Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ٹھٹھہ :حیدرآباد روڈ پر ڈاکوؤں نے شہری سے موٹرسائیکل ،موبائل فون اور نقدی چھین لی

    ٹھٹھہ :حیدرآباد روڈ پر ڈاکوؤں نے شہری سے موٹرسائیکل ،موبائل فون اور نقدی چھین لی

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی(بلاول سموں)حیدرآباد روڈ پر ڈاکوؤں نے شہری سے موٹرسائیکل ،موبائل فون اور نقدی چھین لی
    تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ شہر سے 10 کلومیٹر دور ٹھٹھہ،حیدرآباد روڈ پر نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے ایک شخص سراج بروہی کو یرغمال بنا کر ایک عدد موٹرسائیکل،دو عدد موبائل فون اور نقد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے

    جب کہ اس واقعہ کی اطلاع پولیس کودی گئی لیکن اطلاع باوجود پولیس موقع پر نہ پنہچ سکی، واضح رہے کہ گذشتہ کچھ روز سے ضلع ٹھٹھہ میں جرائم کی شرح کافی بڑھ گئی ہے ،بڑھتے ہوئے جرائم کوپولیس کنٹرول کرنے میں عملاََ ناکام دکھائی دے رہی ہے،

    شہریوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے بڑھتے ہوئے جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے

  • ٹھٹھہ :ڈپٹی کمشنرکی کھلی کچہری،مسائل کے حل کیلئے موقع پراحکامات

    ٹھٹھہ :ڈپٹی کمشنرکی کھلی کچہری،مسائل کے حل کیلئے موقع پراحکامات

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی(بلاول سموں)ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقادعوام کے مسائل کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری
    ڈپٹی کمشنر اسد علی خان کی جانب سے تعلقہ ٹھٹھہ کی دیہہ کوہستان 7/1, 7/2, 7/3, 7/4 تپہ جھمپیر اور تپہ جنگشاہی کے کھاتیداروں کی زمینوں کے ری کنسٹرکشن اور ری رائٹ و ديگر درپیش مسائل کے حل کیلئے ڈی سی آفس کے احاطے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے لوگوں کے مسائل سنے اور موقع پر ہی متعلقہ افسران کو احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسد علی خان نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد لوگوں کی شکایات کا ازالہ کرکے فوری حل فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جن کھاتیداروں نے اپنی زمینوں کے کاغذات نہیں بنوائے وہ جلد اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں کلیم داخل کریں تاکہ ریکنسٹرکشن رکارڈ آف رائٹس کا کام شروع کیا جا سکے۔ عوام کی جانب سے کی گئی شکایات پر ڈپٹی کمشنر نے مختیارکار ٹھٹھہ خالد نظامانی کو ہدایت کی کہ وہ شکایت کنندہ کی زمینوں کی چانچ پڑتال کرکے جائز مسائل فوری حل کریں تاکہ عوام کو رلیف مل سکے۔

    کھلی کچہری میں شرکاء نے ونڈ ملز کی جانب سے مقامی لوگوں کو روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں نظر انداز کرنے کے متعلق شکایات کی پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس ضمن میں ونڈ ملز انتظامیہ کو طلب کرکے انہیں پابند کیا جائے گا تاکہ مقامی لوگوں کو لیبر قانون کے مطابق روزگار اور متعلقہ علاقوں میں فلاح و بہبود کے کام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

    شرکاء کی جانب سے پینے کے پانی، نکاسی آب، بجلی، صحت، تعلیم، سڑکوں و دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے متعلق مختلف شکایات اور درپیش مسائل بھی پیش کئے گئے جس پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی مسائل حل کرنے کے احکامات جاری کئے۔

  • چترال: بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شمولیت  پر آگاہی سیمنار منعقد ہوا

    چترال: بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شمولیت پر آگاہی سیمنار منعقد ہوا

    چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی کے ایک مقامی ہوٹل میں سنٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو (سی پی ڈی ای) ، سیٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبلیٹی ( سی این بی اے) کے اشتراک سے ینگ سٹار ڈیویلپمنٹ آرگنایزیشن(وای ایس ڈی او) نے ایک مقامی ہوٹل میں بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شمولیت پر آگاہی سیمنار منعقد کروایا۔

    اس سیمنار کا موضوع تھا سٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ آن ٹرانسپیرنٹ بجٹنگ۔ اس موقع پر سابق ناظم یونین کونسل ریشن امیراللہ مہمان خصوصی تھے جبکہ صوبیدار میجر مرزا عالم صدر نے سیمینار کی صدارت کی۔ ینگ سٹار ڈیویلپمنٹ آرگنایزیشن کے منیجر انعام اللہ نے سٹیج سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے اس تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

    انہوں نے کہا کہ وائی ایس ڈی او ان اداروں کی اشتراک سے بجٹ سازی کے عمل میں عوام کی رائے اور ان کی شمولیت پر اس قسم کے آگاہی سیمینار اور ورکشاپ منعقد کرواتے ہیں تاکہ بجٹ سازی کے عمل میں عوام کی رائے بھی شامل کی جاسکے کیونکہ بجٹ عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلیے تیار کیا جاتا ہے جس میں عوام کی رائے بھی اگر لی جائے تو اس کی شفافیت میں مزید بہتری آئے گی۔

    اس موقع پر مہمان خصوصی، صدر مجلس اور وای ایس ڈی او کے چییرمین اسفندیار خان نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے بجٹ سازی کے عمل میں عوام کی اشتراک اوربجٹ کے عمل میں احتساب کے عمل میں عوامی نیٹ ورک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اس عمل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سی پی ڈی آئی نے "پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال، بین الاقوامی بہترین طرز عمل” پر اپنی چوتھی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر بجٹ سازی کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بجٹ تجاویز پر شہری گروپوں، حکومتی اداروں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد صرف نتائج پیش کرنا نہیں ہے بلکہ حکومتوں، سول سوسائٹی اور بڑے پیمانے پر شہریوں کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو شہریوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم کو بجٹ کی پیچیدہ تفصیلات اس انداز میں پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جانا چاہیے جو شہریوں کو آسانی سے سمجھ آسکے ۔ حکومتوں کو بجٹ کی تشکیل کے اہم مرحلے کے دوران ملک گیر عوامی مشاورت، بشمول ٹاؤن ہال میٹنگز اور ورکشاپس کے آغاز کو ترجیح دینی چاہیے۔

    رپورٹ میں خواتین، اقلیتوں، بچوں اور معذور افرادکے لیے الگ الگ بجٹ اسٹیٹمنٹ تیار کرنے اور جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جس میں ہر گروپ کی منفرد ضروریات اور چیلنجوں کے مطابق مخصوص مختص اور حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں سیٹیزن بجٹ پیش کرنے کے عمل کو مخصوص قانون سازی یا ضوابط کے ذریعے باقاعدہ بنائے جانے پر زور دیا گیا ہے۔

    سی پی ڈی آئی کی رپورٹ کے مطابق، حکومتوں کو بجٹ کا ڈیٹا ایکسل اور سی ایس وی جیسے وسیع پیمانے پر مشین سے پڑھنے کے قابل فارمیٹس میں دستیاب کرانا چاہیے۔اس کے علاوہ بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شرکت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور حکومتی اداروں کو بجٹ سازی کے عمل کے مختلف مراحل کے دوران شہریوں سے مشاورت کا پابند بنایا جائے، خاص طور پر بجٹ کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو بڑھایا جائے۔

    سی این بی اے کی رکن تنظیم (سٹیزنز نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبلٹی) کے زیر اہتمام "شفاف بجٹ سازی پر اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ” کے دوران منتخب نمائندوں، مقامی حکومتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ وای ایس ڈی او کے چییرمین اسفندیار خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے، سی پی ڈی آئی پاکستان میں بجٹ سازی کے عمل کو ضلع سے وفاقی سطح تک بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اس میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔

    اس کے نتیجے میں "پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال 2023” پر مبنی چوتھی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف بجٹ کی شفافیت کا جائزہ لیتی ہے بلکہ پاکستان میں بجٹ کی معلومات کے حصول کے لیے پاکستان میں اطلاعات تک رسائی کے قوانین کی مؤثریت کا اندازہ لگانے میں بھی مدد کرتی ہے۔

    یہ رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ بجٹ کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی بجائے اسے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کی فنانس کمیٹیوں کو پہلے ہی بھیج دیا جائے۔ سی پی ڈی آئی کی رپورٹ میں تمام پلاننگ کمیشن فارمز (PC-I سے PC-V) ) تمام فارموں کو تمام وفاقی اور صوبائی سطحوں پر عوام کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق بجٹ سازی میں شہریوں کی شرکت، مقننہ کی نگرانی، پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث کا دورانیہ اور منصفانہ بجٹ سازی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    اس آگاہی سیمنار میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران شرکا نے اس حوالے سے مختلف سوالات بھی پوچھے جن کے چئیرمین اسفندیار خان نے جوابات بھی دیے۔

  • سیالکوٹ:حکومت پنجاب نے بزنس کے فروغ کیلئے بزنس فرینڈلی سہولیات متعارف کروائی ہیں-ایس۔ایم تنویر

    سیالکوٹ:حکومت پنجاب نے بزنس کے فروغ کیلئے بزنس فرینڈلی سہولیات متعارف کروائی ہیں-ایس۔ایم تنویر

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی( سٹی رپورٹر شاہد ریاض) صوبائی وزیر انڈسٹریز کامرس، انوسٹمنٹ اینڈ سکلز ڈویلپمنٹ/ انرجی اینڈ ایگریکلچر پنجاب ایس۔ایم تنویر نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل اور بزنس کے فروغ کیلئے بزنس فرینڈلی سہولیات متعارف کروائی ہیں، بزنس فیسلیٹیشن سنٹرز کا قیام اس سلسلہ کی کڑی ہے،

    برآمدات میں اضافہ اور معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسیز تشکیل دی جائیں گی تو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور معیشت کا پہیہ گھومے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں ٹریڈ یونین کے عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجیز سے نکالے کیلئے بزنس کمیونٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی ملک کے دیگر شہروں کی کاروباری برادری کیلئے رول ماڈل ہے۔ سیالکوٹ 3 ارب ڈالرز کی برآمدات کرکے ملک کو قیمتی زرمبادلہ کما کر دے رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ ، گجرات اور سیالکوٹ گولڈن ٹرائی اینگل ہے یہاں سے بنائی ہوئی مصنوعات عالمی معیار کی ہیں اور دنیا بھر میں ان کی مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں سرجیکل سٹی کیلئے زمین ایکوائر کرلی گئی ہے۔

    قبل ازیں صوبائی وزیر صنعت ایس ایم تنویر نے ڈپٹی کمشنر شاہ میر اقبال کے ہمراہ انوار کلب آڈیٹوریم میں بزنس فیسلیٹیشن سنٹر کے مجوزہ منصوبے کا دورہ کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے صوبائی وزیر کو فیسلیٹیشن سنٹر کی بابت بریفینگ دی۔ صدر ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ ملک عبدالغفور بھی موجود تھے۔

  • سرگودھا:محکمہ مال میں اربوں روپےکی کرپشن کابڑاسکینڈل بے نقاب

    سرگودھا:محکمہ مال میں اربوں روپےکی کرپشن کابڑاسکینڈل بے نقاب

    سرگودھا،باغی ٹی وی (نامہ نگار شاہنوازجالپ)محکمہ مال میں کرپشن کابڑاسکینڈل بے نقاب،ایف بی آر کی تاریخ کے پہلے اورسب سے بڑےالیکٹرانک اورفیزیکل آڈٹ میں ہوشرباء انکشافات،صرف ایک سال میں جائیداد کی خرید و فروخت کے دوران قومی خزانے کو اربوں روپے سے محروم کیاگیا

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق الیکٹرانک اورفیزیکل آڈٹ کے دوران سب رجسٹراروں کے دفاتر سے بڑی تعدادمیں جعلی چالان برآمدہوئے۔ایف بی آر نے محکمہ مال میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے گھپلے پکڑے ہیں۔پانچ اضلاع کے17 سب رجسٹراروں نے افسران،رجسڑی محرروں اور عملہ سے مل کر اربوں روپے خرد برد کئے،سرگودھا،میانوالی،خوشاب،بھکر اور منڈی بہاؤالدین پانچ اضلاع میں دیدہ دلیری سے کرپشن کاکھیل کھیلاگیا۔

    ایف بی آر آڈٹ ٹیم نے سب رجسٹراروں کے اربوں روپے کے گھپلوں کے ثبوت اکٹھے کرکے مزیدقانونی کارروائی شروع کردی ہے۔دوران آڈٹ یہ انکشاف بھی ہواکہ بڑے افسران کی آشیر باد سے رجسٹریوں کی مد میں قومی خزانے کومسلسل ٹیکہ لگایا جاتا رہاہے۔بوقت رجسٹری فروخت اور خرید کنندہ کے ٹیکس کی رقم قومی خزانے میں جمع نہ کرائی گئی ۔

    سب رجسٹرار دفاتر میں ٹیکس کے جعلی چالان تیار کرنے کے بھی ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایف بی آر نے 17 سب رجسٹراروں کو ریکوری کے لیے نوٹس جاری کر دئیے۔متعلقہ ٹیکس نادہندگان کو بھی زیر دفعہ 162 نوٹس جاری کئے گئے۔

    کرپشن سکینڈل میں ملوث سب رجسٹراروں،رجسٹری محرروں،وثیقہ نویسوں، وکلا،رجسٹری محرروں اور دیگر ریونیو عملہ کی ملی بھگت کے ثبوت ایف بی آرنے اکٹھے کر کے رپورٹ مرتب کر لی ہے جس کے مطابق صرف ایک سال میں ہونے والی اربوں روپے کی ٹیکس چوری منظر عام پر لائی گئی ہے۔

    ٹیکس فراڈ میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کاروائی کاآغازہوچکا ہے اورجلد گرفتاریاں شروع ہونے کابھی امکان ہے۔کمشنر ود ہولڈنگ بابر نواز راجہ کا کہنا ہے ملوث کالی بھیڑوں کو جرمانہ کے ساتھ 10 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔

    ایف بی آر کی تاریخ میں پہلی بار آڈٹ ٹیم کی زیر نگرانی ریکارڈ کی الیکٹرانک اور فزیکل سکروٹنی کی گئی۔

  • سیالکوٹ :ریسکیو1122نے خواتین رضاکار ٹیم کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے کی تربیت دی

    سیالکوٹ :ریسکیو1122نے خواتین رضاکار ٹیم کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے کی تربیت دی

    سیالکوٹ باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر شاہد ریاض)ریسکیو1122نے لدھڑ گاؤں میں خواتین رضاکار ٹیم کو ایمرجنسی کی صورت میں ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے کی تربیت فراہم کی۔
    ریسکیو ٹریننگ ٹیم نے بانی ریسکیو سروس سیکٹری پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کے اولین مقصد کے تحت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی ہدایت پر لدھڑ گاؤں میں وویمن ایمپاور منٹ ادارے میں کورس کرنے والی طلباء و خواتین اور اساتذہ کو ایمرجنسی صورتحال جیسے دل کا دورہ پڑنا، حادثہ کی صورت میں، ہڈی ٹوٹنے، بلندی سے گرنے،بے ہوش ہونااورآگ لگنے کے واقعات میں بطور فرسٹ ریسپانڈر ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے کی تربیت فراہم کی۔ تین روزہ کورس میں 80سے زائد خواتین نے حصہ لیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفسیر انجینئر نوید اقبال نے لدھڑ گاؤں کا دور کیا اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیم CERT کا جائزہ لیا۔ ٹیم نے مختلف ایمرجنسیز میں بروقت طبی امدا مہیا کرنے کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ بعدازاں کورس مکمل کرنے والی خواتین و کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کیے گئے۔ کورس کے کورآڈینیٹررانا بلال نے ریسکیو ٹیم کا گاؤں کی خواتین و طلباء کو ابتدای طبی امداد کی تربیت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے کہا کہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت گھر گھر مہیا کرنا ہمارے بانی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کا خواب ہے جس کا مقصد ہے کہ جب بھی کہی حادثہ ہو تو کمیونٹی بطور ابتدائی مددگار ریسکیو کے پہنچنے تک اس شخص کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکے۔

