Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • چترال :امن و مان  دوبارہ بحال کرنے کیلئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام گرینڈ امن جرگہ کا انعقاد

    چترال :امن و مان دوبارہ بحال کرنے کیلئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام گرینڈ امن جرگہ کا انعقاد

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حماد فاروقی) امن و مان دوبارہ بحال کرنے کیلئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام گرینڈ امن جرگہ کا انعقاد
    چترال حالیہ دنوں میں جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں سیکورٹی فورسز کے چار اہلکار شہید اور سات زحمی ہوئے اس کے بعد چترال کی فضاء نہایت سوگوار تھی۔ عوام نہایت غم اور خوف کی زندگی گزار رہے ہیں۔ چترال ایک مثالی امن کا ضلع تھا جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں اور زیادہ تر سیاح وادی کیلاش کارخ کرتے ہیں۔ مگر ٹی ٹی پی کی جانب سے بمبوریت وادی کیلاش کے پاس چترال سکاوٹس کی ایک پوسٹ اور جنجیریت کوہ میں بھِی چترال سکاوٹس کے پوسٹ پر حملہ کرکے چار اہلکاروں کو شہید کیا تھا۔ اس کے بعد پورے چترال کی فضاء نہایت سوگوار ہے اور لوگ پریشان ہیں

    جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چترال کے مثالی امن کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے ایک گرینڈ امن جرگہ بلایا گیا۔ گرینڈ امن جرگہ میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں اور سنی، اسماعیلی دونوں کمیونٹی کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔گرینڈ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے عمائدین نے کہا کہ چترال کے لوگ ہمیشہ پاکستان اور فوج کے وفادار رہے ہیں مگر حالیہ دنوں میں جو نا خوشگوار واقعہ پیش آیا اس سے ہر چترالی نہایت پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں اتنی زیادہ ایجنسیاں کام کرتی ہیں اور ان کو پہلے اطلاع بھِی پہنچی تھی مگر اس کے باوجود بھی اس کی روک تھام کیلئے صحیح معنوں میں اقدامات نہیں کئے گئے جو قابل افسوس بات ہے۔

    مقررین نے کہا کہ بارڈر پولیس یعنی چترال لیویز کا کام ان سرحدوں کا حفاظت کرنا ہے مگر ڈپٹی کمشنر اوراسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں ان لیویز کا پورا جلوس موجود ہوتا ہے اور زیادہ تر لیویز ڈی سی ، اے سی اور دیگر افسران کے بنگلوں میں ان کے ذاتی کاموں پر مامور ہیں جوسراسر غلط ہے۔ ان کو اس کام کیلئے سرکاری خزانے سے تنخواہیں نہیں دی جاتی کہ وہ ڈی سی کے بال بچوں یا اس کے گھر کے افراد کی ذاتی طور پر خدمت کرتے رہیں بلکہ ان کا کام ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا چترال میں افسران کے وی وی آئی پی پروٹوکول کو بھی ختم ہونا چاہئے ۔ کئی یورپی ممالک کے صدور اور وزیر اعظم اپنے دفاتر کو سائیکل پر آتے ہیں یا بغیر کسی پروٹوکول کے مگر یہاں تو ایک معمولی سرکاری ملازم کے آگے بھی پروٹوکول کی پوری فوج جاتی ہے جس سے عوام میں مایوسی اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔

    مقررین نے کہا کہ چترال میں دنیا کی واحد اورمخصوص ثقافت کے حامل لوگ کیلاش لوگ رہتے ہیں ان کی مخصوص ثقافت کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں مگر وادی کیلاش سے متصل ایک پوست پر طالبان کے حملے نے نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی لوگوں میں بھِی خوف و ہراس کی فضا پیدا کی ہے۔ اگر صورت حال یہ رہی تو وہاں کوئی ملکی یا غیر ملکی سیاح نہیں آئے گا اور ان لوگوں کی گزربسر سیاحت سے ملنے والی آمدنی پر ہے اگر وہ ختم ہوئی تو کیلاش کے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے۔

