Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: پاکستان صحافی اتحاد کے زیر اہتمام جشنِ عید میلادالنبی ﷺ و ایوارڈ تقسیم تقریب

    ڈیرہ غازی خان: پاکستان صحافی اتحاد کے زیر اہتمام جشنِ عید میلادالنبی ﷺ و ایوارڈ تقسیم تقریب

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) پاکستان صحافی اتحاد کے مرکزی آفس رحیم ہنڈا پلازہ بلاک 16 میں جشنِ عید میلادالنبی ﷺ اور ایوارڈ تقسیم کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق صدر بار ڈیرہ غازی خان و امیدوار ممبر پنجاب بار عظمت اسلام غلزئی ایڈووکیٹ تھے جبکہ صدارت مرکزی صدر ظفر اقبال کھوکھر نے کی۔

    تقریب کی سرپرستی سردار اسلم خان چانڈیہ ایڈووکیٹ اور نگرانی رحیم خان غلزئی نے کی۔ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد سہیل خان نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسول مقبول ﷺ سردار اسلم خان چانڈیہ ایڈووکیٹ نے پیش کی۔ نظامت کے فرائض جواد اکبر بھٹی نے سرانجام دیے۔

    تقریب میں محمد عرفان اشرف ایڈووکیٹ، فاروق احمد غوری، جواد اکبر گئی بھٹی، ساجدہ خان، ڈاکٹر شاہین کھوسہ، ذیشان جاوید، فرخ شہزاد، شیخ مصطفیٰ کنگ، سجاول سہرانی، جنید میتلا، ندیم خان سمیت متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔

    مہمانِ خصوصی عظمت اسلام غلزئی ایڈووکیٹ اور رحیم خان غلزئی نے صحافی اتحاد کے دوستوں کو بہترین کارکردگی پر ایوارڈ اور ختمِ نبوت شیلڈز سے نوازا۔ اس موقع پر سردار اسلم خان چانڈیہ ایڈووکیٹ نے سیرت النبی ﷺ پر ایمان افروز خطاب کیا۔

    مرکزی صدر ظفر اقبال کھوکھر نے کہا کہ پاکستان صحافی اتحاد محبت، اخوت اور اتحاد کی علامت ہے، میرے ساتھی میرا قیمتی سرمایہ ہیں۔ تقریب دعا اور نعرہ تکبیر و رسالت کے نعروں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

  • ننکانہ صاحب: ایچ پی وی ویکسین مہم کا باقاعدہ افتتاح

    ننکانہ صاحب: ایچ پی وی ویکسین مہم کا باقاعدہ افتتاح

    ننکانہ صاحب( احسان اللہ ایاز کی رپورٹ) ضلع ننکانہ صاحب میں ایچ پی وی ویکسین مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے گورنمنٹ ایم سی گرلز ہائی سکول میں بچیوں کو ویکسین لگوا کر مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد روحیل اختر، سی او ایجوکیشن شازیہ بانو اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    حکومت پنجاب کی سرپرستی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف کے تعاون سے یہ مہم 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔ پاکستان میں پہلی بار سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے قومی ویکسینیشن مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ایچ پی وی ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق بروقت ویکسین بچیوں کی صحت کی ضامن ہے اور یہ اقدام آئندہ نسلوں، خصوصاً خواتین کو کینسر جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ حکام نے شہریوں کو افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین محفوظ ہے اور اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں۔

    ضلع بھر میں 90 ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر اسکولوں، مدارس، ہسپتالوں اور کمیونٹی مراکز پر بچیوں کو ویکسین فراہم کر رہی ہیں۔

  • شیخوپورہ: پاک آرمی لورز موومنٹ معرکۂ حق ریلی و یوتھ کنونشن کا انعقاد

    شیخوپورہ: پاک آرمی لورز موومنٹ معرکۂ حق ریلی و یوتھ کنونشن کا انعقاد

    شیخوپورہ(باغی ٹی وی) پاک آرمی لورز موومنٹ معرکۂ حق ریلی و یوتھ کنونشن کا انعقاد

    شیخوپورہ میں پاک آرمی لورز موومنٹ کے تحت معرکۂ حق ریلی اور یوتھ کنونشن منعقد ہوا جس کی قیادت مرکزی چیئرمین جان محمد رمضان اور مرکزی صدر رانا شہزادہ الطاف نے کی۔ اس موقع پر سینئر رہنما پنجاب شاہین غفور بھٹہ، چیئرمین ضلع شیخوپورہ قیصر احمد چھینہ اور ضلعی صدر ظفر خان کھچی بھی شریک ہوئے۔

