Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • وزیرستان میں قتل ہونیوالے حجاموں کی لاشیں لانے کیلئے چندے کی اپیل

    وزیرستان میں قتل ہونیوالے حجاموں کی لاشیں لانے کیلئے چندے کی اپیل

    شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں 6 حجاموں کو قتل کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی بنوں میں درج کر لیا گیا ،

    مقدمہ ایس ایچ او میر علی سلیمان خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ،درج مقدمہ میں کہا گیا کہ ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے حجاموں کو نامعلوم افراد نے گزشتہ روز فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا،مقتولین میں محمد شاہد، راعب، کاشف، عرفان، ساجد اور محمد طارق شامل ہیں،مقتولین کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا جو میر علی بازار میں حجام کی دکانوں میں کام کرتے تھے

    دوسری جانب ڈی جی خان میں فضا سوگوار ہے وہیں مقتولین کی لاشیں لانے کے لئے ضلعی انتظامیہ چندہ مانگ رہی ہے، ضلعی انتظامیہ کے پاس شمالی وزیرستان سے ڈی جی خان لاشوں کو لانے کے لئے فنڈز نہیں ہیں، ڈی سی ڈی جی خان نے فنڈ کی اپیل کی تو سیکریٹری ڈی جی خان جمخانہ کلب ذوالفقار علی لغاری نے اراکین کی طرف سے مقتولین کی تدفین اور متاثرہ خاندانوں کی چھ لاکھ روپے عطیہ کئے۔آر پی او ڈی جی خان کیپٹن ریٹائرڈ سجاد حسن خان کی ہدایت پر ڈی پی او احمد محی الدین بنوں کینٹ میں فوجی افسران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر کا کہناہے کہ متاثرہ خاندان کی مالی امداد کےلئے حکومت پنجاب کو سفارشات ارسال کردی گئی ہیں،مخیر حضرات اگر متاثرہ خاندان کی مالی امداد کرنا چاہتے ہیں تو وہ ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان سے رابطہ کرسکتے ہیں،

    ڈی جی خان سے نمائندہ باغی ٹی وی کے مطابق شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز قتل ہونے والے مقتولین کے جسد خاکی 1122 کے ذریعے آبائی علاقے میں پہنچائی جائیں گی،مقتولوں کے جسد خاکی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے صوبائی سرحدی چیک پوسٹ ترنمن سے آبائی علاقوں چھابری زیریں اور پیر عادل میں پہنچائی جائیں گی۔نماز جنازہ کے بعد سرکاری خرچ پر تدفین کرائی جائے گی۔بنوں کینٹ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کردی گئی ہے

    شمالی وزیرستان میں چئیرمین این ڈی ایم محسن داوڑ کے قافلے پر حملہ

    میر علی بازار میں فائرنگ سے چھ مزدوروں کی موت

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹی ٹی پی نے حجاموں‌کو قتل کیا، جان اچکزئی کا دعویٰ
    دوسری جانب بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے وزیرستان میں چھ حجاموں کو قتل کیا ہے، کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ملک دشمن عناصر اور تحریک طالبان پاکستان کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا ہے، ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لیا جائے گا

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے،چیف جسٹس
    وزیرستان میں چھ افراد کے قتل کا معاملہ آج سپریم کورٹ میں بھی زیر بحث آیا، لاپتہ افراد کے کیس میں سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیرستان میں 6 حجاموں کے قتل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کیا قتل کرنے والے کو خدا کا خوف نہیں ہوتا؟6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے،قتل کرنے والے یہاں سزا سے بچ سکتے آخرت میں تو جواب دینا ہوگا،بلوچستان میں 46 زائرین کو مار دیا جاتا ہے،عدالت کا کام نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلے،

  • ’9 مئی واقعات کی معافی مانگتی ہوں‘، زرتاج گل آبدیدہ ہوگئیں

    ’9 مئی واقعات کی معافی مانگتی ہوں‘، زرتاج گل آبدیدہ ہوگئیں

    زرتاج گل کی پشاور ہائی کورٹ میں موجودگی،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اپنے چیمبر پہنچ گئے،

    زرتاج گل پشاور ہائیکورٹ میں موجود ہیں، زرتاج گل ضمانت کے لئے گئی تھیں تو پولیس انکی گرفتاری کے لئے پہنچ گئی،وکلاء کی بڑی تعداد بھی پشاور ہائیکورٹ میں موجود ہے، زرتاج گل نے کہا تھا کہ اگر ضمانت نہ ملی تو رات ہائیکورٹ کے احاطے میں گزاروں کی، یہاں سے نہیں جاؤں گی، زرتاج گل کے لئے بستر بھی پہنچا دیا گیا ہے

