Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرانوالہ:محکمہ ماحولیات کی آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کیخلاف کارروائی،دو بھٹے سیل

    گوجرانوالہ:محکمہ ماحولیات کی آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کیخلاف کارروائی،دو بھٹے سیل

    گوجرانوالہ ،باغی ٹی وی س (نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ، کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نوید حیدر شیرازی اور ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ محمد طارق قریشی کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات سلمان اسلم کا پسرور روڈ جنڈیالہ باغ والا شیخ رجادہ پر واقع بھٹہ جات کے خلاف آلودگی کا سخت نوٹس ، سموگ آلودگی کا سبب بننے والی دو بھٹہ کمپنیاں سیل

    ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات سلمان اسلم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ آج پسرور روڈ کا دورہ کیا ،دورہ کے دوران فضا میں سیاہ دھوئیں پر نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تحفظ ماحولیات کا فوری ایکشن

    محکمہ تحفظ ماحولیات کی ٹیم نے میسرز فرحت بٹر بھٹہ کمپنی اور میسرز فیصل بٹر بھٹہ کمپنی کو بار بار ہدایت کے باوجود ایس او پیز کی خلاف ورزی پر (واٹر بوزرنگ) یعنی چلتے بھٹہ جات میں پانی ڈال دیا

    دونوں بھٹہ مالکان کو ماحول دوست ٹیکنالوجی زگ زیگ کے عدم استعمال پر سیل کردیا گیا،اس موقع پر انسپکٹرز غلام مرتضی بھٹی،نوید احمد اور چوہدری عبد الغنی ودیگر بھی انکے ہمراہ تھے

  • اوکاڑہ:ضلع بھر میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری

    اوکاڑہ:ضلع بھر میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری

    اوکاڑہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار ) ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) فرخ عتیق خان کی ہدایات پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ۔

    اس سلسلہ میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے ضلع بھر میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں کی جارہی ہیں تاکہ عوام کو لوٹنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے،

    گزشتہ ایک ماہ کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے 41 ہزار 6 سو 16 انسپکشنز کیں اس دوران 1707 مقامات پر اوور چارجنگ پائی گئی،

    کارروائی کرتے ہوئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے 73 افراد کے خلاف مقدمات درج کروائے جبکہ 210 کو گرفتار کروایا گیا،

    اس کے علاوہ 17 دکانوں کو سیل کیا گیا اور ناجائز منافع خوری کے مرتکب افراد کو 29 لاکھ 65 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا

  • اوکاڑہ:04 مئی فائر فائٹرز کا عالمی دن بھرپور جذبے سے منا یا گیا

    اوکاڑہ:04 مئی فائر فائٹرز کا عالمی دن بھرپور جذبے سے منا یا گیا

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر) سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارہِ امتیاز) کی خصوصی ہدایات پر دنیا بھر کی طرح اوکاڑہ میں بھی 04 مئی فائر فائٹرز کا عالمی دن بھرپور انداز سے منایا گیا۔

    اس سلسلہ میں ریسکیو 1122 اوکاڑہ نے شہر میں خصوصی مارچ پاسٹ کیا جس میں ریسکیو ایمبولینس اور فائر وہیکلز کے ساتھ ریسکیورز نے شرکت کی۔ جبکہ تحصیل رینالہ خورد میں آگاہی سیمینار منعقد ہوئے اور تحصیل دیپالپور میں اس دن کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا اور فائر فائٹرز کےلیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کا فائرفائٹرز کے عالمی دن کے موقع پر کہنا تھا کہ اس دن کو منانے کا مقصد فائر فائٹرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انکی قربانیوں کو یاد کرنا ہے جو آتشزدگی کے واقعات میں انسانی زندگیوں اور املاک کو بچاتے ہوئے اپنی جانوں کا پرواہ نہیں کرتے۔

    یہ دن آتشزدگی کے حادثات کو روکنے اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے موثر،جامع اور مشترکہ کاوشوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ میری عوام الناس سے اپیل ہے کہ آئیں محفوظ معاشرے کے قیام کےلیے ریسکیو کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین پر عمل پیرا ہوں اور اپنے علاقے و محلے کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں بنائیں اور ریسکیو سے تربیت حاصل کر کے رجسٹرڈ ہوں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ معاشرے مل سکے۔