    رہنماؤں نے ریلی و کنونشن کے ذریعے عوامی جذبے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل اپنی افواج کے ساتھ ہے اور سپہ سالار پاکستان مرشدِ اعظم فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر پر اندھا اعتماد رکھتی ہے۔

    صدر مریدکے عامر سہیل بھٹہ اور صدر تحصیل فیروزوالہ محمد آصف جٹ نے بھی ریلی میں شرکت کر کے افواج پاکستان سے محبت کا اظہار کیا۔

  • لالہ موسیٰ: محلہ رفیق آباد اور صادق آباد میں بارش و سیلابی پانی سے تباہی

    لالہ موسیٰ: محلہ رفیق آباد اور صادق آباد میں بارش و سیلابی پانی سے تباہی

    لالہ موسیٰ(محمدرمضان نوشاہی سے) محلہ رفیق آباد اور صادق آباد میں بارش و سیلابی پانی سے تباہی

    تفصیل کے مطابق ک لالہ موسیٰ کے محلہ رفیق آباد اور صادق آباد میں مسلسل بارشوں اور جمع شدہ سیلابی پانی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گلیاں اور مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ گھروں کی بنیادیں کمزور ہونے سے عمارتیں گرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ کئی دنوں سے پانی کھڑا ہے جس کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسمی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    اہلِ علاقہ نے ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ فوری نکاسی آب کا انتظام کیا جائے اور متاثرہ مکینوں کو ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔

  • امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان

    امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان

    امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان
    تحریر: حسنین رضا

    کامران خان پاکستان کے ایک سینئر پولیس افسر ہیں جو اس وقت ساؤتھ پنجاب پولیس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (IGP) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز رہے، جہاں انہوں نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے چیف ایڈمن آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ نہ صرف ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار افسر ہیں بلکہ ایماندار، نیک سیرت اور خوبصورت شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ ان کی شرافت، وقار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے عوام اور پولیس فورس دونوں میں ان پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

    بطور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، کامران خان نے عوام دوست پولیسنگ کا تصور متعارف کرایا، جس سے شہریوں کو پولیس تک رسائی آسان ہوئی اور ادارے پر اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے پولیس شہداء کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے، ویلفیئر فنڈز اور سہولیات فراہم کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پولیس فورس کو ایک خاندان سمجھتے ہیں۔ ان کی اولین ترجیح جنوبی پنجاب کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، انصاف کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔

    کامران خان نے پولیس کو جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں اور اضافی نفری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چیک پوسٹس اور پولیس لائنز کی تعمیر و مضبوطی پر بھی توجہ دی۔ جھنگی چیک پوسٹ اور ملتان پولیس لائنز میں ان کے اقدامات عوامی تحفظ کی ضمانت ہیں۔ وہ منشیات فروشوں، اشتہاری مجرمان اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں، جس کے لیے اجلاسوں اور عملی حکمت عملی کے ذریعے پولیس فورس کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔

    ان کی قیادت میں ضلعی افسران اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے۔ ان کا نرم گفتار اور بردبار رویہ انہیں ایک منفرد اور دلکش رہنما بناتا ہے۔ کامران خان کو صدرِ پاکستان پولیس میڈل (PPM)، اقوام متحدہ امن میڈل (UNPM) اور برٹش چیوننگ اسکالرشپ سمیت کئی اعزازات ملے ہیں۔ وہ امریکی انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (IVLP) ایوارڈ یافتہ بھی ہیں اور تمغۂ شجاعت کے لیے نامزد ہوئے ہیں۔

    پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور بلوچستان میں خدمات کے دوران انہوں نے مشکل حالات میں بہترین فیصلے کرنے کی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ کامران خان کی تقرری جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ ان کی قیادت میں امن و امان کی بہتری، پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہونے اور شہداء کے خاندانوں کے لیے سہولیات کے فروغ کی توقع ہے۔

  • لنڈی کوتل: خاندانی جائیداد پر تعمیراتی کام کے دوران حملہ، پریس کانفرنس میں انصاف کا مطالبہ

    لنڈی کوتل: خاندانی جائیداد پر تعمیراتی کام کے دوران حملہ، پریس کانفرنس میں انصاف کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں حاجی مولا اور جاوید خان شینواری نے پریس کانفرنس کے دوران شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ گھر کے قریب پدری جائیداد پر تعمیراتی کام کے دوران مخالف فریق نے ان کے خاندان پر حملہ کر کے بچوں اور خواتین کو زخمی کر دیا۔ انہوں نے ڈی پی او خیبر اور ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔

    پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ شیخ ملخیل بھائی خیل میں موجود ان کی پدری جائیداد پر تین دن قبل تعمیراتی کام شروع کیا گیا، جس پر مخالف فریق زاہد گل بھائی خیل، حاجی ممن، جان اکبر اور ان کے خاندان کے تقریباً 40 سے 50 افراد نے حملہ کر کے ان کے گھر والوں کو زخمی کیا۔ متاثرین کی میڈیکل رپورٹس دو دن قبل تھانہ لنڈی کوتل میں جمع کرائی گئی ہیں۔

    حاجی مولا اور جاوید خان شینواری نے مزید کہا کہ انہوں نے ایڈیشنل ایس ایچ او عظمت ولی سے بھی شکایت درج کروائی، جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ معاملہ ڈی آر سی انچارج اسلام الدین کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن اگلے دن جب وہ ڈی آر سی انچارج کے پاس گئے تو کہا گیا کہ نہ تو وہ آئے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی تعلق ہے۔ باوجود اس کے، ڈی آر سی انچارج نے بغیر اسٹے آرڈر کے پولیس اہلکار بھیجے کہ ایک دن کے لیے کام بند کیا جائے، لیکن دو دن گزرنے کے باوجود اسٹے آرڈر نہیں آیا اور دوبارہ حملہ کیا گیا۔

    آخر میں پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈی پی او خیبر اور ایس ایچ او فوری طور پر نوٹس لے کر مذکورہ معاملے میں ڈی آر سی انچارج کو دور رکھا جائے، اور کیس کو عدالت میں ریفر کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کے ساتھ انصاف کیا جا سکے۔ متاثرین نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور میڈیکل رپورٹس درخواست کے ساتھ منسلک ہیں اور اگر فوری کارروائی نہ ہوئی تو عدالتی اور قانونی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

  • سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لاکھوں افراد اپنے گھروں، کھیتوں اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں،وہاں حکومتی ریلیف کی تقسیم متاثرین کے لیے امید کی ایک کرن ہونی چاہیے تھی۔ قدرتی آفات کے بعد عوام کی نظریں ہمیشہ ریاست پر لگی ہوتی ہیں کہ وہ کس طرح ان کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے۔ مگر پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز شریف کی تصویر والے بیگ اور باکسز کی تقسیم نے عوامی سطح پر امید کے بجائے غصے اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیگ واقعی سیلاب متاثرین کے آنسو پونچھ رہے ہیں یا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں؟ کیا ان بیگز کی تیاری پر خرچ ہونے والا پیسہ متاثرین کی زندگی میں کوئی حقیقی آسانی لا رہا ہے یا یہ سب صرف سیاسی تشہیر اور ذاتی برانڈنگ کا کھیل ہے؟ اور سب سے اہم سوال، کیا عوامی ٹیکس سے حاصل شدہ پیسہ ایک منتخب نمائندے کی ذاتی تشہیر پر ضائع کیا جا سکتا ہے؟

    سیلاب کی تباہ کاریوں کی حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں موسلا دھار بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے ایسی بربادی مچائی کہ لاکھوں خاندان بے گھر ہو گئے، کسانوں کی محنت سے اگائی گئی فصلیں برباد ہو گئیں اور مویشی تک ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ دیہات سے شہروں تک ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں ہر لمحہ زندگی اور موت کے بیچ کا فرق بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومتی ریلیف پیکیج عوام کے لیے سہارا بن سکتا تھا۔ مگر جب یہ ریلیف متاثرین تک مریم نواز کی بڑی بڑی تصاویر والے بیگ میں پہنچا تو عوامی ردعمل بالکل مختلف نکلا۔

    سوشل میڈیا پر عام شہریوں نے ان بیگسز کو مذاق اور دکھ کے امتزاج سے تعبیر کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان بیگز میں موجود اشیاء جیسے دو پیکٹ بسکٹ، ایک جوس کا چھوٹا ڈبہ جن کی قیمت بمشکل 50 روپے بنتی ہے، اس کے مقابلے میں بیگ کی تیاری اور پرنٹنگ پر سو روپے سے زیادہ خرچ آ رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ترجیحات کہاں ہیں؟ کیا مقصد سیلاب زدگان کی فوری بحالی ہے یا اپنی شخصیت کو عوام کے ذہنوں پر مسلط کرنا؟ ایک رپورٹ کے مطابق یہ ریلیف جیسا اقدام دراصل ایک ’’پی آر ڈیزاسٹر‘‘ ثابت ہوا ہے کیونکہ امداد کی اصل لاگت کے مقابلے میں بیگ اور اس کی برانڈنگ کی لاگت کہیں زیادہ ہے۔

