Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ :عبادت گاہوں کی حفاظت اور شر پسند عناصر کی کڑی نگرانی کی جائے گی- ڈی پی او

    سیالکوٹ :عبادت گاہوں کی حفاظت اور شر پسند عناصر کی کڑی نگرانی کی جائے گی- ڈی پی او

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(شاہد ریاض سٹی رپورٹر)عبادت گاہوں کی حفاظت اور شر پسند عناصر کی کڑی نگرانی کی جائے گی، ضلع سیالکوٹ میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے سیالکوٹ پولیس مستعد ہے ، ڈی پی او

    انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ ایس پی ضیاء اللہ کا لاء اینڈ آرڈر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضلع بھر کی عبادت گاہوں کا سیکیورٹی آڈٹ جبکہ مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے تھانہ، سرکل اور ضلع کی سطح پر امن کمیٹی ممبران کے ساتھ خصوصی میٹنگز کا انعقاد کیا گیا.

    ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شر پسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ڈی پی او سیالکوٹ نے ضلع بھر
    میں چرچ ہائے، مساجد، امام بارگاہوں، بیت الذکر اور دیگر عبادت گاہوں کی سیکورٹی کو چیک کیا. اس دوران ڈی پی او نے شرپسندوں کوکسی بھی صورت میں ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی طرح سے بھی معاشرتی امن کے لئے خطرہ بنے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے ہیں اور لاء اینڈ آرڈر کے ساتھ ساتھ کرائم کو بھی کنٹرول کرنا ہے ، شدت پسند عناصر کی کڑی نگرانی کی جائے گی، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔
    مذہبی مقامات اور اقلیتی برادریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے.

  • ننکانہ : پی ایف یو کی کال پر سکھر میں صحافی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پربھرپور احتجاج

    ننکانہ : پی ایف یو کی کال پر سکھر میں صحافی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پربھرپور احتجاج

    ننکانہ صاحب باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز ) پاکستان فیڈرل یونین اف جرنلسٹ کی کال پر ننکانہ صاحب میں صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب کے صدر فیصل سکندر ایڈووکیٹ اور سیکرٹری جنرل رائے رضوان کھرل نے بھی صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ننکانہ صاحب پریس کلب آصف اقبال شیخ نے کہا کہ جان محمد مہر کا قتل آزادی صحافت پر حملہ کے مترادف ہے حکومت پاکستان اور سندھ حکومت جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے انہیں قانون کے مطابق سزا دلوائے ورنہ اس احتجاج کا سلسلہ بڑھا دیا جائے گا

    اس موقع پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس ںنکانہ صاحب یونٹ کے صدر سمیع اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے قائدین صدر پی ایف یو جے افضل بٹ ، سیکرٹری جنرل ارشد انصاری کی کال پر آج پاکستان بھر کے صحافی اپنے صحافی بھائی جان محمد مہر کے قتل کے خلاف کے خلاف سراپا احتجاج ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے

    جنرل سیکرٹری ںنکانہ صاحب پریس کلب عرفان رشید بھٹی نے اپنے خطاب میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی پرزور مذمت کی اور جان محمد مہر کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا

    اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب فیصل سکندر ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی نہیں دی جاتی جو کہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے پاکستان میں صحافیوں کو بہت سے مسائل درپیش ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکھر میں قتل ہونے والے صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے

    سیکرٹری بار رائے رضوان عمر کھرل نے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا احتجاجی مظاہرے میں ضلع بھر کے صحافیوں کے علاوہ وکلاء نے بھی شرکت کی

  • چترال: بونی روڈپر ناقص مٹیریل کا استعمال،سی ڈی ایم کے اراکین کی برہمی

    چترال: بونی روڈپر ناقص مٹیریل کا استعمال،سی ڈی ایم کے اراکین کی برہمی

    چترال(گل حماد فاروقی)چترال سے بونی، شندور کی سڑک کی تعمیر کے کام پر چترال میں رضاکار تنظیم سی ڈی ایم (چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ) کے صدر اور اراکین نے غیر معیاری میٹریل استعمال پر نہایت برہمی کا اظہار کیا۔ گزشتہ روز سی ڈی ایم کے صدر اور اراکین نے اس سڑک کا معائنہ کیا۔ سڑک کے کنارے دریا کی جانب جو حفاظتی دیواریں تعمیر ہورہی ہیں وہ نہایت ناقص ہیں۔ ان دیواروں میں چھوٹے بڑے پتھر رکھ کر اس کے درمیان میں کچرا ڈالا جاتا ہے اور ان کو سیمنٹ کے مسالہ سے چھپاتے ہیں مگر اس میں جو ریت استعمال ہوتی ہے وہ نہایت ناقص اور مٹی ملی ہوئی ہے۔