    انہوں نے کہا کہ لدھڑ گاؤں میں خواتین کی2 کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کا قیام سیفر کمیونٹی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے اور انشا اللہ ہم ملکر اپنے معاشرے کو محفوظ بنائیں گے۔

  • سیالکوٹ:کرسمس و نئے سال کی تقریبات سکیورٹی کے حوالے سے میٹنگ

    سیالکوٹ:کرسمس و نئے سال کی تقریبات سکیورٹی کے حوالے سے میٹنگ

    سیالکوٹ باغی ٹی وی (سٹی رپورٹر شاہد ریاض)کرسمس و نئے سال کی تقریبات سکیورٹی کے حوالے سے میٹنگ

    تفصیل کے مطابق تھانہ حاجی پورہ میں کرسمس و نئے سال کی تقریبات کی سکیورٹی کے حوالے سے چرچ ہائے کی انتظامیہ سے میٹنگ۔ایس ایچ او تھانہ حاجی پورہ سب انسپکٹر عادل مصطفی کی کرسمس و نئے سال کی تقریبات کی سیکیورٹی کے حوالےسےچرچ ہائے کی انتظامیہ سے میٹنگ،

    میٹنگ کے اختتام پر ملکی سلامتی کے لیے دعا کی گئی اور کیک کاٹا گیا۔

  • پاکستان میں کھاد کی عدم دستیابی کے چیلنجز, زراعت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش

    پاکستان میں کھاد کی عدم دستیابی کے چیلنجز, زراعت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش

                         پاکستان میں کھاد کی عدم دستیابی کے چیلنجز, زراعت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش
    تحریر:میاں عدیل اشرف
    پاکستان ایک زرعی معیشت ہے جس کا اپنے زرعی شعبے پر بہت زیادہ انحصار ہے، ایک ایسے نازک مسئلے کا سامنا کر رہا ہے جس سے اس کی خوراک کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی کو خطرہ لاحق ہے یعنی کھادوں کی کنٹرول ریٹس پر عدم دستیابی۔ اس تشویشناک صورتحال کے اثرات نہ صرف کسانوں کے لیے بلکہ ملک کی مجموعی غذائی تحفظ کے لیے بھی ہیں۔

    پاکستان میں کھاد کی کمی کی وجہ کئی عوامل ہیں جن میں سٹاکسٹ مصنوعی بحران پیدا کرنے والے,سپلائی چین میں خلل، تقسیم کا غیر موثر طریقہ کار اور معاشی چیلنجز شامل ہیں۔ کسان، جو زمین کی زرخیزی اور فصل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے کھادوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، خود کو ایک ایسی قلت سے دوچار ہوتے ہیں جو بڑھتی ہوئی آبادی کے مطالبات کو پورا کرنے کی ان کی صلاحیت کو روکتی ہے۔ کھاد کی سپلائی چین میں رکاوٹ کو درآمدات میں تاخیر، ناکافی پیداواری صلاحیت اور لاجسٹک رکاوٹوں اور مصنوعی بحران جیسے مسائل سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ ان چیلنجوں کا ایک بڑا اثر ہوتا ہے، کیونکہ کسان صحیح وقت پر ضروری آدانوں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں فصل کی سب سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

    اس کے نتیجے میں ان لاکھوں افراد کی روزی روٹی متاثر ہوتی ہے جو اپنے رزق کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومتی مداخلتیں اور پالیسیاں کھاد کی عدم دستیابی کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پالیسی سازوں کو گھریلو پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے، درآمدی عمل کو ہموار کرنے اور تقسیم کے چینلز کو جدید بنانے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے اور مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ مزید برآں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سبسڈی اور مالی مدد کی اشد ضرورت ہے کہ کسان اپنی فصلوں کے لیے ضروری کھادیں برداشت کر سکیں۔

    کھاد کی عدم دستیابی کے نتائج فوری معاشی خدشات سے آگے بڑھتے ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی خوراک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور خوراک کی قلت ہوتی ہے۔ حکومت، نجی شعبے اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے اس بحران کا پائیدار حل تلاش کرنے میں تعاون کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آخر میں پاکستان میں کھادوں کی عدم دستیابی ایک کثیر جہتی چیلنج ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو دور کرنے، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے اور کسانوں اور زرعی شعبے دونوں کو سپورٹ کرنے والی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے فعال اقدامات کرنا چاہیے۔

    صرف باہمی تعاون کے ذریعے ہی پاکستان اس بحران پر قابو پانے اور اپنے زرعی منظرنامے کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کی امید کر سکتا ہے۔

  • سیالکوٹ:سانحہ اے پی ایس کو 9 برس بیت گئے مگر بچھڑنے والوں کا غم آج بھی تازہ ہے-شاہد ریاض

    سیالکوٹ:سانحہ اے پی ایس کو 9 برس بیت گئے مگر بچھڑنے والوں کا غم آج بھی تازہ ہے-شاہد ریاض

    سیالکوٹ( باغی ٹی وی )سانحہ اے پی ایس کو 9 برس بیت گئے مگر بچھڑنے والوں کا غم آج بھی تازہ ہے، 16 دسمبر کا دن آرمی پبلک سکول کے شہداکی عظیم قربانیوں کی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا‘ ان خیالات کا اظہار پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکڑانک میڈیا ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے سینئر رکن اور سیالکوٹ میں باغی ٹی وی کے رپورٹر شاہد ریاض نے ایک بیان میں کیا۔

    انہوں نے کہا کہ، بزدل شرپسند عناصر نے قوم کے مستقبل، نہتے کم سن بچوں پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا،اس دن کو یاد کر کے کوئی اپنے آنسو نہیں روک سکتا، اس واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے، دہشتگردی کیخلاف متحد ہوئے،

    پاکستانی عوام اپنے ریاستی اداروں کی طاقت سے دہشتگردی کی اس نئی لہر کو بھی شکست دیں گے اور یہی آج کا پیغام ہے۔ہمارا عزم پختہ اور جذبہ سچا ہے، دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے،

    ہم نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے طویل سفر طے کیا ہے، دفاع وطن اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے تمام ریاستی ادارے بشمول سول و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں،

    پاکستان دیرپا امن اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آرمی پبلک سکول کے شہداکے درجات بلند کرے او ان کے اہلخانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔

  • ڈیرہ غازیخان :کمانڈنٹ نہ ہونےسے بلوچ لیوی ملازم منہ زور ہوگئے،صوبیدارمیجربے بس

    ڈیرہ غازیخان :کمانڈنٹ نہ ہونےسے بلوچ لیوی ملازم منہ زور ہوگئے،صوبیدارمیجربے بس

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی ) کمانڈنٹ نہ ہونے کی وجہ سے بلوچ لیوی ملازم منہ زور ہوگئے،صوبیدارمیجربے بس،نائب صوبیدارلائن آفیسرقاسم نے مسکیٹ کی لکڑیوں کی آڑ میں قیمتی لکڑی بیچ ڈالی،ریاض حوالداراحاطہ پکٹ انچارج نائٹ ڈیوٹی بلوچ لیوی لائن نے گائے کے بہانے قیمتی لکڑی ڈالے میں لوڈ کرکے اپنے گھر وہوا لے گیا۔ان منہ زوربلوچ لیوی ملازمین کے آگے صوبیدارمیجرغلام رسول بزداربے بس ہوگیا ہے
    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازیخان کی سپیشل ریزروفورس بلوچ لیوی میں کمانڈنٹ کی سیٹ کافی عرصہ سے خالی ہے ،اضافی چارج والے کمانڈنٹ کے پاس وقت نہ ہونے کی وجہ سے بلوچ لیوی کے ملازمین منہ زور ہوگئے ہیں ۔موجودہ صوبیدارمیجرکوکسی خاطرمیں نہ لاتے ہوئے من مانیاں کرنے لگے ہیں ،بلوچ لیوی لائن میں موجود سرکاری لکڑی ودیگرسامان اپنی وراثت بنالیا ہے ۔

    گذشتہ ماہ صوبیدارمیجرکی غیرموجودگی میں صفائی کی آڑمیں بلوچ لیوی لائن میں اُگے ہوئے مسکیٹ کے درخت اور جھاڑیاں قاسم نامی نائب صوبیدارجوکہ بلوچ لیوی کا لائن آفیسرہے نے کٹوائی تھیں اور مبینہ طورکسی لکڑی کے بیوپاری کوبیچ دی تھیں لیکن صوبیدارمیجرغلام رسول بزدارکے علم میں آنے کی وجہ سے وہ لکڑیاں اس وقت لکڑی کے بیوپاری کو نہ اٹھانے دی گئیں

    ذرائع کے مطابق دوہفتے قبل مورخہ 03دسمبربروزاتوارکولائن آفیسرنائب صوبیدارقاسم نے صوبیدارمیجرغلام رسول بزدارکی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کٹی ہوئی مسکیٹ کی لکڑیوں کی آڑمیں بلوچ لیوی لائن میں گرے ہوئے درختوں کی ٹرالی لوڈ کراکر بیچ ڈالی اورسرکاری لکڑی کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اپنی جیب میں رکھ لی اور سرکاری خزانے میں جمع نہ کرائی اور نہ ہی کاٹھ کباڑ یالکڑی کی فروخت کیلئے اخباراشتہاردیاگیا اور نہ ہی کوئی نیلامی عمل میں لائی گئی۔

    ذرائع کابتاناہے کہ جب کچھ ملازمین نے لائن آفیسرنائب صوبیدارقاسم سے کہا کہ آپ نے نیلامی کے پراسس کے بغیرلکڑیاں بیچ دی ہیں ،آپ کا یہ فعل قانون وقاعدے کے خلاف ہے تو موصوف لائن آفیسرنائب صوبیدارقاسم نے ان ملازمین کودھمکاتے ہوئے کہاکہ تم کون ہومجھ سے پوچھنے والے یاقانون و قاعدے بتانے والے ؟،کیا یہ لکڑیاں تمہارے باپ کی ہیں؟ ،میں لائن آفیسر ہوں اور پوری بلوچ لیوی کامالک ہوں ،جوکچھ بیچوں یامیں اپنے گھرلے جاؤں ،تم کون ہومجھ سے پوچھنے والے؟۔

    اسی طرح حوالدارریاض احاطہ پکٹ نائٹ ڈیوٹی بلوچ لیوی لائن نے ایک اور اہلکارسے ملی بھگت کرکے ڈالے پر گائے بھجوانے کے بہانے خشک شیشم کی قیمتی لکڑی ڈالے پر لوڈ کرکے اپنے گھر وہوا لے گئے ۔

    ذرائع کابتانا ہے کہ یہ وارداتیں اس وقت کی جاتی ہیں جب صوبیدارمیجرغلام رسول بزدارکہیں وزٹ پرگیا ہواہوتا ہے ،تب یہ بلوچ لیوی کے منہ زورملازم اپنی کارروائیاں ڈالتے ہیں ۔عوامی وسماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے بلوچ لیوی کا مستقل کمانڈنٹ تعینات کرنے اور سرکاری املاک ،سرکاری لکڑی اور مشینری کے نقصان میں ملوث اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کامطالبہ کیا ہے ۔