Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:نجی گیسٹ ہاؤس سے جرمن نیشنلٹی ہولڈر  اوور سیز پاکستانی کی بوسیدہ نعش برآمد

    سیالکوٹ:نجی گیسٹ ہاؤس سے جرمن نیشنلٹی ہولڈر اوور سیز پاکستانی کی بوسیدہ نعش برآمد

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سکچہری روڈ پر واقع تھانہ سول لائن کی حدود نجی گیسٹ ہاؤس سے پولیس نے جرمن نیشنلٹی ہولڈر اوور سیز پاکستانی منصور نامی شخص کی بوسیدہ نعش برآمد کرلی۔

    پولیس کے مطابق ساٹھ سالہ منصور بڈیانہ کا رہائشی اور جرمن نیشنلٹی ہولڈر تھا بھائیوں کے ساتھ جائیداد کا تنازعات کی وجہ سے منصور گزشتہ ایک ماہ سے سیالکوٹ تھانہ سول لائن کی حدود میں واقع نجی رائل گیسٹ ہاؤس میں رہائش پزیر تھا

    لاش تعفن زدہ ہو چکی تھی گیسٹ ہاؤس عملہ کی جانچ پرتال پر منصور کے کمرا سے بدبو آنے کے سبب بذریعہ پولیس کمرے کا تالا توڑا گیا اور منصور کو مردہ حالت میں پایا گیا ۔

    پولیس کے مطابق منصور کو ہارٹ اٹیک آیا ۔جس کے سبب اسکی موت واقع ہوئی

    ایس پی انویسٹی گیشن کے سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی پولیس کےمطابق لاش کئی روز قبل کی لگ رہی ہے تاہم پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا .

  • سیالکوٹ:منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی آؤ بھوک مٹائیں مہم ، عزت نفس مجروح کیے بغیرسفید پوش گھرانوں کو راشن کی فراہمی

    سیالکوٹ:منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی آؤ بھوک مٹائیں مہم ، عزت نفس مجروح کیے بغیرسفید پوش گھرانوں کو راشن کی فراہمی

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے )منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سیالکوٹ کا آؤ بھوک مٹائیں مہم کے تحت رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عزت نفس مجروح کیے بغیر سینکڑوں سفید پوش گھرانوں تک راشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے

    منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سیالکوٹ کی جانب سے مستحق افراد کو گھر کی دہلیز پر راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے اب تک ایک ہزار سفید پوش گھرانوں تک راشن پہنچایا جاچکا ہے

    منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سیالکوٹ نے مستحقین کا بیڑا اٹھاتے ہوئے رعائیتی دستر خوان ، سفید پوشں گھرانوں تک راشن کی تقسیم ، بجوات میڈیکل سینٹر ، تخفیظ القرآن کا آغاز کیا ہے تاکہ سفید پوش گھرانوں کو بہترین ماحول مہیا کیا جاسکے

    خافظ اختشام کا کہنا ہے اللہ کی رضا کی خاطر سفید پوش گھرانوں کو گھر دہلیز پر راشن کی فراہمی منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سیالکوٹ کا قابل تحسین اقدام ہے

  • طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو

    طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو

    طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو
    از قلم غنی محمود قصوری
    گذشتہ سال 7 اکتوبر 2023 سے ابتک حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ جاری ہے جس میں ہر آنے والے دن کیساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، وزارت صحت غزہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث ابتک اس جنگ میں فلسطینی شہداء کی تعداد 31,553 اور زخمیوں کی تعداد 73,546 ہو گئی ہے جن میں 70 فیصد عورتیں اور بچے شامل ہیں جبکہ 23 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں رہائشی عمارتیں،مساجد،سکول، ہسپتال و دیگر املاک مکمل تباہ ہو چکی ہیں،حماس نے اس جنگ کو طوفان الاقصیٰ کا نام دیا ہے