    پشاور ہائیکورٹ نے رات دس بجے زرتاج گل کی ضمانت منظور کر لی
    پشاورہائیکورٹ،زرتاج گل کی راہداری ضمانت کا کیس،عدالت نے سی سی پی او پشاور ایس ایس پی آپریشن کو ہائی کورٹ طلب کر لیا، ایس ایس پی آپریشن اور سی سی پی او کورٹ روم نمبر 1 پہنچ گئے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر عامر جاوید بھی عدالت پہنچ گئے ،عدالت میں زرتاج گل اور آئی ایل ایف کے وکلاء موجود ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم نے زرتاج گل کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ محمد ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ، آج پشاور ہائیکورٹ میں کیا کچھ ہور ہا تھا کہ مجھے اسلام آباد سے آنا پڑا، اگر کسی کو انصاف نہیں دے سکتا تو مجھے استعفے دینا چاہئے، اگر میں نہ پہنچتا تو کیا یہ عورت ساری رات ہائی کورٹ میں گزارتی؟ آج گیٹ کے باہر میرے 22 گریڈ آفیسر رجسٹرار کی بے عزتی ہوئی ہے، کیا آپ پولیس میں 22 گریڈ کاآفیسر ہے؟کسی کو رات 2 بجے بھی میری ضرورت پڑے گی میں پہنچوں گا، زرتاج گل کی ضمانت منظور کرتا ہوں کوئی بھی گرفتار نہیں کرے گا،

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس محمد ابراہیم خان نے زرتاج گل وزیر کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی،عدالت نے پشاور پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی گرفتاری سے روک دیا

    ضمانت کے باوجود زرتاج گل کو گرفتار کیا تو میں جانوں اور آئی جی،ظلم ہو گا تو رات تین بجے بھی عدالت لگاؤں گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    عدالت نے زرتاج گل کو کل 12 بجے تک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے اپنے پی ایس او کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی میں پولیس کی جانب سے بدتمیزی کا شکار وکلا بھی طلب، وکلا کی جانب سے نشاندہی پر پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی،زرتاج گل نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے کہا کہ اگر آپ مجھے ضمانت بھی دے دیں تو یہ مجھے گرفتار کریں گے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر یہ آپ کو گرفتار کریں تو پھر میں جانوں اور ان کے آئی جی،سی سی پی نے عدالت میں کہا کہ زرتاج گل ہمیں کسی مقدمے میں مطلوب نہیں، گرفتار بھی نہیں کریں گے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارے کسی بھی وکیل کے ساتھ ظلم ہوگا تو میں 3 بجے بھی عدالت لگاؤں گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ مسٹر ایس ایس پی زرتاج گل کو سیکیورٹی کے ساتھ اس کے گھر ڈراپ کریں،

    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل 9 مئی واقعات پر معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں زرتاج گل کا کہنا تھاکہ پتہ نہیں الیکشن لڑ رہی ہو یا کوئی جنگ، میرے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں، ڈیرہ غازی خان میں الیکشن کمیشن کا عملہ یرغمال بنایا گیا تھا، ڈیرہ غازی خان میں جتنا کام میں نے کیا کسی اور نے نہیں کیا، میں آئین و قانون پر اعتماد رکھتی ہوں، پولیس فورس باہر مجھے گرفتار کرنے کھڑی ہےمجھے ضمانت دی جائے اور پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے، کسی بھی عدالت جا سکتی ہوں، پورا ملک ہمارا ہے، جب تک ضمانت نہیں ملتی یہاں سے نہیں جاؤنگی،جب میں نہیں گھبرائی تو ووٹرز بھی نہ گھبرائیں،زرتاج گل نے 9 مئی واقعات پر معافی مانگی اور کہا کہ نو مئی واقعات کی معافی مانگتی ہوں،اگر نو مئی کی مذمت کروانا چاہتے ہیں تو میں معافی مانگتی ہوںَ میں شہید کی بہن ہوں، چھ فٹ دس انچ میرے بھائی کا قد تھا، میں نے بھائی کی لاش اٹھائی ہوئی ہے، ہم شہیدوں کی بے حرمتی کیسے کر سکتے ہیں،وزیرستان جا کر اسکی قبر دیکھ لیں