  • سیالکوٹ:9 مئی سب سے بڑی بغاوت تھی،ریڈ لائن عبور کرکے پاکستان کی اساس پر حملہ کیا گیا.خواجہ آصف

    سیالکوٹ:9 مئی سب سے بڑی بغاوت تھی،ریڈ لائن عبور کرکے پاکستان کی اساس پر حملہ کیا گیا.خواجہ آصف

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (مدثراشفاق رتوکی رپورٹ)9 مئی سب سے بڑی بغاوت تھی،ریڈ لائن عبور کرکے پاکستان کی اساس پر حملہ کیا گیا.خواجہ آصف

    سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل تاریخی واقعہ ہوا اور پہلی بار ایک سیاسی جماعت نے عدم اعتماد پر کورکمانڈر ہاؤس، جی ایچ کیو، میانوالی ائیر فیلڈ پر حملہ کیا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کو ایک ریڈ لائن کراس کی گئی، حملےکی شہادتیں ویڈیو کی صورت میں سامنے آئیں، نظریاتی، سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس جماعت نے یہ منصوبہ پہلے بنایا اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف بہت بڑی سازش کی۔

    لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ فوج میں بغاوت کرانے کی کوشش کی گئی جس کی جرات ملکی تاریخ میں کسی نے نہیں کی اور یہ اب کہتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ مذاکرات کریں گے، 9مئی سے لے کر آج تک اس پارٹی کا کردار دیکھیں تو نظر آتا ہے اتنا تضاد کسی جماعت میں نہیں جتنا پی ٹی آئی میں ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کل انہوں (پی ٹی آئی) نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے رہتے ہیں مگر ایک بھی مثال نہیں کہ اسمبلی میں اس کا اظہار کیا گیا، ان کو اب پتاچلا کہ سیاست میں مذاکرات ہونے چاہئیں، ہمیں تو یہ بات پہلے سے پتہ تھی۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سودے بازی میں حکومت میں توسیع کیلئے جنرل باجوہ کو توسیع کی پیشکش کی، امریکا کو گالیاں دیتے تھے کہ غلامی نامنظور اور اب لابی ہائر کرکے ترلے کر رہےہیں، انہوں نے پارٹی بھی اب وکلا کے حوالے کر دی ہے، ابھی نندن کے معاملے پر بھی ہم انتظار کرتے رہے لیکن بانی پی ٹی آئی اپنی انا میں رہے۔

    انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کی تضحیک کی، اور اب انھیں بھی دعوت دی جارہی ہے۔

  • اوچ شریف :شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے ڈی پی او کی روز انہ کی بنیاد پر کھلی کچہری

    اوچ شریف :شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے ڈی پی او کی روز انہ کی بنیاد پر کھلی کچہری

    اوچ شریف،باغی ٹی وی ( نامہ نگارحبیب خان)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسد سرفراز خان کا شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اپنے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد، 30 سے زائد شہریوں سمیت اوچ شریف کے مقامی صحافی شفیق انجم نے اپنے مسائل ڈی پی او کے سامنے رکھے۔ پراپرٹی کے مقدمات میں جلد ریکوری کرکے رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے، شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا اصل مقصد ہے ،ڈی پی او اسد سرفراز خان

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے ویژن اور احکامات کی روشنی میں ڈی پی او اسد سرفراز خان کی روزانہ کی بنیاد پر اپنے دفتر میں کھلی کچہری کے دوران 30 سے زائد شہریوں کے مسائل دریافت کئے۔ ڈی پی او اسد سرفراز خان نے کھلی کچہری میں تمام سائلین کو باری باری تفصیل سے سنا

