Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گو جرہ:دوگروپوں میں پانی کا تنازعہ ، فائرنگ ایک نوجوان قتل دو زخمی

    گو جرہ:دوگروپوں میں پانی کا تنازعہ ، فائرنگ ایک نوجوان قتل دو زخمی

    گو جرہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار عبدالرحمن جٹ)گو جرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 358ج ب میں دو گروپوں کے درمیان پانی کے تنازع پر فائرنگ سے ایک نوجوان قتل دو زخمی معلوم ہوا ہے کہ چک نمبر 358ج ب میں 1، شہباز ولد لیاقت قوم جٹ 2۔سجاد ولد لیاقت قوم جٹ 3۔ عابد مسیح ولد یوسف مسیح ساکنان چکنبر 358 ج ب گوجرہ میں شہباز وغیرہ اپنی فصلوں کو پانی لگا رہے تھے کہ اسی دوران وقار ولد محمد اکرم قوم جٹ سکنہ چکنمبر 358 ج ب گوجرہ مسلح گن کلاشن کوف دو کس نامعلوم مسلح وہاں پر آگئے اور آتے ہی فائرنگ شروع کردی

    جسکے نتیجہ میں شہباز کے پیٹ میں فائر لگے اور سجاد کی بائیں ٹانگ پر فائر لگا جب کہ عابد مسیح کی دائیں ٹانگ پر فائر لگا جو کہ زخمی ہوگئے جنکو THQ ہسپتال گوجرہ منتقل کیاگیا، جہاں پہنچ کر شہباز جاں بحق ہو گیا الزام علیہان موقع سے فرار ہوگئے ،مقامی پولیس اطلاع پا کر مصروف کارروائی ہے ابتدائی اطلاع کے مطابق وجہ عناد پانی کا تنازع بیان کی جاتی ہے-

  • میر پورساکرو: بنک کے قریب  ٹرانسفارمردھماکے سے پھٹ گیا،اے ٹی ایم مشین ،اے سی اور گاڑی کو آگ لگ گئی

    میر پورساکرو: بنک کے قریب ٹرانسفارمردھماکے سے پھٹ گیا،اے ٹی ایم مشین ،اے سی اور گاڑی کو آگ لگ گئی

    میر پورساکرو،باغی ٹی وی (نامہ نگارقادرنوازکلوئی ) بنک کے قریب ٹرانسفارمردھماکے سے پھٹ گیا،اے ٹی ایم کا دروازہ ،اے سی اور گاڑی کو آگ لگ گئی
    تفصیل کے مطابق ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل میرپور ساکروکے قریب نجی بنک ساتھ لگا ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹ گیا اور آگ بڑھک اٹھی،
    آگ نے قریبی بنک کی اے ٹی ایم مشین کے دروازہ ،ائرکنڈیشند اور گاڑی کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا،

    فائر برگیڈ کا عملہ نہ ہونے کی وجہ سے دو سے ڈھائی گھنٹے مکمل طور پرآگ جلتی رہی ،مقامی لوگوں نے اپنی مددآپ کے تحت آگ پر قابو پایا،واپڈا کیملازمین فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے ،اس ٹرانسفارمر کے پھٹنے اور آگ کے باعث لائٹ مکمل طور پر بند کروا دی گئی