    دوسرا بڑا مسئلہ یہ دیکھنے کو ملا کہ جو حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے اس پر اصولاً سات دنوں تک دو مرتبہ روزانہ پانی ڈالاجاتا ہے مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہے چونکہ پانی ڈالنے کا پیمائش کے دوران کوئی ناپ تول نہیں ہوتا تو ٹھیکیدار ان دیواروں کو بنا کر اسے ویسے چھوڑدیتے ہیں۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ کاغذات میں اس سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ عمر جان اینڈ کمپنی کو دیا گیا ہے مگر کام کے دوران دیکھا گیا کہ عشریت سے لیکر ارندو تک عام مزدوروں کو مختلف کاموں کا ٹھیکہ دیا گیا ہے جن کا تعمیراتی کام میں کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔

    سی ڈی ایم کے ٹیم نے اس بات پر بھی نہایت برہمی کا اظہار کیا کہ اس تعمیراتی کام کی معیار اور مقدار کو جانچنے کا ذمہ NESPAK کے ریذیڈنٹ انجنیر کا ہے مگر بدقسمتی سے عرفان نامی کنسلٹنٹ ایک مرتبہ بھی اس سڑک پر ہونے والے کام کے معائنہ کیلئے کسی نے بھی نہیں دیکھا اور نہ اس کا کبھی معائنہ کیا اب معلوم ہوا ہے کہ وہ ملازمت سے سبکدوش ہوا ہے مگر اس کی جگہہ کوئی دوسرا کنسلٹنٹ ابھی تک نہیں آیا۔

    اس سڑک کے معائنہ کے دوران ایک عجیب بات دیکھنے کو ملی کہ ٹھیکیدار نے بعض جگہوں میں غیر ضروری طور پر دس میٹر کے فاصلے میں بھی پائپ سڑک میں ڈال کر کلورٹ بنارہے ہیں مگر ان پائپوں کو جب غور سے دیکھا گیا اس میں ایک خامی نظر آئی۔ جہاں سے پانی آتی ہے وہ سرا نیچے ہے اور جہاں سے پانی نکلتا ہے وہ اوپر ہے جب اس میں پانی بھر جائے گا تو وہ لیک ہوکر سڑک پر بہنے لگے گا جس سے تارکولی سڑک تباہ ہوسکتی ہے۔ان پائپوں پر جو سیمنٹ ڈالتا ہے اس میں کوئی سریا یعنی لوہے کی سلاخوں کا استعمال ہی نہیں ہوتا۔ اور جہاں بڑے بڑے کلورٹ کی جگہہ پر پل بناتے ہیں وہاں نہایت چھوٹے سائز کا سریا استعمال ہوا ہے حالانکہ اس میں ڈیڑھ سے ایک انچ تک سریا استعمال ہونا چاہئے تھا تاکہ مال بردار ٹرکوں کی وزن کی وجہ سے یہ پل ٹوٹ نہ جائے۔

    ہمارے نمائندے نے ایک نہایت سینیر انجنیر سے جب ان کی رائے جانی تو انہوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اس کام میں کافی ساری غلطیاں ہیں۔ ایک تو بڑی غلطی یہ ہے کہ لنٹر ڈالنے سے پہلے سریا کے نیچے ڈیڑھ سے دو انچ تک چھوٹے پتھر رکھنے پڑتے ہیں تاکہ جب اس میں مسالہ ڈالا جائے تو وہ کنکریٹ ان سریا کے نیچے بھی جائے دوسرا اس میں بہت سارا فاصلہ چھوڑا گیا ہے اصولی طو رپر ایسے لانٹر میں چھ چھ انچ کے فاصلے پر سریا ڈالا جاتا ہے اور اسے دس دن تک پانی دیا جاتا ہے مگر ٹھیکیدار نے لنٹر ڈال کر اسے لاوارث چھوڑا ہے جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ لانٹر ابھی سے ٹوٹنا شروع ہوا ہے۔