    اسرائیل اور حماس کے مابین یہ جنگ کوئی پہلی نہیں اس سے پہلے بھی یہ جنگیں ہو چکی ہیں مگر موجودہ جنگ سب سے زیادہ خطرناک ترین ہے
    حماس کا مقصد اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام آئرن ڈوم تباہ کرنا ہے جو کہ راکٹ شکن دفاعی نظام ہے جو اپنی 300 کلومیٹر کی حدود میں آنے والے مخالف راکٹ وغیرہ کو فضاء میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    اسے اسرائیلی Advance Defance System Rafael نے 210 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا جس کا وزن 90 کلوگرام اور اس کی لمبائی 3 میٹر ہے،اس وقت تقریباً 6 ممالک آئرن ڈوم استعمال کر رہے ہیں مگر اسرائیل میں نصب آئرن ڈوم دنیا کا جدید ترین مانا جاتا ہے کیونکہ یہ 20 سے 45 سیکنڈ تک ریڈار کے ذریعے اپنے مخالف ہدف کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    ویسے تو اس نظام کو 2005 میں اسرائیل میں تیار کیا گیا تاہم اسے 2007 میں نصب کیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج نا نکلے تو 2012 میں امریکہ کی مدد سے اسے اپ گریڈ کرکے کامیاب ترین قرار دیا گیا ،اسرائیلی ٹیکنالوجی میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے

    جس طرح اسرائیل کے دفاع میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے بالکل اسی طرح حماس کی سرنگیں حماس کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں اور اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی سرنگیں ہیں

    اسرائیل کا مقصد ان سرنگوں کو تباہ کرنا ہے اور اسرائیل ان سرنگوں کو غزہ میٹرو کا نام دیتا ہے، 5 ماہ سے زیادہ کی اس جنگ میں اسرائیل ان سرنگوں کا 20 فیصد بھی تباہ نہیں کر سکا،اسرائیلی فوج نے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے بے پناہ فضائی بمباری کی،ٹینکوں کا استعمال کیا اور جدید ترین ڈرونز کے ذریعے ان سرنگوں کا کھوج لگانے کوشش کی اور کچھ پکڑی جانے والی سرنگوں میں سمندر کا پانی داخل کیا تاہم ناکام رہا،

    حماس نے اسرائیلی کے 132 سے زیادہ قیدی انہی سرنگوں میں رکھے ہوئے ہیں جن میں سے 28 ہلاک ہو چکے ہیں

    امریکی فوجی اکیڈمی کے مطابق اس وقت غزہ میں 500 کلومیٹر تک لمبی 1300 جدید ترین سرنگیں موجود ہیں جو کہ 30 میٹر گہری ہیں اور ان کے نیچے مکانات،مساجد اور حماس کے ٹریننگ کیمپوں کے علاوہ اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی موجود ہیں،یہ سرنگیں اس قدر جدید ہیں کہ فضاء سے ان کی نشاندہی ممکن نہیں ان کی نشاندہی کیلئے پورے غزہ کی تلاشی ضروری ہے،ان میں سے بیشتر سرنگیں اسرائیل کے اندر تک موجود ہیں ،اگر ہم ان سرنگوں کی جدت کا اندازہ لگائیں تو ذہن نشین کر لیں کہ لندن میں انڈر گراؤنڈ ٹرین سسٹم 400 کلومیٹر لمبا ہے مگر یہ سرنگیں 500 کلومیٹر تک لمبی ہیں

    ایک طرف دنیا کا جدید ترین ایٹمی ملک اسرائیل ہے تو دوسری طرف اس کے مدمقابل 35 سے 40 ہزار حماس کے تربیت یافتہ افراد جن کے بارے اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ 10 ہزار سے زائد حماس جنگجو شہید ہو چکے ہیں مگر دوسری طرف عسکری تجزیہ نگار پوچھتے ہیں کہ اگر اتنی تعداد میں حماس کے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں تو ابتک اسرائیل خاطر خواہ نتائج کیوں نہیں حاصل کر سکا اور ابتک 1200 سے زائد اسرائیلی کیوں مر چکے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے پاس نہیں