    زرتاج گل کی گرفتاری کا خدشہ
    دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی زرتاج گل پشاورہائی کورٹ میں موجود ہیں۔خواتین پولیس اہلکاربار روم پہنچ گئیں اور زرتاج گل کی گرفتاری کا خدشہ ہے تاہم انصاف لائرزفورم نے خواتین پولیس اہلکاروں کو بارروم سے باہر نکالنے کی کوشش کی،

    زرتاج گل خاتون وکیل کے جعلی بہروپ اور جعلی لباس میں آج پشاور ہائیکورٹ آئیں،انکشاف
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خاتون صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے انکشاف کیا ہے کہ زرتاج گل اور انکے شوہر وکیلوں کا لباس پہن کر پشاور ہائیکورٹ پہنچے تھے، غریدہ فاروقی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محترمہ جو ادھر ٹسوے بہا رہی ہیں پشاور ہائیکورٹ کے اندر چھپ کر بیٹھی ہوئیں؛ یہ ڈیرہ غازی خان کی رہائشی ہیں، اشتہاری مجرم قرار ہیں، قانون کو مطلوب ہیں، ان پر متعدد ایف آئی آرز ہیں (بشمول 2017/18 کے میرے اس کیس کے جہاں ان کیخلاف میں نے FIA میں شکایت درج کروائی تھی کہ کس طرح ان محترمہ نے میرے خلاف کردار کشی کی گھناؤنی اور رکیک غلیظ مہم چلائی)؛ یہ محترمہ پشاور ہائیکورٹ ضمانت کیلئے تشریف لائیں کیونکہ ان جیسی اکثریت کا خیال ہے کہ پشاور ہائیکورٹ PTI کی ہائیکورٹ ہے۔ عوام الناس کی اطلاع کےلئے اس عدالت میں محض ضمانت کا خرچہ دو لاکھ روپے ہے!!! یہ محترمہ ڈیرہ غازی خان (پنجاب) سے پشاور (خیبرپختونخوا) اور ان جیسے دیگر، “انصاف” لینے کیوں آ رہے ہیں؟؟ یہ محترمہ خود بھی خاتون وکیل کے جعلی بہروپ اور جعلی لباس میں آج پشاور ہائیکورٹ آئیں اور ان کے شوہر بھی وکیل کا جعلی بہروپ جعلی لباس پہنے ہوئے تھے ۔۔۔ واہ بھئی، جعلساز ہوں تو ایسے ۔۔۔
    پشاور ہائیکورٹ کو بھی چاہئے کہ وہ انصاف کا ساتھ دے، تحریکِ انصاف کا نہیں ۔۔۔
    علاوہ ازیں؛ ان محترمہ نے PTI کے اقتدار میں آنے اور خود وزیر بننے کے بعد کس کس طرح سے اپنے اوپر FIA کا وہ کیس جو میری شکایت پر درج تھا جس میں محترمہ اعترافِ جرم کر چکی تھیں اور انکی گرفتاری ہونی تھی؛ اپنی PTI کی حکومت اور وزارت کا کیسا ناجائز اور غلط استعمال نہیں کیا ان محترمہ نے تاکہ کیس انکے اوپر سے ختم ہو جائے اور کس کس طرح FIA کو ان محترمہ نے ڈرایا دھمکایا نہیں جب تک کہ غیرقانونی طریقے سے کیس ڈراپ نہیں کروا دیا ۔۔۔ سب ریکارڈ کا حصّہ ہے۔

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

    وزیراعظم کے خواتین کے ریپ بارے بیان پر زرتاج گل بھی بول پڑیں

    سینما کے مالک کا بیٹا اب وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے،زرتاج گل

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

  • سرگودھا: تین ہفتے قبل گم ہونے والے 4 سالہ بچے کی ٹکڑوں میں لاش برآمد

    سرگودھا: تین ہفتے قبل گم ہونے والے 4 سالہ بچے کی ٹکڑوں میں لاش برآمد

    سرگودھا،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک شاہنواز جالپ ) تین ہفتے قبل گم ہونے والے 4 سالہ بچے کی ٹکڑوں میں لاش برآمد
    والدین کے مطابق نہ تاوان نہ دشمنی بچے کی مکمل لاش بھی نہ ملی ہے ۔

    سرگودھا پولیس بچہ تلاش کرنے میں ناکام رہی 3 ہفتے گرزنے کے بعد بچے کی ٹکڑوں میں لاش برآمد ہوئی ۔علاقہ بھر میں سوگ کا عالم نماز جنازہ میں سینکڑوں افراد کی شرکت

