگئی جن میں ایک کا تعلق نندوانی کوکاری اور 3 کا تعلق جعفری برادری سے ہے

    دوسری جانب دونوں گروپوں میں کشیدگی برقرار ہے دونوں گروپ اپنے دفاع کے لیے مورچہ زن ہیں، دونوں گروپوں میں ہونے والی کشیدگی پر علاقہ مکین ڈرخوف اور پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں ،شہری نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے اس معاملہ پر فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے.

  • منڈی بہاؤالدین:ڈپٹی کمشنر کی روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری،شہریوں کے مسائل سنےاور موقع احکامات

    منڈی بہاؤالدین:ڈپٹی کمشنر کی روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری،شہریوں کے مسائل سنےاور موقع احکامات

    منڈی بہاؤالدین،باغی ٹی وی (افنان طالب نامہ نگار)وزیراعلی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر گوجرانوالہ کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کی اوپن ڈور پالیسی روزانہ کی بنیاد پر جاری،

    ڈپٹی کمشنر نے اپنے آفس میں آئے ہوئے سائلین کے مسائل سن کر حل کے لئے متعلقہ افسران کو ٹیلی فون کرکے فوری احکامات جاری کئے۔ڈپٹی کمشنر نے ضلع بھر کے تمام محکموں کے سربراہان کو سائلین کے مسائل سن کر حل کرنے اور مطمئن کرنے کی ہدایت کی۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عوام الناس کو درپیش مسائل کاحل اولین ترجیح ہے۔

    وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت کو مد نظر رکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر اوپن ڈور پالیسی کے تحت عوام الناس کے مسائل حل کئے جاتے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو لوگوں کی مشکلات اور مسائل کا بخوبی علم ہے جن پر قابو پانے کیلئے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مسائل حل کئے جا رہے ہیں۔

  • علی پور:زمین کاتنازعہ،نوجوان کو درخت سے باندھ کر ،پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی،نوجوان دم توڑگیا

    علی پور:زمین کاتنازعہ،نوجوان کو درخت سے باندھ کر ،پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی،نوجوان دم توڑگیا

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )علی پور میں زمین کاتنازعہ،نوجوان کو درخت سے باندھ کر ،پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی،نوجوان دم توڑگیا
    تفصیل کے مطابق اراضی کا تنازعہ،چار افراد نے دن دیہاڑے نوجوان کو درخت سے باندھ کر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی،نشتر ہسپتال ملتان لیجاتے راستہ میں دم توڑ گیا ملزمان کی عدم گرفتاری پر وارثان کا احتجاج ،مقدمہ درج،

    گذشتہ روز موضع مٹھن والی کی بستی جمن والی کے بشیر جتوئی دوائی لیکر دھوڑ کوٹ سے دو بجے گھر پہنچا،دیکھا درخت سےاس کا بھتیجا احسان جتوئی بندھا ہوا چیخ وپکار کر رہا تھا،اسے پورے جسم پر آگ لگی ہوئی تھی،دیگر رشتہ داروں کی مدد سے آزاد کرایا،آگ بجھائی گئی اور نوجوان بری طرح جھلس چکا تھا،جسے فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور لےجایا گیا،ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت کے پیش نظر نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا،

    روہیلانوالی کے نزدیک احسان جتوئی زندگی کی بازی ہار گیا،مرنے سے قبل پولیس کو احسان جتوئی نے بیان میں بتایا کہ اسے مسمیان اللہ بچایا،رشید،بابر،یوسف جتوئی نے باندھ کر پٹرول چھڑک کر آگ لگائی،قبل ازیں ملزمان قتل کی دھمکیاں دے چکے تھے،

    وجہ عناد زمین کا تنازعہ بتایا گیا ،پولیس تھانہ سیت پور نے ملزمان کے خلاف بشیر جتوئی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے،تاہم تاحال پولیس نے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی.

  • گوجرہ:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زمیندار جاں بحق

    گوجرہ:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زمیندار جاں بحق

    گوجرہ، باغی ٹی وی(نامہ نگار عبدالرحمن جٹ)نامعلوم افراد نے کھیتو ں کو پانی لگا کر واپس آتے ہو ئے زمیندار کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ملزمان موقع سے فرارہو گئے۔نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔مقدمہ درج کر لیاگیا۔

    معلوم ہواہے کہ چک نمبر332ج ب کاعمر حیات اپنے کھیتوں کو پانی لگا کرموٹر سائیکل پر سوار واپس گھر آرہاتھاکہ راستہ میں نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہو گیااور زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیاملزمان موقع سے فرارہو نے میں کامیاب ہو گئے۔

    اطلاع ملنے پر تھانہ نواں لاہور پولیس نے مقتول کی نعش اپنی تحویل میں لے کر رورل ہیلتھ سنٹرنواں لاہو رمنتقل کیااور ضروری کارروائی کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی اور نامعلوم افرادکے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلا ش شروع کر دی ہے۔

  • گوجرہ:مبینہ پولیس مقابلہ،زیرحراست 2 ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    گوجرہ:مبینہ پولیس مقابلہ،زیرحراست 2 ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    گوجرہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار عبدالرحمن جٹ سے)گوجرہ میں مبینہ پولیس مقابلہ،زیرحراست دو ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔پولیس زیرحراست ملزمان کو برآمد گی کیلئے لے جارہی تھی۔آتشیں اسلحہ سے مسلح موٹر سائیکل سواروں نے زیرحراست ملزمان کوچھڑانے کی کوشش کرتے ہو ئے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔حملہ آوروں کی فائرنگ سے زیرحراست ملزمان ہلاک ہو گئے۔

    معلوم ہواہے کہ تھانہ صدر پولیس گوجرہ زیرحراست ملزمان عالم شیراور فیاض سکنہ تحصیل دیپالپورضلع اوکاڑہ کو برآمدگی کیلئے لے کر جا رہی تھی کہ سمندری روڈ کے چک نمبر367ج ب جلیانوالہ قبرستان کے قریب دوموٹر سائیکلوں پر سوارچار مسلح ملزمان آگئے اورآتے ہی اندھادھند فائرنگ شروع کر دی اورزیرحراست ملزمان کو چھڑوانے کی کوشش کی، حملہ آور ملزمان کی فائرنگ سے زیرحراست ملزمان شدید زخمی ہو گئے جو موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے ہلاک ہو گئے۔جبکہ حملہ آور ملزمان موقع سے فائرنگ کر تے ہو ئے فرارہو گئے۔

    وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی گوجرہ پولیس نفری سمیت موقع پر پہنچے اورہلاک شدگان کی نعشیں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیاگیاپولیس نے فرارہو نے والے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ہلاک ہو نے والے ملزمان ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت دیگر اضلاع میں ریکارڈ یافتہ اورمختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب بیان کئے جاتے ہیں۔