    سی ڈی ایم ٹیم کے سڑک کے دورے کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ بعض جگہوں پر حفاظتی دیواریں ابھی سے خود بخود ٹوٹنا شروع ہوگئی ہیں کیونکہ ٹھیکیدار نے ان پر پانی نہیں ڈالا تھا اور وہ سیمنٹ پانی نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہوکر مٹی بن گیا ہے۔

    اس راستے میں ایک جگہہ پہاڑ سے قدرتی چشمہ نکلتا ہے جہاں اس علاقے کے لوگوں نے پندرہ بیس کیبین لگائے تھے اور اپنے اہل خانہ کیلئے روزی روٹی کما رہے تھے۔ ٹھیکیدار اسی جگہہ آٹھ فٹ اونچی حفاظتی دیوار بناکر اس قدرتی چشمے کی پانی کو بھی ضائع کررہا ہے۔

    کوغذی سے تعلق رکھنے والے چئیرمین شریف حسین کا کہنا ہے کہ ہم نے بارہا این ایچ اے حکام اور ٹھیکیدار سے درخواست کی کہ اس جگہ پرصرف دو ڈھائی فٹ اونچی دیوار بناکر اس چشمے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے جہاں مقامی لوگ کیبین لگا کر اپنے لئے رزق حلال کمائیں گے اور سیاح اور راہ گیر بھی اس قدرتی چشمے سے ٹھنڈا پانی پی کر مستفید ہوں گے مگر انہوں نے ہماری ایک بھی نہیں سنی۔

    اس سڑک پر سی ڈی ایم کے اراکین کے دورے کے دوران ایک بات کا انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے پہاڑ میں دس سے بیس فٹ لمبی چھوٹی سرنگ بناتا ہے جس میں بارود اور یوریا ڈال کر اس میں بلاسٹنگ کرکے اسے دھماکے سے اڑاتا ہے جس کی وجہ سے پورا پہاڑنیچے گرتا ہے اور جو باقی بچتا ہے اس میں بھی کریک یعنی دراڑیں پڑنے سے نہایت خطرناک بنتا ہے۔ چونکہ چترال ریڈ زون میں شامل ہے اور کسی بھی وقت اونچے درجے کا زلزلہ آسکتا ہے یا بارش اور برف باری کی وجہ سے بھی یہی زخمی یعنی کریک والے پہاڑ نیچے گر کر بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

    اس معائنے کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ ٹھیکیدار غیر قانونی طور پر پہاڑ کو گرانے کے بعد لاکھوں ٹن ملبہ اور بڑے بڑے پتھر دریائے چترال میں گراتا ہے جس کی وجہ سے دریا کی سطح بلند ہوکر تباہی کا باعث بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ دریا کا پانی اتنے اونچے سطح پر بہنے لگا کہ اس کے کنارے گھروں اور ہوٹلوں کے کمروں میں بھی پانچ فٹ تک اونچا پانے بہہ کر تباہی کا باعث بنا۔اس دریا میں ملبہ ڈالنے سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دریائے مستوج میں ڈالے گئے یہ بڑے بڑے پتھر آکر سینگور میں رک گئے جہاں دریائے مستوج اور دریائے لٹکوہ ایک سنگم پر ملتے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے یہ بڑے بڑے پتھر آکر دریائے لٹکوہ کے دہانے پر رک گئے اور اس کی وجہ سے پانی کا بہاو بند ہوا۔ یہ پانی جمع ہوتے ہوئے سینگور میں واپڈا کے ایک میگا واٹ بجلی گھر کے اندر داخل ہوا اور پورا بجلی گھر پانی کے اندر ڈوبنے سے تباہ ہوا اس کے علاوہ پانی کی سطح اتنا بلند تھی کہ بجلی گھر سے باہر کے علاقے تک پانی پہنچ کر قریبی مکانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔ 22 جولائی سے لیکر آج تک یہ بجلی گھر بند ہے اور یہاں کے لوگ اس کی بجلی سے بھی محروم ہیں۔