    تھانہ میلہ پولیس نے 4 سالہ بچے حیدر علی کی گمشدگی کی اطلاع موصول ہونے پر فوری مقدمہ درج کیا- بچے کی تلاش کے لیے ایس پی انوسٹی گیشن اور اے ایس پی کوٹمومن کی زیر نگرانی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں- جیو فینسنگ کروا کر بذریعہ سی سی ٹی وی کیمرہ جات گرد و نواح سے بچے کی تلاش کی ہر ممکن کوشش عمل میں لائی گئی

    گھر کے قریب سے گزرنے والی نہر کو 10 کلومیٹر تک بذریعہ غوطہ خور بھی تلاش کیا گیا- وارثان کی نشاندھی پر 12 افراد کو شامل تفتیش کیا گیا،

    آج بانس کے کھیت سے بچے کی کافی دن پرانی جانوروں کی مسخ کردہ ڈیڈ باڈی ملنے پر ایس پی انوسٹی گیشن، اے ایس پی کوٹمومن سمیت CIA کی ٹیمیں اور سرکل کے تمام ایس ایچ اوز بھی موقع پر پہنچ گئے،پنجاب فورانزک سائینس ایجینسی کی ٹیم موقع پر موجود ہے- ملزمان کی سراغ براری کے لیے سادہ کپڑوں میں سپیشل ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے

    ڈی پی او سرگودھا محمد فیصل کامران اس تمام عمل کی نگرانی خود کر رہے ہیں- کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

  • کشمور:صحافیوں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے پولیس حقائق سے باخبر رہتی ہے؛ایس ایس پی بشیر احمد بروہی

    کشمور:صحافیوں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے پولیس حقائق سے باخبر رہتی ہے؛ایس ایس پی بشیر احمد بروہی

    کندھ کوٹ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمختیاراعوان کی رپورٹ )صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں صحافیوں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے پولیس حقائق سے باخبر رہتی ہے صحافیوں کے ساتھ کوآرڈینیشن جاری رہے گا۔ ایس ایس پی بشیر احمد بروہی

    ایس ایس پی بشیر احمد بروہی سے ایس ایس پی آفس میں کندھ کوٹ ڈسٹرکٹ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کے صحافیوں کے وفد کی ملاقات
    ملاقات میں یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری غلام رسول میرانی،پریس کلب کے سینئر نائب صدر امداد علی کھوسہ،جنرل سیکریٹری راجہ گوپی چند ،سینئر صحافی دلیپ کمار ٹھاکر ،فقیر گوکل داس ،نذیر احمد میرانی ،قدرت اللہ میرانی شامل تھے

    وفد سے ملاقات کے دوران ایس ایس پی بشیر احمد بروہی اور صحافیوں کے درمیان ضلع بھر میں امن و امان اور دیگر مسائل پر تبادلہ خیال
    ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کاکہنا تھا کہ کشمور ایٹ کندھ کوٹ ضلع کو جرائم سے پاک کرنا میری اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی سائل کو اگر کوئی مسئلہ ہے تو میرے ساتھ ڈائریکٹ رابطہ کریں میرے دروازے سب کیلئے کھلے ہوئے ہیں ۔

    ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے ، امن و امان کی بحالی کیلئے کاروائیاں جاری ہیں جلد کامیابیاں حاصل ہوں گیں ،پہلے پکے کے جرائم پیشہ عناصر سے نمٹا جائے گا پھر کچے میں پکا آپریشن شروع کیا جائے ۔

    ایس ایس پی بشیر احمد بروہی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے جرائم کی نشاندہی ہوتی ہے جس پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے کندھ کوٹ پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کے صحافیوں سے کوآرڈینیشن جاری رہے گی.

  • تلہ گنگ :فائزہ اقبال ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کی لائبریری سیکرٹری منتخب

    تلہ گنگ :فائزہ اقبال ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کی لائبریری سیکرٹری منتخب

    تلہ گنگ (شوکت علی ملک سے) ینگ لائرز کمیونٹی کی ممبر ایڈووکیٹ فائزہ اقبال نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے بلامقابلہ لائبریری سیکرٹری منتخب ہو کر تلہ گنگ ملتان خورد کا نام روشن کردیا۔

    ایڈووکیٹ فائزہ اقبال کا تعلق تلہ گنگ کے نواحی علاقے ملتان خورد سے ہے، انہوں نے بطور لائبریری سیکرٹری منتخب ہو کر نہ صرف علاقے کا نام روشن کیا بلکہ علاقے کے تمام نوجوان وکلاء کے لئے موٹیویشن بن گئیں۔