    اوچ شریف کے مقامی صحافی شفیق انجم پر ہونے والی جھوٹی ایف آئی آر کے بارے شفیق انجم نے ڈی پی او کو بتایا اور ڈی پی او بہاول پور نے فوری طور پر مقامی صحافی پر ہونے والی ایف آئی آر ختم کرانے کی یقین دہائی کرائی اور انفرادی طور پر متعلقہ افسران کو بذریعہ فون کال بروقت قانونی کارروائی اور واپسی رپورٹ کے احکامات جاری کیے جبکہ متعدد ایس ایچ اوز کو کھلی کچہری میں طلب کر کے براہ راست جواب طلبی کی۔

    کھلی کچہری میں ڈی پی او اسد سرفراز خان نے متعدد سائلین کی درخواستوں پر انکوائریوں کا حکم دیا اور متعدد پر ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کو حکم دیا کہ کھلی کچہری میں متعلقہ شہری کی موجودگی میں حاضر آکر مقدمات کی پراگرس کے متعلق بریف کریں، ریکوری کے مقدمات میں ڈی پی او اسد سرفراز خان نے تفتیشی افسران کو حکم دیا ایک ہفتے کے اندر اندر ریکوری کرکے مدعی مقدمہ کے حوالے کر کے رپورٹ جمع کروائیں۔

    ڈی پی او اسد سرفراز خان نے کھلی کچہری میں شہریوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد یہ ہےکہ شہریوں اور پولیس افسران کے درمیان خلیج نہ رہے اور تمام جائز مسائل بروقت میرٹ پر حل ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مقدمات کو طے شدہ ضابطہ کے مطابق بر وقت یکسو نہ کرنا اور شہریوں کو انصاف فراہم نہ کرنے والے افسران سے جواب طلبی کی جا رہی ہے، سرکل اور تھانہ جات میں موجود افسران شہریوں کو پہلی فرصت میں انصاف فراہم کریں۔

    انہوں نے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام الناس کے مسائل ان کی دہلیز پر ہی حل کیے جائیں تاکہ وہ سفر کی صعوبت سے بچ جائیں اور یہی ہمارا اولین فرض بھی ہے

  • اوچ شریف:پل چھٹہ پر  ٹرک اور کیری وین میں تصادم، ایک شخص موقع پر جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    اوچ شریف:پل چھٹہ پر ٹرک اور کیری وین میں تصادم، ایک شخص موقع پر جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف پل چھٹہ کے مقام پر ٹرک اور کیری وین میں تصادم، ایک شخص موقع پر جاں بحق دوسرا شدید زخمی، ہسپتال منتقل

    تفصیل کے مطابق اوچشریف جلال پور پیروالہ روڈ پر پل چٹھہ کے نزدیک ایک کیری وین مخالف سمت سے آنے والے ٹرک کے ساتھ زور دار دھماکے سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجہ میں ایک شخص جسکی شناخت محمد نواز ولد محمد اجمل بعمری 30 سال سکنہ ترنڈہ گورگیج سے ہوئی ہے موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ زخمی ہونے والے شخص کی شناخت غلام علی ولد ولد محمد رمضان سکنہ بیٹ میرہزار کے نام سے ہوئی ہے

    شدید زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کو مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیم اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر مقامی رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف منتقل کر دیا ہے.

  • اوچ شریف:شعبہ صحافت ,معاشرتی برائیوں اور مسائل کی نشاندہی کرکے معاشرے کی خدمت کررہا ہے

    اوچ شریف:شعبہ صحافت ,معاشرتی برائیوں اور مسائل کی نشاندہی کرکے معاشرے کی خدمت کررہا ہے

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان ) شعبہ صحافت معاشرتی برائیوں اور مسائل کی نشاندھی کرکے معاشرے کی خدمت کررہا ہے، ایک عام شہری شعبہ صحافت کےذریعہ اپنا عملی تعاون کرتے ہوئے معاشرے کی بہتری بارے اپنا اہم کردار ادا کرسکتا ہے، حکومتی سطح پر صحافیوں کی حفاظت اور دیگر سہولیات کی فراہمی بارے وضع قوانین پر عمل وقت کی ضرورت ہے ،عالمی یوم صحافت کے موقع پر متحدہ پریس کلب اوچشریف میں منعقدہ تقریب سے ورکنگ سینئر صحافیوں کا اظہار خیال ۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف میں متحدہ پریس کلب کی جانب سے عالمی یوم صحافت کے موقع پر تقریب منعقد کی گئی، سینئر ورکنگ جرنلسٹس احمد حسن اعوان ،سید مجتہد رضوی، اظہر علی دانش، ،حبیب خان بلوچ، خواجہ غلام شبیر، ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی، ساجد خان سمیت دیگر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا صحافی ، اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے شرکت کی، اس موقع پر صحافیوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا،