  • اوکاڑہ: یونیورسٹی میں ‘ٹیچنگ میتھڈ’ کتاب کی تقریب رونمائی

    اوکاڑہ: یونیورسٹی میں ‘ٹیچنگ میتھڈ’ کتاب کی تقریب رونمائی

    اوکاڑہ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر ) یونیورسٹی میں ‘ٹیچنگ میتھڈ’ کتاب کی تقریب رونمائی
    تقریب ڈاکٹر خالد سلیم کی زیر صدارت منعقد ہوئی، پروفیسر اطہر خان کی بطور مہمان خصوصی شرکت اوکاڑہ یونیورسٹی کے اساتذہ کی دیگر جامعات کے اساتذہ کے ساتھ اشتراک سے مرتب کی جانے والی کتاب ‘ٹیچنگ میتھڈ’ کی تقریب رونمائی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس کی صدارت شعبہ ٹیچر ایجوکیشن کے سربراہ ڈاکٹر خالد سلیم نے کی جب کی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پروفیسر ڈاکٹر اطہر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    اوکاڑہ یونیورسٹی میں ہونے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی تقریب تھی۔ یہ کتاب اکاڑہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر شہزاد احمد ، ڈاکٹر طاہر خان فاروقی، ایجوکیشن یونیورسٹی فیصل آباد سے ڈاکٹر آصف اقبال، ہمدرد یونیورسٹی کراچی سے ڈاکٹر شیر محمد عوان اور ہائیل یونیورسٹی سعودی عرب سے پروفیسر انوار مہجبین نے مل کر مرتب کی ہے جب کی ادارت کے فرائض علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد سمیع اللہ نے سر انجام دیے۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد نے کتاب کے مصنفین کی کاوشوں کو سراہا اور کتاب کو بارش کے پہلے قطرے سے تشبیہ دی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کتاب میں محض لفاظی کی بجائے حقائق پہ زیادہ زور دیا گیا ہے۔

    پروفیسر اطہر نے کہا کہ ہم جو لفظ بولتے یا لکھتے ہیں وہ ہماری ذمہ داری بن جاتا ہے اور اس ذمہ داری کو نبھانا بہت مشکل اور قابل ستائش فعل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب ابھی تک دنیا کی سو لائبریریوں کی زینت بن چکی ہے۔

    ڈاکٹر شہزاد کا کہنا تھا کہ تدریس کے درست اور جدید طرائق کار کو جاننا اور سیکھنا ہر شعبے کے طلباء کے لیے ضروری ہے اور پیشہ وارانہ اساتذہ کو بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے ۔ڈاکٹر فارقی نے بتایا کہ یہ کتاب ان تمام پہلووں کا احاطہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے جس میں عموما اساتذہ کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ ڈاکٹر سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ درس و تدریس سے منسلک ہر شخص کو یہ کتاب لازمی پڑنی چاہیے۔ تقریب کے اختتام پہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء میں کتاب کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

  • گوجرہ :لین دین کا تنازعہ،فا ئرنگ سے ایک نوجوان  قتل

    گوجرہ :لین دین کا تنازعہ،فا ئرنگ سے ایک نوجوان قتل

    گوجرہ ، باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) لین دین کے تنازعہ پر فا ئرنگ کرکے ایک نوجوا ن کو قتل کردیاگیا۔ تھانہ صدرگوجرہ میں درج کرائی گئی ایف آئی کے مطابق چک نمبر 96 ج ب کے عمیر اور محمد جنید کے درمیا ن دو لا کھ کی رقم کے لین دینا کا تنازعہ تھا جو جنید نے عمیر وغیرہ سے ادھار لے رکھے تھے کہ عمیر اپنے ایک سا تھی زبیر کے ہمراہ مو ٹر سا ئیکل پر گاؤ ں آ رہا تھا کہ گاؤ ں کے قریب گوجرہ روڈ پر انہیں محمد جنید اور بلا ل نے روک لیا اور تلخ کلا می کرتے ہوئے جنید نے فائرنگ کرکے عمیر کو شدید زخمی کردیا اور موقع سے فرار ہو گئے

    شدید زخمی کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گوجرہ پہنچایا گیا جہاں سے تشویشناک حالت کے پیش نظر الا ئیڈ ہسپتا ل فیصل آ باد ریفر کردیا گیا جہا ں وہ شدید زخموں کی تاب نہ لا تے ہو ئے دم توڑ گیا صدر پو لیس گوجرہ نے نعش تحویل میں لے کر ضروری کا رروائی کے بعد ورثا کے حوا لے کردی گئی ہے ملزمان محمد جنید اور محمد بلا ل پر قتل جبکہ عبدالستار اور زوہیب پر ایما کی دفعات کے تحت عمیر کے والد عبدالقیوم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزما ن کی تلا ش شروع کردی ہے پولیس ذرائع کے مطا بق ملزم جنید کو شبہ تھا کہ اسکی قریبی عزیزہ کے سا تھ عمیر کے ناجائز مراسم ہیں جسکی وجہ سے اس پر فائرنگ کی گئی ہے۔ تاہم پولیس قتل کے مختلف پہلوؤں پر مصروف تفتیش ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: حکومت پنجاب لیوانکیشمنٹ کاظالمانہ نوٹیفکیشن فوری واپس لے- چوہدری مسعود احمد

    ڈیرہ غازیخان: حکومت پنجاب لیوانکیشمنٹ کاظالمانہ نوٹیفکیشن فوری واپس لے- چوہدری مسعود احمد

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی ) ایپکا کی طرف سے احتجاج کا چوتھا دن،پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی ایپکا کا احتجاج جاری،تمام دفاتر میں تالا بندی،ایپکا مرکزی آفس میں دھرنا اور احتجاجی ریلی نکالی گئی،مطالبات کی منظوری تک روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان،
    تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی صوبائی قیادت سے اظہار یکجہتی کیلئے مطالبات کی منظوری تک تمام دفاتر میں تالہ بندی کرتے ہوئے ایپکا مرکزی آفس میں دھرنا ،آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایسشن کے مرکزی عہدیدار چوہدری مسعود احمد نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نگران حکومت اس ظالمانہ اقدام کا نوٹیفیکیشن لینے تک احتجاجی دھرنا اور تالہ بندی جاری رہے گی ،

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ججز نے از خود سپریم کورٹ کے ججزسیمت تمام ملازمین کی تنخواہیں تین گنا بڑھا لیں ،وفاقی اور صوبائی حکومت نے سپریم کے اس اقدام پر کوئی نوٹس نہ لیاکیونکہ وہاں ان کے پرجلتے ہیں،نگران حکومت نے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق سپریم کورٹ کاتوکچھ نہیں بگارسکتی ،لیکن ساراغصہ ایک متنازعہ قانون بناکر غریب ملازمین پر مہنگائی کے دور میں ایٹم بم گرانکالا گیاا،

    قانون سازی کرنا نگران حکومت کاکام نہیں ہے ،چوہدری مصعوداحمد نے پنجاب کی نگران حکومت خبردارکرتے ہوئے کہا کہ جاری کردہ ظالمانہ نوٹیفیکیشن فوری واپس لے ورنہ تمام دفاترکی تالہ بندی کرکے سخت احتجاج کیا جائے گا،اس احتجاج سے چوہدری مسعوداحمدکے علاوہ چوہدری منظور حسین،افتخار عباسی، منیر حسین لغاری و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے تمام ملازمین کی تنخواہیں وفاق و دیگر صوبوں کی طرز پر 35 فیصد اور پینشن 17.1/2 کے حساب سے بڑھائی جائیں لیو ان کیشمنٹ کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے بیوہ کی تاحیات پینشن بحال کی جائے ، ملازمین کی پینشن میں کسی قسم کی قدغن نہ لگائی جائے اور ملازمین کی سالانہ انکریمنٹ بھی فوری بحال کی جائے ، شرکاء نے مطالبات کی منظوری تک تمام دفاتر میں روزانہ کی بنیاد پر تالہ بندی، دھرنے اور مکمل ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیاہے

  • تونسہ : دولت مند خاوند نے غریب باپ کی بیٹی کاحمل ضائع کراکر ظلاق دے دی۔ متاثرہ والد کیساتھ پریس کلب پہنچ گئی

    تونسہ : دولت مند خاوند نے غریب باپ کی بیٹی کاحمل ضائع کراکر ظلاق دے دی۔ متاثرہ والد کیساتھ پریس کلب پہنچ گئی

    تونسہ شریف، باغی ٹی وی ( نامہ نگار عمران لنڈ ) دولت مند خاوند نے غریب باپ کی بیٹی کاحمل ضائع کراکر ظلاق دے دی۔ متاثرہ والد کیساتھ پریس کلب پہنچ گئی
    تفصیل کے مطابق تحسین بی بی دختر غلام حسین قیصرانی جوکہ بیٹ موچی والا بستی منجوٹھہ کی رہائشی ہے اس کے والدین نے اس کی شادی ٹبی قیصرانی کے ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان وقاص ولد اشرف قیصرانی سے کی، وقاص نے اپنی زوجہ تحسین بی بی کو تقریباً چھ سات ماہ اپنے گھر میں رکھا اور اس پر تشدد کرتا رہا ،

    لڑکی کے والدین چونکہ غریب اور کمزور تھے اس لئے وہ یہ ظلم برداشت کرتی رہی اسی دوران وہ حاملہ ہو گئی، تحسین بی بی کے خاوند وقاص نے اسے طلاق دینے کی ٹھان لی جب اس نے دیکھا کہ یہ تو حاملہ ہے کل کو اگر اس کا بچہ پیدا ہو گیا تو وہ میری جائیداد کا وارث ہوگا، وقاص نے اپنا بچہ ضائع کرانے کےلئے تحسین بی بی کو کسی بہانے ملتان لے گیا اور کسی پرائیویٹ ہسپتال میں لے جاکر اسے نشے کے انجیکشن لگوا کر اس کا اسقاط حمل کروایا

    کچھ عرصہ اسے گھر میں رکھنے کے بعد تحسین بی بی کو گھر سے نکال دیا اور اسے طلاق بھجوا دی، آج دونوں مظلوم باپ بیٹی روتے ہوئے پریس کلب تونسہ شریف میں آئے اور ظلم کی یہ داستان سنائی اور کہا کہ ہمیں انصاف دلایا جائے،ٹی ایچ کیو تونسہ شریف ہسپتال جاکر تحسین بی بی نے میڈیکل رپورٹ بنوائی جس میں واضح طور پر لکھا ہوا تھا کہ تحسین بی بی کا حمل ضائع کیا گیا ہے ،متاثرہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف دینے کی اپیل کی ہے.

  • ننکانہ :حکومت پنجاب کا ملازمین سے نارواسلوک،پیرا میڈیکس بھی سراپا احتجاج

    ننکانہ :حکومت پنجاب کا ملازمین سے نارواسلوک،پیرا میڈیکس بھی سراپا احتجاج

    ننکانہ صاحب باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پیرا میڈیکس اینڈ پنجاب ہیلتھ سپورٹ اسٹاف نے ریلی نکالی اور حکومت پنجاب کے ملازمین کیساتھ ظالمانہ رویے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔پیرا میڈیکس اینڈ پنجاب ہیلتھ سپورٹ سٹاف نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

    احتجاج کے باعث او پی ڈی بند ہونے سے مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے،ملازمین نے دفاتر کو بھی تالے لگا دیے،مظاہرین نے ایل پی آر اور پنشن قوانین میں پنجاب حکومت کی طرف سے ملازمین دشمن ترامیم فی الفور منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ملازمین نے پنجاب کے بجٹ میں وفاق کی طرز پر %35 تنخواہ رننگ بیسک پر بڑھانے اور پینشن 17 فیصد بڑھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

    ملازمین نے لیو انکیشمنٹ قانون میں ترمیم کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا اگر ہمارے جائز مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا جائے گا

  • نواب شاہ : قاضی احمد میں مرکزی امام بارگاہ سےنکلنے والے ماتمی جلوس کے روٹ کا معائنہ کیا گیا

    نواب شاہ : قاضی احمد میں مرکزی امام بارگاہ سےنکلنے والے ماتمی جلوس کے روٹ کا معائنہ کیا گیا

    نواب شاہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار عنائت اللہ) تحصیل قاضی احمد میں مرکزی امام بارگاہ سے شیعہ رہنما سردار جام فیروز انڑ کے نگرانی میں نکلنے وا لے ماتمی جلوس کے مقرر روٹ کا پولیس انتظامیہ نے شیعہ علماء سمیت دیگر آفیسران کی جانب سے معائنہ کیا گیا

    تفصیل کے مطابق محرم الحرام کے حوالے سے شیعہ رہنما سردار جام فیروز انڑ کے نگرانی میں نکلنے والے ماتمی جلوس کے حفاظت کے لیے ایس ایس پی شہید بینظیر آباد کی ہدایت پر ڈی ایس پی عبداللہ لاکیر، ایس ایچ او عبد الطیف تھیم سمیت دیگر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران نے جلوس کے گزر گاہ کا دورہ کیا ،جس میں شیعہ علماء کی جانب سے سیکیورٹی، صفائی ستھرائی کے لیے انتظامیہ کو کہاگیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹی کے افسران اور واپڈا افسران کو ہدایت کی اور یقین دہانی کراتے ہوئے سیکورٹی فورسز تعینات کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔

  • دُکھی ڈاکٹروں کی خدمت

    دُکھی ڈاکٹروں کی خدمت

    دُکھی ڈاکٹروں کی خدمت
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    میرے لڑکپن کے دور میں ذرائع ابلاغ ریڈیو،اخبارات اورٹی وی جوکہ صرف پی ٹی وی ہی تھاپرمشتمل تھا،اس وقت ٹی وی صرف امیرگھرانوں میں ہوتا تھا،عام عوام کیلئے صرف ریڈیو ہی واحد ذریعہ تھا جس سے خبریں ،حالات حاضرہ پر تبصرے اور انٹرٹینمنٹ کے پروگرام نشر ہوتے تھے ،ہمارے گھر میں بھی اس وقت ریڈیو ہوا کرتا تھا جوکہ میرے والدمحترم کے پاس ہوتا تھاجسے ہاتھ لگانے کی ہمیں اجازت نہیں تھی ،ریڈیو پاکستان ملتان سے روزانہ نشرہونے والا پروگرام جو شمشیرحیدریاشمی اور ملک عزیزالرحمٰن کی میزبانی میں نشرہوتا تھااس پروگرام کانام تھا’جمہور دی آواز’ لیکن وہ پروگرام ملک مہر کے نام سے زیادہ مشہور تھا جسے چھوٹے بڑے بہت شوق سے سنتے تھے ،جب یہ پروگرام سردیوں کی شام تقریباََ 7بجے آن ائیرہوتا تو گھرمیں ایک پنڈال سج جاتا تھاچھوٹے بڑے اس پروگرام کوبڑے انہماک سے سنتے تھے ،اس پروگرام میں ڈرامہ چاچاڈیرے دار، قصے اور ملک ، مہرکی شاندار کمپیئرنگ اپنی مثال آپ تھی ۔

    خبروں ،حالات حاضرہ کے دیگرپروگرامز کیلئے سب سے معتبرذریعہ بی بی سی اردو ہی سمجھاجاتا تھا،اس وقت بی بی سی اردو میں رضارعلی عابدی،ثریا شہاب ،مدثرہ منظر،شفیع نقی جامعی ودیگرکی آوازیں ہواکی لہروں کے ذریعے ریڈیو پر سنائی دیتی تھی،بی بی سی اردو پر خبریں ،حالات حاضرہ کاپروگرام سیربین ،کھیل کے میدان سے شفیع نقی جامعی کا شاندارپروگرام قابل ذکر ہیں ،بی بی سی اردو اپنے سامعین کیلئے ایک تفریحی پروگرام سویرے سویرے بھی نشرکرتا تھا،جس میں مداری اور جمہورے کاکھیل پیش کیا جاتاتھا،اس کے پروگرام میں مداری جمہورے بچے سے پوچھتا ہے کہ کچھ دنوں سے تم غائب تھے ،کہاں گئے تھے ؟ تو جمہورابچہ اس کاجواب دیتا ہے کہ میں پڑھنے کیلئے سکول گیا تھا،اس کے جواب پر مداری پھر پوچھتا ہے کہ تم پڑھ لکھ کر کیا بنوگے ؟ تو جمہورابچہ اسے جواب دیتا ہے کہ میں پڑھ لکھ کر ایک مریض بنوں گا،مداری پھر سوال کرتا ہے کہ تم انجینئر،ڈاکٹر،فوجی یا بیورکریٹ کی بجائے مریض کیوں بنوگے؟اس پر جمہورابچہ جواب دیتا ہے کہ میں مریض اس لئے بنوں گا تاکہ "دکھی ڈاکٹروں” کی خدمت کرسکوں۔

    اُس وقت اُس جمہورے کی بات سمجھ سے بالاتر تھی لیکن وہ بات آج تک ذہن میں نقش ہوگئی ،آج اگر وطن عزیزمیں ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں کودیکھنے کے بعد سمجھ آئی کہ اس وقت جمہورے نے یہ کیوں کہا تھا کہ میں پڑھ لکھ کرایک مریض بنوں گا اور تاکہ دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کرسکوں ۔ پہلی بات تویہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کوئی ڈاکٹرڈیوٹی کرتا ہی نہیں ہے اگر کوئی ڈاکٹربھولے سے ہسپتال میں آجائے، مریض دیکھنے کی بجائے اسے مشورہ دیاجاتا ہے تم فلاں ہسپتال میں چلے جاؤ وہاں پرسرکاری ہسپتال کی نسبت علاج کی زیادہ بہتر سہولتیں ہیں، جب مریض بتائے گئے ہسپتال پہنچتا ہے تو سب سے پہلے اس سے بھاری بھر رقم فیس کے نام پر بٹوری جاتی ہے ،پھر لیبارٹری ٹیسٹ ،مریض اپنی مرضی سے کسی لیب سے ٹیسٹ نہیں کراسکتا چاہے اس لیب کامعیار انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کا ہی کیوں نہ ہواس کی رپورٹ ریجیکٹ کردی جاتی ہے اور کہاجاتا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہے آپ فلاں لیب سے ہی ٹیسٹ کراکر آؤکیونکہ وہ لیب ڈاکٹرکو بھاری کمیشن دے رہی ہوتی ہے اس لیب کارزلٹ چاہے جوبھی ہواس کی رپورٹ ڈاکٹرکوقبول ہوتی ہے اور ڈاکٹرزایسے ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں جن کامریض کی بیماری سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا،ایکسرے ،الٹراساؤنڈ،سی ٹی سکین بھی ڈیل کئے ہوئے سنٹرسے کرائے جاتے ہیں، جہاں سے باوثوق ذرائع کے مطابق ڈاکٹرکو50فیصد سے بھی زیادہ کمیشن ملتا ہے ،تقریباََ ہرپرائیویٹ ہسپتال میں اٹیچ فارمیسی ہوتی ہے جہاں پر کٹ ریٹ اور ناقص و دونمبرادویات مریضوں کودی جاتی ہیں یہ ایسی ادویات ہوتی ہیں جو باہر کے کسی بھی میڈیکل سٹورپر دستیاب نہیں ہوتیں۔ہمارے ڈاکٹرکمپنیوں کی سپانسرپر غیرممالک کے سیرسپاٹے کرتے ہیںاورفارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ڈاکٹرزبھاری کمیشن لیتے ہیں جس سے ہمارے ڈاکٹرزمسیحاکی بجائے کمیشن ایجنٹس بن چکے ہیں،انہیں صرف اپنے کمیشن سے غرض ہوتی ہے ،مریض کی بیماری سے کوئی لینادینا نہیں ہوتا،مریض ان دونمبرادویات اور غلط رپورٹوں کی وجہ سے مرتا ہے تومرجائے یا زندگی بھر کیلئے معذور ہوجائے۔

    شہروں میں قدم قدم پر قائم پرائیوٹ ہسپتال اور میٹرنٹی ہومزمیں جب ایک حاملہ خاتون نارمل چیک اپ کرانے کیلئے آتی ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ آپ کابچہ کمزور ہے اور الٹا ہے ،آپ کے بچے کی نارمل ڈلیوری نہیں ہوسکے گی ،بچہ پیداکرنے کیلئے آپریشن ہی ہوگا، ان کلینکس میں عام طور پر ایک سیزیرین سیکشن پر ایک لاکھ سے ایک ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کئے جاتے ہیں،حالانکہ سی سیکشن اس وقت ضروری ہوجاتا ہے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہولیکن یہاں تو ہردوسری تیسری نوجوان ماں کا پیٹ کاٹ دیا جاتا ہے ،یہ نہیں سوچاجاتا کہ اس نوجوان ماں کو آگے چل کر کن مسائل کاسامنا کرنا پڑے گا،جب پیٹ کاٹ دیا جاتا ہے تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے زخم جلدی نہیں بھرتا، کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بار آپریشن ہی کرنا پڑے گا جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن کے عمل میں بچے اور ماں کی صحت کو تین گنا زیادہ رسک ہوتا ہے۔ماں کے ان مسائل سے ڈاکٹرزکو کوئی سروکارنہیں ہے انہیں تو بس دولت سے دلچسپی ہوتی ہے، انسانیت کی خدمت اب صرف کتابوں کے محاوروں میں استعمال ہونے کیلئے رہ گیا ہے۔

    پاکستان میں ڈاکٹروں کی فیس ،ضرورت کے بغیرسی سیکشن کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور ڈاکٹروں کی علاج کے نام پر کرپشن کی روک تھام کیلئے کوئی قانون ہے ہی نہیں ،امیرلوگ اور حکمران طبقہ تواپنا علاج کرانے کیلئے مغربی ممالک کوترجیح دیتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑرہا ہے کہ آج سے 35 ،40سال قبل جمہورے بچے کی کہی بات اس طرح سچ ثابت ہوچکی ہے کہ آج ہرپاکستانی پڑھ لکھ بھی علاج کے نام پر دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کرنے میں مصروف ہے اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا،اور کب تک عوام علاج کے نام پر لٹتی ،کٹتی اور مرتی رہے گی ؟

  • میرپورخاص:تحفظ وحرمت قرآن ہمارا ایمان ہے-کیپٹن ریٹائرڈاسد چوہدری

    میرپورخاص:تحفظ وحرمت قرآن ہمارا ایمان ہے-کیپٹن ریٹائرڈاسد چوہدری

    میرپورخاص( نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ)چیئرمین حاجی محمد علی کی ایس ایس پی میر پور خاص کیپٹن ریٹائرڈ اسد چوہدری سے ان کے آفس میں دنیا کے سب سے بڑے قرآن پاک ترجمے کے ساتھ کی ایک روزہ زیارت کرائے جانے کےسلسلے میں سیکیورٹی کے حوالے سے بات چیت کی۔
    ایس ایس پی کیپٹن ریٹائر اسد چوہدری نے اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلایا ،

    واضح رہے کہ 18 جولائی بروز منگل صبح 10 بجے دنیا کے سب سے بڑے قران پاک بمعہ ترجمہ اتحاد بین المسلمین کے صدر اور یوسی 8 کے چیئرمین حاجی محمدعلی کی جانب سے ایک روزہ زیارت انکی رہائشگاہ پر کروائی جائے گی-