Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ : کوٹلی لوہاراں میں واپڈا کے چار ملازمین کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    سیالکوٹ : کوٹلی لوہاراں میں واپڈا کے چار ملازمین کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) سیالکوٹ کے نواحی علاقے کوٹلی لوہاراں میں واپڈا کے چار ملازمین مین لائن پر کام کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ شیرپور کے قریب چک کریم کے پاس اس وقت پیش آیا جب لائن کی مرمت کے دوران بجلی اچانک بحال ہو گئی۔

    جاں بحق ہونے والوں میں محمد اکرم (لائن مین)، کلیم اللہ (اسسٹنٹ لائن مین)، عرفان باجوہ (لائن مین) اور محمد راحیل (اسسٹنٹ) شامل ہیں جو سب کوٹلی لوہاراں سب ڈویژن سے تعلق رکھتے تھے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں تاہم چاروں ملازمین موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    پولیس اور واپڈا حکام نے جائے حادثہ پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ بجلی کی سپلائی کی غلط ٹائمنگ اور کوآرڈینیشن کی کمی کے باعث پیش آیا۔ مقامی عوام اور یونین نمائندوں نے افسوسناک حادثے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا حکام سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گھوٹکی:سرکاری ایس اوز پیز نظرانداز،سکول پرنسپل نے بچوں کو گیٹ سے نکال دیا، والدین کا احتجاج

    گھوٹکی:سرکاری ایس اوز پیز نظرانداز،سکول پرنسپل نے بچوں کو گیٹ سے نکال دیا، والدین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار، مشتاق علی لغاری) انگلش پیپلز سکول (نزدِ وابڈا آفس، جی ٹی روڈ، رحمن والی پارک، گھوٹکی) جو موون فاؤنڈیشن اور سیف سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام چل رہا ہے، میں پرنسپل ایاز گل میمن کی SOP کی پاسداری کے نام پر تاخیر کرنے والے بچوں کو اسکول کے گیٹ کے باہر نکال دینے کے واقعے نے والدین میں تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    والدین کے مطابق آج پرنسپل نے بغیر والدین کو آگاہ کیے متعدد بچوں کو اسکول گیٹ سے باہر نکال دیا، جن میں تیسری کلاس کی ایک چھوٹی بچی، چھٹی کلاس کا ایک لڑکا اور آٹھویں کلاس کے دیگر بچے شامل ہیں۔ والدین نے بتایا کہ بچوں کو واپس بھیجنے کے وقت اسکول کے باہر رکشہ والا موجود نہیں تھا جو بچوں کو لے کر گیا تھا، جس کی وجہ سے بچے خطرناک سڑکیں اور ریلوے ٹریک کراسنگ کرکے گھر گئے۔ راستے میں بھٹکتا کتا یا کسی شرپسند کے حملے کا خدشہ نمایاں ہے۔

    والدین نے سوال اٹھایا کہ اگر سکول انتظامیہ والدین کو مطلع کیے بغیر بچوں کو باہر نکال دے تو کسی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ سکول کے روزگار قوانین یا SOP میں بچوں کی حفاظت اور والدین کو پیشگی اطلاع کے ضوابط شامل ہونے چاہئیں۔

    مقامی والدین نے پرنسپل ایاز گل میمن، اسکول مینجمنٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کڑی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، تا کہ بچوں کی حفاظت کو مقدم رکھا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ بچوں کو گیٹ کے باہر نہ چھوڑا جائے اور تاخیر کی صورت میں والدین کو فوری طور پر مطلع کرنے کا ضابطہ وضع کیا جائے۔

    اس واقعہ سے متعلق سکول پرنسپل کا مؤقف جاننےکیلئے رابطہ کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ سکا،اور سکول انتظامیہ واضح جواب نہ دے سکی.

  • گوجرہ: دوشیزہ نے زہر کھالیا، تین وارداتوں میں موٹر سائیکلیں و زیورات چوری

    گوجرہ: دوشیزہ نے زہر کھالیا، تین وارداتوں میں موٹر سائیکلیں و زیورات چوری

    گوجرہ (سٹی رپورٹر/محمد اجمل) گوجرہ میں گھریلو جھگڑے اور بڑھتی جرائم پیشہ وارداتوں نے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ چک نمبر 278 ج ب کی رہائشی صوبیہ نے گھریلو تنازع پر دلبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھالیں، جس کے نتیجے میں اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اہل خانہ نے فوری طور پر اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب گوجرہ میں چوری کی تین مختلف وارداتوں نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ حسنیہ کالونی کے خالد محمود کی موٹر سائیکل نامعلوم چور چرا کر لے گئے، جبکہ چک نمبر 354 ج ب کے اعجاز احمد کی موٹر سائیکل بھی نجی ہسپتال کے باہر سے چرا لی گئی۔ اسی دوران چک نمبر 367 ج ب میں نامعلوم چور فرزانہ کوثر کے گھر میں داخل ہوئے اور ہزاروں روپے نقدی، طلائی زیورات اور قیمتی پارچات لے اڑے۔

    وارداتوں کی اطلاع تھانہ سٹی اور صدر پولیس کو دے دی گئی ہے، تاہم تاحال مقدمات کے اندراج کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی چوریوں پر فوری قابو پایا جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

  • اوچ شریف: ٹھیکیدار کا فراڈ، میٹل روڈ منصوبہ تین برس سے تعطل کا شکار،عوام خوار

    اوچ شریف: ٹھیکیدار کا فراڈ، میٹل روڈ منصوبہ تین برس سے تعطل کا شکار،عوام خوار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی گاؤں موضع چک مانک کے رہائشی تین برس سے بدعنوانی اور انتظامی غفلت کا شکار ہیں۔ مقامی مکینوں کے مطابق ٹھیکیدار نے میٹل روڈ کی تعمیر کے نام پر فنڈز ہڑپ کر لیے اور پہلے سے موجود سولنگ اکھاڑ کر اینٹیں فروخت کر دیں، جس کے بعد منصوبہ مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گیا۔

    اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ٹوٹ پھوٹ، کیچڑ اور گردوغبار نے گاؤں کو اذیت کدہ بنا دیا ہے۔ بارش میں راستے دلدل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جبکہ خشک موسم میں اڑتی دھول سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

    اہم تعلیمی ادارے، جن میں دو سرکاری سکول اور دینی مدرسہ "حیدر کرار” شامل ہیں، براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں اور طلبہ و طالبات کی حاضری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ روزمرہ آمدورفت میں شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ مریضوں کو اسپتال پہنچانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

    نمبر دار ملک حسنین سمیت عمائدین اور رہائشیوں نے الزام لگایا کہ یہ تین سالہ تعطل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے اور عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری نوٹس لینے، کرپٹ ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کرنے اور بیچی گئی اینٹوں سمیت مکمل حساب کتاب لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گوجرہ: کتے کو بچاتے ہوئے موٹر سائیکل حادثہ، ایک جاں بحق، دوسرا زخمی

    گوجرہ: کتے کو بچاتے ہوئے موٹر سائیکل حادثہ، ایک جاں بحق، دوسرا زخمی

    گوجرہ (سٹی رپورٹر/محمد اجمل) چک نمبر 367 ج ب کا 45 سالہ طارق محمود موٹر سائیکل پر اپنے دوست عثمان کے ہمراہ شہر سے گاؤں واپس جا رہا تھا کہ راستے میں اچانک سامنے آنے والے کتے کو بچاتے ہوئے موٹر سائیکل بے قابو ہو کر ٹکرا گیا۔

    حادثے میں طارق محمود موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ عثمان شدید زخمی ہو کر ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں طبی امداد جاری ہے۔

    اطلاع ملنے پر تھانہ سٹی پولیس نے موقع پر پہنچ کر نعش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی۔ گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔

  • اوکاڑہ: روٹی کی اوورچارجنگ پر ہوٹل مالک کو 10 ہزار روپے جرمانہ

    اوکاڑہ: روٹی کی اوورچارجنگ پر ہوٹل مالک کو 10 ہزار روپے جرمانہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان کی ہدایت پر روٹی کی مقررہ نرخوں پر فروخت یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا عمل جاری ہے۔ سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے شہر کے مختلف مقامات پر تندوروں اور ہوٹلوں کا معائنہ کیا۔

    چیکنگ کے دوران حکومتی ہدایات کے برخلاف مہنگے داموں روٹی فروخت کرنے والے ایک ہوٹل مالک کو 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    اس موقع پر سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے کہا کہ حکومت پنجاب کے احکامات کے مطابق کنٹرول ریٹس پر آٹے کی فراہمی جاری ہے، اس لیے روٹی کی اوور چارجنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہنگے داموں روٹی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان: کوہ سلیمان کی گود سے صدیوں پرانے سکے اور نوادرات برآمد

    ڈیرہ غازی خان: کوہ سلیمان کی گود سے صدیوں پرانے سکے اور نوادرات برآمد

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی/شاہد خان) مون سون کی بارشیں ہمیشہ کوہ سلیمان کے مکینوں کے لیے آزمائش بن کر اترتی ہیں۔ اس سال بھی دریائے سندھ، ستلج، راوی اور چناب کی طغیانی نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ کھیت اجڑ گئے، مکانات تباہ ہوئے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لیکن انہی پانیوں نے ایک نئی تاریخ بھی آشکار کر دی۔

    سخی سرور کی رود کوہی نے پہاڑوں کے دامن سے ایسے سکے اور نوادرات اُگل دیئے جو دو ہزار سال پرانے بتائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ خزانہ تہذیبوں کے سنگم کی گواہی دیتا ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خطہ کبھی قدیم تجارتی قافلوں کی آماجگاہ رہا ہے۔

    ابتدائی اندازوں کے مطابق مقامی افراد کے ہاتھ لگنے والے 400 سے 500 سکے مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں مغل بادشاہ شاہجہان اور اورنگزیب کے سکے، تغلق اور لودھی سلطنت کے سکے، سکھ عہد اور رنجیت سنگھ کی نشانیاں، درانی سلطنت کے سکے، کشن سلطنت کے حکمران ویما دیوا کنشکا کے سکے، نادر شاہ، بہادر شاہ ظفر اور محمد شاہ رنگیلا کے سکے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا، عرب دنیا، چین اور برطانوی دور کے سکے بھی ملے ہیں۔ یہ تنوع واضح کرتا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑ زمانہ قدیم میں تجارتی شاہراہوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد، پولیٹیکل اسسٹنٹ امیر تیمور اور محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان تنویر نے سخی سرور میں کوہ سلیمان کے دامن کا دورہ کیا اور برآمد ہونے والے نوادرات کا معائنہ کیا۔ مقامی افراد نے رضاکارانہ طور پر سکے انتظامیہ کے حوالے کیے، جس پر ان کے کردار کو سراہتے ہوئے تعریفی اسناد اور انعامات دینے کا اعلان کیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری کی ہدایت پر محکمہ آثار قدیمہ کی خصوصی ٹیم یہاں لائی گئی ہے۔ ان کے مطابق کوہ سلیمان کی یہ دریافت نہ صرف ہماری تاریخ کو اجاگر کرتی ہے بلکہ مستقبل میں سیاحت اور تحقیق کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ آثار قدیمہ سلمان تنویر نے کہا کہ یہ علاقہ قدیم تجارتی قافلوں کی گزرگاہ رہا ہے اور مزید تحقیق و کھدائی سے مزید نوادرات سامنے آنے کا امکان ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ اس مقام کو ریسرچ سینٹر اور سیاحتی مرکز بنانے کے لیے سفارشات تیار کر رہا ہے۔

    سخی سرور کی نگری کو حضرت سلطان المعروف سخی سرور رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے شہرت حاصل ہے۔ آپ نے اس خطے میں دین اسلام کی ترویج کی اور صدیوں بعد بھی آپ کا مزار عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ عقیدت مند روایت کرتے ہیں کہ جب رود کوہی سیلابی کیفیت میں آپ کے مزار کے عقب سے گزرتی ہے تو یہ پانی "سلام عقیدت” پیش کرتا ہوا دریائے سندھ کی طرف بڑھتا ہے۔ یہی روحانی وابستگی آج بھی اس خطے کی پہچان ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کوہ سلیمان قدیم شاہراہِ ریشم سے جڑا ہوا خطہ ہے، جہاں سے گزرنے والے قافلے وسطی ایشیا، خراسان اور عرب دنیا سے روابط قائم کرتے تھے۔ اس دریافت نے اس تاریخی تسلسل کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری سیاحت احسان بھٹہ، ڈی جی آثار قدیمہ پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں نے یقین دلایا ہے کہ ملکی و بین الاقوامی ماہرین کے ذریعے مزید کھدائی اور تحقیق کی جائے گی تاکہ نہ صرف ان اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے بلکہ خطے کی ترقی اور سیاحت کے فروغ کے لیے بھی انقلابی اقدامات کیے جا سکیں۔

  • گوجرہ: ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو بلند مقام، مگر ہم اپنی روایت سے غافل. محمد رمضان

    گوجرہ: ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو بلند مقام، مگر ہم اپنی روایت سے غافل. محمد رمضان

    گوجرہ (سٹی رپورٹر/محمد اجمل) ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد، سائنسدانوں اور اساتذہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ پنجاب ٹیچر یونین کے رہنما محمد رمضان کے مطابق وہاں اساتذہ کو معاشرے کا معزز ترین رکن مانا جاتا ہے، مگر افسوس کہ ہم اپنی روایت اور اقدار سے غافل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ فرانس کی عدالتوں میں اساتذہ کے علاوہ کسی اور کو نہ کرسی پیش کی جاتی ہے اور نہ پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ جاپان میں اگر کسی استاد کو گرفتار کرنا پڑ جائے تو پولیس کو عدالت سے اجازت لینا لازمی ہے۔ اسی طرح کوریا میں استاد اپنے سروس کارڈ کی بنیاد پر وہ تمام سہولتیں حاصل کر لیتا ہے جو وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو میسر ہیں۔

    محمد رمضان نے مزید کہا کہ یہ تو ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہیں، لیکن اگر ہم چودہ سو سال پیچھے جائیں تو حضرت علیؓ کا قول واضح ملتا ہے کہ "جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ مجھے مدینہ کی کسی بھی منڈی میں فروخت کر سکتا ہے”۔ اس کے ساتھ ہی نبی آخرالزماں ﷺ کا ارشاد ہے کہ "میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں”۔ یہی قول معلمانہ پیشے کو پیغمبری پیشے سے منسوب کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بچہ اپنی پہلی درسگاہ ماں کی گود سے حاصل کرتا ہے، لیکن ماحول، تہذیب، اقدار، مذہب سے اپنائیت، حب الوطنی، سماجی میل جول، غورو فکر کی عادت اور برے بھلے کی پہچان جیسی تمام خوبیاں ایک استاد ہی اپنے شاگرد میں پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جس کی بنیاد پر استاد کو معاشرے کی تعمیر اور قوم کی رہنمائی میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔

  • ننکانہ صاحب: کلینک آن وہیلز منصوبہ، ڈرائیورز کا استحصال،تنخواہ صرف25 ہزار ، گزارا ناممکن، وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ

    ننکانہ صاحب: کلینک آن وہیلز منصوبہ، ڈرائیورز کا استحصال،تنخواہ صرف25 ہزار ، گزارا ناممکن، وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار، احسان اللہ ایاز) پنجاب حکومت کے فلاحی منصوبے کلینک آن وہیلز میں ڈرائیورز اجرت کے سنگین مسئلے سے دوچار ہیں۔ ضلع بھر میں تعینات 12 ڈرائیورز کو صرف 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، حالانکہ حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر ہے۔

    ضلعی ذرائع کے مطابق ان میں سے 6 ڈرائیور ننکانہ صاحب، 3 شاہ کوٹ اور 3 سانگلہ ہل میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ ڈرائیورز نے میڈیا سے گفتگو میں شکوہ کیا کہ مہنگائی کے دور میں 25 ہزار روپے پر گزارا ناممکن ہے اور سرکاری فلاحی منصوبے میں اتنی بڑی ناانصافی سمجھ سے بالاتر ہے۔

    ڈرائیورز نے کہا کہ اگر حکومت خود اپنے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہیں کرتی تو دیگر اداروں سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟ ان کے مطابق کم از کم اجرت کے برخلاف تنخواہیں دینا نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ کھلا استحصال ہے۔

    انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نادیہ ثاقب سے فوری نوٹس لینے اور سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنخواہیں دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گھوٹکی: آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو اضافہ، عوام سڑکوں پر آگئے

    گھوٹکی: آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو اضافہ، عوام سڑکوں پر آگئے

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار باغی ٹی وی مشتاق علی لغاری) گھوٹکی ضلع کے تمام تعلقوں میں آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو کے ظالمانہ اضافے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ خانپور مہر، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی، اوباڑو، سرحد، گھوٹکی، جروار، یارو لنڈ اور داد لغاری میں شہریوں نے فلور ملوں کے سامنے مظاہرے کیے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے آٹے کی قیمت 60 روپے فی کلو تھی، لیکن اب یہ بڑھ کر 120 سے 125 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے غریب اور مزدور طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

    شہریوں نے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی قلت اور ناجائز منافع خوری نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایکشن لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