    گمان ہوتا ہے کہ یہ جنگ لمبا عرصہ چلے گی کیونکہ دونوں طرف ٹیکنالوجی میں جدت ہے، ہاں اسرائیل کے پاس فوجی قوت اور اسلحہ زیادہ ہے مگر اس کے مدمقابل حماس کے مجاہدین بہت کم ہیں مگر حماس کے مجاہدین وہ ہیں جو 2014 کی حماس اسرائیل جنگ میں 18 سال سے کم عمر کے نوجوان تھے اور جنہوں نے اپنے خاندانوں کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بہت برے طریقے سے شہید ہوتے دیکھا اور اب وہ انتقام کیلئے ہر حد تک جاسکتے ہیں

  • منڈی بہاوالدین:تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام پانچ روزہ ماڈل دروس عرفان القرآن

    منڈی بہاوالدین:تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام پانچ روزہ ماڈل دروس عرفان القرآن

    منڈی بہاوالدین، باغی ٹی وی ( افنان طالب نامہ نگار س)تحریک منہاج القرآن ڈنگہBاور جوڑا Cکے زیراہتمام رمضان المبارک میں ”پانچ روز ہ ماڈل دروس عرفان القرآن“کا آغاز 18مارچ سے ہوگا۔پانچ روز دروس عرفان القرآن 18مارچ بروز سوموار سے 22مارچ بروز جمعۃ المبارک تک جامع مسجد حسنین کریمین ؓ کولیاں روڈ بالمقابلRHCڈنگہ میں منعقد ہونگے۔دروس عرفان القرآن کی تمام محافل کا آغاز بعد نماز فجر ہوگا.

    18مارچ بروز سوموار”ہم،ہمارا دین اور ہماری زمہ داریاں“کے موضوع پر علامہ مولانا محمود مسعود قادری،19مارچ بروز منگل ”اسلام میں عورت کا مقام و کردار“کے موضوع پر علامہ مولانا جمیل احمد زاہد،20مارچ بروز بُدھ ”آج کی نوجوان نسل دین سے دور کیوں؟کے موضوع پر علامہ سلیمان اعظم،21مارچ بروز جمعرات ”غصہ،ڈپریشن اور اس کا علاج“ کے موضوع پر علامہ غلام شبیر جامی،اور آخری روز 22مارچ بروز جمعہ ”عقیدہ ختم نبوت“کے موضوع پر علامہ ڈاکٹر ارشد محمود مصطفوی خطاب کرینگے۔خواتین کے لئے بھی باپردہ انتظامات کیے گئے ہیں۔

    صدر تحریک منہاج القرآن ڈنگہ وحید اقبال قادری،ناظم تحریک علامہ محمد نجیب اکرم قادری،صدر تحریک منہاج القرآن جوڑا چوہدری صوفی محمد وارث قادری اور ناظم تحریک حاجی محمد یونس ٹوپہ کی زیر نگرانی تمام تر انتطامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ دعوت کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

    ڈنگہ شہر اور گردونواح کے دیہات میں ہورڈنگ بورڈز،پینا فلیکس اور دعوتی کارڈز کے ذریعے بھر پور تشہیر بھی کی گئی ہے۔جامع مسجد حسنین کریمین ؓ کو بھی برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے۔دروس عرفان القرآن کے پانچوں روز پروگرامز کو تحریک منہاج القرآن ڈنگہ کے آفیشل فیس بک پیج اور جلالی پرنٹرز فیس بک پیج پر لائیو بھی دکھایا جائیگا۔

  • گوجرانوالہ: رمضان بازار پیپلز کالونی،سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی خریداری کا مرکز بن گیا

    گوجرانوالہ: رمضان بازار پیپلز کالونی،سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی خریداری کا مرکز بن گیا

    گوجرانوالہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار محمدرمضان نوشاہی )ماڈل رمضان بازار پیپلز کالونی سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی خریداری کا مرکز بن گیا