    اس سلسلے میں سی ڈی ایم کے اراکین نے ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر محمد خالد زمان سے بھی ان کے دفتر میں ملاقات کرکے اپنا دکھڑا سنایا۔ جس پر ڈپٹی کمشنر نے بھی نہایت برہمی کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی فریاد کو صوبائی حکومت کے ذریعے این ایچ اے حکام تک پہنچائے گا۔ سی ڈی ایم کے اراکین کا اس سڑک کے معائنہ کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ عمر جان اینڈ کمپنی نے یہ کام ایک ٹھیکیدار کو دیا ہے جس نے اپنا کمیشن لیکر کسی اور ٹھیکیدار کو دیا او ر اس نے اسی طرح تیسرے اور چوتھے ٹھیکیدار کو دیا جس سے کام کا معیار نہایت ناقص ہوا اور جو کام ایک کروڑ میں ہونا تھا وہ اب پچیس ہزار میں ہوگا اور باقی پیسے ٹھیکیداروں کے کمیشن کے نذر ہوگئے۔

    سی ڈی ایم کے اراکین نے تجویز پیش کی کہ نیردیت گول کے قریب جہاں پہاڑ انتہائی خطرناک ہوچکا ہے وہاں اگر سرنگ بنائی جائے تو اس سڑک میں سے گزرنے والی پانی کی پائپ لائن بھی محفوظ ہوجائےگی اور بونی شندور جانے والے مسافر بھی پہاڑسے گرنے والے تودوں کی زد میں آنےسے بچ جائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے جب خیبر پختون خواہ کا چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری چترال کے دورے پر آئے تھے تو لوگوں نے شکایت کی تھی کہ بونی سڑک کی کشادگی کرتے وقت ٹھیکیدار یہ سارا ملبہ غیر قانونی طو رپر دریا میں ڈالتا ہے جس سے پانی کی سطح بلند ہوکر نقصان کا باعث بنا جس پر چیف سیکرٹری نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی اس سلسلے میں انکوائری کی جائے اور انہوں نے یقین دہائی کرائی تھی کہ چونکہ ٹھیکیدار کو اس ملبے کو محفوظ جگہ ڈالنے کیلئے اس کی ادائیگی ہوتی ہے اگر وہ اسے دریا میں پھینکتا ہے تو اس کے خلاف سخت سے سختا قدام اٹھایا جائے گا۔ مگر اگلے روز ٹھیکیدار نے اینٹ کا جواب پتھرسے دینے سے کے مصداق پر راغ میں پورا پہاڑ نیچے دھماکے سے گرایا اور لاکھوں ٹن ملبہ اور پتھر دریا میں گرائے جس کی وجہ سے 7 گھنٹے بونی کا راستہ بھی بند رہا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں اتنے بڑے پتھر گرے تھے جنہیں بلڈوزر ہلا بھی نہیں سکتا اور ان پتھروں کو توڑنے کیلئے اس کے اندر دو مرتبہ پھر سے بلاسٹنگ کی گئی۔

    سی ڈی ایم کے اراکین اور چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر وفاقی حکومت کے اعلے ٰ حکام کے ساتھ ساتھ اعلےٰ عدلیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ بونی شندور سڑک کیلئے جو 21 ارب روپے کا فنڈ منظور ہوا ہے یہ 75 سالوں میں پہلی بار اتنا بڑا منصوبہ چترال میں شروع ہوا ہے اس فنڈ کو چند بد عنوان اہلکاروں اور ٹھیکیدار کے ہاتھوں خرد برد ہونے سے بچایا جائے اور اس سڑک پر کام کی معیار کو چیک کرنے کیلئے کسی ایماندار انجنیر کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس کا م کا معائنہ کرے اور غیر معیاری اور ناقص کام کو روک کر ٹھیکیدار کو پابند کرے کہ وہ معیاری کام کرے تاکہ یہ سڑک بار بار تباہ ہونے اور خراب ہونے سے بچ جائے۔