    یہی نہیں ان بیگز کی تقسیم نے سیاسی پروپیگنڈے کا رنگ بھی اختیار کر لیا۔متاثرین کی جھونپڑیوں میں، سکولوں میں بنائے گئے ریلیف کیمپس میں اور حتیٰ کہ مساجد تک میں یہ بیگ بانٹے گئے، جن پر مریم نواز کی تصاویر نمایاں تھیں۔ یہاں تک کہ مساجد کے سائن بورڈز کو بھی مریم نواز شریف کی تصاویر سے مزین کر دیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بھڑکا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اللہ کے گھر کے باہر بھی سیاست کی تشہیر کا یہ طریقہ درست ہے؟ ناقدین نے اسے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک طرح کی ’’نارسیسٹک‘‘ سوچ قرار دیا جس میں عوام کے دکھ درد کے مقابلے میں ذاتی تشہیر زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سینکڑوں ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہوئیں جن میں متاثرین نے خود اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بیگ یا ڈبے پر لیڈر کی تصویر لگانے سے انہیں کوئی سہولت نہیں ملتی۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ’’ہمیں کھانے کو روٹی چاہیے، رہنے کو چھت چاہیے، دوا چاہیے، یہ تصویریں ہمارے زخم نہیں بھرتیں‘‘۔ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اب پنجاب میں صرف کفن پر مریم نواز کی تصویر لگنا باقی ہے، عمومی رائے کے مطابق یہ بیگ دراصل حکومتی نااہلی اور عوامی احساسات سے بیگانگی کی علامت بن چکے ہیں۔

    ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ یہ بیگ اور باکسز عوامی ٹیکس کے پیسوں سے تیار کیے گئے۔ جب متاثرین دیکھتے ہیں کہ انہی کے ٹیکس سے جمع ہونے والے وسائل کو ان پر براہ راست خرچ کرنے کے بجائے ایک فرد یا خاندان کی سیاسی تشہیر پر لگایا جا رہا ہے تو ان کے دلوں میں بداعتمادی اور غصہ مزید بڑھتا ہے۔ پنجاب میں صرف فوڈ بیگز نہیں بلکہ دودھ کے ڈبوں اور پھلوں پر بھی مریم نواز کی تصاویر دیکھی گئیں۔ یہ سب اقدامات عوام کو اس نتیجے پر پہنچا رہے ہیں کہ ریاست ان کے دکھ درد پر سنجیدگی سے نہیں بلکہ تشہیر کی نیت سے توجہ دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ کہا گیا اور بعض صارفین نے طنزیہ لکھا کہ ’’اب شاید بارش کے پانی پر بھی مریم نواز کی تصویر چھاپ دی جائے‘‘۔

    یہ رویہ کسی ایک صوبے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ ہماری مجموعی سیاست کی خودغرضی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاستدان خدمت سے زیادہ تشہیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ قدرتی آفات کے وقت عوام کو سب سے زیادہ ضرورت خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور سر چھپانے کے لیے چھت کی ہوتی ہے۔ لیکن جب ان کی جگہ رنگین بیگ اور تشہیری مہم چلائی جائے تو یہ صرف مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام پہلے ہی معاشی بحران اور بے روزگاری سے دوچار ہیں، وہاں اس طرح کی حکمتِ عملی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید تکلیف دیتی ہے۔

    اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومت اپنے وسائل براہ راست متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے۔ اگر بیگ اور ڈبوں کی پرنٹنگ پر لگنے والا پیسہ متاثرہ خاندانوں کو صاف پانی، ادویات یا عارضی رہائش کی فراہمی پر استعمال کیا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اس کے برعکس موجودہ پالیسی نے حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد خدمت نہیں بلکہ اشتہار بازی ہے۔

    اس سارے تناظر میں ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ حکومت کو اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ اگر لیڈرز واقعی عوامی نمائندے ہیں تو انہیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، نہ کہ تصویر والے بیگز کے ذریعے ان کے زخموں کو کھرچا جائے اور دکھ کم کرنے کے بجائے ان کے دلوں میں مزید نفرت کے بیج بوئے جائیں۔ سیلاب زدگان کو ضرورت ہے خوراک، دواؤں، رہائش اور معاشی مدد کی، نہ کہ پبلسٹی کی۔ اگر یہ رویہ جاری رہا تو عوام کی مایوسی اور بداعتمادی ایک بڑے احتجاجی طوفان میں بدل سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ایک سیاسی خاندان پر نہیں بلکہ پورے نظام پر پڑیں گے۔

  • گھوٹکی اور اوباڑو کا کچا زیرِ آب آنے کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ کا الرٹ جاری

    گھوٹکی اور اوباڑو کا کچا زیرِ آب آنے کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ کا الرٹ جاری

    گھوٹکی ایٹ میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی اور اوباڑو کے کچے کے علاقے میں سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈو اور سکھر بیراج سے پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔

    پاک نیوی کی ٹیم کشتیوں کے ذریعے کچے کے علاقوں میں جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کچے کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ضروری سامان اور مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات یا ضلعی انتظامیہ کے قائم کردہ ریلیف کیمپس میں چلے جائیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ریلیف کیمپوں میں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہیں۔ متاثرین کو خیمے، مچھردانیاں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ حفاظتی بندوں پر پاک نیوی، ریسکیو 1122 اور ریونیو کا عملہ موجود ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے کشتیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رہائشی کنٹرول روم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اوباڑو کے کچے کے رہائشیوں کے لیے کنٹرول روم کا نمبر 0723667187 ہے جبکہ گھوٹکی کے رہائشیوں کے لیے نمبر 0723924020 ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی کنٹرول روم کے نمبر 0723661799 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  • سرگودھا پریس کلب کے اجلاس میں مالی اور انتظامی مسائل حل کرنے کا فیصلہ

    سرگودھا پریس کلب کے اجلاس میں مالی اور انتظامی مسائل حل کرنے کا فیصلہ

    سرگودھا (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک شاہنواز جالپ) سرگودھا پریس کلب کا ایک اہم اجلاس صدر عبدالحنان چوہدری کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کلب کے اندرونی معاملات اور مستقبل کے منصوبوں پر کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن اور نعت سے ہوا جس کے بعد سابقہ کارروائی اور مالیاتی رپورٹ کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ اجلاس میں کرایہ داروں کو واجب الادا کرائے ادا کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی گئی اور بصورتِ دیگر دکانیں سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    کلب کی مینٹیننس کے لیے طارق قریشی، رانا محمد عارف اور جاوید گجر پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جو کلب کے مین گیٹ، چھت اور دیگر فوری مسائل کو حل کرے گی۔ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں شیخ محمد رضوان، شاہین فاروقی اور شہزاد شیرازی شامل ہیں، یہ کمیٹی 10 دن میں ضابطہ اخلاق تیار کرے گی۔

    اجلاس میں نئی ممبرشپ کے لیے موصول ہونے والی 53 درخواستوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نئی ممبرشپ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 ستمبر مقرر کی گئی ہے اور آئین و ضوابط کے مطابق ہی ممبرشپ دی جائے گی۔

    اجلاس میں مبینہ طور پر پنجاب حکومت کی 25 لاکھ روپے کی گرانٹ رکوانے کے معاملے میں صدر پریس کلب عبدالحنان چوہدری نے موصولہ درخواست کو مسترد کر دیا۔ ایگزیکٹو باڈی نے فنڈ ریزنگ، بہبود فنڈ، سپورٹس گالا اور تربیتی پروگراموں کے انعقاد کی بھی منظوری دی۔

    صدر عبدالحنان چوہدری اور جنرل سیکرٹری شیخ محمد رضوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کلب ایک جمہوری ادارہ ہے اور اراکین کو ٹیم ورک کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ صحافی کالونی کی تکمیل اور ممبران کی فلاح و بہبود کے منصوبے پورے کیے جا سکیں۔ اجلاس میں مجلسِ عاملہ کے اراکین نے صدر اور سیکرٹری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر ممبران کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔

  • سیالکوٹ : سیوریج کی صفائی کے دوران مزدور مین ہول میں جاں بحق

    سیالکوٹ : سیوریج کی صفائی کے دوران مزدور مین ہول میں جاں بحق

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) سیالکوٹ میں مرالہ روڈ پر واقع ملکہ کلاں کے علاقے میں سیوریج کی صفائی کے دوران ایک نوجوان مزدور جاں بحق ہو گیا۔ شہریوں نے اس واقعے کا ذمہ دار کمپنی کو ٹھہرایا ہے۔

    22 سالہ فیاض علی ZKB نامی کمپنی میں ملازم تھا اور سیوریج کے گٹر میں صفائی کے لیے اترا تھا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اسے کوئی حفاظتی لباس یا امدادی سامان فراہم نہیں کیا اور وہ بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے مین ہول میں اترا، جہاں وہ حادثے کا شکار ہوا۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فیاض کو باہر نکالا اور اسے بچانے کی کوشش بھی کی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس کی لاش کو بعد میں قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ZKB کمپنی کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