    اس موقع پر ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوئی جس کے تحت حکومت سےمطالبہ کیا گیا کہ حالیہ دہشت گرد حملے میں جو ہمارے چار جوان شہید ہوئے ہیں ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر چترال کا دورہ کریں اور یہاں کے عمائدین سے مل کر اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے لوگوں سے مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل طے کریں ۔قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے سرحدی علاقے کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرکے ان کی احساس محرومی کو ختم کیا جائے تاکہ وہ وطن عزیز کے ہمیشہ کی طرح وفادار رہیں۔ قرارداد کے ذریعے اس بات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کی موجودگی میں اس قسم کے واقعات کا ہونا لمحہ فکریہ ہے۔قرارداد کے ذریعے پر زور مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے اندر سیکورٹی اداروں کے اہلکار اپنی فرض منصبی کے علاوہ دیگر امور میں دخل اندازی سے اجتناب کریں۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال بارڈر پولیس کو افسر شاہی کی پروٹوکول کی بجائے ان کو سرحدات پر بھیج کر ا ن کی حفاظت پر مامور کیا جایے۔

    یہ بھِی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے اندر افسران کی نقل و حرکت کے وقت بے جاء پروٹوکول سے اجتناب کریں اس سے لوگوں میں نفرت اور مایوسی پھیل جاتی ہے۔اس بات پر نہایت افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ چترال میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے دوران انتظامیہ کا عوام کے ساتھ رابطہ نہ رکھنا اور ان کو اندھیرے میں رکھنا قابل مذمت ہے۔اس سے عوام اور سرکار میں ایک دراڑ پیدا ہوتی ہے۔اس بات کا فیصلہ ہوا کہ چترال میں امن و امان کی فضا ء کو دوبارہ پیدا کرنے کیلئے دروش، گرم چشمہ، اپر چترال اور دیگر علاقوں میں بھی گرینڈ امن جرگے کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس امن جرگے میں تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگوں نے شر کت کی جو بعد میں مولانا شیر عزیز سابق امیر جماعت اسلامی کی دعاییہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

  • تنگوانی : بدامنی اور کندھ کوٹ کے پرامن دھرنے میں پولیس کے لاٹھی چارج پر عوام کااحتجاج

    تنگوانی : بدامنی اور کندھ کوٹ کے پرامن دھرنے میں پولیس کے لاٹھی چارج پر عوام کااحتجاج

    تنگوانی باغی ٹی وی (نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی میں بدامنی اور کندھ کوٹ کے دھرنے میں پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف شہری اتحاد ، مذہبی ، سماجی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شہر میں شٹر بند ہڑتال کرکے احتجاجی دھرنا دیاگیا

    تنگوانی میں بدامنی اور کندھ کوٹ کے دھرنے میں پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف شہری اتحاد سماجی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کے بعد ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی ، احتجاجی ریلی غلہ منڈی سے ہوتی ہوئی ویگن اسٹینڈ تک پہنچنے پر بڑے احتجاجی مظاہرے تبدیل ہوگئی

    احتجاجی مظاہرہ میں شہری اتحاد کے رہنما حافظ کفایت کھوسہ، جی یو آئی کے رہنما مولانا محمد صلاح ملک ، عوامی تحریک کے رہنما ربنواز ملک اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی .احتجاجی مظاہرہ کے بعد دھرنا دے دیا گیا اس دوران شرکاء نے پولیس کے خلاف سخت نعرے بازی کی

    دھرنے میں رہنماؤں نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کندھ کوٹ کے دھرنے میں پولیس کے لاٹھی چارج کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور بدامنی ختم کر کے امن وامان کو برقرار رکھا جائے-

  • اوچ شریف: پیپلز پارٹی ہی عوام کی نمائندہ جماعت ہے- مخدوم سید علی حسن گیلانی

    اوچ شریف: پیپلز پارٹی ہی عوام کی نمائندہ جماعت ہے- مخدوم سید علی حسن گیلانی

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) پیپلز پارٹی ہی عوام کی نمائندہ جماعت ہے جو مسائل کے بھنور میں پھنسی قوم کی کشتی کو پار لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے ، مخدوم سید علی حسن گیلانی ۔
    تفصیل کے مطابق سابق ایم این اے مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی اور سابق ایم پی اے مخدوم سید افتخار حسن گیلانی کے دیرینہ حمایتی ماچھی گروپ کی سرکردہ شخصیات سردار ملک ایوب ماچھی اور ملک محمد سلیم ماچھی نے انہیں خیرباد کہتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور پیپلز پارٹی بہاولپور کے ڈویژنل جنرل سیکرٹری و سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مخدوم سید علی حسن گیلانی سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی اور آئندہ عام انتخابات میں مخدوم سید علی حسن گیلانی اور مخدوم سید عامر علی شاہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں انہیں اپنی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا

    اس موقع پر مخدوم سید علی حسن گیلانی کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لوگ پیپلز پارٹی کے دور حکومت کو یاد کرتے ہیں جس کے دوران ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا اور عوام خوشحال تھے ان کا کہنا تھا کہ آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہے جن کے امیدوار آئندہ عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کریں گے اور پیپلز پارٹی ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کر کے اسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گی ، اس موقع پر ملک سعید احمد ماچھی ، ملک محمد رفیق نمبردار ، ملک عاشق حسین ، عبد المجید خان ، ملک شفیق ، ملک غلام فرید ، ملک احمد حسین ، ملک امجد حسین ، ملک محمد ناظم کھیارا ، جام اکبر کھاکھی ، ملک غازی احمد و دیگران موجود تھے

  • اوچ شریف : میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ نااہلی ،لوڈر رکشہ کھلے مین ہول میں جاگرا

    اوچ شریف : میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ نااہلی ،لوڈر رکشہ کھلے مین ہول میں جاگرا

    اوچ شریف، باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف شہر کے مختلف علاقوں میں مین ہول اور گٹروں کے ڈھکن غائب ہوگئے، کھلے ہوئے مین ہول شہریوں کیلئے ڈیتھ ہول بن گئے۔

    آج بھی میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ غفلت کے باعث ایک لوڈر رکشہ کھلے مین ہول میں جاگرا، انتظامیہ کی روایتی بے حسی، شہریوں کا کہنا ہے کہ ہماراازلی دشمن اور ہمسایہ ملک بھارت چاند کے اس حصے پر جاپہنچا جہاں دنیا کاکوئی دوسراترقی یافتہ ملک ابھی تک نہیں پہنچ پایا ،شہریوں کاکہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہم سے تو ہمارے مین ہولز کے ڈھکن نہ سنبھالے جا سکے ،یہ کرپشن اور بے حسی کی انتہا ہے کہ کئی بار نشاندہی کے باوجود د گٹروں پر ڈھکن لگانے کا بندوبست نہیں کیاجاسکا ۔

    اسسٹنٹ کمشنر احمد پور اور میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کانتیجہ ہے کہ ایک لوڈررکشہ کھلے مین ہول میں گرگیا اس سے قبل بھی کئی موٹرسائیکل سوار ان کھلے مین ہولز کی وجہ سے حادثات کا شکار ہوچکے ہیں ،شہریوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر ان کھلے مین ہولز کی وجہ سے کوئی حادثہ یا جانی نقصان ہواتو ہم میونسپل کمیٹی اور اسسٹنٹ کمشنر احمدپورشرقیہ و دیگرافسران کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے اوران مقدمات درج کرائے جائیں گے اوراب شہری مزید خاموش رہ کر ظلم برداشت نہیں کریں گے

    مرکزی سڑکوں کے علاوہ اندرونی گلیوں شمیم آباد، اختر کالونی، ناصر ٹائون، محلہ امیر آباد سمیت دیگر کئی علاقوں میںگٹروں کے مین ہول کھلے پڑے ہیں،جن ڈھکن غائب ہیں، جس سے کسی بھی وقت کوئی اورناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے اور اسکول کے بچے ان مین ہولز میں گرسکتے ہیں،اوچ شریف کے مکینوں نے میونسپل کمیٹی اوچ شریف اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ سے مطالبہ کیا ہے کھلے ہوئے گٹروں پر فی الفور ڈھکن لگائے جائیں تاکہ کسی بڑے حادثہ سے شہری محفوظ رہ سکیں۔

  • حکومت پنجاب کا بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    حکومت پنجاب کا بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی (نامہ نگارشہزادخان)حکومت پنجاب نے بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے . کمشنر ڈی جی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے احکامات دے دئیے. اجلاس میں آر پی او کیپٹن ریٹائرڈ سجاد حسن خان ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن کریم بخش ، چاروں ڈپٹی کمشنرزمہر شاہد زمان لک،محمد سلمان لودھی،خالد محمود،ڈاکٹر منصور بلوچ ، ڈی پی او حسن افضل سمیت چاروں ڈی پی اوز ، دیگر افسران اورمیپکو حکام شریک تھے .

    کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز ڈی پی اوز اور میپکو حکام کے ساتھ میٹنگ کر کے آپریشن کو حتمی شکل دیں . بجلی کے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے. انہوں نے کہاکہ کمرشل اور گھریلو بجلی چوروں کے خلاف موثر آپریشن کیا جائیگا،ڈی جی خان اور راجنپور اضلاع میں بجلی چوری کے 662 علاقے اور 200 نو گو ایریاز کا انکشاف ہوا ہے ،

    ڈی جی خان پولیس نے 560 مقدمات درج کرکے 429 بجلی چور گرفتار کئے، ڈی جی خان ڈویژن میں 422 بجلی چوروں کے چالان کئے گئے. کمشنر نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام قومی مقصد ہے ، بجلی چوری کا بوجھ عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے،شہری بجلی چوروں کی اطلاع دیکر قومی مہم میں حکومت کا ساتھ دیں،بجلی چوری کی اطلاع دینے والوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا،

    اجلاس میں بجلی چوری کی سرپرستی کرنے والے سرکاری ملازمین و افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیاگیا . کمشنر نے کہاکہ بجلی چوروں کیخلاف ایف آئی آر کے بروقت اندراج اور پراسیکیوشن کا طریقہ کار بہتر بنایا جائیگا،بجلی چوروں کیخلاف آپریشن میں انتظامیہ اور پولیس مکمل معاونت فراہم کریگی،

    انڈسٹریل یونٹس،زرعی ٹیوب ویل اور دیگر بجلی چوری پر کارروائی کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، کمشنر نے کہاکہ بجلی صارفین کو بھی میپکو حکام ریلیف فراہم کریں، صارفین کو بجلی میٹرز کی بروقت فراہمی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں، آر پی او سجاد حسن خان نے کہا کہ میپکو ٹیم کو سپورٹ کے ساتھ قانونی معاونت فراہم کریں گے، مقدمات کے اندراج کیلئے مکمل کوائف اور ثبوت دئیے جائیں .

  • ڈیرہ غازیخان: تعلیمی بورڈ نےانٹرمیڈیٹ پارٹ 2، دوسرے سالانہ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    ڈیرہ غازیخان: تعلیمی بورڈ نےانٹرمیڈیٹ پارٹ 2، دوسرے سالانہ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی (نیوزرپورٹرشاہدخان) تعلیمی بورڈ ڈیرہ غازیخان نے 20اکتوبر 2023سے شروع ہونے والے انٹر میڈیٹ پارٹ سیکنڈ دوسرے سالانہ امتحان 2023ء کیلئے داخلہ فارم بھجوانے کا شیڈول جاری کر دیاہے .

    کنٹرولر امتحانات مرزامحمد ظہیر اصغر کے مراسلہ کے مطابق سنگل فیس کے ساتھ 14 سے 25ستمبر ، دوگنا فیس کے ساتھ 26سے 29ستمبر جبکہ تین گنا فیس کے ساتھ 30ستمبر سے 3، اکتوبر تک داخلہ فارم جمع کرائے جاسکیں گے .

  • ڈیرہ غازی خان : کمشنرڈیرہ، ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے متحرک ہوگئے

    ڈیرہ غازی خان : کمشنرڈیرہ، ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے متحرک ہوگئے

    ڈیرہ غازیخان ،باغی ٹی وی (نیوز رپورٹرشاہدخان) کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے متحرک ہوگئے ہیں۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر مہر شاہد زمان لک کے ہمراہ کچہری چوک،وقار کینٹین تا گدائی روڈ اور دیگر منصوبوں کا معائنہ کرتے ہوئے کام کی رفتار تیز تر کرنے اور معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے۔

    کمشنرنے کہا وزیر اعلی پنجاب سید محسن نقوی کا وژن ہے کہ روڈز کی بحالی کے منصوبوں کو جلد مکمل کرایا جائے۔آمدو رفت میں بہتری اور عوامی مسائل کا بروقت حل اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن کریم بخش،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز رضوان نذیر،محمد اسد چانڈیہ،اے سی صدر عثمان غنی،ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ وسیم اختر جتوئی،ڈپٹی ڈائریکٹر امیر مسلم،ایس ای شعیب فیاض اور دیگر افسران بھی کمشنر کے ہمراہ تھے۔

  • روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا، بولو نا

    روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا، بولو نا

    سیالکوٹ سے باغی ٹی وی کے سٹی رپورٹرشاہد ریاض کاانتخاب
    نیرہ نور کو بلبل پاکستان کہا جاتا ہے۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے پس پردہ و براہ راست فلمی گانے، غزل، نظم و گیت وغیرہ گانے والی گلوکارہ تھیں۔ انکا شمار جنوبی ایشاء میں غزل گائیکی کے شارحین میں ہوتا تھا۔ ٹی وی اداکار شہریار زیدی ان کے شوہر اور جعفر زیدی ان کے بیٹے ہیں، 21 اگست 2022ء کو وفات پائی