    نیز اس سڑک پر روزانہ کے بنیاد پر پانی کا چھڑکاؤکیا جائے تاکہ اس پر سفر کرنے ولے اور سڑک کے آس پاس رہنے والے لو گ بھی مٹی اور گرد و غبار کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں۔ عوام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر ہوسکے تو اس کام کا ٹھیکہ کسی اور ایماندار ٹھیکیدار یا اچھی شہرت کے حامل تعمیراتی کمپنی کو دیاجائے تاکہ وہ اس سڑ ک کی تعمیر میں غیر معیاری اور ناقص کام کو روک کر اسے معیاری بنادے اور عوام کو سہولت پہنچ سکے۔

  • چونیاں: کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے درندہ گرفتار

    چونیاں: کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے درندہ گرفتار

    چونیاں،باغی ٹی وی(نامہ نگار) تھانہ صدر چونیاں پولیس کی کارروائی کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے درندہ صفت ملزم کاشف عرف کاشی کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرنے کے بعد تمام تر شہادتوں اور ثبوتوں کے ساتھ چالان کر دیاگیا

    تفصیلات کے مطابق ایس ڈی پی او چونیاں محمد سرور اعوان کی رہنمائی میں ایس ایچ او تھانہ صدر چونیاں عابد محمود چھینہ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی کمسن بچی کی فوری دادرسی کرتے ہوئے فی الفور مقدمہ درج کرکے نہ صرف چند گھنٹے کے اندر اندر درندہ صفت ملزم کاشی کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کیا گیا بلکہ اس سنگین اور حساس مقدمہ کی تفتیش کی تکمیل ماہر تفتیشی افسران TSIحافظہ نفیسہ اور ASI سعید احمد کے ذریعہ کروائی،

    تجربہ کار ٹیم نےسخت محنت کرتے ہوئے ملزم کو عدالت سے کڑی سے کڑی سزا دلوانے کے تمام شہادتیں اکٹھی کی ہیں۔ ایس ایچ اوکا کہنا ہے کہ تفتیش کے عمل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی تاکہ معاشرہ کے ایسے دیگر ناسور عناصر کے لیے عبرت کا سامان پیدا ہو اور ہر شہری کا جان و مال اور عزت محفوظ رہے۔

  • اپر چترال میں موٹرسائیکل سوار دریا میں جاگرا،نعش نہ مل سکی ،ریسکیو اپریشن جاری

    اپر چترال میں موٹرسائیکل سوار دریا میں جاگرا،نعش نہ مل سکی ،ریسکیو اپریشن جاری

    چترال،باغی ٹی وی(نامہ نگارگل حماد فاروقی)اپر چترال سور ریچ سے تعلق رکھنے والے انوارالدین صبح سکول جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوکر موٹرسائیکل سمیت دریا میں جاگرا، ریسکیو1122کو اطلاع ملنے پر ریسکیو1122 تیراک ٹیم اپر چترال دریائے چترال میں مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کر رہے ہیں لیکن تاحال انوار الدین کا کوئی سراغ نہ مل سکا،

    ریسکیو1122 نے سرچ آپریشن کے دوران جائے حادثہ پر دریا سے موٹرسائیکل کو برآمد کر لیا، ابتدائی معلومات کے مطابق انوارالدین چھوٹے بھائی کو لیکر سکول جارہا کہ حادثہ پیش آیا، معجزاتی طور چھوٹا بھائی محفوظ رہا، انوارالدین پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں اور ریسکیو1122 کی ٹیمیں اسے محتلف جگہوں میں جہاں دریا کا پانی ہے وہاں اس کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    خدشہ ہے کہ وہ دریا میں گرنے سے جاں بحق ہوا ہوگیا ہے کیونکہ اتنی دیر پانی میں رہنے سے ابھی اس کا زندہ نکلنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ واضح رہے کہ چترال کے دونوں اضلاع میں سڑکوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہہ ہے اور آئے روز اس پر سفر کرنے والے اس قسم کے حادثات کے شکار ہورہے ہیں اور قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

  • سیالکوٹ:ریسکیورز کی آپریشنل صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا

    سیالکوٹ:ریسکیورز کی آپریشنل صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی(شاہد ریاض سٹی رپورٹر) ریسکیورز کی آپریشنل صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے سینٹرل ریسکیو اسٹیشن پر فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا۔
    تفصیل کے مطابق ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ سید کمال عابد نے ریسکیو سیال کوٹ کا دورہ کیا اور گذشتہ 6 ماہ کا پرفامنس آڈٹ کیا۔ ریجنل ایمرجنسی آفیسر کے ہمراہ آڈٹ ٹیم کے ممبر ٹرانسپورٹ انچارج حامد، اکاؤٹنٹ گوجرانوالہ محمود، اسٹیشن کوآرڈینیٹر محمد رضا، سٹور انچارج رضوان اور وقاص کے علاوہ شفٹ انچارج سلیمی شامل تھے۔

    ریجنل ایمرجنسی آفیسر نے سٹاف کی ظاہری حالت، پریڈ کے علاوہ ریسکیو وہیکلز کے اندر موجودسامان، سٹور کی انوینٹری، اکاؤنٹ آفس، ریسکیو وہیکلز کی مرمت کے معمالات و بلنگ اور کمیونٹی ٹریننگ کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ بعدازاں انہوں نے ریسکیورز کی آپریشنل صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے سینٹرل ریسکیو اسٹیشن پر آگ لگنے کی صورت میں بلڈنگ میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنا اور آگ پر بروقت قابو پانے کی فرضی مشق بھی کروائی، جس میں ریسکیورز کی آپریشنل صلاحیتوں کو پرکھا گیا۔

    اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال اور ریسکیو ڈسٹرکٹ وارڈن جمیل جنجوعہ بھی موجود تھے۔ ریسکیو محافظین نے بھی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے اورCPRکرنے کا عملی نمونہ پیش کیا۔ ریجنل ایمرجنسی آفیسر نے ریسکیورز کی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیورز کو ضرور ہدایات بھی دیں۔ مزید براں انہوں نے کہا کہ اپنے ریکارڈ کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں اور ریسکیورز ہر شفٹ میں آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ان میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مشق لازمی کریں تا کہ کسی بھی ایمرجنسی یا ڈزاسٹر کی صورت میں بروقت امدادی کاروائیوں کا آغاز کر کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔

  • کندھ کوٹ:سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کے بیہمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    کندھ کوٹ:سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کے بیہمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    کندھ کوٹ ،باغی ٹی وی (مختیاراحمداعوان )کندھ کوٹ یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کی جانب سے سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کے بیہمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
    تفصیلات کے مطابق
    کندھ کوٹ میں احتجاجی مظاہرہ پریس کلب کے سامنے کیا گیا،بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر صحافیوں کی زوردار نعرے بازی
    مظاہرے کی قیادت یونین آف جرنلسٹس کے صدر علی حسن ملک،پریس کلب کے صدر مسعود عالم سومرو اور دیگر نے کی

    اس موقع پر صحافی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جان محمد مہر سندھ کے مظلوموں کا آواز تھا جنہیں دہشتگردوں نے رات کے اندھیرے میں شہید کر دیا جان محمد مہر کے بیہمانہ قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ملوث ملزمان اور سہولت کاروں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ صحافی رہنماؤں کا حکومت سندھ و دیگراعلیٰ حکام سے مطالبہ

  • سیالکوٹ:جیٹھانی نے طیش میں آ کر دیورانی کو قتل کر دیا

    سیالکوٹ:جیٹھانی نے طیش میں آ کر دیورانی کو قتل کر دیا

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرشاہدریاض) گھریلو جھگڑے کے باعث جیٹھانی نے اپنی دیورانی کو چھری مارکر قتل کر دیا
    تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقہ میموجوٸیہ میں آج صبح 7بجے موضع تھانہ کوٹلی لوہاراں کے موضع میموجوئیہ گاؤں کی رہائشی آسیہ بابر اور اقراء فصیل جو آپس میں دیورانی جٹھانی تھیں ان کا جھگڑا ہوا

    جھگڑے کے دوران اقراء فصیل نے آسیہ بابر کو چھری کا وار کر کے شدید زخمی کر دیا حالت تشویش ناک ہونے پر مقامی ہسپتال کوٹلی لوہاراں لے جایا گیا،جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئی مقامی پولیس نے موقع پر پر پہنچ کر کارروائی شروع کر دی ہے