    اس موقع پر فائزہ اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ دیہاتی علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم اور دوستوں کی محبت، خلوص اور سپورٹ کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا ہے جوکہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے،

    انہوں نے تمام سینئرز اور ساتھی وکلاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کو اس اہم زمہ داری کے لیے منتخب کیا۔ اس شاندار کامیابی پر اہلیانِ ملتان خورد نے ملتان خورد کی ہونہار بیٹی فائزہ اقبال ایڈووکیٹ کو مبارکباد پیش کی ہے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان : پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی وکٹیں اُڑادیں

    ڈیرہ اسماعیل خان : پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی وکٹیں اُڑادیں

    ڈیرہ اسماعیل خان،باغی ٹی وی (احمدنوازمغل کی رپورٹ )پاکستان پیپلز پارٹی نے سٹی ٹو میں ایک اور اہم گروپ کو تحریک انصاف سے توڑنے میں کامیابی حاصل کرلی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی اور سٹی ٹو کے امیدوار احمد کریم کنڈی کی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں طارق چیئرمین بڈھ اور رزاق وائس چیئرمین بڈھ نے پی پی پی میں شمولیت کا اعلان کردیا ۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آٹھ فروری کو ہی انتخابات ہونے چاہیں کچھ جماعتیں اس حوالے سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہیں ہم ایک گھنٹہ الیکشن میں التواء کے حامی نہیں چیف جسٹس کا اس حوالے سے فیصلہ آئین کے تقاضوں کے مطابق ہے انہوں نے کہا کہ ایک جانب جے یو آئی واویلا کہ صوبہ میں ہماری حکومت ہوگی اور مولانا صدر پاکستان ہونگے تو پھر یہ الیکشن کے بغیر کیسے ممکن ہونگے ۔

    حالات تو کئی عشروں سے خراب تھے گورنر خیبر پختونخوا نے اس حوالہ سے کیا قدم اٹھایا نگران حکومت میں زیادہ تر جے یو آئی کے لوگ تھے انہوں نے امن و امان کے حوالہ سے کیا اقدامات کیے ۔ ہم ہر سیاسی قائد کی جان عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے دعا گو ہیں۔

    وزیر اعظم کو مولانا صاحب تین مرتبہ ڈیرہ لائے انہیں کیوں امن و امان کا نہیں بتایا آج انکے چہیتے متعدد محکموں میں براجمان ہیں گیس اور بجلی کی مد میں زیادتی ہورہی ہے جتنے افتتاح وزیر اعظم سے کروائے اسکے فنڈز کہاں ہیں۔ سی آر بی سی کی مرمت کی راہ میں روڑے کس نے اٹکائے۔

    جب بھی مولانا صاحب کا اقتدار آتا ہے ڈیرہ مسائل کا شکار ہوتا ہے پیپلز پارٹی کی حکومت آنے والی ہے کسانوں کے مسائل حل کرینگے کسان کارڈ ایشو کرینگے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے یہاں مستحقین کی تعداد بڑھ گئی ہے ہم یوتھ کارڈ ایشو کرینگے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی انہوں نے ملک طارق اور ملک رزاق کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر احمد کریم کنڈی اور عزیز اللہ خان علی زئی کا شکریہ ادا کیا ۔

    اس موقع پر سٹی ون کے امیدوار عزیز اللہ خان علی زئی نے کہا کہ ڈیرہ کے ہسپتال کی ابتر حالات کسی سے پوشیدہ نہیں گزشتہ سولہ ماہ کی حکومت میں کس کے اثاثوں میں اضافہ ہوا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ٹانک کے ابتر حالات کسی سے پوشیدہ نہیں یہ عوام سے ملتے تک نہیں انہوں نے کہا کہ میرے والد کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ان شاءاللہ آٹھ فروری تیر کی کامیابی کی نوید لائے گا

  • دہشت گردوں نے میرعلی وزیرستان میں ڈیرہ غازیخان کے 6 نوجوان قتل کردئے

    دہشت گردوں نے میرعلی وزیرستان میں ڈیرہ غازیخان کے 6 نوجوان قتل کردئے

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی )دہشت گردوں نے میرعلی وزیرستان میں ڈیرہ غازیخان کے 6 نوجوان قتل کردئے،دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے نوجوان وزیرستان میں نائی کا کا م کرتے تھے،جن کی لاشیں ابھی تک وزیرستان میں پڑی ہیں ،

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوکے مطابق میرعلی وزیرستان میں قتل ہونے والے نوجوانوں کے ورثاء نے کہا ہے کہ لاشیں بھجوانے کیلئے ہم سے بھاری رقم کامطالبہ کیا جارہاہے ،ہم غریب لوگ ہیں ایک توہمارے نوجوانوں کوبے دردی سے دہشت گردوں نے آنکھوں میں گولیاں مارکرقتل کیا ہے دوسرے میرعلی وزیرستان سے لاشیں بھجوانے کیلئے پیسوں کامطالبہ کیا جارہاہے ،

    دہشت گردی کا شکارہونے والے نوجوانوں کے ورثاء کاکہنا ہے کہ ہماری مدد کرنے کیلئے ہمارے مقامی کھوسہ سردار یا کوئی حکومتی ذمہ دار نہیں آیا ،قتل ہونے والے نوجوانوں کے ورثاء نے حکومت پاکستان سے مدد کرنے اور میرعلی وزیرستان لاشیں آبائی گھروں میں بھجوانے کامطالبہ کیا ہے

    ذرائع معلوم ہونے والی معلومات کے مطابق میر علی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ڈیرہ غازی خان کے نوجوانوں کے نام اور پتے ذیل میں ہیں
    1.رہیب ولد علی محمد قوم نائی سکنہ چھابری زریں ،2.عرفان ولد محمد ابراہیم قوم پولی سکنہ چھابری زریں ،3.سجاد ولد حاجی موسی قوم موچی سکنہ چھابری زریں ،4.کاشف ولد پپو قوم نائی سکنہ پیر عادل ،5.طارق ولد ناصر قوم نائی سکنہ چھابری زریں ،6.شاہد ولد منظور قوم نائی سکنہ چھابری زریں وزیرستان نائی کا کا م کرتے تھے ،جنہیں دہشت گردوں نے قتل کردیا ہے

    اُدھرشمالی وزیر ستان میرعلی میں چھ افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ تھانا سی ٹی ڈی بنوں 2 میں درج،ایف آئی آر متن کےطابق 6 افراد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے،قتل ہونے والوں میں محمد شاہد،راعب،کاشف، عرفان،ساجد اور محمد طارق شامل ہے

    مقدمہ ایس ایچ او میرعلی سلیمان خان کی مدعیت میں درج کی گئی ہےدہشتگردوں نے ڈیرہ غازی خان کے 6 مزدوروں کو گزشتہ طارق مارکیٹ میرعلی بازار سے اٹھا کر قتل کیا.

  • اوکاڑہ :جماعت اسلامی کے زیر اہتمام رکشہ ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج مظاہرہ

    اوکاڑہ :جماعت اسلامی کے زیر اہتمام رکشہ ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج مظاہرہ

    اوکاڑہ، باغی ٹی وی (نامہ نگار ملک ظفر )جماعت اسلامی کے زیر اہتمام رکشہ ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرہ چیئرمین رکشہ ایسوسی ایشن ساہیوال ریجن ملک افضل اعوان کی زیر قیادت ہوا ریلی میں رکشہ ڈرائیوروں اور رکشہ ایسوسی ایشن کے ممبران کی شرکت کی احتجاجی مظاہرہ

    اوکاڑہ پریس کلب سے شروع ہو کر مختلف راستوں سے ہوتا ہوا یہاں اختتام پر ہوا شرکاء کی جانب سے نگران حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی غریبوں کا معاشی قتل بند کیا جائے چیئرمین رکشہ ایسوسی ایشن ساہیوال ڈویژن ملک افضل اعوان نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں

    ان کا مزید کہنا تھا کہ نگران حکومت ہوش کے ناخن لیں اور اپنے اس فیصلے کو واپس لیں وگرنہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا جماعت اسلامی اور اس کے قائد کا منشور رہا ہے کہ ہم ہمیشہ غریب عوام کیلئے اپنی جان بھی دے دیں گے

    چیف جسٹس اف پاکستان اور حکومت وقت اس پر نظر ثانی کریں تاکہ غریب رکشہ ڈرائیوروں کے منہ سے نوالہ نہ چھینا جائے

  • اوکاڑہ:مشکل کی گھڑی میں مددکو پہنچنے والے ادارہ ریسکیو1122 نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    اوکاڑہ:مشکل کی گھڑی میں مددکو پہنچنے والے ادارہ ریسکیو1122 نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر )کسی بھی ناگہانی صورتحال کے موقع پر دُکھی انسانیت کی ایک ہی آواز پر انکی مدد کیلئے پہنچنے والے ادارے نے اپنی سالانہ کارکردگی جاری کر دی۔پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو1122 اوکاڑہ نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ سال 42014 ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس کرتے ہوئے 64991 افراد کو سروسز فراہم کیں۔

    تفصیلات کے مطابق دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، حادثہ ہو یا سانحہ، زلزلے ہو یا آگ، ریسکیو 1122 ہر دم تیار کے ماٹو سے کام کرنے والے ادارے نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرانجینئراحتشام نے کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو 1122 اوکاڑہ کو 42014 ایمرجنسی کالز موصول ہوئیں جن میں 9984روڈ ٹریفک حادثات،26571 میڈیکل ایمرجنسیز، 343 فائر ایمرجنسیز، 1180 کرائم ایمرجنسیز، 18 ڈوبنے کی، 01 عمارتوں کے گرنے اور 3917 دیگر ایمرجنسیز شامل ہیں۔ریسکیو1122 اوکاڑہ نے ان ایمرجنسیز پر رسپانس کرتے ہوئے 64991 افراد کو ریسکیو کیا جن میں 9900 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ 30393 افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 1307 افراد موقع پرجان بحق ہوئے جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 23391 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ ایمرجنسی کال کا تناسب115کالز فی دن ہے جن پر ریسکیو1122 نے ایمرجنسیز پرایوریج ریسپانس ٹائم کو برقرار رکھا۔

    روڈ ٹریفک حادثات: ضلع بھر میں 9984 روڈ ٹریفک حادثات ہوئے جن میں متاثرہ افراد کی تعداد 10741ہے، 139 افراد موقع پرجان بحق ہوگئے۔ 6403 شدید زخمی متاثرین کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد نزدیکی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ4199 متاثرین کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    آگ لگنے کے واقعات: ضلع بھر میں 343آگ لگنے کے واقعات پربروقت ریسپانس کرتے ہوئے تقریباََ 351Millions کی پراپرٹی کو محفوظ کیا۔ جن میں 90کمرشل ایریا،77رہایشی علاقے اور 176 واقعات دیگر علاقوں میں پیش آئے۔ آگ لگنے کی وجوہات میں شارٹ سرکٹ (139)،گیس لیکج(14)، موم بتی(06)، کچن فائر(04)، جنگل کی آگ (01)، نامعلوم (30)، دیگر(63) اور لاپرواہی (86) بنی،ان واقعات میں 02 متاثرین شامل ہیں جن میں 01 کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 1 متاثرہ شخص کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    موٹر بائیک سروس: ریسکیو موٹر بائیک سروس کے ذریعے ضلع بھر میں 8574ایمرجنسیز پر2.87 کے ایوریج ریسپانس ٹائم سے بروقت ریسپانس کرتے ہوئے8942 افراد کو مدد فراہم کی۔

    پیشنٹ ریفرل سسٹم: گزشتہ سال پیشنٹ ریفرل سسٹم کے تحت ضلع بھرمیں 5651 مریضوں کو بہتر طبی امداد کے حصول کیلئے منتقل کیا گیا۔ 2509 مریضوں کو ضلع بھر سے ڈسٹرکٹ / تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں منتقل کیا گیا جبکہ3142 افراد کو بہتر طبی امداد کے حصول کیلئے ریسکیو1122 کے تربیت یافتہ عملہ کے زیرِ نگرانی میں دوسرے اضلاع کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    فلڈ ریسکیواینڈ ریلیف آپریشن: گزشتہ سال دریائے ستلج اور دریائے راوی پر آنے والے سیلاب میں ریسکیو1122 اوکاڑہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 16186 افراد کو سازوسامان اور 798 چھوٹے جانورں سمیت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جبکہ 7212 افراد کو ٹرانسپورٹیشن کی سہولت فراہم کی گئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرانجینئراحتشام کامزید کہنا تھا کہ ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز کا حصہ بناتے ہوئے انہیں اس قابل بنا ئیں گے کہ وہ نہ صرف ریسکیو1122 کے شانہ بشانہ دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کر سکیں بلکہ انکے توسط سے زیادہ سے زیادہ شہریوں میں صحت اور صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پیدا ہونیوالے امراض کو کم کیا جا سکے اور اس مقصد کے لئے ہماری جانب سے سکولز و کالجز، یونین کونسلز میں تربیتی پروگرامز کا انعقاد کر کے ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس کو یقینی بناتے ہوئے جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

    انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس اور سیٹک ہولڈرز کے ساتھ مل کر بلڈنگ سیفٹی کے پیش نظر بلڈنگ کوڈز کو نافذالعمل کرتے ہوئے بلند عمارتوں کو محفوظ بنائیں گے اور اسکے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی مہم کے ذریعے دوران سفر روڈ سیفٹی کلچر کو اجاگر کیا جائیگا تاکہ ہونیوالے حادثات میں کمی لائی جا سکے۔