    کمشنر نوید حیدر شیرازی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صارفین کو اوپن مارکیٹ سے 40 فی صد کم پر اشیاء خور ونوش کی فراہمی جاری ہے
    مقامی آڑھتیوں کی جانب سے خصوصی رعایتی سٹال پر آلو، پیاز، ٹماٹر اور دیگر اشیا 40 فی صد کم نرخوں پر فروخت ہو رہی ہیں،روزانہ ہزاروں صارفین سستی سبزیاں اور پھل خریدنے کے لیے ماڈل بازار کا رخ کر رہے ہیں

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ایگریکلچر فئیر پرائس شاپ پر بازار سے 25فیصد تک کم قیمت پر سبزیاں اور پھل شہریوں کو فراہم کئے جا رہے ہیں،خریداری کے لیے آنے والے صارفین کا اشیا کے معیار اور عام مارکیٹ سے نرخ کم ہونے سے اطمینان کا اظہا رکیا،رمضان المبارک میں خاطر خواہ ریلیف کی فراہمی پرخریداروں کا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خراج تحسین

    مینجر ماڈل رمضان بازار عادل سجاد نے بتایا کہ روزانہ 70ہزار کے قریب شہری خریداری کی غرض سے ماڈل رمضان بازار کا وزٹ کرتے ہیں.

    کمشنر گوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی نے بتایا کہ ایگریکلچر فیئر پرائس شاپ پر عوام کے لیے آلو36روپے، پیاز226،ٹماٹر 75،کدو113,
    لہسن416،لیموں 58روپے کلوگرام فروخت ہورہے ہیں۔

    کمشنر نے کہا کہ شہری کیلا فی درجن 139روپے،سیب 236،کھجور368، امرود159, خربوزہ 146، دال چنا 173اور بیسن176فی کلوگرام خرید سکتے ہیں
    10کلو گرام آٹا کا تھیلا اوپن مارکیٹ میں 1399روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ کریانہ سہولت سٹالز میں چاول سپر باسمتی نیا 255روپے اور پرانا 265روپے فی کلوگرام میں دستیاب ہیں۔

    دال چنا سپریم اوپن مارکیٹ میں 250اور باریک 230جبکہ فئیر پرائس شاپ پر دال چنا 173روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔ دال مسور موٹی 288روپے، دال ماش دھلی (چمن) 510روپے،دال ماش بغیر دھلی (برما)470روپے میں فروخت ہوگی۔ دال مونگ کوری دھلی 280روپے،چنا سفید موٹا لوکل 290روپے، چنا سفید باریک لوکل 268روپے اور سیاہ چنا موٹا 240 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہورہے ہیں۔ رمضان بازار میں بیسن245روپے، سوجی، میدہ153روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہورہا ہے۔

    کمشنر نے کہا کہ شہری بڑی تعداد میں ماڈل رمضان بازار سے اشیاء خورونوش خرید کر مستفید ہو رہے ہیں۔

  • چترال بونی شندور روڈ کی زیرتعمیرحفاظتی  دیواریں خود بخود گرنے لگیں،غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان

    چترال بونی شندور روڈ کی زیرتعمیرحفاظتی دیواریں خود بخود گرنے لگیں،غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال بونی شندور شاہراہ پر حفاظتی دیواریں خود بخود گرنے لگے۔غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان۔

    چترال بونی شاہراہ پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر نگرانی تعمیر کا کام کئی سالوں سے جاری ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والی اس سڑک پر ایک جانب تعمیری کام غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوا تو دوسری جانب کام کا معیار بھی اچھا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اکثر حفاظتی دیواریں تکمیل سے پہلے خود بخود گر رہی ہیں۔

    چترال میں سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کیلئےے آواز اٹھانے والی رضاکار تنظیم سی ڈی ایم چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ کے اراکین نے اس سڑک کا معائنہ کیا۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام عمر جان اینڈ کمپنی کو ٹھیکے پر دیا گیا تھا مگر انہوں نے چھوٹے چھوٹے ٹھیکیداروں میں یہ کام بانٹا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سڑک کے کنارے حفاظتی دیواریں بغیر کسی بنیاد کے ریتلی زمین کے اوپر بنائی گئی ہیں جس کی تعمیر میں سیمنٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور صرف کچرا اندر ڈال کر باہر سے پلستر کیا ہوا ہے دوسرا اس پر پانی سے ترائی بھی نہیں ہوئی یعنی بروقت پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیاگیا ہے جس کی وجہ سے یہ سیمنٹ بھی بوسیدہ ہوکر خود بخود گر رہی ہے۔