  • کندھ کوٹ :ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت،سیمینار کا انعقاد کیا گیا

    کندھ کوٹ :ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت،سیمینار کا انعقاد کیا گیا

    کندھ کوٹ ،باغی ٹی وی (مختیار احمد اعوان)ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت،سیمینار کا انعقاد کیا گیا
    اللہ تعالیٰ نے کئی سو سال قبل قرآنِ پاک میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت بیان فرما دی تھی اور آج طبّی سائنس بھی اس بات کی معترف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت، ورلڈ الائنس فار بریسٹ فیڈنگ ایکشن اور یونیسیف کے اشتراک سے ہر سال دُنیا بَھر میں اگست کا پہلا ہفتہ”بریسٹ فیڈنگ اوئیرنیس”کے طور پر منایا جاتا ہے

    اس سلسلے میں نجی فلاحی ادارے مرف (MERF)، ضلعی انتظامیہ، ضلع کونسل، محکمہ صحت کی جانب سے ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت چیئرمین گل محمد جکھرانی وائس چیئرمین الطاف خان کوسو ڈی ايچ او بابو لال نے کی۔

    اجلاس میں ڈسٹرکٹ نیوٹریشن، پی پی ایچ آئی، آغا خان الشفاء محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام مینیجر میرف (MERF) صادق امین، آئی وائی سی ایف (IYCF) کوآرڈينٹر صبا عروج , ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی مرغوب بھٹی،علی محمد قبرانی، ایاز ملک اور دیگر کا کہنا تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے فائدہ مند ہے۔ہمارا مقصد ہر ماں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ماں کا دودھ پینے والا بچہ صحت مند رہتا ہے اور ماں کا دودھ پینے سے بچہ تمام بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

    ماں کا دودھ بچے کے لیے اللہ کی رحمت ہے، بعض مائیں بچے کو دودھ پلانے سے روکتی ہیں جو کہ ایک غلط عمل ہے، ہر ماں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچے کو دو سال تک دودھ پلائے، جس سے بچہ کسی بھی بیماری سے بچ سکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے ماں کے دودھ کی اہمیت اور فوائد کے بارے میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے سیشن کورٹ روڈ تک ایک آگاہی ریلی بھی نکالی۔کشمور ضلع بھر کےمختلف گاؤں اور تحصیلوں میں بھی آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا ہے

  • گوجرخان: تھانہ جاتلی کے علاقہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک،دوسرا گرفتار

    گوجرخان: تھانہ جاتلی کے علاقہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک،دوسرا گرفتار

    گوجرخان باغی ٹی وی( نامہ نگار شیخ ساجد قیوم ) بدھ کی شام جاتلی کے علاقہ میانہ پھمبل میں موٹر سائیکل سوار ڈاکؤوں کی پولیس پارٹی پر فائرنگ،فائرنگ کے دوران ایک ڈاکو ہلاک، ایک گرفتار، تیسرا فرارہونے میں کامیاب ہوگیا،

    ہلاک ڈاکو کی شناخت شریف جبکہ گرفتار ڈاکو کی شناخت مدثر کے نام سے ہوئی،ڈاکؤوں کے زیر استعمال موٹر سائیکل اور اسلحہ برآمد

    پولیس نے موٹر سائیکل پر سوار تین افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی ،واقعہ کی اطلاع پر ایس پی صدر محمد نبیل کھوکھر پولیس نفری کے ہمراہ فوری موقع پر پہنچ گئے

    ملزمان کے فرار ساتھی نے فرار ہوتے ہوئے ایک شہری سے موٹر سائیکل چھینا جس کی تلاش کے لئے آپریشن جاری

    ڈاکؤوں کی فائرنگ کے باوجود بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکو کی گرفتاری پر سی پی او سید خالد ہمدانی کی ایس پی صدر محمد نبیل کھوکھر، ایس ڈی پی او گوجرخان، ایس ایچ او جاتلی اور ٹیم کو شاباش

    شہریوں کے جان و مال پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے