Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • حکومت پنجاب کی جانب سے علی پور میں سیلاب زدگان کی مدد کا خصوصی آپریشن جاری

    حکومت پنجاب کی جانب سے علی پور میں سیلاب زدگان کی مدد کا خصوصی آپریشن جاری

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر مظفرگڑھ اور علی پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز زور و شور سے جاری ہیں۔

    کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری، آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان، ڈپٹی کمشنر عثمان طاہر جپہ اور ڈی پی او سید غضنفر علی شاہ کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، ریسکیو 1122 اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں۔

    سیلاب زدہ علاقوں سیت پور، لتی، کندائی، سلطان پور، خیر پور اور ان کے گرد و نواح کے دیہاتوں میں پانی میں گھرے ہوئے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سیلاب بند پر موجود خاندانوں کو روزانہ کی بنیاد پر خوراک اور راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ریلیف کیمپوں میں متاثرہ خاندانوں کو رہائش، کھانا اور ادویات جیسی ضروری سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پولیس نے متاثرہ علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے جو نہ صرف گشت کر رہی ہے بلکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی یقینی بنا رہی ہے۔ ڈی پی او مظفرگڑھ اور ڈپٹی کمشنر خود سیلابی پانی میں اتر کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔

    پنجند ہیڈ ورکس کے دورے کے دوران کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا اور ریسکیو آپریشن کی رفتار بڑھانے کے لیے اضافی کشتیاں اور وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ "حکومت کی پوری مشینری عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔”

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ پنجاب حکومت کا یہ منظم امدادی آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اس قدرتی آفت کے مقابلے میں پوری قوت سے موجود ہے اور متاثرین کی بحالی تک یہ عمل جاری رہے گا۔

  • گوجرانوالہ:سوہدرہ فلڈ ریلیف کیمپ میں 200 سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم

    گوجرانوالہ:سوہدرہ فلڈ ریلیف کیمپ میں 200 سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)سیلاب متاثرین کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ سوشل ویلفیئر کے ریلیف اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ سوہدرہ پہنچے اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول میں قائم ریلیف کیمپ میں 200 متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کیا۔ اس موقع پر سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر ضلعی انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے عوامی خدمت کا شاندار جذبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی شبانہ روز کاوشیں متاثرین کے لیے سہارا ہیں۔ جانوروں اور فصلوں کے نقصان کا ازالہ بھی حکومت کرے گی جبکہ گندم کی قیمتوں پر فوری قابو پا لیا گیا ہے۔

    سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، 100 سے زائد این جی اوز کے تعاون کی قدر کرتے ہیں۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔

    تقریب میں اے سی سی جی فیصل سلطان، اے سی وزیرآباد، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ارشاد وحید، ڈپٹی ڈائریکٹر سمیرا اقبال اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    "حالیہ سیلاب نے شہر اقبال کو مفلوج کر دیا، گندے پانی اور تعفن سے شہری پریشان ہیں۔ اربوں کا ٹھیکہ لینے والی نااہل کمپنی صفائی میں ناکام رہی، شہریوں نے فوری معاہدہ منسوخ کرنے اور کرپٹ عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔”

    تحریر: مدثر رتو، ڈسٹرکٹ رپورٹر، باغی ٹی وی، سیالکوٹ

    حالیہ طوفانی بارشوں اور مکار دشمن بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی ریلے نے شہر اقبال کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سارا شہر اور گردونواح کے علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے، مال مویشی پانی میں بہہ گئے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر تیار فصلیں تباہ ہو گئیں۔ سینکڑوں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں اور نکاسیِ آب کے باوجود کئی روز تک اندرونِ شہر اور نشیبی علاقوں میں چار سے پانچ فٹ پانی کھڑا رہا۔

    واسا کا عملہ بھی دن رات سیلابی پانی نکالنے کے لیے مصروف رہا، مگر ہر طرف تعفن پھیلا ہوا تھا۔ نکاسیِ آب میں تاخیر اور تعفن کا ذمہ دار ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ناآزمودہ اور نااہل عملہ ہے، کیونکہ بدقسمتی سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا اربوں روپے کا ٹھیکہ ایک انتہائی ناآزمودہ، نااہل اور مالی طور پر غیر مستحکم کمپنی کو دیا گیا تھا . جس کا اس سے قبل نہ تو کوئی تجربہ تھا اور نہ مبینہ طور پر کوئی مناسب مشینری۔ ہمارے ذرائع کے مطابق یہ جو کمپنی کے ظاہر کئے جانے والے مالکان ہیں وہ محض مہرے ہیں اور اصل مالک مبینہ طور پر پردہ نشیں ہیں۔

    اس ناآزمودہ اور نااہل کمپنی کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے سیالکوٹ، تحصیل سمبڑیال، ڈسکہ سمیت شکرگڑھ اور نارووال کا نہ صرف ٹھیکہ دیا گیا بلکہ دس فیصد ٹھیکے کی رقم، جو کہ کروڑوں روپے بنتی ہے، بطور ایڈوانس بھی ادا کی گئی۔ جب سے یہ کمپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہے شہر گندگی کے ڈھیر میں بدل گیا ہے اور ورلڈ بینک کی جانب سے دی گئی کروڑوں روپے مالیت کی مشینری کا بھی بیڑہ غرق ہو چکا ہے، مگر انہیں کسی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔ ان کے کچرا اٹھانے کا نہ تو کوئی ٹائم فریم ہے اور نہ ہی کوئی مناسب ڈمپنگ پوائنٹس ہیں۔

    پل ایک نیکا پورہ کے قریب، سکول نمبر 2 کے پاس، وزن کے لیے لگنے والے کانٹے کے سامنے سارا دن گندگی سے بھری ہوئی ٹرالیاں اور ڈمپرز کی لمبی قطاریں کھڑی رہتی ہیں جو ہر طرف تعفن پھیلا دیتی ہیں اور ٹریفک کا بلاک رہنا معمول بن چکا ہے۔ اسی جگہ سے بچے انتہائی تعفن سے گزر کر سکول جاتے ہیں اور کانٹے کے بالکل سامنے قبرستان ہے جہاں اکثر جنازوں کا گزرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

    یہ ناآزمودہ ٹھیکیدار گلی محلوں سے اٹھایا گیا کوڑا کچرا واپس انہی نالوں میں پھینک دیتے ہیں اور اسی وجہ سے سیلابی پانی کی نکاسی میں مشکلات پیش آئیں، کیونکہ کوڑے سے بھرے ہوئے شاپرز سیوریج کے پائپوں میں بلاکیج کا باعث بنے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق سیلاب سے قبل ناقص کارکردگی کے باعث اس نااہل کمپنی پر مبینہ طور پر بھاری جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹھیکہ دینے سے قبل کن کن قومی اخبارات میں ٹینڈرز کے اشتہارات دیے گئے تھے اور ٹینڈرز کے وقت کتنی نامور کمپنیوں نے حصہ لیا تھا؟ اس ناآزمودہ کمپنی کو کس بنیاد پر اربوں روپے کا ٹھیکہ دیا گیا جس نے شہر اقبال کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا ہے؟ حالانکہ اس کمپنی سے پہلے سیالکوٹ اندرونِ شہر اور گردونواح میں صفائی ستھرائی کی مثال تھی۔

    شہریوں نے اربابِ اختیار سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اس ناآزمودہ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کر کے کسی تجربہ کار کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے، اور ساتھ ساتھ جن کرپٹ ٹھیکیداروں نے اربوں روپے کی لاگت سے سڑکیں بنوائیں انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اُن سرکاری افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جن کے دستخطوں سے مبینہ طور پر بھاری بل پاس ہوئے تھے؛ ان قومی مجرموں کی جائیدادیں ضبط کر کے نیلام کی جائیں اور رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے، اور انہیں سخت ترین سزائیں دلوانی جائیں۔

  • عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد

    عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد

    عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    ڈیرہ غازی خان کی پہچان صرف جغرافیہ یا روایت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ خطہ اب پاکستان بھر کی اعلیٰ شخصیات کی فکری بیٹھکوں کا مرکز بن چکا ہے۔ آج بھی اس روایت کو قائم رکھتے ہوئے کامرس کالج کے قریب واقع "عام آدمی کیفے” میں ہونے والی حالیہ نشست اس بات کا بین ثبوت ہے، جہاں ملک کی قدآور اور تاریخ ساز شخصیات نے اپنی گفتگو سے نئے فکری دروازے کھول دیے۔

    اس نشست میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نامور مرکزی رہنما اور مسلسل 40 سالوں سے ایوانوں میں عوامی آواز بلند کرنے والے صاحبزادہ رحیم آصف مجددی شریک ہوئے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف سیاست بلکہ علم، تاریخ اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے اور آپ کی بے گراں خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ اسی محفل میں علم و دانش کے سمندر، سابق وائس چانسلر اور پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر امین الدین، فکر و تحقیق کی علامت پروفیسر سردار نسیم خان چانڈیہ، اور سینئر جرنلسٹ و کالم نگار جواد اکبر بھٹی بھی موجود تھے۔

    گفتگو کا مرکزی نکتہ ڈیرہ غازی خان اور اردگرد کے علاقوں میں کینسر اور گردوں کے امراض کے بڑھتے ہوئے مسائل تھے۔ متفقہ طور پر یہ آواز بلند کی گئی کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس خطے میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک کینسر اور کڈنی ہسپتال قائم کیا جائے۔ اس تحریک کو ہر فورم پر اٹھانے اور خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حکومت وقت پر یہ مطالبہ بھرپور انداز میں سامنے آئے۔

    مزید برآں کشمور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ڈبل روڈ کی اشد ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ منصوبہ نہ صرف تجارت، سیاحت اور عوامی سہولت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا بلکہ پورے خطے کی ترقی کے نئے باب کھول دے گا۔

    صاحبزادہ رحیم آصف مجددی کی خدمات تو بے پناہ ہیں جن میں ایک کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ حقیقت نمایاں ہوئی کہ ڈیرہ غازی خان کا گرلز کالج ماڈل ٹاؤن انہی کی محنت اور انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان کی عوامی خدمت اور تعلیمی وژن کی روشن مثال ہے جسے ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔

    نشست میں اس بات پر بھی سخت مذمت کی گئی کہ تعلیم اور صحت کو ایک صنعت (انڈسٹری) میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیم اور صحت کو کاروبار بنانا دراصل عوامی حق تلفی ہے اور اس سوچ کو ہر سطح پر چیلنج کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

    اسی طرح بارڈر ملٹری پولیس میں حالیہ بھرتیوں کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ خصوصاً میرٹ پر ہونے والی بھرتیاں اور خواتین کی شمولیت ایک مثبت قدم ہیں جو قبائلی سماج میں نئے امکانات پیدا کرے گا۔

    گفتگو کا سب سے اہم پہلو عوامی بیداری پر زور دینا تھا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند نہیں کریں گے، مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ یہی شعور دراصل ڈیرہ غازی خان اور پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

    یہ نشست محض ایک فکری محفل نہیں تھی بلکہ ایک نئی تحریک کا آغاز تھا، ایک تحریک جو صحت، تعلیم، ترقی اور عوامی بیداری کے راستے روشن کرے گی۔

    📌 "ریاست کی اصل بقا صرف مضبوط ایوانوں یا بڑی شاہراہوں میں نہیں بلکہ ایسے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عوامی بیداری میں ہے جو ہر شہری کو باعزت زندگی جینے کا حق دے سکیں۔”

  • ڈیرہ غازی خان: مہنگائی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: مہنگائی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر نذر حسین کورائی نے شہر کی مختلف مارکیٹوں میں اچانک چھاپے مار کر پرائس کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی پر 5 دکانداروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں تین قصاب، ایک نان بائی اور ایک سبزی فروش شامل ہیں۔

    کارروائی کے دوران مہنگے داموں بڑا گوشت فروخت کرنے پر تین قصابوں، کم وزن نان فروخت کرنے پر ایک نان بائی اور خود ساختہ نرخ مقرر کرنے پر ایک سبزی فروش کو حراست میں لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے واضح کیا ہے کہ ضلع بھر میں پرائس کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ من مانی قیمتیں وصول کرنے والے کسی صورت قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے اور کسی کو بھی خود ساختہ مہنگائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • اوکاڑہ:حکومت پنجاب مسیحی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی، رمیش سنگھ اروڑہ

    اوکاڑہ:حکومت پنجاب مسیحی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی، رمیش سنگھ اروڑہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ کے جناح اسٹیڈیم میں مسیحی برادری کی جانب سے ایک پروقار دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ اور ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری غلام رضا ربیرہ نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی۔

    تقریب میں پنجاب بھر سے مسیحی برادری کے سینکڑوں افراد اور بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں نے حصہ لیا۔ اس موقع پر پاسٹر شاہد، سردار پاسٹر طارق، پاسٹر سجاد انور، پاسٹر رفیق بٹ، ڈاکٹر پطرس آصف اور سلمان گل بھی موجود تھے۔ پاسٹر سجاد انور اور پاسٹر طارق نے مسیحی برادری کے لیے اجتماعی دعا کروائی، جس پر شرکاء نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

    صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی ترقی میں مسیحی برادری کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اکثریت اور اقلیت میں کوئی فرق نہیں رکھتیں۔ انہوں نے منیارٹی کارڈز کی تقسیم کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے 75 ہزار خاندانوں کو ہر تین ماہ بعد 10 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آخر میں، رمیش سنگھ اروڑہ نے تقریب میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور مسیحی برادری پر زور دیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

  • اوکاڑہ: آٹے اور روٹی کی کنٹرول ریٹ پر فراہمی کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

    اوکاڑہ: آٹے اور روٹی کی کنٹرول ریٹ پر فراہمی کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں آٹے اور روٹی کی کنٹرول ریٹ پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علیزہ ریحان، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے آٹے کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے ڈیلرز اور دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ انہوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو مقررہ نرخوں پر آٹا اور روٹی کی فروخت یقینی بنانے کے لیے فیلڈ میں موجود رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے اور 20 کلو کا تھیلا 1810 روپے میں فروخت کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے گی۔ آٹے کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے ڈیلرز اور دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور جرمانہ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں گرفتار کروایا جائے گا۔ انہوں نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ آٹے کے نرخوں کی فہرست نمایاں جگہوں پر آویزاں کی جائے اور مقرر کردہ ریٹ اور وزن کے مطابق فروخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • نارنگ منڈی: ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    نارنگ منڈی: ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    نارنگ منڈی (نامہ نگارمحمدوقاص) نارنگ منڈی اور اس کے گرد و نواح میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں ڈاکوؤں نے شہریوں سے لاکھوں روپے نقد، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا، جبکہ چوری کی وارداتوں میں مویشی، زرعی آلات اور قیمتی سامان بھی چوری ہوا ہے۔ پولیس نے مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    تاحال کی تفصیلات کے مطابق، اسامہ اور مبین موٹر سائیکل پر سوار ہو کر نارنگ آ رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے انہیں گن پوائنٹ پر روک کر ان سے 2 لاکھ روپے نقد، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔ ایک اور واردات میں، رفیق آباد کے رہائشی رضوان اور تابش کو بھی ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ان سے موبائل فون اور ہزاروں روپے نقد چھین کر فرار ہو گئے۔

    اسی طرح، چوری کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نواحی گاؤں کیرانوالی کے رہائشی اکرام کی 5 لاکھ روپے مالیت کی نسلی بھینس چوری ہو گئی۔ کجلہ گاؤں سے زمیندار رب نواز کے دو ٹریکٹر، چین ٹائر اور دیگر زرعی آلات بھی چور لے اڑے۔ تھلی والا کے رہائشی سجاد کا موبائل فون اور موٹر سائیکل کے سپیئر پارٹس بھی چوری ہو گئے۔ اس کے علاوہ، میرووال کے رہائشی مزمل کے کھیتوں سے لاکھوں روپے مالیت کا پیٹر انجن اور دیگر زرعی سامان بھی چوری کر لیا گیا۔

    ان واقعات کے بعد علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی افراد نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان وارداتوں کو روکنے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ تھانہ نارنگ پولیس نے تمام واقعات کے مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • سیالکوٹ:15 ستمبر سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی.ڈپٹی کمشنر

    سیالکوٹ:15 ستمبر سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی.ڈپٹی کمشنر

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ سرکاری سکولوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا اور بحالی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری، سی ای او ایجوکیشن مجاہد علوی، اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے مقامی حکام سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی عمارتوں، فرنیچر اور تعلیمی سامان کا تخمینہ فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ بحالی کا عمل جلد شروع ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کی حفاظت کے پیش نظر ضلع کے 26 سکول عارضی طور پر بند کیے گئے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ تمام ضروری اقدامات کے بعد 15 ستمبر 2025 سے سیالکوٹ کے تمام سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کر دی جائیں گی۔ انہوں نے محکمہ تعلیم اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کو اس تاریخ تک تمام سکولوں کی صفائی، مرمت اور حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

    اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تعلیم کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  • سیالکوٹ کے ریسکیورز جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش

    سیالکوٹ کے ریسکیورز جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو ) جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث جاری ریسکیو آپریشن میں سیالکوٹ کی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اب تک 3000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایات پر ریسکیو 1122 سیالکوٹ کے دستے جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان میں ملتان کے علاقے جلال پور، بہاولپور کے اوچ شریف اور مظفر گڑھ کے علی پور میں ریسکیو ٹیمیں سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔

    ریسکیو آپریشن میں سیالکوٹ سے 19 ریسکیو بوٹس اور 38 ریسکیورز شامل ہیں۔ انہوں نے نہ صرف 3000 سے زائد لوگوں کو بچایا ہے بلکہ 100 سے زائد جانوروں اور قیمتی املاک کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

    ریسکیو 1122 سیالکوٹ کے ریسکیورز مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں اور متاثرین کے گھروں تک راشن بھی پہنچا رہے ہیں۔

    انجینئر نوید اقبال نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122 مشکل کی ہر گھڑی میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حاضر رہے گی۔