    انہوں نے میڈیا کے توسط سے شہریوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 ہر وقت آپکی مدد کے لئیے تیار ہے لیکن 1122 ہیلپ لائن پر بلا وجہ اور غیر ضروری کالز سے اجتناب کریں تاکہ آپکی بے وجہ کالز کسی بھی ایمرجنسی کے شکار شخص کو بھیجی جانیوالی مدد میں تاخیر کا سبب نہ بن سکیں۔

  • سردار شہروز خان بہتر ہے

    سردار شہروز خان بہتر ہے

    سردار شہروز خان بہتر ہے!
    تحریر :شوکت علی ملک
    ویسے تو ہمارے علاقے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں بھی چند خاندان ہی سیاست پہ قابض ہیں مگر ان خاندانوں میں نئے چہرے سامنے آنا بھی گویا ایک اچھی تبدیلی ہے اور راقم بذات خود علاقائی سیاست میں نئے چہروں اور خصوصاً نوجوان قیادت کے آگے آنے کو خوش آئند قرار دیتا ہے، کیونکہ ایک پڑھا لکھا وژنری نوجوان لیڈر ہی علاقے کی تعمیر ترقی کےلیے بہترین کام کرسکتا ہے۔

    اور پھر ایک ایسا شخص جس کی پہچان ہی فلاحی کاموں سے ہو اس کا سیاست میں آنا نیک شگون ہوگا، ہمارا علاقہ ابھی تک بنیادی سہولیات کی فراہمی سے محروم ہے، ایسے میں سردار شہروز خان ٹمن جوکہ ایک نوجوان پڑھے لکھے اور فلاح انسانیت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے ٹمن میں ایک ویلفیئر سوسائٹی کے چیئر پرسن کی حثیت سے کئی ایک اہم ترین فلاحی پروجیکٹس لگائے ہیں جوکہ ان کے فلاح انسانیت کے جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

    گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں جاتے ہوئے راقم کی جب سردار شہروز خان ٹمن سے گفتگو ہوئی اور سیاسی میدان میں قدم رکھنے بارے سوال کیا تو انکا یہی کہنا تھا کہ ہمیشہ سے فلاح انسانیت کے کاموں میں دلچسپی ہے، مگر بدقسمتی سے اتنے زیادہ وسائل نہ ہونے کے باعث یہ کام سر انجام دینا انتہائی مشکل ہے جس کےلیے آپ کے پاس اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں نمائندگی لازمی ہے تب ہی آپ علاقے کی حقیقی معنوں میں خدمت کرسکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں آکر روایتی سیاستدانوں کی طرح پروٹوکول انجوائے کرنا اور مال بنانا ہرگز مقصد نہیں بلکہ علاقائی محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مشکل حالات میں سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگر علاقے کی عوام اور خصوصاً نوجوان نسل نے اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے موقع فراہم کیا تو توقعات سے بڑھ کر علاقائی تعمیر و ترقی اور مسائل کے حل کےلیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے، اور تمام تر علاقائی محرومیوں کا خاتمہ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔

    مگر دوسری جانب انتہائی مثبت سوچ کی حامل شخصیت سردار شہروز خان ٹمن کے بازو مظبوط کرنے کی بجائے ان کے اپنے کئی ایک مہربان ان کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف عمل ہیں، اور ن لیگی کی اعلیٰ قیادت بھی ان کو ٹکٹ دینے سے گریزاں ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ ایک پڑھے لکھے وژنری نوجوان لیڈر کو موقع فراہم کیا جاتا کہ وہ اپنی مثبت سوچ کی حامل قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار کاتے ہوئے علاقائی تعمیر و ترقی کےلیے قابلِ قدر خدمات انجام دے سکے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری ہاں تو ہمیشہ الٹی گنگا ہی بہتی ہے۔

    تو ایسے میں ماضی کے حالات و واقعات اور سیاسی لیڈران کی کئی دہائیوں پر محیط مایوس کن کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ پرانے پاپیوں اور مردہ سیاسی گھوڑوں کو زندہ کرنے اور ایک بار پھر اپنے اوپر مسلط کرکے خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کی بجائے ایک نوجوان لیڈر جو کہ ہر لحاظ سے باقی تمام امیدواران سے بہتر ہیں اور فلاح انسانیت کا جذبہ لیے مثبت سوچ کیساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ان کو بھی ایک موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