    صحافت ایک مقدس شعبہ ہے جس کی تقدس کا خیال رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے حوالے سے گفتگو بھی کی گئی، اس موقع پر صدر متحدہ پریس کلب سید مجتہد رضوی، اور جنرل سیکرٹری حبیب خان بلوچ نے مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ بلاشبہ صحافیوں کو درپیش مسائل اور خطرات کے باوجود آج کا ورکنگ جرنلسٹ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر عوامی خدمت کے جذبہ سے آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ یہی وہ پروفیشنل اور ورکنگ صحافی معاشرے میں عوام کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتا ہے وہ اپنی صحافت کے ذریعے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے،

    اس ضمن میں عوام کو چاہیے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے صحافیوں کا ساتھ دیں تاکہ معاشرے میں مظلوم کی مدد اور دیگر مسائل کے حل بارے عملی اقدامات کئیے جاسکیں،تقریب میں ملک بھر میں شہید ہونے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اظہر علی دانش اور احمد حسن اعوان نے شرکاء محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج فیلڈ میں ورکنگ جرنلسٹ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں حکومتی اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کریں تاکہ اس شعبے سے وابستہ افراد کو بہتر انداز میں اپنے فرائض سر انجام دینے میں آسانی ہو

    آخر میں متحدہ پریس کلب اوچ شریف کے ممبران مخدوم سید خضر عباس بخاری، شمس خان رند، ملک یعقوب ککس، عامر غنی خان لنگاہ ۔ شفیق انجم مظہر خان پتافی ۔رجب سیال قاری محمد یعقوب، ملک زاہد صابر،، ملک محمد امین، ثناء اللہ شکرانی، شہباز خان شکرانی، ملک مبین، سید وقاص اور جنرل سیکرٹری حبیب خان بلوچ نے تمام معزز مہمانان اور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا

  • اوکاڑہ: پولیس ان ایکشن، 3  ڈکیت گینگز کے 11 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ: پولیس ان ایکشن، 3 ڈکیت گینگز کے 11 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ، باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر )ولیس ان ایکشن 3 مختلف ڈکیت گینگز کے 11 ملزمان کو حراست میں لے لیا ملزمان سے بھاری اسلحہ اور مال مسروقہ برآمد کرلیا گیا

    پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ اے ڈویژن نے کارروائی کرتے 3 ڈکیت گینگ کے 11افراد کو گرفتار کر لیا گرفتار، ملزمان کے قبضے سے 25 لاکھ کیش، 8 موبائل، 5 موٹر سائیکل، 3 پسٹل اور ایک رائفل برآمد کرلی گئی

    گرفتار تین میں سے دو گینگ کو شناخت پریڈ کروا لی گئی جبکہ ایک گینگ کی شناخت پریڈ باقی ہے

    ڈی ایس پی مہر یوسف کا کہنا ہے کہ جب سے یہ گینگ گرفتار ہوئے ہیں شہری علاقے میں وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ڈی پی او منصور امان کی سربراہی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی.

  • آپ نے شعبہ صحافت کے لئے کیا خدمات سر انجام دی۔۔؟

    آپ نے شعبہ صحافت کے لئے کیا خدمات سر انجام دی۔۔؟

    آپ نے شعبہ صحافت کے لئے کیا خدمات سر انجام دی..؟

    تحریر:میاں عدیل اشرف

    3مئی یوم آزادی صحافت کا دن جسے عالمی طور پر پوری دنیا میں صحافت کی آزادی کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ میرا ان سب صحافیوں سے سوال ہے جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے اور اب بھی موجود ہیں آپ نے جب سے صحافت کو جوائن کیا اپنی ذاتی شہرت، علاقے کی بہتری اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے تو کوشش کی ہو گی