    نیرہ نور 3 نومبر 1950ء کو موجودہ ہندوستان کے آسام میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان پیشہ ورانہ طور پر تاجر تھا، جو امرتسر سے آسام کے شہر گوہاٹی میں آ بسا تھا۔ نیرہ کے والد مسلم لیگ کے ایک فعال رکن تھے اور 1958ء میں یہ خاندان پاکستان کی طرف ہجرت کر آئے۔ نیرہ کہتی ہیں کہ بچپن میں وہ کملا اور کانن دیوی کے مذہبی گیتوں (بھجن)، ٹھمری، غزل اور بیگم اختر (اختری بائی فیض الہ آبادی) سے بہت متاثر تھیں۔ نیرہ کا خاندان نہ تو فن موسیقی سے وابستہ تھا اور نہ ہی نیرہ نے موسیقی کے حوالے سے کوئی رسمی تعلیم حاصل کی۔ تاہم نیرہ کو دریافت کرنے کا سہرا پروفیسر اسرار کے سر ہے جنہوں نے 1968ء میں نیرہ کو اسلامیہ کالج لاہور کے اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے لیے قومی کالج برائے فنون ( National College of Arts) لاہور میں ایک عشائیہ کے بعد گاتے سنا تھا۔

    1971ء میں نیرہ نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سلسلہ وار کھیلوں کے لیے گیت گانے سے اپنے باقاعدہ فن کا آغاز کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے بہت سے نامور شعرا جیسے مرزا غالب، ناصر کاظمی، ابن انشاء اور فیض احمد فیض وغیرہ کا کلام نہائت دلکش انداز سے گایا۔ جب کہ نیرہ نے دیگر مرد گلوکاروں جیسے کہ مہدی حسن، احمد رشدی و عالمگیر وغیرہ کے ساتھ دوگانے بھی گائے۔ نیرہ کل پاکستان محفل موسیقی میں تین سونے کے تمغے جیتیں، ٹی وی اداکار شہریار زیدی سے شادی ہوئی تھی، ان کو بہترین پس پردہ فلمی گلوکارہ کا نگار اعزاز بھی عطا کیا گیا تھا۔ پاک و ہند میں غزل و شاعری کے دلدادہ لوگوں کے لیے نیرہ نے لاتعداد مشاعروں اور موسیقی کی محفلوں میں اپنی آواز سے شعروں کو زندگی بخشی۔ بہزاد لکھنوی ریڈیو پاکستان کے ایک نامور شاعر، مکالمہ نویس، گیت کار اور مصنف ہیں شاید کہ ان کے بہترین گیتوں میں بہزاد لکھنوی کی یہ غزل ایک شاہکار ہے جس کے گانے پر نیرہ نے بے شمار داد تحسین وصول کی ہے۔

    نیرہ ایک ماہر اور موسیقی میں یکتا گلوکارہ تھیں۔ ناصر کاظمی ان کے دلپسند شاعر تھے۔ ذیل میں ان کی آواز میں ریکارڈ کی گئیں چند معروف غزلیں، گیت اور نغمے دئے جا رہیں
    رنگ برسات نے بھرتے کچھ تو (شاعر ناصر کاظمی)
    پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے(شاعر ناصر کاظمی)
    اے عشق ہمیں برباد نہ کر(نظم :شاعر اختر شیرانی)
    وطن کی مٹی گواہ رہنا(ملی نغمہ) نیرہ نور کی آواز میں یہ نغمہ کراچی سے خیبر تک سب سے زیادہ سنا جانے والا ملی نغمہ ہے۔
    روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا، بولو نا
    وطن کی مٹی گواہ رہنا(ملی نغمہ) نیرہ نور کی آواز میں یہ نغمہ کراچی سے خیبر تک سب سے زیادہ سنا جانے والا ملی نغمہ ہے ۔ 21 اگست 2022 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • تھانہ شاہ صدر دین کی حدود پیرعادل پل بصیرہ،ڈکیٹوں کی  پولیس پر فائرنگ ایک کانسٹبل شہید جبکہ ایک زخمی

    تھانہ شاہ صدر دین کی حدود پیرعادل پل بصیرہ،ڈکیٹوں کی پولیس پر فائرنگ ایک کانسٹبل شہید جبکہ ایک زخمی