    سی ڈی ایم کے اراکین کے علاوہ راہگیروں نے بھی سیمنٹ کی بنی ہوئی دیواریں ہاتھوں سے توڑ کر اسے نہایت غیر معیاری اور ناقص قراردیا۔

    معروف قانون دان سید برہان شاہ ایڈوکیٹ، سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر، محمد اشرف، طالب علم کامران، سلطان محمود،ذکریا اور راہ چلتے ہوئے دیگر لوگوں نے بھِی اس بات پرنہایت حیرت کا اظہار کیا کہ چترال بونی شاہراہ پر اگر ایسا ناقص کام کھلے عام ہورہا ہو جس پر ہزاروں لوگ روزانہ گزرتے ہیں تو جہاں زیادہ لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو وہاں این ایچ اے کے کام کا کیا معیار ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عام طور پر اگر کوئی اپنے گھر کی دیواریں تعمیر کرتا ہے تو دیوار کیلئےپہلے تین چار فٹ بنیادیں کھودتے ہیں اور پتھروں میں سمینٹ ڈال کر دیوار بنائی جاتی ہے، تعمیر کے بعد اس پر باقاعدگی سے ہفتہ دس دن ترائی کی جاتی ہے تاکہ وہ مضبوط ہو۔ یہاں حفاظتی دیواروں کے اندر چھوٹے پتھر اور کچرا ڈالا گیا ہے جس کے اندر سیمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور دیوار کو باہر سے پلستر کیا ہوا ہے جس سے یوں لگتا ہے کہ پوری دیوار میں سیمنٹ استعمال ہوا ہے ،مگر اس پر ترائی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے جولائی اگست میں سیمنٹ بوسیدہ ہوکر ناکارہ ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دیواریں خود بخود گررہی ہیں۔ جہاں دیواریں گری ہیں وہاں نہ تو سیلاب آیا ہے اور ان پر کوئی بڑا پتھر گرا ہوا ہے بلکہ نیچے بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے دیوار سرک گیا ہے اور پوری دیوار دھڑام سے گررہی ہیں۔

    سی ڈی ایم کے اراکین نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس کام کی معیار کو چیک کرنے کیلئے نیسپاک یعنی نیشنل انجنیئرنگ سروسز پاکستان کی جانب سے کنسلٹنٹ ریذیڈنٹ انجنیر عرفان الحق نے ایک مرتبہ بھی سائٹ پر جاکر اس کام کے معیار کا معئنہ نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی شکایت این ایچ اے کے پراجیکٹ ڈایریکٹر کو بھی کی گئی تھی مگر ان کا جواب تھا کہ وہ دل کا مریض ہے اور چلنے پھرنے کا قابل نہیں ہے۔

    ہمارے نمائندے نے این ایچ اے اور نیسپاک کے ذمہ داروں سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا اور ان کو باقاعدہ ان کے نمبر پر پیغام بھیجا کہ وہ اس بابت اپنا موقف دیں تاکہ دونوں جانب کا موقف سامنے رکھاجائے مگر ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    معروف قانون دان سید برہان شاہ ایڈوکیٹ اور سی ڈی ایم کے دیگر اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر اور سیکرٹری مواصلات اور این ایچ اے کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ناقص کام کی جوڈیشل انکوائری کرکے اسے دوبارہ سپیسیفکیشن یعنی مروجہ معیار کے مطابق بنوایا جائے ،کہیں ایسانہ ہوکہ سڑک مکمل ہونے کے بعد جب بھاری ٹرک اور سواریوں سے بھرے ہوئے کوسٹر جب گزریں گے تو یہ ناقص دیواریں ان کی بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے دریا برد نہ ہوجائیں کیونکہ یہ دیواریں ابھی سے اکثر ایسی جگہوں سے گررہی ہیں جہاں نہ تو اس پر کوئی بھاری ملبہ گرا ہے اور نہ ہی سیلاب کا پانی اس پر گزرا ہے بلکہ نیچے بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے خود بخود گررہی ہیں۔