    آج تک آپ نے شعبہ صحافت کی بہتری کے لیے کیا خدمات سرانجام دی جس کے تحت آپ کی شخصیت کو مستقبل میں شاندار مثال دے کر یاد کیا جائے؟؟ کیا آپ نے اپنے علاقے میں پریس کلب بنانے کی جدوجہد کی، اگر پریس کلب موجود ہے تو کیا آپ نے اس میں شامل ممبران کی دوران ڈیوٹی حفاظت کے لیے کوئی جدوجہد کی۔

    کیا آپ نے صحافیوں کے مستقبل کی بہتری کے لیے میڈیکل کی سہولت فراہم کروانے کی جدوجہد کی، صحافیوں کے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے کسی قسم کی کوئی ایسی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشش کی جس کے تحت ان کے بچوں کو مستقبل میں بہتر اور فری تعلیم مل سکے۔ جس کی بہت ضرورت ہے اور یہی خدمات ہیں جن کے ذریعے آپ کی ذات کو مستقبل میں یاد کیا جا سکتا کیونکہ کسی بھی شعبہ میں ہر اس شخص کو یاد کیا جاتا جس نے اس شعبے کے لیے کچھ ایسا کیا ہو جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو فائدہ ہو رہا ہو ان افراد کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں مثال دے کر یاد کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے سوا تقریباً ہر ملک میں یوم آزادی صحافت کو صرف الفاظوں کی حد تک نہیں منایا جاتا بلکہ عملی طور پر ورکنگ صحافیوں کے لیے سہولیات فراہم کروانے کے لیے جدوجہد کرکےسہولیات حاصل کی جاتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں صحافیوں کی فلاح کے لیے ایساکچھ بھی نہیں کیا جاتا بلکہ حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی طور پر کوئی ایسی پابندی ضرور عائد کر دی جاتی وہ آزادی سے سچ بول نہ سکیں حقیقت نہ دکھا سکیں اور سچ نہ لکھ سکیں۔

    اس میں غلطی صرف حکومت کی نہیں بلکہ ان صحافتی تنظیموں ،پریس کلب سربراہان اور ان صحافتی اداروں کی بھی ہے جو دعوے تو صحافیوں کے حقوق دلانے کے کرتے ہیں لیکن سب کچھ دیکھ کر اپنی ہی صحافتی برادری پر پابندیوں اور جبر کے خلاف بولتے نہیں بلکہ انفرادی طور پر فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن دیگر صحافیوں کے حقوق کو پامال ہوتے دیکھتے رہتے اور خاموش رہتے ہیں۔

    صحافت کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی کہ صحافی ہی اپنے آپ کو مضبوط نہیں کرنا چاہتے۔ بہت سے ایسے صحافی حضرات بلکہ پورے کے پورے پریس کلب موجود ہیں جو حکومتی اداروں کے ترجمان، منشیات فروشوں، قحبہ خانوں، ملاوٹ کرنے والوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی کرنے کو صحافت سمجھتے ہیں اور جو صحافی کا اصل کام ہےاس کو کرنے سے پرہیز کرتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جو صحافت کی بربادی کی وجہ ہیں۔

    شعبہ صحافت کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق ہونا بہت ضروری ہے، پریس کلبوں میں نظم وضبط کے ذریعے ممبران کو شامل کیا جانا ضروری۔ جس کے تحت کام کرنے والے صحافی ہی شعبہ صحافت سے وابستہ رہیں نہ کہ ہر چھابڑی فروش، قصاب، ریڑی بان، دودھ فروش، وغیرہ جعلی صحافتی کارڈز کا استعمال کرکے اپنے کاروبار کو تحفظ فراہم کریں اورشعبہ صحافت کو بدنام کرتے پھریں، بلکہ صرف پڑھے لکھےصحافی ہی ملک کی علاقےکی بہتری کے لیے کام کریں تاکہ شعبہ صحافت کا وقار بڑھے۔