    شاہصدردین ،باغی ٹی وی (نامہ نگار شاہدعمران کی رپورٹ )تھانہ شاہ صدر دین کی حدود پیرعادل پل بصیرہ،ڈکیٹوں کی پولیس پر فائرنگ ایک کانسٹبل شہید جبکہ ایک زخمی
    ابتدائی اطلاعات کے مطابق SHO شاہ صدر دین عرفان مصطفیٰ ملازمان کے ہمراہ پل بصیرہ کے قریب گشت کناں تھے کہ ایک موٹر سائیکل جس پر تین اشخاص سوار تھے نے پولیس پارٹی کو دیکھ کر اندھا دھند فائرنگ کردی اور فرار ھو گئے۔

    ملزمان کی فائرنگ سے کانسٹبل غلام حسن اور منیر احمد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ٹراما سنٹر ڈیرہ غازیخان منتقل کیا گیا۔اطلاع موصول ہوتے ہی ڈی پی او ڈیرہ غازیخان حسن افضل فورا ٹراما سنٹر پہنچ گئے۔

    بعد ازاں کانسٹیبل غلام حسن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ایس ڈی پی او صدر سرکل پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ڈی پی او حسن افضل نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    دوسری طرف اطلاع ملتے ہی آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان فوری ٹیچنگ ہسپتال ڈی جی خان پہنچ گئے۔ فرض کی راہ میں شہید ہونے والے اہلکار کو خراج تحسین پیش کیا،ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کو واقعہ کی مکمل انکوائری کے احکامات،واقعہ میں ملوث مجرمان کی فوری گرفتاری کا حکم ،ڈی پی او ڈی جی خان کو مجرمان کی گرفتاری کے آپریشن کی خود نگرانی کرنے کا حکم ۔

    شہید کانسٹیبل غلام حسن کی نماز جنازہ پولیس لائنز ڈی جی خان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی،قومی پرچم میں لپٹے شہید کے جسد خاکی کو پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان اور ڈی پی او حسن افضل جملہ سرکل افسران بھی شہید کے نماز جنازہ میں شریک ۔پولیس افسران و اہلکاران، شہید کے ورثاء سمیت شہریوں کی کثیر تعداد میں شرکت ۔آر پی نے شہید کے جسد خاکی پر پھول چڑھائے اور بلندی درجات کے لیے دعا کی ۔

    آر پی او نے شہید کے ورثاء اور بچوں سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا،دکھ کی اس گھڑی میں پنجاب پولیس آپکے ساتھ ہے اور آپکی کفالت کی ذمہ دار ہے

    نماز جنازہ کے بعد شہید کے جسد خاکی کو آبائی گاؤں روانہ کیا گیا جہاں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا ۔شہید کانسٹیبل غلام حسن نے سوگواران میں والدہ، بیوی، دو بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے ہیں ۔

    یاد رہے اسی پل بصیرہ پر کچھ عرصہ پہلے بھی ڈکیٹوں نے سکندر کھوہاوڑ کو شہید کردیا تھا اور 5 افراد اسی سانحہ میں زخمی بھی ہوگئے تھے

  • کندھ کوٹ: پولیس کا ڈاکوؤں سے مبینہ مقابلہ 2 مغوی بازیاب کرا لئے

    کندھ کوٹ: پولیس کا ڈاکوؤں سے مبینہ مقابلہ 2 مغوی بازیاب کرا لئے

    کندھ کوٹ،باغی ٹی وی (نامہ نگار) پولیس کا ڈاکوؤں سے مبینہ مقابلہ 2 مغوی بازیاب کرا لئے
    کندھ کوٹ پولیس نے کچے کے علاقہ گیہل پور میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کر کے دو مغویوں کو بازیاب کرالیا ہے ، دونوں مغویوں کی بازیابی کے بعد مظاہرین نے انڈس ہائی وے پر جاری دھرنا ختم کردیا۔

    ایس ایس پی امجد شیخ کے مطابق کچے کےعلاقہ گیہل پورمیں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ ہوا، مقابلے کے دوران ڈاکو دو مغویوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق دونوں مغویوں کو انڈس ہائی وے پردھرنا دینے والے مظاہرین کے حوالے کیا گیا اور دیگر مغویوں کو جلد بازیاب کرانے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین کی جانب سے دھرنا ختم کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ کندھ کوٹ کے شہریوں نے اپنے پیاروں کی آزادی کے لیے گولا موڑ انڈس ہائی وے پر دھرنا دے دیا، پولیس سے مذاکرات ناکام ہوئے تو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کردیا، جس کے نتیجے میں دس سے زائد مظاہرین زخمی بھی ہوگئے تھے۔