  • سیالکوٹ:پاک فوج کے شہداء ہمارے محسن ہیں ،خواجہ آصف

    سیالکوٹ:پاک فوج کے شہداء ہمارے محسن ہیں ،خواجہ آصف

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض کی رپورٹ)وزیر دفاع خواجہ آصف نےکہا ہےکہ اس وقت سب سے زیادہ دہشت گردی خیبرپختونخوا میں ہو رہی ہے، جو شہدا کے خلاف بیانات دیتے ہیں ان کا دہشت گردوں سے ضرور کوئی رابطہ ہے۔

    سیالکوٹ میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی زیادہ تر افغان سرزمین سے ہمارے خلاف ہو رہی ہے، جو دہشت گرد افغانستان سے پاکستان آرہے ہیں یہ ہی لوگ ان کو پناہ دیتے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فوج جس طرح قربانیاں دے رہی ہے ان کی جتنی عزت کریں کم ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ متحد ہوکرلڑی جاسکتی ہے،کچھ لوگوں نے شہدا کا مذاق اڑایا، انہیں ریٹرننگ افسروں سے تشبیہ دی، شہدا ہمارے محسن ہیں، ملک انہیں کی وجہ سے قائم ہے۔

    تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی شناخت کھوچکی ہے، یہ سنی اتحاد کونسل ہے یا پی ٹی آئی کچھ پتا نہیں، اسمبلی میں انہوں نے غزہ قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے تمام جماعتوں کے اختلافات رہے لیکن کسی نے یہ رویہ نہیں اپنایا، یہ لوگ اپنی شناخت ڈھونڈرہے ہیں یہ بے نامی پارٹی ہے، ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے ہاتھ سے اقتدار گیا،جس قسم کے خط امریکی کانگریس کو لکھے جارہے ہیں وہ پاکستان دشمنی ہے۔

  • روجھان : اغواء کاروں نےتاوان نہ ملنے پر دو مغوی قتل کردئے

    روجھان : اغواء کاروں نےتاوان نہ ملنے پر دو مغوی قتل کردئے

    راجنپور کی تحصیل روجھان میں اغواء کاروں نےتاوان نہ دینے پر دو مغوی قتل کردئے

    تھانہ بنگلہ اچھا کی حدود چک بیلے شاہ میں کچے کے جرائم پیشہ افراد اور اغواء کارلنڈ گینگ نے تاوان نہ دینے پر دو مغویوں کو قتل کردیا ۔ اغواء کاروں نے مغویوں کو قتل کرنے بعد لاشیں دریا ئے سندھ میں پھنک دیں۔

    پولیس نے دریا سندھ سے ایک مغوی کی لاش برآمد کرلی، جب کہ دوسرے مغوی کے نعش کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق قتل ہونیوالے مغویوں کے نام احسن فاروق راجپوت اور شہزاد احمد ارائیں ہیں، لنڈ گینگ نے احسن اور شہزاد کی رہائی کے لیے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا تھا تاوان نہ دینے پر دونوں کو قتل کیا گیا۔

    جبکہ ذرائع کے مطابق پولیس نے مقدمہ درج کر کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔

  • تلہ گنگ کا  بہادر سپوت مادر وطن پر قربان

    تلہ گنگ کا بہادر سپوت مادر وطن پر قربان

    تلہ گنگ ،باغی ٹی وی(شوکت ملک سے) تلہ گنگ کا بہادر سپوت مادر وطن پر قربان، کیپٹن محمد احمد بدر شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید،

    تفصیلات کے مطابق شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین تلہ گنگ ٹمن کا بہادر سپوت مادر وطن پر قربان ہوگیا۔ کیپٹن محمد احمد بدر شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔

    شہید کیپٹن محمد احمد بدر کا تعلق ٹمن سے ہے، جوکہ کرنل ریٹائرڈ بدرالدین ٹمن کے اکلوتے صاحبزادے ہیں۔ جوکہ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی بھی تھے، شہید کیپٹن محمد احمد بدر کی نماز جنازہ کل بروز اتوار آبائی علاقے ٹمن میں ادا کی جائے گی۔

    جس کے بعد ان کو پورے فوجی اعزاز کیساتھ سپردِ خاک کردیا جائے گا۔ علاقہ بھر کی سرکردہ شخصیات نے کیپٹن احمد بدر شہید کی وطن کی حفاظت کےلیے دی جانے والی عظیم قربانی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشتگردوں نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرادی جب کہ گاڑی کی چیک پوسٹ کو ٹکر کے بعد متعدد خودکش حملے کیے گئے ، ان خودکش حملوں کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ گرگیا جس کے نتیجے میں 5 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق خودکش حملوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل کاشف کی قیادت میں کلیئرنس آپریشن کیا گیا جس میں تمام 6 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا گیا جب کہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے شدید تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل کاشف اور کیپٹن احمد بدر شہید ہوگئے۔

  • اوکاڑہ:بہادر نگر  میں 3 روزہ بھینس دودھ میلہ 2024 کے مقابلوں کا آغاز

    اوکاڑہ:بہادر نگر میں 3 روزہ بھینس دودھ میلہ 2024 کے مقابلوں کا آغاز

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر )محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے تحت لائیو سٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ بہادر نگر اوکاڑا میں تین روزہ بھینس دودھ میلہ 2024 کے مقابلوں کا آغاز۔

    تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی نے بہادر نگر اوکاڑہ میں دودھ میلہ کی تقریبات کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔
    اس موقع پر ممبران صوبائی اسمبلی میاں محمد منیر، غلام رضا ربیرہ سمیت محکمہ لا ئیو سٹاک اور دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔

    نیلی راوی بھینس کے دودھ اور خوبصورتی جبکہ ساہیوال گائے، چولستانی گائے، اور بھیڑ بکریوں کی خوبصورتی کے مقابلہ جات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا
    صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے جانوروں کی خوبصورت پریڈ کا معائنہ کیا اور میلہ میں لگائے گئے تمام سٹالز کا بھی دیکھے۔

    صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک میں انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔پنجاب کی ثقافت میں لائیو سٹاک کے میلوں کا ہمیشہ سے تاریخی کردار رہاہے اور محکمہ لائیو سٹاک پنجاب اس روایت کو بخوبی زندہ رکھے ہوئے ہے۔

    ان کاکہناتھاکہ شعبہ زراعت کا 60 فیصد حصہ لائیو سٹاک پر مشتمل ہے۔ شعبہ لائیو سٹاک میں بریڈ امپروومنٹ ہی ترقی کا واحد حل ہے۔میلوں اور مقابلوں سے مویشی پال کسانوں میں بہتر سے بہتر پیداوار کے حصول کی لگن پیدا ہوتی ہے۔ ان نمائشوں اور میلوں کے انعقاد سے معاشرے میں صحت مندانہ رجحان پروان چڑھتا ہے۔ لائیو سٹاک اور زراعت ایک دوسرے سے ملحقہ شعبے ہیں ۔ڈزیز کنٹرول کمپارٹمنٹ اور بریڈ امپروومنٹ ہماری اولین ترجیح ہیں ۔

    صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بیماریوں کی روک تھام سے دنیا میں ہمارے جانوروں کی مانگ بڑھنے سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ڈائریکٹر جنرل پروڈکشن ڈاکٹر آصف رفیق نے وزیر لائیو سٹاک و زراعت کی تقریب میں آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

    تقریب کے اختتام پر بفلو بریڈر ایسوسی ایشن کی طرف سے وزیر لائیو سٹاک کو اعزادی شیلڈ پیش کی گئی۔