    ایسا تب ہی ممکن ہے جب صحافی اپنے شعبہ کے لیے عملی طور پر کچھ کریں گے تاکہ آنے والے وقت میں ان کی صحافت کے لیے سرانجام دی گئی خدمات کو شاندار مثال کے طور پر جانا جائے۔ صحافیوں کو انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر سوچنے کی ضرورت ہے اپنے علاقے میں شعبہ صحافت کے لیے ضابطہ اخلاق بنانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے اور صرف ان لوگوں کو ہی پریس کلب کی ممبر شپ دینی چاہیے جو اس کے اہل ہوں نہ کے ممبران کی تعداد بڑھانے کے لیے جرائم پیشہ افراد کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں اور خود ہی اپنے شعبہ کو برباد کریں۔

    جن علاقوں میں پریس کلب موجود نہیں وہاں سرکاری طور پر پریس کلب ہونے چاہیے، کیونکہ پریس کلب کے بغیر صحافیوں کی کوئی عزت نہیں اس طرح صرف ان کے سر فروخت ہوتے ہیں جب پریس کلب ہوں گے وہاں ہر سال الیکشن ہوں گے تو پھر ان کے حقوق کے لیے کام بھی ہوں گے ان کو سہولیات بھی فراہم ہوں گی کیونکہ پھر عہدیدار وہی بنیں گے جو کچھ کر کے دیکھائیں گے۔

    اس لیے تمام علاقائی صحافی سب سے پہلے اپنے علاقوں میں پریس کلب بنانے کے لیے جدوجہد کریں تاکہ آپ کا مستقبل بھی بہتر بن سکے اور اپ کےشعبہ کا وقار بھی بلند رہے۔

  • سرگودھا:صحافت کاعالمی دن،پروفیشنل یونین آف جرنلسٹ  کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

    سرگودھا:صحافت کاعالمی دن،پروفیشنل یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

    سرگودھا(باغی ٹی وی رپورٹ)3 مئی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پروفیشنل یونین آف جرنلسٹ سرگودھا ڈویژن کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے، اس موقع پر صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے نعرے بازی کی گئی ،

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پروفیشنل یونین اف جرنلسٹ ملک اصغر ۔ایم ایس ڈاکٹر مشتاق بشیر ۔صدر عمران گورائیہ ۔سئنیر نائب صدر شیخ زاہد مقبول ، جنرل سیکرٹری پروفیشنل یونین آف جرنلسٹ ملک فضل جنجوعہ، پریس کلب کے سابق صدر عبدالحنان چوہدری ،سابق جنرل سیکرٹری پریس کلب سئنیر صحافی شاہین فاروقی ، سئنیر صحافی اسجد چوہدری ، سئنیر صحافی ثاقب الماس ، شاہنواز جالپ سیکرٹری اطلاعات پروفیشنل یونین علی رضا ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ ، ایڈیشنل ایم ایس ڈاکٹر نئیر عباس،ملک رضوان گل ،محمد ظہیر خان ،کاشف اکرم اعوان،رانا رشد ،کاشف دیوانہ ،ے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت کا آج عالمی دن ہے تاہم یہ دن پاکستان میں آزادی صحافت پر سوالیہ نشان ہے، پاکستان میں آمریت ہو یا جمہوریت، آزادی صحافت ہر دور میں خواب ہی رہی ہے، گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران صحافی 70 سے زائد دہشتگرد حملوں کی زد میں آئے جبکہ 170 کے قریب فرض کی ادائیگی کے دوران مختلف واقعات میں جان سے چلے گئے ہیں۔

    پاکستان میں دباؤ دھونس اور دھمکیاں جھیلتے صحافی ہر لمحہ جان لیوا خطرات میں ہی گھرے نہیں رہتے ہیں بلکہ اکثر مار بھی دیئے جاتے ہیں، ان ہی وجوہات کی بنا پر پاکستان صحافت کیلئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اظہار کی آزادی جمہوریت کی بنیاد، شہری حقوق کا تحفظ اور معاشرے میں سچائی کی پکار ہے۔ ملک کے بااثر طبقوں کی طرف سے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، صحافیوں کو متحد ہو کر چلنے کی ضرورت ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافتی ادارے اور حکومت صحافیوں کو ان کے جائز حقوق دیں۔